Merits and Virtues of the Mothers of the Believers (may Allah be well pleased with them)

ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان

10. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بْنِ أَخْطَبَ رضی الله عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت صفیہ رضی الله عنہا کے مناقب کا بیان)

67. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَ جَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو رہا فرمایا اور ان کی رہائی کو ان کا حق مہر بنایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

الحديث رقم 67: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: من جعل عتق الأمة صداقها، 5 / 1956، الرقم: 4798، و مسلم في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: فضيلة إعتاقه أمة ثم يتزوجها، 2 / 1045، الرقم: 1365، و عبد الرزاق في المصنف، 7 / 269، الرقم: 13107.

68. عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ: أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُوْدِيٍّ، فَبَکَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ ﷺ وَ هِيَ تَبْکِي، فَقَالَ: مَا يُبْکِيْکِ؟ فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُوْدِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّکِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ وَ إِنَّ عَمَّکِ لَنَبِيٌّ وَ إِنَّکِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ، فَفِيْمَ تَفْخَرُ عَلَيْکِ، ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللهَ يَا حَفْصَةُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ رضی الله عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ وہ رو پڑیں اتنے میں ان کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ وہ رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ عرض کیا: حفصہ نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نبی کی بیٹی ہو، تمہارے چچا نبی ہیں اور نبی کی بیوی ہو۔ پس وہ کس بات میں تم پر فخر کرتی ہیں۔ پھر فرمایا: حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اور اس طرح کی باتیں نہ کیا کرو)۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 68: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله، باب: فضل أزواج النبي ﷺ ، 5 / 709، الرقم: 3894، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 135، الرقم: 12415، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 10 / 268.

69. عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَ قَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ وَ عَائِشَةَ کَلَامٌ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ: أَلَا قُلْتِ: فَکَيْفَ تَکُوْنَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ وَ أَبِي هَارُوْنُ وَ عَمِّي مُوسَي...الحديث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

’’حضرت صفیہ بنت حیی رضی الله عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ مجھے حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی طرف سے ایک بات پہنچی تھی۔ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم دونوں مجھ سے کیسے بہتر ہو سکتی ہو جبکہ میرے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میرے باپ حضرت ہارون علیہ السلام، اور میرے چچا حضرت موسی علیہ السلام ہیں۔‘‘ اسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 69: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: فضل أزواج النبي ﷺ، 5 / 708، الرقم: 3892، والحاکم في المستدرک، 4 / 31، الرقم: 6790، والطبراني في المجم الأوسط، 8 / 236، الرقم: 8503، وفي المعجم الکبير، 24 / 75، الرقم: 196.

70. عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: کَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت صفیہ مالِ غنیمت کا وہ حصہ ہیں جنہیں آقا علیہ السلام نے اپنے لئے منتخب فرمایا۔‘‘ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 70: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الخراج و الأمارة و الفيء، باب: ما جاء في سهم الصفي، 3 / 152، الرقم: 2994، و ابن حبان في الصحيح، 11 / 151، الرقم: 4822، و الحاکم في المستدرک، 3 / 42، الرقم: 4345، و البيهقي في السنن الکبري، 6 / 304، الرقم: 12534.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved