The Philosophy of Fasting

چند نفلی روزوں کی فضیلت

روزہ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے فرض روزوں کے علاوہ مختلف ایام کے روزوں کی ترغیب بھی دی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ انبیاء و صلحاء کی زندگیوں کا معمول تھا کہ وہ فرض روزوں کے علاوہ زندگی بھر نفلی روزوں کا بطور خاص اہتمام کرتے۔ نفلی روزوں کی فضیلت کے پیش نظر درج ذیل سطور میں بعض روزوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

صوم ِعاشورہ:

صومِ عاشورہ دسویں محرم کا روزہ ہے‘ بہتر یہ ہے کہ نویں محرم کو بھی روزہ رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

1. افضل الصیام‘ بعد رمضان‘ شهر ﷲ المحرم.

(صحیح لمسلم‘ 1: 368‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1163)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے بعد سب روزوں میں افضل اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔

2۔ عن ابی قتادة الانصاری‘ سئل عن صوم یوم عآشوراء فقال یکفر السنة الماضیة.

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

(صحیح المسلم‘ 1:368‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1162)

صومِ عرفہ

یہ نویں ذوالحجہ کا روزہ ہے۔

عن ابی قتادة الانصاری‘ سئل عن صوم یوم عرفة‘ قال یکفر السنة الماضیة والباقیة.

(ایضاً)

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہے۔

عن ابی ہریرة رضی الله عنه‘ قال قال رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم: نهی عن صوم عرفة بعرفة.

(سنن ابوداؤد‘ 1: 338)

حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفاۃ میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔

شوال کے چھ روزے

عن ابو ابوب الانصاری رضی الله عنه‘ ان رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم: قال من صام رمضان ثم اتبعه ستاً من شوال کان کصیام الدهر.

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔

(صحیح لمسلم‘ 1: 369‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1164)

شعبان کا روزہ اور شب برأت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں رات (شب برأت) آئے تو اس رات میں قیام کرو یعنی نفلی نمازیں پڑھو اور دن میں روزہ رکھو کہ اللہ تعالی سورج ڈوبنے کے بعد سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور اعلان فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی بخشش کا طلبگار کہ میں اسے بخش دوں۔ کیا ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ میں اسے روزی دوں۔ کیا ہے کوئی مصیبت میں گرفتار کہ میں اس کو رہائی دوں۔ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اس قسم کی ندائیں ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔

ایامِ بیض کے روزے

ہر مہینے کی تیرہ‘ چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے ایام بیض کے روزے کہلاتے ہیں۔

عن ابی ذر قال: قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم من صام‘ من کل شهر فذلک کمن صیام الدهر.

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر مہینے کے تین روزے رکھے یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اس نے ہمیشہ روزے رکھے۔

(جامع الترمذی‘ 1: 95‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 762)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے کے یہ روزے ایسے ہیں‘ جیسے کوئی ہمیشہ روزے رکھتا رہا ہو اور فرمایا کہ جس سے ہو سکے‘ ہر مہینے میں تین روزے رکھے۔ ہر روزہ دس دن کے گناہ مٹاتا ہے اور وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے پانی کپڑے کو پاک کر دیتا ہے۔

قال کان رسول اللّٰه صلی الله علیه وآله وسلم لا یفطر ایام البیض فی حضر ولا سفر.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر اور حضر میں ایامِ بیض کے روزے رکھا کرتے تھے۔

(سنن النسائی‘ 1: 321‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 2345)

دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ

عن ابی هریرة رضی الله عنه‘ قال قال رسول اللّٰه صلی الله علیه وآله وسلم تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس فاحب ان یعرض عملی و انا صائم.

(جامع الترمذی‘ 1: 93‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 747)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال (بارگاہ خداوندی میں) پیش کئے جاتے ہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس صورت میں پیش ہوں کہ میں روزہ سے ہوں۔

عن ابی هریرة رضی الله عنه قال قال: رسول اللّٰه صلی الله علیه وآله وسلم: ان یوم الاثنین والخمیس یغفر ﷲ فیهما لکل مسلم الا متهاجرین یقول دعهما حتی یصطلحا.

(سنن ابن ماجه: 124‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1740)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سوموار اور جمعرات کے روز اللہ تعالی ہر مسلمان کی مغفرت فرماتا ہے‘ سوائے باہم لڑنے والوں کے‘ ان کے لئے حکم ہوتا ہے کہ انہیں چھوڑ دو تاوقتیکہ یہ دونوں صلح کر لیں۔

بدھ‘ جمعرات و جمعہ کا روزہ

عن انس بن مالک‘ انه سمع النبی صلی الله علیه وآله وسلم یقول: من صام الأربعاء‘ والخمیس‘ والجمعة نبی الله له قصرا فی الجنة من لولؤ‘ ویا قوت‘ و زبر جد‘ و کتب له براء ة من النار.

( المعجم الاوسط‘ 2: 188‘ رقم حدیث: 256)

حضرت انس بن مالک ص سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بدھ‘ جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں موتی اور یاقوت و زبر جد کا محل بنائے گا اور اس کے لئے دوزخ سے برأت لکھ دی جائے گی۔

صومِ داؤدی

سال بھر اس طرح روزے رکھنا کہ ایک دن روزہ دار رہے اور ایک دن بلا روزہ‘ صوم داؤدی کہلاتا ہے۔ یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ تھا۔

عن عبدﷲ بن عمرو رضی الله عنه‘ قال: قال لی رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم احب الصیام الی ﷲ تعالیٰ صیام داؤد و کان یفطر یوما و یصوم یوما.

(سنن ابوداؤد‘ 1: 339‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 2448)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کو روزوں سے داؤدی روزے سب سے زیادہ پسند ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved