Arba‘in: Virtues of the Holy Prophet (PBUH)

فصل بیست و دو :حضور ﷺ کا جملہ فضائل و کمالات اور کرامات سے مشرف ہونے کا بیان

فَصْلٌ فِي تَشْرِیْفِهِ صلی الله علیه وآله وسلم بِجَمِیْعِ الْفَضَائِلِ وَالْکَرَامَاتِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جملہ فضائل و کمالات اور کرامات سے مشرف ہونے کا بیان

68/1. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه أنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ:فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِیُّوْنَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، 1/199، الرقم: 523، والترمذي في السنن، کتاب السیر، باب ما جاء في الغنیمة، 4/123، الرقم: 1553، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/411، الرقم: 9326، والبیهقي في السنن، 2/433، الرقم:4063، وأیضا، 9/5، الرقم:17496، والسیوطي في مشکل الآثار، 1/451، وأبو عوانة في المسند، 1/395، وابن حبان في الصحیح، 6/87، الرقم:2313، وأیضا، 14/312، الرقم: 6401، 6403، والبغوي في شرح السنة، 13/198، الرقم: 3617، والهندي في کنز العمال، 11/412، الرقم: 32932.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے۔ اور میرے لئے اموال غنیمت حلال کئے گئے ہیں اور میرے لئے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔‘‘

اس حدیث کوامام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

69/2. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَہْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِداً وَّطَهُوْرًا فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْیُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَةَ، وَکَانَ النَّبِيُّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهٖ خَآصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَآمَّةً.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ وَغَیْرُهُمْ.

69: أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب التیمم، باب قول ﷲ: فلم تجدوا ماءً فتیمّمُوا صعیداً طیّباً، 1/128، الرقم: 328، وأیضاً في کتاب الصلاة، باب قول النبي صلی الله علیه وآله وسلم: جُعِلَتْ لِيَ الأرضُ مسجدًا وطهورًا، 1/168، الرقم: 427، ومسلم في الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلوة، 1/370، الرقم:521، والنسائي في السنن، کتاب الغسل والتیمم، باب التیمم بالصعید، 1/210۔211، الرقم: 432، وابن حبان في الصحیح، 14/308، الرقم: 6398، والدارمي في السنن، 1/374، الرقم: 1389، وابن أبي شیبة في المصنف، 6/303، الرقم: 31642، وأبوعوانة في المسند، 1/330، الرقم: 1173، وعبد بن حمید في المسند، 1/349، الرقم: 1154، والبیهقي في السنن الکبریٰ، 2/329، 6/291، وأیضاً في شعب الإیمان، 2/177، الرقم: 1479.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے تمام زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی لہٰذا میری امت میں سے جو شخص جہاں بھی نماز کا وقت پائے وہیں پڑھ لے، میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت عطا کی گئی، پہلے ہر نبی ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا جبکہ مجھے تمام انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، نسائی، ابن حبان، دارمی، ابنِ ابی شیبہ اور دیگر بہت سے ائمہ نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved