اربعین: آخرت میں اللہ تعالیٰ کا انبیاء اور اولیاء و صالحین سے کلام کرنا

حضور ﷺ کا اپنے پروردگار سے روایت کرنا

رِوَایَةُ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ رَبِّهٖ تَعَالٰی

حضور نبی اکرم ﷺ کا اپنے پروردگار سے روایت کرنا

اَلْقُرْآن

(1) قُلْ یٰٓـاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَـلَآ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ وَلٰـکِنْ اَعْبُدُ اللهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ ج وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَo

(یونس، 10: 104)

فرما دیجیے: اے لوگو! اگر تم میرے دین (کی حقانیت کے بارے) میں ذرا بھی شک میں ہو تو (سن لو!) کہ میں ان (بتوں) کی پرستش نہیں کرسکتا جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو لیکن میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت سے ہمکنار کرتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (ہمیشہ) اَہلِ ایمان میں سے رہوں۔

(2) یٰـٓاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاo وَّ دَاعِیًا اِلَی اللهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًاo

(الأحزاب، 33: 45-46)

اے نبِیّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)۔

(3) وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰیo اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیo عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰیo ذُوْ مِرَّةٍ ط فَاسْتَوٰیo وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعَلٰیo ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰیo فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰیo

(النجم، 53: 3-10)

اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔ ان کو بڑی قوّتوں و الے (رب) نے (براهِ راست) علمِ (کامل) سے نوازا۔ جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوهِٔ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا۔ اور وہ (محمد ﷺ شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)۔ پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد ﷺ سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوهِٔ حق اور حبیبِ مکرّم ﷺ میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)۔ پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اللہ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی۔

(4) قُلْ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآءُ ِﷲِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَo

(الجمعة، 62: 6)

آپ فرما دیجیے: اے یہودیو! اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ سب لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست (یعنی اولیاء) ہو تو موت کی آرزو کرو (کیوں کہ اس کے اولیاء کو تو قبر و حشر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی) اگر تم (اپنے خیال میں) سچّے ہو۔

(5) یٰـاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ ط وَمَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُo

(التحریم، 66: 9)

اے نبیِ (مکرّم!) آپ کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجیے (جنہوں نے آپ کے خلاف جارحیت، فتنہ و فساد اور سازشوں کا آغاز کر رکھا ہے) اور اُن پر سختی فرمائیے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

(6) یٰـٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُo قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاًo

(المزمل، 73: 1–2)

اے کملی کی جھرمٹ والے(حبیب!)۔ آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لیے)۔

(7) یٰـٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَاَنْذِرْo

(المدثر، 74: 1–2)

اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)۔ اُٹھیں اور (لوگوں کو اللہ کا) ڈر سنائیں۔

(8) قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌo

(الإخلاص، 112: 1)

(اے نبی مکرّم!) آپ فرما دیجیے: وہ اللہ ہے جو یکتا ہے۔

اَلْحَدِیْث

20. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِیْمَا یَرْوِي عَنْ رَبِّهٖ تعالیٰ، قَالَ: إِنَّ اللهَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ یَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً کَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللهُ لَهٗ عِنْدَهٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰی أَضْعَافٍ کَثِیرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَیِّئَةٍ فَلَمْ یَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً کَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللهُ لَهٗ سَیِّئَةً وَاحِدَةً.

وَزَادَ مُسْلِمٌ: وَمَحَاهَا اللهُ، وَلَا یَهْلِکُ عَلَی اللهِ إِلاَّ هَالِکٌ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الرقاق، باب من هم بحسنة أو بسیئة، 5: 2380، الرقم: 6126، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب إذا هم العبد بحسنة کُتبت وإذا هم بسیئة لم تکتب، 1: 118، الرقم: 131، وأحمد بن حنبل في المسند، 1: 310، 360، الرقم: 2828، 3402.

حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ربّ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور انہیں واضح فرما دیا ہے۔ لہٰذا جس نے نیک کام کا ارادہ کیا اور (بوجوہ) اس پر عمل نہ کر سکا تب بھی اللہ تعالیٰ اُس کے لیے پوری نیکی کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ اور اگر اس نے نیکی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیوں سے سات سو بلکہ کئی گناتک اضافہ کر کے لکھ دیتا ہے۔ اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک کامل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر (برائی کا) ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے (صرف) ایک ہی برائی لکھتا ہے۔

امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بھی (توبہ یا کسی نیکی کے عوض) مٹا دے گا اور عذاب میں صرف وہی شخص مبتلا ہوگا جو دیدہ دلیری سے گناہ کرتا رہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

21. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ یَرْوِیهِ عَنْ رَبِّهٖ، قَالَ: إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي مَشْیًا أَتَیْتُهٗ هَرْوَلَةً.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب التوحید، باب ذکر النبي ﷺ وروایته عن ربه، 6: 2741، الرقم: 7098، وأحمد بن حنبل في المسند، 3: 238، الرقم: 14045، وأبو نعیم في حلیة الأولیاء وطبقات الأصفیاء، 7: 268.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ اپنے رب کریم سے روایت فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب بندہ (ایک) بالشت بھر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔

اسے امام بخاری اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

22. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ یَرْوِیهِ عَنْ رَبِّکُمْ، قَالَ: لِکُلِّ عَمَلٍ کَفَّارَۃٌ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب التوحید، باب ذکر النبي ﷺ وروایته عن ربه، 6: 2741، الرقم: 7100، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 457، 504، الرقم: 9889، 10561.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ تمہارے رب سے روایت کرتے ہیں کہ اُس نے فرمایا ہے: ہر عمل کے لیے کفارہ ہوتا ہے اور یہ کہ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ نیز روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

اسے امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

23. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ یَرْوِیْهِ عَنْ رَبِّهٖ تعالیٰ، قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ یَشْهَدُ لَهٗ ثَـلَاثَۃُ أَبْیَاتٍ مِنْ جِیْرَانِهِ الْأَدْنَیْنَ بِخَیْرٍ، إِلَّا قَالَ اللهُ ل: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلٰی مَا عَلِمُوْا، وَغَفَرْتُ لَهٗ مَا أَعْلَمُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَذَکَرَهُ الْمُنْذِرِيُّ وَالْهَیْثَمِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 384، الرقم: 8977، وأیضًا في الزهد: 45، وذکره المنذري في الترغیب والترهیب، 4: 181، الرقم: 5339، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3: 4.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ اپنے رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر کسی بھی فوت ہونے والے مسلمان کے بارے میں اُس کے قریب ترین تین پڑوسی خیر کی گواہی دے دیں (یعنی اس کے حق میں بھلائی کا کلمہ کہیں) تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کی گواہی اُس اَمر میں قبول فرما لی ہے جسے وہ جانتے ہیں اور اُس (فوت شدہ) بندے کے ان گناہوں کو بخش دیا ہے جسے صرف میں جانتا ہوں(اور یہ گواہی دینے والے نہیں جانتے تھے)۔

اسے امام احمد، منذری اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔

24. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ، یَرْوِیْهِ عَنْ رَبِّهٖ تعالیٰ، قَالَ اللهُ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ: مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ.

رَوَاهُ أَبُو نُعَیْمٍ.

أخرجه أبو نعیم في حلیة الأولیاء وطبقات الأصفیاء، 2: 262.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور آپ ﷺ اپنے رب کریم سے روایت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (آخرت میں) ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی فرد بشر کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔

اسے امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved