Peace Resolution - Presented by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

آرٹیکل نمبر 4

آرٹیکل نمبر 4

تمام اِنسان برابر ہیں اور ہمیں سب کے ساتھ باہمی عزت و اِحترام، برداشت، بُردباری، عدل و اِنصاف اور رواداری کا رویہ اپنانا چاہیے کیونکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق کسی گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔

اِسلام کا بنیادی تصور بنی نوع اِنسان کے لیے بلا اِمتیازِ رنگ و نسل اور دین و مذہب اِحترام، وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ قرآن حکیم کی رُو سے اﷲ رب العزت نے بنی نوع اِنسان کو دیگر تمام مخلوقات پر فضیلت و تکریم عطا فرمائی ہے۔ اِسی لیے قرآن میں کسی ایک مذہب، گروہ یا فرقہ کی بات نہیں کی گئی بلکہ پوری اِنسانیت کے لیے مساوات اور اِحترام کے ساتھ تکریم کا حکم دیا گیا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِيْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰی کَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلاً.

اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا۔

بنی إسرائيل، 17: 70

اِسی طرح مزید اِرشاد فرمایا:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ.

ہم نے اِنسان کو بہترین، اِعتدال اور توازُن والی ساخت پر بنایا ہے۔

التين، 95: 4

ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا:

وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَـآئِلَ لِتَعَارَفُوْا.

اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنا دیے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔

الحجرات، 49: 13

مندرجہ بالا آیاتِ بینات سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ رب العزت نے اِنسان کو اشرف المخلوقات بنا کر مسجودِ ملائک بنایا اور رنگ و نسل اور دین و مذہب کے اِمتیاز کے بغیر سب کو برابر حقوق عطا کیے۔ تقوی کے سوا کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ہمارے قبائل، خاندان اور طبقات فقط پہچان اور تعارف کے لیے ہیں۔

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح الفاظ میں اعلان فرمایا:

يَا اَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ. اَلَا! لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ؛ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوٰی.

لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو۔ اور آدم کی تخلیق مٹی (کے جوہر) سے ہوئی، تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے۔

  1. احمد بن حنبل، المسند، 5: 411، رقم: 23536
  2. بيهقی، شعب الإيمان، 4: 298، رقم: 5137

اِسلام نے تمام قسم کے اِمتیازات اور ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا ہے۔ دینِ متین نے اِنسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام اِنسانوں کو برابر قرار دیا ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، سفید ہو یا سیاہ، مشرق میں ہو یا مغرب میں، مرد ہو یا عورت، خواہ وہ کسی بھی لسانی طبقے یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ سب کے سب برابر ہیں۔

  • اس قراردادِ اَمن کے ذریعے ہم ہر دست خط کرنے والے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے کردار و عمل میں مساوات کے کلچر کو عام کرنا ہوگا تاکہ معاشرے سے ظلم و عدوات، عدمِ مساوات، اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved