Belief in the Finality of Prophethood

باب 3 :مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا تدریجی سفر

’’خاتم النبیین‘‘ کے صحیح معنٰی سے اِنحراف

پوری تاریخ انبیاء میں ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ایسا واقعہ ہمارے علم میں ہے کہ ایک نبی نے اعلان نبوت سے پہلے اپنے نبی ہونے کا انکار کیا ہو اور یہ کہ بعد میں اس کا عقیدہ بدل گیا ہو، ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ اوائل دورِ بعثت میں اعلان نبوت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور بعد میں سوچ بچار کے بعد موقف میں تبدیلی کر دی گئی، سلسلہ انبیاء میں ایسا کوئی فرد نہیں گزرا جس نے پہلے صراحت کے ساتھ ایک عقیدہ بیان کیا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک نیا عقیدہ وضع کر لیا، جس سے پہلے اور بعد میں بیان کردہ عقیدے میں واضح تضاد اور تعارض نظر آنے لگا یا تاویل کے ذریعے سابقہ موقف سے خروج کا راستہ نکالا اور اعلان نبوت کر دیا۔ یہ ممکن بھی نہ تھاکیونکہ اعلانِ نبوت تونبی کی بعثت ہوتی ہے، نہ یہ کہ اس کے ذریعے اسے نبوت عطا کی جاتی ہے، اس لیے کہ جس کو نبوت ملنا تھی وہ عالم ارواح میں مل چکی جب تمام انبیاء کرام نبی آخر الزماں سیدنا محمد مصطفی ﷺ کی نبوت پر ایمان اور آپ کی مدد و نصرت کا حلف اٹھاکرشرفِ نبوت سے بہرہ یاب ہو چکے۔ اب دنیوی زندگی میں اعلان نبوت ہر نبی کی بعثت قرار پائی۔ قرآن حکیم نے اس میثاقِ نبوت کو یوں بیان فرمایا ہے:

وَاِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَآء کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ط قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِيْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَo

آل عمران، 3: 81

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (ﷺ) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘

ہرنبی کو اس میثاق کے تحت عالمِ ارواح میں ہی نبوت عطا کر دی گئی۔ لهٰذا وہ عالم اجسام میں آنے سے قبل ہی نبی ہوتا ہے۔ البتہ انسانی اور بشری زندگی میں اعلان نبوت کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے جس کو بعثت کہتے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی انسان اپنی عمر کے ابتدائی دور میں تو نبی نہ ہو مگر بعد میں اسے اچانک نبوت دے دی جائے۔ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ نبوت ایک وہبی استعداد ہے جو ہر نبی کو پیدائشی طور پر ودیعت کر دی جاتی ہے۔ اس میں کسی کے کسب و کمال کا سرے سے دخل نہیں ہوتا۔ ہر نبی بچپن سے ہی نبی ہوتا ہے اس کا ثبوت قرآن حکیم کی درج ذیل آیات کریمہ سے ملتا ہے:

1۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْـکِتٰبَ۔

الحدید، 57: 26

’’اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السّلام) کو بھیجا اور ہم نے دونوں کی اولاد میں رسالت اور کتاب مقرر فرما دی۔‘‘

2۔ وَوَهَبْنَا لَهٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْکِتٰـبَ۔

العنکبوت، 29: 27

’’اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہما السّلام بیٹا اور پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر فرما دی۔‘‘

ان آیات کریمہ سے ظاہر ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیھما السّلام کی اولاد میں کتاب اور نبوت مقرر فرما دی تھی یعنی ان کی نسل میں سے جس کسی کو نبی بنا نا تھا اس کا تعین ان کی پیدائش سے پہلے ہی فرما دیا تھا۔ لهٰذا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں عالم ارواح سے عالم وجود میں منتقل فرمایا تو یہ حضرات صفت نبوت سے سرفراز تھے۔ جیسے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیھما السّلام دونوں باپ اور بیٹا ابراہیمی ذریت میں تشریف لائے۔

3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ ںکے بچپن ہی سے نبی ہونے کا یوں اعلان فرمایا:

یٰـیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّةٍ ط وَ اٰتَيْنٰهُ الْحُکْمَ صَبِیًّاo

مریم، 19: 12

’’اے یحییٰ! (ہماری) کتاب (تورات) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور ہم نے انہیں بچپن ہی سے حکمت و بصیرت (نبوت) عطا فرما دی تھیo‘‘

4۔ حضرت عیسیٰ ںنے پنگھوڑے میں ہی نبی ہونے کا اعلان کر دیا۔ قرآن فرماتا ہے:

قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللهِ ط اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِیًّاo

مریم، 19: 30

’’ (بچہ خود) بول پڑا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہےo‘‘

اگر چہ ہر نبی کی بعثت مقررہ وقت پر ہوتی ہے مگر کبھی پنگھوڑے میں ہی اعلان کرنا پڑتا ہے کہ مجھے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نبی بنایا ہے جیسے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیھما السّلام نے پنگھوڑے میں اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ وہ ایسا نہ کرتے اگر ان کی ولادت عام طریقے سے ہوئی ہوتی اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیھا السّلام پر تہمت نہ لگی ہوتی۔ یہ تہمت صرف ان کی ذات پر نہیں تھی بلکہ معاذ اللہ ان کی آغوش میں موجود نومولود کے تولدپر ناجائز ہونے کا الزام تھا۔ اس سے نہ صرف آپ علیھا السّلام کی ذات کی پاکیزگی و طہارت پر حرف آتا تھا بلکہ اس کا معنی و مراد یہ تھا کہ یہ ناجائز مولود ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کو کب منظور ہوتا کہ اس کے نبی کی سیرت کا جو تقدس و احترام بچپن سے ملحوظ رکھا جانا ضروری ہے اس پر لوگوں کی انگلیاں اٹھیں اس لیے پنگھوڑے ہی میں اس کا اعلان کرنا پڑا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وہی پنگھوڑے میں نبی تھے اور باقی سب نہیں تھے، نبی توسارے ہی پیدائشی تھے مگر ان کو پیدائش کے وقت سے اپنی نبوت کے اعلان کی ضرورت پیش آئی اور نہ باری تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا۔ وہ اپنے زمانۂ بعثت میں ہی اعلان نبوت کرتے رہے۔

چونکہ نصِّ قرآن کی رو سے نبوت پیدائشی ہوتی ہے اس لیے تاریخ انبیاء میں اعلان نبوت سے قبل کسی نبی کا عقیدہ و عمل اس قسم کا نہیں رہا کہ اعلان نبوت کے بعد اس میں کوئی تضاد واقع ہو گیا ہو۔ نبی کے عقیدہ و عمل دونوں میں ایک تسلسل کارفرما ہوتا ہے جس سے نہ کبھی انحراف ہوتا ہے اور نہ اس میں کبھی ترمیم و تبدیلی ہوتی ہے۔ اس کی نبوت و رسالت کی صداقت کی یہ ایک سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جو حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلان بعثت کے وقت بیان فرمائی جسے قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایا:

فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo

یونس، 10: 16

’’بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتےo‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلان بعثت اور نزول قرآن سے پہلے کی زندگی کو اپنی نبوت و رسالت کی حقانیت کی دلیل بنایا کیونکہ یہ ہر قسم کے تضاد اور تناقض سے کلیتًا مبرّا تھی۔

جب ہم مرزا صاحب کی زندگی کا ناقدانہ مطالعہ کرتے ہیں تو وہ اَز اَوّل تا آخر تضادات و تناقضات کا شکار نظر آتی ہے۔ دعویٰ نبوت کا ارادہ کرنے سے قبل وہ لفظ خاتم النبیین کا معنی وہی کرتے رہے جو امتِ مسلمہ کا متفق علیہ تھا، پھر اجماعِ امت کا انکار کرتے ہوئے خاتم النبیین کا معنی محض اپنے باطل وہم سے یہ تراشا کہ جن نبیوں کا بعد میں آنا مقدر ہے ان کی آمد کے لیے حضرت محمد ﷺ کی ذات مہر ہے۔ مراد یہ کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد جو بھی نبی بن کر آئے گا وہ لازماً اُن کی مہر ہی سے آئے گا۔ اس مفہوم کی آڑ میں وہ امت محمدی ﷺ میں خود ہی نیانبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

’’خاتم النبیین‘‘ کے صحیح معنٰی سے اِنحراف کی تاویل کا ردّ

جب مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خاتم النبیین کے صحیح معنی سے انحراف کیوں کیا اور اس کو نئے معنی کیوں پہنائے؟توقادیانی حضرات یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کو پہلے علم نہیں تھاکہ وہ نبی بننے والے ہیں، اس لیے ختمِ نبوت اور خاتم النبیین کے وہ معنی بیان کرتے رہے جوامت میں متداول ہیں۔ مگر جب انہیں علم ہو گیا تو پہلے معنی سے رجوع کرلیا اور نئے معنی بیان کر دیئے۔

بالفرض قادیانی حضرات کی یہ من گھڑت تاویل ایک لمحے کے لیے برائے بحث قبول کر بھی لی جائے توہم کہیں گے کہ اس صورت میں بھی مرزا صاحب کے لیے دعویٰ نبوت کی کوئی راہ نہیں نکلتی، کیونکہ اس طرح وہ اپنے نئے عقیدہ کی رُو سے کافر و مرتد قرار پاتے ہیں جو کہ نبوت کے منافی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ بقول قادیانی حضرات جب مرزا صاحب اپنی تحریروں اور تقریروں میں ختم نبوت کا وہی عقیدہ بیان کر رہے تھے جو امت مسلمہ کا متفق علیہ ہے، اس وقت انہیں اپنی نبوت کا شعور نہیں تھا کہ میں نبی ہوں یا مجھے نبی ہوناہے، اس وقت مرزا صاحب یہ کہہ کر کہ جو حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد اعلان نبوت کرے گا وہ خارج اَز اسلام اور مرتد ہو گا، ایک ایسے عمل کو جو ان کے نئے عقیدہ کی رو سے ممکن اورا صول دین میں سے تھا کفر و ارتداد کا باعث قرار دیا۔ گویا وہ اسلام اور ایمان کے ایک مسئلہ کو کفر کہتے رہے اور جب مرزا صاحب کو شعور ہوا تو بنیادی عقیدے سے منحرف ہو کر ختمِ نبوت اور خاتم النبیین کے معنی بدل لیے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد نئی نبوت کے امکان کو جائز مان کر علی الاعلان کہہ دیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس پر وہ مہر لگا دیں وہ نبی بن جاتا ہے، پھر اس من گھڑت تاویل کا سہارا لے کر اعلان نبوت کر دیا۔

اس بحث سے سوائے اس کے کیا نتیجہ اخذ کیا جائے کہ اس شعور اور دعویٰ نبوت سے پہلے مرزاصاحب کی پوری زندگی عقیدئہ کفر پر گذری کیونکہ ان کا بیان کردہ نیا معنی نبوتِ محمدی ﷺ کی ایک شان ہے اور شان بھی اتنی اونچی اور عظیم ہے کہ جس پر ان کی مہرلگ جائے وہ بھی نبی بن جاتا ہے۔ گویا اس سے پہلے وہ نبوتِ محمدی ﷺ کی اس شان اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کے امکان کے انکاری رہے جو ان کے نئے عقیدہ کی رُو سے صریح کفر ہوا۔ چونکہ شعور نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی ان کے نئے عقیدے کے مطابق شانِ نبوت اور اِمکانِ نبوت سے انکار کے باعث کفر میں گزری توکیا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ کفر یہ عقیدہ رکھنے والا شخص شعور ملنے کے بعد نبی بن جائے؟بھلا اتنا بڑا تضاد بھی ہو سکتا ہے کہ شعور نبوت آنے سے پہلے عقیدہ کفر کا رہا ہو اور شعورِ نبوت ملنے کے بعد عقیدہ ایمان کا ہوجائے۔ گویا مرزا صاحب کے ابتدائی (اصولی) عقیدے کے مطابق دعویٰ نبوت کے بعد کافر ہیں اور بعد والے (خود ساختہ) عقیدے کے مطابق شعور نبوت ملنے سے قبل کافر تھے، لهٰذا یہ قادیانی حضرات کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اب ہم ان کی سہولت کے لیے ان پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جس زمانے کو وہ چاہیں کفر کا مان لیں اور جس کو چاہیں ایمان کا مان لیں، یہ ان کی مرضی پر موقوف ہے کہ پہلے دور کو کفر کا دور مان لیں یا بعد کے دور کو۔ مگر ان کے اپنے بیان کیے گئے بیانات کی روشنی میں ایک دور ضرور کفر کا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا ان کی صوابدید پر ہے۔ ہم انہیں اپنی طرف سے کچھ تجویز نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہو سکتاکہ وہ امکان نبوت سے انکار کر کے بھی مسلمان رہیں اور دعویٰ نبوت کر کے بھی مسلمان رہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔

ہم نے گزشتہ باب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ تمام اقوال جو ان کی اپنی تحریروں پر مبنی ہیں ضروری حوالہ جات کے ساتھ قارئین کی سہولت کے لیے یکجا جمع کر دیئے تھے تاکہ وہ جان لیں کہ اعلان نبوت سے پہلے ان کا سابقہ عقیدہ کیا تھا۔ جمیع امت مسلمہ کی طرح حضورنبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ان کا ایمان تھا اور اس سے انکار کو وہ کفر جانتے تھے۔ خاتم النبیین کا معنی ان کے نزدیک وہی تھا جو دیگر تمام مسلمانوں کے نزدیک ہے اور اس کے منکر کو وہ خارج ازدائرہ اسلام جانتے تھے۔ پھر انہوں نے پلٹا کھایا اوریک لخت ایک نیا موقف اختیار کیا جس کا شان نبوت کے ساتھ کوئی جوڑنہ بنتا تھا، ایک مرتبہ جب انہوں نے ایمان کی حد پار کی تو پھر ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ وہ پھر پینترے پر پینترہ بدلتے ہوئے اپنے ہرسابقہ موقف سے انحراف کرتے گئے اور بالآخر حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہوگئے۔ ہم ذیل میں مرزا صاحب کی وہ تحریریں پیش کر رہے ہیں جن میں انہوں نے اپنی سابقہ تحریروں سے صاف انحراف کیا ہے:

1۔ مرزا صاحب اپنے سابقہ موقف کے بر عکس وحی الٰہی کا سلسلہ جاری مانتے ہیں اور وحی الٰہی کا دروازہ بند ہونے کے عقیدہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصّوں کی پوجا کرو پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کاکچھ بھی پتہ نہیں لگتا جو کچھ ہیں قصے ہیں اور کوئی اگر چہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات و مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتامیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا، میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔ مگر میں ساتھ ہی خدائے کریم و رحیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے بلکہ دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط سچی اور کامل اتباع ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت ﷺ کے مکالمات الٰہیہ سے مشرف کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تو حدیث میں آیا ہے کہ علماء أمتی کأنبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء ربانی بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ اس حدیث میں علماء ربانی کو ایک طرف امتی کہتا ہے اور دوسری طرف نبیوں سے مشابہت دی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ضمیمہ براہین احمدیہ، 5: 183، 184، مندرجہ روحانی خزائن، 21: 354

2۔ ’’اور اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہوچکی ہے تو اس امت میں نبی کس طرح ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اس بندہ (یعنی مرزا صاحب) کا نام اسی لیے نبی رکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ کی نبوت کا کمال، امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے جو اہل عقل کے نزدیک بے دلیل ہے اور کسی فرد پر ختم نبوت ہونے کے یہی معنی ہیں کہ کمالات نبوت اس پر ختم ہیں اور نبی کے بڑے کمالات میں سے نبی کا فیض پہنچانے میں کامل ہونا ہے اور یہ جب تک امت میں اس کا نمونہ نہ پایا جائے ثابت نہیں ہوسکتا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ضمیمہ حقیقۃ الوحی: 16، حاشیہ، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 637

3۔ ’’وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لیے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہرسے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہونا لازمی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 27۔ 28، مندرجہ روحانی خزئن، 22: 29، 30

4۔ ’’آنحضرت ﷺ کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ اِن معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالاتِ نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔ بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الٰہیہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض اور انہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔‘‘

غلام احمد قادیانی، خاتمہ چشمہ معرفت: 9، مندرجہ روحاني خزائن، 23: 380

5۔ ’’میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، توضیح المرام، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 60

6۔ ’’مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 701، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 478

7۔ ’جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیوں کر اس سے انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘

1۔ غلام احمد قادیانی کا خط، مؤرخہ 23 مئی 1908ء بنام ایڈیٹر اخبار عام لاہور، حقیقۃ النبوۃ: 271، 270
2۔ مرزا بشیر احمد، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجز بابت مارچ و اپریل 1915ء رضی اللہ عنہ 110، نمبر 3، ج 14

8۔ ’’میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا… اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 103، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 106

9۔ ’’ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے اس لیے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانا پڑتی ہے چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے، حق یہ ہے خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی ہے اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ: 3، مندرجہ روحانی خزائن، 18: 206

10۔ ’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، چشمہ معرفت: 317، مندرجہ روحانی خزائن، 23: 332، مندرجہ روحانی خزائن، 23: 332

11۔ ’’خدا نے میرے ہزارہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں، وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔‘‘

 غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقہ الوحی: 148، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 587

اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقہ الوحی: 68، مندرجہ، روحانی خزائن، 22: 503

12۔ ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ

مرزا صاحب کی تحریروں سے واضح ہے کہ جب انہوں نے اپنا موقف تبدیل کیا تو براہ راست دعویٰ نبوت نہیں کیا بلکہ پہلے امکان کا راستہ کھولا جس سے کوئی بھی صاحب فراست آدمی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ راستہ کس لیے کھولا جا رہا ہے۔ جب تک ارادہ نہیں بنا تھا تو یہ راستہ اپنے لیے اور سب کے لیے بند تھا۔ جب ارادہ بن گیا یا بنا لیا گیا تو ایک عرصہ تک راستہ کھول کراپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں نئے معانی راسخ کراتے رہے تاآنکہ ان کے لیے کھلم کھلا دعویٰ نبوت کی راہ ہموار ہوگئی۔

مجدّدِیت سے دعویٰ نبوت تک کا سفر

مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے مذہبی سفر کاآغاز بطورِ مبلغ اسلام اور ایک مصنف کے کیا۔ جس دور میں مرزا صاحب کے شعور نے آنکھ کھولی اس میں ایک طرف دینِ مسیحیت کے علم بردار پادریوں کہ (جن کی اعلانیہ سرپرستی حکومت کرتی تھی) سے مناظروں کا رجحان عام ہو چکا تھا تو دوسری طرف آریہ سماج اپنے مذہب کا پرچار بڑے زور شور اور شدو مد سے کررہے تھے۔ مرزا صاحب کی مہم جوُ طبیعت نے اس میدان کو اپنے لیے منتخب کیا اور اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت جلد اپنی علمیت کا سکہ اپنے ہم عصروں پر جمانے کے لیے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب کی تصنیف کا بیڑہ اٹھایا۔ براہین احمدیہ کی تصنیف 1879ء میں شروع ہوئی اور مصنف نے اس کتاب کے موضوع کے حوالے سے ہم عصر اہل علم حضرات سے بذریعہ خط و کتابت درخواست کی کہ وہ اس کا م میں مدد دینے کے لیے اپنے مضامین بھیجیں جن لوگوں نے اس دعوت پر لبّیک کہا ان میں سرسید کے ایک قریبی ساتھی مولوی چراغ علی بھی تھے۔

اس کتاب کو جو چار جلدوں میں شائع ہوئی بڑی شہرت ملی اور مرزا صاحب جو قادیان کے قصبے میں گمنامی کی زندگی گزار رہے تھے یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے جیسا کہ وہ خود براہین احمدیہ کی تصنیف سے پہلے اپنے احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’یہ وہ زمانہ تھا جس میں کوئی بھی مجھے نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف کیونکہ میں اس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اورایک اَحد من الناس زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقیت الوحی: 27، 28، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 460

اس کے آگے لکھتے ہیں:

’’اس قصبہ قادیان کے تمام لوگ اور دوسرے ہزارہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صدہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقیت الوحی: 28، 29، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 461

براہینِ احمدیہ کی خصوصی طور پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے چار حصوں میں جو 1880ء سے 1884ء تک شائع ہوئے مرزا صاحب نے اپنے اس عقیدے کا اظہار کیا ہے کہ ان پر الہام کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے دنیا کی اصلاح اور اسلام کی دعوت کے لیے مامور ہیں اور عصرِ حاضر کے مجدد ہیں ان کو حضرت مسیح سے مماثلت حاصل ہے۔

مرزا بشیر احمد، سیرت المہدی، 1: 39

اس اشتہار سے جو مصنف کی طرف سے دیا گیا اس عقیدے کا اظہار واضح طور پر کیا گیا ہے۔

’’یہ عاجز (مولف براہین احمدیہ) حضرت قادرِ مطلق جلّ شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کے طرز پر کمال مسکینی و فروتنی و غربت و تذلّل و تواضع سے اصلاح خلق کے لیے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راهِ راست سے بے خبر ہیں صراط مستقیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے اور اس عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے انوار دکھائی دیتے ہیں) دکھا دے۔ اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ تالیف پائی ہے جس کی 37 جزو چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہذا میں درج ہے لیکن چونکہ ساری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے اسی لیے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل یہ خط مع اشتہار انگریزی شائع کیا جائے اور اس کی ایک کاپی بخدمت معزز پادری صاحبان پنجاب و ہندوستان و انگلستان وغیرہ بلاد جہاں تک ارسال خط ممکن ہو جو اپنی قوم میں خاص طور پر مشہور و معزز ہیں برہمو صاحبان و آریہ صاحبان و نیچری صاحبان و حضرات مولوی صاحبان جو وجود خوارق و کرامات سے منکر ہیں اور اس وجہ سے اس عاجز سے بدظن ہیں ارسال کی جاوے۔‘‘

مرزا غلام احمد کے مختصر حالات، مرتبہ معراج الدین قادیانی، شامل براہین احمدیہ، 1: 82

الہامات اور دعووں کی بھرمار

براہین احمدیہ میں بکثرت الہامات، کشف و مکالمات اور پیش گوئیاں ان دعووں کے ساتھ ملتی ہیں جن سے صاف پتا چلتا ہے کہ مصنف نے جگہ جگہ اپنی شخصیت کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ اس کی کتاب کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ الہام کا سلسلہ بلا انقطاع جاری ہے اور الہام ہی اس کے دعوے کی صداقت اور مذہب و عقیدہ کی صحت کی بنیاد ہے اپنے ان دعووں کے ثبوت میں وہ طویل الہامات کا ایک سلسلہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس الہام کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں مگر جو ابھی اس حاشیہ کے تحریر کے وقت یعنی مارچ 1882ء میں ہوا جس میں یہ امر غیبی بطور پیش گوئی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس اشتہاری کتاب کے ذریعے سے اور اس کے مضامین پر مطلع ہونے سے انجام کار مخالفین کو شکست فاش آئے گی اور حق کے طالبوں کو ہدایت ملے گی اور بدعقیدگی دور ہو گی اور لوگ خدائے تعالیٰ کے القا اور رجوع دلانے سے مدد کریں گے اور متوجہ ہوں گے اور آئیں گے وغیرہا من الامور۔‘‘

غلام احمد قادیانی، براہین احمدیہ، 3: 238

جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں اس کتاب کی اشاعت نے مرزا صاحب کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں مخالف اور موافق لوگوں کی نگاہیں خود بخود ان کی طرف اٹھنے لگیں۔ اس کا تذکرہ مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں کیا ہے۔

’’براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ نشینی میں درویشانہ حالت تھی۔ گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کرنے کا سلسلہ آپ نے شروع فرما دیا تھا اور اس قسم کے اشتہارات سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آگیا تھا مگر بہت کم … دراصل مستقل طور پر ’’براہین احمدیہ‘‘ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹرو ڈکشن ہوا اور لوگوں کی نظریں اس دیہات کے رہنے والے گمنام شخص کی طرف حیرت کے ساتھ اٹھنی شروع ہوئیں جس نے اس تحدّی اور اتنے بڑے انعام کے وعدے کے ساتھ اسلام کی حقانیت کے متعلق ایک عظیم الشان کتاب لکھنے کا اعلان کیا، اب گویا آفتاب ہدایت جو لاریب اس سے قبل طلوع کر چکا تھا، افق سے بلند ہونے لگا۔ اس کے بعد براہینِ احمدیہ کی اشاعت نے ملک کے مذہبی حلقہ میں ایک غیر معمولی تموّج پیدا کر دیا۔ مسلمانوں نے عام طور پر مصنف براہین کا ایک مجدد ذی شان کے طور پر خیر مقدم کیا اور مخالفین اسلام کے کیمپ میں بھی اس گولہ باری سے ایک ہلچل مچ گئی۔‘‘

بشیر احمد، سیرۃ المہدی، 1: 103، 104

مذکورہ بالا کتاب کی تصنیف کے تسلسل میں مرزا صاحب نے ہوشیار پور میں مرلی دھر آریہ سماج سے مناظرہ کے بعد ایک کتاب لکھی جس کا نام انہوں نے ’’سرمۂ چشم آریہ‘‘ رکھا جو مناظرۂ مذاہب کے باب میں ان کی دوسری کتاب ہے ان دو کتابوں کی تصنیف کے بعد مرزا صاحب پر اپنی مناظرانہ و متکلمانہ صلاحیتیں آشکار ہوئیں اور ان پر یہ انکشاف ہوا کہ ان میں ایک نئی تحریک چلانے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس خود پسندانہ انکشاف نے ان کے مطمح نظر میں ایک تبدیلی پیدا کر دی اور ان کا رخ بجائے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے خود مسلمانوں کی طرف ہو گیا اور وہ انہیں مناظرہ اور مقابلہ کی دعوت دینے پر اتر آئے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے مرحلہ وار دعوے

قادیانی لٹریچر کوبغور پڑھنے سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت تک چھلانک لگانے سے پہلے اور بعد میں مرحلہ وارمختلف دعوے کیے جو اس طرح ہیں:

پہلا مرحلہ … مجدّد ہونے کا دعویٰ

دوسرا مرحلہ… محدَّث ہونے کا دعویٰ

تیسرا مرحلہ … مہدی ہونے کا دعویٰ

چوتھا مرحلہ … مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ

پانچواں مرحلہ … عینِ مسیح ہونے کا دعویٰ

چھٹا مرحلہ … مسیح علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ

ساتواں مرحلہ … صریح دعویٰ نبوت

آٹھواں مرحلہ … ظلّی نبوت کا دعویٰ

نواں مرحلہ … بروزی نبوت کا دعویٰ

دسواں مرحلہ … حقیقی و تشریعی نبوت کا دعویٰ

گیارھواں مرحلہ … عینِ محمد ﷺ ہونے کا دعویٰ

بارھواں مرحلہ … حضور نبی اکرم ﷺ پر فضیلت کا دعویٰ

تیرھواں مرحلہ … اپنی نسبت آخری نبی ہونے کا دعویٰ

اب ہم اِس اِجمال کو قدرے تفصیل سے بیان کریں گے۔

پہلا مرحلہ: مجدّد ہونے کا دعویٰ

اس حوالے سے ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی اپنی کتاب ’مجدد اعظم‘ میں لکھتے ہیں:

’’سب سے پہلے براہین احمدیہ میں آپ (یعنی مرزا غلام احمد نے) مجدد ہونے کا دعویٰ کیا لیکن اس دعویٰ مجددیّت کا اعلان خاص طور پر آپ نے 1885ء کے شروع میں ایک اشتہار کے ذریعے کیا۔‘‘

ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی، مجدد اعظم، 1: 113

اپنے اس دعویٰ مجددیت کے بارے میں خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:

1۔ ’’جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کتاب البریہ: 168، مندرجہ روحانی خزائن، 13: 201

2۔ ’’میں اس وقت محض ﷲ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دینِ متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لیے بھیجا ہے تاکہ میں اس پرآشوب دور میں زمانہ قرآن کی خوبیوں اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی خوبیاں بیان کروں۔‘‘

سلسلہ تصانیف احمدیہ، 3: 33

3۔ اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی، مورخہ 20 شعبان، 1314ھ میں لکھا ہے:

’’غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔‘‘

1۔ تبلیغ رسالت، 6: 2، 3، مؤلفہ میر قاسم علی قادیانی
2۔ مجموعہ اشتہارات، 2: 297، 297

4۔ ’’میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے، وہ نبی بھی ہوجائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ و رسول کی پیروی سے دیے جاتے ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، جنگ مقدس: 67، مندرجہ روحانی خزائن، 6: 156

5۔ ’’اور خدا کلام اور خطاب کرتا ہے اس امت کے ولیوں کے ساتھ اور ان کو انبیاء کا رنگ دیا جاتا ہے مگر وہ حقیقت میں نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام حاجتوں کو مکمل کردیا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، مواہب الرحمن: 66، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 285

6۔ ’’اوّل اس عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزے کا لفظ اس محل پر بولا کرتے ہیں جب کوئی خوارق عادت کسی نبی یا رسول کی طرف منسوب ہو لیکن یہ عاجز نہ نبی ہے اور نہ رسول ہے۔ صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت اور متابعت سے یہ انوار و برکات ظاہر ہو رہے ہیں سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزے کا۔‘‘

غلام احمد قادیانی کا قول، مندرجہ اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان، نمبر 23، جلد: 5، منقول از ’’قمر الہدیٰ‘‘ ص: 58، مولفہ قمر الدین جہلمی قادیانی

دوسرا مرحلہ: محدَّث ہونے کا دعویٰ

مجددِیت کے دعویٰ کو کچھ عرصہ گزر چکا تو مرزا صاحب اس سے چند قدم آگے بڑھے اور کہا کہ ان پر الہام کے ذریعے یہ منکشف ہوا ہے کہ وہ محدَّث ہیں اس زمانے میں ان کے قلم سے یہ الہام نکلا:

1۔ ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لیے کوئی نبی نہیں آئے گا ہاں محدث ضرور آئیں گے جو اللہ جلّ شانہ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ نشانِ نبوت کے رنگ سے رنگین کیے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک میں ہوں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، نشان آسمانی: 28

2۔ ’’مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 701، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 478

3۔ ’’ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدَّث ہوکر آیا ہے اور محدَّث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لیے نبوت نامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں با آواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بہ جز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، توضیح المرام: 18، روحانی خزائن، 3: 60

4۔ ’’میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدَّث اور اللہ کا کلیم ہوں تاکہ دین مصطفی کی تجدید کروں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، آئینہ کمالات اسلام: 383، مندرجہ روحانی خزائن، 5: 383

5۔ ’’میں نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی … میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حمامۃالبشریٰ: 96، مندرجہ روحانی خزائن، 7: 296، 297

6۔ ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 421، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 320

7۔ ’’محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بہ کلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ وہ اگرچہ کامل طور پر امتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدَّث کے لیے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 569، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 407

مرزا صاحب نے اگلے قدم میں صرف محدث ہونے کے دعوے پرہی اکتفا نہیں کیابلکہ اس دعوے پر قلم تنسیخ پھیر کر مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

تیسرا مرحلہ: مہدی ہونے کا دعویٰ

اگلے قدم میں انہوں نے اپنے آپ کو خود ساختہ مہدی کے منصب پر فائز کرلیا اور اس کے جواز میں یہ تحریر قلم بند کی:

1۔ ’’وہ آخری مہدی جو تنزلِ اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانے میں براهِ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الهٰی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے دی تھی وہ میں ہی ہوں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تذکرۃ الشہادتیں: 2

2۔ ’’رسول کریم ﷺ کی پیش گوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ بھی کئی تغیرات ہوں گے۔ مہدی کے متعلق جو پیش گوئیاں ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی مہدی ہوں گے۔ ان مہدیوں میں سے ایک مہدی تو خود حضرت مرزا صاحب ہیں اور آئندہ بھی کئی مہدی آسکتے ہیں۔‘‘

مکالمہ محمود احمد قادیانی، خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، 27 فروری 1928ء، نمبر 68، ج 14

چوتھا مرحلہ: مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب 1891ء میں پہلے مسیح ناصری کی وفات کا پرچارکرتے رہے اور اپنے دعوے کی زمین ہموار کرنے کے لیے بعد ازاں اپنے ہم دم دیرینہ اور انتہائی قریبی ساتھی حکیم نور الدین کے مشورہ سے مثیل مسیح ہونے کا دعوی کر دیا۔ ذیل میں مرزا صاحب کے اس تاریخی خط کا اقتباس نقل کیا جاتا جو انہوںنے حکیم صاحب کے خط کے جواب میں لکھا تھا جس میں موخر الذکر نے انہیں مسیح موعود کا دعویٰ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس خط پر 24 جنوری 1891ء کی تاریخ درج ہے:

1۔ ’’جو کچھ آں مخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟ درحقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت نہیں، یہ بننا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر لیوے لیکن ہم ابتلا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے، خدا تعالیٰ نے ترقیات کا ذریعہ صرف ابتلا ہی کو رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ)۔‘‘

مکتوبات احمدیہ، 5: 85

اس پس منظر میں بالآخر مرزا صاحب نے بغیر کسی لگی لپٹی کے مثلِ مسیح ہونے کا اعلان کر دیا۔

2۔ ’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے پاکر ’’براہین احمدیہ‘‘ کے کئی مقامات پر بہ تصریح درج کردیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 190، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 192

3۔ ’’یہ بات سچ ہے کہ اللہ جلّ شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے … میں اسی الہام کی بنا پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔‘‘

1۔ اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی، مورخہ 11 فروری 1891ء، مجموعہ اشتہارات، 1: 207

4۔ ’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدَّثیت نبوت سے مشابہہ ہے ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔‘‘

1۔ اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت، 2: 21، مولفہ میر قاسم علی قادیانی
2۔ مجموعہ اشتہارات، 1: 231

5۔ ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔‘‘

غلاماحمد قادیانی، براہین احمدیہ: 499، مندرجہ روحانی خزائن، 1: 593، حاشیہ در حاشیہ، نمبر 3

6۔ ’’اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بہ شدت مناسبت و مشابہت ہے۔‘‘

1۔ اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت، 1: 15، مؤلفہ میر قاسم علی قادیانی
2۔ مجموعہ اشتہارات، 1: 24

7۔ ’’غرض مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بہ وجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں، دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کردیتے ہیں … سو خدا تعالیٰ نے اس عام قاعدے کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اخرج منہ الیزیدیون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 63-73، حاشیہ، مندرجہ روحانی خزائن، حاشیہ، 3: 134-138

8۔ ’’میں اس سے ہرگز انکار نہیں کرسکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔‘‘

غلام احمد قادیانی کا خط بنام مولوی عبدالجبار، مورخہ 11 فروری1891ء، مجموعہ اشتہارات، 1: 208، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد اول، ملحقہ جلد دوم 159

9۔ ’’اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال و اقبال کے ساتھ بھی آئے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 296، مندرجہ روحانی خزائن3: 251

10۔ ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہوگیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لیے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے … پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لیے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہوجائے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 199، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 197

11۔ ’’بالاخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آئے۔ کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریّت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کردے گا۔ وہ اسیروں کو دستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں، رہائی دے گا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 156، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 179، 180

پانچواں مرحلہ: عینِ مسیح ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب نے اپنی ترقی پسند افتاد طبع سے مجبور ہو کر مثیلِ مسیح سے اگلا مرحلہ طے کیا اور اگلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ چنانچہ 1891ء میں ہی عینِ مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ وہ اپنی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

1۔ ’’اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجالائو کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آبا گزرگئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کرگئیں وہ وقت، تم نے پالیا ہے اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں رک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا تاکہ دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اسی طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح وہ شخص بعد کلیم اللہ مردِ خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان پر اٹھائی گئی سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے، دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لیے آیا جس کے حق میں ہے: اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ اِلَيْکُمْ رَسُوْلاً شَاھِداً عَلَيْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فَرْعَوْنَ رَسُوْلًا، تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا، ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اور وہ اترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لیے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اترا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تاکہ سمجھنے والوں کے لیے نشان ہو۔‘‘

غلام احمد قادیانی، فتح اسلام: 9-11، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 7، 8

اسی کتاب میں آگے چل کر وہ دعویٰ مسیحیت کی بنیاد پر اپنے دعویٰ نبوت کی عمارت تعمیر کرنے کے لیے تحریر کرتے ہیں:

2۔ ’’سو اس عاجز کو اور بزرگوں کی فطرتی مشابہت سے علاوہ جس کی تفصیل براہین احمدیہ میں بہ بسط تمام مندرج ہیں۔ حضرت مسیح کی فطرت سے ایک خاص مشابہت ہے اور اسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے سو میں صلیب کو توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں میں آسمان سے اترا ہوں ان پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، فتح اسلام، حاشیہ: 17، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 11

3۔ ’’مسلمانوں اور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الٰہی یہی عاجز ہے۔‘‘

4۔ ’’مکاشفات اکابر اولیاء بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے پہلے چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور اس سے تجاوز نہیں کرے گا۔ چنانچہ ہم نمونہ کے طور پر کسی قدر اس رسالہ میں لکھ بھی آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے اور کوئی شخص دعوے دار اس منصب کا نہیں ہوا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کشتی نوح: 46، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 50

5۔ ’’مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعوے مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو ’’براہین احمدیہ‘‘ میں بار بار بہ تصریح لکھا گیا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کشتی نوح: 47، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 51

6۔ ’’سوچوں کہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی اس لیے گو اس نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا پھر … مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بہ ذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر ’’براہین احمدیہ‘‘ کے حصہ چہارم 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے وقت میں اس سرخفی کی مجھے خبر نہ دی۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کشتی نوح: 46، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 50

7۔ ’’اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بناویں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کشتی نوح: 48، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 52

مرزا صاحب نے احادیث میں بیان کردہ نزولِ مسیح کی کیفیات کو اپنے اوپر منطبق کرنے میں جس موشگافی اور نکتہ آفرِینی سے کام لیاہے اس کی تفصیل میں جانا طوالت کا باعث ہوگا۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کی تحریروں میں سنجیدگی اور متانت کی بجائے طنز و تشنیع اور استہزاء کا عنصر زیادہ ہوگیا ہے جو پیغمبروں سے درکنار مبلغین و مصلحین کے وقار ومتانت کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے حیاتِ نزول مسیح کے باب میں جمیع مسلمانوں کے عقیدہ کا جس انداز سے مذاق اڑایا ہے وہ درباری مصاحبوں کی فقرہ سازیوں اور جگت بازیوں سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ حضرت مسیح کے آسمان پر زندہ رہنے کے عقیدے کو عقلاً محال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

8۔ ’’ازاں جملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی و آسمانی اجسام کے لیے ضروری ہے آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہو گا اور یہ مرور زمانہ لابدی و لازمی طور پر ایک دن ضرورا س کے لیے موت واجب ہو گی۔ پس اس صورتحال میں تو حضرت مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان پر ہی فوت ہو گئے ہیں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے، اسی کے کسی قبرستان میں دفن کیے گئے ہوں گے اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا اس کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں، پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش نہیں معلوم ہوتا۔‘‘

’’ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 685، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 469

9۔ ’’آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدّس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے، وہ ان ہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، انجام آتھم: 28، مندرجہ روحانی خزائن، 11: 28، 11

10۔ ’’ہم اپنی کتابوں میں بہت جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ عاجز جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے رنگ میں بھیجا گیا ہے بہت سے امور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں ایک ندرت تھی اس عاجز کی پیدائش میں بھی ایک ندرت ہے اور وہ یہ کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور یہ امر انسانی پیدائش میں نادرات سے ہے۔ کیونکہ اکثر ایک ہی بچہ پیدا ہوا کرتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تحفہ گولڑویہ: 110، مندرجہ روحانی خزائن، 17: 202

11۔ ’’اس امت کے مسیح موعود کے لیے ایک اور مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام پورے طور پر بنی اسرائیل میں سے نہ تھے بلکہ صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی کہلاتے تھے۔ ایسا ہی اس عاجز کی بعض دادیاں سادات میں سے ہیں۔ گو باپ سادات میں سے نہیں اور حضرت عیسیٰ کے لیے خدا نے جو یہ پسند کیا کہ کوئی اسرائیلی حضرت مسیح کا باپ نہ تھا اس میں یہ بھید تھا کہ خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کی کثرت گناہوں کی وجہ سے ان پر سخت ناراض تھا۔‘‘

غلام احمد قادیانی کا لکچر سیالکوٹ: 17، مندرجہ روحانی خزائن20: 215

12۔ ’’چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر بایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تذکرۃ الشہادتین: 33، مندرجہ روحانی خزائن، 20: 35

13۔ ’’سو یقینًا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجوب ٹھہرتا۔ تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا … پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کرسکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربع میں سے کسی سلسلے میں یہ داخل ہے۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام: 659، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 456

دعویٰ مسیحیت کی آڑ میں دعویٰ نبوت

مختلف دعوے کرتے ہوئے جب مرزا صاحب بزعم خویش مسیحیت کے مقام پر فائز ہو گئے تو اب انہوں نے دعویٰ نبوت کے لیے پر تولنا شروع کر دیئے چنانچہ انہوں نے اسلامی عقائد اور تاریخ میں پہلی مرتبہ نبوت کاملہ اور غیر کاملہ وغیرہ کی خود ساختہ اصطلاحات وضع کیں اور پھر ان پر اپنی مزعومہ نبوت کی بنیادیں استوار کرنا شروع کر دیں اور دور از کار تاویلات باطلہ سے پہلے محدثیت کا دعویٰ کیا پھر مزید ترقی کرتے ہوئے قصر نبوت میں نقب زنی کرنے کا مکروہ دھندہ شروع کر دیا۔ مرزائی نبوت کے اس تدریجی سفر کے مختلف مراحل خود مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں کے اقوال کی روشنی میں ملاحظہ ہوں:

1۔ ’’مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالہ اوہام، 701، مندرجہ روحانی خزائن، 3: 478

2۔ ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 149، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 153، 154

3۔ ’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تحفہ گولڑویہ: 195، مندرجہ روحانی خزائن، 17: 295

4۔ ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔‘‘

1۔ غلام احمد قادیانی، حقیقت الوحی: 29
2۔ غلام احمد قادیانی، روحانی خزائن، 22: 31

چھٹا مرحلہ: مسیح علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ

مرزا صاحب کے اعلانات اور دعاوی کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے دعویٰ نبوت کو پروان چڑھانے کے لیے کیے گئے تھے۔ مسیح موعود کے دعوے سے دعویٰ نبوت تک وہ قدم بہ قدم آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے تمام انبیاء سے ہمسری کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ کہا کہ تمام انبیاء کے فضائل و کمالات ان کے اندر جمع کردیئے گئے ہیں جیسا کہ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں۔

1۔ ’’اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز نبی گزرچکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں سو وہ میں ہوں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، براہین احمدیہ، 5: 90

2۔ پھرجوش میں آکر وہ یہ حد بھی پھلانگ گئے اور اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت سے بھی آگے اور ان کی ذات سے بھی افضل قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کیا:

’’اور مسیح کی طرح میرے پر بھی بہت حملے ہوئے مگر ہر ایک حملے میں دشمن ناکام رہے اور مجھے پھانسی دینے کے لیے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لیے اس سے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اوربڑے بڑے قوی ہاتھ دکھائے… اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادہ نہیں دیکھتا۔ یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کیے جاتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔‘‘

غلام احمد قادیانی، چشمہ مسیحی: 15، مطبوعہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، لاہور

3۔ ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا ہے تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 149، مندرجہ روحانی خزائن، 22 153، 154

4۔ آگے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقت الوحی: 148، مطبوعہ قادیان، مئی 1907ء

5۔ اسی دعویٰ کو ایک اور مقام پر شاعرانہ تعلّي سے کام لیتے ہوئے یوں بیان کرتے ہیں:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ
اس سے بہتر غلام احمد ہے

غلام احمد قادیانی، دافع البلائ: 43

ساتواں مرحلہ: صریح دعویٰ نبوت

مرزا صاحب کا نبوت کے حوالے سے یہ طریق کار رہا کہ وہ نبوت اور نبی کالفظ صاف زبان پر لائے بغیر نبوت کی صفات اور خصائص کو زیر بحث لاتے اور ان کو اپنی ذات پر چسپاں کردیتے جس کا نتیجہ لامحالہ یہی نکلنا تھا کہ ایک دن سب تحفظات بالائے طاق رکھتے ہوئے صریحاً دعویٰ نبوت کر دیتے سو یہی ہوا، 1901ء میں ایک رسالہ - غلطی کا ازالہ - لکھ کر اپنے سابقہ دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے صریح نبوت کا اعلان کر دیا۔

مرزا صاحب خود تحریر کرتے ہیں:

1۔ میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘

ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن، 18: 211

وہ لکھتے ہیں:

2۔ ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 149، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 153، 154

3۔ ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے لقب سے پکارا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقۃ الوحی: 68 مطبوعہ ربوہ 1950ء

4۔ ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تتمہ حقیقہ الوحی: 68، روحانی خزائن، 22: 503

5۔ ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا، گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے … سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

غلام احمدقادیانی، دافع البلائ: 10، 11، مندرجہ روحانی خزائن، 18: 232

6۔ ’’ (ایک انگریز اور لیڈی جو شکاگو سے قادیان آئے) ان کے اس سوال پر کہ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے، اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں … جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جاسکتا ہے۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔‘‘

1۔ اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان، مورخہ 10 اپریل 1908ء

2۔ ملفوظات، 10: 217، منقول از اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد 22، نمبر 85، مورخہ 15 جنوری 1935ء

7۔ ’’میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں، جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔‘‘

اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد 18، نمبر 7، رضی اللہ عنہ 7، مورخہ 15 جولائی 1930ء

8۔ ’’غور کا مقام ہے کہ ہم موسیٰ کو تو صرف اس لیے نبی کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس کو نبی کہا ہے۔ عیسیٰ کو نبی اللہ صرف اس لیے جانیں کہ قرآن کریم میں اس کی نسبت نبی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر جب مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) کا سوال آوے تو ہم اصول کو چھوڑ کر لفظی تاویلات میں پڑجائیں۔ موسیٰ اور عیسیٰ کی نبوت کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نے ان کو بطور نبی کے پیش کیا ہے پس جب اسی خدا کے کلام (یعنی مرزا صاحب کی وحی) میں مسیح موعود کو کئی دفعہ نبی کے نام سے پکارا گیا ہے تو ہم کون ہیں کہ اس کی نبوت کا انکار کریں۔‘‘

بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجز‘‘ قادیان ص: 114، نمبر: 3، ج: 14

9۔ ’’اگر کوئی شخص مخلیٰ بالطبع ہوکر اس بات پر غور کرے گا … روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہوجائے گاکہ مسیح موعود ضرور نبی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ آنحضرت ﷺ نبی رکھیں، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں، لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے۔‘‘

میاں محمود احمد، خلیفہ قادیان، حقیقۃ النبوۃ: 198

مرزا بشیر احمد اپنے والد کے دعویٰ نبوت کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں:

10۔ اور مسیح موعود نے ابھی اپنی کتابوں میں اپنے دعویٰ رسالت اور نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیںکہ ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘ (دیکھو: ’’بدر‘‘ 5 مارچ 1908ء)

مرزا بشیر احمد، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان، ص: 110، نمبر: 3، ج: 14

آٹھواں مرحلہ: ظلّی نبوت کا دعویٰ

خاتم النبیین کی معنوی تحریف اور تاویل کرتے ہوئے مرزا صاحب نے اپنے دعویٰ نبوت کو قابل قبول بنانے کے لیے ظلّی نبوت کا شوشہ چھوڑا اور نیا پینترا بدلتے ہوئے یہ دعویٰ کر ڈالا۔

1۔ ’’ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سیدو مولا آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات معتدیہ کے اظہار و اثبات کے لیے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کردے، سو اس طرح سے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا۔ تاکہ میں آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ٖچشمہ معرفت: 324، مندرجہ روحانی خزائن، 23: 340

2۔ ’’اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا ہوں۔ اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی اور اس طور خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ: 9

3۔ ’’پس مسیح موعود کا منکر کافر تو ضرور ہوا مگر ہاں اس پر کفر کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے نہیں لگایا جائے گا بلکہ خود دربار محمدی سے یہ فرمان جاری ہوگا کیونکہ مسیح موعود اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں بلکہ محمد رسول اللہ کا کامل ظل ہونے کی وجہ سے قائم ہے۔‘‘

مرزا بشیر احمد، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان، رضی اللہ عنہ 157، نمبر 3، ج 14

4۔ ’’پس اس لیے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کرسکے۔ بے شک اس امت میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پلہ تھے لیکن ان میں سوائے مسیح موعود کے کسی نے بھی نبی کریم کی اتباع کا اتنا نمونہ نہیں دکھایا کہ نبی کریم کا کامل ظل کہلا سکے۔ اس لیے نبی کہلانے کے لیے صرف مسیح موعود مخصوص کیا گیا۔‘‘

مرزا بشیر احمد، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجز‘‘ قادیان، رضی اللہ عنہ 116، نمبر 3، ج 14

ظل کا معنی

ظل کا معنی سایہ ہے۔ نبوت کی اس قسم سے مرزا غلام احمد قادیانی کی مراد یہ تھی کہ کوئی حقیقی نبی تو نہیں آسکتا مگر فیضانِ نبوت سے فریضہ نبوت پر فائز ہو سکتا ہے اور کہا کہ (معاذ اللہ)باقی نبی تو صرف نبی تھے اور ہمارے نبی ﷺ نبی گر ہیں۔ اس بات سے سادہ لوح مسلمان کو خوش کرنا مقصود تھا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ اتنی بڑی شان کے مالک ہیں کہ فیضان نبوت سے امتیوں کو بھی نبوت کے درجے پر فائز کر دیتے ہیں۔ یہ وہ بھیانک دجل و فریب اور تلبیسِ ابلیس ہے جس کے ذریعے مرزا صاحب نے مسلمانوں کو شکار کرنے اور دھوکہ دینے کی کوشش کی۔

نواں مرحلہ: بروزی نبوت کا دعویٰ

ظلی نبوت کے بعد بروزی نبوت کا تانا بانا بھی اسی لیے بنا گیا کہ اس آڑ میں اپنی خود ساختہ نبوت کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

1۔ ’’ولـکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ اس آیہ میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ جو کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں، اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لیے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہوگیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمے سے پانی لینے کے لیے باقی نہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ، : 11، مندرجہ روحانی خزائن، 18حاشیہ رضی اللہ عنہ 215

2۔ ’’غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہدہ تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاٰخَرِيْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ، مندرجہ روحانی خزائن، 18: 214

3۔ ’’مجھے بروزی صورت میں نبی اور رسول بنایا گیا ہے اور اس بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اور رسول رکھا مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں بلکہ محمد ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد ﷺ کی چیز محمد ﷺ کے پاس ہی رہی۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ: 16، روحانی خزائن، 18: 216

4۔ ’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت ’’خاتم النبیین‘‘ تھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیہ وَاٰخَرِيْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت اکے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمدا ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلّیّت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ایک غلطی کا ازالہ، مندرجہ روحانی خزائن، 18: 212

5۔ ’’اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفی اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، نزول المسیح، : 3، حاشیہ، مندرجہ، روحانی خزائن، 18: 381

بروز کا معنی

بروز کا معنی اخفاء سے ظاہر ہونا یا اخفاء سے ظہور میں آنا ہے۔ مرزا کے نزدیک اس کا مفہوم یہ تھا کہ (معاذ اللہ) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت اتنی صدیاں گزر جانے کے بعدپردۂ اخفاء میں چلی گئی اور نبوت محمدی ﷺ کا ظہوراپنے فیوض و اثرات سے عام نہ رہا۔ سو اللہ نے چاہا کہ نبوت محمدی ﷺ کو دوبارہ ظاہر کیا جائے، اس وجہ سے مرزا کا آنا گویا نبوتِ محمدی کا ظہور ثانی ہے۔ جس کامطلب یہ تھا کہ مرزا ئی نبوت عینِ نبوتِ محمدی ہے۔ (معاذ اللہ)

دسواں مرحلہ: حقیقی و تشریعی نبوت کا دعویٰ

مرزا صاحب نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور اور صاحب شریعت نبی کا دعویٰ کرنے کی غرض سے صاحب شریعت نبی کی تعریف میں چند تبدیلیاں کر دیں۔ درج ذیل اقتباسات مرزا صاحب کے حقیقی اور تشریعی نبوت کے دعویٰ کا ثبوت فراہم کرتے ہیں:

1۔ ’’یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرو نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا … میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلًا یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ۔ یہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی (1) یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔‘‘ (2)

 (1) الأعلیٰ: 91۔ 20
 (2) غلام احمد قادیانی، أربعین‘‘ نمبر 4، ص: 7، 83، مندرجہ روحانی خزائن، 17: 435، 436

2۔ ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا … اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حاشیہ اربعین‘‘ نمبر: 4، ص: 7، 83، مندرجہ روحانی خزائن، 17: 435، حاشیہ

3۔ مرزا صاحب کے نزدیک 1900ء میں جہاد کا حکم منسوخ کیا گیا جو ایک تشریعی امر ہے۔ یہ حکم اربعین میں اس طرح درج ہے:

’’جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بڈھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، اربعین‘‘ نمبر 4، ص: 15، حاشیہ، مندرجہ روحانی خزائن17: 443، حاشیہ

4۔ ’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم کی نافرمانی کرتا ہے، جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہوجائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔‘‘

1۔ تبلیغ رسالت، 9: 47
2۔ مجموعہ اشتہارات، 3: 295

5۔ مرزا صاحب برطانوی حکومت کی حمایت میں انکار جہاد کے باب میں مزید لکھتے ہیں:

’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہادکے معتقد کم ہوجائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، مجموعہ اشتہارات، 3: 19

6۔ ’’دیکھو میں ایک حکم لے کرآپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔‘‘

1۔ جہاد اور گورنمنٹ انگریزی: 4
2۔ الخطب الالھامیہ: 29

7۔ مرزا صاحب نزول جبریل کا بھی اعلان کرتے ہیں جو تشریعی نبوت کے دعویٰ کو ثابت کرتا ہے:

وقالوا انی لک ھذا قل ھو اللہ عجیب جاایل واختار و دار اصبعہ واشار ان وعد اللہ اتی فطوبی لمن وجد رأی الامراض تساع والنفوس تضاع۔

مرزا صاحب نے اس کا اردو ترجمہ یوں لکھا ہے:

’’اور کہیں گے تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہواکہ خدا ذو العجائب ہے میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے کئی طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 103، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 106

حاشیے پر مرزا صاحب نے آئیل کا ترجمہ جبرائیل بتایا ہے، جبرائیل کا نزول نبوت کی تکمیل کی علامت ہے اور یوں مرزا صاحب ایک کامل نبی بن بیٹھے۔

مرزا صاحب کے پیروکار بھی انہیں حقیقی نبی تصور کرتے تھے جیسا کہ درج ذیل بیانات سے واضح ہے:

8 ’’درحقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کی رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو، تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔‘‘

میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، القول الفصل: 12

9۔ ’’پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت (مرزا) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘

میاں محمود احمد، خلیفہ قادیان، حقیقۃ النبوۃ: 174

10۔ ’’غرضیکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا اور وہی نبی تھا جس کو نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نبی تھا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں یا ایھا النبی کے الفاظ سے مخاطب کیا۔‘‘

 صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘ قادیان، رضی اللہ عنہ 114، نمبر 3، جلد 14

11۔ ’’میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود کے زمانے کا احمدی ہوں اور میں نے 1899ء میں بیعت کی تھی۔ میں ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا کا نبی اور رسول یقین کیا کرتا تھا جن معنوں میں رسول کریم ﷺ نے آپ کا نام اپنی پیش گوئی میں نبی اللہ رکھا ہے اور میں اس دعویٰ نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین رکھتا ہوں۔ میرے سامنے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب آپس میں بحث کر رہے تھے تو دوران مباحثہ میں آوازیں بلند گئیں اور اونچا اونچا بولنا شروع ہوگیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب تو بالکل خاموش ہوگئے اور مولوی محمد احسن صاحب کچھ آہستہ آہستہ بولتے رہے۔‘‘

حافظ محمد ابراہیم قادیانی کا حلفیہ بیان، مندرجہ رسالہ ’’فرقان‘‘ قادیان، ص: 10، جلد 1، نمبر 10، بابت اکتوبر 1942ئ)

12۔ ’’سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) کی زبان مبارک سے بارہا براہ راست اپنے کانوں سنا۔ حضور کی موجودگی میں حضور کو نبی اللہ اور خدا کا رسول کے نام سے ذکر کیا گیا۔ ذکر کرنے والوں میں سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب خصوصیت سے پیش پیش تھے اور بعض احباب کے استفسار پر حضور نے مہر تصدیق بھی ثبت فرمائی۔

عبدالرحمان قادیانی کی شہادت، مندرجہ رسالہ ’’فرقان‘‘ قادیان، رضی اللہ عنہ 16، جلد 1، نمبر 10، بابت اکتوبر 1942ء

13۔ ’’میں حلفی بیان دیتا ہوں کہ خدا ایک اور محمد رسول اللہ اس کے سچے نبی خاتم النبیین ہیں اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب اسی طرح نبی اللہ ہیں جس طرح دوسرے ایک لاکھ 24 ہزار نبی اللہ تھے۔ ذرہ فرق نہیں۔ فقط۔‘‘

بابو غلام محمد قادیان، ریٹائرڈ فورمین لاہور کی حلفیہ شہادت، مندرجہ رسالہ ’’فرقان‘‘ ص: 12، قادیان، جلد: 1، نمبر: 10، بابت ماہ اکتوبر 1942ء

مرزا صاحب نے اپنے منکرین کو کافر اور مرتد کہا

14۔ مرزا صاحب اپنے منکرین کو کافر اور مرتد قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے نزدیک صاحب شریعت نبی کا انکار ہی کفر و ارتداد کا باعث ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود کو صاحب شریعت نبی سمجھتے تھے۔

’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

غلام احمد قادیانی، تریاق القلوب، حاشیہ: 258، 259؛ 28 اکتوبر 1902ء (مطبوعہ قادیان)

مرزا صاحب کے نزدیک نزول مسیح کا منکر کافر نہیں، وہ لکھتے ہیں:

’’اول تو جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ازالۂ اوھام: 55مطبوعہ گرویہ 1308ھ

مرزا صاحب کی مندرجہ بالا عبارات سے متحقق ہو گیا کہ ان کے نزدیک نزول مسیح کا منکر کافر نہیں بلکہ صاحب شریعت نبی کا منکر ہی کافر ہے۔

اب ہم ذیل میں مرزا صاحب کی وہ عبارات نقل کرتے ہیں جن میں انہوں نے اپنے منکرین کو کافر اور مرتد کہا ہے۔

1۔ ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے … اب جو شخص خدا اور رسول کے احکام کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدائے تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن، 22: 168

2۔ ’’کفر دو قسم پر ہے ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتاہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا دوسرا یہ کفر کہ وہ مسیح موعود (یعنی مرزا صاحب) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کا فر ہے اور اگر ٖغور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقہ الوحی: 179، 180، 18 نومبر 1950، مطبوعہ ربوہ، مندرجہ روحانی خزائن 22: 168

3۔ مرزا صاحب اپنی مزعومہ دعوت کے منکرین کو صریح الفاظ میں کافر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

تذکرہ، مجموعہ الہامات: 600

4۔ مرزا بشیر احمد قادیانی اپنے والد کے نظریات وخیالات کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطرازہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافراور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

مرزا بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ ’’رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘‘ 110، نمبر 3، جلد 14

5۔ مرزا بشیر احمد اپنی اسی کتاب میں مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ ب اللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیںکیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقوی اور اکمل اور اشد ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘

مرزا بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ ’’رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘‘ 110، نمبر 3، جلد 14

6۔ مرزا صاحب کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود انکارِ مرزا کو کفر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

مرزا بشیر الدین، آئینہ صداقت: 35

7۔ مرزا صاحب کے ایک مرید خاص میاں عبد الحکیم خان بوجوہ علیحدہ ہو گئے تو مرزا صاحب نے ان کے مرتد ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ مرزا صاحب ایمان بالرسالت اور اطاعت رسول ﷺ کی ناگزیریت سے متعلق آیات کا اطلاق اپنی ذات پر کرتے ہیں اور آخر پر لکھتے ہیں:

’’اب کہاں ہے میاں عبدالحکیم خان مرتد جو میری اس تحریر سے مجھ سے بر گشتہ ہو گیا۔ چاہیے کہ آنکھیں کھول کر دیکھے کہ کس طرح خدا نے اپنی ذات پر ایمان لانا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے۔ اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں توحید قبول کرنے کی استعداد اس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے اور رسول کا وجود چقماق کی طرح ہے جو اس پتھرپر ضرب لگا کر اس آگ کو باہر نکالتاہے پس ہر گز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے توحید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے توحید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 116-128، مطبوعہ قادیان، 18 نومبر 1950

8۔ مرزا صاحب نے اولاً اس بات کا اقرار کیا ہے کہ صاحبِ شریعت نبی کا انکار ہی کفر ہے اور ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا کہ نزول مسیح کے عقیدے کا منکر کافر نہیں۔ اب ان کا اپنے منکرین کو کافر، مرتد، جہنمی اور اللہ و رسول کا نافرمان کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود کو صاحبِ شریعت نبی گردانتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلے امر و نہی کے نزول کا دعویٰ کر کے بھی اپنے صاحب شریعت نبی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ مگر جب ان کے دعویٰ نبوت پر کسی نے گرفت کی توا نہوں نے اپنا دامن بچانے کے لیے اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے مسیح موعود کے لفظ کا سہارا لیا۔

مرزا صاحب اور ان کے جا نشینوں کی مندرجہ بالا عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ و ہ حقیقی و تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ اور ان کے متبعین بھی ان کو حقیقی و تشریعی نبی مانتے ہیں۔

گیارھواں مرحلہ: عینِ محمد ﷺ ہونے کا دعویٰ

اپنی مزعومہ نبوت کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے مرزا صاحب نے خود عین محمد ہونے کا دعویٰ کر دیا جیسا کہ ان کی اس تحریر سے ظاہر ہے:

1۔ ’’ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور شروع ہی میں اس کو خدا اور خدا کے رسول پاک کا نام سنایا جاتا ہے۔ بعینہ یہ بات میرے ساتھ ہوئی میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ ہی کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ ’’مسیح موعود محمد است و عین محمد است۔‘‘

1۔ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، مورخہ 17، اگست 1915ء
2۔ خطبہ الہامیہ: 171

2۔ ’’مسیح موعود (مرزا صاحب) اور نبی کریم ﷺ میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی حتیٰ کہ ان دونوں کا وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا۔‘‘

’’کلمۃ الفصل‘‘ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجز‘‘ رضی اللہ عنہ 104، نمبر 3، جلد 14

3۔ ’’اور آپ (مرزا صاحب) کو چونکہ حضور ﷺ کا بروزی وجود عطا کیا گیا تھا اس لیے آپ عینِ محمدا تھے۔‘‘

الفضل، 16 ستمبر 1915

4۔ ’’تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔‘‘

مرزا بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجز‘‘ ص: 105، نمبر: 3، جلد: 14

5۔ ’’اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیہ واٰخرین منھم سے ظاہر ہے کہ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعتِ اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘

مرزا بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ ’’رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘‘ رضی اللہ عنہ 158، نمبر 3، جلد 14

6۔ ’’اس رؤیت اور معرفت سے مراد وہ مرتبہ روئیت و معرفت ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں فرمایا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفی ما عرفنی و ماراٰنی یعنی جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفی کے درمیان فرق کیا اور دونوں کو الگ الگ سمجھا اس نے نہ مجھے شناخت کیا اور پہچانا اور نہ ہی دیکھا اور سمجھا۔ پس حضور کے اس ارشاد کے مطابق حضور کا دیکھنا اور پہچاننا ان ہی معنوں میں ہے کہ حضور (مرزا صاحب) کو محمد مصطفی ہی یقین کیا جائے۔‘‘

اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد 2، نمبر 156، رضی اللہ عنہ 7، مورخہ 17 جون 1915ء

7۔ ’’الغرض مسیح موعود کی تحریروں سے یہ بات پختہ طور سے ثابت ہو رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود یقینا محمد تھے اور آپ کو چونکہ آنحضرت صلعم کا بروزی وجود عطا کیا گیا تھا اس لیے آپ عین محمد تھے اور آپ میں جمیع کمالات محمدیہ کامل طور پر منعکس تھے۔ پس اس لیے آپ کے عین محمد ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ایسا ہونا قدیم سے مقدر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک بروز محمد جمیع کمالات محمدی کے ساتھ مبعوث ہوگا۔‘‘

اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ج 3، نمبر 37، مورخہ 16 ستمبر 1915ء

بارھواں مرحلہ: حضور نبی اکرم ﷺ پر فضیلت کا دعویٰ

1۔ مرزا صاحب کے بارے میں قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے:

’’یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اوربڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘

اخبار الفضل، 1922۔ 7۔ 17

2۔ مرزا صاحب کا ایک پیرو کار لکھتا ہے:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

از قاضی محمد ظہور الدین اکمل قادیانی، منقول از اخبار ’’پیغام صلح‘‘ مورخہ 14 مارچ، 1916ء، اخبار ’’بدر‘‘ قادیان، نمبر 43، ج 2، 25 اکتوبر 1906ء، ص4

3۔ مرزا صاحب کے بیٹے مرزا بشیر احمد اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’کیونکہ خطبہ الہامیہ میں مسیح موعود علیہ السّلام فرماچکے ہیں: ’’اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے اخیر میں مبعوث ہوئے… پس جس نے ان سے انکار کیا۔ اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے اخیر میں یعنی ان دونوں میں بہ نسبت ان سالوں کی اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔‘‘

اخبار ’’فاروق‘‘ قادیان، ج 21، نمبر 26۔ 27، مورخہ 14۔ 21 اکتوبر 1936

4۔ ’’اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقوی اور اکمل اور اشد ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘

مرزا بشیر احمد قادیانی، کلمۃ الفصل، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، 14: 110، نمبر 3

تیرھواں مرحلہ: اپنی نسبت آخری نبی ہونے کا دعویٰ

آخر میں مرزا صاحب نے نبوت میں اپنی خاتمیت کا اعلان کر دیا۔ اس دعویٰ کے حوالے سے ان کی درج ذیل تحریریں قابل ذکر ہیں:

1۔ ’’پس اس وجہ سے (اس امت میں) نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے ایسا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیشگوئی پوری ہوجائے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقت الوحی، 391، روحانی خزائن، 22: 406، 406

2۔ ’’ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، کشتی نوح: 56، مندرجہ روحانی خزائن، 19: 61، حاشیہ

3۔ ’’آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔‘‘

تشحیذ الاذہان، قادیان، نمبر: 8، جلد: 12، ص: 11، ماہ اگست 1917ء

4۔ وقد ختمت النبوّۃ علی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فلا نبي بعدہ إلا الذي نُوّر بنورہ و جُعل وارثہ من حضرۃ الکبریاء۔ اعلموا أن الختمیۃ أعطیت من الازل لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ثم أعطیت لمن علّمہ روحہ وجَعَلہ ظلّہ فتبارک من علّم وتعلّم فإن الختمیۃ الحقیقیۃ کانت مقدرۃ في الألف السادس الذي ہو یومٌ سادسٌ من أیام الرحمٰن

غلام احمد قادیانی، ما الفرق في آدم والمسیح الموعود، ضمیمہ خطبہ الھامیہ، مندرجہ روحانی خزائن، 22: 310۔

’’اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کی گئی ہے اس لیے آپ کے بعد اس کے سوا کوئی نبی نہیں ہے جسے آپ کے نور سے منور کیا گیا ہو اور جو بارگاہ کبریائی سے آپ کا وارث بنایا گیا ہو۔ معلوم ہوا کہ ختمیت ازل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی، پھر اس کو دی گئی جسے آپ کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لیے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور وہ جس نے تعلیم حاصل کی، پس بلاشبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں جو رحمن کے دنوں میں چھٹا دن ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اپنے موقف کی تائید میں مختلف ادوار میں مختلف پینترے بدلتے رہے اور ان میں تضاد اس انتہائی درجے کو پہنچ گیا کہ خود ان کے متبعین بھی کسی ایک موقف کا تعین نہ کرسکے جس کے نتیجے میں وہ دو گروہوں میں بٹ گئے۔ مرزا صاحب کو گزرے ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے مگر ان کے پیروکار یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ مرزا صاحب کے کس دعوے کو تسلیم کیا جائے؟ آیا انہیں مجدد مانا جائے یا ان کے دعویٰ نبوت پر آمنا و صدقنا کہا جائے۔ ان کی ابتدائی کتب کو سامنے رکھیں جس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اس عقیدے کو دیکھیں تو ایک سچا مسلمان یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہمارے علماء نے ہمیں خواہ مخواہ مرزا صاحب کے بارے میں چکر میں ڈال رکھا ہے۔ وہ غریب تو دعویٰ نبوت سے انکار کر رہا ہے۔ لیکن اس کے آخری عمرکے کیے جانے والے دعوؤں کو دیکھا جائے تو ان سے اس کا اپنا سابقہ عقیدہ اور ایک ایک دعویٰ باطل ہوتا نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نفس و شیطان کے دھوکے میں آچکے تھے اور ہر دن نئی تاویلوں سے نئے سے نئے دعوے کرتے رہے حتی کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی شانِ ختم نبوت میں نقب زنی کرتے ہوئے دعویٰ نبوت کر دیا۔

مرزا صاحب کے کلا م میں تضاد اور تناقض کا نتیجہ

گزشتہ صفحات میں مندرج مرزا صاحب کے کلام کا جائزہ لینے کے بعد عقلِ سلیم رکھنے والا ایک عام شخص بھی اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ان کا کلام تناقضات اور تضادات کا مجموعہ ہے۔ کیا کسی صاحبِ عقل و خرد کے کلام میں اس درجہ کا تناقض پایا جا سکتا ہے؟اس کا فیصلہ مرزا صاحب کے اپنے قلم سے لیتے ہیں: وہ لکھتے ہیں:

1۔ ’’کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقص نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ست بچن: 30، روحانی خزائن، 10: 142،

2۔ ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ست بچن: 31، روحانی خزائن، 10: 143

3۔ ’’اس شخص کی حالت ایک مخبّط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، حقیقۃ الوحی: 184، روحانی خزائن، 22: 191

4۔ ’’جھوٹے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

غلام احمد قادیانی، ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم، ص: 112، روحانی خزائن، 21: 275

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور نبی اکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت کا انکار کیا۔ آپ ﷺ کے بعد نزولِ وحی کو جائز قرار دیا۔ مسیح موعود اور نبی اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور بالآخر عین محمد ﷺ اور خاتم الانبیاء ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، اپنے منکر کو اللہ اور رسول کا منکر کہا اور جمیع اہلِ اسلام کو کافر اور مرتد قرار دیا، جبکہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی ظلی و بروزی ہو یا مجازی و غیر تشریعی یا حقیقی و تشریعی وغیرہ نہیں آسکتا۔ ختمِ نبوت کا تاج قیامت تک صرف سیدنا و مولانا محمد مصطفی ﷺ کے سر پر رہے گا۔ جو کوئی حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرے، خود دعویٰ نبوت کرے یاکسی جھوٹے مدعی نبوت پر ایمان لائے وہ کافر اور مرتد اور جہنمی ہے۔ یہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کوئی اس عقیدہ سے سرِ مُو انحراف نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں نے قرآن و سنت سے ثابت شدہ، اُمت کے متفق علیہ اور اِجماعی عقیدہ سے انحراف کیا۔ سو وہ کافر، مرتد اور ملحد قرار پائے۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved