The Philosophy of Fasting

شب قدر اور اس کی فضیلت

رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے‘ جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں‘ دونکتے جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری ‘اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زائد اجر عطا فرمانا چاہئے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

شب قدر کا معنی و مفہوم

1. انما سمیت بذلک لعظمها و قدرها و شرفها.

(القرطبی‘ 20: 130)

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قدر کا معنی مرتبہ کے ہیں ‘چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے‘ اس لئے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘ کہا جاتا ہے۔

2. ان اللّٰه تعالٰی یقض الا قضیة فی لیلة نصف شعبان و یسلمها الی اربابها الٰی اربابها فی لیلة القدر.

(تفسیر القرطبی‘ 20: 130)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو تمام فیصلے فرما لیتا ہے اور چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے ‘اس وجہ سے یہ ’’لیلۃ القدر‘‘ کہلاتی ہے۔

3. اس رات کو قدر کے نام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے:

نزل فیها کتاب ذو قدر‘ علی لسان ذی قدر‘ علی امة لها قدر‘ و لعل ﷲ تعالی انما ذکر لفظة القدر فی هذہ السورة ثلاث مرات لهذا السبب.

(تفسیر کبیر‘ 32: 28)

اس رات میں اللہ تعالی نے اپنی قابل قدر کتاب‘ قابل قدر امت کے لئے صاحبِ قدر رسول کی معرفت نازل فرمائی‘ یہی وجہ ہے کہ اس سورہ میں لفظ قدر تین دفعہ آیا ہے۔

4. قیل سمیت بذلک لان الارض تضیق باالملائکة فیها.

(تفسیر الخازن‘ 4: 395)

قدر کا معنی تنگی کا بھی آتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے اسے قدر والی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔

5. و قال ابو بکر الوراق: سمیت بذلک لأن من لم یکن له قدر و لا خطر یصیر فی هذه الیلة اذ قدر إذا احیاها.

(تفسیر القرطبی‘ 20: 131)

امام ابوبکر الوراق قدر کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ رات عبادت کرنے والے کو صاحب قدر بنا دیتی ہے‘ اگرچہ وہ پہلے اس لائق نہیں تھا۔

یہ رات کیوں عطا ہوئی؟

اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امت پر شفقت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غم خواری ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ:

ان رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم اری اعمار الناس قبله او ماشاء ﷲ من ذلک فکانه تقاصر اعمار امته عن ان لا یبلغوا من العمل‘ مثل الذی بلغ غیرهم فی طول العمر‘فاعطاہ لیلة القدر خیر من الف شهر۔.

جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟(پس) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیلۃ القدر عطا فرما دی‘ جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔

(موطا امام مالک‘ 1: 319‘ کتاب الصیام‘باب ماجاء فی لیلة القدر‘ رقم حدیث: 15)

اس کی تائید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا‘ جس نے ایک ہزار ماہ تک اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیا تھا۔

فعجب رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم لذلک و تمنی ذالک لامته فقال یا رب جعلت امتی أقصر الامم الاعمارا و أقلها أعمالا فاعطاه ﷲ تبارک و تعالیٰ لیلة القدر.

(تفسیر الخازن‘ 4: 397)

تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تعجب کا اظہار فرمایا اور اپنی امت کے لئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ دعا کی کہ اے میرے رب میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے تو اس پر اللہ تعالی نے شب قدر عنایت فرمائی۔

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے مختلف شخصیات حضرت ایوب علیہ السلام ‘ حضرت زکریا علیہ السلام ‘ حضرت حزقیل علیہ السلام ‘ حضرت یوشع علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حضرات نے اسی اسی سال اللہ تعالی کی عبادت کی ہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان برگزیدہ ہستیوں پر رشک آیا۔

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

یا محمد عجبت امتک من عبادة هولاء النفر ثمانین سنة ‘ فقد انزل ﷲ علیک خیراً من ذلک ثم مقرأنا اَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَة القَدْرِ فسر بذلک رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم.

اے نبی محترم! آپ کی امت کے لوگ ان سابقہ لوگوں کی اسی اسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپ کے رب نے آپ کو اس سے بہتر عطا فرما دیا ہے اور پھر سورۃ القدر کی تلاوت کی‘ اس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرئہ اقدس فرطِ مسرت سے چمک اٹھا۔

(تفسیر القرطبی‘ 20: 132)

چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طفیل یہ کرم فرمایا کہ اس امت کو لیلۃ القدر عنایت فرما دی اور اس کی عبادت کو اسی نہیں بلکہ 83 سال چار ماہ سے بڑھ کر قرار دیا۔

امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت

لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ان ﷲ وهب لامتی لیلة القدر لم یعطها من کان قبلهم.

(الدر المنثور‘ 6: 371)

یہ مقدس رات اللہ تعالی نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔

پہلی امتوں میں عابد کسے کہا جاتا تھا؟

مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ پہلی امتوں میں عابد اسے قرار دیا جاتا تھا ‘جو ہزار ماہ تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا‘ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں اس امت کو یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ ایک رات کی عبادت سے اس سے بہتر مقام حاصل کر لیتی ہے۔

قیل ان العابد کان فیما مضی یسمی عابداً حتی یعبد ﷲ الف شهر عبادة‘ فجعل ﷲ تعالی لامة محمد صلی الله علیه وآله وسلم عبادة لیلة خیر من الف شهر کانوا یعبدونها.

سابقہ امتوں کا عابد وہ شخص ہوتا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ تعالی کی عبادت کرتا تھا‘ لیکن اس کے مقابلے میں اللہ تعالی نے اس امت کے افراد کو یہ شبِ قدر عطا کر دی‘ جس کی عبادت اس ہزار ماہ سے بہتر قرار دی گئی۔

(فتح القدیر‘ 5: 472)

گویا یہ عظیم نعمت بھی سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کے صدقہ میں امت کو نصیب ہوئی ہے۔

فضیلتِ شب قدر:احادیث کی روشنی میں

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

من قام لیلة القدر ایماناً و احتساباً غفرله ما تقدم من ذنبه.

جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

(صحیح البخاری‘ 1: 270‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1910)

اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر‘ عبادت و طاعت کی تلقین کی گئی ہے‘ وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو‘ ریاکاری یا بدنیتی نہ ہو اور آئندہ عہد کرے کہ میں برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا‘ چنانچہ اس شان کے ساتھ عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژِدئہ مغفرت بن کر آتی ہے۔

حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ان هذا الشهر قد حضرکم و فیه لیلة خیر من الف شهر من حرمها فقد حرم الخیر کله ولا یحرم خیرها الا حرم الخیر.

یہ جو ماہ تم پر آیا ہے‘ اس میں ایک ایسی رات ہے‘ جو ہزار ماہ سے افضل ہے‘ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا‘ گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتا محروم ہو۔

(سنن ابن ماجه: 20‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1644)

ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتاہے‘ جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر بسر کر لیتا ہے تو اسی سال کی عبادت سے افضل عبادت کے لئے دس راتیں کیوں نہیں جاگ سکتا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اذا کان لیلة القدر نزل جبرائیل علیه السلام فی کبکة من الملئکة یصلون علی کل عبد قائم او قاعد یذکر ﷲ عزوجل.

شب قدر کو جبرائیل امین علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں اور ہر شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے‘ بیٹھے (یعنی کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔

(شعب الایمان‘ 3: 343)

شب قدر کو مخفی کیوں رکھا گیا؟

اتنی اہم اور بابرکت رات کے مخفی ہونے کی متعدد حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

  1. دیگر اہم مخفی امور مثلاً اسمِ اعظم‘ جمعہ کے روز قبولیت دعا کی گھڑی کی طرح اس رات کو بھی مخفی رکھا گیا۔
  2. اگر اسے مخفی نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہو جاتی اور اسی رات کے عمل پر اکتفا کر لیا جاتا‘ ذوقِ عبادت میں دوام کی خاطر اس کو آشکار نہیں کیا گیا۔
  3. اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی انسان کی وہ رات رہ جاتی تو شاید اس کے صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا۔
  4. اللہ تعالیٰ کو چونکہ اپنے بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے‘ اس لئے رات تعین نہ فرمائی ‘تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزریں۔
  5. عدمِ تعین کی وجہ سے گنہگاروں پر شفقت بھی ہے‘ کیونکہ اگر علم کے باوجود اس رات میں گناہ سرزد ہوتا تو اس سے لیلۃ القدر کی عظمت مجروح کرنے کا جرم بھی لکھا جاتا۔ (التفسیر الکبیر‘ 32: 28)

ایک جھگڑا علمِ شبِ قدر سے محرومی کا سبب بنا

ایک نہایت اہم وجہ اس کے مخفی کر دینے کی جھگڑا بھی ہے ‘ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیاکہ آپ اس رات کی تعین کی بارے میں اپنی امت کو آگاہ فرما دیں کہ یہ فلاں رات ہے‘ لیکن دو آدمیوں کے جھگڑے کی وجہ سے بتلانے سے منع فرما دیا‘ روایت کے الفاظ یوں ہیں:

خرج النبی صلی الله علیه وآله وسلم لیخبر بلیلة القدر‘ فتلاحی رجلان من المسلمین‘ فقال: خرجت لأخبرکم بلیلة القدر‘ فتلاحی فلاں و فلاں فرفعت.

ایک مرتبہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب قدر کی تعین کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے‘ لیکن راستہ میں دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے بارے میں اطلاع دینے آیا تھا‘ مگر فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے اس کی تعین اٹھا لی گئی۔

(صحیح البخاری‘ 1: 271‘ کتاب الصیام‘ رقم حدیث: 1919)

اس روایت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے انسان اللہ تعالی کی بہت سی نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت برکتوں اور سعادتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ مذکورہ روایت سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید اس کے بعد تعین شب قدر کا آپ کو علم نہ رہا۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ شارحین حدیث نے تصریح کر دی ہے کہ تعین کا علم جو اٹھا لیا گیا تھا تو صرف اسی ایک سال کی بات تھی‘ ہمیشہ کے لئے نہیں۔

امام بدر الدین عینی شرح بخاری میں رقمطراز ہیں:

فان قلت لما تقرر ان الذی ارتفع علم تعینها فی تلک السنة فهل اعلم النبی صلی الله علیه وآله وسلم بعد ذلک بتعینها؟ قلت روی عن ابن عینیه انه اعلم بعد ذلک بتعینیها.

اس سال تعین شب قدر کا علم اٹھا لیا گیا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی تعین کا علم رہا یا نہ؟میں کہتا ہوں کہ حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ آپ کو اس کے تعین کا علم تھا۔

(عمدة القاری‘ 11: 138)

ہمارے نزدیک آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ صرف تعین کا علم ہے‘ بلکہ آپ بعض غلاموں کو اس پر آگاہ بھی فرماتے ہیں۔

ایک صحابی کو آگاہ فرمانا

حضرت ابن عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ الجھنی سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا:

یا رسول ﷲ ان لی بادیة أکون فیها و أنا أصلی بحمد ﷲ فمرنی بلیلة أنزلها الی هذا المسجد فقال: أنزل لیلة ثلاث و عشرین.

میں ایک ویرانے میں رہتا ہوں‘ وہاں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نماز ادا کرتا ہوں آپ مجھے حکم دیں کہ کون سی رات آپ کے ہاں مسجد نبوی میں بسر کرنے کے لئے آؤں تو آپ نے فرمایا رمضان کی تیئسویں رات آ جاؤ۔

(سنن ابی داؤد‘ 1: 203‘ کتاب الصلاة‘ باب فی لیلة القدر‘ رقم حدیث: 1380)

یہ صحابی ہمیشہ تیئسویں رات کو مسجد نبوی میں آ کر جاگا کرتے۔ لوگوں نے آپ کے صاحبزادے سے پوچھا کہ بتاؤ آپ کے والد اس رات کیا کرتے تھے تو انہوں نے کہا:

کان یدخل المسجد اذا صل العصر فلا یخرج الا لحاجة حتی یلی الصبح فاذا صلی الصبح وجد دابته علی باب المسجد فجلس علیها ولحق ببادیة.

وہ عصر کے بعد صبح تک مسجد سے بغیر کسی حاجت کے باہر نہ آتے اور صبح اپنی سواری پر سوار ہو کر اپنے دیہات کی طرف روانہ ہو جاتے۔

اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر آدمی کے لئے شب قدر کی رات الگ الگ ہے۔

شب قدر کے تعین کے سلسلہ میں ایک ایمان افروز واقعہ

1965ء میں میرے والد گرامی حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور آخری عشرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کے سامنے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اعتکاف میں بیٹھے۔ رمضان المبارک کی پچیسویں شب نصف شب کے قریب اللہ تعالی نے کرم فرمایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اٹھ یہ رات شب قدر ہے۔‘‘ انہوں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس میں ایک گھڑی (ٹائم پیس) ہے‘ جس پر اس وقت تقریباً بارہ بج کر پچاس منٹ کا وقت تھا۔

والد گرامی فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب قدر کی اطلاع فرمائی ہے‘ بلکہ اس رات کی خصوصی قبولیت کی ساعت کی بھی نشاندہی فرما دی ہے۔ میں جلدی سے اٹھا‘ وضو کیا‘ ساتھ ہی راولپنڈی کے ایک نومسلم پروفیسر جو سکھ مذہب ترک کر کے مسلمان ہوئے تھے‘ بھی معتکف تھے۔ میں نے چاہا کہ ان مبارک لمحات کی خبر ان کو بھی کروں‘ لیکن یہ سوچ کر کچھ دیر کے لئے رک گیا‘ کہیں یہ افشائے راز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نامنظور نہ ہو ‘لیکن پھر میں یہ سوچ کر انہیں آگاہ کرنے کے لئے ان کی طرف چلا ہی گیا کہ یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ کے مہمان ہیں۔ اگر منع کرنا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا حکم فرما دیتے۔ جب میں اس ارادے سے ان کے قریب گیا تو وہ میرے قدموں کی آہٹ سن کر بیدار ہو گئے۔ میں نے ان سے کہا پروفیسر صاحب اٹھیں‘ کیونکہ یہی رات لیلۃ القدر ہے۔ وہ مسکرانے لگے ہاں اجابت کی گھڑی بارہ بج کر پچاس منٹ پر ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا آپ کو کس نے بتایا؟ کہنے لگے کہ جس ہستی کے در پر آپ مہمان ہیں ‘میں بھی انہیں کا مہمان ہوں۔ آپ تو صرف ایک وطن چھوڑ کر در مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آئے ہیں‘ جبکہ میں نے اس در کی غلامی کے لئے دو ہجرتیں کی ہیں‘ ایک اپنے مذہب سے اور دوسری اپنے وطن سے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھی اپنی نوازشاتِ کریمانہ کا مستحق سمجھا اور دولتِ دیدار سے نوازتے ہوئے اس مبارک گھڑی کے متعلق آگاہ فرما دیا ہے۔

شب قدر کی تعین کے بارے میں تقریباً پچاس اقوال ہیں‘ ان میں سے دو اقوال نہایت ہی قابل توجہ ہیں۔

1۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تحرو الیلة القدر فی الوتر‘ من العشر الاواخر من رمضان.

لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

(صحیح البخاری‘ 1: 270‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 1913)

چونکہ اعتکاف کا مقصد بھی تلاشِ لیلۃ القدر ہے‘ اس لئے ان آخری ایام کا اعتکاف سنت قرار دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب تک اللہ تعالی نے اس شب قدر کی تعین سے آگاہ نہیں فرمایا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاش کے لئے پورا رمضان اعتکاف کرتے تھے‘ لیکن جب آگاہ فرما دیا گیا تو وصال تک صرف آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے رہے۔

2۔ رمضان المبارک کی ستائسویں شب شبِ قدر کی رات ہے۔ جمہور علماء اسلام کی یہی رائے ہے۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قد اختلف العلماء فی ذالک والذی علیه المعظم انها لیلة سبع و عشرین.

( تفسیرالقرطبی‘ 20: 134)

علماء کا شب قدر کی تعین کے بارے میں اختلاف ہے‘ لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ لیلۃ القدر کی رات ستائیسویں شب ہے۔

علامہ آلوسی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

و کثیر منهم ذهب الی انها اللیلة السابعة من تلک الاوتار.

(روح المعانی‘ 30: 220)

علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ طاق راتوں میں سے ستائیسویں ہے۔

ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور قاری قرآن حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے ہے۔ حضرت زو بن جیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو شخص پورا سال عبادت کرے گا ‘وہ شب قدر کو پا لے گا۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جانتے ہیں کہ شب قدر رمضان کی آخری راتوں میں سے ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے‘ لیکن آپ نے اس کا ذکر اس لئے کر دیا تاکہ لوگ فقط انہی راتوں کو ہی نہ جاگیں‘ بلکہ پورا سال عبادت کریں اور اس کے بعد حلف اٹھا کر کہا کہ وہ رات ستائیسویں ہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو اس کی علامت بیان فرمائی ہے ‘وہ اسی رات میں پائی جاتی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ستائیسویں کو شب قدر قرار دیتے ہوئے تین دلیلیں بیان کیا کرتے تھے۔ جس کو امام رازی رحمة اللہ علیہ نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔

1. انه قال لیلة القدر تسعة حروف وهو مذکور ثلاث مرات فتکون السابعة والعشرین.

(تفسیر کبیر‘ 23: 30)

لفظ لیلۃ القدر کے 9 حروف ہیں اور اس کا تذکرہ تین دفعہ ہوا ہے اور مجموعہ 27 ہو گا۔

2. سورۃ القدر کے کل 30 الفاظ ہیں‘ جن کے ذریعے شب قدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس سورہ میں جس لفظ کے ساتھ اس رات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ’’ ہی‘‘ ضمیر ہے اور یہ لفظ اس سورہ کا ستائیسواں لفظ ہے۔

ان السورة ثلاثون کلمة و قوله (هی) هی السابعة و عشرون فيها.

  1. تفسیر کبیر‘ 32: 30
  2. القرطبی‘ 10: 136

سورۃ کے کل کلمات تیس ہیں (اور ان میں) ھی ستائیسواں کلمہ ہے۔

3. سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شب قدر کی تعین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:

احب الاعداد الی ﷲ تعالی الور واحب الوتر الیه السبعة فذکر السموت السبع والارضین السبع والاسبوع و عدد الطواف.

(تفسیر کبیر‘ 32: 30)

اللہ تعالی کو طاق عدد پسند ہے اور طاق عددوں میں سے بھی سات کے عدد کو ترجیح حاصل ہے‘ کیونکہ اللہ تعالی اپنی کائنات کی تخلیق میں سات کے عدد کو نمایاں کیا ہے مثلاً سات آسمان‘ سات زمین‘ ہفتہ کے دن سات‘ طواف کے چکر سات وغیرہ۔

شب قدر کا وظیفہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ شب قدر کا کیا وظیفہ ہونا چاہئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کی تلقین فرمائی:

اللهم انک عفو تحب العفو فاعف عنی.

اے اللہ تو معاف کر دینے والا اور معافی کو پسند فرمانے والا ہے پس مجھے بھی معاف کر دے۔

(مسند احمد بن حنبل‘ 6: 171‘ 182)

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved