ہدایۃ الامۃ علی منہاج القرآن والسنۃ - الجزء الاول

حضور ﷺ کی تمام انبیاء و مرسلین علیھم السلام پر فضیلت کا بیان

فَصْلٌ فِي تَفْضِيْلِهِ ﷺ عَلَی سَائِرِ الْأَنْبِیَاء وَالْمُرْسَلِيْنَ

{حضور ﷺ کی تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام پر فضیلت کا بیان}

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَھَسَ مِنْھَا نَھْسَةً وَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔ ھَلْ تَدْرُوْنَ بِمَ یَجْمَعُ اللهُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ فَیُبْصِرُھُمُ النَّاظِرُ وَیُسْمِعُھُمُ الدَّاعِي وَتَدْنُوْ مِنْھُمُ الشَّمْسُ فَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ : أَلاَ تَرَوْنَ إِلَی مَا أَنْتُمْ فِيْهِ إِلَی مَا بَلَغَکُمْ؟ أَلاَ تَنْظُرُوْنَ إِلَی مَنْ یَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ؟ فَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ : أَبُوْکُمْ آدَمُ فَیَأْتُوْنَهُ فَیَقُوْلُوْنَ : یَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللهُ بِیَدِهِ وَنَفَخَ فِيْکَ مِنْ رُوْحِهِ وَأَمَرَ الْمَـلَائِکَةَ فَسَجَدُوْا لَکَ وَأَسْکَنَکَ الْجَنَّةَ أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ؟ أَلاَ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ وَمَا بَلَغَنَا؟ فَیَقُوْلُ : رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا یَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَھَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ۔ نَفْسِي نَفْسِي۔ اِذْھَبُوْا إِلَی غَيْرِي اِذْھَبُوْا إِلَی نُوْحٍ۔ فَیَأْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ : یَا نُوْحُ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَھْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاکَ اللهُ عَبْدًا شَکُوْرًا أَمَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ أَلاَ تَرَی إِلَی مَا بَلَغَنَا؟ أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ؟ فَیَقُوْلُ : رَبِّي غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا یَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ۔ نَفْسِي نَفْسِي۔ ائْتُوْا النَّبِيَّ ﷺ ۔ فَیَأْتُوْنِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَیُقَالُ : یَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأنبیاء، باب : قول الله تعالی : إنا أرسلنا نوحا إلی قومه، 3 / 1215، الرقم : 3162، وفي کتاب : التفسیر، باب : ذریۃ من حملنا مع نوح إنه کان عبدا شکورا، 4 / 1745، الرقم : 4435، ومسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، 1 / 184، الرقم : 194، والترمذي في السنن، کتاب : صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب : ما جاء في الشفاعۃ، 4 / 622، الرقم : 2434، وقال : ھذا حدیث حسن صحیح، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 435، الرقم : 9621، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 307، الرقم : 31674، وابن منده في الإیمان، 2 / 847، الرقم : 879، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 147، الرقم : 437، وابن أبي عاصم في السنۃ، 2 / 379، الرقم : 811، والمنذري في الترغیب والترھیب، 4 / 239، الرقم : 5510۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دعوت میں ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کی خدمت میں بکری کی دستی کا گوشت پیش کیا گیا یہ آپ ﷺ کو بہت مرغوب تھا۔ آپ ﷺ اس میں سے کاٹ کاٹ کر تناول فرمانے لگے اور فرمایا : میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں۔ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کیوں فرمائے گا تاکہ دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے اور پکارنے والا اپنی آواز (بیک وقت سب کو) سنا سکے اور سورج ان کے بالکل نزدیک آ جائے گا۔ اس وقت بعض لوگ کہیں گے : کیا تم دیکھتے نہیں کہ کس حال میں ہو، کس مصیبت میں پھنس گئے ہو؟ ایسے شخص کو تلاش کیوں نہیں کرتے جو تمہارے رب کے حضور تمہاری شفاعت کرے؟ بعض لوگ کہیں گے : تم سب کے باپ تو حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔ پس وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے سیدنا آدم! آپ ابو البشر ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں سکونت بخشی، کیا آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں گے؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کس مصیبت میں گرفتار ہیں؟ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ وہ فرمائیں گے : میرے رب نے آج ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ ایسا غضب پہلے فرمایا، نہ آئندہ فرمائے گا۔ مجھے اس نے ایک درخت (کا میوہ کھانے) سے منع فرمایا تھا تو مجھ سے اس کے حکم میں لغزش ہوئی لهٰذا مجھے اپنی جان کی فکر ہے، تم کسی دوسرے کے پاس جائو۔ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جائو۔ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے سیدنا نوح! آپ اہلِ زمین کے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ’’عبدًا شکورًا‘‘ (یعنی شکر گزار بندہ) رکھا۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ کیا آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں گے؟ وہ فرمائیں گے : میرے رب نے آج غضب کا وہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ پہلے ایسا اظہار فرمایا تھا اور نہ آئندہ ایسا اظہار فرمائے گا۔ مجھے خود اپنی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی پڑی ہے۔ (راوی نے باقی حدیث مختصر کرتے ہوئے بیان کیا پھر وہ نبی فرمائیں گے) سو تم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں جائو۔ لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں عرش کے نیچے سجدہ کروں گا اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) فرمایا جائے گا : یا محمد! اپنا سر اٹھائیں اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حَتَّی یَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاھُمْ کَذَلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَی، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ ﷺ ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الزکاۃ، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإیمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبیھقي في شعب الإیمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والدیلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والھیثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ پسینہ نصف کانوں تک پہنچ جائے گا، لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مدد مانگیں گے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما یَقُوْلُ : إِنَّ النَّاسَ یَصِيْرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ جُثًا، کُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّھَا یَقُوْلُوْنَ : یَا فُلاَنُ، اشْفَعْ، یَا فُلاَنُ، اشْفَعْ، حَتَّی تَنْتَھِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَذَلِکَ یَوْمَ یَبْعَثُهُ اللهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : تفسیر القرآن، باب : قوله : عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا، 4 / 1748، الرقم : 4441، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 381، الرقم : 295، وابن منده في الإیمان، 2 / 871، الرقم : 927۔

’’حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا : روزِ قیامت سب لوگ گروہ در گروہ ہو جائیں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور عرض کرے گی : اے فلاں! شفاعت فرمائیے، اے فلاں! شفاعت کیجئے۔ یہاں تک کہ شفاعت کی بات حضور نبی اکرم ﷺ پر آکر ختم ہو گی۔ پس اس روز شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘اسے امام بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

4 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الفضائل، باب : تفضیل نبینا ﷺ علی جمیع الخلائق، 4 / 1782، الرقم : 2278، وأبو داود في السنن، کتاب : السنۃ، باب : في التخییر بین الأنبیاء علیهم الصلاۃ والسلام، 4 / 218، الرقم : 4673، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 540، الرقم : 10985، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 7 / 257، الرقم : 35849، وابن حبان عن عبد الله رضی الله عنه في الصحیح، 14 / 398، الرقم : 6478، وأبو یعلی عن عبد الله بن سلام رضی الله عنه في المسند، 13 / 480، الرقم : 7493، وابن أبي عاصم في السنۃ، 2 / 369، الرقم : 792، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 788، الرقم : 1453، والبیھقي في السنن الکبری، 9 / 4، وفي شعب الإیمان، 2 / 179، الرقم : 1486۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جس کی قبر شق ہو گی، اور سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلا شخص بھی میں ہی ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘اس حدیث کو امام مسلم، ابو داود، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْیَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْھَا، فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ، قَالَ : فَرَفَعَهُ اللهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ۔ مَا یَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُھُمْ بِهِ۔ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأنبیاء، فَإِذَا مُوْسَی علیه السلام قَائِمٌ یُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ۔ وَإِذَا عِيْسَی ابْنُ مَرْیَمَ علیھما السلام قَائِمٌ یُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَھًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ الثَّقَفِيُّ۔ وَإِذَا إِبْرَاهِيْمُ علیه السلام قَائِمٌ یُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ (یَعْنِي نَفْسَهُ) فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ قَائِلٌ : یَا مُحَمَّدُ، ھَذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ۔ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّـلَامِ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ۔

5 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال، 1 / 156، الرقم : 172، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 455، الرقم : 11480، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 116 الرقم : 350، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 1 / 239، الرقم : 433، وابن حجر العسقلاني في فتح الباری، 6 / 487۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میںنے خود کو حطیم کعبہ میں پایا اور قریش مجھ سے سفرِ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزیں پوچھیں جنہیں میں نے (یاد داشت میں) محفوظ نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے اتنا کبھی پریشان نہیں ہوا تھا، تب اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اُٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا۔ وہ مجھ سے بیت المقدس کے متعلق جو بھی چیز پوچھتے میں (دیکھ دیکھ کر) انہیں بتا دیتا اور میں نے خود کو گروہ انبیائے کرام علیہم السلام میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰں کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے، اور وہ قبیلہ شنوء ہ کے لوگوں کی طرح گھنگریالے بالوں والے تھے اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی ان سے بہت مشابہ ہیں، اور پھر حضرت ابراہیمں کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور تمہارے آقا (یعنی خود حضور نبی اکرم ﷺ ) ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں پھر نماز کا وقت آیا، اور میں نے ان سب انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے ایک کہنے والے نے کہا : یہ مالک ہیں جو جہنم کے داروغہ ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ پس میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے (مجھ سے) پہلے مجھے سلام کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

6۔ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّيْنَ، وَخَطِيْبَھُمْ، وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ غَيْرَ فَخْرٍ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

6 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 586، الرقم : 3613، وابن ماجه في السنن، کتاب : الزھد، باب : ذکر الشفاعۃ، 2 / 1443، الرقم : 4314، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 137،138، الرقم : 21283، 21290، والحاکم في المستدرک، 1 / 143، الرقم : 240، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 90، الرقم : 171، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 3 / 385، الرقم : 1179، والمزي في تھذیب الکمال، 3 / 118۔

’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں انبیاء کرام علیہم السلام کا امام، خطیب اور شفیع ہوں گا اور اس پر (مجھے) فخر نہیں۔‘‘

اسے امام ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حاکم نے بھی فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

7۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللهُ عنهما قَالَ : جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ یَنْتَظِرُوْنَهُ قَالَ فَخَرَجَ، حَتَّی إِذَا دَنَا مِنْھُمْ سَمِعَھُمْ یَتَذَاکَرُوْنَ فَسَمِعَ حَدِيْثَھُمْ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ : عَجَبًا إِنَّ اللهَ عزوجل اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيْـلًا، اتَّخَذَ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْـلًا، وَقَالَ آخَرُ : مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ کَـلَامِ مُوْسَی : کَلَّمَهُ تَکْلِيْمًا، وَقَالَ آخَرُ : فَعِيْسَی کَلِمَةُ اللهِ وَرُوْحُهُ، وَقَالَ آخَرُ : آدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ، فَخَرَجَ عَلَيْھِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ کَـلَامَکُمْ وَعَجَبَکُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلُ اللهِ وَھُوَ کَذَلِکَ وَمُوْسَی نَجِيُّ اللهِ وَهُوَ کَذَلِکَ، وَعِيْسَی رُوْحُ اللهِ وَکَلِمَتُهُ وَھُوَ کَذَلِکَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ وَھُوَ کَذَلِکَ، أَ لَا وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَیَفْتَحُ اللهُ لِي فَیُدْخِلَنِيْھَا وَمَعِيَ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَکْرَمُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَلَا فَخْرَ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ۔

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 587، الرقم : 3616، والدارمي في السنن، باب : ما أُعْطِيَ النَّبِيَ ﷺ مِن الفضلِ، 1 / 39، 42، الرقم : 47، 54۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام ث حضور نبی اکرم ﷺ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے جب ان کے قریب پہنچے تو انہیں کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ اُن میں سے بعض نے کہا : کیا خوب! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے سے زیادہ بڑی بات تو نہیں۔ ایک نے کہا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں۔ کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہارِ تعجب سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں۔ بیشک وہ ایسے ہی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نجی اللہ ہیں۔ بیشک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں۔ واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا۔ وہ بھی یقینا ایسے ہی (شرف والے) ہیں۔ سن لو! میں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے اس میں داخل فرمائے گا۔ میرے ساتھ فقیر و غریب مومن ہوں گے اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کے حضور سب سے زیادہ عزت والا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا أَوَّلُھُمْ خُرُوْجًا وَأَنَا قَائِدُھُمْ إِذَا وَفَدُوْا، وَأَنَا خَطِيْبُھُمْ إِذَا أَنْصَتُوْا، وَأَنَا مُشَفِّعُھُمْ إِذَا حُبِسُوْا، وَأَنَا مُبَشِّرُھُمْ إِذَا أَیِسُوْا۔ اَلْکَرَامَةُ، وَالْمَفَاتِيْحُ یَوْمَئِذٍ بِیَدِي وَأَنَا أَکْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَی رَبِّي، یَطُوْفُ عَلَيَّ أَلْفُ خَادِمٍ کَأَنَّھُمْ بَيْضٌ مَکْنُوْنٌ، أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُوْرٌ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ۔

8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 585، الرقم : 3610، والدارمي في السنن، باب : ما أعطی النبي ﷺ من الفضل، 1 / 39، الرقم : 48، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 47، الرقم : 117، والخلال في السنۃ، 1 / 208، الرقم : 235، والقزویني في التدوین في أخبار قزوین، 1 / 235۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے میں (اپنی قبر انور) سے نکلوں گا اور جب لوگ وفد بن کر جائیں گے تو میں ہی ان کا قائد ہوں گا اور جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ہی ان کا خطیب ہوں گا۔ میں ہی ان کی شفاعت کرنے والا ہوں جب وہ روک دیئے جائیں گے، اور میںہی انہیں خوشخبری دینے والا ہوں جب وہ مایوس ہو جائیں گے۔ بزرگی اور جنت کی چابیاں اس روز میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ میں اپنے رب کے ہاں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ مکرّم ہوں میرے اردگرد اس روز ہزار خادم پھریں گے گویاکہ وہ پوشیدہ حسن ہیں یا بکھرے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ اسے امام ترمذی اور دارمی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِیَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ یَوْمَئِذٍ آدَمَ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، قَالَ : فَیَفْزَعُ النَّاسُ ثَـلَاثَ فَزَعَاتٍ فَیَأْتُوْنَ آدَمَ … فذکر الحدیث إلی أن قَالَ : فَیَأْتُوْنَنِي فَأَنْطَلِقُ مَعَھُمْ، قَالَ ابْنُ جُدْعَانَ : قَالَ أَنَسٌ رضی الله عنه : فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ : فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُھَا فَیُقَالُ : مَنْ ھَذَا؟ فَیُقَالُ : مُحَمَّدٌ فَیَفْتَحُوْنَ لِي وَیُرَحِّبُوْنَ بِي فَیَقُوْلُوْنَ : مَرْحَبًا فَأَخِرُّ سَاجِدًا فَیُلْھِمُنِيَ اللهُ مِنَ الثَّنَائِ وَالْحَمْدِ فَیُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَقُلْ یُسْمَعْ لِقَولِکَ وَھُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي قَالَ اللهُ : {عَسَی أَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} [بنی اسرائیل، 17 : 79]۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

وروی ابن ماجه عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ، وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِیَدِي یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ۔

9 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسیر القرآن، باب : ومن سورۃ بني إسرائیل، 5 / 308، الرقم : 3148، وابن ماجه في السنن، کتاب : الزھد، باب : ذکر الشفاعۃ، 2 / 1440، الرقم : 4308، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 2، الرقم : 11000، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 788، الرقم : 1455، والمنذري في الترغیب والترھیب، 4 / 238، الرقم : 5509۔

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں روزِ قیامت (تمام) اولادِ آدم کا قائد ہوں گا اور مجھے (اس پر) فخر نہیں، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء کرام اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ اور میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : لوگ تین بار خوفزدہ ہوں گے پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی یہاں تک کہ فرمایا : پھر لوگ میرے پاس آئیں گے (اور) میں ان کے ساتھ (ان کی شفاعت کے لئے) چلوں گا۔ ابن جدعان (راوی) کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گویا کہ میں اب بھی حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں جنت کے دروازے کی زنجیر کھٹکھٹائوں گا، پوچھا جائے گا : کون؟ جواب دیا جائے گا : حضرت محمد مصطفی ﷺ ۔ چنانچہ وہ میرے لیے دروازہ کھولیں گے اور مرحبا کہیں گے۔ میں (بارگاهِ الٰہی میں) سجدہ ریز ہو جائوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثناء کا کچھ حصہ الہام فرمائے گا۔ مجھے کہا جائے گا : سر اٹھائیے، مانگیں عطا کیا جائے گا۔ شفاعت کیجئے، قبول کی جائے گی، اور کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ (آپ ﷺ نے فرمایا : ) یہی وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’یقینا آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے نیز فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

’’اور امام ابن ماجہ نے بھی ان سے ہی روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں، قیامت کے روز سب سے پہلے میری زمین شق ہو گی اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی اس پر بھی فخر نہیں اور حمدِ باری تعالیٰ کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہی ہاتھ میں ہو گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں۔‘‘

10۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُکْسَی حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَقُوْمُ عَنْ یَمِيْنِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَـلَائِقِ یَقُوْمُ ذَلِکَ الْمَقَامَ غَيْرِي۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

10 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 585، الرقم : 3611، والمبارکفوري في تحفۃ الأحوذي، 7 / 92، والمناوي في فیض القدیر، 3 / 41۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلا شخص میں ہوں جس کی زمین (یعنی قبر) شق ہو گی، پھر مجھے ہی جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا، اس مقام پر مخلوقات میں سے میرے سوا کوئی نہیں کھڑا ہو گا۔‘‘اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

11۔ عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ : أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ۔

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ۔

11 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : ما أعطي النبي ﷺ من الفضل، 1 / 40، الرقم : 49، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 61، الرقم : 170، والبیهقي في کتاب الاعتقاد، 1 / 192، والهیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 254، والذھبي في سیر أعلام النبلاء، 10 / 223، والمناوي في فیض القدیر، 3 / 43۔

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں رسولوں کا قائد ہوں اور یہ (کہ مجھے اس پر) فخر نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اور (مجھے اس پر) کوئی فخر نہیںہے۔ میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور میں ہی وہ پہلا (شخص) ہوں جس کی شفاعت قبول ہوگی ہے اور (مجھے اس پر) کوئی فخر نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام دارمی، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : نَحْنُ الْآخِرُوْنَ، وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ : إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللهِ، وَمُوْسَی صَفِيُّ اللهِ، وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ، وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَإِنَّ اللهَ عزوجل وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي، وَأَجَارَھُمْ مِنْ ثَـلَاثٍ : لَا یَعُمُّھُمْ بِسَنَةٍ، وَلَا یَسْتَأْصِلُھُمْ عَدُوٌّ، وَلَا یَجْمَعُھُمْ عَلَی ضَلاَلَةٍ۔ رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ۔

12 : أخرجه الدارمي في السنن باب : ما أعطِيَ النَّبِيَّ ﷺ من الفضل، 1 / 42، الرقم : 54، والمبارکفوري في تحفۃ الأحوذي، 6 / 323۔

’’حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم آخر میں آنے والے اور قیامت کے دن سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میری امت کے متعلق وعدہ کر رکھا ہے اور تین باتوں سے اسے (امت کو) بچایا ہے۔ ایسا قحط ان پر نہیں آئے گا جو پوری امت کا احاطہ کر لے اور کوئی دشمن اسے جڑ سے نہیں اکھاڑ سکے گا اور (اللہ تعالیٰ) انہیں گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا۔‘‘

اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنِّي عِنْدَ اللهِ فِي أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ تَأْوِيْلَ ذَلِکَ : دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيْمَ، دَعَا : {وَابْعَثْ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِنْھُمْ} ]البقرۃ، 2 : 129[، وَبِشَارَةُ عِيْسَی بْنَ مَرْیَمَ قَوْلُهُ : {وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَأْتِي مِنْم بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ}، [الصف، 61 : 6]۔ وَرُؤْیَا أُمِّي رَأَتْ فِي مَنَامِھَا أَنَّھَا وَضَعَتْ نُوْرًا أَضَاءتْ مِنْهُ قُصُوْرُ الشَّامِ۔ رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ سَعْدٍ۔

13 : أخرجه ابن حبان في الصحیح، 14 / 312، الرقم : 6404، والطبراني في المعجم الکبیر، 18 / 253، الرقم : 631، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 6 / 40، وفي دلائل النبوۃ، 1 / 17، والحاکم في المستدرک، 2 / 656، الرقم : 4174، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 149، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 583، والطبري في جامع البیان، 6 / 583، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 1 / 185، وفي البدایۃ والنھایۃ، 2 / 321، والھیثمي في موارد الظمآن، 1 / 512، الرقم : 2093، وفي مجمع الزوائد، 8 / 223، وقال : واحد أسانید أحمد رجاله رجال الصحیح غیر سعید بن سوید وقد وثقه ابن حبان۔

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک میں اللہ تعالیٰ کے ہاں لوحِ محفوظ میں اس وقت بھی خاتم الانبیاء تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں ان کی تاویل بتاتا ہوں کہ جب میرے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی : {(اے ہمارے رب!) ان میں، انہی میں سے (آخری اوربرگزیدہ) رسول ( ﷺ ) مبعوث فرما}، اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی بشارت کے بارے میں بھی جبکہ انہوں نے کہا : {اور اُس رسولِ (معظم ﷺ ) کی (آمد آمد کی) بشارت سنانے والاہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد ( ﷺ ) ہے}؛ اور میری والدہ محترمہ کے خواب کے بارے میں جبکہ انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ انہوں نے ایک ایسے نور کو جنم دیا جس سے شام کے محلات بھی روشن ہو گئے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حبان، طبرانی، ابونعیم، حاکم اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

14۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاھِيْمَ خَلِيْـلًا وَمُوْسَی نَجِیًّا وَاتَّخَذَنِي حَبِيْبًا، ثُمَّ قَالَ : وَعِزَّتِي وَجَـلَالِي لَأُوْثِرَنَّ حَبِيْبِي عَلَی خَلِيْلِي وَنَجِيْبِي۔ رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَالسَّیُوْطِيُّ وَالْھِنْدِيُّ۔

14 : أخرجه البیھقي في شعب الإیمان، 2 / 185، الرقم : 1494، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 422، الرقم : 1716، والسیوطي في الفتح الکبیر، 1 / 29، وفي جامع الأحادیث، 1 / 29، الرقم : 169، والھندي في کنز العمال، 1 / 2278، الرقم : 31893، والمناوي في فیض القدیر، 1 / 109۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو (اپنا) خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے ساتھ کلام و سرگوشی کرنے والا بنایا اور مجھے اپنا حبیب بنایا اور پھر (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا : قسم ہے مجھے اپنے عزت و جلال کی! میں ضرور اپنے حبیب کو اپنے خلیل و کلیم پر ترجیح و فوقیت دوں گا۔‘‘ اسے امام بیہقی، دیلمی، سیوطی اور ہندی نے روایت کیا ہے۔

15۔ عَنْ أَبِي أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : نَبِیُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِیَائِ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيْدَ، وَأَحَدُھَا حَسَنٌ۔

15 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغیر، 1 / 75، الرقم : 94، والهیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 253، وأیضاً، 9 / 166۔

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہمارے نبی ﷺ جملہ انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔‘‘

اسے امام طبرانی نے دو اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے ان میں سے ایک حسن ہے۔

16۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : سَأَلْتُ رَبِّي مَسْأَلَةً، فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ، قُلْتُ : یَا رَبِّ، قَدْ کَانَتْ قَبْلِي رُسُلٌ، مِنْهُمْ مَنْ سُخِّرَتْ لَهُمُ الرِّیَاحُ، وَمِنْهُمْ مَنْ کَانَ یُحْیِی الْمَوْتَی، قَالَ : أَلَمْ أَجِدْکَ یَتِيْمًا فَآوَيْتُکَ؟ أَلَمْ أَجِدْکَ ضَالًّا فَهَدَيْتُکَ؟ أَلَمْ أَجِدْکَ عَائِـلًا فَأَغْنَيْتُکَ؟ أَلَمْ أَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ وَوَضَعْتُ عَنْکَ وِزْرَکَ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَی، یَا رَبِّ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْمَقْدَسِيُّ۔

16 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 11 / 455، الرقم : 12289، وفي المعجم الأوسط، 4 / 75، الرقم : 3651، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 10 / 287، الرقم : 303، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 254، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 20 / 102، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 4 / 526، والسیوطي في جامع الأحادیث، 4 / 462، الرقم : 12808۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے سوال کیا پھر میرے دل میں آیا کہ کاش میں نے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔ میں نے عرض کیا : الٰہی! بیشک مجھ سے پہلے پیغمبر گزرے جن کے لئے ہوا کو مسخر کیا گیا۔ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے مُردے زندہ کئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اے حبیب!) کیا میں نے آپ کو یکتا نہیں پایا تو اپنے پاس ٹھکانہ دیا؟ کیا میں نے آپ کو اپنی محبت میں وارفتہ و بے خود نہیں پایا تو آپ کی (اپنی ذات کی طرف) رہنمائی کی؟ کیا میں نے آپ کو (وصالِ حق کا) طالب نہیں پایا تو آپ کو (اپنی لذتِ دیدار سے نوازا کر ہمیشہ کے لئے ہر طلب سے) بے نیاز کر دیا؟ کیا میں نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لئے) کشادہ نہیں فرما دیا؟ اور میں نے آپ کا (غمِ امت کا) بار آپ سے اتار نہیں دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : ہاں! مالک (تو نے یہ تمام شرف مجھے عطا کئے ہیں)۔‘‘ اسے امام طبرانی اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : إِنَّ اللهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا ﷺ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ وَعَلَی أَهْلِ السَّمَاءِ۔ فَقَالُوْا : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، بِمَ فَضَّلَهُ عَلَی أَهْلِ السَّمَاءِ قَالَ : إِنَّ اللهَ عزوجل قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ : {وَ مَنْ يَّقُلْ مِنْھُمْ اِنِّيْٓ اِلٰـهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِکَ نَجْزِيْهِ جَھَنَّمَ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِيْنَo} [الأنبیاء، 21 : 29] الآیۃ۔ وَقَالَ اللهُ عزوجل لِمُحَمَّدٍ ﷺ : {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِيْنًاo لِّیَغْفِرَ لَکَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ} [الفتح، 48 : 1۔2] قَالُوْا : فَمَا فَضْلُهُ عَلَی الأَنْبِیَاء؟ قَالَ : قَالَ اللهُ عزوجل : {وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَيِّنَ لَھُمْ} [إبراهیم، 14 : 4] الآیَةَ، وَقَالَ اللهُ عزوجل لِمُحَمَّدٍ ﷺ : {وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَآفَّةً لِّـلنَّاسِ} [سبأ، 34 : 28] فَأَرْسَلَهُ إِلَی الْجِنِّ وَالإِنْسِ۔

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ غَيْرَ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ۔

1 : أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 38، الرقم : 46، والحاکم في المستدرک، 2 / 381، الرقم : 3335، والطبراني في المعجم الکبیر، 11 / 329، الرقم : 11610، والبیهقي في شعب الإیمان، 1 / 173، الرقم : 151، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 263، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 539۔540، والهیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 254۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو تمام انبیاء اور تمام اہل آسمان پر فضیلت بخشی لوگوں نے کہا : اے ابن عباس! اللہ تعالیٰ نے کس چیز کے ذریعے آپ ﷺ کو اہلِ آسمان پر فضیلت دی؟ انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے اہل آسمان کو فرمایا : {اور ان میں سے کون ہے جو کہہ دے کہ میں اس (اللہ) کے سوا معبود ہوں سو ہم اسی کو دوزخ کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیںo} اور اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : {(اے حبیبِ مکرم!) بے شک ہم نے آپ کے لیے (اسلام کی) روشن فتح (اور غلبہ) کا فیصلہ فرمادیا۔ (اس لیے کہ آپ کی عظیم جدّ و جہد کامیابی کے ساتھ مکمل ہوجائے)o تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امّت (کے اُن تمام افراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے (جنہوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں)} لوگوں نے کہا : آپ ﷺ کی انبیاء کرام پر کیا فضیلت ہے؟ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : {اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لیے (پیغامِ حق) خوب واضح کر سکے} (یعنی ہر نبی ایک مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا) اور اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : {اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لیے (خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں)}۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جن و انس ہر ایک کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی، حاکم، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے، اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں سوائے حکم بن ابان کے اور وہ ثقہ ہیں۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : خِیَارُ وَلِدِ آدَمَ خَمْسَةٌ : نُوْحٌ وَإِبْرَاهِيْمُ وَعِيْسَی وَمُوْسَی وَمُحَمَّدٌ ﷺ ، وَخَيْرُھُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللهُ عَلَيْھِمْ أَجْمَعِيْنَ وَسَلَّمَ۔

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ وَالْخَـلَالُ۔ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ۔

2 : أخرجه الهیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 255، والخلال في السنۃ، 1 / 264، الرقم : 324، إسناده حسن، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 62 / 271 والمناوي في فیض القدیر، 3 / 464، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 470، والسیوطي في الدر المنثور، 6 / 570، والآلوسي في روح المعاني، 21 / 154۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : تمام اولادِ آدم میں سے بہتر (یہ) پانچ ہستیاں ہیں : حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیمں، حضرت عیسیٰں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدمصطفی ﷺ ۔ اور ان سب میں سے افضل ترین ہستی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں۔‘‘

امام ہیثمی نے فرمایاکہ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح احادیث کے رجال ہیں۔اوراسے امام خلال نے بھی اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

3۔ قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ هَارُوْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ : مَنْ رَدَّ فَضْلَ النَّبِيِّ ﷺ فَهُوَ عِنْدِي زِنْدِيْقٌ لَا یُسْتَتَابُ وَیُقْتَلُ لِأَنَّ اللهَ عزوجل قَدْ فَضَّلَهُ ﷺ عَلَی الْأَنْبِیَاء علیهم السلام وَقَدْ رُوِيَ عَنِ اللهِ عزوجل قَالَ : لَا أُذْکَرُ إِلَّا ذُکِرْتَ مَعِي، وَیَرْوِي فِي قَوْلِهِ : {لَعَمْرُکَ}، [الحجر، 15 : 72]، قَالَ : یَا مُحَمَّدُ، لَوْلَاکَ مَا خَلَقْتُ آدَمَ۔

رَوَاهُ ابْنُ یَزِيْدَ الْخَـلَالُ (234۔311ھ) وَإِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ۔

3 : أخرجه ابن الخلال في السنۃ، 1 / 273، الرقم : 273۔

’’حضرت ابو عباس ہارون بن العباس الہاشمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کا انکار کیا میرے نزدیک وہ زندیق ہے۔ اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی اور اسے قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو تمام انبیائِ کرام علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی اور (حدیثِ قدسی کی صورت میں) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ’’(اے محبوب!) میرا ذکر کبھی آپ کے ذکر کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اور اس فرمانِ الٰہی : ’’(اے حبیب مکرم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قسم!‘‘ کی تفسیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد مصطفی ﷺ ! اگر آپ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آدمں کو بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ اسے امام یزید بن خلال نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

4۔ قال ابن الجوزي : کان نبینا ﷺ أصح الأنبیاء مزاجًا، وأکملَھم بدنًا وأصفاھم روحًا۔

4 : ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 361۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : ہمارے نبی اکرم ﷺ تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے کمال اعتدال پر ہیں اور بدن و جسد کے لحاظ سے بھی کامل و اکمل اور روح و نفس کے حوالے سے سب سے زیادہ مصفی و منزہ ہیں۔‘‘

5۔ قال ابن الجوزي : أخذ الله له المیثاق علی الأنبیاء۔ فقال عزوجل : {وَ اِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَةٍ ثُمَّ جَآء کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ} [آل عمران، 3 : 81] فجَعل الأنبیاء کالأتباع له، وألھمھم الانقیاد، فلو أدرکوه وجب علیهم اتباعه۔ وقد قال علیه الصلاۃ والسلام : لو کان موسی حیًّا ما وسِعه إلا اتباعي۔

5 : ابن الجوزی في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 361۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : (اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اَخذِ میثاق و عہد کی رُو سے بھی آپ ﷺ کو جملہ انبیاء علیہم السلام پر مقدم فرمایا اور) تمام پیغمبران کرام سے (آپ کی اِتباع و اطاعت کا) عہد لیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : {اور اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول ( ﷺ ) تشریف لائے جو اِن کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے}۔ اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیاء و مرسلین کو حضور نبی اکرم ﷺ کا تابع بنا دیا ہے اور انہیں آپ ﷺ کی اطاعت کا الہام فرمایا۔ اگر وہ آپ ﷺ کا شرف صحبت حاصل کرتے اور اس وقت تک موجود ہوتے تو لامحالہ آپ ﷺ کی اتباع کرتے۔ جس طرح کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کے لئے اتباع و اطاعت کے علاوہ اور کسی امر کی گنجائش اور وسعت نہ ہوتی۔‘‘

6۔ قال ابن الجوزي : خاطب الله کلّ نبي باسمه فقال سبحانه و تعالیٰ : {یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ} [البقرۃ، 2 : 35]، {یٰــنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ} [هود، 11 : 48] {یٰٓـاِبْرٰھِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا} [هود، 11 : 76]، {قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَيْتُکَ عَلَی النَّاسِ} [الأعراف، 7 : 144]، {یٰـدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِيْفَةً فِی الْاَرْضِ} [ص، 38 : 26]، {یٰعِيْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِيْ} [المائدۃ، 5 : 110]، {یٰزَکَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ} [مریم، 19 : 7] {یٰـیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّةٍ} [مریم، 19 : 12]، ولم یخاطب نبیّنا بالاسم تعظیمًا له بل قال : {یٰٓـاَیُّهَا النَّبِیُّ} [الأحزاب، 33 : 1]، {یٰٓـاَیُّهَا الرَّسُوْلُ} [المائدۃ، 5 : 67]۔

6 : ابن الجوزی في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 362۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کا ذکر نداء و خطاب کی صورت میں اُن کے ذاتی نام کے ساتھ کیا۔(جیسا کہ) حضرت آدم علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : {اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہائش رکھو}۔ حضرت نوح علیہ السلام کو نداء کرتے ہوئے فرمایا : {اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ}۔ حضرت خلیلں کو ارشاد فرمایا : {اے ابراہیم! اس (بات) سے درگزر کیجئے}۔ حضرت کلیم اللہ علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : {اے موسیٰ! بے شک میں نے تمہیں لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے برگزیدہ و منتخب فرما لیا}۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو حکم دیا : {اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین کے اندر اپنا خلیفہ مقرر فرمایا ہے}۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا : {اے عیسیٰ بن مریم میری ان نعمتوں کو یاد کرو}۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو ندا دی تو فرمایا : {اے زکریا! ہم آپ کو بیٹے کی بشارت دیتے ہیں} اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا : {اے یحییٰ! ہماری عطا کردہ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامو}۔ الغرض ہر نبی و رسول کو نداء و خطاب کے وقت ذاتی نام کے ساتھ نداء کی گئی مگر ہمارے حضور نبی اکرم ﷺ کو ذاتی نام کے ساتھ خطاب نہیں فرمایا گیا بلکہ وصف نبوت و رسالت کے ساتھ نداء و خطاب سے مشرف فرماتے ہوئے {یٰٓـاَیُّهَا النَّبِیُّ } اور {یٰٓـاَیُّهَا الرَّسُوْلُ} کہہ کر پکارا گیا۔‘‘

7۔ قال ابن الجوزي : أخبر الله تعالی أنّ الأمم کانوا یخاطبون أنبیائھم بأسمائھم، کقولھم : {یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ} [ھود، 11 : 53] {یَا صَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھَذَا} [ھود، 11 : 62] {یٰـمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰها کَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ} [الأعراف، 7 : 138] {یا عِيْسَی ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِيْعُ رَبُّکَ} [المائدۃ، 5 : 112] ونھی أمته أن یخاطبوه باسمه، فقال تعالی : {لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمَ بَعْضًا} [النور، 24 : 63] عن ابن عباس في قوله تعالی : {لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمَ بَعْضًا} [النور، 24 : 63] قال : لا تقولوا : یا محمد۔ قولوا : یا رسول الله۔

7 : ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 363۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اُمم سابقہ کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ اپنے انبیاء علیہم السلام کو ذاتی اسماء کے ساتھ پکارا کرتے تھے۔ (جیسا کہ) حضرت ہود علیہ السلام کو قوم نے کہا : {اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل نہیں لائے}، حضرت صالح علیہ السلام کو پکارا تو کہا : {اے صالح! تم ہمارے درمیان قبل ازیں امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز تھے (مگر آپ نے اس دین کا اظہار کرکے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا)}، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے خطاب کے دوران کہا : {اے موسی! ہمارے لئے معبود بناؤ جیسے کہ ان لوگوں کے لئے معبود (اصنام و اوثان کی صورت میں) ہیں}، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قوم نے نداء دی تو یہ انداز اختیار کیا : {اے عیسی بن مریم! کیا تمہارا رب اس امر کی طاقت رکھتا ہے کہ ہم پر آسمان سے انواع و اقسام کے کھانوں پر مشتمل دسترخوان نازل فرمائے}۔ الغرض ہر نبی کو ان کی قوم نے بوقت نداء و خطاب ذاتی نام سے پکارا، مگر جب حبیب خدا ﷺ کی باری آئی تو آپ ﷺ کی امت کو وہ اندازِ تخاطب و نداء ترک کر کے پیارے پیارے القابات اور اوصاف کمال کے ساتھ خطاب و نداء کا حکم دیا اور فرمایا : {(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو}۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت مقدسہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ ’’یا محمد‘‘ کہہ کر نہ پکارو بلکہ ’’یا رسول اللہ‘‘ کہہ کر پکارو۔‘‘

8۔ قال ابن الجوزي : قد کانت الأنبیاء یجادلون أممھم عن أنفسھم۔ یقول قوم نوح : {اِنَّا لَـنَـرٰکَ فِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍo} [الأعراف، 7 : 60] فقال دافعا عن نفسه : {لَيْسَ بِيْ ضَلٰــلَةٌ} [الأعراف، 7 : 61] وقال قوم ھود : {اِنَّـا لَنَرٰکَ فِيْ سَفَاھَةٍ} [الأعراف، 7 : 66] فقال : {لَيْسَ بِيْ سَفَاھَةٌ} [الأعراف، 7 : 67] وقال فرعون لموسی : {اِنِّی لَاَظُنُّکَ یَا مُوْسٰی مَسْحُوْرًا} [الإسراء، 17 : 101] فقال موسی : {وَاِنِّی لَاَظُنُّکَ یَا فِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا} [الإسراء، 17 : 102] فتولی الله عزوجل المجادلۃ عن نبیه ﷺ ۔ فلما قالوا : ھو شاعر قال الله تعالی : {وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ} [یس، 36 : 69] وقالوا : کاھن، فقال تعالی : {وَلَا بِقَوْل کَاھن} [الحاقۃ، 69 : 42] وقالوا : ضال۔ فقال الله تعالی : {مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ } [النجم، 53 : 2] وقالوا : مجنون۔ فقال الله تعالی : {مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ} [القلم، 68 : 2]۔

8 : ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 363۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : پہلے انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امتوں کے اعتراضات اور طعن و تشنیع کا خود جواب دیتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا : {(اے نوح!) بے شک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں} تو انہوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے خود فرمایا : {اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں}۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا : {(اے ہود!) بے شک ہم تمہیں حماقت میں (مبتلا) دیکھتے ہیں}، انہوں نے کہا : {مجھ میں کوئی حماقت نہیں}۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اوپر زبان طعن دراز کرتے ہوئے کہا : {میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسیٰ! تم سحر زدہ ہو (تمہیں جادو کر دیا گیا ہے)}، موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو جواب دیا : {اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تم ہلاک زدہ ہو (تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے)}۔ (الغرض جس نبی پر بھی زبان طعن دراز کی گئی خود انہوں نے جواب دیا اور اپنا دامن عصمت ان الزامات سے صاف رکھا)۔ لیکن جب حضور نبی اکرم ﷺ پر تنقید کی گئی خود اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا۔ جب انہوں نے کہا کہ یہ شاعر ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : {ہم نے ان کو شعر کی تعلیم نہیں دی}۔ انہوں نے زبان طعن و تشنیع استعمال کرتے ہوئے کاہن کہا اور قرآن مجید کو کاہنین کا کلام بتایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : {یہ کلامِ کاہن نہیں ہے}۔ انہوں نے ضال اور گمراہ ہونے کا الزام عائد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : {تمہارے نبی نہ بے راہ ہوئے ہیں اور نہ بھٹکے ہیں}۔ جب انہوں نے آپ کے عقل و فہم پر اعتراض کیا تو اللہ رب العالمین نے فرمایا : {(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں (بلکہ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں اور آپ کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر عظیم ہے اور مجنوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہے)o}۔‘‘

9۔ قال ابن الجوزي : قد اتخذه الله خلیلًا کما اتَّخَذَ إبراهیم، فقال علیه السلام : ولکن صاحبکم خلیل الله۔ عن ابن عباس قال : سمعت رسول الله ﷺ یقول : إن صاحبکم خلیل الله یعني نفسه۔ ثم جعله الله حبیبًا وھذا لیست لغیره۔ عن أبي هریرۃ، أن رسول الله ﷺ قال له ربه : قد اتخذتک خلیلا وھو في التوراۃ مکتوب محمد حبیب الرحمن۔ عن أبي ھریرۃ قال : قال رسول الله ﷺ : اتخذ الله إبراهیم خلیلا وموسی نجیّا واتخذني حبیبًا ثم قال : وعزتي لأوثرنَّ حبیبي علی خلیلي ونجیي۔

9 : ابن الجوزی في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 366۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا خلیل بنایا جیسا کہ ابراہیمں کو (یہ مقام) عطا کیا گیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : لیکن آپ کے صاحب خلیل اللہ ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بے شک آپ کے نبی اور رسول اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔ مزید برآں آپ ﷺ کو منصب محبوبیت بھی عطا فرمایا جو اور کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : بے شک میں نے تمہیں اپنا خلیل بنا لیا ہے، تورات میں آپ ﷺ کے متعلق لکھا ہے کہ محمد حبیب الرحمن یعنی حضرت محمد ﷺ ربِ رحمن کے حبیب ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنے ساتھ ہم کلام کرنے والا بنایا اور مجھے اپنا حبیب بنایا اور پھر فرمایا : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اپنے حبیب کو اپنے خلیل و کلیم پر ترجیح اور فوقیت و فضیلت دوں گا۔‘‘

10۔ قال ابن الجوزي : فإن کان إبراهیم کسر الأصنام فقد رمی نبینا رسول الله ﷺ ھُبَلَ من أعلی الکعبۃ ثم أشار یوم الفتح إلی ثلاثمائۃ وستین صنمًا فوقعت۔ وإن کان ھود نصر علی قومه بالدَّبور فقد نُصر نبینا رسول الله ﷺ بالصَّبَا۔ فمزَّقت أعدائه یوم الخندق۔ وإن کان لصالح ناقۃ، فقد سجدت الإبل لنبینا رسول الله ﷺ ۔ وإن کان یوسف ملیح الصورۃ، فقد کان نبینا کالقمر لیلۃ البدر۔ وإن کان الحجر انفجر لموسی، فقد نبع الماء من بین أصابع نبینا رسول الله ﷺ ، وھو أعجبُ لأن الماء ما یزال یخرج من الحجارۃ۔ وخوار النخل وحنینه إلی نبینا أعجب من حالات عصا موسی۔ وقد دعا نبینا رسول الله ﷺ الشجرۃ فشقت الأرض وجائت إلیه۔ وإن کانت الجبال سبّحت مع داود، فقد سبَّح الحصا في کفِّ نبینا ﷺ ۔ وإن کان الحدید ليِّن لداود فقد لان الصخر لنبینا ﷺ ۔

10 : ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 366، 367۔

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں : اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اصنام و اَوثان کو توڑ ڈالا تو ہمارے حبیب پاک ﷺ نے ہبل بت کو کعبہ کی بلندی سے نیچے اتار پھینکا۔ پھر فتح مکہ کے دن تین سو ساٹھ بتوں کو چھڑی کا اشارہ فرمایا تو وہ اوندھے منہ گر پڑے۔ اگر حضرت ہود علیہ السلام کی ان کی قوم پر باد دبور کے ذریعے نصرت و امداد کی گئی تو ہمارے نبی مکرم ﷺ کی مدد بادِ صبا کے ذریعے کی گئی جو غزوہ خندق کے موقع پر دشمنوں کے خلاف چلی۔ اگر حضرت صالح علیہ السلام کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا تو حضور نبی اکرم ﷺ کے لئے اونٹ سربسجود ہوئے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام میں حسن صورت اور صباحتِ رخسار تھی تو حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ انور چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے پتھر سے چشمے پھوٹے تو حبیب خدا ﷺ کی مقدس انگلیوں سے پانی کے چشمے ابلے۔ اور یہ امر (یعنی انگلیوں سے پانی کا نکلنا) زیادہ عجیب ہے کیونکہ ہمیشہ پانی پتھروں اور پہاڑوں سے ہی نکلتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے لئے کھجور کے خشک ستون کا آواز حزیں نکالنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا میں زندگی آ جانے سے زیادہ بڑا معجزہ ہے۔ نیز حضور نبی اکرم ﷺ نے درخت کو بلایا تو وہ زمین کو چیرتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گیا۔ اگر پہاڑوں نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ کے نغمے الاپے تو کنکریوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس میں تسبیح سنائی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے اگر لوہا نرم ہو جاتا تھا تو ہمارے نبی اکرم ﷺ کے لیے سخت چٹان نرم ہو جاتی تھی۔‘‘

11۔ قال ابن الجوزي : وإن کان سلیمان أعطي ملکَ الدنیا، فقد جيء لنبینا ﷺ بمفاتیح خزائن الأرض فأباھا زُھدًا۔ وإن کانت الریح سُخِّرت لسلیمان، غدوُّھا شھر ورَواحھا شھر، فنبینا ﷺ سار إلی بیت المقدس مسیرۃ شھر في بعض لیلۃ۔ وسارَ الرُّعبُ بین یدیه مسیرۃ شھر۔ وعرج به مسیرۃ خمسین ألف سنۃ إلی العرش۔ وإن کان سلیمان فھم کلامَ الطیر، فقد فھم نبینا ﷺ کلامَ البعیر والذئب والشجر والحجر۔ وإن کانت الجن سُخِّرت لسلیمان، فقد جاء ت إلی نبینا ﷺ طائفۃ من الجن مؤمنۃ به۔ وقد کان سلیمان یصفِّد من عصاه منھم فلما تفَلَّت عفریت علی نبینا ﷺ تمکن منه وأسَره۔ وقد کانت الجن أعوانًا لسلیمان یخدمونه ونبینا ﷺ أعوانه الملائکۃ یقاتلون بین یدیه ویدفعون أعداء ه۔

11 : ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 367۔

’’علامہ ابن جوزی (حضور نبی اکرم ﷺ کی عظمت و رفعت بیان کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں : اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کو روئے زمین کی حکومت و سلطنت دی گئی تھی تو حضور نبی اکرم ﷺ کو خزائنِ ارضی کی چابیاں عطا فرمائی گئیں۔ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے اس ہوا کو مسخر کر دیا گیا تھا جس کی صبح کی سیر ایک مہینہ کی راہ تھی اور شام کی سیر بھی ایک مہینہ کا راستہ تھا تو ہمارے حبیب اکرم ﷺ نے بھی شب معراج بیت المقدس تک کا ایک ماہ کا راستہ، رات کے تھوڑے سے حصہ میں طے فرما لیا۔ آپ ﷺ کا رعب و دبدبہ ایک مہینہ کی مسافت پر پھیلا ہوا تھا اور عرش تک پچاس ہزار سال کی مسافت بھی رات کے تھوڑے سے حصہ میں طے فرما لی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کا کلام سمجھنے کی صلاحیت عطا کی گئی تو ہمارے حبیب مکرم ﷺ نے اونٹ، بھیڑئیے اور شجر و حجر کے کلام کو سمجھا۔ اگر سلیمان علیہ السلام کے لئے جنات کو مسخر کر دیا گیا تھا تو ہمارے محبوب پاک ﷺ کے لئے جنات کا ایک گروہ حالت ایمان میں حاضر ہوا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اگر سرکش جنات کو قید کر سکتے تھے تو ایک سرکش جِن جب حضور نبی اکرم ﷺ کی نماز توڑنے کے لئے آیا تو آپ ﷺ نے اس کو پکڑ لیا اور قید فرما لیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معاون و مددگار جن تھے جو آپ کی خدمت بجا لاتے تھے مگر حضور نبی اکرم ﷺ کے خدمت گزار اور لشکری ملائکہ تھے جو آپ ﷺ کے سامنے آپ کے اعداء سے قتال کرتے اور آپ ﷺ کے دشمنوں کو آپ ﷺ سے دور رکھتے۔‘‘

12۔ قال الإمام القسطلاني : ورواه البغوي في تفسیره بلفظ : وما أقسم الله بحیاۃ أحد إلا بحیاته، وما أقسم بحیاۃ أحد غیره، وذلک یدل علی أنه أکرم خلق الله علی الله۔

12 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 448۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ امام بغوی رَحِمَهُ اللہ نے اپنی تفسیر میں (آپ ﷺ کی عظمت بیان کرتے ہوئے) ان الفاظ میں ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی سوائے آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے اور آپ ﷺ کے علاوہ کسی ایک کی زندگی کی قسم نہیں کھائی اور یہ قسم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام مخلوق سے زیادہ معزز ہیں۔‘‘

13۔ قال الشیخ تقي الدین السبکي : … فالنبي ﷺ نبي الأنبیاء، ولهذا ظهر في الآخرۃ جمیع الأنبیاء تحت لوائه، وفي الدنیا کذلک لیلۃ الإسراء صلی بهم۔ ولو اتفق مجیئه في زمن آدم ونوح وإبراهیم وموسی وعیسی صلوات الله وسلامه علیهم وجب علیهم وعلی أممهم الإیمان به ونصرته۔ وبذلک أخذ الله المیثاق علیهم۔

13 : أخرجه القسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالمنحِ المحمّدیّۃ، 1 / 33۔

’’حضرت شیخ تقی الدین سبکی رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : ۔۔۔۔ حضور نبی اکرم ﷺ تمام نبیوں کے نبی ہیں، یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، اسی طرح دنیا میں شب معراج آپ نے سب کی امامت فرمائی اور اگر ایسا ہوجاتا کہ آپ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام میں سے کسی کے دور میں تشریف لاتے تو ان پر اور ان کی امتوں پر لازم ہوتا کہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی مدد کریں، اللہ تعالیٰ نے ان سے اسی بات کا وعدہ لیا ہے۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved