The Philosophy of Fasting

باب چہارم :جسم اور روح کی حقیقت

جسم اور روح کے بارے میں سائنس کا نقطہ نظر

جسم اور روح کے باہمی ارتباط کی توجیہہ جدید سائنسی نقطہ نظر سے کی جائے تو ہم سائنس کی اصطلاح میں جسم کو مادہ (Matter) اور روح کو توانائی (Energy) کا نام دے سکتے ہیں۔ مادہ اپنی تین حالتوں یعنی ٹھوس‘ مائع اور گیس پر مشتمل ہوتا ہے اور کثیف ہونے کے باوجود جب وہ ٹھوس سے مائع اور مائع سے گیس میں بدلتا ہے تو اس کی کثافت (Density) بتدریج گھٹنے لگتی ہے اور اس کی ماہیت میں لطافت پیدا ہو جاتی ہے۔ مادے کی ایک بنیادی خاصیت یہ ہے کہ وہ جگہ گھیرتا ہے ‘اس کی مثال یوں ہے کہ برتن میں پانی مادے کی مائع حالت میں موجود ہے۔ برتن میں موجود پانی کو گرم کریں تو وہ حرارت سے بھاپ میں تبدیل ہو کر گیس کی شکل اختیار کرے گا اور پورے کمرے کی فضا میں پھیل جائے گا، جبکہ برتن میں وہ ایک محدود جگہ میں مقید تھا۔ پانی جب گرم ہو کر بھاپ یا گیس کی ہیت اختیار کر گیا تو وہ اپنی کثیف حالت سے لطیف حالت میں منتقل ہو گیا اور وہ اپنی اس حالت میں خالی جگہ میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس عام اصول کے مطابق جب کوئی شے مائع سے ٹھوس حالت میں منتقل ہوتی ہے۔ تو اس کی کثافت میں نسبتاً اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ گھیرنے کی استعداد نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ یہ عام سائنسی مشاہدہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ مادہ جس قدر کثیف ہو گا، وہ اتنا ہی محدود جگہ میں محصور ہو گا اور وہ جوں جوں لطیف ہوتا جائے گا، توں توں اس کا پھیلائو اور حصار بڑھتا چلا جائے گا۔ مادے کی ان تینوں مختلف حالتوں کے فرق سے اس کی کثافت و لطافت کے فرق کا اندازہ ہو گیا۔ مادے اور توانائی کے فرق کو ایک مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔

فرض کریں کہ آپ کے منہ میں پانی موجود ہے، جسے آپ کلی کی صورت میں باہر نکالیں گے تو اس کا فاصلہ اور پھیلائو محدود ہو گا‘ کیونکہ پانی مادہ ہونے کی بنا پر نسبتاً محدود جگہ میں محصور رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس آپ کے منہ سے نکلنے والی آواز جو کہ توانائی کی ایک شکل ہے‘ دور تک جا رہی ہے اور اگر آپ لائوڈ سپیکر استعمال کر رہے ہوں تو اس آلے کی مدد سے اس کے دائرہ اثر (Range) میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ جسم اور روح کا تعلق اس سے گہری مماثلت رکھتا ہے‘ جسم مادی اور کثیف ہے‘ جبکہ روح غیر مادی لطیف وجود سے متشکل ہے اور وہ توانائی کی ناقابلِ بیان لطیف صورت ہے۔ اس پر مستزاد توانائی کی مختلف صورتیں ‘ مثال کے طور پر آواز کے مقابلے میں روشنی بہت زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہے۔ وہ ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی مسافت طے کر لیتی ہے، جبکہ آواز کی رفتار مختلف اور محدود ہے، وہ صرف گیارہ سو پچاس فٹ فی سیکنڈ کی رفتار رکھتی ہے۔ رات کی تاریکی میں بجلی کا ایک قمقمہ روشن ہوتے ہی آن واحد میں پورے کمرے کو روشن کر دیتا ہے۔ آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی لامتناہی مسافتیں طے کر کے مختصر وقت میں کرئہ ارض کے وسیع و بسیط خطے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اس کے تقابل میں آواز باوجود محیر العقول سائنسی ایجادات و اکتشافات کے ایک حد سے آگے نہیں جا سکتی۔ ان مظاہر سے بدرجہا بڑھ کر روح توانائی کی وہ مافوق الادراک ما بعد الطبیعاتی صورت ہے، جس کے لئے قُرب و بُعد اور زمان و مکان کی حدود و قیود کی حقیقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

جسم اور روح کی بحث کا ما حاصل

اس ساری گفتگو کا ماحاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ مادی جسم اپنی خلقت کے اعتبار سے پابند اور محدود ہے‘ جبکہ روح ایک فوق الادراک ما بعد الطبیعاتی حقیقت ہے، جس تک عقل رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ انسانی شخصیت کی تعمیر میں روح کا کردار فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے‘ جب تک جسم پر بشریت کے اوصاف غالب رہیں‘ روح کمزور‘ مضمحل اور دبی دبی رہتی ہے اور نتیجتاً انسانی شخصیت میں بہیمیت اور حیوانیت کا عنصر غالب رہتا ہے، جس کے باعث وہ اعلی اقدار کے جوہر سے محروم رہتی ہے‘ لیکن جیسے ہی جسم پر بشریت کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے‘ روح تقویت پا کر غالب اور مستحکم ہونے لگتی ہے اور انجام کار اس کی ملکوتی صفات جسمِ انسانی پر حاوی ہو جاتی ہیں، جس کے زیر اثر ایسے اوصاف کی حامل شخصیت سے وہ افعال صادر ہونے لگتے ہیں‘ جو روح کے تصرفات و کمالات کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔

روح کیا ہے؟

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب روح کی حقیقت و ماہیت کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال پوچھنے لگے تو قرآن نے ان کے استفسار کا جواب بڑے جامع اور مانع انداز سے دیا۔ ارشاد ربانی ہے:

وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ.

(بنی اسرائیل‘ 17: 85)

اور یہ (کفار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے۔

خدا تعالیٰ نے روح کو امر ربی کہہ کر انسان کو متنبہ کر دیا کہ وہ اس معاملے کو زیادہ نہ کریدے کہ اس سے زیادہ اس کے حیطہء اِدراک و فہم میں نہیں آسکتا۔ لہذا اس کی شایانِ شان یہی ہے کہ روح کی ماورائی حقیقت کو فقط اپنے رب کا امر (حکم) سمجھنے پر اکتفا کرے‘ ورنہ وہ اپنی ناقص اور محدود عقل کے بل بوتے پر ایسی بھول بھلیوں میں پڑ جائے گا ‘جس سے نکلنا اس کے لئے ممکن نہ ہو گا۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

تزکیہ نفس کے توسط سے انسان اپنی بشریت کی گرفت اور تسلط سے آزاد ہو کر مولائی صفات کا حامل ہو جاتا ہے اور اس کی روحانی طاقت اِرتقاء کے مراحل طے کرنے کے بعد اس مقام تک پہنچ جاتی ہے کہ فرشتے کو بھی اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں رہتی۔ اللہ کا بندہ جب روحانی مدارج کی بلندیوں کو پہنچتا ہے تو عالمِ ناسوت سے آگے عالمِ ملکوت بھی اس کے زیرنگیں آ جاتا ہے۔

بندئہ مولاکی صفات کے روحانی کمالات

اشرف المخلوقات ہونے کا تاج انسان کے زیبِ سر اس لئے کیا گیا کہ اس کے اندر اللہ رب العزت نے یہ صلاحیتیں ودیعت کر رکھی ہیں کہ وہ تزکیہ نفس اور تصفیہء باطن کے ذریعے وہ روحانی کمالات کی رفعتوں سے ہم کنار ہو جاتا ہے اور پھر اسے وہ قدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ جس مثالی شکل میں چاہے مختلف مقامات پر ظاہر ہو سکتا ہے اور اس کے لئے مشرقین و مغربین کا بُعد کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کوئی بھی ذات خواہ وہ فرشتہ ہو یا انسان‘ اس کی اصل شکل و ہیئت تو ایک ہی رہتی ہے‘ لیکن اسے بیک وقت مختلف مقامات پر مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے کی جو قدرت حاصل ہو جاتی ہے، اسے تمثیلِ ارواح سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ یعنی یہ صفت جس سے انبیاء اولیاء اور اللہ کے محبوب و مقبول بندے متصف ہوتے ہیں، روح کے تصرفات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

مقبولانِ حق تزکیہ اور پیہم مجاہدے کی بدولت روحانیت کے اس درجے پر فائز ہو جاتے ہیں کہ وہ نفسانی خواہشات اور دنیاوی حاجات سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ اسی سبب سے متعدد اولیاء حق اور عرفائے کاملین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چالیس برس تک عشاء کی نماز کے وضو سے نمازِ فجر ادا کی اور اپنے پہلوؤں کو بستر سے آشنا نہ کیا۔ بعض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمر بھر صائم الدہر رہے اور کھانے پینے سے بیگانہ‘ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک قول نقل کیا جاتا ہے:

اخبرنا الشیخ ابو عبداللّٰه محمد بن احمد بن منظور الکنانی‘ قال: سمعت الشیخ العارف أبا عبداللّٰه محمد بن أبی الفتح الهروی‘ یقول: خدمت سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی رضی الله عنه أربعین سنة‘ فکان فی مدتها یصلی الصبح بوضؤ العشاء‘ و کان اذا أحدث جدد فی وقته وضوء وصلی رکعتیں‘ و کان یصلی العشاء‘ و یدخل خلوته ولا یدخلها احد معه‘ ولا یخرج منها الاعند طلوع الفجر.

(بهجة الاسرار: 85)

ہمیں الشیخ ابو عبداللہ محمد بن احمد بن منظور الکنانی نے بتایا‘ فرماتے ہیں کہ میں نے الشیخ العارف ابو عبداللہ محمد بن ابو الفتح الہروی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی چالیس سال خدمت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ اس مدت میں عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے۔ جب وضو ٹوٹتا تو اسی وقت وضو کی تجدید کرتے اور دو رکعتیں ادا کرتے اور عشاء کی نماز ادا کر کے خلوت کدہ میں تشریف لے جاتے۔ آپ کے ہمراہ کوئی بھی داخل نہ ہو تا اور آپ طلوع فجر کے وقت باہر تشریف لاتے۔

ان سب خارق العادت افعال کی توجیہہ صرف اسی طرح کی جا سکتی ہے کہ ہر چند انسان کے زندہ رہنے کے لئے حوائج بشریہ لازم ٹھہرائے گئے۔ تاہم زندگی کی بقا کا انحصار روح پر ہے اور جسم کو اپنی حیات پر کلیتاً اختیار حاصل نہیں۔ اگر ایک فربہ اور طاقتور جسم کے اندر نحیف و کمزور روح برقرار رہ سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کمزور و لاغر جسم کے اندر توانا اور قوی روح زندہ نہ رہ سکے۔

جوں جوں کوئی بندہ تقرب الی اللہ کا مقام حاصل کرتا ہے اور خد اکی محبت اس کے ریشے ریشے میں سما جاتی ہے‘ اس کی روح کی توانائیاں رفتہ رفتہ سارے جسم پر غالب ہو جاتی ہیں‘ جس کے پرتو سے شبستان روشن ہو جاتے ہیں اور سب تیرگیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ روح کی لطافت جب درجہ کمال کو پہنچتی ہے تو اس کے جسم کی کثافت بھی لطافت میں بدل جاتی ہے۔ اس کی مثال بجلی کے قمقمے کی سی ہے، جس پر شیشے کا شفاف (Transparent) خول ہوتا ہے جب اس کے اندر(Philment) میں برقی رو جاری ہوتی ہے تو اس کی روشنی صرف اندر ہی محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ خول سے باہر کمرے کی فضا کو بھی چاروں طرف روشن کر دیتی ہے۔

یہی حال روح کا ہے‘ جب وہ خدا کی نورانیت سے بہرہ ور ہو کر منور ہوتی ہے تو اس کی تابناکی اسی طرح سب کو فیضیاب کرتی ہے، جس طرح آفتاب کا نور خاکدانِ تیرہ کے ذرے ذرے کو چمکا دیتا ہے۔ روح کی فیض رسانی کا سلسلہ عالم دنیوی تک ہی محدود نہیں، بلکہ جسم پر موت وارد ہو جانے کے بعد عالم برزخ اور عالم آخرت میں بھی اس کی تجلیاں جاری و ساری رہتی ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جسم کی قید سے آزاد ہونے کے بعد ایک بندئہ مومن کی روح اپنے اصل مرجع کی طرف لوٹ جاتی ہے، اور اس کی تابانیاں اور توانائیاں بدرجہا اتم بڑھ جاتی ہیں، اس طرح موت سے جو مذاق زندگی کی تجدید کا نام ہے‘ روح اپنے اصلی مکان اور گھر کی طرف مراجعت کر جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

کون کہتا ہے کہ مومن مر گئے؟
قید سے چھوٹے وہ اپنے گھر گئے

جسم کی قید سے رہائی کے بعد روح کا مقام

عالمِ ارواح کو خیر باد کہنے کے بعد روح انسانی جسم میں مقید ہو جاتی ہے اور اس زنداں میں زبانِ حال سے نالہ و فریاد کرتی رہتی ہے کہ جان چھوٹے اور وہ اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ جائے۔ اس کی حالت اس اسیر پرندے کی طرح ہوتی ہے‘ جو پنجرے میں رہائی کے انتظار میں اسیری کی گھڑیاں گن گن کر گزار رہا ہوتا ہے، پھر جب مہلت ختم ہوتی ہے اور’’ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘ کا اٹل قانون لاگو ہو جاتا ہے تو بندئہ مومن کی روح جسم کی قید سے آزاد ہونے کے بعد عالمِ بالا کی طرف پرواز کرنے لگتی ہے، جبکہ اس کا جسم امانت کے طور پر سپردِ خاک کر دیا جاتا ہے اور وہ تاقیامت اسی حالت میں عالم برزخ میں رہتا ہے۔ روح پرواز کر کے عالمِ علین کی طرف لوٹ جاتی ہے‘ مگر اس کا تعلق کسی نہ کسی صورت میں جسم کے ساتھ بھی برقرار رہتا ہے۔ اس کی مثال آفتاب جہاں تاب کی طرح ہے جو کروڑوں میل کی مسافت سے پردئہ خاک میں پنہاں پودے کے بیج کو اپنی حرارت سے نمو بخشتا ہے اور اس کی قوتِ نامیہ کو جلا بخش کر پودے کو تناور شجر بننے میں مدد دیتا ہے۔ جس طرح سورج کی شعاعیں روئیدگانِ خاک کو نشوونما عطا کرتی ہیں، بعینہ روح اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ قبر میں پڑے ہوئے مومن کے جسم کو تروتازہ رکھتی ہے۔ یہ روح کا کرشمہ ہی ہے کہ انبیاء اور شہداء کے اجسام ان کی قبور میں زندہ ہوتے ہیں۔ انبیاء کرام کا جسم زمین پر حرام کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے مزارات میں اپنے جسموں کے ساتھ زندہ اور مشغولِ عبادت رہتے ہیں، جیسا کہ حدیث مبارکہ سے واضح ہے:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان اللّٰه حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء.

(سنن ابن ماجه، 77‘ کتاب اقامة الصلاة والسنة فیها‘ باب فی فضل الجمعه‘ رقم حدیث: 1085)

بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے اجسام کو کھائیں۔

تزکیہ روح کے لئے روزہ بہترین عمل

روح اور باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے مزکی اور مصفا کرنے کے لئے روزے سے بہتر اور کوئی عمل نہیں۔ یہی سبب تھا کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عبادت سے اتنا شغف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر روزے سے رہتے اور صیامِ وصال یعنی پے در پے بغیر افطار کئے روزے رکھتے۔ روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی صیام وصال رکھنے شروع کئے تو کمزوری سے ان کے چہرے پیلے پڑنے لگے اور ان کی حالت یہ ہو گئی کہ چلتے چلتے گر پڑتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاملہ کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ایسا کرنے کا سبب دریافت فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم آپ کی اتباع میں ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کون میری مثل ہے؟ میرا حال تو یہ ہے کہ مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے، جیسا کہ احادیث نبوی کے الفاظ سے ظاہر ہے:

ان ابا هریرة رضی الله عنه قال: نهی رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم عن الوصال فی الصوم‘ فقال: له رجل من المسلمین انک تواصل یا رسول اﷲ قال و ایکم مثلی انی ابیت ربی یطعمنی و یسقینی.

  1. (صحیح البخاری‘ 1: 263‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 1860)
  2. (صحیح مسلم‘ 1: 352‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 1104)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل اور پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو ایک مسلمان نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ آقائے دوجہاں نے ارشاد فرمایا تم میں سے میری مثل کون ہے؟ میں تو رات اس حالت میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے مترشح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اعمال خصوصی پیغمبرانہ امتیاز کے حامل ہیں اور وہ امت کے لئے قابل تقلید نہیں ہیں۔ بحیثیت شارع اسلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو میانہ روی اور اعتدال کی راہ پر چلنے کی تلقین فرمائی۔

اس ساری بحث سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ تزکیہ روح اور تصفیہ باطن کا موثر ترین ذریعہ روزہ ہی ہے، جس سے محبوب حقیقی کا قرب و وصال نصیب ہوتا ہے اور بندہ ان کیفیات و لذات سے آشنا ہوتا ہے، جن کے مقابلے میں دنیا و مافیہا کی کوئی شے پرکاہ کے برابر نہیں۔

فقر و فاقہ کی بنا پر اصحاب صفہ کا مقام

آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی تربیت یافتگان میں ان اصحاب کو امتیازی مقام حاصل ہے، جنہیں ان کے زبد و ورع‘ تقویٰ و عبادت اور امور دینیہ میں خصوصی شغف کی بنا پر اصحاب صفہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یوں تو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ سے اختیاری فقر کا رنگ جھلکتا تھا اور خانہ نبوت میں کئی کئی دن چولہا روشن نہیں ہوتا تھا اور محض کھجوروں اور سادہ پانی پر بسر اوقات ہوتی تھی‘ لیکن فقر مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمایاں چھاپ خصوصیات کے ساتھ اصحاب صفہ کی زندگیوں پر نظر آتی تھی۔ روایت میں ہے کہ مسلسل فاقوں کی وجہ سے بعض اوقات وہ اتنے لاغر اور کمزور ہو جاتے کہ باہر سے آنے والے اعرابی ان کی ہیئت کذائی دیکھ کر لاعلمی کی بنا پر ان کا تمسخر اڑانے لگتے اور انہیں دیوانہ و فاتر العقل سمجھتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بے خبروں سے مخاطب ہو کر خندئہ استہزا کا نشانہ بننے والے فاقہ مست اصحاب کی شان میں یوں ارشاد فرمایا:

لو تعلمون ما لکم عند اللّٰه لأحببتم ان تزدادوا فاقة و حاجة.

(جامع الترمذی‘ 2: 59‘ کتاب الزهد‘ باب معشیت اصحاب النبی‘ رقم حدیث: 2368)

اگر تمہیں علم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں تمہارا کیا مقام ہے تو تم فاقہ و حاجت میں زیادتی پسند کرو۔

روزے سے فقر و فاقہ کی جو شان استغناء پیدا ہوتی ہے، وہ تونگری سے کہیں اعلی مقام رکھتی ہے۔

اِضطراری و اِختیاری فقر میں فرق

مردانِ باصفا اور اہل طریقت کو خالی شکم رہنا بڑا اچھا لگتا ہے، لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ان کا یہ فقر اِضطراری نہیں بلکہ اِختیاری یعنی خود اختیار کردہ ہوتا ہے۔ شانِ فقر یہ ہے کہ دنیاوی مال و اسباب پر رسائی ہوتے ہوئے اس سے ہاتھ کھینچ لیا جائے اس ضمن میں ابن عساکر رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت بیان کی ہے آپ لکھتے ہیں کہ:

ایک دفعہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے گھر میں کئی دن سے فقر و فاقہ کی کیفیت تھی۔ آپ کی ایک خادمہ سے یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ اس کے پاس سونے کی ایک ڈلی تھی۔ وہ لے کر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اسے قبول فرمایئے اور اس سے اہل بیت کی خورد و نوش کی ضرورت کو پورا کیجئے۔ یہ سن کر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے زور سے پاؤں زمین پر مارا تو گھر میں موجود ہر چیز سونے کی دکھائی دینے لگی۔ آپ نے خادمہ سے کہا کہ اگر تو سمجھتی ہے کہ ہمارا فقر و فاقہ اضطراری ہے تو یہ تیری نادانی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو دنیا کا مال و متاع ہمارے قدموں میں ڈھیر ہو جائے‘ لیکن اے بے خبر! دنیا کی ہر چیز ہمارے نزدیک پرکاہ کی اہمیت نہیں رکھتی کہ ہمیں اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بہرحال عزیز ہے۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تزکیہ نفس صرف فقر اختیاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کے روحانی اثرات بندہ مومن پر انتہائی دور رس ہوتے ہیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved