Peace Resolution - Presented by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

غیر مسلموں کے ساتھ پرامن بقاے باہمی کی واضح تعلیمات

آرٹیکل نمبر 20

قرآن و سنت میں تمام غیر مسلموں کے ساتھ پُراَمن بقاے باہمی کی واضح تعلیمات موجود ہیں۔ لہٰذا ہم غیر مسلموں کے خلاف ہر طرح کے ظلم و زیادتی کی پُرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت تمام اَقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام وضع کرے تاکہ کمزور طبقات کے معاشی، سیاسی، سماجی اور قانونی اِستحصال کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

غیر مسلموں کے ساتھ پُراَمن بقاے باہمی کی واضح تعلیمات

اِسلام دینِ اَمن و سلامتی ہے اور معاشرے میں موجود تمام طبقات کو بلا اِمتیازِ رنگ و نسل اور دین و مذہب بقاے اَمن کا درس دیتا ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

حضرت عبد اﷲ بن عمرو k سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيْحَهَا تُوْجَدُ مِنْ مَسِيْرَةِ ارْبَعِيْنَ عَامًا.

جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔

بخاري، الصحيح، کتاب الجزية، باب إثم من قتل معاهدا بغير جرم، 3: 1155، رقم: 2995

یہ کم سے کم مسافت بیان کی گئی ہے۔ مختلف روایات میں مختلف مسافتوں کا ذکر ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت تک محسوس ہوگی لیکن غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرنے والا اس سے محروم رہے گا۔ حتی کہ ایک موقع پر یہاں تک فرما دیا کہ غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرنے والا جنت کی خوشبو سے ہی محروم رہے گا۔ ارشاد فرمایا:

مَنْ قَتَلَ نَفْساً مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: بِغَيْرِ حَقِّهَا) حَرَّمَ اﷲُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ انْ يَجِدَ رِيْحَهَا.

جس نے کسی غیرمسلم شہری کو ناجائز طور پر (اور ایک روایت میں ہے کہ ناحق) قتل کیا اﷲ تعالیٰ نے اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام فرما دی ہے۔

  1. احمد بن حنبل، المسند، 5:36، رقم:20399
  2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1: 105، رقم:135

رحمتِ دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان فرامین اور سیرتِ طیبہ کی پیروی بعد ازاں خلفاے راشدین کے دور میں بھی جاری رہی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قافلے کو شام بھیجتے ہوئے جو احکامات صادر فرمائے، ان میں آپ نے یہ بھی حکم فرمایا تھا:

وَلَا تَهْدِمُوْا بِيْعَةً … وَلَا تَقْتُلُوْا شَيْخًا کَبِيْرًا، وَلَا صَبِيًّا وَلَا صَغِيْرًا وَلَا امْرَأَةً.

اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنا۔۔۔۔ اور نہ بوڑھوں کو قتل کرنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹوں کو اور نہ ہی عورتوں کو (قتل کرنا)۔

هندی، کنز العمال، 4: 475، رقم: 11411

حضرت ثابت بن الحجاج الکلابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أَلَا! لَا يُقْتَلُ الرَّاهِبُ فِي الصَّوْمَعَةِ

خبر دار! کسی گرجا گھر کے پادری کو قتل نہ کیا جائے۔

ابن ابی شيبة، المصنف، 6: 483، رقم: 33127

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ اوّل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پر دمشق اور شام کی سرحدوں سے عراق اور ایران کی طرف لوٹے تو راستے میں باشندگانِ عانات کے ساتھ یہ معاہدہ کیا:

  1. ان کے گرجے اور خانقاہیں منہدم نہیں کی جائیں گی۔
  2. وہ ہماری نماز پنج گانہ کے سوا ہر وقت اپنا ناقوس بجا سکتے ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
  3. وہ اپنی عید پر صلیب نکال سکتے ہیں۔

أبو يوسف، کتاب الخراج: 158

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

مَنْ کَانَ لَهُ ذِمَّتُنَا، فَدَمُهُ کَدَمِنَا، وَدِيَتُهُ کَدِيَتِنَا.

بيهقی، السنن الکبریٰ، 8: 34

جو ہماری غیر مسلم رعایا میں سے ہے اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہیں اور اس کی دیت بھی ہماری دیت کی طرح ہے۔

ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

إِذَا قَتَلَ الْمُسْلِمُ النَّصْرَانِيَّ قُتِلَ بِهِ

اگر کسی مسلمان نے عیسائی کو قتل کیا تو وہ مسلمان (اُس کے قصاص میں) قتل کیا جائے گا۔

شيبانی، الحجة، 4: 349

  • مندرجہ بالا اُصولوں کی روشنی میں قراردادِ اَمن پڑھنے اور اس پر دستخط کرنے والے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں پُراَمن بقاے باہمی پر اِرتکاز کر تے ہوئے اِنتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پایا جائے اور اِسلامی تعلیمات کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کو مکمل تحفظ اور حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ اِسلامی معاشرے کو مثالی بنایا جا سکے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved