Peace Resolution - Presented by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

آرٹیکل نمبر 9

آرٹیکل نمبر 9

دہشت گردی کی عدالتوں کے جج صاحبان کو دہشت گردوں کے خوف سے بے نیاز ہو کر اُسی جرات اور بے باکی سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ جات سنانے چاہییں جس بے خوفی کا مظاہرہ وہ دیگر ملزمان کے خلاف فیصلہ جات کرتے وقت کرتے ہیں۔ سالوں یا مہینوں کی بجائے دنوں میں دہشت گردوں کو سزا دی جائے اور ان فیصلہ جات پر فوری عمل درآمد کرایا جائے۔

یہ بات اَظہر من الشمس ہے کہ کوئی اِنسانی معاشرہ عدل و اِنصاف کے اُصولوں کو فراموش کرکے خوش حالی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا لیکن جس معاشرے میں عدل کا قتل عام ہو، اِنصاف بکتا ہو تو وہاں لوگ عدل و اِنصاف نہ ملنے کے باعث لوگ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں اِنصاف کے حصول کے لیے دہشت گرد بن جاتے ہیں۔ اِسلام کاپیش کردہ نظامِ عدل و انصاف ایک عالمی چارٹر (charter) کی حیثیت رکھتا ہے جس کی مثال تاریخِ اِنسانی میں نہیں مل سکتی۔ اس عالمی چارٹر میں تمام وابستگیوں اور تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اِنسانیت کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس میں دین و مذہب، قوم و ملت، ملک و وطن اور دولت و عزت کی کوئی تفریق نہیں رکھی گئی۔

اﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے:

اِعْدِلُوْاقف هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی.

عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے۔

المائده، 5: 8

اِنَّ اﷲَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ.

بے شک اﷲ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔

النحل، 16: 90

فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ط اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ.

تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بے شک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے۔

الحجرات، 49: 9

سیرت النبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں متعدد واقعات سے اس کا عملی ثبوت ملتا ہے۔ ایک دفعہ قبیلہ مخزوم کی عورت نے چوری کی۔ قریش نے چاہا کہ وہ حد سے بچ جائے۔ اُنہوں نے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت قریب تھے سے درخواست کی کہ وہ سفارش کریں۔ اُنہوں نے خاتم الانبیاء صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض داشت بیان کی تو رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ اسی سبب سے تباہ وبرباد ہوئے کہ وہ اپنے غریبوں پرحد جاری کرتے تھے اور امیروں کو چھوڑ دیتے تھے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی ایسا کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔

بخاري، الصحيح، کتاب الانبياء، باب حديث الغار، 3: 1282، رقم: 3288

عدل و انصاف قرآن وحدیث میں بیان کردہ اِسلامی اَقدار میں سب سے بنیادی قدر ہے اور اَہلِ اِیمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ اِعتدال کا لفظ بھی اسی سے ماخوذ ہے، لیکن آج ہمارا معاشرہ اس بنیادی قدر سے محروم ہو چکا ہے۔ عدل و انصاف اُمراء اور حکام کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں جب کہ فقراء و مساکین اور عامۃ الناس در بدر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔

پاکستان میں اَخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ یہاں ایک مظلوم عورت انصاف کی بھیک مانگتے مانگتے تھک ہار کر مٹی کا تیل چھڑک کر تھانے کے سامنے خود سوزی کر لیتی ہے، حکمرانوں کے لیے الگ قوانین ہیں اور عوام کے الگ، اُمراء گناہ کا اِزالہ حج کر کے جبکہ جرم کا کفارہ جج کرکے کرتے ہیں۔ اُس معاشرے سے ظلم و اِنتقام اور دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکتا جس معاشرے کی عدالتیں دہشت گردوں سے ڈر کر انہیں سزا نہ دیں اور جس معاشرے کا ہر فرد سکیورٹی کے باوجود خوف سے کانپتا رہتا ہے۔

  • لہٰذا اِس قرارداد کے ذریعے ہم نہایت قابلِ احترام جج صاحبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کی بجائے جرات اور سرعت رفتاری سے لوگوں کو انصاف دیں۔ مظلوموں کو انصاف دے کر جہاں ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے وہیں مظلوموں کو انصاف کے حصول سے دل برداشتہ ہو کر قانون کو ہاتھ میں لے کر ظالم بننے سے بچایا جائے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved