ہدایۃ الامۃ علی منہاج القرآن والسنۃ - الجزء الاول

صبح و شام کیے جانے والے اذکار کی فضیلت کا بیان

فَصْلٌ فِي فَضْلِ أَذْکَارِ الْمَسَاءِ وَالصَّبَاحِ

{صبح و شام کیے جانے والے اذکار کی فضیلت کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِيْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْکَارِo

(آل عمران، 3 : 41)

’’اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہوo‘‘

2۔ وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِيْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِيْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَo

(الأعراف، 7 : 205)

’’اور اپنے رب کا اپنے دل میں ذکر کیا کرو عاجزی و زاری سے اور خوف و خستگی سے اور میانہ آواز سے پکار کربھی، صبح و شام (ذکر حق جاری رکھو) اور غافلوں میں سے نہ ہو جاؤo‘‘

3۔ یُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَo

(الأنبیاء، 21 : 20)

’’وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتےo‘‘

4۔ فِيْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ لا یُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِo

(النور، 24 : 36)

’’(اللہ کا یہ نور) ایسے گھروں (مساجد اور مراکز) میں (میسر آتا ہے) جن (کی قدر و منزلت) کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیںo‘‘

5۔ فَسُبْحٰنَ اللهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَo

(الروم، 30 : 17)

’’پس تم اللہ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)o‘‘

6۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا کَثِيْرًاo وَّسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًاo

(الأحزاب، 33 : 41، 42)

’’اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کروo اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کروo‘‘

7۔ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْکَارِo

(غافر، 40 : 55)

’’پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئےo‘‘

8۔ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَاتُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًاo وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّ اَصِيْلاًo وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًاo

(الدھر، 76 : 24۔26)

’’سو آپ اپنے ربّ کے حکم کی خاطر صبر (جاری) رکھیں اور ان میں سے کسی کاذب و گنہگار یا کافر و ناشکرگزار کی بات پر کان نہ دھریںo اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریںo اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریںo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : سَيِّدُ الْاِسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُوْلَ : اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ۔ قَالَ : وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوْقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ یَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ یُمْسِيَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوْقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ یُصْبِحَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : أفضل الاستغفار، 5 / 2323، الرقم : 5947، والترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 15، 5 / 467، الرقم : 3393، والنسائي في السنن، کتاب : الاستعاذۃ، باب : الاستغفار من شر ما صنع، 8 / 279، الرقم : 5522، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 56، الرقم : 29439، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 122۔

’’حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ سید الاستغفار یہ ہے کہ تو کہے : ’’اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ‘‘  (اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سو اکوئی عبادت کے لائق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور جو تجھ سے عہد و وعدہ کیا اس پر اپنی بساط بھر قائم ہوں۔ اپنے اعمال کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ جن نعمتوں سے تو نے مجھے نوازا ان کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا بھی اقرار کرتا ہوں پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا)۔ ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی اس پر یقین رکھتے ہوئے دن میں ایسا کہے اور پھر شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے اور جو یقین رکھتے ہوئے رات کو یہ کلمات کہے اور صبح ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا لَقِيْتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ۔ قَالَ : أَمَا لَوْ قُلْتَ حِيْنَ أَمْسَيْتَ : أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّکَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ۔

2 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الذکر والدعائ، باب : في التعوذ من سوء القضاء ودرک الشقاء وغیره، 4 / 2081، الرقم : 2709، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 152، الرقم : 10423، وابن حبان في الصحیح، 3 / 297، الرقم : 1020، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 2 / 209، الرقم : 339، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 253، الرقم : 964۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! گزشتہ رات مجھ کو بچھو نے کاٹ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم شام کے وقت یہ کہہ دیتے : ’’أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘ (میں ہر مخلوق کے شر سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو تم کو یہ بچھو ضرر نہ دیتا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے بیان کیا ہے۔

3۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا مِنْ حَافِظَيْنِ رَفَعَا إِلَی اللهِ مَا حَفِظَا مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَیَجِدُ اللهُ فِي أَوَّلِ الصَّحِيْفَةِ وَفِي آخِرِ الصَّحِيْفَةِ خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَی : أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي مَا بَيْنَ طَرَفَي الصَّحِيْفَةِ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ یَعْلَی۔

3 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : 9، 3 / 310، الرقم : 981، وأبو یعلی في المسند، 5 / 162، الرقم : 2775، والدیلمي في مسند الفردوس، 4 / 54، الرقم : 6170، والبیهقي في شعب الإیمان، 5 / 391، الرقم : 7053۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب دو محافظ (فرشتے) اللہ تعالیٰ کی طرف رات یا دن کے عمل پہنچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ صحیفے کے شروع اور آخر میں نیکی (درج) ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے : میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے وہ گناہ معاف کر دئیے جو اس صحیفے کے دو کناروں کے درمیان ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضي الله عنه یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا مِنْ عَبْدٍ یَقُوْلُ فِي صَبَاحِ کُلِّ یَوْمٍ وَمَسَائِ کُلِّ لَيْلَةٍ : بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْئٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَائِ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ یَضُرَّهُ شَيْئٌ۔ فَکَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفُ فَالِجٍ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ : مَا تَنْظُرُ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيْثَ کَمَا حَدَّثْتُکَ وَلَکِنِّي لَمْ أَقُلْهُ یَوْمَئِذٍ لِیُمْضِيَ اللهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔ قَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

4 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في الدعاء إذا أصبح وإذا أمسی، 5 / 465، الرقم : 3388، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقول إذا أصبح، 4 / 323، الرقم : 5088، وابن ماجه في السنن، کتاب : الدعائ، باب : ما یدعو به الرجل إذا أصبح وإذا أمسی، 2 / 1273، الرقم : 3869، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 94، الرقم : 10178۔

’’حضرت ابان بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص روزانہ صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہے اسے کوئی چیز ضرر نہیں دے گی : ’’بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْئٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‘‘ (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سننے والا اور اچھی طرح جاننے والا ہے۔) حضرت ابان پر ایک طرف فالج کا حملہ ہوا ایک شخص ان کی طرف دیکھنے لگا تو انہوں نے فرمایا : کیا دیکھتے ہو؟ حدیث اسی طرح ہے جس طرح میں نے تم سے بیان کی لیکن میں نے اس دن نہیں پڑھی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی تقدیر پوری کر دے۔‘‘

اسے امام ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ أَنَّهُ کَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالُوْا : هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَامَ إِلَيْهِ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي بِحَدِيْثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ لَمْ یَتَدَاوَلْهُ بَيْنَکَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ۔ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَی : رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَی اللهِ أَنْ یُرْضِیَهُ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ واللَّفْظُ لَهُ۔

5 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في الدعاء إذا أصبح وإذا أمسی، 5 / 465، الرقم : 3389، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقول إذا أصبح، 4 / 318، الرقم : 5072، وابن ماجه في السنن، کتاب : الدعائ، باب : ما یدعو به الرجل إذا أصبح وإذا أمسی، 2 / 1273، الرقم : 3870، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 324، الرقم : 26541، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 337، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 145، الرقم : 10400، والطبراني في المعجم الکبیر، 22 / 367، الرقم : 921، والحاکم في المستدرک، 1 / 699، الرقم : 1905۔

’’حضرت ابو سلام سے روایت ہے کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا تو لوگوں نے کہا : یہ حضور نبی اکرم ﷺ کے خادم ہیں۔ وہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہو اور جس میں حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے درمیان کسی کا واسطہ نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ کہا : ’’رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا‘‘ (میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفی ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں) تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ اُسے راضی کر دے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔

6۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ سَبَّحَ اللهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ کَانَ کَمَنْ حَجَّ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ کَانَ کَمَنْ حَمَلَ عَلَی مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ أَوْ قَالَ : غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ، وَمَنْ هَلَّلَ اللهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيْلَ، وَمَنْ کَبَّرَ اللهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ یَأْتِ فِي ذَلِکَ الْیَوْمِ أَحَدٌ بِأَکْثَرَ مِمَّا أَتَی بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَی مَا قَالَ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔

6 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 62، 5 / 513، الرقم : 3471، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 205، الرقم : 10657، والطبراني في مسند الشامیین، 1 / 296، الرقم : 516، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 257، الرقم : 974۔

’’حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے وہ سو حج کرنے والے کی مانند ہے۔ جو آدمی صبح و شام سو سو مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ کہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں سو مجاہدوں کو گھوڑوں پر سوار کیا (یعنی انہیں سواری دی) یا فرمایا : وہ سو غزوات لڑنے والے غازی کی طرح ہے۔ جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جس نے حضرت اسماعیل (ں) کی اولاد سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے صبح و شام سو سو مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہا تو اس دن اس سے اچھا عمل کسی نے نہیں کیا البتہ وہ شخص جو یہ کلمات اسی طرح کہے یا اس سے زائد بار کہے۔‘‘

اسے امام ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : مَنْ قَالَ حِيْنَ یُصْبِحُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ : أَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، وَقَرَأَ ثَـلَاثَ آیَاتٍ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْحَشْرِ، وَکَّلَ اللهُ بِهِ سَبْعِيْنَ أَلْفَ مَلَکٍ، یُصَلُّوْنَ عَلَيْهِ حَتَّی یُمْسِيَ، وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِکَ الْیَوْمِ مَاتَ شَهِيْدًا، وَمَنْ قَالَهَا حِيْنَ یُمْسِي کَانَ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَةِ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ۔

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : فضائل القرآن، باب : 22، 5 / 157، الرقم : 2922، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 26، والدارمي في السنن، 2 / 550، الرقم : 3425، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 229، الرقم : 537، والبیهقي في شعب الإیمان، 2 / 492، الرقم : 2502۔

’’حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت ’’أَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ‘‘ اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جو شام تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور اگر اسی دن مر جائے تو شہید کی موت مرے گا اور جو شخص شام کے وقت اسے پڑھے اس کا بھی یہی مرتبہ ہے۔‘‘ اسے امام ترمذی، احمد بن حنبل اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ یَقُوْلُ : إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ : اَللّٰهُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَيْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَإِلَيْکَ الْمَصِيْرُ وَإِذَا أَمْسَی فَلْیَقُلْ : اَللّٰهُمَّ بِکَ أَمْسَيْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَإِلَيْکَ النُّشُوْرُ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُوْدَاوُدَ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في الدعاء إذا أصبح وإذا أمسی، 5 / 466، الرقم : 3391، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقول إذا أصبح، 4 / 317، الرقم : 5068۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو تعلیم دیتے ہوئے فرماتے : جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے : ’’اَللّٰهُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَيْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَإِلَيْکَ الْمَصِيْرُ‘‘ (اے اللہ! تیرے فضل و کرم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی فضل و کرم سے شام کی ہے اور تیری عنایت و مہربانی سے ہی زندہ ہیں اور اسی پر اعتماد کرتے ہوئے دار دنیا سے دارِ آخرت کی طرف رخت سفر باندھیں گے اور تیری طرف لوٹنا ہے) اور جب شام کرے تو کہے : ’’اَللّٰهُمَّ بِکَ أَمْسَيْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَإِلَيْکَ النُّشُوْرُ‘‘ (اے اللہ! تیرے فضل و کرم سے ہم نے شام اور تیرے ہی فضل و کرم سے صبح کی ہے اور تیری عنایت و مہربانی سے ہی زندہ ہیں اور تیری ہی طرف رخت سفر باندھیں گے اور تیری ہی طرف جمع کیے جائیں گے)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

9۔ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْقُدَ وَضَعَ یَدَهُ الْیُمْنَی تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ یَقُوْلُ : اَللّٰھُمَّ قِنِي عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ثَـلَاثَ مِرَارٍ۔ رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ، وَأَحْمَدُ۔

9 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقال عند النوم، 4 / 310، الرقم : 5045، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 288، الرقم : 26508، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 190، الرقم : 10598۔

’’حضور نبی اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دایاں ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے رکھتے اور تین مرتبہ فرماتے : ’’اَللّٰھُمَّ قِنِي عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَک‘‘َ (اے اللہ! مجھے (اس روز) عذاب سے بچانا جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے)۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

10۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ یَذْکُرِ اللهَ فِيْهِ کَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا یَذْکُرُ اللهَ فِیهِ کَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

10 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الأعب، باب : کراهیۃ أن یقوم الرجل من مجلسه ولا یذکر الله، 4 / 264، الرقم : 4856، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 107، الرقم : 10237۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھ گیا اور اس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر ندامت وارد ہو گی اور جو بستر میں لیٹے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھی ندامت ہو گی۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

11۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنِ اسْتَفْتَحَ أَوَّلَ نَهَارِهِ بِخَيْرٍ وَخَتَمَهُ بِخَيْرٍ قَالَ اللهُ عزوجل لِمَلَائِکَتِهِ : لَا تَکْتُبُوْا عَلَيْهِ مَا بَيْنَ ذَلِکَ مِنَ الذُّنُوْبِ۔ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ۔

11 : أخرجه البیهقي في شعب الإیمان، 5 / 391، الرقم : 7052، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 82، الرقم : 65۔

’’حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص دن کا آغاز نیکی کے ساتھ کرے اور اس کا اختتام بھی نیکی کے ساتھ کرے، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے اس کے درمیان والے گناہ نہ لکھو۔‘‘ اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ قَالَ إذَا أَصْبَحَ : اَللَّھُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ مِنْکَ فِي نِعْمَةٍ وَعَافِیَةٍ وَسِتْرٍ، فأَتْمِمْ نِعْمَتَکَ عَلَيَّ وَعَافِیَتَکَ وَسِتْرَکَ فِي الدُّنْیَا والآخِرَةِ، ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَی کَانَ حَقًّا عَلَی اللهِ تَعَالَی أَنْ یُتِمَّ عَلَيْهِ۔ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ۔

12 : أخرجه النسائي في عمل اللیل والیوم، 1 / 52، الرقم : 55، والنّووي في الأذکار من کلام سیّد الأبرار : 79۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کہتا ہے : اے اللہ! میں نے تیری طرف سے نعمت، عافیت اور پردہ پوشی میں صبح کی، پس تو مجھ پر دنیا و آخرت میں اپنی نعمت، عافیت اور پردہ پوشی پوری فرما، ایسا صبح و شام تین مرتبہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور پورا فرماتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : إِذَا أَوَی الرَّجُلُ إِلَی فِرَاشِهِ ابْتَدَرَهُ مَلَکٌ وَشَيْطَانٌ، فَیَقُوْلُ الْمَلَکُ : اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَیَقُوْلُ الشَّيْطَانُ : اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَکَرَ اللهَ ثُمَّ نَامَ بَاتَ الْمَلَکُ یَکْلَؤُهُ۔ رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلَی۔

13 : أخرجه أبو یعلی في المسند، 3 / 362، الرقم : 1791، والحاکم في المستدرک، 1 / 733، الرقم : 2011۔

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان بستر میں (سونے کے لیے) داخل ہوتا ہے تو شیطان اور فرشتہ جلدی سے اس کی طرف لپکتے ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے : تو خیر کے ساتھ سو، اور شیطان کہتا ہے کہ تو برائی کے ساتھ سو۔ پس اگر وہ بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے سویا تو رات بھر فرشتہ اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved