Merits and Virtues of the Mothers of the Believers (may Allah be well pleased with them)

حصہ دوم

3. فَصْلٌ فِي مَنَاقِب أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رضي اﷲ عنها
(اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

47. عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : کُنْتُ أَنَا وَ حَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ فَجَاءَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ وَ کَانَتْ ابْنَةُ أَبِيْهَا فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلُ اﷲِ، إِنَّا کُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ. قَالَ : اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَکَانَهُ. رَوَاهُ التِرْمِِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور حفصہ روزے سے تھیں کہ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا جس کی ہمیں طلب بھی تھی ہم نے اس سے کھا لیا اتنے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، حضرت حفصہ گفتگو میں مجھ سے سبقت لے گئیں اور (ایسا کیوں نہ ہوتا) وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں (یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح جری تھیں) کہنے لگیں : یا رسول اﷲ! ہم دونوں نے روزہ رکھا ہوا تھا پھر ہمارے پاس کھانا آیا جس کی ہمیں تمنا تھی تو ہم نے اس سے کھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی دوسرے دن اس کی قضاء کر لینا۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 47 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصوم، باب : ما جاء في إيجاب القضاء عليه، 3 / 112، الرقم : 735، والنسائي في السنن الکبري، 2 / 247، الرقم : 3291، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 263، الرقم : 26310، و أبويعلي في المسند، 8 / 101، الرقم : 4639، و ابن راهويه في المسند، 2 / 353، الرقم : 885.

48. عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا خَالَاهَا قُدَّامَةُ وَ عُثْمَانُ ابْنَا مَظْعُوْنٍ فَبَکَثْ وَ قَالَتْ : وَاﷲِ، مَا طَلَّقَنِي عَنْ شِبَعٍ وَ جَاءَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : قَالَ لِي جِبْرِيْلُ عليه السلام : رَاجِعْ حَفْصَةَ فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ وَ إِنَّهَا زَوْجَتُکَ فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

’’حضرت قیس بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ بنت عمر رضی اﷲ عنہما کو طلاق دی، پس آپ کے ماموں قدامہ اور عثمان جو کہ مظعون کے بیٹے ہیں آپ کو ملنے آئے تو آپ رو پڑیں اور کہا : خدا کی قسم! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غصہ اور غضب کی وجہ سے طلاق نہیں دی، اسی دوران حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر تشریف لائے اور فرمایا : جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا ہے : ’’آپ حفصہ کی طرف رجوع کر لیں۔ بے شک وہ بہت زیادہ روزے رکھنے اور قیام کرنے والی ہیں اور بے شک وہ جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 48 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 16، الرقم : 6753، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 365، الرقم : 934، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 50، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 8 : 84، والعسقلاني في الإصابة، 5 / 559، الرقم : 7356، والحارث في المسند (زوائد الهيثمي)، 2 / 914، الرقم : 1000.

49. عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَال النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : يَا حَفْصَةُ، أَتَانِي جِبْرِيْلُ آنِفًا فَقَالَ : فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ وَ هِيَ زَوْجَتُکَ فِي الْجَنَّةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حفصہ! ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھے کہا : بے شک وہ (حضرت حفصہ) بہت زیادہ روزے دار اور قیام کرنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 49 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 55، الرقم : 151، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 7 / 94، الرقم : 2507، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 244.

4. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أُمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

50. عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ : أُنْبِئْتُ : أَنَّ جِبْرِيْلَ عليه السلام أَتَي النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ عِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم لأُمِّ سَلَمَةَ : مَنْ هَذَا؟ أَوْ کَمَا قَالَ. قَالَ : قَالَتْ : هَذَا دِحْيَةُ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ايْمُ اﷲِ! مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ، حَتَّي سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يُخْبِرُ عَنْ جِبْرِيْلَ أَوْ کَمَا قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

’’ابو عثمان بیان کرتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتے رہے پھر چلے گئے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے دریافت فرمایا : یہ کون تھے؟ یا جو کچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے جواب دیا کہ دحیہ تھے، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے انہیں دحیہ قلبی ہی سمجھا تھا، لیکن میں نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران خطبہ بتایا کہ وہ حضرت جبرائیل تھے، یا جو کچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، معمر کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے دریافت کیا کہ آپ نے یہ کس سے سنا ہے تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

الحديث رقم 50 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1330، الرقم : 3435، وفي کتاب : فضائل القرآن، باب : کيف نزول الوحي، 4 / 1905، الرقم : 4695، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل أم سلمة، 4 / 1906، الرقم : 2451، و البزار في المسند، 7 / 55، الرقم : 2602.

51. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثاً وَ قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ بِکِ عَلَي أَهْلِکِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ، وَ إِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے نکاح کرنے کے بعد ان کے پاس تین دن رہے پھر فرمایا : تمہاری اہمیت اور چاہت اپنے شوہر کی نظروں میں ہرگز کم نہیں ہوئی، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ایک ہفتہ قیام کر لوں اور اگر میں تمہارے پاس ایک ہفتہ رہا تو میں اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ایک ہفتہ رہوں گا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 51 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الرضاع، باب : قدر ما تستحقه البکر و الثيب من إقامة الزوج عندها عقب الزفاف، 2 / 1083 الرقم : 1460، وأبوداود في السنن، کتاب : النکاح، باب : في المقام عند البکر، 2 / 240، الرقم : 2122، و ابن حبان في الصحيح، 10 / 10، الرقم : 4210، و الدارمي في السنن، 2 / 194، الرقم : 2210.

52. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَجَاءَوتِ الْخَادِمُ، فَقَالَتْ : عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ بِالسَّدَّةِ، فَقَالَ : تَنَحِّي لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي فَتَنَحَّتْ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَدَخَلَ عَلِيٌّ، وَ فَاطِمَةُ، وَ حَسَنٌ، وَ حُسَيْنٌ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَ أَخَذَ عَلِيًا بِإِحْدَي يَدَيْهِ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَ أَخَذَ فَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَي فَضَمَّهَا إِلَيْهِ وَ قَبَّلَهُمَا وَ أَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيْصَةً سَوْدَاءَ ثُمَّ قَالَ : الَّلهُمَّ، إِلَيْکَ لَا إِلَي النَّارِ، أَنَا، وَ أَهْلُ بَيْتِي، قَالَتْ : فَنَادَيْتُهُ، فَقُلْتُ : وَ أَنَا، يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ : وَ أَنْتِ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کے پاس ان کے گھر تشریف فرما تھے پس خادم آیا اور عرض کیا : حضرت علی اور فاطمہ رضی اﷲ عنہما (گھر کی) دہلیز پر کھڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے لئے میرے گھر والوں کے راستے سے ہٹ جایا کرو (یعنی ان کو بلا اجازت گھر آنے دیا کرو) پس وہ خادم گھر کے ایک کونے میں چلا گیا، پس حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنھم اندر تشریف لائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نواسوں کو اپنی گود میں بٹھایا اور اپنا ایک دست مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ پر رکھا اور ان کو اپنے ساتھ ملایا اور اپنا دوسرا دست اقدس حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا پر رکھا اور انہیں بھی اپنے ساتھ ملایا اور ان دونوں کو چوما اور پھر ان سب پر اپنی کالی کملی بچھا دی پھر فرمایا : اے اﷲ! تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف، میں اور میرے اہل بیت، حضرت امّ سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر عرض کیا : اور میں بھی یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں تم بھی۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 52 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 370، الرقم : 32104، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 296، الرقم : 26582، والطبراني في المعجم الکبير، 23 / 393، الرقم : 939، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 166.

5. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أُمِّ حَبِيْبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

53. عَنْ أُمِّ حَبِيْبَةَ تَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ صَلَيَّ اثْنَتَي عَشْرَةَ رَکْعَةً فِي يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيْبَةَ فَمَا تَرَکْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو مسلمان بندہ ہر روز اﷲ تعالیٰ کے لئے بارہ رکعات نفل پڑھے گا اس کے لئے ان کے بدلہ میں جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس دن کے بعد کبھی بھی یہ بارہ رکعات ترک نہیں کیں۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 53 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : صلاة المسافرين و قصرها، باب : فضل السنن الراتبة قبل الفرائض و بعدهن و بيان عددهن، 1 / 502، الرقم : 728، و ابن خزيمة في الصحيح، 2 / 203، الرقم : 1187، و ابن راهويه في المسند، 1 / 233، و أبو يعلي في المسند، 13 / 44، الرقم : 7124.

54. عَنِ الزُّهْرِيِّ : أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ أُمَّ حَبِيْبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَلَي صَدَاقِ أَرْبَعِ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَ کَتَبَ بِذَلِکَ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَبِلَ. رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ.

’’امام زہری بیان کرتے ہیں کہ نجاشی نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اﷲ عنہا کی شادی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم حق مہر پر کی اور اس کی خبر بذریعہ خط حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔‘‘ اس حدیث کو امام ابوداود نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 54 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : النکاح، باب : الصداق، 2 / 235، الرقم : 2108، و الشوکاني في نيل الأوطار، 6 / 313.

55. عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُوْ سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ الْمَدِيْنَةَ جَاءَ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ يُرِيْدُ غَزْوَ مَکَّةَ فَکَلَّمَهُ أَنْ يَّزِيْدَ فِي هَدْنَةِ الْحُدَيْبِيَّةِ فَلَمْ يَقْبَلْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ، فَقَامَ، فَدَخَلَ عَلَي ابْنَتِهِ أُمِّ حَبِيْبَةَ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَجْلِسَ عَلَي فِرَاشِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم طَوَتْهُ دُوْنَهُ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ، أَرَغِبْتِ بِهَذَا الْفِرَاشِ عَنِّي أَوْ بِي عَنْهُ، فَقَالَتْ : بَلْ هُوَ فِرَاشُ رَسُوْلِ اﷲِ، وَ أَنْتَ امْرَؤٌ نَجِسٌ مُشْرِکٌ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ، لَقَدْ أَصَابَکِ بَعْدِيْ شَرٌّ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

’’امام زہری بیان کرتے ہیں کہ جب ابوسفیان بن حرب مدینہ آیا تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ ابوسفیان نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں توسیع کے لئے گزارش کی لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرما دیا، پس وہ کھڑا ہوا اور اپنی بیٹی کے پاس چلا گیا لیکن جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر بیٹھنے کے لئے بڑھا تو ام المومنین حضرت امّ حبیبہ رضي اﷲ عنہا نے اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی وہ بستر لپیٹ دیا۔ اس نے کہا : اے میری بیٹی! کیا تو اس بستر کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرتی ہے یا میری وجہ سے اس بستر سے؟ انہوں نے کہا یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر ہے اور تم ایک نجس اور مشرک انسان ہو (یہ سن کر) اس نے کہا : اے میری بیٹی! البتہ میرے بعد تم شر میں مبتلا ہو گئی ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 55 : أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبري، 8 / 100، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 223، و ابن الجوزي في صفوة الصوة، 2 / 46، والعسقلاني في الإصابة، 7 / 653.

6. فَصْلٌ فِي مُنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت سودہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

56. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذَا أَرَادَا سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَ کَانَ يَقْسِمُ لِکُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَ لَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَ لَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم تَبْتَغِي بِذَالِکَ رِضَا رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جانے کیلئے کس کے نام قرعہ نکلتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان ایک رات دن کی باری مقرر فرمائی ہوئی تھی، ماسوائے اس کے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو دی ہوئی تھی اور اس سے ان کا مقصود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضامندی تھی۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 56 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الهبة و فضلها، باب : هبة المرأة لغير زوجها و عتقها، 1 / 181، الرقم : 2453، وفي کتاب : الشهادات، باب : في المشکلات، 2 / 955، الرقم : 2542، و أبو داود في السنن، کتاب : النکاح، باب : في القسم بين النساء 2 / 243، الرقم : 2138، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 292، الرقم : 8923.

57. عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَکُوْنَ فِي مِسْلاَخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنْ امْرَأَةٍ فِيْهَا حِدَّةٌ قَالَتْ : فَلَمَّا کَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِعَائِشَةَ قَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْکَ لِعَائِشَةَ، فَکَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَ يَوْمَ سَوْدَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اﷲ عنہا عزیز تھیں، میری تمنا تھی کہ کاش میں ان کے جسم میں ہوتی، حضرت سودہ بنت زمعہ کے مزاج میں تیزی تھی، جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کی باری حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو دے دی اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دے دی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ کے ہاں دو دن رہتے تھے، ایک دن حضرت عائشہ کی باری کا اور ایک دن حضرت سودہ کی باری کا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 57؛ أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الرضاع، باب : جواز هبتها نوبتها لضربتها، 2 / 1085، الرقم : 1463، و ابن حبان في الصحيح، 10 / 12، الرقم : 4211، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 301، الرقم : 8934، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 74، الرقم : 13211.

7. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت زینب رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

58. عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ : ذُکِرَ تَزْوِيْجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسٍ فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم أَوْلَمَ عَلَي أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا، أَوَلَمَ بِشَاةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

’’حضرت ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کے نکاح کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی زوجہ مطہرہ کا ان کے ولیمہ جیسا کسی کا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ایک بکری کے ساتھ ولیمہ کیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

الحديث رقم 58 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : النکاح، باب : الوليمة و لو بشاة، 5 / 1983، الرقم : 4876، و مسلم في الصحيح، کتاب : النکاح، باب : زواج زينب بنت جحش، 2 / 1049، الرقم : 1428، و أبوداود في السنن، کتاب : الأطعمة، باب : في استحباب الوليمة عند النکاح، 3 / 341، الرقم : 3743، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 258، الرقم؛ 14277.

59. عِنْ عِيْسَي بْنِ طَهْمَانَ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رضي اﷲ عنه يَقُولُ : نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَ أَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَ لَحْمًا، وَ کَانَتْ تَفْخَرُ عَلَي نِسَاءِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم وَکَانَتْ تَقُوْلُ : إِنَّ اﷲَ أَنْکَحَنِي فِي السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

’’امام عیسیٰ بن طہمان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پردے کی آیت حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کے حق میں نازل ہوئی اور ان کے ولیمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھلایا اور یہ (حضرت زینب رضی اﷲ عنہا) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر کیا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 59 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : وکان عرشه علي الماء، 6 / 2700، الرقم : 6985.

60. عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم تَقُولُ : زَوَّجَکُنَّ أَهَالِيْکُنَّ وَ زَوَّجَنِيَ اﷲُ تَعَالَي مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب رضی اﷲ عنہا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات سے فخریہ کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 60 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : وکان عرشه علي الماء، 6 / 2699، الرقم : 6984، والنسائي في السنن الکبري مختصرًا، 5 / 291، الرقم : 8918.

61. عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُکُنَّ يَدًا، قَالَتْ : فَکُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا قَالَتْ : فَکَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ لِأَنَّهَا کَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَ تَصَدَّقُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میری وفات کے بعد جنت میں) تم سب سے زیادہ جلد وہ بیوی ملے گی، جس کے ہاتھ تم سب میں سے زیادہ لمبے ہوں گے، حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں پھر ہم سب اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں کہ کس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں، لیکن سب سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت زینب رضی اﷲ عنہا کے تھے، کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کیا کرتی تھیں اور صدقہ و خیرات کیا کرتی تھیں۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 61 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل زينب أم المؤمنين، 4 / 1907 الرقم : 2452، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 50، الرقم : 6665.

62. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها في رواية طويلة : فَأَرْْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِيْنِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّيْنِ مِنْ زَيْنَبَ، وَ أَتْقَيﷲِ، وَ أَصْدَقَ حَدِيْثًا، وَ أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَ أَعْظَمَ صَدَقَةً، وَ أَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ، وَ تَقَرَّبُ بِهِ إِلَي اﷲِ تَعَالَي، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ کَانَتْ فِيْهَا، تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا ایک طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کو آپ کے پاس بھیجا اور وہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مرتبہ میں میرے برابر تھیں اور میں نے حضرت زینب سے زیادہ دیندار، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، صدقہ و خیرات کرنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، اور نہ ان سے زیادہ تواضع کرنے والی کوئی عورت دیکھی ہے، اس عمل میں جس کے ذریعے وہ صدقہ کرتیں اور اللہ کا قرب حاصل کرتیں تھیں، البتہ وہ زبان کی تیز تھیں لیکن اس سے بھی وہ بہت جلد رجوع کر لیتی تھیں۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

63. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ شَدَّادٍ : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ لِعُمَرَ : إِنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ أَوَّاهَةٌ، قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا الْأَوَّاهَةُ؟ قَالَ : الْخَاشِعَةُ.

رَوَاهُ أَبُونُعَيْمٍ وَابْنُ عَبْدُ الْبَرِّ وَالذَّهْبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

’’حضرت عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : بے شک زینب بنت جحش ’’اوّاہہ‘‘ ہے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! اوّاہہ کا کیا مطلب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خاشعہ (خشوع و خضوع کرنے والی)۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو نعیم، ابن عبدالبر اور ذہبی نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ذہبی کے ہیں۔

الحديث رقم 63 : أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 54، و ابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1852، الرقم : 3355، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 217.

8. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

64. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : الْأَخَوَاتُ مُؤمِنَاتٌ : مَيمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِ صلي الله عليه وآله وسلم، وَ أُخْتُهَا أُمُّ الفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ، وَ أُخْتُهَا سَلْمَي بِنْتُ الْحَارِثِ امْرَأَةُ حَمْزَةَ، وَ أَسْمَاءُ بِنْتُ عَمِيْسٍ أُخْتُهُنَّ لِأُمِّهِنَّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمام مومن عورتیں آپس میں بہنیں ہیں (پھر فرمایا) ام المومنین میمونہ، اس کی بہن ام فضل بنت حارث، اور اس کی بہن سلمی بنت حارث حمزہ کی بیوی اور اسماء بنت عمیس ان کی اخیافی بہن ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی، حاکم، اور طبرانی نے روایت کیا ہے نیز الفاظ امام حاکم کے ہیں۔

الحديث رقم 64 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 35، الرقم : 6801، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 103، الرقم : 8387، و الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 415، الرقم : 12178، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 249.

9. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

65. عَنْ جُوَيْرِيَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُکْرَةً حِيْنَ صَلَّي الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَي وَهِيَ جَالِسَةٌ. فَقَالَ : مَا زِلْتِ عَلَي الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُکِ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ : نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ : سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَ رِضَا نَفْسِهِ، وَ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمْ وَابْنُ مَاجَةَ وَالنَّسَائِيُّ.

’’حضرت جویریہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے بعد علی الصبح ہی ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اس وقت اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن چڑھے تشریف لائے اور وہ وہیں بیٹھی تھیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس وقت سے میں تم کو چھوڑ کر گیا ہوں تم اسی طرح بیٹھی ہو، حضرت جویریہ نے عرض کیا : جی ہاں! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا : وہ کلمات یہ ہیں : (سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَ رِضَا نَفْسِهِ، وَ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ) ’’اللہ کی حمد اور تسبیح ہے، اس کی مخلوق کے عدد اور اس کی رضا اور اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 65 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الذکر و الدعاء و التوبة و الاستغفار، باب : التسبيح أول النهار و عند النوم، 4 / 2090، الرقم : 2726، و ابن ماجة في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل التسبيح، 2 / 1251، الرقم : 3808، و النسائي في السنن الکبري، 6 / 48، الرقم : 9989، و ابن حبان في الصحيح، 3 / 110، الرقم : 828.

66. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ، فَحَوَّلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ، وَ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ يُقَالَ : خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جویریہ کا نام پہلے برّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناپسند فرماتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص برّہ (نیکی) کے پاس سے نکل گیا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 66 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب : استحباب تغيير الاسم القبيح إلي حسن، 3 / 1687، الرقم : 2140، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 316، الرقم : 2902، و البيهقي في شعب الإيمان، 1 / 424، الرقم : 604.

10. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بْنِ أَخْطَبَ رضي اﷲ عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا کے مناقب کا بیان)

67. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَ جَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو رہا فرمایا اور ان کی رہائی کو ان کا حق مہر بنایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

الحديث رقم 67 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : النکاح، باب : من جعل عتق الأمة صداقها، 5 / 1956، الرقم : 4798، و مسلم في الصحيح، کتاب : النکاح، باب : فضيلة إعتاقه أمة ثم يتزوجها، 2 / 1045، الرقم : 1365، و عبد الرزاق في المصنف، 7 / 269، الرقم : 13107.

68. عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : بَلَغَ صَفِيَّةَ : أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ : بِنْتُ يَهُوْدِيٍّ، فَبَکَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هِيَ تَبْکِي، فَقَالَ : مَا يُبْکِيْکِ؟ فَقَالَتْ : قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنِّي بِنْتُ يَهُوْدِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّکِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ وَ إِنَّ عَمَّکِ لَنَبِيٌّ وَ إِنَّکِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ، فَفِيْمَ تَفْخَرُ عَلَيْکِ، ثُمَّ قَالَ : اتَّقِي اﷲَ يَا حَفْصَةُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ وہ رو پڑیں اتنے میں ان کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ وہ رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ عرض کیا : حفصہ نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نبی کی بیٹی ہو، تمہارے چچا نبی ہیں اور نبی کی بیوی ہو۔ پس وہ کس بات میں تم پر فخر کرتی ہیں۔ پھر فرمایا : حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اور اس طرح کی باتیں نہ کیا کرو)۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 68 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ، باب : فضل أزواج النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، 5 / 709، الرقم : 3894، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 135، الرقم : 12415، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 10 / 268.

69. عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ قَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ وَ عَائِشَةَ کَلَامٌ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ : أَلَا قُلْتِ : فَکَيْفَ تَکُوْنَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ وَ أَبِي هَارُوْنُ وَ عَمِّي مُوسَي. . . الحديث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

’’حضرت صفیہ بنت حیی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ مجھے حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی طرف سے ایک بات پہنچی تھی۔ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم دونوں مجھ سے کیسے بہتر ہو سکتی ہو جبکہ میرے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میرے باپ حضرت ہارون علیہ السلام، اور میرے چچا حضرت موسی علیہ السلام ہیں۔‘‘ اسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 69 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : فضل أزواج النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 708، الرقم : 3892، والحاکم في المستدرک، 4 / 31، الرقم : 6790، والطبراني في المجم الأوسط، 8 / 236، الرقم : 8503، وفي المعجم الکبير، 24 / 75، الرقم : 196.

70. عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : کَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت صفیہ مالِ غنیمت کا وہ حصہ ہیں جنہیں آقا علیہ السلام نے اپنے لئے منتخب فرمایا۔‘‘ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 70 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الخراج و الأمارة و الفيء، باب : ما جاء في سهم الصفي، 3 / 152، الرقم : 2994، و ابن حبان في الصحيح، 11 / 151، الرقم : 4822، و الحاکم في المستدرک، 3 / 42، الرقم : 4345، و البيهقي في السنن الکبري، 6 / 304، الرقم : 12534.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved