Belief in the Finality of Prophethood

قادیانیت

اسلام میں توحید، ختم نبوت اور عقیدۂ آخرت جیسے بنیادی عقائد اساسی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اس لیے سعادت و نجاتِ دارین کے لیے ہر ایسا ضابطہ پیش کیا گیا ہے جس کا تعلق مندرجہ بالا اصولِ ثلاثہ سے ہے۔ یہ ایک ابدی اور دائمی حقیقت ہے کہ اسلام تمام امورِ دینیہ و دنیویہ کو اتمام و کمال تک پہنچا کر ان میں کسی قسم کے حذف و اضافہ اور ترمیم و تنسیخ کی نفی فرماتے ہوئے برملا اور بڑے شد و مد سے حضور رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا واضح اعلان کرتا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ختمِ نبوت کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دی ہے اور قرآن و حدیث میں اس قدر صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اب کسی ذی ہوش اور صاحبِ عقل و خرد انسان کے لیے اس مسئلے کے بارے میں ایک لمحہ کے لیے بھی تردد اور شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ قرآن حکیم کی نصوصِ قطعیہ اور احادیث متواترہ سے بدیہی طور پر ثابت ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کی آمدکے ساتھ ہی سلسلہ بعثت انبیاء و رُسل اپنے کمال کو پہنچ کر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک نہ کوئی نبی پیدا ہوگا اور نہ کوئی رسول۔ چنانچہ امتِ مسلمہ کا یہ متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ جو شخص بھی آپ ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب، دجال، کافر، مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اب قیامت تک آپ ﷺ کی نبوت و رسالت ہی جاری و ساری رہے گی۔ اسی کا نام عقیدۂ ختم نبوت ہے۔

بلاشبہ ہمارے نزدیک ختمِ نبوت ہی کا دوسرا نام عشقِ رسول ﷺ ہے جو کہ ہر مسلمان کے ایمان کی اساس ہے، اس لیے اس عقیدہ کی حفاظت اور پاسبانی میں اُمتِ مسلمہ کی زندگی مضمر ہے۔ اس غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر امت ابتداء ہی سے اس عقیدہ کے بارے میں بہت حساس رہی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ آقاے دو جہاں ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے تصور ہی سے مسلمان کا رشتہ اپنے نبی ﷺ سے کٹ جاتا ہے۔ اسی لیے امت ہمیشہ دامنِ مصطفی ﷺ کو آخری سہارا جانتے ہوئے مضبوطی سے تھامے رکھتی ہے۔ ناموسِ مصطفی ﷺ کے تحفظ میں اسے پروا نہیں، جان جاتی ہے تو جائے مگر اس رشتہ مصطفوی پر آنچ نہ آنے پائے۔ یہی اس امت کی پہچان رہی ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ شمع رسالت کے پروانے ہر رشتے کو بالائے طاق رکھ کر یہ کہتے ہوئے دہلیز مصطفی ﷺ پر نقد جاں ہار گئے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

سرفروشی و جاں نثاری کا یہی وہ لافانی جذبہ ہے جس سے باطل ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتا ہے۔ اسلام دشمن قوتیں اس امر سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس کی بات آجائے تو مسلمان کے نزدیک جان جیسی متاعِ عزیز بھی بے معنی اور بے حقیقت ہوکر رہ جاتی ہے۔ باطل قوتیںیہ بات بخوبی جان چکی ہیں کہ جب تک مسلمان کے دل میں روحِ محمد ﷺ موجود ہے قومِ رسولِ ہاشمی کو شکست سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ جسدِ امت میں جو روح و جان اور حرارت موجود ہے، وہ شعلہ عشقِ رسول ﷺ ہی سے فروزاں ہے۔

اس لیے باطل کی اوّل و آخر یہی کوشش رہتی ہے کہ امتِ مسلمہ کے باطن سے یہ حرارت بتدریج اس قدر کم کر دی جائے کہ اس کی رمق بھی باقی نہ رہے۔ اس کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر ان میں سب سے خطرناک ہتھکنڈہ وہ ہے جس کی نوعیت اور طریقہ واردات تو نہیں بدلتا مگر اس کا نام بدلتا رہتا ہے۔ کسی دور میں اس کا نام اَسود عنسی ہوتا ہے تو کبھی طلحہ اسدی، کبھی سجاح بنت حارث تو کبھی مسلیمہ کذاب، کبھی بہاء اللہ تو کبھی مرزا غلام احمد قادیانی۔ موخر الذکر انگریز کا وہ خود کاشتہ پودا ہے جو قادیان کی زمین پر اگایا گیا، اور اس کی آب یاری انگریز حکومت کی نوازشات سے کی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ختمِ نبوت کے اجماعی عقیدہ کا انکار کرتے ہوئے دعویٰ نبوت کر دیا۔ یوں تو مرزا صاحب نے پے در پے کئی دعوے کئے جن کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن کلیدی دعوے تین ہیں:

  1. دعوی وحی و الہام
  2. دعوی مسیحیت
  3. دعوی نبوت و رسالت

یہ امر قابلِ توجہ سے کہ مرزا صاحب کا ہر دعویٰ کبھی پوشیدہ اور کبھی کھلا اس قدر مختلف قسم کے تضاد، تناقض و تعارض کا آئینہ دار ہے کہ اس پر

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بو العجبیست

کہنا پڑتا ہے۔

مرزا قادیانی چند سکوں کے عوض اپنے ایمان کا سودا کرکے نہ صرف نسلوں کی نسلیں کفر و ارتداد، اور گمراہی و ضلالت کی دلدل میں اتار گیا بلکہ امت مسلمہ کے جسد میں وہ رسنے والا ناسور پیدا کرگیا جس کی چبھن اور جلن سے امت آج ایک صدی بعد بھی اسی طرح بے قرار ہے جس طرح پہلے تھی۔ قلبِ امت مسلمہ میں پیوست اس خنجر کا نام قادیانیت ہے۔ پچھلے سو سالہ دور میں امتِ مسلمہ کو جس قدر نقصان قادیانیت سے پہنچا ہے تاریخ کے اوراق میں اس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے۔ قادیانیت کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ اسلام پر اسلام کے نام سے وار اور مسلمانوں کو مار آستین بن کے ڈستی ہے۔

قادیانی امت عالم اسلام کے لیے بالعموم اور وطن عزیز کے لیے بالخصوص وہ خطرناک اور زہریلی اقلیت ہے جو محمد عربی ﷺ کے اسلام کو (معاذ اللہ) مردہ کہتے ہوئے(1) اپنے اوہام و فریب کو زندہ اسلام قرار دیتی ہے۔ (2)

(1) غلام احمد قادیانی، نجم الہدیٰ: 10
(2) اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد: 6، نمبر: 32، مورخہ 19 اکتوبر 1928ء

امت مسلمہ کے لیے قادیانیت سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش اس اعتبار سے ہے کہ یہ دجل و فریب سے سور کا گوشت بیچتی ہے لیکن گائے کا گوشت کہہ کر پیش کرتی ہے۔ پیش شراب کرتی ہے اور کہتی میٹھا شربت ہے، اسی لیے امت کو اس خطرناک دھوکے، فراڈ اور بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے مکمل ایک صدی تک ملت اسلامیہ کے بہترین دماغ اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لاکر اس کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد امت نے سب سے بڑی اجتماعی قربانی اسی فتنہ کے سدباب کے لیے پیش کی ہے۔

امت مسلمہ مذہبی اور دینی محاذ پر اس اقلیت کے غیر مسلم، مرتد اور زندیق ہونے کے بارے میں ہمیشہ متفق رہی ہے اور اس کی حیثیت کے بارے میں امت کے کسی طبقہ کو کبھی بھی شک نہیں رہا مگر یہ شاید کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ یہ پراسرار اقلیت جس قدر دین و ایمان کے لیے خطرناک ہے اس قدر مملکت خداداد پاکستان کے لیے بھی زہر قاتل ہے۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved