Belief in the Finality of Prophethood

باب 4 :ختم نبوت احادث نبوی کی روشنی میں

اِسلام میں سنت و حدیثِ نبوی ﷺ کا مقام

عقیدۂ ختم نبوت پر قرآن حکیم سے دلائل پیش کرنے کے بعد ہم سنت و حدیث نبوی ﷺ کی طرف آتے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا آخری نبی ہونا جس طرح قرآنی آیات میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے اسی طرح احادیث نبوی ﷺ میں تواتر کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے بار بار تاکید کے ساتھ اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا ہے اور مختلف تمثیلات کے ذریعے اس اصطلاح کے معنی کی وضاحت فرمائی ہے جس کے بعد اس لفظ کے معنی میں کسی قسم کی تاویل و تعبیر کی گنجائش نہیں رہتی۔

قبل اس کے کہ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں لفظِ خاتم النبیین کا معنی و مفہوم بیان کیا جائے، حدیثِ نبوی ﷺ کا دینِ اسلام کے اندر مرتبہ و مقام اور اس کی حجیتِ مطلقہ کا اجاگر کرنا ضروری ہے، تاکہ واضح ہو جائے کہ قرآن حکیم کے ساتھ سنت و حدیثِ نبوی ﷺ بھی ہمارے لیے واجب العمل ہے۔ چنانچہ اب ہم اس بات پر مختصراً روشنی ڈالیں گے کہ شریعتِ اسلامی کے اندر سنت و حدیث نبوی ﷺ کا کیا مقام ہے۔

تعلیماتِ اسلام اور احکامِ شریعت کے بنیادی ماخذ دو ہیں: قرآن اور سنت۔ سیرت النبی ﷺ سے جو کچھ صحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے وہی سنت رسول ﷺ ہے۔ اسلام نے آپ ﷺ کی سنت و سیرت کو حجت مطلقہ قرار دیا ہے۔ اس کی اطاعت و پیروی بھی قرآن مجید کی طرح مستقل، دائمی و ابدی، غیر مشروط اور غیر متبدل ہے جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے بلا کم و کاست واجب ہے، پوری اُمت مل کر بھی سنت رسول ﷺ اور اس کے احکام کو قرآنی احکام کی طرح منسوخ، معطل یا تبدیل نہیں کرسکتی حتیٰ کہ اس کی حجیت اور واجب الاطاعت اور قابل عمل ہونے کا مطلقاً انکار کفر ہے اور اس پر ایمان و اعتقاد رکھنے کے باوجود اس سے عملی انحراف فسق، ظلم اور ضلالت ہے۔ مزید یہ کہ اس کے بغیر فقط قرآن مجید اور اس کے احکام پر ایمان رکھنے کو کافی سمجھنا بھی منافقت اور صریح گمراہی ہے اور ایسا عقیدہ عند اللہ نامقبول و مردود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ اَطِيْعُوْا اللهَ وَالرَّسُوْلَ۔

آل عمران، 3:32

’’آپ فرما دیں کہ اللہ اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو۔‘‘

اسی طرح ارشاد فرمایا گیا:

یَآاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوْا اللهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْئٍ فَرُدُّوْهُ اِلٰی اللهِ وَالرَّسُوْلِ۔

النساء، 4: 59

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لیے) اللہ اور رسول (ﷺ) کی طرف لوٹا دو۔‘‘

یہاں اَطِيْعُوْا کا حکم لفظ اللہ کے بعد الرَّسُوْل کے لیے دوبارہ آیا ہے جبکہ اُولِی الْاَمْرِ کے لیے اس کا تکرار نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت جس طرح اللہ تعالیٰ کے لیے مستقل اور مطلق ہے اسی طرح رسول خدا ﷺ کے لیے بھی مستقل اور مطلق ہے مگر اولی الامر کے لیے اطاعت نہ مستقل ہے نہ مطلق بلکہ عارضی اور مشروط ہے اگر ان کا حکم اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کے تابع ہو تو ان کی اطاعت واجب ہے اگر اللہ و رسول کی نافرمانی پر مبنی ہو تو ان کی اطاعت جائز نہیں۔

تصورِ حاکمیت اور مقامِ رسالت

اسلام میں شارع یعنی واضح قانون کی حیثیت صرف خدائے لم یزل اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے۔ خدا کی حاکمیت حقیقی اور اصلی ہے جبکہ رسول ﷺ کی حاکمیت خدا کے نائب اور مظہر ہونے کے اعتبار سے نیابتی و تفویضی ہے۔ آپ ﷺ خدا کی طرف سے تشریعی اختیارات کے حامل ہونے کی بنا پر ابد الآباد تک انسانیت کے لیے مطاع مطلق ہیں لهٰذا کسی بھی معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے اوامر و نواہی دراصل خدا ہی کے اوامر و نواہی کہلاتے ہیں۔ قرآن نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

1۔ وَمَآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهٗ فَانْتَهُوْا۔

الحشر، 59: 7

’’اور جو کچھ رسول (ﷺ) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو۔‘‘

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا:

2۔ فَـلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًاo

النساء، 4: 65

’’پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم نہ بنا لیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیںo‘‘

یہی وجہ ہے اطاعتِ رسول ﷺ کو اطاعتِ خداوندی کا درجہ حاصل ہے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے قطع نظر اطاعتِ خداوندی کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

3۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ۔

النساء، 4: 80

’’جس نے رسول (ﷺ) کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا۔‘‘

4۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْکُمْ اللهُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔

آل عمران، 3: 31

’’(اے حبیب !) آپ فرمادیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنالے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘

علامہ ابن تیمیہ ؒنے اس تصور کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

وقد أقامہ اللہ مُقام نفسِهِ في أمرہ و نہیہ و إخبارہ و بیانہ، فلا یجوز أن یُّفَرَّقَ بین اللہ ورسولہ في شئ من ہذہ الأمور۔

ابن تیمیہ، الصارم المسلول: 41

’’اللہ تعالیٰ نے اپنے اوامر و نواہی اور اخبار و بیان میں حضور ﷺ کو اپنے ہی مقام پر فائز فرما دیا ہے لهٰذا ان امور میں سے کسی ایک میں بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان تفریق کرنا ہرگز جائز نہیں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کے حاکم و شارع ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فلسفہ بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ دو ہستیوں (خدا اور اس کے رسول ﷺ ) کے لیے قرآن ضمیر واحد کیوں استعمال کرتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

5۔ وَاللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ کَانُوا مُؤْمِنِيْنَo

التوبۃ، 9: 62

حالاں کہ اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) زیادہ حقدار ہے کہ وہ اسے راضی کریں اگر یہ لوگ ایمان والے ہوتے (تو یہ حقیقت جان لیتے اور رسول ﷺ کو راضی کرتے، رسول ﷺ کے راضی ہونے سے ہی اللہ راضی ہو جاتا ہے کیوں کہ دونوں کی رضا ایک ہے)o

یُرْضُوْهُ میں هُ کی ضمیر ایک ذات کو ظاہر کرتی ہے لیکن یہاں بیک وقت خدا اور اس کے رسول ﷺ دونوں کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رضائے الٰہی اور رضائے رسول ﷺ حقیقت میں ایک ہی رضا ہے انہیں دو الگ حقیقتیں نہ سمجھا جائے۔

بمقام حدیبیہ بیعتِ رضوان کے موقع پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے دستِ اقدس پر بیعت کرتے ہوئے آپ کی غیر مشروط اطاعت اور فرمانبرداری کا اظہار و اعلان کیا تو قرآن نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا:

7۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ۔

(1) الفتح، 48: 10

’’(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘

غور فرمائیے یہاں اطاعتِ رسول اللہ ﷺ کو عین اطاعتِ خداوندی اور رسول ﷺ کے ہاتھ کو عین اللہ کا ہاتھ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی فلسفہ اس آیت میں بھی دہرایا گیا ہے:

8۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰیo اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیo

النجم، 53: 3، 4

’’اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتےo اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہےo‘‘

یہاں فرمانِ رسول ﷺ کو عین حکم الٰہی قرار دیا جارہا ہے اس لیے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے فرمودات کے مابین کوئی فرق و امتیاز گوارا نہیں کیا جاسکتا۔

مزید برآں افعالِ رسول ﷺ کو بھی خدا اپنے افعال قرار دیتے ہوئے اپنی طرف منسوب کر رہا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا:

9۔ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰـکِنَّ اللهَ رَمٰی۔

الانفال، 8: 17

’’اور (اے حبیب محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے۔‘‘

یہ حقیقت درج ذیل آیات جس میں الوہیت اور رسالت کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لیے رسول ﷺ کا اسم مبارک خدا کے اسم گرامی کے ساتھ متحد کیا گیا ہے مزید آشکار ہوجاتی ہے۔

10۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُؤْذُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔

الاحزاب، 33: 57

’’بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے۔‘‘

11۔ ذَالِکَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوْا اللهَ وَرَسُوْلَهٗ وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِo

الانفال، 8: 13

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ (اسے) سخت عذاب دینے والا ہےo‘‘

12۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُحَادُّوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ اُوْلٰئِکَ فِی الْاَذَلِّيْنَo

المجادلہ، 58: 20

’’بیشک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ) سے عداوت رکھتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیںo‘‘

13۔ اَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا۔

التوبہ، 9: 63

’’کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت کرتا ہے تو اس کے لیے دوزخ کی آگ (مقرر) ہے وہ ہمیشہ اس میں رہے گا۔‘‘

14۔ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ … وَاَطِيْعُوا اللهَ وَرَسُوْلَهٗ اِنْ کُنْتُمْ مُّوْمِنِيْنَo

الانفال، 8: 1

’’فرما دیجیے: اموالِ غنیمت کے مالک اللہ اور رسول (ﷺ) ہیں … اور اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کیا کرو اگر تم ایمان والے ہوo‘‘

15۔ قُلْ اَطِيْعُوْا اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللهَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِيْنَo

آل عمران، 3: 32

’’آپ فرما دیں کہ اللہ اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتاo‘‘

16۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِيْبُوْا ِللهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِيْکُمْ۔

الانفال، 8: 24

’’اے ایمان والو! جب (بھی) رسول (ﷺ) تمہیں کسی کام کے لیے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول (ﷺ) کو فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو۔‘‘

یہاں بھی خدا اور اس کے رسول ﷺ کے لیے صیغۂ واحد استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کی پکار، اعلان، حکم اور امر ایک دوسرے سے مختلف نہ سمجھے جائیں بلکہ دونوں کو ایک ہی چیز تصور کیا جائے۔

17۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْئٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ۔

النساء، 4: 49

’’پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لیے) اللہ اور رسول (ﷺ) کی طرف لوٹا دو۔‘‘

18۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًاo

الاحزاب، 33: 71

’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی فرمانبرداری کرتا ہے تو بیشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہواo‘‘

19۔ وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَمْرًا اَنْ يَّکُوْنَ لَهُمْ الْخَیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيْنًاo

الاحزاب، 33: 36

’’اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم ) فرمادیں تو ان کے لیے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقینا کھلی گمراہی میں بھٹک گیاo‘‘

20۔ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ۔

التوبۃ، 5: 29

’’اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) نے حرام قرار دیا ہے۔‘‘

21۔ وَمَنْ يَّعْصِ اللهَ وَرُسُوْلَهٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهٗ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا۔

النساء، 4: 14

’’اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔‘‘

مذکورہ بالا تمام آیات قرآنی اس حقیقت کا واشگاف اعلان کرتی ہیں کہ قانون سازی کا حق صرف خدا اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے اور ان دونوں کے مابین کوئی فرق و امتیاز یا اختلاف و تناقض ہرگز نہیں۔ قانون سازی کا حق حقیقتاً ایک ہی حق ہے جو خداکو ہی حاصل ہے مگر اسے اس کا رسول ﷺ سیاسی آئینی اور تشریحی و قانونی تقاضوں کے تحت نیابتی حیثیت سے بروئے کار لاتا ہے اس اعتبار سے رسول اکرم ﷺ ہی پوری امت مسلمہ کے لیے اور ہر اسلامی ریاست کے لیے مقتدر اَعلیٰ کی حیثیت رکھتے ہیں اور تمام مسلم حکمران آپ کے خلفاء ہیں جیسا کہ علامہ ابن خلدون نے بیان کیا ہے:

وأنہ نیابۃ عن صاحب الشریعۃ في حفظ الدین وسیاسۃ الدنیا بہ۔

ابن خلدون، مقدمہ، 189

’’خلافت دراصل صاحبِ شریعت یعنی رسول مقبول ﷺ کی نیابت کا ایسا منصب ہے جس کا مقصد دنیا کا تحفظ اور امور دنیا کو احسن طریقے سے چلانا ہے۔‘‘

موصوف مزید فرماتے ہیں:

وأما تسمیتہ خلیفةً فلکونہ یخلُفُ النبيَّ ﷺ فی أمتہ۔

ابن خلدون، مقدمہ، 189

’’خلیفہ کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ وہ امت میں حضور ﷺ کا نائب ہوتا ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے غیر مبہم انداز سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا:

22۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللهُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰافِقِيْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًاo

النساء، 4: 61

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول (ﷺ) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo‘‘

یہاں یہ امر واضح ہوگیا ہے کہ دین و ایمان دو دعوتوں کا نام ہے: دعوت الی اللہ عزوجل اور دعوت الی الرّسول ﷺ ۔ قرآنی اصول کے مطابق منافقین کی علامت یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ سے نہیں بلکہ دعوت الی الرسول ﷺ سے گریزاں ہوتے ہیں کیونکہ رسالت کی طرف رجوع کرنے سے ہی رجوع الی اللہ عملاً متحقق ہوتا ہے، اتباعِ رسالت کی طرف رجوع کیے بغیر رجوع الی ما انزل اللہ کا دعویٰ مجرد عقیدہ و تصور ہی رہتا ہے اس کی عملی شکل وجود میں نہیں آسکتی اس لیے منافق سمجھتا ہے کہ میرا انکار اسلام بھی ثابت نہ ہوا اور میں اسلام پر عمل کی پابندی سے بھی بچا رہا پابندی تو اس وقت شروع ہوگی جب احکام قرآنی اور اطاعت الٰہی کی عملی صورت سامنے ہوگی اور وہ عملی صورت صرف سنت و سیرتِ نبوی ﷺ ہی تھی جس کا اس نے انکار کر دیا اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ میں قرآن کو مان کر اسلام کا منکر بھی نہ بنا اور اسلام سے آزاد بھی رہا اس نفسیات کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے کہ ایسا شخص سرے سے مسلمان ہی نہیں، منافق ہے۔

سو اسلام اور احکام شریعت کو کاملاً سمجھنے اور ان پر صحیح عمل کرنے کے لیے قرآن اور سنت وحدیث لازم و ملزوم اور ناگزیر ہیں، دو میں سے کسی ایک کی بھی حجیت و ضرورتِ شرعی کا انکار دین اور شریعت اسلامی کو نامکمل اور ناقابل عمل بنا دے گا، بنابریں حضور ﷺ نے اُمت کو یہ تلقین فرمائی:

أمرینِ لن تَضِلّوا ما تَمَسَّکْتُمْ بھما کتابَ اللہ وسنّةَ نبیّہ۔

1۔ امام مالک، الموطا، 2: 899، رقم: 1594
2۔ ابن عبد البر، التمھید، 24: 331، رقم: 128

’’میں تمہارے اندر دو امر چھوڑ رہا ہوں اللہ کی کتاب اور اپنی سنت۔ اگر تم ان دونوں کو تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘

اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا:

کلّ أمّتي یَدخلون الجنّةَ إلا من أبی۔

’’میری ساری اُمت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

من أطاعني دَخَلَ الجنّۃ ومن عصاني فقد أبی۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الإقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ ، 6: 2655، رقم: 6851
2۔ ابن حبان، الصحیح، 1: 196، رقم: 17

’’جو میری اطاعت کرے گا جنت میں جائے گا اور جو میری اطاعت سے رُوگردانی کرے گا وہی منکر ہوگا۔‘‘

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا:

قد یئِس الشّیطانُ بأن یُّعبَدَ بأرضکم ولکنّهُ رضِي أن یُطاعَ فیما سوی ذلک مما تُحاقِرونَ من أعمالِکم فاحذرُوا یا أیھا النّاسُ إني قد ترکتُ فیکم ما إنِ اعْتَصَمْتُمْ بہ فلن تضلُّوا أبدا کتابَ اللہ وسنةَ نبیّہ ﷺ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 171، رقم: 318

’’بے شک شیطان اب اس بات سے نااُمید ہو گیا ہے کہ تمہاری سر زمین پر آئندہ اس کی عبادت کی جائے گی (یعنی آئندہ اس کی عبادت نہیں ہو گی) لیکن وہ اس بات پر خوش ہے کہ عبادت کے علاوہ دیگر معاملات میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو اس کی اطاعت کی جائے گی، پس اس بات سے بچو، بے شک میں تمہارے اندر ایک ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے وہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے۔‘‘

چونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود قرآن مجید کے ساتھ اپنی سنت و سیرت کو اُمت کے لیے لازم و ناگزیر قرار دیا ہے سو جب تک قرآن ہے حضور ﷺ کی سنت و سیرت بھی اس وقت تک زندہ و تابندہ رہے گی اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور کتاب و سنت، خاتم النبییّن ہونے کی بناء پر قیامت تک قائم و دائم اور لازم و واجب رہیں گی، سو زمانوں کے بدلنے کے باوجود سیرتِ محمدی ﷺ کی کمالیت و دوامیت میں اس لیے فرق نہیں آسکتا کہ آپ کی بعثت تمام زمانوں کے لیے ہے اور وہ روزِ محشر تک، روزِ اوّل کی طرح زندہ و تابندہ اور روشن و تابناک رہے گی کیونکہ وہ ناقابلِ عمل ہو جائے تو خاتمیت نبوت برقرار نہیں رہ سکتی، پھر نئے نبی کی بعثت لازمی ہو جاتی ہے اور یہ ناممکن ہے۔ قرآن مجید اور فرمانِ نبوی ﷺ کے ذریعے ابد الآباد تک کے لیے اس کا قطعی اعلان ہو چکا ہے۔

اس موضوع کی تفصیل کے لیے ہماری تصنیف ’الحکم الشرعی‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

ختمِ نبوت کے مسئلے کو احادیثِ متواترہ میں کثرت سے بیان کیا گیا ہے اور ان سے ہمیں جو علم حاصل ہوا ہے وہ اس قدر قطعی، یقینی اور بدیہی ہے جیسے مشاہدے کی بنیاد پر ہم کسی چیز کے بارے میںجان لیتے ہیں اور اس پر کسی قسم کے اشتباہ اور شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب کے مصداق کلامِ نبوی ﷺ کی حقانیت و صداقت پر ہمارا یقین ایسا ہی ہے جیسے نصف النہار کے وقت آفتاب کے موجود ہونے کا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ہم دو سے زائد احادیث بیان کریں گے۔

بعثتِ محمدی ﷺ کے ساتھ قصرِ نبوت کی تکمیل سے اِستدلال

1۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِیَاء مِنْ قَبْلِي، کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِیَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِهِ وَیَعْجَبُوْنَ لَهُ وَیَقُوْلُوْنَ: ھَلَّا وُضِعَتْ ھَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ:فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّيْنَ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ﷺ ، 3: 1300 رقم: 3342
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین، 4: 1791، رقم: 2286
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 256، رقم: 7479
4۔ نسائی کی ’السنن الکبری (6: 436، رقم: 11422)‘ میں فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ کے الفاظ ہیں۔
5۔ ابن حبان، الصحیح، 14: 315، رقم: 6405
6۔ عبد بن حمید، المسند، 1: 90، رقم: 172

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے گھر تعمیرکیا اور اس کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا، لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ آکر اس مکان کو دیکھنے لگے اورخوش ہونے لگے اور کہنے لگے! یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (پھر) آپ ﷺ نے فرمایا: پس میں وہی آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔‘‘

2۔ فَکَانَ أَبُوْ ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِیَاءِ کَمَثَلِ قَصْرٍ أَحْسَنَ بُنْیَانَهُ وَتَرَکَ مِنْهُ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ نُظَّارٌ فَتَعَجَّبُوْا مِنْ حُسْنِ بُنْیَانِهِ إلَّا مَوْضِعَ تِلْکَ اللَّبِنَةِ لَا یَعِيْبُوْنَ غَيْرَھَا فَکُنْتُ أنَا مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ۔

ابن حبان، الصّحیح، 14: 316، رقم: 6406

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک محل کی سی ہے جسے کسی نے خوب آراستہ و پیراستہ کیا، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ آکر اس مکان کو دیکھنے لگے اور اس کی خوبصورت تعمیر سے خوش ہونے لگے سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ اس کے علاوہ اس محل میں کوئی کمی نہ دیکھتے پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ تھا، میری بعثت کے ساتھ انبیاء ختم کر دیئے گئے۔‘‘

3۔ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِیَاء، کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَتَمَّھَا وَأَکْمَلَھَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْخُلُوْنَھَا وَیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْھَا وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْلاَ مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ! قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الأَنْبِیَاء۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ﷺ ، 3: 130، رقم: 3341
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین، 4: 1791، رقم: 2287
3۔ ترمذي، السنن، کتاب الأمثال، باب في مثل النبي والأنبیا قبلہ، 5: 147، رقم: 2862
4۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 324، رقم: 31770
5۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 361، رقم: 14931
6۔ بیھقي، السنن الکبری، 9: 5

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے مکمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھنے لگے اور اس کی خوبصورت تعمیر سے خوش ہونے لگے سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ اس کے علاوہ اس محل میںکوئی کمی نہ دیکھتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ ہوں، میں نے آکر انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔‘‘

4۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ : مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِیَائِ، کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَکْمَلَھَا وَأَحْسَنَھَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَکَانَ مَنْ دَخَلَھَا وَأَنْظَرَ إِلَيْھَا قَالَ: مَا أَحْسَنَھَا إِلاَّ مَوْضِعَ ھَذِهِ اللَّبِنَةِ فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الأَنْبِیَاءُ۔

طیالسي، المسند، 1: 247، رقم: 1785

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے مکمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ جو کوئی بھی اس مکان کو دیکھنے کے لیے آتا کہتا: اس ایک اینٹ کی جگہ کے علاوہ یہ مکان کتنا خوبصورت مکان ہے۔ پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ ہوں، میری بعثت کے ساتھ انبیاء ختم کر دیئے گئے۔‘‘

5۔ عَنْ أَبَيِّ ابْنِ کَعْبِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَثَلِي فِي النَّبِيِّيْنَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَحْسَنَھَا وَأَکْمَلَھَا وَأَجْمَلَھَا وَتَرَکَ مِنْھَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَاءِ وَیَعْجَبُوْنَ مِنْهُ وَیَقُوْلُوْنَ لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَةِ وَأَنَا فِي النَّبِيِّيْنَ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَةِ۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب المناقب، باب في فضل النبي ﷺ ، 5: 586، رقم: 3613
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 136، رقم: 21281، 21282
3۔ عبد بن حمید، المسند، 1:90، رقم: 172

’’حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء میں میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے مکمل کیا اور خوب آراستہ کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس عمارت کو آکر دیکھنے لگے اور اس کی خوبصورت تعمیر سے خوش ہونے لگے اور کہنے لگے کاش اس اینٹ رکھنے کی جگہ کو بھی مکمل کر دیا جاتا! پس میں انبیاء میںوہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ ہوں۔‘‘

6۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّيْنَ مِنْ قَبْلِيْکَمَثَلَ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَتَمَّھَا إِلاَّ لَبِنَةً وَاحِدَةً فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْکَ اللَّبِنَةَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَھَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب: ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین، 4: 1791، رقم: 2286
2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 323، رقم: 31769
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 9، رقم: 11082

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے مکمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ میں نے اپنی بعثت کے ساتھ اس اینٹ کو مکمل کر دیا۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث میں آقا علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے اپنی ختم نبوت کو ایک بلیغ مثال کے ذریعے واضح فرمایا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک اعلیٰ اور خوبصورت محل نما عمارت تعمیر کی جس کی تزئین و آرائش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی لیکن کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس قصرِ رفیع الشان کو دیکھنے آتے اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے لیکن کونے میں اینٹ کی خالی جگہ دیکھ کر کہتے کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اینٹ رکھ کر اس کو بھی مکمل کر دیا جاتا۔ آگے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کے اس عالیشان محل کی تکمیل میری بعثت سے ہو گئی اور قصر نبوت کی وہ آخری اینٹ میں ہوں۔ اس تصریح کے بعد اس روایت سے کسی نئے نبی کے حوالے سے کوئی اور معنی نکالنے کی مطلقاً گنجائش نہیں رہی۔

ان احادیث مبارکہ میں ’مثل الأنبیاء من قبلي‘ کے الفاظ تمام انبیاء سابقین کے لیے عام ہیں۔ قصرِ نبوت کی تعمیر میں نئی شریعت لانے والے انبیاء بھی تھے اور پہلی شریعتوں کی پیروی کرنے والے انبیاء بھی شریک تھے۔ قصر نبوت کی خشت اول حضرت آدم علیہ السلام تھے اور خشت آخر حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سب انبیاء و رسل اپنی بعثت سے عمارتِ نبوت کی تعمیر و تزئین کرتے رہے۔ جب تمام انبیاء اپنا اپنا دورِ نبوت گزار چکے تو آخر میں قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی تھی وہ بعثتِ محمدی ﷺ کی صورت میں رکھ دی گئی چنانچہ نبوت کی مذکورہ عمارت تاجدارانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثتِ انور سے مکمل ہو گئی۔ قصرِ نبوت کی تکمیل کے بعد اس میں کسی قسم کی نئی نبوت کی راہ نکالنے کی قطعاً گنجائش نہ رہی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کا نہ تو نبوت کی اس عمارت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس عمارت کو مکمل کرنے والوں سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔ وہ صرف اس عالیشان عمارت میں نقب زنی کی سازش کرنے والا کذّاب ہے۔

مندرجہ بالا اَحادیث میں مذکور الفاظ - وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّيْنَ؛ فختمت الأنبیاء؛ ختم بي الأنبیائ؛ ختم بي الرسل - واضح طور پر بیان کر رہے ہیں کہ سلسلۂ نبوت حضور نبی اکرم ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور آپ ﷺ کے بعدقیامت تک کسی کو نبی بنا کر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ ختمت اور ختم بي کے الفاظ فعل ماضی ہیں جن میں آخری کے علاوہ کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں پایا جاتا۔ اس سے قادیانیت کے ان اوہام اور تاویلات کا ازالہ ہو تا ہے جو وہ خاتم النبیین کے الفاظ کی آڑ میں کرتے ہیں نیز خاتم کو مہرکے معنی میں لے کر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو جائز قرار دینے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔

مذکورہ بالاروایات سے واضح ہے کہ یہ حدیث کثرت سے ذخیرہ اَحادیث میں موجود ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے روایت کیا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ قائد المرسلین وخاتم النبیّین ہیں

7۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاء بِسِتٍّ: أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَھُوْرًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِیُّونَ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصّلاۃ، 1: 371، رقم: 523
2۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب السیر، باب ما جاء في الغنیمۃ، 4: 123، رقم: 1553
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 411، رقم: 9326
4۔ أبو یعلي، المسند، 11: 377، رقم: 6491
5۔ ابن حبان، الصحیح، 6: 87، رقم: 2313
6۔ أبو عوانۃ، المسند، 1: 330، رقم: 1169

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گئے ہیں اور میرے لیے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘

8۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی سَائِرِ الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَھُوْرًا، ومَسْجِدًا، واُرْسِلْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ الْأَنْبِیَاء۔

1۔ أصبھاني، دلائل النبوۃ، 1: 193، رقم: 256
2۔ قزویني، التدوین في أخبار قزوین، 1: 178

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے ہیں اور میرے لیے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘

9۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَيْرَةَ (قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ): فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍ: أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ، مَسْجِدًا وَّطَھُوْرًا وَاُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النُّبُوَّةُ۔

دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 3: 123، رقم: 4334

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے ہیں اور میرے لیے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘

10۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما، قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ یَنْتَظِرُوْنَهُ قَالَ: فَخَرَجَ، حَتَّی إِذَا دَنَا مِنْھُمْ سَمِعَھُمْ یَتَذَاکَرُوْنَ فَسَمِعَ حَدِيْثَھُمْ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ: عَجَبًا إِنَّ اللهَ عزوجل اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيْلًا، اتَّخَذَ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا، وَقَالَ آخَرُ: مَاذَا بِأَعَجَبَ مِنْ کَلَامِ مُوْسَی کَلَّمَهُ تَکْلِيْمًا، وَقَالَ آخَرُ: فَعِيْسَی کَلِمَةُ اللهِ وَرُوْحُهُ، وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ، فَخَرَجَ عَلَيْھِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ کَلَامَکُمْ وَعَجَبَکُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلُ اللهِ وَھُوَ کَذٰلِکَ وَمُوْسَی نَجِيُّ اللهِ وَهُوَ کَذٰلِکَ، وَعِيْسَی رُوْحُ اللهِ وَکَلِمَتُهُ وَھُوَ کَذٰلِکَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ وَھُوَ کَذٰلِکَ، أَلَا وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَائِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَیَفْتَحُ اللهُ لِي فَیُدْخِلُنِيْھَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَکْرَمُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَلَا فَخْرَ۔

1۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب فی فضل النبي ﷺ ، 5: 587، رقم: 3616
2۔ دارمی، السنن، 1: 39، رقم: 47

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم ﷺ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے جب ان کے قریب پہنچے تو انہیں کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ اُن میں سے بعض نے کہا: تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا: یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تو نہیں۔ ایک نے کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح ہیں۔ کسی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے سلام کیا اور فرمایا: میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہار تعجب سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں بیشک وہ ایسے ہی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نجی اللہ ہیں بیشک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے چن لیا وہ بھی یقیناً ایسے ہی ہیں۔ سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے لیے اسے کھولے گا اور مجھے اس میں داخل کرے گا۔ میرے ساتھ فقیر و غریب مومن ہوں گے اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔‘‘

11۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ۔

1۔ دارمي، السنن، 1: 40، رقم: 49
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 1: 61، رقم: 170
3۔ بخاري، التاریخ الکبیر، 4: 286، رقم: 2837
4۔ بیہقي، کتاب الاعتقاد، 1: 192

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں رسولوں کا قائد ہوں اور (مجھے اس بات پر) فخر نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اور (مجھے اس بات پر) کوئی فخر نہیں ہے۔ میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور میں ہی وہ پہلا (شخص) ہوں جس کی شفاعت قبول ہو گی اور (مجھے اس بات پر) کوئی فخر نہیں ہے۔‘‘

12۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قاَلَ: کُنَّا فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاکَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِیَاءِ أَیُّھُمْ أَفْضَلُ فَذَکْرَنَا نُوْحًا وَطُوْلَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ وَذَکَرْنَا إِبْرَاھِيْمَ خَلِيْلَ الرَّحْمٰنِ وَذَکَرْنَا مُوْسَی کَلِيْمَ اللہ وَذَکَرْنَا عِيْسیَ بْنَ مَرْیَمَ وَذَکَرْنَا رَسُوْلَ اللهِ فَبَيْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ إِذْ خَرَجَ عَلِيْنَا رَسُوْلُ اللهِ فَقَالَ مَا تَذَاکَرُوْنَ بَيْنَکُمْ؟ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ! تَذَاکَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِیِاءِ أَیُّھُمْ أَفْضَلُ؟ ذَکَرْنَا نَوْحًا وَطُوْلَ عِبَادَتِهِ وَذَکَرْنَا إِبْرَاھِيْمَ خَلَيْلَ الرَّحْمَنِ وَذَکَرْنَا مُوْسیٰ کَلِيْمَ اللهِ وَذَکَرْنَا عَيْسیَ بْنَ مَرْیَمَ وَذَکَرْنَاکَ یَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ: فَمَنَ فَضَّلْتُمْ؟ قُلْنَا: فَضَّلْنَاکَ یَا رَسُوْلَ اللهِ! بَعَثَکَ اللهُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً وَغَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاءِ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 12: 218، رقم: 12938
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 208، 209

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں ایک مجلس میں انبیاء علیھم السّلام کے فضائل پر گفتگو کر رہے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ فضیلت والا ہے؟ پس ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اپنے رب کی طویل عبادت گزاری کا ذکر کیا اور ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیھما السّلام کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا۔ ابھی ہم اسی حال میں تھے کہ اچانک ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور فرمایا: تم آپس میں کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ!ہم فضائلِ انبیاء کا ذکر کر رہے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ افضل ہے؟ پس ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اپنے رب کی طویل عبادت گزاری کا ذکر کیا اور ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیھما السّلام کا ذکر کیا اور یا رسول اللہ! آپ کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے کسے افضل قرار دیا؟ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو افضل قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا اور اور آپ کی خاطر اگلوں پچھلوں کی سب خطائیں معاف فرما دیں اور آپ انبیاء کے خاتم ہیں۔‘‘

حضرت علی المکی الھلالی سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ مرضِ وصال میں حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا سے فرمایا:

13۔ وَنَحْنُ أَھْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ قَبْلَنَا وَلاَ یُعْطَی أَحْدٌ بَعْدَنَا أَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّيْنَ وَأَکْرَمُ النَّبِيِّيْنَ عَلَی اللهِ وَأَحَبُّ الْمَخْلُوْقِيْنَ إِلَی اللهِ عزوجل…

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 57، رقم: 2675
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 327، رقم: 6540
3۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 8: 253، 9: 65

’’ہم اہل بیت کو اللہ تعالیٰ نے سات ایسے امتیازات عطا فرمائے ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں فرمائے گئے اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کیے جائیں گے میں انبیاء کا سلسلہ ختم فرمانے والا ہوں اور انبیاء میں سے سب سے زیادہ معزز ہوں اور تمام مخلوقات میں سے اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہوں…‘‘

مذکورہ بالا تمام اَحادیث حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں۔ ان احادیث مبارکہ میںان خصائص و امتیازات کا ذکر ہے جو حضور نبی اکرم ﷺ کو عطا فرمائے گئے ہیں۔ آپ ﷺ کی ایک خصوصیت آپ ﷺ کا قائد المرسلین اور سید الأنبیاء ہونا ہے۔ آپ ﷺ جامع کمالات انبیاء ہیں۔ انہی امتیازی اوصاف کی بنا پر آپ ﷺ تمام انبیاء و رسل سے افضل و اکرم قرار پائے۔ آپ ﷺ کا افضل الأنبیاء والرسل ہونا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ نبوت کا زریں سلسلہ جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا تھا بعثت محمدی ﷺ کے ساتھ اپنے منتہائے کمال کو پہنچ کر ختم ہو چکا، اب قیامت تک آپ ﷺ ہی کی نبوت و رسالت جاری و ساری رہے گے۔ احادیث مذکورہ میں آپ نے اپنی دیگر خصوصیات کے ساتھ خاتم النبیین ہونے کے امتیازی وصف کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے جس کے بعد کسی قسم کی نبوت کے احتمال کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اگر حضور نبی اکرم ﷺ کے بعدکسی نئے نبی کی آمد کو جائز خیال کیا جائے تو یہ ماننا لازم آئے گا کہ نبوت ابھی تک اپنے منتہائے کمال کو نہیں پہنچی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا فرد ہے جس پر وصف نبوت اپنے نقطۂ عرو ج پر پہنچے گا۔ اس اعتبار سے منتہائے کمال کو پہنچنے والا وہ فرد افضلیت کا حامل ہو گا۔ اس سے حضور نبی اکرم ﷺ کی شان افضلیت پر حرف آئے گا، حالانکہ حضور نبی اکرم ﷺ کے سید الانبیاء ہونے پر قادیانی ذریّت بھی کم از کم قولی طور پر تو متفق ہے۔

یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حدیث میں مذکور قائد المرسلین میں الف لام استغراقِ حقیقی کا ہے، اگر استغراق حقیقی کو نہ مانا جائے تو لا محالہ حضور نبی اکرم ﷺ تمام انبیاء کے سردار نہ ہوئے جو قادیانی امت کی مسلمہ تصریحات کے بھی خلاف ہے کہ زبان سے وہ بھی حضور نبی اکرم ﷺ کو تمام انبیاء کا رہبر و پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ اگر المرسلین بلا تخصیص و بلا استثناء عام ہے تو اس کے فوری بعد خاتم النبیین عام کیوں نہیں، اس وجہ سے کہ المرسلین کو عام رکھنے سے مرزا صاحب کی جھوٹی نبوت پر زد نہیں پڑتی جبکہ خاتم النبیین کو عام رکھنے سے مرزا صاحب کی خود ساختہ نبوت قائم نہیں رہتی۔

اَسمائے مصطفی ﷺ سے ’’آخری نبی‘‘ کے معنی پر دلالت

14۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ : لِيْ خَمْسَةُ أَسْمَآء أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِيْ یَمْحُوْ اللهُ بِيَ الْکُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي، وَاَنَا الْعَاقِبُ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المناقب، باب ما جاء في أسماء رسول اللہ ﷺ ، 3: 1299، رقم: 3339
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب التفسیر، باب تفسیر سورۃ الصف، 4: 1858، رقم: 4614

’’ محمدبن جبیر بن معطم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹا دے گا اورمیں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں۔‘‘

15۔ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي یُمْحَی بِيَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِيْ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب في اسمائہ ﷺ ، 4: 1828، رقم: 2354
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 446، رقم: 1957
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 80، رقم: 16780
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 84، رقم: 16817
5۔ أبو یعلي، المسند، 13: 320، رقم: 7395
6۔ ابن حبان، الصحیح، 14: 219، رقم: 6313
7۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 120، رقم: 1520
8۔ أبو عوانۃ، المسند، 4: 409، رقم: 7126
9۔ بیہقي، شعب الإیمان، 2: 141رقم: 1397
10۔ حمیدي، المسند، 1: 253، رقم: 555
11۔ ترمذي، الشمائل المحمدیہ، 1: 305، رقم: 367

’’حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ کفر کو مٹا دیا جائے گا اور میں حاشر ہوں یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔‘‘

16۔ ابن ابی شیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں:

وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ قَالَ لَهُ إنْسَانٌ: مَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 311، رقم: 31691

’’اور میں عاقب ہوں۔ ایک شخص نے عرض کیا: عاقب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

17۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي یَمْحُو اللهُ بِيَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔

1۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب الأدب، باب ما جاء فی أسماء النبی ﷺ ، 5: 135، رقم: 2840
2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 311، رقم: 31691
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 120، رقم: 1520

’’حضرت محمدبن جبیر بن معطم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں یعنی میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے (یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

18۔ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ:إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذي یَمْحُو اللهُ بِيَ الْکُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ۔

1۔ دارمي، السنن، 2: 409، رقم: 2775
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 121، رقم: 1525
3۔ أبو المحاسن، معتصر المختصر، 1: 4
4۔ أزدي، الجامع، 10: 446، رقم: 19657
5۔ ابن عبد البر، الاستذکار، 8: 621

’’حضرت محمد بن جبیر بن معطم رضی اللہ عنھما اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں یعنی میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا اورمیں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے (یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہوگا اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اسے کہا جاتا ہے جس کے بعد کوئی نہ ہو۔‘‘

19۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفّٰی وَالْحَاشِرُ وَالْخَاتِمُ وَالْعَاقِبُ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 660، رقم: 4186
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 81، رقم: 16794
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 133، رقم: 1563
4۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، 1: 104

’’حضرت نافع بن جبیر بن معطم رضی اللہ عنھما اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفی (آخری نبی) ہوں اور حاشر ہوں اور خاتم ہوں اور عاقب ہوں۔‘‘

20۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّدٌ، وأَحْمَدُ، وَالْعَاقِبُ وَالْمَاحِي وَالْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِي، وَالْعَاقِبُ اٰخِرُالْأَنْبِیَاءِ۔

بزار، المسند، 8: 339، 340، رقم: 3413

’’حضرت نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنھما اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے کئی نام ہیںمیں محمد ہوں اور احمد ہوں اور عاقب ہوں اور ماحی ہوں اور حاشر ہوں جس کے پیچھے لوگ اٹھائے جائیں گے اور عاقب سے مراد آخرِ انبیاء ہے۔‘‘

21۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا فَوَاللهِ، إنِّي لَأَنَا الْحَاشِرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَأَنَا الْمُقَفّٰی۔

1۔ ابن حبان، الصحیح، 16: 119، رقم: 7162
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 469، رقم: 5756
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 18: 46، رقم: 83
4۔ حسام الدین ھندي، کنز العمال، 2: 608

’’حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے (حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا): اللہ کی قسم! بے شک میں ہی حاشر ہوں اور میں ہی عاقب ہوں اور میں ہی مقفی ہوں۔‘‘

22۔ عَنْ أبِي مُوْسٰی قَالَ: سَمّٰی لَنَا رَسُوْلُ اللهِ نَفْسَهٗ أَسْمَاءً فَمِنْھَا مَا حَفِظْنَاهُ وَمِنْھَا مَا نَسِيْنَاهُ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَالْمُقَفّٰی وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَالْمَلْحَمَةِ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 659، رقم: 4185

’’حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے اپنے متعدد اسمائے گرامی بیان فرمائے جن میں سے کچھ ہمیں یاد رہے اور کچھ بھول گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور مقفی ہوں اور حاشر ہوں اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں۔‘‘

23۔ عَنْ حُذَيْفَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: أنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمُقَفّٰی۔

1۔ بزار، المسند، 7: 212، رقم: 9212
2۔ قزویني، التدوین في أخبار قزوین، 1: 173

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفی ہوں۔‘‘

24۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَنَا أَحْمَدُ وَمُحَمَّدٌ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفّٰی وَالْخَاتِمُ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 2: 378، رقم: 2280
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 284
3۔ خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 5: 99، رقم: 2501

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں احمد ہوں اور محمد ہوں اور حاشر ہوں اور مقفی ہوں اور خاتم ہوں۔‘‘

25۔ عَنْ أَبِي الطُّفِيْلِ عَامِرِ بْنِ وَائِلَةَ (قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ :) أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَالْفَاتِحُ وَالْخَاتِمُ وَأَبُوْ الْقَاسِمِ وَالْحَاشِرُ وَالْعَاقِبُ وَالْمَاحِي وَطٰهَ وَیٰس۔

1۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1: 42، رقم: 97
2۔ سیوطي، تنویر الحوالک، 1: 263

’’حضرت ابو الطفیل عامر بن وائلہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور فاتح ہوں اور خاتم ہوں اور ابو القاسم ہوں اور حاشر ہوں اور عاقب ہوں اور ماحی ہوں اور طٰہ اور یٰس ہوں۔‘‘

26۔ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ وَّأَحْمَدُ وَأَنَا رَسُوْلُ الرَّحْمَةِ أَنَا رَسُوْلُ الْمَلْحَمَةِ أَنَا الْمُقَفّٰی وَالْحَاشِرُ۔

1۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1: 105
2۔ سیوطی، الخصائص الکبریٰ، 1: 132

’’حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور میں رسول الرحمہ ہوں میں رسول الملحمہ ہوں، میں مقفی ہوں اور حاشر ہوں۔‘‘

27۔ وَأَخْرَجَ أَبُوْ نُعَيْمٍ عَنْ یُوْنُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلَبَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَتَانِي مَلَکٌ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَشَقَّ بَطَنِي فَاسْتَخْرَجَ حُشْوَةً فِي جَوْفِيْ فَغَسَلَهَا ثُمَّ ذَرَّ عَلَيْهِ ذَرُوْرًا ثُمَّ قَالَ قَلْبٌ وَکِيْعٌ یَعِيْ مَا وَقَعَ فِيْهِ عَيْنَاکَ بَصِيْرَتَانِ، وَأُذُنَاکَ تَسْمَعَانِ وَأَنْتَ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ الْمُقَفّٰی وَالْحَاشِرُ۔

سیوطي، الخصائص الکبری، 1: 111

’’حضرت یونس بن میسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس ایک فرشتہ سونے کا ایک طشت لے کر آیا پس اس نے میرا شکم چاک کیا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا پھر اس کو دھویا اور اس پر کسی سفوف نما چیز کا خوب چھڑکاؤ کیا، پھر کہا: حفاظت کرنے والا دل ہے جس میں دو سننے والے کان ہیں اور دو دیکھنے والی آنکھیں ہیں، آپ محمد اللہ کے وہ رسول ہیں جو سب سے آخر پر ہیں آپ کے بعد انعقاد محشر ہو گا۔‘‘

28۔ عَنِ ابْنِ غَنَمٍ قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيْلُ عَلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَشَقَّ بَطْنَهُ ثُمَّ قَالَ جِبْرِيْلُ: قَلْبٌ وَکِيْعٌ فِيْهِ اُذُنَانِ سَمِيْعَتَانِ وَعَيْنَانِ بَصِيْرَتَانِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ الْمُقَفّٰی الْحَاشِرُ۔

دارمي، السنن، 1:42، 53

’’حضرت ابن غنم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کا شکم مبارک چاک کیا پھر کہا: حفا ظت کرنے والا دل ہے جس میں دو سننے والے کان ہیں اور دو دیکھنے والی آنکھیں ہیں، محمد ﷺ اللہ کے وہ رسول ہیں جو سب سے آخر پر ہیں ان کے بعد انعقاد محشر ہو گا۔‘‘

29۔ عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ فِي حَدِيْثِ الإِسْرَاء بَيْنَمَا هُوَ یَسِيْرُ إِذْ لَقِیَهُ خَلْقُ اللهِ فَسَلَّمُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا: السَّلَامُ عَلَيْکَ یَا أَوَّلُ، السَّلامُ عَلَيْکَ یَا اٰخِرُ، السَّلَامُ عَلَيْکَ یَا حَاشِرُ، وَفِيْ اٰخِرِهِ قَالَ جَبْرِيْلُ: وَأَمَّا الَّذِيْنَ سَلَّمُوْا عَلَيْکَ فَذَاکَ إِبْرَاهِيْمُ علیہ السلام وَمُوْسَی علیہ السلام وَعِيْسَی علیہ السلام۔

1۔ ضیاء مقدسي، الأحادیث المختارۃ، 6: 259، رقم: 2277
2۔ طبري، جامع البیان في تفسیر القرآن، 15: 6
3۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 5

ــ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (شبِ معراج) جب حضور ﷺ آسمانوں کی سیر فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ سے ایک جماعت نے ملاقات کی۔ انہوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور کہا: اے اول! آپ پر سلامتی ہو، اے آخر! آپ پر سلامتی ہو، اے حاشر ! آپ پر سلامتی ہو۔ اور اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ جن لوگوں نے آپ کو سلام کیا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔‘‘

30۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَمَّا خَلَقَ اللهُ عزوجل اٰدَمَ علیہ السلام أَخْبَرَهُ بِنَبِيِّهِ فَجَعَلَ یَرَی فَضَائِلَ بَعْضِهِمْ عَلٰی بَعْضٍ فَرَاٰی نُوْرًا سَاطِعًا فِي أَسْفَلِهِمْ قَالَ: یَا رَبِّ، مَنْ هٰذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُکَ أَحْمَدُ هُوَ الْأَوَّلُ وَهُوَ الْاٰخِرُ وَهُوَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَفِي رَوَایَةٍ أَوْلُ شَافِعٍ۔

1۔ ابن عساکر، مختصر تاریخ دمشق، 1: 162
2۔ حسام الدین ھندي، کنز العمال، 11: 588، رقم: 32056

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں اپنے حبیب مکر م ﷺ کی خبر دی پھر وہ انبیاء علیھم السلام کی بعض پر بعض کی فضیلتوں کا مشاہدہ کرتے رہے پھر انہوں نے اپنے نیچے ایک نور پھیلا ہوا دیکھا توعرض کیا: مولا! یہ کون ہے؟ باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یہ آپ کا بیٹا احمد ہے یہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور سب سے پہلے اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ایک روایت میں ہے سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہے۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں مذکور حضور نبی اکرم ﷺ کے اسمائے گرامی - الخاتم، الحاشر، العاقب، المقفی اور الاٰخر - آپ ﷺ کی ختم نبوت پر دلالت کر رہے ہیں۔ ان اسماے مبارکہ میں سے الخاتم اور الاٰخر کے معانی واضح ہیں اور الحاشر کے معنی ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد انعقادِ محشر ہوگا، درمیان میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ عاقب کے معنی بھی یہی ہیں کہ جو سب سے آخری ہیں اور ان کے بعد کوئی نہیں المقفّٰی کے معنی بھی آخری ہیں۔

امام نووی المقفیّ کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَأَمَّا الْمُقَفّٰی فَقَالَ شِمْرٌ: ھُوَ بِمَعْنَی الْعَاقِبِ۔

نووی، شرح صحیح مسلم، 15: 106

’’مقفی کا معنی شمر نے العاقب بیان کیا ہے۔‘‘

امام ابن عبد البر المقفي کا معنی بیان کرتے ہیں:

قِيْلَ لِنَبِّيْنَا: الْمُقَفّٰی، لِأَنَّهٗ اٰخِرُ الْأَنْبِیَاء۔

ابن عبد البر، التمہید، 19: 45

’’ہمارے نبی مکرم ﷺ کو المقفّٰی کہا گیا کیونکہ آپ ﷺ سلسلہ ٔ انبیاء کے آخری فرد ہیں۔‘‘

قِيْلَ فِي أَسْمَاءِ النَّبِيِّ ﷺ : الْمُقَفّٰی، لِأَنَّهُ اٰخِرُ الْأَنْبِیَاءِ۔

ابن عبد البرِ، الاستذکار، 2: 375

’’المقفّی حضور نبی اکرم کے اسمائے گرامی میں سے ہے کیونکہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے آخر پر ہیں۔‘‘

تخلیق آدم علیہ السلام سے قبل خاتم النبیین کا خطاب

31۔ عَن الْعِرْباَضِ بْنِ سَارِیَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ۔

أٔحمد بن حنبل، المسند، 4: 128، رقم: 17151

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔‘‘

32۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: إِنِّي عَبْدُ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَإِنَّ آدَمَ علیہ السلام لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 127، 128
2۔ ابن حبان، الصحیح 14: 313، رقم: 6404
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 18: 252، 253، رقم: 629، 630
4۔ حاکم، المستدرک، 2: 656، رقم: 4175
5۔ بیہقي، شعب الإیمان، 2: 134، رقم: 1385
6۔ ابن أبي عاصم، کتاب السنۃ، 1: 179، رقم: 409
7۔ بخاری، التاریخ الکبیر، 6: 68، رقم: 1736

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اس وقت خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی خمیر سے پہلے اپنی مٹی میں تھے۔‘‘

33۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إنِّي عِنْدَ اللهِ مَکْتُوْبٌ بِخَاتِمِ النَّبِيِّيْنَ وَإنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ۔

1۔ ابن حبان، الصحیح، 14: 313، رقم: 6404
2۔ ہیثمي، موارد الظمآن، 1: 512، رقم: 2093
3۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1: 76، رقم: 230

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کا پیکر خاکی ابھی تیار کیا جا رہا تھا۔‘‘

34۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ :لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهٗ رَفَعَ رَأْسَهٗ إِلَی الْعَرْشِ فَقَالَ: أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ أَلَا غَفَرْتَ لِي فَأَوْحَی اللهُ إِلَيْهِ وَمَا مُحَمَّدٌ وَمَنْ مَحَمَّدٌ؟ فَقَالَ: تَبَارَکَ اسْمُکَ لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأَسِي إِلَی عَرْشِکَ فَإِذَا ھُوَ مَکْتُوْبٌ لَا اِلَهَ إِلاَّ اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ فَعَلِمْتُ أَنَّهٗ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمُ عِنْدَکَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ إِسْمَهٗ مَعَ اسْمِکَ فَأَوْحَی اللهُ عزوجل إِلَيْهِ یَا آدَمُ إِنَّهٗ آخِرُ النَّبِيِّيْنَ مِنْ ذُرِّیَتِکَ وَإِنَّ أُمَّتَهٗ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِکَ وَلَوْلاَ ھُ یَا آدَمُ، مَا خَلَقْتُکَ۔

1۔ طبراني، المعجم الصغیر، 2: 182، رقم: 992
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 313، 314، رقم: 6502
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 253

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حضرت آدم علیہ السلام سے (حکمت ومشیت ایزدی کے تحت) خطا سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کرنے لگے: (اے میرے مولا!) میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں، کیا (پھر بھی) تو مجھے معاف نہیں فرمائے گا؟ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ محمد کیا ہیں اور محمد کون ہیں؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے اللہ! تیرا نام بابرکت ہے جب تو نے مجھے خلعتِ تخلیق پہنائی تو میں نے اپنا سر اٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا، وہاں لکھا تھا: لا الٰہ إلا اللہ محمّد رسول اللہ ۔ سو میں نے جان لیا کہ یہ کوئی تیرے نزدیک عظیم قدر و منزلت والی ذات ہی ہے کہ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھ رکھا ہے چنانچہ اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ اے آدم! یہ تیری اولاد میں سے خاتم النبیین ہیں اور اس کی امت تیری اولاد میں سے آخر الامم ہے اور اے آدم ! اگر یہ نہ ہوتا تو میں تجھے خلعتِ تخلیق سے نہ نوازتا۔‘‘

زیرِ نظر احادیث مبارکہ میںحضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی شانِ خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے فرما یا کہ میں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام کی تشکیل عنصری بھی نہ ہوئی تھی۔ وہ روح اور مٹی کے درمیا ن تھے پھر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی عرش معلی پر اسم جلالت کے ساتھ لکھا ہوا دیکھا۔ باری تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے استفسار پر اپنے محبوب اکرم ﷺ کا تعارف کراتے ہوئے آپ ﷺ کو خاتم النبیین کے لقب سے یاد فرمایا۔ یہ احادیث مبارکہ اس بات کا حتمی ثبوت ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ یہ اس وقت سے ہے جب ابھی تاریخ انسانی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا لکھ دیا تھا لهٰذا اگر کوئی اس کے بعد بھی حضور نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی نہ مانے اور خاتم کے معنی میں تحریف کے ذریعے نئے نبی کی آمد کو جائز قرار دے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج اور گروہ کفار میں شامل ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ تخلیق میں اَوّل اور بعثت میں آخر

35۔ عَنْ قَتَادَةَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ إِذَا قَرَأَ {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوْحٍ…}(1) یَقُوْلُ بُدِئَ بِي فِي الْخَيْرِ وَکُنْتُ اٰخِرَھُمْ فِي الْبَعْثِ۔ (2)

(1) الأحزب، 33: 7

(2) 1۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6: 322، رقم: 31762
2۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 7: 80، رقم: 34342
3۔ سیوطي، الدر المنثور، 6: 570

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب یہ آیت - {اور اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور خصوصاً آپ سے اور نوح سے …} - پڑھتے تو فرماتے کہ نبوت کی مجھ سے ابتداء کی گئی اور بعثت میں، میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔‘‘

36۔ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِ اللهِ عزوجل {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوْحٍ}(1) قَالَ: کُنْتُ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ فِي الْخَلْقِ وَاٰخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ۔ (2)

(1) الأحزب، 33: 7

(2) 1۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 4: 411
2۔ طبری، جامع البیان في تفسیر القرآن، 21: 125
3۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 470
4۔ سیوطي، الدر المنثور، 6: 57

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالی کے اس فرمان - {(اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے ان (کی تبلیغِ رسالت کا عہد لیا خصوصاً آپ سے اور نوح سے…} - کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میں خلقت کے لحاظ سے سب سے پہلا اور بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری نبی ہوں سو ان سب سے پہلے (نبوت) کی ابتداء مجھ سے ہی کی گئی۔‘‘

37۔ عَنْ قَتَادَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ: کُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ فِي الْخَلْقِ وَاٰخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ۔

1۔ طبرانی، مسند الشامیین، 4: 34، رقم: 2662
2۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1: 149
3۔ ہندی، کنز العمال، 11: 612، رقم: 32126

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں لوگوں میں تخلیق کے اعتبار سے سب سے اول اوربعثت کے اعتبار سے سب سے آخر پر ہوں۔‘‘

احادیث مذکورہ ختم نبوت کے اس بیان پر مشتمل ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی اور آپ ﷺ کو تمام انبیاء و رسل کے بعد مبعوث کیا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء و رسل اپنی اپنی امت اور قوم کو ہمارے آقا و مولا حضور نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد کی خوشخبری سناتے رہے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے کی تاکید و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ بنی اسماعیل میں تشریف لے آئے۔ احادیث مذکورہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے تصریح فرما دی ہے کہ میری بعثت تما م انبیاء و رُسل کی بعثتوں کے بعد ہوئی ہے، میرے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہو گا۔ حضور ﷺ کے بعد کسی بھی شکل میں ظلی و بروزی، حقیقی و غیر حقیقی، لغوی و مجازی یا تشریعی و غیر تشریعی نبوت وغیرہ کا خود ساختہ قول گھڑنے والا حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد بھی سلسلہ بعثت کو جاری مانتا ہے جو قرآن و سنت کے بے شمار قطعی دلائل کے علاوہ مذکورہ بالا فرامین رسول ﷺ کے بھی خلاف ہے، لهٰذا ایسا شخص بالاتفاق مرتد اور خارج از اسلام ہے۔

جھوٹے مدعیانِ نبوت کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی

38۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِيْبًا مِنْ ثَلاَثِيْنَ کَلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّهٗ رَسُوْلُ اللهِ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3: 1320، رقم: 3413
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الفتن، باب خروج النار، 6: 2605، رقم: 6704
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعہ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی أن یکون المیت من البلائ، 4: 2239، رقم: 157
4۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، 4: 498، رقم: 2218
5۔ ابو داؤد نے ’السنن، کتاب الملاحم، باب في خبر ابن صائد، 4: 121، رقم: 4333‘ میں لَا َتقُوْمُ السَّاعَةَ حَتَّی یَخْرُجَ ثَلاَثُوْنَ دَجََّالُوْنَ کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
6۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 236، رقم: 7227
7۔ أبو یعلی، المسند، 11: 394، رقم: 6511
8۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 27، 28، رقم: 6651

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک وقوع پذیر نہیں ہو گی جب تک تیس کے قریب دجال کذاب نہ پیدا ہو جائیں، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔‘‘

39۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ھُرَيْرَةَ یَقُوْلُ: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَکُوْنُ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ یَأْتُوْنَکُمْ مِنَ الْأَحَادِيْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُکُمْ فَإِيَّاکُمْ وَإِيَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلاَ یَفْتِنُوْنَکُمْ۔

مسلم، الصحیح، مقدمہ، باب النھي عن الروایۃ عن الضعفائ، 1: 12، رقم: 7

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں دجال، کذاب پیدا ہوں گے جو تمہیں اس قسم کی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے پہلے کبھی سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آبا واجداد نے ہی سنی ہوں گی، پس میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ ان سے ہوشیار رہنا! مبادا وہ تمہیں گمراہ کر دیں یا فتنے میں مبتلا کر دیں۔‘‘

40۔ عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهَ ﷺ : سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِي ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنهٗ نَبِيٌّ، وَأَنـَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِي۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، 4:499، رقم: 2219
2۔ أبو داود، السنن، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، 4: 97، رقم: 4252
3۔ ابن ماجہ في السنن، کتاب الفتن، باب ما یکون من الفتن، 2: 130، رقم: 3952
4۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 7:503، رقم: 3565،
5۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4: 496، رقم: 8390
6۔ طبراني، المعجم الأوسط، 9: 200، رقم: 397،
7۔ شیباني، الآحاد والمثاني، 1: 332، رقم: 456
8۔ شیباني، الآحاد و المثاني، 3؛ 24، رقم: 1309
9۔ داني، السنن الواردۃ في الفتن، 4: 861، 863، رقم: 442، 444
10۔ سیوطي، الدر المنثور، 6: 618

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ سن لو! میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

41۔ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: سَیَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِي کَذَّابُوْنَ ثَـلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِیَاء لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4: 496، رقم: 8390
2۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 110، رقم: 6714

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کا دعویٰ ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ سن لو! میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

42۔ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِيْ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِي۔

1۔ ابن حبان، الصحیح، 16: 221، رقم: 7238
2۔ بیہقي، السنن الکبری، 9: 181، رقم: 18398

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ سن لو! میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

43۔ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ﷺ قَالَ: فِي أُمَّتِيکَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَةٌ وَعَشْرُوْنَ مِنْھُمْ أَرْبَعُ نَسْوَةٍ وَإِنِّيْ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 396، رقم: 23406
2۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 4: 179
3۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5: 454، رقم: 8724
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 7: 332
5۔ عسقلاني، فتح الباري، 13: 87

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ستائیس جھوٹے اور دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی سن لو !میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

44۔ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابًا کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّهٗ نَبِيُّ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 503، رقم: 37565

’’حضرت عبید بن عمیر اللیثي رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس جھوٹے پیدا نہ ہو جائیں، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے روز قیامت سے پہلے۔‘‘

45۔ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ: أَکْثَرُ النَّاسِ فِي شَأْنِ مُسَيْلَمَةَ الکَذَّابِ قَبْلَ أَنْ یَقُوْلَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَأَثْنٰی عَلَی اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَکْثَرْتُمْ فِي شَأْنِ هٰذَا الرَّجُلِ وَأَنَّهُ کَذَّابٌ مِّنْ ثَلَاثِيْنَ کَذَّابًا یَخْرُجُوْنَ قَبْلَ الدَّجَّالِ۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 583، 584، رقم: 8624، 8625
2۔ طحاوی، مشکل الآثار، 4: 104

’’حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تک حضور نبی اکرم ﷺ نے مسیلمہ کذّاب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار نہیں فرمایا تھا، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت کچھ کہا، پھر ایک روز حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کے درمیان خطاب کے لیے تشریف فرما ہوئے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شان کے لائق اس کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: یہ شخص جس کے متعلق تم بہت زیادہ گفتگو کر رہے ہو پس بے شک یہ دجال اکبر سے پہلے نکلنے والے تیس کذّابوں میں سے ایک ہے۔‘‘

46۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابًا دَجَّالاً مِّنْهُمْ مُسَيْلَمَةُ وَالْعَنْسِيُّ وَالْمُخْتَارُ وَشَرُّ قَبَائِلِ الْعَرَبِ بَنُوْ أُمَيَّةَ وَبَنُوْ حَنِيْفَةَ وَثَقِيْفٌ۔

أبو یعلی، المسند، 12: 197، رقم: 6820

’’حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضي اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس کذاب دجال نہ نکل آئیں، انہی میں سے مسیلمہ، عنسی، مختار، عرب کے شرپسند قبائل بنو امیہ، بنو حنیفہ اور ثقیف ہیں۔‘‘

47۔ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِي قَلاَبَةَ یَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّهُ سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِي کَذَّابُوْنَ ثَـلاَثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيُّ وَأَنَّا خَاتَمُ الْأَنْبِیَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

داني، السنن الواردۃ فی الفتن، 4: 861، رقم: 442

’’حضرت ابو قلابہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ سن لو! میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے ساتھ بابِ نبوت مسدود ہو چکا اس لیے اب کسی شخص کے منصبِ نبوت پر متمکن کیے جانے کی کوئی گنجائش نہ رہی چنانچہ اب اگر کوئی شخص نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے تو حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ دجال، کذاب اور جھوٹا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف حینِ حیات جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں پیشگی اطلاع دے دی بلکہ آپ ﷺ نے تو ان کی تعداد کا تعین بھی فرما دیا۔ ان احادیثِ مبارکہ میں صاحبِ قرآن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد جھوٹے مدعیانِ نبوت کی خبر دیتے ہوئے واضح فرما دیا کہ خاتم النبیین کا معنیٰ نہ تو مہر ہے اور نہ ہی انگوٹھی بلکہ اس کا معنیٰ آخری نبی ہے۔ خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ذریعے فرما دی جس میں لا، نفی جنس کا ہے جو جنسِ نبوت کی نفی کر رہا ہے اس سے مرزا صاحب کی تمام اقسامِ نبوت کی نفی ہو گئی خواہ وہ ظلی ہو یا بروزی، تشریعی و غیر تشریعی ہو یا لغوی و مجازی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح الفاظ میں اعلان فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور یہ کہ ختم نبوت کا تاج صرف میرے سر پر رکھا گیا ہے۔ میرے بعد جو کوئی بھی نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب اور دجال ہو گا۔

ان احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے تین طریقوں سے اپنی شانِ ختم نبوت کو بیان فرمایا ہے۔

1۔ جھوٹے مدعیان نبوت کی خبر دے کر یہ اعلان فرما دیا کہ سلسلہ نبوت میری ذات پر ختم ہو چکا، لهٰذا آئندہ جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا اس کا شمار ان جھوٹوں میں ہوگا۔

2۔ لا نفی جنس کے ذریعے اپنے بعد جنسِ نبوت کی نفی فرما دی

3۔ خود کو خاتم النبیین یعنی تمام نبیوں کی آمد کو ختم کرنے والا فرمایا۔

جگر گوشۂ مصطفی ﷺ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات دلیلِ ختم نبوت ہے

48۔ عَنْ إِسْمَاعِيْلَ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ أَبِيْ أَوْفٰی: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيْمَ ابْنَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَاتَ صَغِيْرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهٗ، وَلٰـکِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهٗ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأدب، باب من سمی بأسماء الأنبیائ، 5: 2289، رقم: 5841
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب ما جاء في الجنائز، باب ما جاء في الصلاۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ وذکر وفاتہ، 1: 484، رقم: 1510

’’اسماعیل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی وفات پا گئے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے تو آپ ﷺ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر صراحتاً دلالت کر رہی ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی شرح ہم گذشتہ باب میں بیان کر چکے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت نہیں بلکہ مبشرات ہیں

49۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔ قَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ۔

بخاري، الصحیح، کتاب التعبیر، باب مبشرات، 6: 2564، رقم: 6589

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: نبوت کا کوئی جزو سوائے مبشرات کے باقی نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیک خواب۔‘‘

50۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ یَقُوْلُ: الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مَنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْئًا مِنَ الْنَّبُوَّةِ۔

بخاري، الصحیح، کتاب التعبیر، باب الرویا الصالحۃ جزء من ستۃ وأربعین جزئا من النبوۃ، 6: 2564، رقم: 6588

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘

51۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: کَشَفَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ السِّتَارَةَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوْبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ والنَّاسُ صُفُوْفٌ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ: اَیُّهَا النَّاسُ، اِنَّهُ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ یَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَی لَهُ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن قرائۃ القرآن في الرکوع والسجود، 1: 348، رقم: 479
2۔ ابن حبان، الصحیح، 13: 410، رقم: 6045

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (مرضِ وصال میں) حجرہ کا پردہ اٹھایا، اس وقت صحابہ کرام حضرت ابو بکر کی اقتداء میں صف باندھے کھڑے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! بشارات نبوت میں سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں جنہیں ایک مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور شخص دیکھتا ہے۔‘‘

52۔ عَنْ أَنَسِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَـلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ قَالَ: فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: لٰـکِنِ الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِ وَهِيَ جَزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ۔

1۔ ترمذيِ، الجامع الصحیح، کتاب الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات، 4: 533، رقم: 2272
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4: 433، رقم: 8178
3۔ أٔحمد بن حنبل، المسند، 3: 267، رقم: 13851
4۔ مقدسي، الأحادیث المختارۃ، 7: 206، رقم: 2645

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امامت و نبوت ختم ہو گئی پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی کوئی نبی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے لیے باعثِ رنج ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن بشارتیں (باقی ہیں)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے۔‘‘

53۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ یَقُوْلُ: هَلْ رَاٰی أَحَدٌ مِنْکُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْیَا وَیَقُوْلُ: إِنَّهٗ لَيْسَ یَبْقٰی بَعْدِي مِنَ النَّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء فی الرؤیا، 4: 304، رقم: 5017
2۔ مالک، الموطأ، 2: 956، رقم: 1714
3۔ نسائي، السنن الکبری، 4: 382، رقم: 7621
4۔ ابن حبان، الصحیح، 13: 412، رقم: 6048
5۔ ربیع، المسند، 1: 39، رقم: 50

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز ادا فرما لیتے تو آپ ﷺ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) دریافت فرماتے: کیا تم میں سے رات کو کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: بے شک میرے بعد نبوت میں سے سوائے نیک خواب کے کچھ نہیں بچا۔‘‘

54۔ عَنْ اُمِّ کُرْزٍ الْکَعْبِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: ذَھَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب تعبیر الرّؤیا، باب رؤیۃ النبي ﷺ في المنام، 2: 1283، رقم: 3896
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 381، رقم: 27185
3۔ دارمي، السنن، 2: 166، رقم: 2138
4۔ ابن حبان، الصحیح، 13: 411، الرقم: 6024
5۔ حمیدي، المسند، 1: 168، رقم: 348

’’حضرت ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے: نبوت ختم ہوگئی صرف مبشرات باقی رہ گئے۔‘‘

55۔ عَنْ أَبِيْ الطُّفَيْلِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتِ قَالَ: قِيْلَ: وَمَا المُبَشِّرَاتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: الرُّؤْیَا الْحَسَنَةُ أَوْ قَالَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 454، رقم: 23846
2۔ سعید بن منصور، السنن، 5: 321، رقم: 1068
3۔ مقدسي، الأحادیث المختارۃ، 8: 223، رقم: 264
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 7: 173

’’حضرت ابو طفیل راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد نبوت باقی نہیں رہے گی مگر مبشرات۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے خواب؛ یا فرمایا: نیک خواب۔‘‘

56۔ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لاَ یَبْقٰی بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْئٌ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: الرَّؤْیَا الصَّالِحَةُ یَرَاھَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَی لَهُ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 129، رقم: 25021
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 7: 172
3۔ خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 11: 140
4۔ خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 14: 188

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد نبوت کی کوئی چیز باقی نہیں بچے گی سوائے مبشرات کے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیک خواب، جنہیں انسان دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔‘‘

57۔ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَنْ یَبْقٰی بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ، فَقَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: الرَّؤْیَا الصَّالِحَةُ یَرَاھَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ جَزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْءً ا مِنَ النُّبُوَّةِ۔

1۔ مالک، الموطأ، کتاب الجامع، باب ما جاء في الرؤیا، 2: 957، رقم: 1506
2۔ ابن عبد البر، التمھید، 5: 55

’’حضرت عطا بن یسار سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز نہیں بچے گی سوائے مبشرات کے، پس صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیک خواب جنہیں نیک شخص دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔‘‘

58۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ: الرَّؤْیَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجَلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْءً ا مِنَ النُّبُوَّةِ۔

مالک، الموطأ، کتاب الجامع، باب ما جاء في الرؤیا، 2: 957، رقم: 1506

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نیک شخص کے نیک خواب نبوت کے چھیالیس (46) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘

59۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْأً مِّنَ النُّبُوَّةِ۔

ابن أبي شیبۃ، 6: 173، رقم: 30450

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘

60۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْءً ا مِّنَ النُّبُوَّةِ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 173، رقم: 30453

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمان کے خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہے۔‘‘

61۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: الرَّؤْیَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِيْنَ جُزْءً مِّنَ النُّبُوَّةِ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 173، رقم: 30455

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نیک خواب نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک ہے۔‘‘

62۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ : إِنَّ النُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ وَالرِّسَالَةَ فَخَرَجَ النَّاسُ فَقَالَ: مُبَشِّرَاتٌ وَهِيَ جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 173، رقم: 30457

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ پس لوگ (پریشانی کے عالم میں) باہر نکل آئے تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مبشرات باقی ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔‘‘

63۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ النَّبُوَّةَ وَالرِّسَالَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَجَزَعَ النَّاسُ قَالَ: قَدْ بَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ وَهِيَ جُزْءٌ مِّنَ النُّبُوَّةِ۔

1۔ أبو یعلي، المسند، 7: 38، رقم: 3947
2۔ ابن حزم، المحلی، 1: 9

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ پس لوگ خوفزدہ ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: مبشرات (خوش خبریاں) باقی ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔‘‘

64۔ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ یَقُوْلُ: هَلْ رَاٰی أَحَدٌ مِّنْکُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْیَا؟ أَلاَ إِنَّهٗ لَا یَبْقٰی بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرَّؤْیَا الصَّالِحَةُ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4: 432، رقم: 8176

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات خواب دیکھا ہے؟ خبردار! میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچے گی مگر نیک خواب۔‘‘

65۔ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : ذَھَبَتِ النُّبُوَّةُ فَـلَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ رُؤْیَا الْمُؤْمِنِ یَرَاھَا أَوْ تُرَی لَهُ۔

مقدسي، الأحادیث المختارۃ، 8: 222، 223، رقم: 262، 263

’’حضرت ابو طفیل سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبوت ختم ہو گئی، اب میرے بعد نبوت باقی نہیں رہی مگر مبشرات یعنی مومن کے (اچھے) خواب جو وہ دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔‘‘

66۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا رُؤْیَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَهُوَ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِيْنَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّةِ۔

إسحاق بن راھویہ، المسند، 1: 276، رقم: 249

’’حضرت ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: (میرے بعد) نبوت میں سے صرف نیک شخص کے خواب بچیں گے اور وہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہوں گے۔‘‘

67۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ : ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَلاَ نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتِ الرُّؤْیَا یَرَاھَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَی لَهٗ۔

دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 2: 247، رقم: 3162

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبوت چلی گئی، پس میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے مگر مبشرات، وہ خوابیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائی جاتی ہیں۔‘‘

68۔ عَنْ حُذْيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَـلَا نُبُوَّةَ بَعْدِيِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ۔ قِيْلَ: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: الرُّؤْیَا الصَّالِحَةُ یَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَی لَهُ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 179، رقم: 3051
2۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، 7: 173

’’حضرت حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبوت ختم ہو گئی، پس میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے مگر مبشرات۔ عرض کیا گیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیک خواب جنہیں بندہ دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔‘‘

69۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَشَفَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ السِّتْرَ وَالنَّاسُ صُفُوْفٌ خَلْفَ أَبِيْ بَکْرٍ فَقَالَ: إِنَّهٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْیَا الصَّالَحِةُ یَرَاھَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَی لَهُ۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 173، رقم: 30456

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے پردہ ہٹایا درآنحالیکہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے تھے، پس آپ ﷺ نے فرمایا: نبوت کی خوشخبریوں میں سے سوائے نیک خوابوں کے کوئی چیز نہیں بچی، وہ نیک خواب جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائی جاتے ہیں۔‘‘

70۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَفَعَ السِّتْرَ وَأَبُوْ بَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّهٗ لَمْ یَبْقَ بَعْدِي مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ۔

1۔ أبو عوانۃ، المسند، 1: 490، 491، رقم: 1824
2۔ أبو عوانۃ، المسند، 2: 171

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے پردہ اٹھایا درآنحالیکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کروا رہے تھے، پس آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (تیرا دین لوگوں تک) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا؟ اے لوگو! میرے بعد نبوت کی خوش خبریوں میں سے کوئی چیز نہیں باقی نہیں رہی۔‘‘

مذکورہ بالا فرموداتِ رسول ﷺ سے ثابت ہوا کہ اجرائے نبوت کے نظام کا خاتمہ بالخیر ہو چکا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے خود فرما دیا کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے، صرف مبشرات سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، اب اگر کوئی شخص دعویٰ نبوت کرتا ہے تو یہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ اس کی نبوت اجرائے نبوت کے الٰہی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ خود ساختہ اور من گھڑت ہے نیز یہ کہ کسی کے نبوت کا دعویٰ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کا حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات پر اعتماد و ایمان نہیں ہے لهٰذا جو شخص بھی اس ارشادِ مصطفی ﷺ پر اعتماد و ایمان نہیں رکھتا، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور کافر و کذاب کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔

’’میں خاتم النبیین ہوں‘‘

71۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَهُ وَقَالَ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَأَبْنَاء الْعَبَّاسِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْعَبَّاسِ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 6: 205، رقم: 6020
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 269

’’حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں خاتم النبیین ہوں پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ ! تو عباس، عباس کے بیٹوں اور عباس کے پوتوں کی مغفرت فرما۔‘‘

اس حدیث مبارکہ میں ’خاتم النبیین‘ کے صریح الفاظ حضور نبی اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔

’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘

72۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو یَقُوْلُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِيْ أُوْ تِيْتُ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ وَعَلِمْتُ کَمْ خَزَنَةُ النَّارِ وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ وَتُجَوَّزُ بِي وَعُوْفِیَتْ أُمَّتِي فَاسْمَعُوْا وَأَطِيْعُوْا مَا دُمْتُ فِيْکُمْ فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْکُمْ بِکِتَابِ اللهِ أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوْا حَرَامَهُ۔

أحمد بن حنبل، المسند، 2: 172، رقم: 6606

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:ایک دن حضور نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس اس طرح تشریف لائے جیسے کوئی الوداع ہونے والا لاتا ہے۔ پس آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں محمد نبی امّی ہوں۔ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے کلمات کا آغاز اختتام اور ان کی جامعیت عطا کی گئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ دوزخ کے فرشتے کتنے ہیں اور عرش اٹھانے والے فرشتے کتنے ہیں اور میری امت سے میری وجہ سے درگزر کیا گیا اور معافی دے دی گئی ہے۔ پس میرے ارشادات سنو اور اطاعت کرو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں پس جب مجھے اس دنیا سے لے جایا جائے تو تم کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم کرلو اور اس کے حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو۔‘‘

اس حدیث مبارکہ میں ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ کے الفاظ حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا واضح ثبوت ہیں۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

قادیانی حضرات احادیث میں منقول الفاظ لا نبی بعدی پر نکتۂ اعتراض بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ کا قول ہے:

قولوا: خاتم النبیین؛ ولا تقولوا: لا نبی بعدی۔

1۔ إبن أبی شیبۃ، المصنف، 5: 336، رقم: 26653
2۔ سیوطی، الدر المنثور، 6: 618

’’تم کہو: خاتم النبیین۔ اور یہ نہ کہو: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

یعنی ان کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے اور سلسلۂ نبوت ابھی ختم نہیں ہوا۔

قادیانیوں کے اس استدلال کی عمارت اس وقت زمین بوس ہو جاتی جب ہم اسی کتاب میں منقول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے قول سے متصل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا قول دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے لانبی بعدی کہا تو حضرت مغیرہ نے یہ الفاظ کہے:

حسبک إذا قلت: خاتم الأنبیاء۔ فإنا کنا نحدث أن عیسٰی علیہ السلام خارج، فإن ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ۔

1۔ إبن أبی شیبۃ، المصنف، 5: 336، رقم: 26653
2۔ سیوطی، الدر المنثور، 6: 618

’’تمہارا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے۔ یعنی لا نبی بعدی کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی تشریف لائیں گے سو جب وہ تشریف لے آئیں گے تو وہ آپ سے پہلے اور بعد کے نبی ہوں گے۔‘‘

چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے اس قول میں اس اندیشے کا ازالہ کیا گیا ہے کہ کل کلاں کوئی شخص لا نبی بعدی کی روایت کی آڑ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا انکار نہ کر دے، جیسا کہ قادیانی اس کے منکر ہیں۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کو نہیں مانتے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نبی نہ ہونے سے استدلال

73۔ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ لَوْ کَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه۔

1۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب في مناقب عمر بن الخطابص، 5: 619، رقم: 3686
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 92، رقم: 4495
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 17: 298، رقم: 822
4۔ رویاني، المسند، 1: 174، رقم: 223
5۔ طبراني نے ’المعجم الکبیر (17: 180، رقم: 475)‘ میں حضرت عصمہ سے الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ روایت کی ہے۔
6۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 68
7۔ أحمد بن حنبل کی ’المسند (4: 154، رقم: 17441)‘ میں مِنْ بَعْدِي نَبِيٌّ کے الفاظ ہیں۔

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: اگر میرے بعد کو ئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔‘‘

74۔ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لَقَدْ کَانَ فِيْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ مَحَدَّثُوْنَ فَإِنْ یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ زَادَ زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنھما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : لَقَدْ کَانَ فِيْمَنْ کَانَ

قَبْلَکُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ رِجَالٌ یُکَلَّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّکُوْنُوْا أَنْبِیَاء، فَإِنْ يَّکُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضي الله عنه، 3: 1349، رقم: 3486
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب أم حسبت أن أصحاب الکھف والرقیم، 3: 1279، رقم: 3282

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام فرمایا جاتا تھا حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر ان میں سے میری اُمت کے اندر بھی کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔‘‘

اس حدیث سے ملتے جلتے الفاظ کتبِ حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، (2) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا (3) اوردیگر رُواۃ سے بھی مروی ہیں۔

(2) ابن أبي شبیۃ، المصنف، 6: 354، رقم: 31972

(3) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عمرص، 4: 1864، رقم: 2398
2۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب في مناقب عمر بن الخطاب ص، 5: 622، رقم: 3693
3۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 317، رقم: 6894
4۔ حاکم، المستدرک، 3: 92، رقم: 4499
5۔ نسائي، السنن الکبری، 5: 39، رقم: 8119
6۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 55، رقم: 24330
7۔ ابن راھویہ، المسند، 2: 479، رقم: 1051
8۔ ابن أبي عاصم، السنۃ: 2: 583
9۔ طبراني، المعجم الأوسط، 9: 61، رقم: 37
10۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، 2: 335
11۔ ابن جوزی، صفۃ الصفوۃ، 1: 277
12۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 44: 95

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا بھی بیان ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کی شخصی فضیلت اور خصوصیات کے پیش نظر ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن ہوتا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔ چونکہ آپ ﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم ہو چکا تھا اور آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا محال اور ممتنع تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے اُن کے لیے منصبِ نبوت کے امکان کی نفی فرماتے ہوئے ’’محدَّثیت‘‘کے رتبہ کا اعلان فرمایا اور اپنی اُمت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی اور کے محدَّث ہونے کی بھی نفی فرما دی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو منصبِ نبوت نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ مثلِ ہارون علیہ السلام ہونے کے باوجود نبی نہ ہوئے

75۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْکَ۔ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ! أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاء وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ ھٰرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَ ھَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک وھی غزوۃ العسرۃ، 4: 1602، رقم: 4154
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب، 4: 1870، رقم: 2404
3۔ ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب، 5: 638، رقم: 3724
4۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب فضل علي بن أبي طالب، 1: 42، 45، رقم: 115، 121
5۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 370، رقم: 6927
6۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 185، رقم: 1608
7۔ بیھقي، السنن الکبری، 9: 40
8۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 424، رقم: 37008
9۔ طبراني، المعجم الکبیر، 1: 146، 148، رقم: 334

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے غزوۂ تبوک کے مو قع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (بطور نیاز مندانہ شکایت کے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیاآپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے (اُن کو تسلی کے لیے) فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی (یعنی جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے پاس اپنا نائب بنا کر چھوڑ گئے تھے اسی طرح سے تم اس وقت میرے نائب ہو) البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا (اس لیے تمہارا مرتبہ اگرچہ ہارون علیہ السلام کا سا ہے مگر تمہیں نبوت حاصل نہیں)۔‘‘

76۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيْهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَآء وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب ص، 4: 1871، رقم: 2404
2۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب ص، 5: 638، رقم: 3724
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 185، رقم: 1608

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب آپ ﷺ نے ایک غزوہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

77۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلاَّ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

1۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب ص، 2: 640، رقم: 3730
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 247، رقم: 2035

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی۔ (فرق یہ ہے کہ وہ دونوں نبی تھے) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

78۔ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ مِثْلَهُ۔

ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب ص، 5: 641، رقم: 3731

’’حضرت سعید بن مسیب سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے‘‘

79۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي اللہ عنھا مِثْلَهُ۔

ابن حبان، الصحیح، 15: 15، رقم: 6643

’’حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے اِسی کی مثل حدیث مروی ہے۔‘‘

80۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَایَةٍ طَوِيْلَةٍ وَمِنْهَا عَنْهُ قَالَ: وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوْکَ۔ قَالَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ: لَا فَبَکٰی عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هٰرُوْنَ مِنْ مُوسٰی؟ إِلَّا أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ۔ إِنَّهُ لَا یَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيْفَتِي۔

أحمد بن حنبل، المسند، 1: 330، رقم: 3062

’’حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: کیا میں بھی آپ صلی اللہ علیک وسلم کے ساتھ چلوں؟ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیںاس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ رو پڑے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے ؟ مگر یہ کہ تو نبی نہیں۔ تجھے اپنا نائب بنائے بغیر میرا کوچ کرنا مناسب نہیں۔‘‘

81۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ یُخَلِّفَ عَلِیًّا رضي الله عنه قَالَ: قَالَ لَهُ عَلِیٌّ: مَا یَقُوْلُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ: فَقَالَ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْلَا یَکُوْنُ بَعْدِيْ نَبِيٌّ۔

(1) أحمد بن حنبل، المسند، 3: 338، رقم: 14679

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (غزوہ تبوک کے موقع پر) پیچھے چھوڑنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے عرض گزار ہوئے: (یا رسول اللہ!) اگر آپ مجھے پیچھے چھوڑ گئے تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تیرا مجھ سے وہی مقام و مرتبہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یا فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

82۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔

1۔ أبو یعلی، المسند، 2: 99، رقم: 755
2۔ أحمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 2: 633، رقم: 1079

’’حضرت عامر بن سعد رضي اللہ عنھما اپنے والد حضرت سعد علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرا مجھ سے وہی مقام و مرتبہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

83۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي کَمَا هَارُوْنُ مِنْ مُوْسَی غَيْرَ أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ۔

طبراني، المعجم الکبیر، 23: 377، رقم: 892

’’حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا مجھ سے وہی مقام و مرتبہ ہو جیسا حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

84۔ عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ … أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 367، رقم: 3294

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا مجھ سے وہی مقام و مرتبہ ہو جیسا حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

85۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوْکَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ مَعَهُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيٌّ ﷺ : لَا۔ فَبَکٰی عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 143، رقم: 4652

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے جانے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے: (یا رسول اللہ!) میں بھی آپ کے ساتھ چلوں؟ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ رو پڑے، تو حضور نبی اکرم ﷺ نے اُنہیں فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا مقام و مرتبہ بھی مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

86۔ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ أَبِيْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوْکَ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

بزار، المسند، 4: 38، رقم: 1200

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک کے موقع پر فرمایا: کیا تو اس بات پر مجھ سے راضی نہیں کہ تیرا مقام و مرتبہ بھی مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

87۔ عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: وُجِعْتُ وَجْعًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَأَقَامَنِي فِي مکَانِهِ وَقَامَ یُصَلِّي وَأَلْقٰی عَلَيَّ طَرَفَ ثَوْبِهِ ثُمَّ قَالَ: بَرَأْتَ یَا ابْنَ أَبِيْ طَالِبٍ لَا بَأْسَ عَلَيْکَ مَا سَأَلْتُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُ لَکَ مِثْلَهُ وَلَا سَأَلْتُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيْهِ غَيْرَ أَنَّهٗ قِيْلَ لِي إِنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدَکَ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 8: 47، رقم: 7917
2۔ نسائي، السنن الکبری، 5: 151، رقم: 8533
3۔ ابن أبي عاصم، السنۃ، 2: 596، رقم: 1313
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 110

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں شدتِ درد میں مبتلا تھا، پس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود نماز پڑھنے میں مشغول ہوگئے جبکہ میرے اُوپر اپنے کپڑے کا ایک کنارہ ڈال دیا پھر فرمایا: اے ابن ابی طالب! تو تندرست ہوگیا، اب تجھے کچھ بھی نہیں ہے۔ (اے علی!) میں نے اللہ تعالیٰ سے (اپنے لیے) کوئی چیز نہیں مانگی مگر یہ کہ وہی چیز تمہارے لیے بھی مانگی ہے، اور میں نے جب بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مانگی ہے اس نے مجھے عطا کی ہے، سوائے اس کے کہ مجھے کہا گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

88۔ عَنْ عَلِيٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: خَلَّفْتُکَ أَنْ َتکُوْنَ خَلِيْفَتِي قَالَ: أَتُخَلِّفُ عَنْکَ یَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: أَلَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 110

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں پیچھے اِس لیے چھوڑا تاکہ تو میرا نائب ہو جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تیرا مجھ سے وہی مقام و مرتبہ ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

89۔ عَنْ أَبِي أَیُّوْبَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ: اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 111

’’حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: تو مجھ سے ایسے ہی ہے جیسا موسیٰ علیہ السلام سے ہارون علیہ السلام تھے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

90۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِأُمِّ سَلَمَةَ: هٰذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِيْ طَالِبٍ لَحْمُهُ لَحْمِي وَدَمُهٗ دَمِي فَهُوَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 111

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنھا کو فرمایا: یہ علی بن ابی طالب ہے، اس کا گوشت میرا گوشت، اور اس کا خون میرا خون ہے، اور یہ مجھ سے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام سے تھے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

91۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا آخَی النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ فَلَمْ یُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ خَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا حَتّٰی أَتٰی جَدْوَلًا فَتَوَسَّدَ ذِرَاعَهُ فَسَفَتْ عَلَيْهِ الرِّيْحُ فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ ﷺ حَتّٰی وَجَدَهُ فَوَکَزَهٗ بِرِجْلِهٖ فَقَالَ لَهُ: قُمْ فَمَا صَلَحْتَ أَنْ تَکُوْنَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِيْنَ أَخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُوَاخِ بَيْنَکَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 11: 75، رقم: 11092
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 8: 40، رقم: 7894
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 111

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے مہاجر و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کے درمیان بھائی چارہ قائم نہ کیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں باہر نکلے اور ایک چھوٹی نہر کے کنارے اپنے بازو کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے۔ ایسے میں ہوا نے آپ پر گرد و غبار ڈال دیا، حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش فرمایا یہاں تک کہ انہیں پالیا۔ آپ نے ان کو اپنے پاؤں مبارک سے ہلا کر فرمایا: کھڑے ہوجاؤ، تو ابو تراب ہونے کے ہی لائق ہے، کیا تو مجھ سے ناراض ہوگیا جس وقت میں نے مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، اور تیرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں کیا۔ کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا مقام و مرتبہ مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

92۔ عَنْ أَسْمَاء بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔

1۔ نسائي، السنن الکبری، 5: 125، رقم: 8448
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 438، رقم: 7507
3۔ أحمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 2: 598، رقم: 1020
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 109
5۔ مزي، تہذیب الکمال، 35: 263
6۔ ذہبي، سیر أعلام النبلائ، 7: 362
7۔ ہیثمي نے ’مجمع الزوائد (9: 110)‘ میں اسی مضمون کی حدیث حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

’’حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرا مجھ سے مقام و مرتبہ وہی ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

93۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لَعِلِيٍّ حِيْنَ أَرَادَ أَنْ یَغْزُوَ: إِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُقِيْمَ أَوْ تُقِيْمَ فَخَلَّفَهُ فَقَالَ نَاسٌ: مَا خَلَّفَهُ إِلَّا شَيْئٌ کَرِهَهُ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَلِیًّا فَأَتٰی رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَخْبَرَهُ فَتَضَاحَکَ ثُمَّ قَالَ: یَا عَلِيُّ، أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی إِلَّا أَنَّهٗ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي۔

(1) ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 111

’’حضرت براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے جب غزوہ پر جانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ضروری ہے کہ میں رکوں یا تم رکو، پس آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا، لوگوں نے کہا: حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی ناخوشگوار چیز کی وجہ سے پیچھے چھوڑا ہے۔ پس جب یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہیں واقعہ سے آگاہ کیا، یہ سن کر حضور نبی اکرم ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا: اے علی! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا مقام و مرتبہ مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

94۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَعِلِيٍّ: أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی غَيْرَ أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَلَا وَرَاثَةَ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 2: 126، رقم: 1465
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 110

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا مقام و مرتبہ مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد نہ تو نبوت ہے اور نہ ہی میرا کوئی وارث ہے۔‘‘

یہ حدیث بے شمار کتبِ حدیث میں متعدد طرق سے مروی ہے اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان کا درجہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے نزدیک اس درجے کے مماثل قرار دیا ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔ صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب بنا کر بنی اسرائیل کی طرف چھوڑ گئے اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ ایک غزوہ پر تشریف لے جاتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اہلِ مدینہ کی طرف نائب بنا کر چھوڑ گئے۔ چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام ایک نبی تھے اس لیے کسی کے ذہن میں یہ خیال آسکتا تھا کہ شاید حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی ہوں۔ اس مغالطہ کے ازالہ کے لیے آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ایک نبی کے درجہ کے برابر درجہ رکھنے کے باوجود نبی نہیں کیونکہ نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

ان احادیث مبارکہ سے یہ نکتہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام مستقل نبی نہ تھے، ان کی نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی اتباع میں تھی، جس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کو حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی اتباع میں نبی بنانا مقصود ہوتا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بنایا جاتا نہ کہ صدیوں بعد آنے والے کسی شخص کو۔ ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آقائے نامدار حضور رحمت عالم ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم المرتبت ہستی منصبِ نبوت پر فائز نہیں ہو سکتی تو کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے۔

حضور ﷺ کی رِسالتِ عامّہ سے ختمِ نبوت پر اِستدلال

95۔ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلٰی النَّاسِ عَامَّةً۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب التیمم، باب قول اللہ تعالٰی: فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا، 1: 128: رقم: 328
2۔ ابن حبان، الصحیح، 14: 308، رقم: 6398
3۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 303، رقم: 31642
4۔ بیہقي، السنن الکبریٰ، 2: 433، رقم: 4062

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا جب کہ مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘

96۔ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَال: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : کَانَ النَّبِيُّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الصّلاۃ، بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ جعلت لي الأرض مسجدا وطہورا، 1: 168، رقم: 427
2۔ نسائی، السنن، کتاب الغسل والتیمم، باب التیمم بالصعید، 1: 210، رقم: 432
3۔ دارمي، السنن، 4: 217، رقم: 240

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا جب کہ مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے۔‘‘

97۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 301، رقم: 4586
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 8: 239، رقم: 7931

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سرخ اور سیاہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

98۔ عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَأُرْسِلْتُ إِلَی النَّاسِ کُلِّهِمْ عَامَّةً وَکَانَ مِنْ قَبْلِيْ إِنَّمَا یُرْسَلُ إِلَی قَوْمِهِ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 222، رقم: 7068
2۔ أبوالمحاسن یوسف بن موسیٰ، معتصر المختصر، 1: 16
3۔ منذري، الترغیب والترغیب، 4: 233، رقم: 5498
4۔ ہندی، کنزالعمال، 11: 439، رقم: 31885

’’حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمام لوگوں کی طرف عمومی طور پر رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ سے قبل رسول کو اس کی قوم کی طرف ہی مبعوث کیا جاتا تھا۔‘‘

99۔ عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَبْیَضَ وَأَسْوَدَ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8: 239، رقم: 7931
2۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 8: 259
3۔ ہندی، کنز العمال، 11: 440

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ہر سفید اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

100۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنِّي بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً أَحْمَرِھِمْ وَأَسْوَدِھِمْ۔

طحاوي، مشکل الآثار، 4: 210، رقم: 1436، 10: 46، رقم: 3849

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سرخ اور سیاہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

101۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا کَانَ یُبْعَثُ کُلُّ نَبِيٍّ إِلَی قَرْیَتِهِ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 12: 413، رقم: 13522
2۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 8: 259

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سرخ اور سیاہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور (مجھ سے پہلے) ہر نبی محض اپنی بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا۔‘‘

102۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ فِي حَدِيْثِ الْإِسْرَاء فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: أَرْسَلْتُکَ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً۔

ھیثمی، مجمع الزوائد، 1: 71

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثِ اسراء میں بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے آپ کے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میں نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

103۔ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَرْسِلْتُ إِلَی الْأَبْیَضِ وَالْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ۔

1۔ لالکائي، إعتقاد أھل السنۃ، 4: 785، رقم: 1448
2۔ ہندی، کنز العمال، 11: 438، رقم: 32060

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سفید، سیاہ اور سرخ (تمام انسانوں) کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘

104۔ عَنْ زَمْلِ بْنِ عَمْرٍو الْعُذْرِيِّ عَنْ اٰبَائِهِ یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ إِنِّي رَسُوْلُ اللهِ إِلَی الْأَنَامِ کَافَّةً۔

ہندی، کنزالعمال، 1: 127، رقم: 358

’’حضرت زمل بن عمر العذری اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے گروہ عرب! میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنایا گیا ہوں۔‘‘

105۔ عَنِ الْحَسَنِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنَا رَسُوْلُ مَنْ أَدْرَکْتُ حَیًّا وَمَنْ یُّوْلَدُ بَعْدِي۔

1۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1: 101
2۔ ہندی، کنز العمال، 11: 404، رقم: 31885

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں (ہر اس شخص کا) رسول ہوں جسے زندہ پاؤں گا اور جو میرے بعد پیدا ہوگا۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے واضح ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ تمام کائنات کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کوئی زمانہ اور قیامت تک پیدا ہونے والا کوئی انسان آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے دائرہ سے باہر نہیں۔ قیامت تک آپِ ﷺ ہی کی نبوت و رسالت قائم ہے۔ آپ ﷺ کی رسالت عامہ اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

تمام جہانوں کے لیے رحمت ہونے سے اِستدلال

106۔ عَنْ أَبِی أُمَامَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ اللهَ عزوجل بَعَثَنِي رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ وَهُدًی لِّلْعَالَمِيْنَ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 268، رقم: 22361
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 437، رقم: 23757
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 7: 217، رقم: 7708
4۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 5: 69
5۔ ہندی، کنز العمال، 11: 444، رقم: 3289

’’حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔‘‘

107۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ صقَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلٰی أَصْحَابِهِ، فَقَال: إِنَّ اللهَ عزوجل بَعَثَنِي رَحْمَةً لِّلنَّاسِ کَافَّةً۔

 1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 20: 8، رقم: 12
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 5: 305
3۔ ہندی، کنز العمال، 10: 634، رقم: 30335

’’حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کرام کے پاس تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

108۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِيَ اللهُ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ۔

طبراني، المعجم الکبیر، 6: 259، رقم: 6156

’’حضرت عمرو بن ابی قرہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

مذکور ہ بالا احادیث حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر بایں طور دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ تمام جہانوں اور زمانوں کے لیے رحمت و ہدایت ہیں۔ آپ ﷺ کی وسعت رحمت آپ ﷺ ہمہ گیر اور عالم گیر نبوت و رسالت کی آئینہ دار ہے۔ جب کوئی ایک زمانہ اور جہاں آپ ﷺ کے دائرہ رحمت سے باہر نہیں تو آپ ﷺ کے دائرہ نبوت و رسالت سے باہر کیسے ہو سکتا ہے۔ جہاں جہاں تک آپ کی رحمت ہے وہاں وہاں تک آپ کی نبوت و رسالت ہے۔ چونکہ آپ ﷺ قیامت تک آنے والی مخلوق خدا کے لیے رحمت ہیں اس لیے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت بھی قیامت تک جاری ہے۔

مہرِ نبوت سے ختمِ نبوت پر اِستدلال

109۔ عَنْ إِبْرَاهِیمَ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ فِي حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ: کَانَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ … بَيْنَ کَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّینَ۔

1۔ ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، 5: 599، رقم: 3638
2۔ ابن ابي شیبۃ، المصنف، 6: 328، رقم: 31804
3۔ ابن عبد البر، التمہید، 3: 30، رقم: 1353

’’حضرت ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے… آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔‘‘

110۔ عَنْ أَبِي مُوْسٰی رضي الله عنه، قَالَ فِي رِوَایَةٍ طَوِيْلَةٍ: خَرَجَ أَبُوْ طَالِبٍ إِلَی الشَّامِ، وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ … فَخَرَجَ إِلَيْھِمُ الرَّاھِبُ فَقَالَ: … وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوْفِ کَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَاحَةِ۔

1۔ ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب: ما جاء فی نبوۃ النبي ﷺ ، 5: 590، رقم: 3620
2۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6: 317، رقم: 31733، 36541
3۔ ابن حبان، الثقات، 1: 42
4۔ أصبہانی، دلائل النبوۃ، 1: 45
4۔ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، 1: 519

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو طالب رؤسائے قریش کے ہمراہ شام کے سفر پر روانہ ہوئے تو حضور نبی اکرم ﷺ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ راہب ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: … میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچانتا ہوں جو ان کے کاندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کی مثل ہے۔‘‘

111۔ عَنْ وَھْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ وَلَمْ یَبْعَثِ اللهُ نَبِیًّا إِلَّا وَقَدْ کَانَتْ عَلَيْهِ شَامَةُ النُّبُوَّةِ فِيْ یَدِهِ الْیُمْنٰی إِلَّا أَنْ يَّکُوْنَ نَبِیُّنَا مُحَمَّدٌ ﷺ فَإِنَّ شَامَةَ النُّبُوَّةِ کَانَتْ بَيْنَ کَتِفَيْهِ وَقَدْ سُئِلَ نَبِیُّنَا ﷺ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: هٰذِهِ الشَّامَةُ الَّتِيْ بَيْنَ کَتِفَيَّ شَامَةُ الْأَنْبِیَائِ قَبْلِي لِأَنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُوْلَ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 631، رقم: 4105

’’حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان کے دائیں ہاتھ پر مہر نبوت ہوتی تھی مگر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے کہ آپ کی مہرِ نبوت آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان تھی۔ ہمارے نبی ا کرم ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ میرے کندھوں کے درمیان وہ مہر نبوت ہے جو مجھ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السّلام) کی ہوتی تھی کیونکہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔‘‘

ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت درحقیقت آپ ﷺ کی ختم نبوت کی علامت تھی۔

ختمِ ہجرت کی تمثیل میں ختمِ نبوت کا بیان

112۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْهِجْرَةِ فَقَالَ لَهُ یَا عَمِّ أَقِمْ مَکَانَکَ الَّذِيْ أَنْتَ بِهِ فَإِنَّ اللهَ عزوجل یَخْتِمُ بِکَ الْهِجْرَةَ کَمَا خُتِمَ بِيَ النُّبُوَّةُ۔

1۔ أبو یعلی، المسند، 5: 55، رقم: 26246
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 6: 154، رقم: 5828
3۔ رویاني، المسند، 2: 214، رقم: 1061
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 269
5۔ ذہبي، سیر أعلام النبلائ، 2: 99

’’حضرت سہل بن سعد ساعدی بیان کرتے ہیں حضرت عباس بن عبد المطلب نے حضور نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے چچا! آپ جہاں ہیں وہیں رہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ آپ پر ہجرت کو ختم فرمائے گا جیسے کہ مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔‘‘

113۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنْ بَدْرٍ وَمَعَهٗ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ قَالَ لَهٗ یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لِي فَخَرَجْتُ إِلَی مَکَّةَ فَهَاجَرْتُ مِنْهَا أَوْ قَالَ: فَأُهَاجِرُ مِنْهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَا عَمِّ اطْمَئِنْ فَإِنَّکَ خَاتَمُ الْمُهَاجِرِيْنَ فِي الْهِجْرَةِ کَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ فِي النُّبُوَّةِ۔

1۔ احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 2: 941، رقم: 1812
2۔ ہندی، کنز العمال، 13: 483، رقم: 7340

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ بدر سے واپس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یارسول اللہ ! کاش آپ مجھے مکہ کی طرف کوچ کرنے اور وہاں سے ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائیں تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے چچا جان مطمئن ہو جائیں، آپ ہجرت میں مہاجرین کے خاتم ہیں، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘

اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کے خاتم المہاجرین ہونے کو اپنے خاتم النبیین ہونے کی مثال دے کر واضح فرما دیا کہ سلسلۂ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہو چکا چنانچہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور مسجدِ نبوی آخری مسجد

114۔ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَإِنِّيْ آخِرُ الأَنْبِیَاء وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الحج، باب فضل الصّلاۃ بمسجدي مکۃ و المدینۃ، 2: 1012، رقم: 1394
2۔ نسائي، السنن، کتاب المساجد، 2: 35، رقم: 694
3۔ نسائي، السنن الکبری، کتاب المساجد، فضل مسجد النبي ﷺ والصّلاۃ فیۃ 1: 257، رقم: 773
4۔ ابن حبان، الصحیح، 4: 500، رقم: 1621

115۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي اللہ عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا خَاتَمُ الأَنْبِیَاءِ وَمَسْجِدِي خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِیَاءِ۔ أَحَقُّ الْمَسَاجِدِ أَنْ یُزَارَ وَتُشَدُّ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ الْمَسْجِدُ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي۔ صَـلَاةً فِي مَسْجِدِي اَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيْمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔

ہیثمي، مجمع الزوائد، 4: 4

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد کی خاتم ہے۔ اور مساجد میں سے سب سے زیادہ زیارت کیے جانے کی حقدار اور اس چیز کی حقدار کہ ان کی طرف رخت سفر باندھا جائے دو مساجد ہیں مسجد حرام اور میری مسجد (مسجد نبوی) اور میری مسجد میں نماز دوسری مساجد میں پڑھی جانے والی ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔‘‘

116۔ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا خَاتِمُ الْأَنْبِیَاءِ وَمَسْجِدِي خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِیَاءِ۔

1۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1: 45، رقم: 112
2۔ منذری، الترغیب والترھیب، 2: 139، رقم: 1831

’’حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کرام کی مساجد کی خاتم ہے۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صاف اور واضح الفاظ میں اعلان فرما دیا ہے کہ آپ ﷺ سلسلہ انبیاء کے خاتم اور مسجد نبوی ﷺ تمام انبیاء علیھم السلام کی مساجد کی خاتم ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور مسجد نبوی کے بعد قیامت تک روئے زمین پر کسی اور نبی کی تعمیر کردہ مسجد نہیں ہو گی۔ مسجد حرام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا، مسجد اقصیٰ کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا اور مسجدِ نبوی کو ہجرتِ مدینہ کے بعد سید الأنبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تعمیر فرمایا، اس طرح یہ مسجد حضور خاتم النبیین ﷺ کے ہاتھوں تعمیر کا اعزاز پا کر انبیاء کی تعمیر کردہ مساجد کی خاتم قرار پائی۔ اس حوالے سے متذکرہ بالا احادیث حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی واضح دلیل ہیں۔

حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور اُمتِ مسلمہ آخری اُمت

117۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاھِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا اٰخِرُ الْأَنْبِیَاء وَأَنْتُمْ اٰخِرُ الْأُمَمِ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، 2: 1359، رقم: 4077
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 580، رقم: 8620
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8: 146، رقم: 7644
4۔ رویاني، المسند، 2: 295، رقم: 1239
5۔ طبرانی، مسند الشامیین، 2: 28، رقم: 861
6۔ ابن أبی عاصم، السنۃ، 1: 171، رقم: 391

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمام انبیاء میں سے آخر میں ہوں اور تم بھی آخری اُمت ہو۔‘‘

118۔ عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ الْبَاھِلِيِّ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: أَیُّھَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَکُمْ فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ عزوجل وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَ صُوْمُوْا شَهْرَکُمْ وَ أَدُّوْا زَکَاةَ أَمْوَالِکُمْ طَيِّبَةً بِھَا أَنْفُسُکُمْ وَ أَطِيْعُوْا وُلَاةَ أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8: 115، رقم: 7535
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 22: 316، رقم: 797
3۔ طبراني، مسند الشامیین، 2: 193، رقم: 1173
4۔ شیباني، الآحاد والمثاني، 5: 252، رقم: 2779
5۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 3: 273
6۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 24: 60

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی امت ہے۔ پس اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کرو اور پانچ نمازیں پڑھو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور اپنی رضامندی کے ساتھ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، (نتیجتاً) تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوگے۔‘‘

119۔ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُوْلُ: صَعِدَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أُنْذِرُکُمُ الدَّجَّالَ فَإِنَّهٗ لَمْ یَکُنْ نَبِيُّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهٗ أُمَّتَهٗ وَهُوَ کَائِنٌ فِيْکُمْ أَيَّتُھَا الْأُمَّةُ إِنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَکُمْ۔

ابن حبان، الصحیح، 15: 195، 196، رقم: 6788

’’شعبی بیان کرتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے، پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، پس مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر یہ کہ اس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا، اور اے امت محمدیہ! وہ تجھ میں پایا جائے گا۔ بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔‘‘

120۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ): أَیُّهَا النَّاسُ، أَيُّ یَوْمٍ هٰذَا؟ قَالُوْا: یَوْمٌ حَرَامٌ۔ قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هٰذَا؟ قَالُوْا: بَلَدٌ حَرَامٌ۔ قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هٰذَا؟ قَالُوْا: شَهْرٌ حَرَامٌ۔ قَالَ: فَإِنَّ اللهَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَرَّمَ دِمَاء کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ کَحُرْمَةِ هٰذَا الْیَوْمِ وَهٰذَا الشَّهْرِ وَهٰذَا الْبَلَدِ أَلَا لِیُبَلِّغْ شَاهِدُکُمْ غَائِبَکُمْ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَکُمْ ثُمَّ رَفَعَ یَدَيْهِ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ۔

1۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 3: 268
2۔ رویاني، المسند، 2: 412

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضي اللّہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: حج کا دن۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ بلد حرام (مکہ مکرمہ) ہے۔ پھر حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: حرمت والا مہینہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتوں کو اس دن، اس ماہ اور اس شہر کی حرمت کی طرح حرام کیا ہے، آگاہ ہو جاؤ، تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔‘‘

121۔ عَنِ ابْنِ زَمْلٍ الْجُھَنِيِّ فِي حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ فِي الرُّؤْیَا مَرْفُوْعًا فَالدُّنْیَا سَبْعَةُ آلَافِ سَنَةٍ وَ أنَا فِي اٰخِرِهَا اَلْفًا (إِلَی قَوْلِهِ) وَأَمَّا النَّاقَةُ الَّتِي رَأَيْتَ وَرَأيْتَنِي أَتَّقِيْھَا فَهِيَ السَّاعَةُ عَلَيْنَا تَقُوْمُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا اُمَّةَ بَعْدَ اُمَّتِي۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8: 303، رقم: 8146
2۔ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 2: 232، 233، رقم: 3118
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 7: 184
4۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 4: 287

’’ابن زمل جہنی خوابوں کے باب میں ایک طویل مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور میں آخری ہزار سال میں ہوں … اور رہی وہ اونٹنی جسے تو نے دیکھا اور مجھے تو نے دیکھا کہ میں اس اونٹنی سے بچ رہا ہوں، تو اس سے مراد قیامت ہے، وہ ہمیں پر قائم ہوگی، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ ہی میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔‘‘

ان تمام احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت آخری امت ہے، اس کے بعد کوئی امت نہیں۔ اس صراحت کے باوجود اگر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کافر و مرتد او رزندیق ہے۔ اس کا نہ تو نبی آخر الزماں ﷺ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ امت مسلمہ کے ساتھ کوئی واسطہ۔ مسلمان وہی ہے جو حضور رحمتِ عالم سیدنا محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی اور اُمتِ مسلمہ کو آخری امت تسلیم کرتا ہے جو اس عقیدے سے سر مو انحراف کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت نہیں خلافت ہے

122۔ عَنْ أَبِيْ حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا ھُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِيْنَ فَسَمِعْتُهٗ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُھُمُ الْأَنْبِیَاء، کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ فَیَکْثُرُوْنَ … الحدیث۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب ما ذکر عن بني اسرائیل، 3: 1273، رقم: 3268
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلفاء الأول فالأول، 3: 471، رقم: 1842
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الجہاد، باب الوفاء بالبیعۃ، 2: 958، رقم: 2871
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 297، رقم: 7947
5۔ ابن حبان، الصحیح، 10: 418، رقم: 4555،
6۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 464، رقم: 37260
7۔ أبویعلي، المسند، 11: 75، رقم: 6211،
8۔ أبو عوانۃ، المسند، 4: 409، رقم: 7126
9۔ بیہقي، السنن الکبریٰ، 8: 144

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (پہلے زمانے میں) بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب ایک نبی وصال فرما جاتا تو اللہ پاک دوسرا نبی مبعوث فرما دیتے (پھر میری بعثت ہو گئی) میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا (چونکہ میں آخری نبی ہوں لهٰذا میرے بعد) اب (میرے) خلفاء ہوں گے جو بکثرت ہوں گے۔‘‘

123۔ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِيْنَ فَسَمِعْتُهٗ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِیَاءُ کُلَّمَا هَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَکُوْنُ خُلَفَاءُ تَکْثُرُ قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ: فُوْا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوْهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللهَ سَائِلَهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأنبیاء، باب ما ذکر عن إسرائیل، 3: 1273، رقم: 3268
2۔ مسلم، الصحیح، کتا ب الإمارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃالخلفائ، 3: 1471، رقم: 1842

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پہلے بنی اسرائیل کے انبیاء لوگوں پر حکمران ہوا کرتے تھے۔ ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا۔ لیکن یاد رکھو میرے بعد ہرگز کوئی نبی نہیں ہے، ہاں عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔ لوگ عرض گزار ہوئے، آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا، یکے بعد دیگرے ہر ایک سے بیعت کرتے رہنا اور ان کی اطاعت کا حق ادا کرتے رہنا پس اللہ تعالیٰ جو انہیں حکمران بنائے گا وہی حقوق کے بارے میں ان سے بازپرس کرے گا۔‘‘

124۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ کَانَتْ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِیَاء کُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ وَ أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔

1۔ ابن حبان، الصحیح، 10، 418، رقم: 4555
2۔ ابن حبان، الصحیح، 14: 142، رقم: 6249
3۔ أبو عوانۃ، المسند، 4: 409، رقم: 7128

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء کرام بنو اسرائیل پر حکمران ہوا کرتے تھے۔ ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا لیکن (یاد رکھو) میرے بعد ہرگز کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

125۔ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَی الشَّامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا کُنْتُ بِأَدْنی الشَّامِ لَقِیَنِيْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ فَقَالَ: هَلْ عِنْدَکُمْ رَجُلٌ تَنَبَّأَ قُلْتُ: نَعَمْ۔ قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ صُوْرَتَهُ إِذَا رَأَيْتَهَا قُلْتُ: نَعَمْ فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيْهِ صُوَرٌ فَلَمْ أَرَ صُوْرَةَ النَّبِيِّ ﷺ فَبَيْنَا أَنَا کَذٰلِکَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا فَقَالَ: فِيْمَ أَنْتُمْ فَأَخْبَرْنَا فَذَهَبَ بِنَا إِلَی مَنْزِلِهِ فَسَاعَةَ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَی صَوْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ ﷺ قُلْتُ مَنْ هَذَا عَلَی عَقِبِهِ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ یَکُنْ نَبِيٌّ إِلَّا کَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا هٰذَا فَإِنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ وَ هٰذَا الْخَلِيْفَةُ بَعْدَهٗ وَإِذَا صِفَةُ أَبِيْ بَکْرٍ رضی اللہ عنہ۔

طبرانی، المعجم الکبیر، 2: 125، رقم: 1537

’’حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں، میں تجارت کی غرض سے شام کی طرف گیا۔ جب شام کے انتہائی قریب پہنچا تو اہل کتاب میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہا: کیا تمہارے ہاں کوئی ایسا شخص ہے جو نبوت کا دعویدار ہے، میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا اگر تم ان کی تصویر دیکھو تو انہیں پہچان لوگے؟ میں نے کہا: ہاں! پھر اس نے مجھے ایسے کمرے میں داخل کر دیا، جس میں تصویریں تھیں، اسی دوران ان میں سے ایک آدمی اس کمرے میں داخل ہوا اور کہا: تم کس چیز میں مشغول ہو؟ ہم نے اسے بتایا، پس وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا۔ جونہی میں اس کے گھر میں داخل ہوا میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی تصویر دیکھی، جس میں ایک آدمی آپ ﷺ کی ایڑھی کو تھامے ہوئے ہے۔ میں نے کہا یہ شخص کون ہے جو آپ ﷺ کی ایڑھی کو تھامے ہوئے ہے؟ اس نے کہا: اس سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر یہ کہ اس کے بعد کوئی اور نبی آجاتا سوائے حضور نبی اکرم ﷺ کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور یہ آپ ﷺ کے بعد خلیفہ ہیں اور اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کیا۔‘‘

126۔ قَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ تَکُوْنُ النُّبُوَّةُ فِيْکُمْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَةٌ عَلٰی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتَکُوْنُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَّرْفَعَهَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَیَکُوْنُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَّکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبَرِيَّةً فَتَکُوْنُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَکَتَ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 273
2۔ بزار، المسند، 7: 223
3۔ طیالسي، المسند، 1: 58، رقم: 438
4۔ ہیثمي، مجمع الوائد، 5: 188
5۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 6: 238
6۔ سیوطي، الخصائص الکبری، 2: 197

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبوت تم میں اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ تم میں رہے پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے اٹھا لے گا، پھر نبوت کے منھاج پر خلافت ہوگی، اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔ پھر ظالم ملوکیت ہوگی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا۔ پھر جبری ملوکیت ہوگی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ اسے اٹھا لے گا۔ پھر خلافت علی منھاج النبوۃ ہوگی، پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔‘‘

127۔ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: لَقِيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، ادْفَعْنِيْ إِلَی رَجُلٍ حَسَنِ التَّعْلِيْمِ فَدَفَعَنِيْ إِلٰی أَبِي عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ثُمَّ قَالَ قَدْ دَفَعْتُکَ إِلٰی رَجُلٍ یُحْسِنُ تَعْلِيْمَکَ وَأَدَبَکَ فَأَتَيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُوَ وَبَشِيْرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ یَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا رَأَیَانِيْ سَکَتَا فَقُلْتُ یَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَاللهِ مَا هٰکَذَا حَدَّثَنِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّکَ جِئْتَ وَ نَحْنُ نَتَحَدَّثُ حَدِيْثًا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَاجْلِسْ حَتّٰی نُحَدِّثَکَ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنَّ فِيْکُمُ النُّبُوَّةَ ثُمّ تَکُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ یَکُوْنُ مُلْکًا وَجَبَرِيَّةً۔

1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 1: 157، رقم: 368
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 5: 189

’’حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم ﷺ سے ملا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے شخص کے سپرد کیجئے جو اچھی تعلیم والا ہو، تو حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، پھر فرمایا: میں نے تمہیں ایسے شخص کے حوالے کیا ہے جو تیری تعلیم و ادب کو سنوار دے گا، پس میں ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس آیا، جبکہ وہ اور بشیر بن سعد جو کہ نعمان بن بشیر کے والد تھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب ان دونوں نے مجھے دیکھا تو وہ خاموش ہوگئے۔ پس میں نے کہا: اے ابو عبیدہ! اللہ کی قسم! حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس طرح نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: جب تو آیا تو ہم وہ بات کر رہے تھے جو ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنی، پس تو بھی بیٹھ کہ ہم تمہیں بھی وہ بات سنائیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا: حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک نبوت تم میں ہے (یعنی میں تم میں موجود ہوں) پھر (میرے بعد) علی منھاج النبوۃ خلافت ہوگی، پھر (خلافت کے بعد) ملوکیت اور جبریت ہو گی۔‘‘

128۔ عَنْ سَفِيْنَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلاَثُوْنَ سَنَةً ثُمَّ یُؤْتِي اللهُ الْمُلْکَ أَوْ مُلْکَهٗ مَنْ يَّشَاء۔

أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في الخلفائ، 4: 211، رقم: 4646

’’حضرت سفینہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیس سال ہے اس کے بعدا للہ جس کو چاہے گا سلطنت یا اپنی سلطنت عطا فرمائے گا۔‘‘

129۔ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ یُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْیَمَانِ یَقُوْلُ: یَآاَیُّھَا النَّاسُ، أَلاَ تَسْأَلُوْنِي فَإِنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَسْأَلُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُهٗ عَنِ الشَّرِّ أَنَّ اللهَ بَعَثَ نَبِيَّهُ ﷺ فَدَعَا النَّاسَ مِنَ الْکَفْرِ إِلَی الإِيْمَانِ وَمِنَ الضَّلَالَةِ إِلَی الْهُدَی فَاسْتَجَابَ مَنِ اسْتَجَابَ فَحَيَّ مِنَ الْحَقِّ مَا کَانَ مَيِّتاً وَمَاتَ مِنَ الْبَاطِلِ مَا کَانَ حَیًّا ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَکَانَتِ الْخِلَافَةُ عَلَی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 404، رقم: 23479
2۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 1: 275

’’حضرت ابو طفیل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اے لوگو! کیا تم مجھ سے نہیں پوچھوگے، پس بے شک لوگ حضور نبی اکرم ﷺ سے خیر کے بارے سوال کرتے تھے اور میں آپ ﷺ سے شر کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی طرف اور گمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا، پس جس نے دعوت قبول کی سو اس نے کی، اور حق سے مردہ شخص زندہ اور باطل سے زندہ شخص مردہ ہوگیا، پھر نبوت جاتی رہی اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔‘‘

130۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا لَنَا فِي هٰذَا الْأَمْرِ قَالَ: لِي النُّبُوَّةُ وَلَکُمُ الْخِلَافَةُ بِکُمْ یُفْتَحُ هٰذَا الْأَمْرُ وَبِکُمْ یُخْتَمُ۔

خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 3: 349

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اس دین کے معاملہ میں ہمارے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے نبوت ہے اور تمہارے لیے خلافت۔ تم سے (یعنی امتِ محمدیہ) سے اس دین کے معاملہ کا آغاز ہو گا اور تم پر ہی ختم ہو گا۔‘‘

اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ پہلے زمانے میں لوگوں کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قائم کردہ اجراء نبوت کا نظام جو بنی اسرائیل میں جاری ہوا تھا وہ نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور اس کی جگہ اب اُمتِ مسلمہ میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے قیامت تک خلافت و نیابتِ محمدی ﷺ کا نظام روبہ عمل ہے جس کے تحت حضور نبی اکرم ﷺ کی اُمت کے خلفاء و پیروکار اور علماء خلافت و نیابت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے جبکہ حقیقی قیادت و سیادت جو کہ خلافتِ الهٰیہ ہے حضور نبی اکرم ﷺ ہی کی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہمیشہ خود کو ’’خلیفۃ رسول اللہ ﷺ‘‘ کہتے اور دیگر تمام صحابہ اور عامّۃ الناس بھی آپ کو اسی لقب سے یاد کرتے تھے۔ جب تختِ خلافت پر متمکن ہوئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو ’’خلیفۃ اللہ‘‘ پکارا جس کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:

لَسْتُ خَلِيْفَةَ اللهِ وَلٰـکِنِّی خَلِيْفَةُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔

ابن خلدون، مقدمہ: 189

’’میں اللہ سبحانہ و کا خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ ہوں۔‘‘

علامہ ابن خلدون اسی تصور کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَأَنَّهٗ نِیَابَةٌ عَنْ صَاحِبِ الشَّرِيْعَةِ فِي حِفْظِ الدِّيْنِ وَسِیَاسَةِ الدُّنْیَا بِهٖ تُسَمّٰی خِلَافَةً وَ اِمَامَةً۔

ابن خلدون، مقدمہ: 189

’’منصب خلافت و امامت دینی اور دنیوی امور کی حفاظت میں صاحبِ شریعت یعنی نبی کی نیابت کو کہتے ہیں۔‘‘

اب قیامت تک اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے دین مکمل کر دیا اور اجرائے نبوت کا نظام ختم کر کے اس کی جگہ نبوت محمدی ﷺ کی خلافت و نیابت کا نظام جاری فرما دیا ہے۔ لهٰذا اب کسی نئے نبی کی بعثت کی ضرورت نہیں رہی۔

شبِ معراج جبریلِ امین علیہ السلام کا ملائکہ میں اعلانِ ختمِ نبوت

131۔ مِنْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ فِي الإِسْرَاء عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: حَتّٰی أَتٰی بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَ فَرَبَطَ فَرَسَهٗ إِلٰی صَخْرَةٍ فَصَلّٰی مَعَ الْمَلَائِکَةِ فَلَمَّا قُضِیَتِ الصَّلَاةُ قَالُوْا: یَا جِبْرِيْلُ! مَنْ هٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ (إلی أن قال:) فَقَالَ لَهُ رَبُّهٗ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: قَدِ اتَّخَذْتُکَ حَبِيْبًا وَمَکْتُوْبٌ فِی التَّوْرَاةِ مُحَمَّدٌ حَبِيْبُ الرَّحْمٰنِ وَأَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ کَافَّةً وَجَعَلْتُ أُمَّتَکَ ھُمُ الْأَوَّلُوْنَ وَھُمُ الْأَخِرُوْنَ وَجَعَلْتُ أُمَّتَکَ لَا تَجُوْزُ لَھُمْ خُطْبَةٌ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنَّکَ عَبْدِي وَرَسُوْلِي وَجَعَلْتُکَ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ خَلْقًا وَاٰخِرَھُمْ بَعْثًا وَأَعْطَيْتُکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَلَمْ أُعْطِھَا نَبِیًّا قَبْلَکَ وَأَعْطَيْتُکَ خَوَاتِيْمَ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ أُعْطِھَا قَبْلَکَ وَجَعَلْتُکَ فَاتِحًا وَخَاتِمًا۔

ہیثمي، مجمع الزوائد، 1: 68۔ 72

’’إسراء کے باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں سے ہے… یہاں تک کہ حضور نبی اکرم ﷺ بیت المقدس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نیچے اترے اور اپنے گھوڑے کو ایک چٹان کے ساتھ باندھ دیا، پھر ملائکہ کے ساتھ نماز ادا فرمائی، جب نماز ادا کر لی گئی تو ملائکہ نے سوال کیا، اے جبریل! آپ کے ساتھ یہ کون ہیں؟ تو جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: یہ اللہ کے رسول، نبیوں کے خاتم حضرت محمد ﷺ ہیں۔ (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے ارشاد ہوا کہ میں نے تمہیں اپنا محبو ب بنایا ہے اور توریت میں بھی لکھا ہوا ہے کہ محمد اللہ کے محبوب ہیں۔ اور ہم نے تمہیں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی امت کو اولین و آخرین بنایا، اور میں نے آپ کی امت کو اس طرح رکھا کہ ان کے لیے کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک کہ وہ خالص دل سے گواہی نہ دیں کہ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، اور میں نے آپ کو باعتبار اصلِ خلقت کے سب سے اول اور باعتبار بعثت کے سب سے آخر بنایا ہے اور آپ کو سبع مثانی (سورہ فاتحہ) دی ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی، اور آپ کو آخر سورۂ بقرہ کی آیتیں دی ہیں اس خزانہ سے جو عرش سے نیچے ہے اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیں، اور آپ کو فاتح اور خاتم بنایا۔‘‘

خاتم النبیین کے الفاظ پر مشتمل درود پاک کی تعلیم

132۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَحْسِنُوْا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُوْنَ لَعَلَّ ذٰلِکَ یُعْرَضُ عَلَيْهِ۔ قَالَ: فَقَالُوْا لَهُ: فَعَلِّمْنَا قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰھُمَّ، اجْعَلْ صَلَاتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، مُحَمَّدٍ، عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَإِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَةِ، اَللّٰھُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا یَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُوْنَ وَالاٰخِرُوْنَ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب: إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 1: 293، رقم: 906
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 2: 213، رقم: 3109
3۔ أبو یعلی، المسند، 9: 175، رقم: 5267
4۔ شاشي، المسند، 2: 89، رقم: 611
5۔ بیہقي، شعب الإیمان، 2: 208، رقم: 1550

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: جب تم حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں درود بھیجو تو بڑے احسن انداز میں آپ ﷺ پر درود بھیجو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ یہ درود آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جاتا ہے تو لوگوں نے عرض کیا: آپ ہمیں سکھائیں کہ ہم حضور ﷺ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم یوں کہا کرو: ’’اے میرے اللہ ! تو اپنا درود و رحمت اور برکتیں تمام رسولوں کے سردار، اہلِ تقویٰ کے امام اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنے بندے اور رسول کے لیے خاص فرما جو کہ بھلائی اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں۔ اے میرے اللہ ! آپ ﷺ کو اس مقام محمود پر پہنچا جس پر اولین اور آخرین کے لوگ رشک کرتے ہیں۔ اے میرے اللہ ! حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر درود بھیجا بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔ اے میرے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

133۔ عَنْ سَـلَامَةَ بْنِ الْکِنْدِيِّ قَالَ: کَانَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ یُعَلِّمُ النَّاسَ الصَّـلَاةَ عَلَی نَبِيِّ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ، دَاحِيَ الْمَدْحُوَّاتِ، وَبَارِیَٔ الْمَسْمُوْکَاتِ، وَجَبَّارَ الْقُلُوْبِ عَلَی فِطْرَاتِھَا شَقِيِّھَا وَسَعِيْدِھَا، اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِکَ وَنَوَامِي بَرَکَاتِکَ، وَرَافِعَ تَحِيَّتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ الْخَاتِمِ لِمَا سُبِقَ، وَالْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 9: 43، رقم: 9089
2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 66، رقم: 29520
3۔ قاضي عیاض، الشفائ، 1: 561، رقم: 2392
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 10: 163

’’حضرت سلامہ بن کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ یوں سکھاتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے اللہ! اے زمینوں کو پھیلانے والے! اے ساتوں آسمانوں کو پیدا فرمانے والے! اور اے خوش بخت اور بدبخت فطرت کے حامل دلوں کے جوڑنے والے! تو اپنی عظیم رحمتوں اور بڑھنے والی برکات اور اپنے بلند پایہ تحیات کو اپنے (کامل) بندے اور رسول پر بصورتِ درود بھیج جو سابقہ شریعتوں کے خاتم اور (حکمت و اسرار کے) بند خزانوں کے کھولنے والے۔‘‘

مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ عقیدۂ ختم نبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اتنا عام تھا کہ وہ ہمہ وقت لوگوں کو اس کی تلقین کرتے اور درود وسلام میں اسے بطور وظیفہ اختیار کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔

اُمتِ محمدی ﷺ درجہ میں اَوّل اور وجود میں آخر

134۔ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : نَحْنُ الْاٰخِرُونَ السَّابِقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوْتِینَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الوضوء، باب البول في الماء الدائم، 1: 94، رقم: 236
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ، 1: 299، رقم: 836
3۔ بخاري، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب ھل علی من لم یشھد الجمعۃ غسل من النساء والصبیان، 1: 305، رقم: 856
4۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الأمۃلیوم الجمعۃ 2: 586، رقم: 855
5۔ نسائي، السنن، کتاب الجمعۃ، باب إیجاب الجمعۃ، 3: 85، رقم: 1367
6۔ بیہقي، السنن الصغري، 1: 367، رقم: 267
7۔ شافعي، المسند، 1: 61

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم آخری ہیں اور قیامت کے روز سب سے پہلے ہوں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔‘‘

135۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي حَدِيْثٍ طَوِیل وَمِنْهُ نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْیَا وَالْأَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَـلَائِقِ۔

1۔ مسلم الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب إیجاب الجمعۃ، 2: 586، رقم: 856
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ، باب في فرض الجمعۃ، 1: 344، رقم: 1083
3۔ أبو عوانۃ، المسند، 1: 150
4۔ بیہقي، شعب الإیمان، 3: 89، رقم: 2967
5۔ منذري، الترغیب والترھیب، 1: 282، رقم: 1044
6۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 2: 592

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم دنیا والوں کے اعتبار سے آخر ہیں اور قیامت کے دن سب سے اول ہوں گے جن کا فیصلہ قیامت کے دن سب سے پہلے ہو گا۔‘‘

136۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ یُّحَاسَبُ یُقَالُ: أَيْنَ الْأُمَّةُ الْأُمِّيَّةُ وَنَبِیُّهَا فَنَحْنُ الآخِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1434، رقم: 4290
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 281، رقم: 2546
3۔ دیلمي، الفردوس بما ثور الخطاب، 4: 282، رقم: 6833
4۔ عسقلاني، فتح الباري، 11: 452

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم سب اُمتوں کے آخر پرہیں اور سب سے پہلے حساب اس امت کا کیا جائے جائے گا۔ کہا جائے گا: امی امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ سو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی۔‘‘

137۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَالْأَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔

ابن حبان، الصّحیح، 8: 11، رقم: 3217

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم زمانہ کے اعتبار سے آخری اور روز قیامت (حساب کے اعتبار سے) پہلے ہوں گے۔‘‘

138۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : إِنَّ مُوْسٰی علیہ السلام لَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِ التَّوْرَاةُ وَ قَرَأَهَا فَوَجَدَ فِيْهَا ذِکْرَ هٰذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ: یَا رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْاَلْوَاحِ أُمَّةً هُمُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ فَاجْعَلْهُمْ اُمَّتِي۔

1۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق، 61: 119
2۔ سیوطي، الدر المنثور، 3: 556

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک موسیٰ علیہ السلام پر جب تورات نازل ہوئی اور آپ علیہ السلام نے اسے پڑھا اور اس میں اس امت کا ذکر پایا، پھر عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میں ان تختیوں میں اس امت کا تذکرہ پا رہا ہوں جس کے لوگ زمانہ کے اعتبار سے آخری اور مقام و مرتبہ میں سبقت لے جانے والے ہوں گے، پس تو انہیں میری اُمت بنا۔‘‘

139۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَکْحُوْلٍ: قَالَ فِي حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : بَلْ یَا یَهُوْدِيُّ، أَنْتُمُ الْاَوَّلُوْنَ وَ نَحْنُ الْاٰخِرُونَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔

ا بن أبي شیبہ، المصنف، 6: 327، رقم: 31803

’’حضرت عبد اللہ بن مالک، حضرت مکحول سے ایک طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلکہ اے یہودی! تم زمانہ کے اعتبار سے پہلے ہو اور ہم آخری لیکن روزِ قیامت سبقت لے جانے والے ہم ہیں۔‘‘

احادیثِ مذکورہ میں اُمتِ محمدیہ کے لیے ’السابقون‘ اور ’الأولون‘ کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی ان الفاظ کی شرح میں لکھتے ہیں:

أَيِ الآخِرُوْنَ زَمَانًا الْأَوَّلُوْنَ مَنْزِلَةً وَالْمُرَادُ أَنَّ هٰذِهِ الْأُمَّةَ وَ إِنْ تَأَخَّرَ وُجُوْدُھَا فِي الْأُمَمِ الْمَاضِيَّةِ فَھِيَ سَابِقَةٌ لَھُمْ فِي اْلآخِرَةِ۔

 عسقلاني، فتح الباري، 2: 354

’’یعنی زمانے کے اعتبار سے آخری، درجہ کے اعتبار سے اول اور اس سے مراد یہ ہے کہ امت محمدی کا وجود اگرچہ سب امتوں کے آخر پر ہے مگر یہ ان سے آخرت میں درجہ میں سبقت لے جانے والی ہے۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے ثابت ہواکہ اُمت محمدیہ باعتبار وجود سب امتوں کے آخر پر ہے لیکن روز قیامت درجہ و فضیلت کے اعتبار سے سب امتوں پر سبقت لے جائے گی۔ معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ سب سے آخری امت کے نبی ہیں۔

اُمتِ محمدی ﷺ ہی خیر الأمم اور آخر الأمم ہے

140۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَی: {کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}(1) قَالَ: إِنَّکُمْ تُتِمُّوْنَ سَبْعِيْنَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُھَا وَأَکْرَمُھَا عَلَی اللهِ۔ (2)

(1) آل عمران، 3: 110
(2) 1۔ ترمذی، السنن، أبواب التفسیر، باب ومن سورۃ آلِ عمران، 5: 226، رقم: 3001
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1433، رقم: 4287، 4288
3۔ أحمد بن حنبل في المسند، 3: 61، رقم: 11604
4۔ حاکم، المستدرک، 4: 94، رقم: 6987
5۔ بیھقي، السنن الکبری، 9: 5
6۔ طبراني، المعجم الکبیر، 19: 419، رقم: 1012، 1023
7۔ عبد بن حمید، المسند، 1: 156، رقم: 411
8۔ رویاني، المسند، 2: 115، رقم: 924
9۔ ابن المبارک، الزھد، 1: 114، رقم: 382

’’حضرت بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمان الٰہی - {تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے} - کے بارے میں فرمایا: تم ستر امتوں کو مکمل کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور معزز ہو۔‘‘

141۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : نُکَمِّلُ، یَوْمَ الْقِیَامَةِ، سَبْعِيْنَ أُمَّةً۔ نَحْنُ آخِرُھَا، وَخَيْرُھَا۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1433، رقم: 4287

’’حضرت بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کی تکمیل کریں گے اور ہم ان سب سے آخری اور سب سے بہتر ہیں۔‘‘

142۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: إِنَّکُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِيْنَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُھَا وَ أَکْرَمُھَا عَلَی اللهِ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1433، رقم: 4288
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 5، رقم: 20061
3۔ دارمي، السنن، 2: 404، رقم: 2760
4۔ بیہقي، السنن الکبریٰ، 9: 5

’’حضرت بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ستر اُمتوں کو پورا کر چکے ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور معزز ہو۔‘‘

143۔ عَنْ حَکِيْمِ بْنِ مُعَاوِیَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَنْتُمْ تُوْفُوْنَ سَبْعِيْنَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُھَا وَأَکْرَمُھَا عَلٰی اللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 477، رقم: 20029
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 3، رقم: 20037
3۔ حاکم، المستدرک، 4: 94، رقم: 6988
4۔ طبراني، المعجم الکبیر، 19: 419، رقم: 1012
5۔ طبراني، المعجم الکبیر، 19: 422، رقم: 1023
6۔ عبد بن حمید، المسند، 1: 155، رقم: 409
7۔ نسائي، السنن الکبری، 6: 439، رقم: 11431

’’حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ستر امتوں کو پورا کرنے والے ہو، اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سب سے بہترین اور معزز ہو۔‘‘

144۔ عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهٗ وَ فِيْهِ إِنَّکُمْ تُتِمُّوْنَ سَبْعِيْنَ أُمَّةً۔

أحمد بن حنبل، المسند، 3: 61، رقم: 11604

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اس میں: تم ستر امتوں کو مکمل کرو گے کے الفاظ ہیں۔‘‘

145۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَنْتُمْ تُکْمِلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، سَبْعِيْنَ أُمَّةً۔ نَحْنُ خَيْرُھَا وَاٰخِرُھَا۔

طبراني، المعجم الأوسط، 2: 111، رقم: 1415

’’بہز بن حکیم اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم روزِ قیامت ستر اُمتوں کی تکمیل کرو گے۔ ہم ان سب سے بہتر اور آخری ہیں۔‘‘

146۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنھما مِثْلَهُ۔

طرسوسي، مسند عبد اللہ بن عمر، 1: 27، رقم24

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔‘‘

147۔ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَهُ۔

1۔ طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 3: 389
2۔ سیوطي، الدر المنثور، 2: 294
3۔ ہندی، کنز العمال، 12: 314، رقم: 34518

’’حضرت قتادہ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں اُمتِ محمدیہ کا ’آخر الأمم‘ اور ’خیر الأمم‘ ہونا صراحتاً بیان ہوا ہے۔ قیامت تک یہی اُمت رہے گی اور اس میں نبوت و رسالت بلا شرکتِ غیرے صرف سیدنا محمد مصطفی ﷺ ہی کی جاری رہے گی۔ نبی اور رسول کے لیے نئی اُمت کا ہونا لازم ہے، جب کوئی اُمت ہی نہیں ہو گی تو نیا نبی کس کے لیے آئے گا؟ یہ اُمت تا قیامت دامنِ مصطفی ﷺ سے وابستہ و پیوستہ رہے گی کیونکہ اُن کے ایمان کا مرکز و محور آپ ﷺ ہی کی ذات ہے۔

دنیا و آخرت میں اُمتِ محمدی ﷺ کا شرف و اِمتیاز

148۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنھما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَأَجِدُ النَّبِيَّ یَمُرُّمَعَهُ الْأُمَّةُ، وَالنَّبِيُّ یَمُرُّمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ یَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ، وَالنَّبِيُّ یَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ، وَالنَّبِيُّ یَمُرُّ وَحْدَهُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قُلْتُ: یَا جِبْرِيْلُ، ھٰؤُلَاء أُمَّتِي؟ قَالَ: لَا، وَلٰـکِنِ انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قَالَ: ھٰؤُلَاءِ أُمَّتُکَ، وَھٰؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ أَلْفًا قُدَّامُھُمْ لَا حِسَابَ عَلَيْھِمْ وَلَا عَذَابَ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: کَانُوْ لَا یَکْتَوُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا یَتَطَيَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔ فَقَامَ إِلَيْهِ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ یَجْعَلَنِي مِنْھُمْ، قَالَ: أَللّٰھُمَّ اجْعَلْهُ مِنْھُمْ۔ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ یَجْعَلَنِي مِنْھُمْ قَالَ: سَبَقَکَ بِھَا عُکَّاشَةُ۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھ پر (تمام) امتیں پیش کی گئیں پس ایک نبی گزرنے لگا اور اس کے ساتھ اس کی امت تھی ایک نبی ایسا بھی گزرا کہ اس کے ساتھ چند افراد تھے، ایک نبی کے ساتھ دس آدمی، ایک نبی کے ساتھ پانچ آدمی، ایک نبی صرف تنہا، میں نے نظر دوڑائی تو ایک بڑی جماعت نظر آئی میں نے پوچھا: اے جبرئیل! کیا یہ میری امت ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ افق کی جانب توجہ فرمائیں، میں نے دیکھا تو وہ بہت ہی بڑی جماعت تھی۔ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت ہے اور یہ جو ستر ہزار ان کے آگے ہیں ان کے لیے نہ حساب ہے نہ عذاب، میںنے پوچھا: کس وجہ سے؟ انہوں نے کہا: یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے، غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے، شگون نہیں لیتے تھے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے تھے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر عرض گزار ہوئے: (یا رسول اللہ!) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں شامل فرما۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: (یا رسول اللہ!) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرمالے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا۔‘‘

149۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ أَھْلِ الْجَنَّةِ۔ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُوْنُوْا نِصْفَ أَھْلِ الْجَنَّةِ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا یَدْخُلُھَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَھْلِ الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، 5: 2392، رقم: 6163
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي ﷺ ، 6: 2448، رقم: 6266
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب کون ھذہ الأمۃ نصف أھل الجنۃ، 1: 200، رقم: 221
4۔ ترمذي، السنن، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صف أھل الجنۃ، 4: 684، رقم: 2547
5۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1432، رقم: 4283
6۔ نسائي، السنن الکبری، 6: 409، رقم: 11339
7۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 386، رقم: 3661

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ہم ایک قبہ (مکان) میں تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ اہلِ جنت کا تہائی حصہ تم (میں سے) ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم (تعداد میں) اہلِ جنت میں سے نصف ہوگے اور وہ یوں کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا اور مشرکوں کے مقابلے میں تم یوں ہو جیسے کالے بیل کی جلد پرایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پرایک کالا بال۔‘‘

150۔ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ رضی اللہ عنھما عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَھْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُوْنَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُوْنَ مِنْھَا مِنْ ھَذِهِ الْأُمَّةِ، وَأَرْبَعُوْنَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في کم صَفّ أھل الجنّۃ، 4: 683، رقم: 2546
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب صفۃ أمۃ محمد ﷺ ، 2: 1434، رقم: 4289
3۔ أحمد بن حنبل في المسند، 5: 347
4۔ حاکم، المستدرک، 1: 155، رقم: 273
5۔ دارمي، السنن، 2: 434، رقم: 2835
6۔ ابن حبان، الصحیح، 16: 498، رقم: 7459
7۔ بزار، المسند، 5: 368، رقم: 1999
8۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 315، رقم: 31713
9۔ طبراني، المعجم الصغیر، 1: 67، رقم: 82
10۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 2: 77، رقم: 1310
11۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 184، رقم: 10398
12۔ أبویعلی، المعجم، 1: 183، رقم: 211

’’حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنھما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اَسی (80) صفیں میری اُمت کی ہوں گی اور باقی تمام امتوں کی صرف چالیس (40) صفیں ہوں گی۔‘‘

151۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: اَلْجَنَّةُ حُرِّمَتْ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ حَتَّی أَدْخُلَھَا، وَحُرِّمَتْ عَلَی الْأُمَمِ حَتَّی تَدْخُلَھَا أُمَّتِي۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 1: 289، رقم: 942
2۔ ہندی، کنز العمال، 11: 416، رقم: 31953
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 10: 69

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جنت تمام انبیاء علیھم السّلام پر اس وقت تک حرام کر دی گئی ہے جب تک کہ میں اس میں داخل نہ ہو جاؤں اور تمام اُمتوں پر اس وقت تک حرام ہے کہ جب تک میری اُمت اس میں داخل نہ ہو جائے۔‘‘

152۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُوْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَهُ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَأَنْظُرَ إِلَی بَيْنَ یَدَيَّ، فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَمِيْني مِثْلُ ذٰلِکَ۔ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، کَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيْمَا بَيْنَ نُوْحٍ إِلَی أُمَّتِکَ؟ قَالَ: ھُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوْئِ، لَيْسَ أَحَدٌ کَذٰلِکَ غَيْرُھُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ یُؤْتُوْنَ کُتُبَھُمْ بِأَيْمَانِھِمْ، وَأَعْرِفُھُمْ یَسْعٰی بَيْنَ أَيْدِيْھِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 199، رقم: 21785
2۔ ابن حبان، الصحیح، 3: 324، رقم: 1049
3۔ حاکم، المستدرک، 2: 520، رقم: 3784
4۔ طیالسي، المسند، 1: 48، رقم: 361
5۔ بیھقي، شعب الإیمان، 3: 17، رقم: 2745
6۔ منذري، الترغیب والترھیب، 1: 91، رقم: 286

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں ہی وہ سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے قیامت کے دن (اللہ تعالیٰ کو) سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں ہی ہوں گا جسے سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ہو گی۔ سو میں اپنے سامنے دیکھوں گا اور اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان بھی پہچان لوں گا۔ اسی طرح اپنے پیچھے اور اپنی دا ہنی طرف بھی انہیں دیکھ کر پہچان لوں گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان کیسے پہچانیں گے جبکہ اس وقت حضرت نوح علیہ السلام کی امت سے لے کر آپ کی امت تک کے لوگ ہوں گے؟… آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے اعضاء وضو کے اثر سے چمک رہے ہوں گے اور ان کے سوا کسی اور(امت) کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں پہچان لوں گا کہ ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور انہیں پہچان لوں گا کہ ان کے آگے ان کی اولاد دوڑتی ہو گی۔‘‘

153۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رضي اللہ عنھما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي یَوْمَ الْقِیَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَکَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ؟ قَالَ: أَعْرِفُھُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ۔ وَأَعْرِفُھُمْ بِسِيْمَاهُمْ فِي وُجُوْھِھِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ، وَأَعْرِفُھُمْ بِنُوْرِهِمْ یَسْعٰی بَيْنَ أَيْدِيْھِمْ۔

أحمد بن حنبل، المسند، 5: 199، الرقم: 21788

’’حضرت ابو ذر اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہما سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے روز ضرور اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا کہ ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور ان کی پیشانیوں پر سجدوں کا اثر ہوگا اور میں انہیں ان کے نور سے پہچان لوں گا جو ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا۔‘‘

154۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاھِلِيِّ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ: تَخْرُجُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ثُلَّةٌ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ یَسُدُّ الْأُفُقَ نُوْرُھُمْ مِثْلُ الشَّمْسِ فَیُنَادِي مُنَادٍ: اَلنَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَیَتَحَسَّسُ لَھَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَیُقَالُ: مُحَمَّدٌ ﷺ وَأُمَّتُهُ، فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ لَيْسَ عَلَيْھِمْ حِسَابٌ وَلاَ عَذَابٌ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرٰی غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ نُوْرُھُم مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ یَسُدُّ الْأُفُقَ نُوْرُھُمْ، فَیُنَادِي مُنَادٍ: اَلنَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَیَتَحَسَّسُ لَھَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَیُقَالُ: مُحَمَّدٌ ﷺ وَأُمَّتُهُ، فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرٰی غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ نُوْرُھُمْ مِثْلُ أَعْظَمِ کَوْکَبٍ فِي السَّمَاء یَسُدُّ الْأُفُقَ نُوْرُھُمْ، فَیُنَادِي مُنَادٍ: اَلنَّبِيُّ الْأُمِيُّ، فَیَتَحَسَّسُ لَھَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ فَیُقَالُ: مُحَمَّدٌ ﷺ وَأُمَّتُهُ فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ، ثُمَّ یَجِيئُ رَبُّکَ عزوجل ثُمَّ یُوْضَعُ الْمِيْزَانُ وَالْحِسَابُ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8: 173، رقم: 7723
2۔ طبراني، مسند الشامیین، 2: 201، رقم: 185
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 10: 409

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز روشن پیشانیوں اور چمکتے ہاتھ پاؤں والے لوگوں کی ایک جماعت نمودار ہوگی جو افق پر چھا جائے گی۔ ان کا نور سورج کی طرح ہوگا۔ سو ایک ندا دینے والا ندا دے گا ’’نبی اُمّی‘‘ پس اس ندا پر ہر امی نبی متوجہ ہوگا لیکن کہا جائے گا (کہ اس سے مراد) محمد ﷺ اور ان کی امت ہے۔ سو وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ ان پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہوگا۔ پھر اس طرح کی ایک اور جماعت نمودار ہوگی جن کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔ ان کا نور چودھویں کے چاند کی طرح ہوگا اور ان کا نور افق پر چھا جائے گا۔ سو پھر ندا دینے والا ندا دے گا اور کہے گا: نبی اُمّی۔ پس اس ندا پر ہر امّی نبی متوجہ ہوجائے گا لیکن کہا جائے گا: اس ندا سے مراد محمد مصطفی ﷺ اور ان کی امت ہے۔ سو وہ بغیر حساب اور سزا کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح کی ایک اور جماعت نمودار ہوگی ان کی (بھی) پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ ان کا نور آسمان میں بڑے ستارے کی طرح ہوگا ان کا نور افق پر چھا جائے گا۔ پس ندا دینے والا آواز دے گا: ’نبی اُمّی‘ پس اس پر ہر اُمّی نبی متوجہ ہوجائے گا، کہا جائے گا: (اس سے مراد بھی) محمد ﷺ اور ان کی امت ہے۔ پس وہ بغیر حساب اور سزا کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر آپ ﷺ کا رب (اپنی شان کے لائق) تشریف لائے گا۔ پھر میزان وحساب قائم کیا جائے گا۔‘‘

155۔ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أُعْطِيْتُ مَا لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَاءِ۔ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا ھُوَ؟ قَالَ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيْتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَھُوْرًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ۔

1۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6: 304، رقم: 31647
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 98، رقم: 763، 1361
3۔ بیہقي، السنن الکبری، 1: 213، رقم: 965
4۔ لالکائي، اعتقاد أھل السنۃ، 4: 783، رقم: 1443، 1447
5۔ مقدسي، الأحادیث المختارۃ، 2: 348، رقم: 728۔ 729

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے وہ کچھ عطا کیا گیا جو (سابقہ) انبیاء کرام علیھم ا لسّلام میں سے کسی کو عطا نہیں کیا گیا۔ ہم نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: میری رعب و دبدبہ سے مدد کی گئی اور مجھے زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں عطا کی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور مٹی کو بھی میرے لیے پاکیزہ قرار دیا گیا اور میری اُمت کو بہترین اُمت بنایا گیا۔‘‘

156۔ عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنَّ اللهَ زَوَی لِيَ الْأَرْضَ۔ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا۔ وَإِنَّ أُمَّتِي سَیَبْلُغُ مُلْکَھَا مَا زُوِيَ لِيْ مِنْھَا وَأُعْطِيْتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْیَضَ۔ وَإِنِّيْ سَأَلْتُ رَبِّي ِلأُمَّتِي أَنْ لَا یُھْلِکَھَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا یُسَلِّطَ عَلَيْھِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰی أَنْفُسِھِمْ، فَیَسْتَبِيْحَ بَيْضَتَھُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ: یَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ فَإِنَّهُ لَا یُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُکَ لِأُمَّتِکَ أَنْ لَا أَھْلِکَھُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْھِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰی أَنْفُسِھِمْ یَسْتَبِيْحُ بَيْضَتَھُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْھِمْ مَنْ بِأَقْطَارِھَا أَوْ قَالَ: مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِھَا حَتَّی یَکُوْنَ بَعْضُھُمْ یُھْلِکُ بَعْضًا وَیَسْبِي بَعْضُھُمْ بَعْضًا۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضھم ببعض، 4: 2215، رقم: 2889
2۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في سؤال النبي ﷺ ثلاثا في أمتہ، 4: 472، رقم: 2176
3۔ أبو داود في السنن، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، 4: 97، رقم: 4252
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22448، 22505
5۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 109، رقم: 6714
6۔ بزار، المسند، 8: 413، رقم: 3487
7۔ حاکم، المستدرک، 4: 496، رقم: 8390
8۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6: 311، رقم: 31694

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھا۔ عنقریب میری حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لیے زمین لپیٹی گئی۔ مجھے (قیصر و کسریٰ کے) دو خزانے سرخ اور سفید دیئے گئے۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ فرمائے اور ان پر ان کے اپنوں کے سوا کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں مکمل طور پر نیست و نابود کر دے اور بے شک میرے رب نے مجھے فرمایا: اے محمد! میں جب ایک فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے واپس نہیں لوٹایا جا سکتا اور بیشک میں نے آپ کو آپ کی امت کے لیے یہ چیز عطا فرما دی ہے کہ میں انہیں قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور کو ان پر دشمن مسلط کروں گا جو ان کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دے اگرچہ وہ (دشمن) ان کے خلاف ہر طرف سے اکٹھے ہو جائیںیہاں تک کہ ان میں سے بعض بعض کو ہلاک نہ کریں اور بعض بعض کو قیدی نہ بنائیں۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ دنیا و آخرت میں اُمت محمدی ﷺ کے شرف و امتیاز کی مظہر ہیں۔ ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضور ﷺ کی امت ہی سب امتوں سے بہتر ہے۔ اس کے بعد کسی اور نبی کی امت کا امکان تو اس وقت ہوتا جب امتِ مصطفوی ﷺ کی فضیلت میں کوئی کمی رہ جاتی۔ اور اگر اس امت کے بعد کسی نئے نبی کی امت کو آنا ہوتا تو لامحالہ طور پر اس کا زیادہ افضل ہونا لازم ٹھہرتا، مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس امت کو تمام فضیلتیں عطا فرما کر اس میں کسی شبے کا احتمال بھی نہ رہنے دیا کہ قیامت تک امت محمدی ﷺ ہی کے سر پر شرف و فضیلت کا تاج سجا رہے گا۔ اب اس امر میں ذرہ بھر شک کی گنجائش نہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو وہ اس کا دماغی خلل ہے اور ایسا دعویٰ کرنے والا دجال و کذاب اور اس کے پیروکار کافر و زندیق ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ ہی اُمتِ محمدی ﷺ کے نبی ہیں

157۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَابِتٍ رضی اللہ عنہ قَالَ جَاءَ عُمَرُ رضی اللہ عنہ إِلَی النَّبِیِ ﷺ فَقَالُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّی مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ فَکَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ أَ لَا أَعْرِضُهَا عَلَيْکَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَقُلْتُ: أَلَا تَرٰی مَا بِوَجْهِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا وَ بِالإِسْـلَامِ دِيْنًا وَبمُحَمَّدِ ﷺ رَسُوْلًا۔ قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِيٍ بِیَدِهِ لَوْ أَصْبَحَ فِيْکُمْ مُوْسٰی ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْهُ لَضَلَلْتُمْ إِنَّکُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِيِّيْنَ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 470، رقم: 15903
2۔ أیضاً، 4: 265، رقم: 18361
3۔ عبد الرزاق، المصنف، 6: 113، رقم: 10164
4۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 1: 502
5۔ سیوطي، الدر المثور، 2: 553

’’حضرت عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بنی قریظہ میں سے ایک اپنے بھائی کے پاس سے گزرا تو اس نے میرے لیے تورات کی بعض چیزیں لکھیں، کیا وہ چیزیں میں آپ پر پیش نہ کروں، پس حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا۔ حضرت عبد اللہ بیان کرتے کہ میں نے کہا: کیا آپ حضور ﷺ کے چہرہ اقدس کی کیفیت کو نہیں دیکھ رہے؟ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوئے۔ (آپ رضی اللہ عنہ کے اس قول سے) حضور نبی اکرم ﷺ کی کیفیت خوشگوار ہوگئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں موسیٰ علیہ السلام بھی ہوتے اور تم ان کی اتباع بھی کرتے پھر بھی ضرور بضرور تم گمراہ ہوجاتے۔ بے شک امتوں میں سے تم میرا نصیب ہو اور انبیاء میں سے میں تمہارا نصیب ہو۔‘‘

کتبِ حدیث میں درج ذیل الفاظ بھی منقول ہیں:

لَوْ نَزَلَ مُوْسٰی فَاتَّبَعْتُمُوْهُ وَتَرَکْتُمُوْنِيْ لَضَلَلْتُمْ أَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَأَنْتُمْ حَظِّيْ مِنَ الأُمَمِ۔

1۔ بیہقي، شعب الإیمان، 4: 307
2۔ شوکاني، فتح القدیر، 4: 296

’’اگر تم میں موسیٰ علیہ السلام نازل ہوتے اور مجھے چھوڑ کر تم ان کی اتباع کرتے تو تم ضرور بالضرور گمراہ ہوجاتے۔ انبیاء کرام میں سے میں تمہارا نصیب ہوں، اور تم امتوں میں سے میرا نصیب ہو۔‘‘

مذکورہ بالااحادیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ اُمتِ محمدی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا نبی قیامت تک حضور نبی اکرم ﷺ کے علاوہ کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو اس امت کے ساتھ اور اس اُمت کو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے۔ اس امت کو قیامت تک دامن مصطفیٰ کے ساتھ وابستہ رہنے کا شرف عطا کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کوئی اور نبی نہیں آسکتا کہ جس کی پیروی کا حکم دیا جائے۔ جب اس امت میں کوئی اور نبی آ ہی نہیں سکتا تو پھر آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کے دعویٰ نبوت کو کیونکر سچ مانا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے؟

اُمت کے گمراہی پر جمع نہ ہونے سے استدلال

158۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ اللهَ لَا یَجْمَعُ أُمَّتِي (أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ) عَلَی ضَلَالَةٍ، وَیَدُ اللهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَی النَّارِ۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعۃ، 4: 466، رقم: 2167
2۔ حاکم، المستدرک، 1: 201، رقم: 397

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو (یا فرمایا: اُمتِ محمدیہ کو) کبھی گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا اور جماعت پر اللہ تعالیٰ (کی حفاظت) کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعت سے جدا ہوا وہ آگ کی طرف جدا ہوا۔‘‘

159۔ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنَّ اللهَ أَجَارَکُمْ مِنْ ثَـلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا یَدْعُوَ عَلَيْکُمْ نَبِیُّکُمْ فَتَھْلِکُوْا جَمِيْعًا، وَأَنْ لَا یَظْھَرَ أَھْلُ الْبَاطِلِ عَلٰی أَھْلِ الْحَقِّ، وَأَنْ لَا تَجْتَمِعُوْا عَلٰی ضَلَالَةٍ۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب الفتن، باب ذکر الفتن ودلائلھا، 4: 98، رقم: 4253
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 292، رقم: 3440
3۔ طبراني، مسند الشامیین، 2: 442، رقم: 1663

’’حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا: (ایک یہ کہ) تمہارا نبی تمہارے لیے ایسی بد دعا نہ کرے گا کہ تم سارے ہلاک ہو جاؤ۔ (دوسرا یہ کہ) اہلِ باطل اہلِ حق پر(کلیتًا) غالب نہ ہوں گے۔ تیسرا یہ کہ تم گمراہی پر جمع نہیں ہو گے۔‘‘

160۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لَا یَجْمَعُ اللهُ هٰذِهِ الْأُمَّةَ عَلَی الضَّلَالَةِ أَبَدًا وَقَالَ: یَدُ اللهِ عَلؤَی الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوْا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ۔

1۔ حاکم، المستدرک، 1: 199-201، رقم: 391-397
2۔ ابن أبي عاصم، کتاب السنۃ، 1: 39، رقم: 80
3۔ لالکائي، اعتقاد أھل السنۃ، 1: 106، رقم: 154،
4۔ أبونعیم، حلیۃ الأولیائ، 3: 37
5۔ دیلمي، الفردوس بماثور الخطاب، 5: 258، رقم: 8116
6۔ حکیم ترمذي، نوادر الأصول، 1: 4222

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ پس سب سے بڑی جماعت کی اتباع کرو اور جو اس جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں ڈال دیا گیا۔‘‘

161۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَی ضَـلَالَةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ إِخْتِـلَافًا فَعَلَيْکُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب السَّوَادِ الأعْظَمِ، 4: 367، رقم: 3950
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 12: 447، رقم: 13623

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ پس اگر تم ان میں اختلاف دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ سب سے بڑی جماعت (کا ساتھ) اختیار کرو۔‘‘

162۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ أَدْرَکَ بِيَ الْأَجَلَ الْمَرْحُوْمَ وَاخْتَصَرَ لِي اخْتِصَارًا، فَنَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ، إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللهِ وَمُوْسٰی صَفِيُّ اللهِ وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔ وَإِنَّ اللهَ وَعَدَنِي فِيْ أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَـلَاثٍ: لَا یَعَمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا یَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ، وَلَا یَجْمَعُھُمْ عَلَی ضَلَالَةٍ۔

دارمي، السنن، 1: 42، رقم: 54

’’حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کو مرحوم قرار دیا اور اس کی عمر مختصر رکھی۔ سو ہم ہی آخری (اُمت) ہیں اور ہم ہی قیامت کے دن اوّل ہوں گے اور میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور حضرت موسیٰ صفی اللہ ہیں اور میں ہی حبیب اللہ ہوں اور روزِ قیامت میرے پاس ہی حمد کا جھنڈا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے بارے میں مجھ سے تین وعدے فرمائے ہیں اور تین چیزوں سے انہیں نجات عطا فرمائی ہے۔ (اور وہ تین وعدے یہ ہیں) ان پر عام قحط سالی مسلط نہیں فرمائے گا اور کوئی دشمن انہیں ختم نہیں کرسکے گا اور انہیں گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا۔‘‘

مذکورہ بالا تمام احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ اُمتِ محمدی علی صاحبھا الصّلوٰۃ والسّلام کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ اس اُمت کی اکثریت ہمیشہ راهِ حق پر گامزن رہے گی۔ نئے نبی کی آمد اس وقت ہوتی ہے کہ جب کسی قوم کی اکثریت گمراہی اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا اس اُمت پر خاص کرم ہے کہ یہ قیامت تک گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اس اُمت کے افراد ضلالت و گمراہی سے محفوظ ومامون رہیں گے۔ لهٰذا کسی نئے نبی کی آمد کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔ اس حوالہ سے یہ احادیث بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی دلیل ہیں۔

امتِ محمدی ﷺ کے شرک میں مبتلا نہ ہونے سے استدلال

163۔ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلٰی قَتْلٰی أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِيَ سِنِيْنَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْیَاء وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيْکُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْکُمْ شَھِيْدٌ، وَإنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي ھٰذَا، وَإِنِّي لَسْتُ

أَخْشٰی عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوْا، وَلٰـکِنِّي أَخْشٰی عَلَيْکُمُ الدُّنْیَا أَنْ تَنَافَسُوْھَا قَالَ: فَکَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُھَا إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المغازي، باب غزوۃ أحد، 4: 1486، رقم: 3816
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہ، 4: 1796، رقم: 2296
3۔ أبو داود، السنن، کتاب الجنائز، باب المیت یصلي علی قبرہ بعد حین، 3: 216، رقم: 3224
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 154
5۔ طبراني، المعجم الکبیر، 17: 279، رقم: 768
6۔ بیہقي، السنن الکبری، 4: 14، رقم: 6601
7۔ شیباني، الآحاد والمثاني، 5: 45، رقم: 2583

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے شہداء اُحد پر آٹھ سال بعد (دوبارہ) اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رَو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا تو ڈر ہی نہیں ہے کہ تم شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیا داری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم ﷺ کا آخری دیدار تھا۔‘‘

164۔ عَنْ عُقَبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَھِیدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلٰی حَوْضِي الْاٰنَ، وَإِنِّي أُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْمَفَاتِيْحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِي وَلٰـکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوْا فِیھَا۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإِسلام، 3: 1317، رقم: 3401
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الرقاق، باب ما یحذر من زھرۃ الدنیا والتنافسِ فیھا، 5: 2361، الرقم: 6061
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہ، 4: 1795، رقم: 2296
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 153

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ اللہ رب العزت کی قسم! میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا: زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور اللہ رب العزت کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔‘‘

165۔ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إنِّي لَسْتُ أَخْشٰی عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِي، وَلٰـکِنِّي أَخْشٰی عَلَيْکُمُ الدُّنْیَا أَنْ تَنَافَسُوْا فِيْھَا، وَتَقْتَتِلُوْا فَتَھْلِکُوْا کَمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ۔ قَالَ عُقْبَةُ: فَکَانَ اٰخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہ، 4: 1796، رقم: 2296
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 17: 279، رقم: 769

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق اس بات کا تو ڈر ہی نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے ڈر ہے کہ تم دنیا کی محبت میں گرفتار ہو جاؤ گے اور آپس میں لڑو گے اور ہلاک ہو گے جیسا کہ تم سے پہلے لوگ ہوئے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آخری بار تھی جب میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو منبر پر جلوہ افروز دیکھا۔‘‘

تاریخ انبیاء شاہد عادل ہے کہ دنیا میں جب بھی لوگ توحید باری تعالیٰ کا پیغام بھلا کر کفر و شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے کسی نہ کسی نئے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا۔ یہ سلسلہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثت تک جاری رہا۔ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد انبیاء کی آمد کا یہ سلسلہ اختتام پذیرہو گیا اور کسی نئے نبی کی بعثت کی ضرورت نہ رہی، کیونکہ اس امت کے شرک میں مبتلا ہونے کا خوف نہیں۔ مذکورہ بالا احادیث مبارکہ اسی حقیقت کے بیان پر مشتمل ہیں۔

اُمّت میں اَئمہ مجدّدین کے بھیجے جانے سے استدلال

166۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ عزوجل یَبْعَثُ لِھٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِيْنَھَا۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب الملاحم، باب ما یذکر فی قرن المئۃ، 4: 109 رقم: 4291
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4: 567، 568، رقم: 8592، 8593
3۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 223، رقم: 6527
4۔ دیلمي، مسند الفردوس، 1: 148، رقم: 532
5۔ دانی، السنن الواردۃ فی الفتن، 3: 742، رقم: 364
6۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق الکبیر، 51: 388، 341
7۔ خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 2: 61

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس (علم) میں سے جو آپ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سیکھا، روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (امت) کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘

167۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ أَدْنَی الرِّیَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَی اللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی اَلْأَتْقِیَاءُ الْأَخْفِیَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ یُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَھِدُوْا لَمْ یُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْھُدٰی وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ۔

1۔ حاکم، المستدرک، 3: 303، رقم: 5182
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 20: 36، رقم: 53
3۔ طبراني، المعجم الأوسط، 5: 163، رقم: 4950
4۔ قضاعي، مسند الشہاب، 2: 252، رقم: 1298
5۔ بیھقي، کتاب الزھد، 2: 112

168۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيْدٍ۔

1۔ بیہقي، کتاب الزھد الکبیر، 2: 118، رقم: 207
2۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیاء 8: 200
3۔ دیلمي، مسند الفردوس، 4: 198، رقم: 6608
4۔ منذري، الترغیب والترھیب، 1: 41، رقم: 65
5۔ ذہبي، میزان الاعتدال، 2: 270
6۔ مزي، تھذیب الکمال، 24: 364

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اس وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھاما جب میری امت فساد میں مبتلا ہو چکی ہو گی تو اس کے لئے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے۔‘‘

169۔ عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ رضی اللہ عنہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ: إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَیَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ قِيْلَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: اَلَّذِيْنَ یُحْیُوْنَ سُنَّتِيْ وَیُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اللهِ۔

1۔ قضاعي، مسند الشہاب، 2: 138، رقم: 1052، 1053
2۔ بیہقي، کتاب الزھد الکبیر، 2: 117، رقم: 205
3۔ سیوطي، مفتاح الجنۃ، 1: 67

’’حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک دین (یا فرمایا: اسلام) کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور غریبوں میں ہی لوٹے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا، سو غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! غرباء کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میری سنتوں کو زندہ کرتے اور اللہ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘

170۔ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : رَحْمَةُ اللهِ عَلَی خُلَفَائِي ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا: وَمَنْ خُلَفَاؤُکَ یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: اَلَّذِيْنَ یُحْیُوْنَ سُنَّتِي وَیُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ۔

1۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق الکبیر، 51: 61
2۔ ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ، 1: 46
3۔ ہندی، کنز العمال، 10: 229، الرقم: 29209

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے خلفاء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ یہ تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ (لوگ) جو میری سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘

پہلی امتوں میں یہ نظام تھا کہ جب لوگ کسی نبی کی تعلیمات کو فراموش کر دیتے توایک نیا نبی مبعوث کر دیا جاتا جو انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلاتا۔ امتِ محمدی ﷺ کا نظام اس سے قطعاً مختلف ہے۔ اس امت کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نبی نہیں بھیجے جائیں گے بلکہ مجددین بھیجے جائیں گے جو اصلاحِ احوال کا فریضہ سر انجام دیں گے۔ مذکورہ بالا احادیث اسی مضمون کو بیان کر رہی ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ کی امت میں تجدید و احیائے دین کا کام قیامت تک ائمہ و مجددین اور صلحاء امت کریں گے۔ اس مقصد کے لئے کسی پہلی امتوں کی طرح انبیاء کو مبعوث نہیں کیا جائے گا۔

اہلِ بیت اَطہار کے ذریعہ نجات ہونے سے استدلال

171۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنِّي تَارِکٌ فِيْکُمْ خَلِيْفَتَيْنِ: کِتَابَ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاء إِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَھْلَ بَيْتِي، وَإِنَّھُمَا لَنْ يَّتَفَرَّقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 181، رقم: 21618
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 162

’’حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک میں تم میں دو نائب چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب جو کہ آسمان و زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی (کی طرح) ہے اور میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت اور یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک یہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچ جاتے۔‘‘

172۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَیُّھَا النَّاسُ! إِنِّي تَارِکٌ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا إِنِ اتَّبَعْتُمُوْھُمَا، وَھُمَا: کِتَابُ اللهِ، وَأَھْلُ بَيْتِيْ عِتْرَتِي۔ ثُمَّ قَالَ: أَ تَعْلَمُوْنَ أَنِّي أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوْا: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 118، رقم: 4577

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور اگر تم ان کی اتباع کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو میں مؤمنین کی جانوں سے بڑھ کر انہیں عزیز ہوں آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہاں، یا رسول اللہ ! تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔‘‘

173۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی اللہ عنہ في رِوَایَةٍ طَوِيْلَةٍ: قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : انْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُوْنِيْ فِي الثَّقَلَيْنِ۔ فَنَادٰی مُنَادٍ: وَمَا الثَّقَلاَنِ یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: کِتَابُ اللهِ طَرَفٌ بِیَدِ اللهِ وَطَرَفٌ بِأَيْدِيْکُمْ فَاسْتَمْسِکُوْا بِهِ لاَ تَضِلُّوْا، وَالآخَرُ عِتْرَتِي وَإِنَّ اللَّطِيْفَ الْخَبِيْرَ نَبَّأَنِي أَنَّھُمَا لَنْ يَّتَفَرَّقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، سَأَلْتُ رَبِّي ذٰلِکَ لَھُمَا، فَلاَ تَقَدَّمُوْھُمَا فَتَھْلِکُوْا، وَلاَ تَقْصُرُوْا عَنْھُمَا فَتَھْلِکُوْا، وَلَا تُعَلِّمُوْھُمْ فَإِنَّھُمْ أَعْلَمُ مِنْکُمْ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: مَنْ کُنْتُ أَوْلَی بِهِ مِنْ نَفْسِي فَعَلِيٌّ وَلِیُّهٗ۔ اَللّٰهُمَّ، وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ۔

طبراني، المعجم الکبیر، 5: 166، رقم: 4971

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پس یہ دیکھو کہ تم دو بھاری چیزوں میں مجھے کیسے باقی رکھتے ہو۔ پس ایک نداء دینے والے نے ندا دی کہ یا رسول اللہ ! وہ دو بھاری چیزیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب جس کا ایک کنارا اللہ عزوجل کے ہاتھ میں اور دوسرا کنارا تمہارے ہاتھوں میں ہے پس اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے اور دوسری چیز میری عترت ہے اور بے شک اس لطیف خبیر رب تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں چیزیں کبھی بھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ میرے پاس حوض پر حاضر ہوں گی اور ایسا ان کے لئے میں نے اپنے رب سے مانگا ہے۔ پس تم لوگ ان پر پیش قدمی نہ کرو کہ ہلاک ہو جاؤ اور نہ ہی ان سے پیچھے رہو کہ ہلاک ہو جاؤ اور نہ ان کو سکھاؤ کیونکہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: پس میں جس کی جان سے بڑھ کر اسے عزیز ہوں تو یہ علی اس کا مولیٰ ہے اے اللہ ! جو علی کو اپنا دوست رکھتا ہے تو اسے اپنا دوست رکھ اور جو علی سے عداوت رکھتا ہے تو اس سے عداوت رکھ۔‘‘

174۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَإَحْسِنُوْا الصَّـلَاةَ عَلَيْهِ فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْرُوْنَ لَعَلَّ ذٰلِکَ یُعْرَضُ عَلَيْهِ۔ قَالَ: فَقَالُوْا لَهُ: فَعَلِّمْنَا قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صَـلَا تَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلَی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَةِ، اَللّٰھُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا یَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ، اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاھِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدُ مَجِيْدٌ اَللّٰھُمُّ بَارِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاھِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔

1۔ ابن ماجۃ، السنن، کتاب إقامۃ الصّلاۃ والسنۃ فیھا، باب الصلاۃ علی النبي ﷺ، 1: 293، رقم: 906
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 2: 214، رقم: 3112
3۔ أبو یعلی، المسند، 9: 175، رقم: 5267
4۔ طبراني، المعجم الکبیر، 9: 115، رقم: 8594
5۔ بیہقي، شعب الإیمان، 2: 208، رقم: 1550
6۔ منذری، الترغیب والترھیب، 2: 329، رقم: 2588

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں درودِ پاک کا نذرانہ پیش کرو تو نہایت خوبصورت انداز سے پیش کیا کرو کیونکہ شاید تم نہیں جانتے کہ یہ (ہدیہ درود) آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے تو بیان کیا کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: تو آپ ہی ہمیں (کوئی خوبصورت طریقہ) سکھا دیں تو انہوں نے فرمایا: تم اس طرح کہو: اے اللہ ! تو اپنے درود، رحمتیں اور (تمام) برکتیں تمام رسولوں کے سردار، تمام پرہیزگاروں کے امام اور انبیاء کے خاتم (یعنی سب سے آخری نبی) تیرے (خاص) بندے اور (سچے) رسول تمام خیر اور بھلائیوں کے امام و قائد (یعنی تمام بھلائیاں جن کے نقش پا سے جنم لیتی ہیں) اور رسول رحمت (وبرکت) کے لئے خاص فرما، اے اللہ ! حضور نبی اکرم ﷺ کو اس مقام محمود پر فائز فرما (جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور) جس پر تمام اولین و آخرین (یعنی تخلیق کائنات سے روزِ قیامت تک) کے تمام لوگ رشک کریں گے، اے اللہ ! تو درود بھیج حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی آل پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ ! تو برکت عطا فرما حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کو جیسا کہ تو نے برکت عطا فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

175۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي اللہ عنھما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: یَا أَیُّھَاالنَّاسُ! إِنِّي قَدْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوْا: کِتَابَ اللهِ، وَعِتْرَتِي أَھْلَ بَيْتِيْ۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب مناقب أھل بیت النبي ﷺ، 5: 662، رقم: 3786
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 5: 89، رقم: 4757
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 66، رقم: 2680
4۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 4: 114

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضور نبی اکرم ﷺ فرمارہے تھے: اے لوگو! میں تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم انہیں پکڑے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ (ان میں سے ایک) اللہ تعالیٰ کی کتاب اور (دوسری چیز) میرے گھر والے ہیں۔‘‘

176۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي اللہ عنہما قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فِي حَجَّتِهٖ یَوْمَ عَرَفَةَ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِهِ الْقَصْوَاء یَخْطُبُ فَسَمِعْتُهٗ یَقُوْلُ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ! إِنِّيْ قَدْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوْا، کِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَھْلَ بَيْتِي۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب مناقب أھل بیت النبي ﷺ، 5: 662، رقم؛ 3786
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 5: 89، رقم: 4757
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 66، رقم: 2680
4۔ حکیم ترمذي، نوادر الأصول، 1: 258
5۔ قزویني، التدوین في أخبار قزوین، 2: 266

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دورانِ حج عرفہ کے دن دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی قصواء پرسوار خطاب فرما رہے ہیں۔ پس میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور وہ چیز کتاب اللہ اور میری عترت اہلِ بیت ہیں۔‘‘

177۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اَلنُّجُوْمُ أَمَانٌ ِلأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرْقِ وَأَهْلُ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي مِنَ الإِخْتِلاَفِ، فَإِذَا خَالَفَتْهَا قَبِيْلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ اخْتَلَفُوْا فَصَارُوْا حِزْبَ إِبْلِيْسَ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 162، رقم: 4715

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ستارے اہلِ زمین کو غرق ہونے (یعنی گم ہونے اور بھٹکنے) سے بچانے والے ہیں اور میرے اہلِ بیت میری امت کو اختلاف سے بچانے والے ہیں اور جب کوئی قبیلہ ان کی مخالفت کرتا ہے تو اس میں اختلاف پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شیطان کی جماعت میں سے ہو جاتا ہے۔‘‘

178۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنھما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَثَلُ أَھْلِ بَيْتِيْ مَثَلُ سَفِینَةِ نُوْحٍ عليه السلام، مَنْ رَکِبَ فِيْھَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ۔ وفي روایۃ: عَنْ عَبْدِ اللهَ بْنِ الزُّبَيْرِ رضي اللہ عنھما قَالَ: مَنْ رَکِبَھَا سَلِمَ، وَمَنْ تَرَکَھَا غَرِقَ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 12: 34، رقم: 2388،
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 4: 10، رقم: 3478
3۔ طبراني، المعجم الأوسط، 5: 355، رقم: 5536
4۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 85، رقم: 5870
5۔ طبراني، المعجم الصغیر، 1: 240، رقم: 391
6۔ طبراني، المعجم الصغیر، 2: 84، رقم: 825
7۔ بزار، المسند، 9: 343، رقم: 3900
8۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 163، رقم: 4720
9۔ دیلمي، مسند الفردوس، 1: 238، رقم: 916
10۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 168

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو اس میں سوار ہوا وہ سلامتی پا گیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ غرق ہو گیا۔‘‘

179۔ عَنِ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَثَلُ أَھْلِ بَيْتِيْ مَثَلُ سَفِيْنَةِ نُوْحٍ علیہ السلام: مَنْ رَکِبَ فِيْهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ، وَمَنْ قَاتَلَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَکَأَنَّمَا قَاتَلَ مَعَ الدَّجَّالِ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 45، رقم: 2637
2۔ قضاعي، مسند الشہاب، 2: 273، رقم: 1343
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 168

’’حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے جو اس میں سوار ہو گیا نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہوگیا اور آخری زمانہ میں جو ہمیں (اہلِ بیت کو) قتل کرے گا گویا وہ دجال کے ساتھ مل کر قتال کرنے والا ہے (یعنی وہ دجال کے ساتھیوں میں سے ہے)۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہے کہ صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت امت کی پیشوائی و رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ اہل بیت عظام اور قرآن کریم باہم یک دگر لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن اہل بیت سے جدا نہیں اور اہل بیت قرآن سے جدا نہیں۔ قرآن کو صحیح معنوں میں سمجھنے والے بھی یہی ہیں اور اس کے احکام پر کما حقہ عمل کرنے والے بھی یہ ہیں۔ اہل بیت اور قرآن کی یہ رفاقت قیامت تک قائم ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت امت کی رہنمائی قیامت تک جاری و ساری ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے امت کی ہدایت کے لئے کسی نئے نبی کی ضروت نہیں۔ اہل بیتِ اطہار درحقیقت فیض نبوت محمدی ﷺ کے امین ہیں جن کے نفوس قدسیہ سے ہر خاص وعام مستفیض ہو رہا ہے۔ اسی طرح اہل بیتِ محمدی ﷺ قیامت تک امت کے لئے امان اور ذریعہ نجات ہیں۔ جو ان کے دامن سے وابستہ ہو گیا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب وکامران ہو گیا۔ جو اِن سے اعراض کرے گا وہ ذلیل و رسو ا ہو کر تباہ و برباد ہو گا۔

احادیث مبارکہ میں اہل بیت کا ذکر قرآن حکیم کے ساتھ کیا گیا ہے جس سے یہ نکتہ اخذ ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن حکیم تاقیامت امت کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت تا قیامت امت کے لیے ذریعہ نجات ہیں لهٰذا امت محمدی ﷺ کو کسی نئے نجات دہندہ کی ضرورت نہیں۔ اگر حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کو آنا ہوتا تو اہلِ بیت محمدی ﷺ کے ساتھ اس کے اہلِ بیت کو بھی ذریعہ نجات قرار دیا جاتا۔ مگر احادیث مبارکہ میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔

محشر میں حضور نبی اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت کا تذکرہ

حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا علم ہر نبی اور ہر قوم کو تھا۔ اس کا اظہار وہ دنیا میں بھی کرتے رہے اور قیامت کے دن بھی کریں گے۔ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ میدان محشر میں جہاںآپ کی دیگر شانوں کے تذکرے ہوں گے وہاں آپ ﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ بھی عام ہو گا۔

 (1) حدیثِ شفاعت میں ختم نبوت کا تذکرہ

180۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ فِيْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: فَیَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا ﷺ فَیَقُولُونَ: یَا مُحَمَّدُ! أَنْتَ رَسُوْلُ اللهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِیَاء وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب التفسیر، باب ذریۃ من حملنا مع نوح إنہ کان عبدا شکورا، 4: 1745۔ 1746، رقم: 4435
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃمنزلۃ فیھا، 1: 185، رقم: 194
3۔ ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب صفۃ القیامۃ والورع، باب ما جاء في الشفاعۃ، 4: 622، رقم: 2434
4۔ ابن حبان کی ’الصحیح (14: 282، رقم: 6465)‘ میں خاتم النبیین کے الفاظ ہیں۔
5۔ نسائي، السنن الکبری، 6: 378، رقم: 11286
6۔ ابو عوانہ، المسند، 1: 148، رقم: 437
7۔ ابن راھویہ، المسند، 1: 228، رقم: 184

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ حضور نبی اکر م ﷺ نے فرمایا: چنانچہ لوگ محمد (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوں گے، اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور انبیاء کرام میں سب سے آخری ہیں! اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے تھے لهٰذا اپنے رب کے حضور!ہماری شفاعت فرمائیے۔‘‘

181۔ عَنْ سَلْمَانَ رضی اللہ عنہ فِي حَدِيْثِ الشَّفَاعَةِ فَیَاْ تُوْنَ مُحَمَّدًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَا نَبِيَّ اللهِ! فَتَحَ اللهُ بِکَ وَخَتَمَ وَغُفِرَلَکَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ۔

1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 308، رقم: 31675
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 6: 247، رقم: 6117
3۔ ابن أبي عاصم، السنۃ، 2: 384، رقم: 813

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے حدیثِ شفاعت میں روایت ہے کہ لوگ حضرت محمد ﷺ کی بارگاہ میں آئیں گے اور پھر عرض کریں گے: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے (سلسلہ نبوت) کھولا اور بند کیا اور آپ کے صدقے تمام اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے۔‘‘

182۔ عَنْ أَبِيْ نَضْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا بْنُ عَبَّاسٍ عَلٰی مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ … فَیَأْتُوْنَ عِيْسٰی فَیَقُوْلُوْنَ: یَا عِيْسٰی! اشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ فَلْیَقْضِ بَيْنَنَا فَیَقُوْلُ إِنِّي لَسْتُ ھُنَاکُمْ إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلٰـھًا مِنْ دُوْنِ اللهِ وَإِنَّهٗ لَا یَھُمُّنِيْ الْیَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلٰـکِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ کَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاء مَخْتُوْمٍ عَلَيْهِ أَکَانَ یُقْدَرُ عَلٰی مَا فِي جَوْفِهِ حَتّٰی یُفَضَّ الْخَاتَمُ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: لَا قَالَ: فَیَقُوْلُ: إِنَّ مُحَمَّدًا ﷺ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَقَدْ حَضَرَ الْیَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : فَیَأْتُوْنِي فَیَقُوْلُوْنَ: یَا مُحَمَّدُ! اشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ فَلْیَقْضِ بَيْنَنَا فَأَقُوْلُ: أَنَا لَھَا حَتّٰی یَأْذَنَ اللهُ عزوجل لِمَنْ يَّشَاء وَیَرْضٰی فَإِذَا أَرَادَ اللهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنْ يَّصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادٰی مُنَادٍ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ فَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ یُّحَاسَبُ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 281، رقم: 2546
2۔ أبو یعلی، المسند، 4: 216، رقم: 2328
3۔ مروزي، تعظیم قدر الصّلاۃ، 1: 274
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 10: 372

’’حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: … پس لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے عیسیٰ! اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کر دیجئے کہ ہمارا فیصلہ فرمائے۔ اس پر وہ کہیں گے: میں اس کام کے لیے نہیں ہوں کیونکہ (دنیا میں) اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا یا گیا لیکن کیا تم جانتے ہو کہ اگر کسی برتن کو بند کر کے اس پر مہر لگا دی جائے تو کیا اس برتن کی چیز کو اس وقت تک لے سکتے ہیں جب تک کہ اس کی مہر نہ توڑی جائے۔ لوگ کہیں گے کہ ایسا تو نہیں ہو سکتا پھر عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ پس محمد ﷺ جو انبیاء کے خاتمہ پر بمنزلہ مہر کے ہیں، آج تشریف فرما ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے تھے۔ (تم ان کے پاس جاؤ) حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ سن کر میرے پاس آئیں اور کہیں گے کہ یا محمد! آپ ہی ہماری شفاعت فرمائیے تاکہ ہمارا حساب ہو جائے میں کہوں گا کہ ہاں میں ہوں شفاعت کے لئے۔ پھر جب اللہ عزوجل فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا، کہاں ہیں أحمد اور ان کی امت؟ پس ہم ہی سب سے آخری اور سب سے پہلے ہیں، ہم سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے حساب ہمارا ہو گا۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ روز قیامت ساری امتیں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک باری باری سب نبیوں کے پاس حاضر ہو کر قیامت کی ہولناکیوں سے نجات کے لئے شفاعت کی درخواست کریں گی۔ جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بارگا ہ میں حاضر ہوں گی تو وہ انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بھیج دیں گے۔ وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئیں گے تو آپ ﷺ فرمائیں گے کہ میں اسی کام لئے ہوں، آپ ﷺ انہیں کسی دوسرے نبی کے پاس نہیں بھیجیں گے۔ اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ روز محشر تمام امتوں کو اس کی طرف بھیجتے۔ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ان احادیث میں خاتم النبیین کے صریح الفاظ بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے آئینہ دار ہیں۔

 (2) حضور ﷺ اور آپ کی امت کی گواہی پر قومِ نوح کا تعجب!

183۔ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ ذَکَرَ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ سَبْعَةِ رَهْطٍ شَهِدُوْا بَدْرًا قَالَ وَهْبٌ وَقَدْ حَدَّثَنِيْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ کُلُّهُمْ رَفَعُوْا الْحَدِيْثَ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ (ومن ھذ الحدیث) فَیَقُوْلُ نُوْحٌ لِمُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ ھَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّيْ بَلَّغْتُ قَوْمِي الرِّسَالَةَ وَاجْتَھَدْتُ لَھُمْ بِالنَّصِيْحَةِ وَجَھَدْتُ أَنِ اسْتَنْقِذَھُمْ مِنَ النَّارِ سِرًّا وَجِھَارًا فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَائِی إِلَّا فَرَارًا فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ ألله ﷺ وَأُمَّتُهُ فَإِنَّا نَشْھَدُ بِمَا نَشَدْتَنَا بِهِ إِنَّکَ فِي جَمِيْعِ مَا قُلْتَ مِنَ الصَّادِقِيْنَ فَیَقُوْلُ قَوْمُ نُوْحٍ وَأَنّٰی عَلِمْتَ هٰذَا یَا أَحْمَدُ! اَنْتَ وَأُمَّتُکَ وَنَحْنُ أَوَّلُ الْأُمَمِ وَأَنْتَ وَأُمَّتُکَ آخِرُ الْأُمَمِ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 597، رقم: 4012
2۔ ہندی، کنز العمال، 2: 641، رقم: 4680

’’حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت حسن بن ابی الحسن نے سات بدری صحابہ کرام سے روایت کیا، اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا اور اس حدیث کو تمام لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مرفوعًا روایت کیا ہے۔ (اس حدیث میں سے یہ ہے) کہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی امت سے کہیں گے: کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو (الوہی) پیغام پہنچا دیا تھا اور ان کی خیر خواہی کے لئے انتھک محنت کی اور انہیں دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے پوشیدہ اور اعلانیہ جدوجہد کی، مگر انہوں نے میری پکار کے جواب میں راهِ فرار اختیار کی۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اُمت جواب دیں گے کہ جو کچھ آپ نے فرمایا ہے سچ ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہے گی: یا احمد (ﷺ)! آپ نے اور آپ کی اُمت نے (ہمارے بارے میں) کہاں سے جانا حالانکہ ہم پہلی امت ہیں جبکہ آپ آخری رسول اور آپ کی امت آخری امت ہے۔‘‘

اِس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی اور اُمت محمدی ﷺ آخری امت ہے۔

یہ گواہی دو کہ میں خاتمِ انبیاء و رُسل ہوں

184۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِيْ قِصَّةٍ طَوِيْلَةٍ لَّهُ حِینَ جَائَتْ عَشِيْرَتُهُ یَطْلُبُوْنهُ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ فَقَالُوْا لَهُ: إِمْضِ مَعَنَا یَا زَيْدُ فَقَالَ: مَا أُرِيْدُ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ بَدَلًا وَلَا غَيْرِهٖ أَحَدًا فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّا مُعْطُوْکَ بِهٰذَا الْغُلَامِ دِيَّاتٍ فَسَمِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّا حَامِلُوْهُ إِلَيْکَ فَقَالَ: أَسْئَلُکُمْ أَنْ تَشْهَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَأَنِّي خَاتَمُ أَنْبِیَائِهِ وَرُسُلِهِ وَأُرْسِلُهُ مَعَکُمُ۔

حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 235، رقم: 4946

’’حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ان کے ایک طویل واقعہ میں ہے کہ ان کے قبول اسلام کے بعد جب ان کا خاندان انہیں لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ تو انہوں نے حضرت زید سے کہا: اے زید! ہمارے ساتھ چلو تو انہوں نے کہا: میں نہ تو رسول اللہ ﷺ کے بدلہ میں کچھ لیناچاہتا ہوں اور نہ آپ ﷺ کے سوا کسی کے پاس جانا ہی چاہتا ہوں چنانچہ ان کے خاندان والوں نے کہا: اے محمد! ہم اس لڑکے کے بدلے آپ کو ہر طرح کا معاوضہ دیں گے۔ آپ جس چیز کا نام لیں گے ہم آپ کی خدمت میں حاضر کر دیں گے تو اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم سے صرف اس بات کا مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل کا خاتم ہوں۔ پس میں اس لڑکے کو تمہارے ساتھ روانہ کر دوں گا۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے خاندان سے شہادت توحید کے ساتھ اپنے خاتم الأنبیاء و الرسل ہونے کی شہادت طلب فرما کر عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت کو مزید اجاگر فرما دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کے شانوں پر ختمِ نبوت کی شہادت

185۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَيْنَ کَتِفَيْ اٰدَمَ مَکْتُوْبٌ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ۔

1۔ حلبي، السیرۃ الحلبیۃ، 1: 360
2۔ سیوطي، الخصائص الکبری، 1: 14

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کے شانوں کے درمیان لکھا ہوا تھا: محمد رسول اللہ خاتم النبین۔‘‘

یہ روایت حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر صراحتاً دلالت کر رہی ہے۔

186۔ (مِنْ حَدِيْثٍ طَوِیلٍ عَنْ وَھْبِ بنِ مُنَبِّهٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ:) وتَعْمَرُهٗ یَا اٰدَمُ مَا کُنْتَ حَیًّا تَعْمَرُهُ مِنْ بَعْدِکَ الْأُمَمُ وَالْقُرُوْنُ وَالْأَنْبِیَاء مِنْ وَلَدِکَ أُمَّةً بَعْدَ أُمَّةٍ وَقَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ وَنَبِیًّا بَعْدَ نَبِيٍّ حَتّٰی یَنْتَهِیَ ذٰلِکَ إِلٰی نَبِيٍّ مِنْ وَلَدِکَ یُقَالُ لَهٗ مُحَمَّدٌ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ۔

1۔ بیہقي، شعب الإیمان، 3: 433، رقم: 3985
2۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 7: 264
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 3: 288

’’ (حضرت وہب بن منبہ اور حضرت معاذ بن جبل رضي اللہ عنھما سے مروی ایک طویل حدیث قدسی میں ہے:) اے آدم! جب تک آپ زندہ رہیں گے میرے اس گھر (خانہ کعبہ) کو آباد کریں گے اور آپ کے بعد آپ کی اولاد میں سے مختلف گروہ، طبقات اور انبیاء ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ اور ایک طبقے کے بعد دوسرا طبقہ اور ایک نبی کے بعد دوسرا نبی اسے آباد کریں گے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ آپ کی اولاد میں سے حضرت محمد ﷺ تک پہنچے گا اور (ان کی شان یہ ہے کہ) وہ تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث قدسی میں حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین کے الفاظ سے یاد فرمایا گیا جو اس معنی پر صراحةً دلالت کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ سلسلہ انبیاء کو ختم فرمانے والے ہیں۔ اس حدیث میں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ نبی سب امتوں اور نبیوں کے بعد تشریف لائیں گے۔

ختمِ نبوتِ محمدی ﷺ پر ایک راہب کی گواہی

187۔ عَنْ خَلِيْفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ رَبِيْعَةَ بْنِ سُوَاء ةَ بْنِ جُشْمٍ کَيْفَ سَمَّاکَ أَبُوْکَ مُحَمَّدٌ فِي الْجَاھِلِيَّةِ قَالَ: أَمَا إِنِّيْ قَدْ سَأَلْتُ أَبِيْ عَمَّا سَأَلْتَنِيْ عَنْهُ فَقَالَ خَرَجْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ مِنْ بَنِيْ تَمِيْمٍ أَنَا أَحَدُھُمْ وَسُفْیَانُ بْنُ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ وَأُسَامَةَ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ الْعَنْبَرِ وَیَزِيْدُ بْنُ رَبِيْعَةَ بْنِ کَنَابِيَّةَ بْنِ حَرْقُوْصِ بْنِ مَازِنٍ بِزَيْدِ بْنِ جِفْنَةَ بْنِ مَالِکِ بْنِ غَسَّانَ بِالشَّامِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ نَزَلْنَا عَلَی غَدِيْرٍ عَلَيْهِ شَجَرَاتٌ لِدَيْرَانِيِّ یَعْنِيْ صَاحِبَ صَوْمَعَةٍ فَقُلْنَا لَوِ اغْتَسَلْنَا مِنْ هٰذَا الْمَائِ وَادَّھَنَّا وَلَبِسْنَا ثِیَابَنَا ثُمَّ أَتَيْنَا صَاحِبَنَا فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا الدَّيْرَانِيُّ فَقَالَ إِنَّ هٰذِهِ لُغَّةٌ مَا هِيَ بِلُغَّةِ أَهْلِ الْبَلَدِ فَقُلْنَا نَعَمْ نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ مِنْ أَيِّ مُضَرَ قُلْنَا مِنْ خِنْدِفٍ قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَیُبْعَثُ مِنْکُمْ وَشِيْکًا نَبِيٌّ فَسَارِعُوْا وَخُذُوْا بِحَظِّکُمْ مِنْهُ تَرْشُدُوْا فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ فَقُلْنَا مَا اسْمُهُ؟ فَقَالَ مُحَمَّدٌ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ ابْنِ جِفْنَةَ وُلِدَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا قَالَ الْعَلَاءُ قَالَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ لِلنَّبِيِّ ﷺ تَدْرِيْ مَنْ أَوَّلُ مَنْ عَلِمَ بِکَ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ تُبْعَثَ قَالَ لَا قَالَ بَنُوْ تَمِيْمٍ وَقَصَّ عَلَيْهِ هٰذِهِ الْقِصَّةَ۔

1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 17: 111، رقم: 273
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 423، رقم: 13888
3۔ ابن کثیر، البدایہ والنھایہ، 2: 331
4۔ عسقلاني، الاصابۃ في تمییز الصحابۃ، 6: 25، 338
5۔ سیوطي، الخصائص الکبري، 1: 40
6۔ حلبي، السیرۃ الحلبیۃ، 1: 133

’’خلیفہ بن عبدہ بن جرول کہتے ہیں میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ بن سوائۃ بن جشم سے پوچھا: تمہارے باپ نے جاہلیت میں تمہارا نام محمد کیسے رکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے یہی سوال پوچھا جو تم مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے کہا: ہم بنو تمیم سے چار افراد نکلے، میں ان میں چوتھا تھا۔ دیگر افراد میں سفیان بن مجاشع بن دارم اور اسامہ بن مالک بن جندب بن العنبر اور یزید بن ربیعہ بن کنابیہ بن حرقوص بن مازن، ہم زید بن جفنہ بن مالک بن غسان کے ساتھ شام کی طرف سفر کے لیے گئے۔ پس جب ہم شام پہنچ گئے تو ہم ایک تالاب کے پاس اترے جس پرایک راہب کے درخت تھے۔ ہم نے کہا: پہلے ہم اس پانی سے غسل کرتے ہیں، تیل لگاتے ہیں اور کپڑے پہنتے ہیں، پھر اپنے صاحب کے پاس آئیں گے۔ ہمیں راہب نے دیکھا تو کہا: تمہاری زبان اس ملک والوں کی زبان نہیں ہم نے کہا: ہاں ہم مضر قبیلے سے ہیں اس نے کہا کہ کس مضر سے ہم نے کہا خندف سے۔ اس نے کہا: تو سنو! عنقریب تمہاری قوم میں سے ایک نبی مبعوث ہوں گے۔ پس جلدی کرو اور (اس خوش بختی میں سے) اپنا حصہ لے لو۔ تم ان سے ہدایت پاؤ گے وہ خاتم النبیین ہیں۔ ہم نے کہا: ان کا نام کیا ہو گا؟ اس نے کہا: محمد ( ﷺ)۔ پس جب ہم ابن جفنہ سے لوٹے تو ہم میں سے ہر ایک کے گھر بیٹا پیدا ہوا، سو ہر ایک نے اس کا نام محمد رکھا۔ علاء کہتے ہیں، قیس بن عاصم نے حضور نبی اکرم ﷺ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی بعثت سے پہلے عربوں میں سب سے پہلے آپ کو کون جانتا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں اس نے کہا: بنو تمیم اور پھر آپ ﷺ کو یہ قصہ سنایا۔‘‘

بصریٰ کے بازار میں ایک راہب کا اعلان

188۔ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِيْ طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَضَرْتُ سُوْقَ بُصْرٰی فَإِذَا رَاهِبٌ فِيْ صَوْمَعَتِهِ یَقُوْلُ سَلُوْا أَهْلَ هَذَا الْمَوْسَمِ أَ فِيْهِمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرَمِ قَالَ طَلْحَةُ: قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا فَقَالَ: هَلْ ظَهَرَ أَحْمَدُ بَعْدُ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَنْ أَحْمَدُ؟ قَالَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ هَذَا شَهْرُهُ الَّذِيْ یَخْرُجُ فِيْهِ وَهُوَ آخِرُ الْأَنْبِیَاء مَخْرِجُهُ مِنَ الْحَرَمِ وَمُهَاجِرُهٗ إِلَی نَخْلِ وَحَرَّةٍ وَسباح إِيَّاکَ أَنْ تَسْبِقَ إِلَيْهِ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 416، رقم: 5586
2۔ مزي، تہذیب الکمال، 13: 414
3۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، 3: 215
4۔ اصبہاني، دلائل النبوۃ، 1: 50

’’ابراہیم بن محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ مجھے طلحہ بن عبد اللہ نے کہا: میں بصریٰ کے بازار میں تھا تو وہاں ایک راہب اپنے گرجے میں کہہ رہا تھا: اس اجتماع والوں سے پوچھو کیا ان لوگوں میں کوئی اہل حرم میں سے ہے؟ طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہاں میں ہوں تو اس نے کہا: کیا احمد ظاہر ہو گئے ہیں؟ طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یہ احمد کون ہیں؟ اس راہب نے کہا: یہ احمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہیں۔ یہ ان کا مہینہ ہے جس میں وہ اعلانِ نبوت فرمائیں گے اور وہ آخری نبی ہیں، وہ سر زمین حرم (مکہ مکرمہ) سے ہجرت فرمائیں گے اور ان کی ہجرت کھجوروںوالی، سنگلاح اور بنجر زمین (مدینہ منورہ) کی طرف ہو گی، پس تو ان سے کسی معاملے میں آگے نہ بڑھنا۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت پر ایک گوہ کی گواہی

189۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ فِيْ حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ (الْأَعْرَابِيُّ) عَلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: وَاللاَّتِ وَالْعُزّٰی، لَا اٰمَنْتُ بِکَ۔ وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یَا أَعْرَابِيُّ! مَا حَمَلَکَ عَلٰی أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ، وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَمْ تُکْرِمْ مَجْلِسِي؟ فَقَالَ: وَتُکَلِّمُنِي أَيْضًا؟ اِسْتِخْفَافًا بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ، وَاللاَّتِ وَالْعُزّٰی، لَا آمَنْتُ بِکَ أَوْ یُؤْمِنُ بِکَ ھٰذَا الضَّبُّ۔ فَأَخْرَجَ ضَبًّا مِنْ کُمِّهِ وَطَرَحَهُ بَيْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنْ آمَنَ بِکَ ھَذَا الضَّبُ اٰمَنْتُ بِکَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یَا ضَبُّ! فَتَکَلَّمَ الضَّبُ بِکَلاَمٍ عَرَبِيٍّ مُبِيْنٍ فَھِمَهُ الْقَوْمُ جَمِيْعًا: لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ، یَا رَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ تَعْبُدُ؟ قَالَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ وَفِي الْبَحْرِ سَبِيْلُهُ وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ۔ قَالَ: فَمَنْ أَنَا، یَا ضَبُّ؟ قَالَ: أَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَکَ، وَقَدْ خَابَ مَنْ کَذَّبَکَ۔ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللهِ حَقًّا۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 126-129، رقم: 5996
2۔ طبرانی، المعجم الصغیر، 2: 153-155، رقم: 948
3۔ أبو نعیم، دلائل النبوۃ: 377-379
4۔ بیہقي، دلائل النبوۃ، 6: 36-38
5۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 292-294
6۔ ابن کثیر، شمائل الرسول، 351-353
7۔ السیوطي، الخصائص الکبری، 2: 65

’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں: پھر وہ اعرابی حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: مجھے لات و عزیٰ کی قسم! میں تم پر ایمان نہیں رکھتا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: اے اعرابی! کس چیز نے تمہیں اس بات پر ابھارا ہے کہ تم میری مجلس کی تکریم کو بالائے طاق رکھ کر ناحق گفتگو کرو؟ اس نے بے ادبی سے رسول اللہ ﷺ سے کہا: کیا آپ بھی میرے ساتھ ایسے ہی گفتگو کریں گے؟ اور کہا: مجھے لات و عزیٰ کی قسم! میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لاتی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی آستین سے گوہ نکال کر حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے پھینک دی اور کہا: اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی ایمان لے آؤں گا۔ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے گوہ! پس گوہ نے ایسی واضح اور شستہ عربی میں کلام کیا کہ جسے تمام لوگوں نے سمجھا۔ اس نے عرض کیا: اے دوجہانوں کے رب کے رسول! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: تم کس کی عبادت کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا: میں اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمانوں میں ہے، زمین پر جس کی حکمرانی ہے اور سمندر پر جس کا قبضہ ہے، جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: اے گوہ! میں کون ہوں؟ اس نے عرض کیا: آپ دو جہانوں کے رب کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ جس نے آپ کی تصدیق کی وہ فلاح پاگیا اور جس نے آپ کی تکذیب کی وہ ذلیل و خوار ہوگیا۔ اعرابی یہ دیکھ کر بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔‘‘

میں ایک ہز ار یا اس سے بھی زیادہ ا نبیاء کا خاتم ہوں

190۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا إِنِّي خَاتِمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَکْثَرَ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 653، رقم: 4168
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 79، رقم: 11769
3۔ ابن سعد الطبقات الکبریٰ، 1: 192
4۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 7: 346

’’حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میں ہزار یا اس سے زائد انبیاء کرام کا خاتم ہوں۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ تمام انبیاء کے آخرپر تشریف لائے، ان کی تعداد خواہ ایک ہزار ہو یا اس سے بھی زائد۔ مقصودِ بیان ختم نبوت ہے جو دیگر احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔

قرآن کے حلال کو حلا ل اور حرام کو حرام جا ننے سے استدلال

191۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اعْمَلُوْا بِالْقُرْاٰنِ أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوْا حَرَامَهُ وَاقْتَدُوْا بِهِ وَلَا تَکْفُرُوْا بِشَيْئٍ مِنْهُ وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْکُمْ فَرُدُّوْهُ إِلَی اللهِ وَإِلٰی أُولِی الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي کَي مَا یُخْبِرُوْکُمْ وَاٰمِنُوْا بِالتَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيْلِ وَالزَّبُوْرِ وَمَا أُوْتِيَ النَّبِّیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ۔

1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 757، رقم: 2087
2۔ بیہقي، شعب الایمان، 2: 458، رقم: 2478
3۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 1: 412، 782
4۔ ہندی، کنز العمال، 1: 337، 965

’’حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن پر عمل کرو۔ اس کے حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام، اور اس کی پیروی کرو اور اس میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرو اور جو چیز تم پر متشابہ ہو جائے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور پھر اس کے بعد صاحبان اختیار کی طرف لوٹا دو تاکہ وہ تمہیں (اس شے کی نسبت) خبر دے سکیں (کہ وہ حلال ہے یا حرام)۔ تورات، انجیل اور زبور پر ایمان لاؤ اور ہر اس چیز پر جو انبیاء کرام علیہم السّلام کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئی۔‘‘

اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت تک قرآن مجید کے حلال و حرام کا نظام ہی نافذ العمل ہو گا۔ اگر کسی شے کا حکم قرآن میں نہ ملے تو سنت رسول ﷺ اور اولی الامر کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہے۔ چنانچہ صاحب قرآن سیدنا محمد مصطفی ﷺ آخری نبی ہیں۔

حلال و حرام وہی ہے جس کا اعلان حضور ﷺ نے فرمایا

192۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یَا أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّ اللهَ أَنْزَلَ کِتَابَهُ عَلٰی لِسَانِ نَبِيِّهٖ فَأَحَلَّ حَلَالَهٗ وَحَرَّمَ حَرَامَهٗ فَمَا أَحَلَّ فِيْ کِتَابِهٖ عَلٰی لِسَانِ نَبِيِّهٖ فَهُوَ حَلَالٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَمَا حَرَّمَ فِيْ کِتَابِهٖ عَلٰی لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهُوَ حَرَامٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔

1۔ مقدسی، الأحادیث المختارہ، 6: 134، رقم: 2132
2۔ ہندی، کنز العمال، 1: 346، رقم: 991

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اپنے نبی کی زبان پر نازل کی اور اس کے حلال کو حلال فرمایا اور اس کے حرام کو حرام فرمایا۔ پس اس نے اپنی کتاب میں اپنے نبی کی زبان پر جس چیز کوحلال فرمایا وہ قیامت تک حلال ہے اور جس چیز کو اس نے اپنی کتاب میں اپنے نبی کی زبان کے ذریعے حرام کر دیا وہ قیامت تک حرام ہے۔‘‘

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حلال و حرام قیامت تک وہی ہے جو حضور رسالت مآب ﷺ کی زبان اقدس سے بصورت قرآن یا بصورت حدیث جاری ہوا۔ آپ ﷺ کے بعدکسی کے پاس حلال و حرام کا اختیار نہیں۔ معلوم ہوا کہ قیامت تک صرف حضور نبی اکرم ﷺ ہی کی نبوت و رسالت جاری رہے گی۔ اگر آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا ممکن ہوتا تو اس کے لئے بھی حلال و حرام کی گنجائش رکھی جاتی، مگر ایسا نہیں ہوا جو آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر صریحاً دلالت کرتا ہے۔

اَنبیاء کرام میں سے آدم علیہ السلام کے سب سے آخری بیٹے

193۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : نَزَلَ آدَمُ بِالْھِنْدِ وَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرِيْلُ فَنَادٰی بِالْأَذَانِ: اللهُ أَکْبَرُ اللهُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ اٰدَمُ: مَنْ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: آخِرُ وَلَدِکَ مِنَ الْأَنْبِیَاء۔

1۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 5: 107
2۔ دیلمي، مسند الفردوس، 4: 271، رقم: 6798
3۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق الکبیر، 7: 437

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام ہند میں نازل ہوئے اور (نازل ہونے کے بعد) آپ نے وحشت محسوس کی تو (ان کی وحشت دور کرنے کے لئے) جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور اذان دی: اَللهُ اَکْبَرُ اللهُ اَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دو مرتبہ کہا، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ دو مرتبہ کہا تو حضرت آدم علیہ السلام نے دریافت کیا: محمد (ﷺ) کون ہیں؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ کی اولاد میں سے آخری نبی ﷺ۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث حضور نبی اکرم ﷺ کے سب سے آخری نبی ہونے پر صراحتاً دلالت کر رہی ہیں۔

ایک صحابی کی زبان پر بعد اَز وفات خاتم النبیین کے الفاظ

194۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ فِی رِوَایَةٍ طَوِيْلَةٍ، فَأَتَانِي آتٍ وَأَنَا أُسَبِّحُ بَعْدَ الْمَغْرِبِ إِنَّ زَيْدًا قَدْ تَکَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ فَجِئْتُ مُسْرِعًا فَأَتَيْتُهُ وَقَدْ حَضَرَهُ رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ یَقُوْلُ أو یُقَالُ عَلَی لِسَانِهِ الأَوْسَطِ (وَمِنْ کَـلَامِهِ) أَحْمَدُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ یَا رَسُوْلَ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ۔

1۔ شیباني، الآحاد والمثاني، 1: 74
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 5: 180

’’حضرت نعمان بن بشیر سے طویل روایت میں ہے کہ پس میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ بے شک زید نے بعد از وفات کلام کیا ہے۔ میں تیزی سے ان کے پاس آیا تو ان کے پاس انصار کی ایک جماعت موجود تھی اور وہ کہ رہے تھے یا ان کی زبان پر جاری تھا: (ان کے کلام میں سے یہ ہے) احمد (یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ) اللہ کے رسول سب سے آخری نبی ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی برکتیں نازل ہوں۔‘‘

امام بخاری ’التاریخ الکبیر (3: 283، رقم: 1281)‘ میں لکھتے ہیں:

زید بن خارجۃ ابن أبي زھیر الخزرجي الأنصاری شھد بدرا توفي زمان عثمان ھو الّذي تکلّم بعد الموت۔

’’زید بن خارجہ بن ابی زہیر الخزرجی الانصاری غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں وفات پائی۔ یہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے بعد از وفات کلام کیا۔‘‘

وادیِ مکہ میں خاتم النببین ﷺ کی آمد کا اعلان

195۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَوْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَرَأَيْتُ فِيْ الْمَنَامِ وَأَنَا بِمَکَّةَ نُوْرًا سَاطِعًا مِّنَ الْکَعْبَةِ حَتَّی وَصَلَ إِلَی جِبَالِ یَثْرِبَ بَأَسْعَرَ جُهَيْنَةَ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِيْ النُّوْرِ وَهُوَ یَقُوْلُ: انْقَشَعَتِ الظَّلْمَاء وَسَطَعَ الضِّیَاءُ وَبُعِثَ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاءِ ثُمَّ أَضَاءَ إِضَاءَةً أُخْرٰی حَتّٰی نَظَرْتُ إِلٰی قُصُوْرِ الْحِيْرَةِ وَأَبْیَضِ الْمَدَائِنِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِي النُّوْرِ وَهُوَ یَقُوْلُ: ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَکُسِرَتِ الْأَصْنَامُ وَوُصِلَتِ الْأَرْحَامُ۔

1۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 8: 244
2۔ ابن ھشام، السیرۃ النبویہ، 1: 314
3۔ ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، 2: 319
4۔ ہندی، کنز العمال، 13: 468، رقم: 37293

’’عمرو بن مرہ جہنی کہتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلا پس میں نے مکہ میں خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت روشن نور کعبہ سے نکلا اور یثرب کے پہاڑوں تک پہنچ گیا۔ میں نے اس نور میں ایک آواز سنی اور کہنے والا کہہ رہا تھا: تاریکیاں چھٹ گئیں۔ روشنی نمودار ہو گئی اور خاتم الانبیاء مبعوث کر دیئے گئے پھر روشنی کو اور زیادہ چمکدار کر دیا گیا یہاں تک کہ میں نے حیرہ کے محلات دیکھے اور مدائن کو بھی اس نے روشن کر دیا میں نے نور میں ایک آواز سنی اور کہنے والا کہہ رہا تھا: اسلام ظاہر ہو گیا، بت ٹوٹ گئے اور صلہ رحمی کردی گئی۔‘‘

حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف بعثتِ خاتم الانبیاء کی وحی

196۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: أَوْحٰی اللهُ إِلٰی یَعْقُوْبَ أَنِّي أَبْعَثُ مِنْ ذُرِّيَّتِکَ مُلُوْکًا وَأَنْبِیَاءَ حَتَّی أَبْعَثَ النَّبِيَّ الْحَرَمِيَّ الَّذِيْ تَبْنِي أُمَّتُهُ هَيْکَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاءِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ۔

ابن سعد، الطبقات الکبری، 1: 163

’’محمد بن کعب القرُظی سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میں تمہاری اولاد میں سے بادشاہ اور انبیاء کرام مبعوث فرماؤں گا یہاں تک کہ نبی حرمی کو مبعوث فرماؤں گا جن کی امت بیت المقدس کا ہیکل تعمیر کرے گی اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور ان کا نام احمد ہے۔‘‘

عرش کے پائے پر ’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاء

197۔ عَنْ مَيْسَرَةَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَتٰی کُنْتَ نَبِیًّا؟ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللهُ الْأَرْضَ وَاسْتَوٰی إِلٰی السَّمَآءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَخَلَقَ الْعَرْشَ کَتَبَ عَلَی سَاقِ الْعَرْشِ: مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاءِ وَخَلَقَ اللهُ الْجَنَّةَ الَّتِيْ أَسْکَنَهَا آدَمَ وَحَوَّاءَ وَکَتَبَ اسْمِي أَيْ مَوْصُوْفًا بِالنُّبُوَّةِ أَوْ بِمَا هُوَ أَخَصُّ مِنْهَا وَهُوَ الرِّسَالَةُ عَلٰی مَا هُوَ الْمَشْهُوْرُ عَلٰی الْأَبْوَابِ وَالْأَوْرَاقِ وَالْقِبَابِ وَالْخِیَامِ وَاٰدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ أَيْ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ الرُّوْحُ جَسَدَهُ فَلَمَّا أَحْیَاهُ اللهُ نَظَرَ إِلٰی الْعَرْشِ فَرَأَی اسْمِي فَأَخْبَرَهُ اللهُ تَعَالَی أَنَّهُ سَيِّدُ وَلَدِکَ فَلَمَّا غَرَّهُمَا الشَّيْطَانُ تَابَا وَاسْتَشْفَعَا بِاسْمِي إِلَيْهِ أَيْ فَقَدْ وُصِفَ ﷺ بِالنُّبُوَّةِ قَبْلَ وُجُوْدِ اٰدَمَ۔

حلبي، السیرۃ الحلیۃ، 1: 355

’’حضرت میسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کب نبی بنے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا اور آسمان کی طرف متوجہ ہوا پس سات آسمانوں کو خوبصورتی سے تخلیق فرمایا اور عرش کو تخلیق فرمایا اور عرش کے پائے پر ’’محمد رسول اللہ خاتم الأنبیاء‘‘ لکھا اور اللہ نے جنت کو تخلیق فرمایا جس میں حضرت آدم اور حضرت حواء کو ٹھہرایا اور میرا نام جنت کے دروازوں، پتوں اور گنبدوں پر لکھا۔ وصف نبوت کے ساتھ متصف لکھا یا اس سے زیادہ خاص یعنی رسالت کے ساتھ لکھا۔ مصنف نے لکھا: جس طرح کہ مشہور ہے اور حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے یعنی روح کے جسم میں داخل ہونے سے پہلے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو حیات بخشی انہوں نے عرش کی طرف دیکھا تو میرا نام دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ یہ تیری اولاد کے سردار ہیں۔ پھر جب حضرت آدم و حواء کو شیطان نے بہکایا تو انہوں نے توبہ کی اور میرے نام سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت طلب کی۔ پس آدم علیہ السلام کے وجود میں آنے سے قبل حضور نبی اکرم ﷺ کو نبوت کے ساتھ متصف کیا گیا۔‘‘

سوالِ قبر کے جواب میں ’خاتم النبیین‘ کے الفاظ

198۔ عَنْ تَمِيْمٍ الدَّارِيِّ رضی اللہ عنہ فِي حَدِيْثٍ طَوِيْلٍ فِي سُؤَالِ الْقَبْرِ فَیَقُوْلُ (اَيْ الْمَيِّتُ): اَلإِسْلَامُ دِيْنِي وَمُحَمّدٌ نَبِيِّيْ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ یَقُوْلُوْنَ لَهُ: صَدَقْتَ۔

سیوطی، الدر المنثور، 8: 34

’’تمیم داری، قبر میں سوال کے حوالے سے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں پس میت کہے گی: اسلام میرا دین ہے اور محمد ﷺ ہمارے نبی ہیں اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ فرشتے اسے کہتے ہیں: تو نے درست کہا۔‘‘

اگر حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کو آنا ہوتا تو مومن سوالِ قبر کے جواب حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین کے نام سے یاد نہ کرتا بلکہ نعوذ باللہ بعض قبروں میں ظلی و بروزی نبیوں کے نام بھی لیے جاتے۔ مگر مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے اس قسم کے کسی بھی جواب کے امکان کی نفی کی گئی اور واضح کیا گیا ہے کہ مومن جواب میں صرف یہ کہے گا کہ میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں جو سب سے آخری نبی ہیں۔ فرشتے اس کے جواب کی تصدیق کریں گے۔ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر میں نجات کے لئے حضور نبی کرم ﷺ کو خاتم النبیین ماننا ضروری ہے۔

حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کی اقتداء کا حکم

199۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اقْتَدَوْا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِيْ مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدَوْا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّکُوْا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ۔

ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب عبد اللہ بن مسعود، 5: 672، رقم: 3805

’’حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد میرے ساتھیوں ابو بکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو عمار کی ہدایت پر عمل کرو اور عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے عہد کو مضبوطی سے پکڑ لو۔‘‘

200۔ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اقْتَدَوْا بِالَّلذَيْنِ مِنْ بَعْدِيْ أَبِيْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب أبي بکر وعمر کلیھما، 5: 609، رقم: 3662
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 79، رقم: 4452
3۔ بیہقي، السنن الکبریٰ، 5: 212، رقم: 9836
4۔ أحمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 1: 238، رقم: 293
5۔ طبراني نے یہ حدیث ’المعجم الأوسط (7: 168، رقم: 7177)‘ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی ہے۔

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو۔‘‘

201۔ عَنْ أَبِيْ الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اقْتَدَوْا بِالَّلذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّھُمَا حَبْلُ اللهِ الْمَمْدُوْدُ وَمَنْ تَمَسَّکَ بِھِمَا فَقَدْ تَمَسَّکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی الَّتِيْ لَا انْفِصَامَ لَھَا۔

 (1) ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 53

’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کی پیروی کرو جو میرے بعد آئیں گے اور وہ ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔ یہ دنوں اللہ تعالیٰ کی دراز و کشادہ رسیاں ہیں اور جس نے ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لیا تحقیق اس نے ایسی مضبوط رسی کو تھام لیا جو کھلنے والی نہیں۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ کا اپنے بعد ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کا حکم دینا، آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کی دلیل ہے۔ اگر آپ ﷺ کے بعد بھی نبی ہوتا تو پہلے اس کی پیروی کا حکم دیا جاتا، کیونکہ نبی ہمیشہ امتی سے افضل ہوتا ہے اور افضل کی اقتداء کا حکم پہلے دیا جاتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور خاتم الانبیاء کے وصی ہیں

202۔ عَنْ أَبِيْ الطُّفَيْلِ قَالَ: خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰی عَلَيْهِ وَذَکَرَ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِیًا رضي الله عنه خَاتَمَ الْأَوْصِیَاءِ وَوَصِيَّ خَاتَمِ الْأَنْبِیَاءِ وَأَمِيْنَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 2: 336، رقم: 2155
2۔ ہیثمي، مجمع الزوائد، 9: 220، رقم: 14798

’’ابو طفیل سے روایت ہے کہ حضرت حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء ہیں اور خاتم الانبیاء کے وصی ہیں اور صدیقین اور شہداء کے امین ہیں۔‘‘

203۔ عَنْ کَعْبٍ قَالَ: إِنَّ أَبِي کَانَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلٰی مُوْسٰی وَکَانَ لَمْ یَدَّخِرْ عَنِّي شَیئًا مِمَّا کَانَ یَعْلَمُ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَانِي فَقَالَ لِي: یَا بُنَيَّ! إِنَّکَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي لَمْ أَدَّخِرْ عَنْکَ شَيْئًا مِمَّا کُنْتُ أَعْلَمُهٗ إِلَّا أَنِّيْ قَدْ حَبَسْتُ عَنْکَ وَرَقَتَيْنِ فِيْهِمَا نَبِيٌّ یُبْعَثُ قَدْ أَطَلَّ زَمَانُهُ فَکَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَکَ بِذٰلِکَ فَـلَا آمَنُ عَلَيْکَ أَنْ يَّخْرُجَ بَعْضُ هٰؤُلَآءِ الْکَذَّابِینَ فَتُطِيْعُهُ وَقَدْ جَعَلْتُهُمَا فِي هٰذِهِ الْکُوَّةِ الَّتِي تَرٰی وَطِيْنَتَ عَلَيْهِمَا فَـلَا تَعْرِضَنَّ لَهُمَا وَلَا تَنْظُرَنَّ فِيْهِمَا حِيْنَکَ هٰذَا فَإِنَّ اللهَ إِنْ یُّرِدْ بِکَ خَيْرًا وَیَخْرُجُ ذٰلِکَ النَّبِيُّ تَتْبَعُهٗ ثُمَّ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَدَفَنَّاهُ فَلَمْ یَکُنْ شَيْئٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَنْظُرَ فِي الْوَرَقَتَيْنِ فَفَتَحْتُ الْکُوَّةَ ثُمَّ اسْتَخْرَجْتُ الْوَرَقَتَيْنِ فَإِذَا فِيْهِمَا: مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ مَوْلِدُهُ بِمَکَّةَ وَمُهَاجِرُهُ بِطَيْبَةَ لَا فَظٌّ وَلَا غَلِيْظٌ وَلَا صَخَّابٌ فِي الْأَسْوَاقِ وَیَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ وَیَعْفُوْ وَیَصْفَحُ، أُمَّتُهُ الْحَمَّادُوْنَ الَّذِینَ یَحْمَدُوْنَ اللهَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ تَدَلَّـلَ أَلْسِنَتُهُمْ بِالتَّکْبِيْرِ۔

1۔ سیوطی، الخصائص الکبری، 1: 25
2۔ سیوطي، الدّر المنثور، 3: 577
3۔ کلاعي، الإکتفاء بما تضمنہ من مغازي رسول اللہ ﷺ، 3: 297

’’حضرت کعب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرا باپ تمام لوگوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب کا بہت بڑا عالم تھا۔ وہ علم کو مجھ سے چھپاتا بھی نہ تھا اس نے اپنی موت کے وقت مجھے بلایا اور کہا: اے بیٹے! تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے علم کو تم سے پوشیدہ نہیں رکھا ہے بجز دو ورقوں کے ان اوراق میں ایک نبی کا ذکر ہے جن کی بعثت کا زمانہ بہت قریب ہے لهٰذا میں نے مناسب سمجھا کہ تم کو اس کی اطلاع کر دوں۔ اس لئے کہ مجھ کو خطرہ ہے بعض نبوت کے جھوٹے دعویدار ظاہر ہوں اور تم ان کی اطاعت کرنے لگو لهٰذا میں نے ان دونوں ورقوں کو تمہارے سامنے کے روزن میں رکھ دیا ہے اور ان پر مہر لگا دی ہے تم ان اوراق کو ابھی نہ دیکھنا ہو سکتا ہے تمہارے لئے اللہ بھلائی کا ارادہ فرما دے اور وہ نبی مذکور آ جائے تو تم اس کی پیروی کرنا اس کے بعد وہ فوت ہو گئے اور ہم نے ان کو دفن کر دیا۔ اس کے بعد میرے لئے اور کوئی شے اس سے زیادہ محبوب نہ تھی کہ میں ان اوراق کو دیکھوں۔ بالآخر میں نے اس روزن کو کھولا اور ان ورقوں کو نکالا ان میں لکھا تھا: محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبین ہیں ان کی جائے ولادت مکہ اور ان کا مقام ہجرت مدینہ ہے وہ نہ بدخلق ہیں نہ سخت مزاج، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے ہیں، وہ عفو و درگزر سے کام لیں گے۔ ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہو گی ان کی زبانیں حمد و سپاس میں سرگرم، وہ دشمنان دین کے مقابلے میں اپنے نبی کی مدد کریں گے۔‘‘

اُمت کا اَوّل و آخر بہتر ہونے سے اِستدلال

204۔ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ مَرْفُوْعًا: خَيْرُ ھَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلُهَا وَاٰخِرُهَا۔ اَوَّلُهَا فِيْهِمْ رَسُوْلُ اللهِ وَاٰخِرُهَا فِيْهِمْ عِیسٰی بْنُ مَرْیَمَ وَبَيْنَ ذٰلِکَ نَهْجٌ أَعْوَجُ لَيْسَ مِنْکَ وَلَسْتَ مِنْهُمْ۔

1۔ ہندی، کنز العمال، 11: 741، رقم: 32456
2۔ ہندی، کنز العمال، 14: 388، رقم: 38853

’’حضرت عروہ بن رویم سے مرفوعاً روایت ہے اس امت کا سب سے بہتر وقت اس کا پہلا اور آخری زمانہ ہے کیونکہ اس کے پہلے زمانے میں رسول اللہ ﷺ ہیں اور آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں اور دونوں زمانوں کے درمیان کا زمانہ ٹیڑھا راستہ ہے، نہ وہ راستہ تیری طرف سے ہے اور نہ تو ان لوگوں میں سے ہے۔‘‘

اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک امتِ محمدی کا زمانہ ہے۔ اس دوران کوئی اور امت نہیں آئے گی۔ چونکہ امت کا وجو د نبی کے ساتھ ہی ممکن ہے لهٰذا حضور نبی اکرم ﷺ ہی قیامت تک اس امت کے نبی ہیں۔

اُمت کے اَفضل ترین افراد کی خبر دینے سے استدلال

205۔ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَکْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ۔

1۔ ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل وزید بن ثابت أبي بن کعب ث، 5: 664، رقم: 3790
2۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، فضائل خباب، 1: 55، رقم: 154
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 12927
4۔ نسائی، السنن الکبری، 5: 78، رقم: 8287
5۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 616، رقم: 6281
6۔ طیالسی، المسند، 1: 182، رقم: 2096

’’حضرت قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے امتیوں میں سے میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم کرنے والے حضرت ابو بکر صدیق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے حضرت عمر ہیں اور ان میں سب سے زیادہ حیادار حضرت عثما ن ہیں اور حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے حضرت معاذ بن جبل ہیں۔‘‘

206۔ عَن أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: یَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! أَتَمْشِي أَمَامَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکَ فِيْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ وَلَا غَرَبَتْ عَلَی أَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيْ بَکْرٍ۔

1۔ ہندی، کنز العمال، 11: 557، رقم: 8401
2۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5: 351، رقم: 2433
3۔ أحمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 1: 152، رقم: 135
4۔ خطیب بغدادي، تاریخ بغداد، 12: 438، رقم: 6901
5۔ طبري، الریاض النضرۃ، 2: 28، رقم: 433
6۔ لالکائی، اعتقاد أھل السنۃ، 7: 1281، رقم: 2433
7۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 30: 209

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابو دردائ! کیا تم اس شخصیت کے آگے چلتے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے۔ انبیاء و رسل کے بعد یہ سورج کسی ایسے شخص پر نہ طلوع ہوا نہ غروب ہوا جو شخص حضرت ابو بکر صدیق سے افضل ہو۔‘‘

207۔ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَامَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ عَلَی مِنْبَرِ الْکُوْفَةِ قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَيْرِ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُخْبِرَکُمْ بِالثَّالِثِ لَأَخْبَرْتُکُمْ۔

1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 7: 239، رقم: 7382
2۔ ابن أبی شیبہ، المصنف، 6: 351، رقم: 31950
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 106، رقم: 834
4۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 7: 201
5۔ لالکائي، إعتقاد أھل السنۃ، 8: 1365، رقم: 2604

’’حضرت ابو جحیفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے: کیا میں تمہیں حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے بہتر شخص کی خبر نہ دوں۔ تو سنو اس امت کے نبی کے بعد سب سے بہتر شخص حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اگر میں چاہوں تو تمہیں تیسرے کے بارے میں خبر دوں۔ تو میں تمہیں اس کے بارے میں خبر دے دوں گا۔‘‘

208۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ اللهَ تَعَالٰی أَيَّدَنِي بِأَرْبَعَةِ وُزَرَاءَ نُقَبَاءَ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنْ هٰؤُلَاءِ الْأَرْبَعُ؟ قَالَ: اثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَقُلْتُ: مَنِ الْإِثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: جِبْرِیلُ وَمِیکَائِیلُ قُلْنَا: مَنِ الْإِثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ قَالَ: أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ۔

1۔ طبرني، المعجم الکبیر، 11: 179
2۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 8: 160
3۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 44: 62
4۔ مناوي، فیض القدیر، 2: 217

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے چار وزراء نقباء کے ذریعے میری تائید فرمائی ہے۔ ہم نے عرض کی: یہ چار کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو آسمان سے ہیں اور دو زمین میں سے ہیں۔ میں نے عرض کیا: آسمان میں سے دو کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل اور میکائیل۔ ہم نے عرض کیا: اہل زمین میں کون سے دو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر و عمر۔‘‘

209۔ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلٰی رَسُولِ اللهِ ﷺ یُرِیدَانِ أَنْ یُّـلَاعِنَاهُ قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لَا تَفْعَلْ فَوَاللهِ لَئِنْ کَانَ نَبِیًّا فَـلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا۔ قَالَا: إِنَّا نُعْطِیَکَ مَا سَأَلْتَنَا وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِيْنًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِيْنًا فَقَالَ: لَأَبْعَثَنَّ مَعَکُمْ رَجُلًا أَمِيْنًا حَقَّ أَمِيْنٍ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: قُمْ یَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ! فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : هَذَا أَمِيْنُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المغازي، باب قصۃ أھل نجران، 4: 1592، رقم: 4119
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل أبي عبیدۃ بن الجراح، 4: 1881، رقم: 2419
3۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب فضل أبي عبیدۃ بن الجراح، 1: 49، رقم: 3791
4۔ بیہقی، السنن الکبری، 5: 57، رقم: 8196

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے سرداروں میں سے عاقب اور سید دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ دونوں چاہتے تھے کہ حضور ہم سے مباہلہ کریں۔ راوی کا بیان ہے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ان سے مباہلہ نہ کرو۔ خدا کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے تو ہم اور ہمارے بعد ہماری نسلیں بھی فلاح نہیں پا سکیں گی۔ دونوں کہنے لگے کہ حضور جو آپ ہم سے مانگیں گے ہم اتنا مال پیش کر دیا کریں گے، آپ ہمارے پاس کوئی امانت دار آدمی بھیج دیں اور ایسا نہ بھیجئے جو امانت دار نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا امانت دار بھیجوں گا جو حقیقت میں امین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں اس شخص کے منتظر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابو عبیدہ! کھڑے ہو جاو جب وہ کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔‘‘

210۔ عَنْ أَبِيْ نَضْرَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ أَهْلَ الْکُوْفَةِ وَفَدُوْا إِلٰی عُمَرَ وَفِيْهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ یَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ: هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّيْنَ فَجَاءَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَدْ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا یَأْتِيْکُمْ مِنَ الْیَمَنِ یُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لَا یَدَعُ بِالْیَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ کَانَ بِهِ بَیَاضٌ فَدَعَا اللهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّيْنَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِیَهُ مِنْکُمْ فَلْیَسْتَغْفِرْ لَکُمْ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضل أویس القرني، 4: 1968، رقم: 2542
2۔ إبن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 397، رقم: 32344
3۔ ابن المبارک، المسند، 1: 19
4۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیائ، 2: 80
5۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 9: 415

’’اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ ایک وفد لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وفد میںایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس سے مذاق کرتا تھا، حضرت عمر نے پوچھا کہ یہاں کوئی قرن کا رہنے والا ہے، تو وہ شخص پیش ہوا، حضرت عمر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا، اس کا نام اویس ہو گا، یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں ہو گا، اس کو برص کی بیماری تھی، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک دینار یا درہم کے برابر سفید داغ کے سوا باقی داغ اس سے دور کر دیے، تم میں سے جس شخص کی اس سے ملاقات ہو وہ اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرائے۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے بہترین افراد کے نام لے کر ان کے بارے میں امت کو آگاہ فرمایا۔ ذخیرۂ احادیث میں کثرت کے ساتھ آپ ﷺ کے ایسے اقوال موجود ہیں جن میں بشمول خلفائے راشدین و دیگر اکابر صحابہ اور بعد میں آنے والی شخصیات کے نام لے کر بتایا کہ فلاں فلاں میری امت کے بہترین فرد ہے۔ فلاں شخص میری امت کے لئے ہدایت، بخشش اور مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔ جیسے خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ قرن سے ہوں گے اور ان سے امت کی مغفرت کی دعا کے لئے تلقین فرمائی، اسی طرح آپ ﷺ نے ہر صدی کے بعد ایک مجدد کے آنے کی پیشین گوئی فرمائی اور بے شمار آئندہ پیش آنے والے امور سے آگہی عطا کی۔ اگر کسی آنے والے دور میں کسی نبی کے ظہور کا امکان ہوتا تو آپ نہ صرف اس کے آنے کی خبر دیتے بلکہ اس کے اتباع کا حکم بھی ارشاد فرماتے۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنی ختم نبوت کا بار بار تواتر کے ساتھ اعلان فرما کر ہر قسم کے امکان کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اب اگر کوئی اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے جیسا کہ غلام احمد قادیانی نے کیا تو اس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے:

آنکھ والا تیری قدرت کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

خلاصۂ کلام

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نبوت کا جو سلسلہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا ہوا تھا ہمارے آقا و مولا، ملجا و ماویٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔ قرآن مجید کی طرح احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی رسالتِ عامہ اور رحمتِ عامہ کو کمال صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت قیامت تک جاری و ساری ہے اور آپ ﷺ قیامت تک پیدا ہونے والی تمام مخلوقات کے نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے مختلف تمثیلات کے ذریعے قرآنی اصطلاح خاتم النبیین کے معنی کو بلیغ انداز سے واضح فرما دیا ہے۔ آپ ﷺ نے نبوت کو ایک محل سے تشبیہ دے کر خود کو اس کی آخری اینٹ قرار دیا جس کے معنی یہ ہیں کہ قصرِ نبوت مکمل ہو چکنے کے بعد اب اس میں ایک اینٹ کی گنجائش بھی نہیں رہی۔ آپ ﷺ نے احادیث میں خاتم النبیین کی صراحت لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے الفاظ کے ذریعے فرما کر ہر قسم کی نبوت کے امکان کی کلیتاً نفی فرما دی۔ آپ ﷺ نے اپنے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی پیشگی خبر دے کر امت کو بر وقت ان کے فتنے سے خبردار فرما دیا۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر اور حضرت علی رضي اللہ عنھما جیسے جلیل القدر صحابہ کے لئے بھی امکانِ نبوت کی نفی فرما کر ’’اُمتی نبی‘‘ کے تصور ہی کو جڑ سے کاٹ کر معدوم فرما دیا۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے و اضح فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا، البتہ میرے بعد امت میں خلفاء ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ امتِ محمدی ﷺ میں کوئی شخص خلیفۃ الرّسول تو ہو سکتا ہے مگر نبی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارات ہیں جو نیک خوابیں ہیں۔ اس فرمان اقدس سے آپ ﷺ نے اس امکان کی نفی فرما دی کہ کوئی شخص عالمِ خواب میں ہونے والی بشارات کی بنیاد پر دعویٰ نبوت کر دے۔ غرض حضور نبی اکرم ﷺ اپنے بعد نبوت کے ہر احتمال اور امکان کی کلیتاً نفی فرما دی۔

مذکورہ بالا دو سو دس احادیث و روایات جن میں بیسیوں احادیث متواتر کا درجہ رکھتی ہیں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا معنی آخری بنی ہی ہے کچھ اور نہیں۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے خود لفظ خاتم النبیین کا معنی ’’آخری نبی جس کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ متعین فرما دیا ہے تو اب اگر کوئی شخص اس لفظ کا معنی ’’افضل نبی،‘‘ ’’مہر لگانے والا نبی‘‘ یا کچھ اور کرتا ہے تو وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے تشریحی مقام سے انکار کرکے کافر اور کذّاب ٹھہرتا ہے، کیونکہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ معنی کو چھوڑ کر کتبِ لغت سے اپنی پسند کا معنی تلاش کر کے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل چاہتا ہے وہ رسولِ خدا ﷺ کا منکر ہے اور جو رسول ﷺ کا منکر ہے اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ قرآن و حدیث کے رُو سے یہ امر طے شدہ ہے کہ جس نے حضور نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کیا وہی مسلمان ہے اور جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر و مرتد اور زندیق ہے۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved