Peace Resolution - Presented by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

آرٹیکل نمبر 2 :خدمت انسانیت

آرٹیکل نمبر 2

اِسلام خدمتِ اِنسانیت کا دین ہے۔ اِس میں تمام اِنسانیت کی محبت اور خدمت کو لازمی قرار دیتے ہوئے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِسلام کی تعلیماتِ خدمت و محبت کو خوب فروغ دیا جائے۔

خدمتِ اِنسانیت

اِسلامی تعلیمات میں تمام اِنسانیت کی خدمت ایک مقدس فریضہ ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے عبادات کو صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود کر دیا ہے۔ اِسلام میں اِنسانیت کی خدمت تو کجا بے زبان جانوروں کا بھی اس قدر خیال رکھنے کا حکم ہے کہ ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والا جنت کا مستحق قرار پاتا ہے اور بلی کو بھوکا مارنے پر جہنم کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

قرآن حکیم کے مطابق اُمتِ مسلمہ تمام اِنسانوں کی فلاح وبہبود کے لیے پیدا کی گئی ہے جو بلا تفریقِ رنگ ونسل و مذہب پوری اِنسانیت کے لیے سراپائے خیر ہے۔ اﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں خدمتِ اِنسانیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ ہمارے جائز اور حلال مال میں محتاجوں اور مساکین کا مخصوص حصہ مقرر فرمایا ہے:

وَفِيْ اَمْوَالِهِمْ حَقٌ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ.

اور ان کے اَموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں) کا حق مقرر تھا۔

الذاريات، 51: 19

اِسلام خدمتِ خلق میں رنگ ونسل اور مذہب کا امتیاز نہیں رکھتا۔ پڑوسی کے حقوق ہوں یا مریض کی عیادت، مسافر کے حقوق ہوں یا ادائیگی زکوٰۃ، کسی قسم کے حقوق العباد میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق نہیں رکھا گیا۔ خدمت گزار یہودی لڑکا ہو یا کوڑا پھینکے والی عورت حضورِ اقدس صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سب کی عیادت فرمائی ہے۔ فتحِ مکہ سے قبل مکہ میں قحط پڑا اور جانی دشمن بھوکے مرنے لگے تو حضور پُرنور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے سے مشرکینِ مکہ کے لیے غلہ بجھوایا۔ الغرض اِسلام خدمتِ خلق میں بہترین اُسوہ اور تعلیمات رکھتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت اِنسانیت کو نہ صرف عبادت بلکہ اﷲ کی رضا اور اُس کی مدد کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:

لَا يَزَالُ اﷲُ فِي حَاجَةِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي حَاجَةِ اَخِيْهِ.

اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی حاجت روائی میں (مصروف) رہتا ہے۔

طبراني، المعجم الکبير، 5: 118، رقم: 4802

اِسی طرح حضرت عبد اﷲ بن عمر k سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ ِﷲِ خَلْقًا خَلَقَهُمْ لِحَوَائِجِ النَّاسِ. يَفْزَعُ النَّاسُ إِلَيْهِمْ فِي حَوَائِجِهِمْ. اُوْلٰئِکَ الْامِنُوْنَ مِنْ عَذَابِ اﷲِ.

اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی مخلوق بھی ہے جسے اس نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ بندگانِ خدا اپنی حاجات (کی تکمیل کے لیے) حالتِ پریشانی میں اِن کے پاس آتے ہیں۔ یہ (وہ لوگ ہیں جو) اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

  1. طبراني، المعجم الکبير، 12: 358، رقم: 13334
  2. قضاعي، مسند الشهاب، 2: 117، رقم: 1007-1008

مندرجہ بالا دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ اِسلام دینِ فطرت ہے۔ اس کا مزاج تکریم اِنسانیت، نفع بخشی اور فیض رسانی سے بھرپورہے۔ خدمتِ اِنسانیت اَہلِ اِیمان کا مقدس فریضہ ہے اور ایک مومن کو اس کے بدلے میں کسی قسم کے اجر کا طلب گار بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اِنسانیت کی خدمت کا مقصد صرف اور صرف اﷲ کی رضا ہونی چاہیے۔

  • اِس قراردادِ اَمن کے ذریعے ہمیں اپنے آپ سے عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں دُکھی، غریب اور نادار اِنسانیت کی خدمت کے لیے اپنے سکون و آرام کو بھی قربان کرنا پڑا تو قربان کر دیں گے۔ اُردو کے نامور صوفی شاعر میر درد اِحترامِ اِنسانیت کا اِظہار کچھ یوں کرتے ہیں:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا اِنسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved