Belief in the Finality of Prophethood

باب 5 :عقیدہ ختم نبوت پر ائمہ و محدثین کا مؤقف

اس باب میں ہم عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں بعض اَئمہ تفسیر، اَئمہ حدیث، اَئمہ فقہ اور چند اکابرینِ امت کے اقوال اور تصریحات پیش کریں گے تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کے اہلِ علم کے درمیان خاتم النبیین کے معنی و مفہوم کے تعین میں کوئی ابہام و التباس نہیں۔ جمیع امت کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ کے ساتھ ہی سلسلہ نبوت و رسالت اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب قیامت تک نہ کوئی نبی پیدا ہوگا اور نہ ہی رسول۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر کوئی شخص حضور نبی مکرم ﷺ کی نبوت و رسالت کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے خواہ کسی معنی میں بھی ہو وہ کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرتا ہے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔

1۔ اَئمہ تفسیر کی آراء

جملہ متقدمین و متاخرین اَئمہ تفسیرنے سورۂ احزاب کی آیت: 40 کی تشریح و توضیح اور تفسیر کرتے ہوئے خاتم النبیین کا معنی آخری نبی اور سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والا ہی کیا ہے۔ چند معروف اَئمہ تفسیر کی آراء درج ذیل ہیں:

(1) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما (م 68ھ)

ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:

{وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْن} ختم اللہ بہ النبیین قبلہ فلا یکون نبی بعدہ۔

ٰفیروز آبادی، تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس: 354

’’خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ انبیاء حضورﷺ کی ذات اقدس پر ختم فرما دیا ہے پس آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔‘‘

(2) امام ابن جریر طبری (م 310ھ)

امام المفسرین ا بن جریر طبری خاتم النبیین کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ولکنہ رسول اللہ وخاتم النبیین، الذی ختم النبوۃ فطبع علیھا فلا تفتح لأحد بعدہ إلی قیام الساعۃ۔

طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 22: 12

’’لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، یعنی وہ ہستی جس نے (مبعوث ہو کر) سلسلہ نبوت ختم فرما دیا ہے اور اس پر مہر ثبت کر دی ہے اور قیامت تک آپ ﷺ کے بعد یہ کسی کے لیے نہیں کھلے گی۔‘‘

امام ابن جریر طبری اختلافَ قراء ت کی صورت میں لفظ خاتم کا معنی بیان کرتے ہیں:

1۔ اگر یہ لفظ بکسر التاء یعنی خَاتِم پڑھا جائے تو اس کا معنی ہوگا:

أنہ الذی ختم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم و علیھم۔

’’وہ ذات ﷺ جس نے (سلسلہ) انبیاء علیہم السلام ختم فرما دیا۔‘‘

2۔ اگر یہ لفظ بفتح التاء یعنی خَاتَم پڑھا جائے تو اس کا معنی ہوگا:

أنہ آخر النّبیّین۔

طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 22 : 13

’’بیشک آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔‘‘

(3) امام بغوی شافعی (م 516ھ)

محی السنہ امام بغوی شافعی خاتم النبیین کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْن} ختم اللہ بہ النبوۃ وقرأ ابن عامر وابن عاصم (خَاتَم) بفتح التاء علی الاسم أي آخرھم، وقرأ الآخرون بکسر التاء علی الفاعل لأنہ ختم بہ النبیین فھو خاتمھم۔

بغوی، معالم التنزیل، 3: 533

’’{لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں} آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم فرما دی ہے۔ ابن عامر اور ابن عاصم نے(لفظ خاتم) بر بنائے اسم زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آخرِ انبیاء اور دیگر (اہل فن) نے بربنائے فاعل تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی بعثت کے ساتھ سلسلۂ انبیاء ختم فرما دیا۔ سو آپ ﷺ ان کے خاتم ہیں۔‘‘

(4) امام زمخشری (م 528ھ)

امام زمخشری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے تناظر میں حضور ﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کی خصوصیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

فإن قلت: کیف کان آخر الأنبیاء وعیسی ینزل فی آخر الزمان؟ قلت: معنی کونہ آخر الأنبیاء أنہ لا ینبأ أحد بعدہ وعیسی ممّن نبی قبلہ وحین ینزل عاملا علی شریعۃ محمّد (ﷺ) مصلیًّا إلی قبلتہ کأنّہ بعض أمتہ۔

زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، 3: 544۔ 545

’’اگر آپ کہیں کہ حضور ﷺ آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں؟ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں (یعنی قرب قیامت میں) نازل ہوں گے تو میں کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ ﷺ (کی بعثت) کے بعد کوئی شخص نبی کی حیثیت سے مبعوث نہیں ہو گا۔ رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں آپ ﷺ (کی بعثت) سے قبل نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے پیرو ہوں گے اور انہی کے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے گویا کہ وہ آپ ﷺ کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔‘‘

(5) امام ابن جوزی (م 597ھ)

امام ابن جوزی خاتم کے معنی کی وضاحت انتہائی جامع الفاظ میں اس طرح کرتے ہیں:

خاتم بکسر التاء فمعناہ: وختم النبیین ومن فتحھا، فالمعنی: آخر النّبیّین۔

ابن جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، 6: 393

’’لفظ خاتم تا کی زیر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے: حضور ﷺ نے سلسلہ انبیاء کو ختم فرما دیا ہے، اور اگر تا کی زبر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔‘‘

(6) امام فخر الدین رازی (م 606ھ)

امام فخر الدین رازی اس حوالے سے رقم طراز ہیں:

{وخاتم النبیین} وذالک لأن النبی الذّی یکون بعدہ نبی إن ترک شیئًا من النصیحۃ والبیان یستدرکہ من یأتی بعدہ، وأما من لا نبی بعدہ یکون أشفق علی أمتہ وأھدی لھم وأجدی، إذ ھو کوالد لولدہ الذي لیس لہ غیرہ من أحدٍ۔

رازی، التفسیر الکبیر، 25: 214

’’اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں (آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں)۔ اگر ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آنا ہوتا تو وہ تبلیغ اور احکام کی توضیح کا مشن کسی حد تک نامکمل چھوڑ جاتا جسے بعد میں آنے والا مکمل کرتا، لیکن جس نبی کے بعد اور کوئی نبی آنے والا نہ ہو تو وہ اپنی امت پر بہت زیادہ شفیق ہوتا ہے اور ان کے لیے واضح قطعی اور کامل ہدایت فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کی مثال ایسے باپ کی طرح ہوتی ہے جو جانتا ہو کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کی نگہداشت کرنے والا کوئی سرپرست اور کفیل نہ ہوگا۔‘‘

(7) امام قرطبی (م 671ھ)

امام قرطبی مالکی لفظ خاتم کی شرح یوں بیان کرتے ہیں:

وخَاتَمَ قرأ عاصم وحدہ بفتح التاء بمعنی أنہم بہ خُتموا فھو کالخاتَم والطابَع لھم، وقرأ الجمھور بکسر التاء بمعنی أنّہ ختمھم أي جاء آخرھم۔

قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 14: 196

’’صرف عاصم (قاری) نے خاتم تاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے جس کا معنی ہے کہ ان (انبیاء) کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہو گیا ہے۔ پس آپ ان کے لیے مہر کی طرح ہیں (یعنی آپ ﷺ نے سلسلہ انبیاء پر مہر ثبت کر دی ہے)۔ جمہور نے خاتمِ تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے جس کا معنی ہے کہ آپ ﷺ نے سلسلہ انبیاء ختم فرما دیا ہے، یعنی آپ ﷺ سب سے آخر میں تشریف لائے۔‘‘

(8) امام بیضاوی (م 685ھ)

امام بیضاوی شافعی خاتم النبیین کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وآخرھم الذي ختمھم أو ختموابہ علی قراء ۃ عاصم بالفتح ولا یقدح فیہ نزول عیسی بعدہ لأنہ إذا نزل کان علی دینہ۔

بیضاوی، أنوار التنزیل، 3: 385

’’آپ ﷺ (بعثت کے اعتبار سے) انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔ آپﷺ نے (تشریف لا کر) ان کے سلسلہ کو ختم کر دیا اور سلسلہ نبوت پر مہر لگا دی ہے اور … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضور ﷺ کے بعد (دوبارہ قرب قیامت میں) نازل ہونا آپ ﷺ کی ختم نبوت میں حارج نہیں ہے (کیونکہ انہیں آپ ﷺ کی بعثت سے قبل منصب نبوت پر فائز کیا گیا تھا) چنانچہ اب وہ حضور ﷺ کے دین اور شریعت کے متبع اور پیروکار کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔‘‘

(9) امام ابوالبرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی (م 710ھ)

امام نسفی اس حوالے سے فرماتے ہیں:

{وخاتم النّبیّین} … أي آخرھم یعنی لا ینبأ أحد بعدہ، وعیسی ممن نبی قبلہ وحین ینزل ینزل عاملاً علی شریعۃ محمد ﷺ کأنّہ بعض أمتہ۔

نسفی، مدارک التنزیل، 3: 306

’’خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں (بعثت کے اعتبار سے) آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ آپ سے پہلے انبیاء میں سے ہیں اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو وہ شریعت محمدی ﷺ پر عمل کریں گے اور حضور ﷺ کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔‘‘

(10) امام علاؤ الدین بغدادی خازن (م 725ھ)

امام علاؤ الدین بغدادی خازن اس نکتے پر اپنا موقف یوں بیان کرتے ہیں:

{وخاتم النّبیّین} ختم اللہ بہ النبوۃ فلا نبوۃ بعدہ أي ولا معہ۔

خازن، لباب التأویل فی معانی التنزیل، 3: 470

’’اللہ تعالیٰ نے حضورنبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر نبوت ختم فرما دی ہے اب آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبوت ہے اور نہ اس (یعنی نبوتِ محمدی ﷺ) میں کسی قسم کی شراکت یا حصہ داری۔‘‘

وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمًا کی تفسیر میں آگے لکھتے ہیں:

أي دخل فی علمہ أنہ لا نبی بعدہ۔

خازن، لباب التأویل فی معانی التنزیل، 3: 470

’’اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘

(11) امام ابو حیان اندلسی (م 754ھ)

امام ابو حیان اندلسی لکھتے ہیں:

وقرأ الجمہور بکسر التاء بمعنی أنہ ختمھم أي جاء آخرھم … وروي عنہ علیہ السلام ألفاظ تقتضي نصًّا أنہ لا نبی بعدہ ﷺ، والمعنی أنہ یتنبأ أحد بعدہ ولا یرد نزول عیسی آخر الزماں لأنہ ممن نبی قبلہ وینزل عاملاً علی شریعۃ محمد ﷺ مصلیًّا إلی قبلتہ کأنہ بعض أمّتہ۔

أبو حیان، تفسیر البحر المحیط، 7: 236

’’اور جمہور نے اسے تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھاہے اس معنی میں کہ حضور ﷺ سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں یعنی آپ ﷺ سب انبیاء کے آخر میں تشریف لائے۔ آپ ﷺ سے جو الفاظ روایت کیے گئے ہیں (متعدد متواتر احادیث کی صورت میں) وہ صراحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آخری زمانہ میں آمد سے اس بات (یعنی حضور ﷺ کی ختم نبوت) کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بعثت مصطفوی ﷺ سے قبل منصب نبوت پر فائز کیا تھا۔ اب وہ حضور علیہ الصلوۃ والسّلام کی شریعت کے متبع کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور آپ ﷺ کے قبلہ کی طرف چہرہ کر کے نماز پڑھیں گے گویا ان کی حیثیت حضور ﷺ کے امتی کی سی ہو گی۔‘‘

امام اندلسی منکرین ختم نبوت کے کفر و اتداد اور انجام کے بارے میں لکھتے ہیں:

ومن ذھب إلی أنّ النّبوۃ مکتسبۃ لا ینقطع أوإلی أنّ الولی أفضل من النّبي فھو زندیق یجب قتلہ وقد ادعی ناس فقتلھم المسلمون علی ذلک۔

ابو حیان، تفسیر البحر المحیط، 7: 236

’’اور جس کسی کا یہ مذہب ہو کہ نبوت کسبی ہے ختم نہیں ہوئی یا یہ عقیدہ رکھے ولی نبی سے افضل ہے وہ کافر ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے کچھ لوگوں نے یہ دعوی کیا تھا جس پر اہل اسلام نے انہیں قتل کر دیا۔‘‘

(12) امام نظام الدین نیشاپوری (م 728ھ)

امام نظام الدین نیشاپوری لکھتے ہیں:

لا نبی بعد محمّد ﷺ و مجئ عیسی علیہ السلام فی آخر الزّمان لا ینافي ذالک لأنّہ ممّن نبئ قبل وھو یجئ علی شریعۃ نبیّنا مصلیًّا إلی قبلتہ و کأنّہ بعض أمتہ۔

نیشاپوری، تفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان بھامش جامع البیان للطبری، 22: 15

’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قربِ قیامت کے زمانہ میں آنا اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے منصبِ نبوت پر فائز رہ چکے تھے۔ اب وہ ہمارے نبی مکرم ﷺ کی شریعت کے پیروکار کی حیثیت سے آئیں گے۔ آپ ﷺ کے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کریں گے جس طرح امت کے دیگر افراد کرتے ہیں۔‘‘

(13) امام ابن کثیر (م 774ھ)

رئیس المفسرین امام ابن کثیر مذکورہ آیہ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

فھذہ الآیۃ نصّ فی أنہ لا نبیّ بعدہ وإذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الأولی والأخری لأن مقام الرّسالۃ أخصّ من مقام النبوّۃ فإنّ کلّ رسول نبیّ ولا ینعکس۔

ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 493

’’پس یہ آیت کریمہ {ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین} اس بارے میں نص ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جب نبی کا آنا محال ہے تو رسول کا آنا بدرجہ اولیٰ محال ہے کیونکہ منصب رسالت خاص ہے منصب نبوت سے، ہر رسول نبی ہوتا ہے جبکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔‘‘

امام ابن کثیر اس کے بعد حضور ﷺ کی ختم نبوت پر متعدد احادیث پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

وقد أخبر اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ ورسولہ ﷺ فی السنّۃ المتواترۃ عنہ أنّہ لا نبی بعدہ لیعلموا أن کلّ من ادّعی ھذا المقام بعدہ فھو کذّاب أفّاک دجّال ضالّ مضلّ ولو تحرق و شعبذ وأتی بأنواع السحر والطلاسم النیرنجیات۔

ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 494

’’اور تحقیق آگاہ فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت متواترہ میں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (آگاہ اس لیے فرمایا) تاکہ امت محمدیہ ﷺ جان لے کہ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس منصب (یعنی نبوت) کا دعویٰ کرے وہ کذاب، جھوٹا، بہتان طراز، مکار و دجال، گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ خواہ وہ خرقِ عادت، واقعات، شعبدہ بازیاں اور کسی قسم کے غیر معمولی کرشمے اور سحروطلسم دکھاتا پھرے۔‘‘

(14) امام جلال الدین سیوطی(م 911ھ)

امام جلال الدین سیوطی اس موضوع کے حوالے سے لکھتے ہیں:

{وخاتم النبیین} فلا یکون لہ ابن رجل بعدہ یکون نبیًّا وفي قراء ۃ بفتح التاء کآلۃ الختم أي بہ ختموا {وکان اللہ بکل شیء علیما} منہ بأن لا نبی بعدہ وإذا نزل السیّد عیسٰی یحکم بشریعتہ۔

سیوطی، تفسیر جلالین، 1: 556

’’اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، پس آپ ﷺ کے بعدآپ ﷺ کا کوئی مرد بیٹا نہیں جو منصبِ نبوت پر فائز ہو (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے)، وہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام (دوبارہ) نازل ہوں گے تو وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت کے متبع اور پیروکار ہوں گے۔‘‘

(15) امام ابو سعود محمد بن محمد العمادی (م 951ھ)

امام ابو سعود محمد بن محمد العمادی نے اپنی رائے یوں بیان کی ہے:

{وخاتم النبیین} أي کان آخرھم الذي ختموا بہ وقرئ بکسرالتاء أي کان خاتِمھم … ولا یقدح فیہ نزول عیسی بعدہ لان معنی کونہ خاتم النبیین أنہ لا ینبأ أحد بعدہ وعیسی ممن نبئ قبلہ وحین ینزل إنما ینزل عاملاً علی شریعۃ محمد ﷺ مصلیًّا إلی قبلتہ کأنّہ بعض أمتہ۔

ابو سعود، ارشاد العقل السلیم إلی مزایا القرآن الکریم، 7: 106

’’خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺ سب انبیاء کے آخر میں مبعوث ہوئے اور آپ ﷺ نے سلسلہ نبوت پر مہر لگا دی۔ خاتم تا کی زیر کے ساتھ، اس کا معنی ہے آپ ﷺ نے سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا۔ اب آپ ﷺ کی بعثت کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول سے ختم نبوت کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ خاتم النبیین کا معنی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہیں کیا جائے گا۔ رہا معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو وہ ان انبیاء میں شامل ہیں جنہیں آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے منصب نبوت عطا کیا جا چکا ہے اور جب ان کا نزول ہو گا توبے شک وہ شریعت محمدی پر عمل پیرا ہوں گے اور آپ ﷺ کے قبلہ(خانہ کعبہ)کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں گے، گویا وہ آپ ﷺ کے ایک امتی ہیں۔‘‘

(16) امام اسماعیل حقی (م 1137ھ)

امام اسماعیل حقی اس موضوع پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں:

وقال أہل السنّۃ والجماعۃ لا نبی بعد نبینا لقولہ تعالی {ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین} وقولہ عليه السلام: لا نبی بعدي۔ ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لأنہ أنکر النصّ وکذلک لو شک فیہ لأن الحجۃ تبین الحقّ من الباطل ومن ادّعی النبوّۃ بعد موت محمّد (ﷺ) لا یکون دعواہ إلا باطلا۔

إسماعیل حقی، تفسیر روح البیان، 22: 188

’’اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد اب کسی نبی کی بعثت نہیں ہو گی کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ حضور ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور حضور علیہ الصلوۃ والسّلام نے خود فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب جو شخص یہ کہے کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے تو اسے کافر قرار دیا جائے گا کیونکہ اس نے نص کا انکار کیا ہے۔ اس طرح جو اس میں شک کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے واضح اور روشن کر دیا ہے اور جس نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کا یہ دعویٰ کرنا سوائے باطل اور کفر کے کچھ نہیں۔‘‘

(17) قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م 1225ھ)

علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ خاتم بفتح التاء کا معنی آخر اور خاتم بکسر التاء کا معنی ہے:

وخاتم قرأ عاصم بفتح التاء علی الاسم بمعنی الاٰخر، والباقون بکسر التاء علی وزن فاعل یعني الذي ختم النبیین حتی لا یکون بعدہ نبيّ۔

پانی پتی، تفسیر المظہری، 7: 350، 351

’’اور لفظِ خاتم کو عاصم نے اسم کی بنا پر تاء کی زبر کے ساتھ بمعنیٔ آخر پڑھا ہے اور باقی (قرائ) نے بر وزنِ فاعل تاء کی زیر کے ساتھ پڑھاہے یعنی وہ ذات جس نے سلسلہ انبیاء کو یوں ختم فرما دیا کہ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

اس کے بعد فرماتے ہیں:

ولا یقدح فیہ نزول عیسی بعدہ لأنہ إذا ینزل یکون علی شریعتہ مع أن عیسی علیہ السلام صار نبیًّا قبل محمّد ﷺ وقد ختم اللہ سبحانہ الاستنباء بمحمد ﷺ وبقاء نبی سابق لا ینافي ختم النبوۃ۔

پانی پتی، تفسیر المظہری، 7: 351

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضور ﷺ کے بعد نازل ہونا اس میں حارج نہیں ہے کیونکہ ان کی حیثیت حضور ﷺ کی شریعت کے پیروکار کی ہو گی ساتھ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعثتِ محمدی ﷺ سے قبل کے نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم فرما دیا ہے اور کسی سابق نبی کا باقی رہنا ختمِ نبوت کے منافی نہیں ہے۔‘‘

(18) علامہ شوکانی (م 1255ھ)

علامہ شوکانی فرماتے ہیں:

وقرا الجمھور خاتم بکسرالتائ، وقرأ عاصم بفتحھا ومعنی القراء ۃ الأولی: أنہ ختمھم أي جاء آخرھم ومعنی القراء ۃ الثانیۃ أنہ صار کالخاتم لھم الذی یتختمون بہ۔

شوکانی، فتح القدیر، 4: 285

’’(لفظ خاتم کی قراء ت کے بارے میں قراء حضرات کے مابین اختلاف ہے، چنانچہ) جمہور نے خاتم تا کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ عاصم نے تا کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلی قرات کا معنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلسلہ انبیاء ختم فرما دیا ہے یعنی آپ ﷺ تمام انبیاء کے بعد تشریف لائے اور دوسری قراء ت کا معنی ہے کہ آپ ﷺ سابقہ انبیاء کے لیے مہر کی مانند ہیںجس سے ان کا سلسلہ نبوت سر بمہر ہو چکا ہے

(19) امام سید محمود آلوسی (م 1270ھ)

امام آلوسیؒ لفظِ خاتم کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَالْخَاتَمُ اسم اٰلۃ لما یختم بہ کالطّابعِ لما یطبع بہ فمعنٰی خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ الّذي ختم النّبِیّون بہ ومآلہ آخِر النّبِيِّین … وقرأ الجمہور وخاتم بکسر التاء علی أنہ اسم فاعل أي الذي ختم النّبیّین والمراد بہ آخرھم۔

آلوسی، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، 22: 34

خاتَم(بفتح التائ) اس آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جاتی ہے، اس آلہ کی طرح جس سے ٹکٹ پر مہر لگائی جاتی ہے۔ پس خاتم النبین کے معنی ہوں گے: وہ ذات جس پر سلسلۂ انبیاء کو ختم کردیا گیا۔ اس معنی کی رُو سے خاتم النبیّن سے مراد آخر النّبیّن ہے … اور جمہور نے خاتم کی قرا ء ت بکسر التاء کی ہے، اس بناپر کہ یہ اسم فاعل ہے یعنی وہ ذات جس نے سلسلۂ انبیاء ختم فرما دیا اور اس سے مراد آخرِ انبیاء ہیں۔‘‘

خاتم کو اسم آلہ کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ حضور ﷺ نے آ کر سلسلہ انبیاء کو سربمہر کر دیا اور جس طرح لفافے پر ٹکٹ لگا کر اس پر مہر کر دی جاتی ہے اور اس میں کوئی اور چیز داخل نہیں کی جا سکتی اسی طرح آپ ﷺ کی آمد کے بعد اب اور کوئی نبی نبوت کے حصار میں داخل نہیں ہو سکتا۔

امام آلوسیؒ حضور نبی اکرم کے منصبِ ختم نبوت سے سرفراز ہونے کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

والمراد بالنبي ما ھوأعم من الرسول فیلزم من کونہ ﷺ خاتم النّبیّین کونہ خاتم المرسلین والمراد بکونہ علیہ الصّلوۃ والسّلام خاتمھم انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی أحد من الثّقلین بعد تحلیہ علیہ الصلوۃ والسلام بھا فی ھذہ النشأۃ۔

آلوسی، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، 22: 34

’’نبی کا لفظ عام ہے اور رسول کا خاص، اس لیے حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ آپ خاتم المرسلین بھی ہیں، چنانچہ آپ کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کے منصب نبوت و رسالت پر فائز ہونے کے بعد جن و انس میں سے اب کسی کو یہ منصب عطا نہ ہو گا۔‘‘

امام آلوسی آگے لکھتے ہیں:

وکونہ ﷺ خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنّۃ وأجمعت علیہ الأمّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل إن أصر۔

آلوسی، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، 22: 41

’’حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا ایسی حقیقت ہے جس کی تصریح خود کتاب اللہ نے کر دی ہے اور سنت نے اس کی توضیح و تشریح کر دی ہے اور اس مسئلہ پر اجماعِ امت ہے، لهٰذااس کے خلاف جو دعویٰ کرے گا، کافر قرار پائے گا اور اگر اس پر اصرار کرے تو (عدالتی عمل کے ذریعے) قتل کیا جائے گا۔‘‘

(20) ملا جیون (1130ھ)

برصغیر کے معروف مفسر ملا جیون لفظ ختم کا معنی بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

والمآل علی کلِّ توجیہ ھو المعنی الاٰخِرُ ولذٰلک فسَّر صاحب الْمدارک قراء ۃ عَاصم بِالٰاخِرِ وصاحب الْبیضاوی کلا القراء تین بالاٰخِرِ۔

ملا جیون، التفسیرات الأحمدیۃ: 622

’’اور ہر دو صورت میں خاتم کا معنی آخر ہی ہے۔ اسی لیے صاحبِ ’’تفسیر مدارک‘‘ نے امام عاصم کی قراء ت پر اس کا معنی آخر کیا ہے اور صاحبِ ’’تفسیر بیضاوی‘‘ نے دونوں قراء توںپر آخر ہی کیاہے۔‘‘

مذکورہ بالا عبارات سے اَئمہ تفسیر کا نقطۂ نظر واضح ہے۔ ان کے نزدیک حضور نبی اکرم ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا معنی ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے سلسلۂ نبوت منقطع ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ نبی سابق ہیں اور وہ شریعت محمدی ﷺ کے تابع ہوں گے اس لیے قربِ قیامت ان کا نزول حضور نبی اکرم ﷺ کی شان ختم نبوت کے منافی نہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا قرآن و سنت اور اجماعِ امت کا منکر ہے۔ چنانچہ متفقہ طور پر وہ کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔

2۔ اَئمہ حدیث کی آراء

آئمہ حدیث کے نزدیک بھی خاتم النبیین کا وہی معنی ہے جو ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر چکے ہیں۔ چنداَئمہ کے اقوال اور آراء درج ذیل ہیں:

(1) امام ابن حبان (م 354ھ)

امام قسطلانی نے ختم نبوت کے حوالے سے امام ابن حبان کا قول نقل کیا ہے:

من ذھب إلی أن النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع أو إلی أن الولی أفضل من النّبی فھو زندیق یجب قتلہ۔

قسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، 3: 173

’’جو یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت کسب کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے، یہ ختم نہیں ہوتی یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہے تو وہ کافر ہے، اس کا قتل (قانوناً) واجب ہے (جس کی تنفیذکا حق عدالت کے پاس ہے)۔‘‘

امام زرقانی اس قول کی شرح میں ایسے شخص کے ارتداد اورقتل کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لتکذیب القرآن و خاتم النبیین۔

زرقانی، شرح المواہب اللدنیۃ، 8: 399

(2) قاضی عیاض (م 544ھ)

ابو الفضل قاضی عیاض شافعی نے ہر قسم کی نبوت اور القاء وحی کے دعویٰ کو کفر قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

أو من ادّعی النبوۃ لنفسہ او جوّز اکتسابھا والبلوغ بصفاء القلب إلی مرتبتھا … وکذلک من ادّعی منھم أنہ یوحی إلیہ و إن لم یدّع النبوۃ … فھؤلاء کلّھم کفّار و مکذِّبون للنبی ﷺ لأنّہ أخبر - علیہ السلام - أنہ خاتم النبیین لا نبی بعدہ، وأخبر أیضاً عن اللہ -تعالٰی- أنہ خاتم النبیین وأنہ أرسل إلی کافَّۃ للناس وأجمعت الأمۃ علی حمل ھذا الکلام علی ظاھرہ وأن مفھومہ المراد منہ دون تأویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھؤلاء الطوائف کلھا قطعاً إجماعاً و سمعاً۔

قاضی عیاض، الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ، 2: 1070، 1071، القسم الرابع، الباب الثالث، فصل ماھو من المقالات کفر

’’یا جو شخص (حضور ﷺ کے بعد) نبوت کا دعویٰ کرے یا سمجھے کہ (ریاضت و مجاہدے کے ذریعے) کوئی اسے حاصل کر سکتا ہے اور صفائے قلبی سے منصب نبوت پا سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اگرچہ وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے پس ایسے سب مدعیان کافر ہیں اور تاجدارِ کائنات ﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے باخبر کر دیا کہ آپ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ ﷺ نے من جانب اللہ (ہمیں) آگاہ فرما دیا ہے کہ آپ سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔ بیشک اللہ نے آپ کو تمام کائنات انسانی کی طرف مبعوث کیا ہے (قرآن و سنت کے علاوہ) تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کیا جائے گا اور ان الفاظ کا جو ظاہری مفہوم ہے بالکل وہی بغیر کسی تاویل و تخصیص کے مراد ہو گا۔ (جو لوگ اس کے خلاف کریں) قرآن و حدیث اور اجماع امت کی رو سے ان (سب) کے کفر میں کوئی شک نہیں۔‘‘

(3) امام ابن قیم الجوزیہ (م 751ھ)

امام ابن قیم لفظ عاقب اور خاتم کو ہم معنی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

والعاقب الذي جاء عَقِبَ الأنبیاء فلیس بعدہ نبي فإن العاقب ھوالآخر فھو بمنزلۃ الخاتم۔

ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد في ھدی خیر العباد، 1: 58

’’اور آپ ﷺ عاقب ہیں جو تمام انبیاء کے پیچھے تشریف لائے۔ پس آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، سو عاقب سے مراد آخری ہے اور یہ خاتم کے ہم معنی ہے۔‘‘

(4) امام ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)

امام ابن حجر عسقلانی یوں رقم طراز ہیں:

وفضل النبی ﷺ علی سائر النبیین، وان اللہ خاتم بہ المرسلین وأکمل بہ شرائع الدین۔

عسقلانی، فتح الباری، 6: 559

’’حضور نبی اکرم ﷺ تمام انبیاء علیھیم السّلام پر فضیلت رکھتے ہیں اور اللہ نے آپ ﷺ پر رُسُلِ عظام کی بعثت کا سلسلہ ختم کر دیا اور آپ ﷺ کے ذریعے شریعت کی تکمیل فرما دی۔‘‘

(5) امام بدرالدین عینی (م 855ھ)

امام عینی اس ضمن میں لکھتے ہیں:

وأن اللہ ختم بہ المرسلین وأکمل بہ شرائع الدین۔

عینی، عمدۃ القاری، 16: 98

’’اور بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پررسولوں (کی بعثت) کو ختم فرما دیا اور آپ ﷺ کے (دین اسلام) کے ساتھ شریعت مکمل فرما دی۔‘‘

(6) امام قسطلانی (م 923ھ)

امام قسطلانی خاتم النیین کا معنی بیان کرتے ہیں:

خاتم النبیین أي آخرھم الذی ختمھم أو ختموا بہ۔

قسطلانی، ارشاد الساری شرح صحیح البخاری، 6: 21، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، 6: 21

’’خاتم النبیین کا معنی ہے آپ ﷺ تمام انبیاء کے وہ فردِ آخر ہیں کہ جس نے (تشریف لا کر) انہیں ختم کردیا یا وہ اس(کی بعثت)کے ساتھ ختم کر دیئے گئے۔‘‘

امام قسطلانی سورۂ احزاب کی آیت نمبر 40 کے ذیل میں لکھتے ہیں:

وھذہ الآیۃ نص فی أنہ لا نبی بعدہ فلا رسول بطریق الأولی، لأن مقام الرسالۃ أخص من مقام، فأن کل رسول نبی، ولا ینعکس۔

قسطلانی، المواہب اللّدنیۃ بالمنح المحمّدیۃ، 3: 172

یہ آیت کریمہ اس پر نص ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں توکوئی رسول بدرجہ اولی نہیںکیونکہ منصبِ رسالت منصبِ نبوت سے خاص ہے، پس بے شک ہر رسول نبی ہے مگر ہر نبی رسول نہیں۔‘‘

امام قسطلانی مزید لکھتے ہیں:

فمن تشریف اللہ تعالیٰ لہ ختم الأنبیاء والمرسلین بہ وإکمال الدین الحنیف لہ وقد أخبر اللہ في کتابہ ورسولہ في السنۃ المتواترۃ عنہ أنہ لا نبی بعدہ لیعلموا أن کل من ادعی ھذا المقام بعدہ فھو کذاب أفّاک دجّال ضالّ ولو تحذق وتشعبذ وأتی بأنواع السحر والطلاسم والنیرنجیات۔

قسطلانی، المواہب اللّدنیۃ بالمنح المحمّدیۃ، 3: 173

’’اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو عطا کردہ شرف میں سے ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی بعثت سے انبیاء و مرسلین (کے سلسلہ) کو ختم فرما دیا اور آپ ﷺ کے لیے دینِ حنیف کی تکمیل فرما دی اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن حکیم) میں اور اس کے رسول ﷺ نے سنت متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی (نئے)نبی کی آمد نہیں ہوگی تا کہ سب لوگ جان لیں کہ آپ ﷺ کے بعد جس کسی نے بھی اس مقام (منصب نبوت) کا دعوی کیا وہ بہت بڑا دروغ گو، دجال، گمراہ اور گمراہی پھیلانے والاہے اگرچہ وہ بڑی عقلی مہارت دکھائے، شعبدہ بازی کرے اور طرح طرح کے سحر و طلسمات اور کرشمات کا مظاہرہ کرے۔‘‘

(7) ملا علی قاری (م 1014ھ)

ملا علی قاری تاجدارِ کائنات حضرت محمد ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کے بارے میں لکھتے ہیں:

ودعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالإجماع۔

ملا علی قاری، شرح کتاب الفقہ الأکبر : 247، المسئلۃ المعلقۃ بالکفر

’’ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے۔‘‘

(8) امام احمد شہاب الدین خفاجی (م 1069ھ)

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی اس حوالے سے لکھتے ہیں:

وکذلک نکفر من ادعی نبوۃ أحد مع نبینا ﷺ ان في زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والأسود العنسی أو ادعی نبوۃ أحد بعدہ فإنہ خاتم النبیین بنص القرآن والحدیث، فھذا تکذیب ﷲ ورسولہ ﷺ۔

خفاجی، نسیم الریاض، فصل فی بیان ماھو من المقالات کفر، 4: 506

’’(حضور ﷺ کے بعد) جو بھی دعویٰ نبوت کرے گا، ہم اسے کافر قرار دیں گے خواہ آپ ﷺ کے زمانہ میں کرے یا آپ ﷺ کے بعد، بیشک آپ ﷺ سلسلہ انبیاء کو ختم فرمانے والے ہیں۔ قرآن و سنت نے اس کی تصریح کر دی ہے پس (مدعی نبوت) اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والا ہے۔ (چنانچہ وہ قرآن و سنت کا منکر اور کافر ہے)‘‘

(9) امام زرقانی مالکی (م 1122ھ)

امام زرقانی مالکی اپنا نقطۂ نظر یوں بیان کرتے ہیں:

{ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین} أي آخرھم الذی ختمھم أو ختموا بہ۔

 زرقانی، شرح المواھب اللدنیۃ، 8: 395، الفصل الرابع ما اختص بہ من الفضائل والکرامات

’’آپ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں یعنی سب نبیوں کے آخر ہیں جس نے (آکر) ان (کی آمد کے سلسلہ) کو ختم فرما دیا یا وہ آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ختم کر دیئے گے۔‘‘

(10) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1147ھ)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی رائے کا اظہار ان الفا ظ میں کرتے ہیں:

أو قال: إن النبی ﷺ خاتم النبوۃ ولکن معنی ھذا الکلام أنہ لا یجوز أن یسمی بعدہ أحد بالنبی وأما معنی النبوۃ وھو کون الإنسان مبعوثا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصوماً من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فھو موجود فی الائمۃبعد فذلک الزندیق وقد اتفق جماھیر المتأخرین من الحنفیۃ والشافعیۃ علی قتل من یجری ھذا المجریٰ۔

 ولی اللہ دہلوی، المسوّی من أحادیث المؤطا، 2: 299-293

’’یا وہ شخص یہ کہے: ’’بے شک حضور نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں، اور اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی کہنا جائز نہیں، مگر نبوت کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف اس حال میں مبعوث ہو کہ وہ واجب الطاعت ہو اور گناہوں سے اور غلطی کو ظاہراً دیکھ کر اس پر قائم رہنے سے معصوم ہو سو ایسا انسان آپ ﷺ کے بعد آئمہ میں بھی موجود ہے۔‘‘ ایسا کہنے والا شخص زندیق ہے۔ ایسی چال چلنے والے شخص کے قتل پر احناف اور شوافع کا اتفاق ہے۔ (یعنی جو شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار تو کرے مگر نبوت کی حقیقت آپ ﷺ کے بعد اَئمہ میں بھی ثابت کرے۔)‘‘

(1) اس سے شاہ ولی اللہؒ کا اشارہ ان فرق باطلہ کی طرف ہے جومخصوص صفاتِ نبوت اَئمہ اہل بیت میں ثابت کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض امامت کو نبوت پر فوقیت دیتے ہیں۔ نیز جس طرح اَئمہ اہلِ بیت میں ان صفات کو ثابت کرنا کفر و ارتداد کا باعث ہے اسی طرح غیراَئمہ میں، اگر چہ ایسا شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرنے والا ہی کیوں نہ ہو بہر حال وہ کافر و مرتد ہی سمجھا جائے گا۔

3۔ آئمہ فقہ و عقائدکی آراء

اَئمہ لغت و اَئمہ تفسیر نے لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کا جو معنی و مفہوم مراد لیا ہے وہ پیش کرنے کے بعد اب ہم اختصار کے ساتھ اَئمہ فقہ کا موقف پیش کریں گے تاکہ یہ چیز اظہر من الشمس ہو جائے کہ خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ نے تشریف لا کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ اس معنی پر تمام امت کا اتفاق و اجماع ہے بلکہ امت کا یہ بھی اجتماعی فیصلہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر و ارتداد اور کذب و افتراء ہے۔

(1) امام اعظم ابو حنیفہؒ (م 150ھ)

امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک تو مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔ اس حوالے سے آپ کا موقف یہ ہے:

وتنبأ رجل فی زمن أبي حنیفۃ رحمہ اللہ وقال أمھلونی حتی أجیئ بالعلامات۔ وقال أبوحنیفۃ رحمہ اللہ: من طلب منہ علامۃ فقد کفر لقول النبی ﷺ : لا نبی بعدی۔

 کردری، مناقب الإمام الأعظم أبی حنیفہ، باب 7: من طلب علامۃ من المتنبی فقد کفر، 1: 161

’’امام ابوحنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس نے کہا کہ مجھے مہلت دو تاکہ اپنی نبوت پر دلائل پیش کروں، حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا (جو شخص حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ بھی کافر ہے اور) جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

(2) امام محمد شہاب الکردری (م 287ھ)

محمد شہاب الکردری فرماتے ہیں:

وأما الایمان بسیدنا علیہ الصلوۃ والسلام فیجب بأنہ رسولنا فی الحال وخاتم الأنبیاء والرسل فاذا أمن بأنہ رسول ولم یؤمن بأنہ خاتم الرسل لا ینسخ دینہ إلی یوم القیامۃ لا یکون مؤمنا وعیسی علیہ الصلوۃ والسلام ینزل إلی الناس یدعوا إلی شریعتہ وھو سائق لأمتہ إلی دینہ۔

کردری، الفتاویٰ البزازیہ، الجزء الثالث، کتاب السیر، بھامش الفتاوی الھندیہ، 6: 327

’’حضور نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا یہ واجب کرتا ہے کہ (ہم اعتقاد رکھیں) آپ ﷺ آج بھی ہمارے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء و رسل کو ختم فرمانے والے ہیں اگر کوئی شخص یہ ایمان رکھے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں مگر یہ ایمان نہ رکھے کہ آپ ﷺ آخری رسول ہیں (اسی طرح اگر کوئی شخص یہ اعتقاد بھی نہ رکھے کہ) تاقیامت آپ ﷺ کا دین منسوخ نہیں ہو گا تو وہ مومن نہیں (ہمارا یہ اعتقاد بھی ہونا چاہئے کہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کی طرف نازل ہوں گے اور انہیں شریعت مصطفوی ﷺ کی طرف بلائیں گے اور وہ آپ ﷺ کی امت کو آپ ﷺ کے دین (پر عمل پیرا ہونے) کی رغبت دلائیں گے۔‘‘

(3) امام ابو جعفرالطحاوی (م 321ھ)

امام ابوجعفرالطحاوی اپنی کتاب ’العقیدۃ السلفیۃ‘ میں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد علیھم الرحمۃ کے عقائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وکل دعوی النبوۃ بعدہ علیہ السلام فغیّ وھوی۔

طحاوی، العقیدۃ السلفیۃ: 17

’’حضور ﷺ کے بعد ہر قسم کا دعویٰ نبوت گم راہی اور خواہش نفس کی پیروی ہے۔‘‘

(4) امام ابن حزم اندلسی (م 456ھ)

علامہ ابن حزم اندلسی فرماتے ہیں:

وکذلک من قال … إن بعد محمد ﷺ نبیًا غیر عیسی بن مریم فإنہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ۔

 ابن حزم، الفصل فی الملل والاھواء والنحل، 3: 249

’’اسی طرح جو یہ کہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے تو ایسے شخص کو کافر قرار دینے میں دو مسلمانوں میں بھی اختلاف نہیں ہے (یعنی یہ امت کا متفقہ اور اجتماعی اور اجماعی موقف ہے)۔‘‘

دوسرے مقام پر علامہ موصوف فرماتے ہیں:

وأن الوحی قد انقطع مذمات النبی ﷺ برھان ذلک أن الوحی لا یکون الا إلی نبی وقد قال ل: {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أبَا أحَدٍ مِّنْ رِجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَسُوْلَ اللهِ و خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ}۔

ابن حزم، المحلی، مسائل التوحید، مسئلہ : 44، 1: 26

’’بیشک حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد نزول وحی منقطع ہو گیا اس کی دلیل یہ ہے کہ وحی کا نزول صرف نبی پر ہوتا ہے اور جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں یعنی جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

ایک اور جگہ علامہ اندلسی فرماتے ہیں:

وأنہ علیہ السلام خاتم النبیین لانبی بعدہ برھان ذلک: قول اللہ تعالی {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أبَا أحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النِّبِيِّيْنَ}۔

ابن حزم، المحلی، 1: 9

’’بیشک نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ دلیل اس کی فرمان باری تعالیٰ ہے: {محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلہ نبوت ختم کرنے والے) ہیں}۔‘‘

(5) امام نجم الدین عمر نسفی(م 537ھ)

امام نجم الدین عمر نسفی فرماتے ہیں:

وأول الأنبیاء آدم وآخرھم محمّد علیھما الصّلوۃ والسّلام۔

العقیدۃ النسفیۃ، بیان فی إرسال الرسل: 28

’’انبیاء میں سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری حضرت محمد ﷺ۔‘‘

(6) علامہ سعد الدین تفتازانی (م 791ھ)

علامہ سعد الدین تفتازانی العقائد النسفیۃ کی عبارت کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وقد دلّ کلامہ وکلام اللہ المنزل علیہ أنہ خاتم النّبیّین وأنّہ مبعوث إلی کافۃ الناس بل إلی الجن والإنس ثبت أنہ آخر الأنبیاء۔

تفتا زاني، شر ح العقائد النسفیۃ، بیان فی إرسال الرسل: 137

’’حضورنبی اکرم ﷺ کا کلام (حدیث مبارکہ) اور کلام الهٰی جو آپ ﷺ پر نازل ہوا (یعنی قرآن مجید) اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا ہے اور آپ ﷺ تمام کائنات انسانی بلکہ تمام جن و انس کی طرف (رسول بن کر) مبعوث ہوئے ہیں۔ (قرآن و حدیث) سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔‘‘

علامہ تفتازانی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ’’احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا پھر آپ ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے؟‘‘ فرماتے ہیں:

لکنہ یتابع محمّداً علیہ السلام لأن شریعتہ قد نسخت فلا یکون إلیہ وحی ونصب الأحکام بل یکون خلیفۃ رسول اللہ علیہ السّلام۔

تفتازانی، شرح العقائد النسفیہ، بیان فی إرسال الرسل: 138

’’لیکن وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) حضرت محمد مصطفی ﷺ کی متابعت اور پیروی کریں گے کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے ان کی طرف نہ تو وحی ہوگی اور نہ ان کے ذمہ نئے احکامِ شریعت کو قائم کرنا ہو گا بلکہ آپ حضور ﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے آئیں گے۔‘‘

(7) علامہ ابن ابی العز حنفی (م 792ھ)

علامہ صدر الدین محمد بن علاء الدین علی بن محمد ابن ابی العز حنفی اذرعی صالحی دمشقی (أو کل دعوی النبوۃ بعدہ فغی وہوی) کی شرح میں لکھتے ہیں:

لما ثبت أنہ خاتم النبین علم أن من ادعی بعدہ النبوۃ فھو کاذب ولا یقال فلو جاء المدعی للنبوۃ بالمعجزات الخارقۃ والبراہین الصادقۃ کیف یقال بتکذیبہ؟ لأنا نقول: ہذا لا یتصور أن یوجد وہو من باب فرض المحال لأن اللہ تعالی لما أخبر أنہ یدعی النبوۃ ولا یظہر أمارۃ کذبہ فی دعواہ والغی ضد الرشاد والہوی عبارۃ عن شہوۃ النفس أي أن تلک الدعوی بسبب ہوی النفس لا عن دلیل فتکون باطلۃ۔

ابن أبی العز الحنفی، شرح العقیدۃ الطحاویۃ: 166

’’جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت محمد ﷺ نبیوں (کے سلسلہ)کو ختم فرما دیا ہے تو معلوم ہوا کہ جو کوئی آپ ﷺ (کی بعثت) کے بعد نبوت کا دعوی کرتا وہ جھوٹا ہے اور ہرگز نہیں کہا جائے گا کہ اگر وہ خر قِ عادت معجزات اور سچے دلائل پیش کرتا ہے تو اسے کیونکر جھٹلایا جائے گا، کیونکہ ایسی شے کے وجود کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور یہ فرضِ محال ہے، کیونکہ جب باری تعالیٰ نے فرما دیا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو یہ محال ہے کہ آپ کے بعد کسی مدعی نبوت کے دعویٰ میں جھوٹ، گمراہی اور نفسانی خواہش کی علامت ظاہر نہ ہو۔ پس اس کا یہ دعویٰ محض اس کی نفسانی خواہش ہے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں سو یہ باطل ہے۔‘‘

(8) امام شیخ زین الدین ابن نجیم (م 970ھ)

علامہ ابن نجیم حنفی کا ارشاد ہے:

اذا لم یعرف أن محمّداً ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔

ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، الفتن الثانی، کتاب السیر و الردۃ، 1: 296

’’اگر کوئی شخص یہ نہ مانے کہ حضرت محمد ﷺ تمام انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیںکیونکہ ٰختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔‘‘

شیخ زین الدین ابن نجیم دوسری جگہ فرماتے ہیں:

أنہ یکفربہ … بقولہ لا أعلم أن آدم علیہ السلام نبی أولا ولو قال آمنت بجمیع الأنبیاء علیھم السّلام بعدم معرفۃ أن محمدا ﷺ آخر الأنبیاء۔

ابن نجیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، 5: 130

’’اس شخص کو کافر قرار دیا جائے گا جو یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آدم علیہ السلام پہلے نبی ہیں اور حضرت محمد ﷺ آخری نبی اگرچہ وہ یہ کہتا پھرے کہ میں تمام انبیاء پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘

علامہ موصوف اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ انا رسول اللہ (میں اللہ کا رسول ہوں) تو اسے بھی کافر قرار دیا جائے گا۔

4۔ آئمہ سلوک و تصوف کی آراء

ختم نبوت کے بارے میں آئمہ سلوک و تصوف کا عقیدہ ہ مذکورہ بالا آئمہ کے عقائد سے کچھ مختلف نہیں۔ اس کا اندازہ چند آئمہ کی درج ذیل آراء سے بخوبی ہو جاتاہے:

(1) امام غزالی (م 505ھ)

امام غزالی فرماتے ہیں:

إن الأمۃ فھمت بالإجماع من ھذا اللفظ ومن قرائن أحوالہ أنہ أفھم عدم نبی بعدہ أبداً وعدم رسول اللّہ أبداً وأنہ لیس فیہ تأویل ولا تخصیص فمنکر ھذا لا یکون وإلا منکر الإجماع۔

غزالی، الاقتصاد فی الاعتقاد : 160

’’بیشک تمام امت محمدیہ ﷺ نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین اور لا نبی بعدی) سے اور قرائن احوال سے یہی سمجھا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ رسول، نیز یہ کہ اس میں کسی قسم کی نہ کوئی تاویل ہو سکتی ہے نہ تخصیص پس اس کا منکر اجماعِ امت کا منکر ہے۔‘‘

(2) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (م 638ھ)

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اپنے موقف کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

فما بقی للأولیاء الیوم إلا التعریفات وانسدت أبواب الأوامر الالٰھیۃ والنواھي فمن ادعاھا بعد محمّد ﷺ فھومدع شریعۃ أوحی بھا إلیہ سواء وافق بھا شرعنا أو خالف فان کان مکلفاً ضربنا عنقہ و إلا ضربنا عنہ صفحاً۔

1۔ ابن عربی، الفتوحات المکیۃ، 3: 51
2۔ شعرانی، الیواقیت والجواہر في بیان عقائد الاکابر، 2: 373

’’رفعِ نبوت کے بعد اب اولیاء کے لیے تعریفات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا اور الوہی اوامر و نواہی کے تمام دروازے بند ہوچکے ہیں پس جو کوئی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ (بزعم خویش) اپنی طرف وحی کردہ نئی شریعت کا مدعی ہوگا، برابر ہے کہ وہ ہماری شریعت کے موافق ہویا مخالف، پس اگر وہ مکلف یعنی عاقل بالغ ہے تو ہم (اہل قضا)اسے قتل کی سزا دیں گے اور اگر مجنون ہے تو ہم اس سے کنارا کشی اختیار کریں گے۔‘‘

علامہ شعرانی، شیخ اکبر ابن عربی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ شیخ نے ’فتوحات‘ میں فرمایا ہے:

ھذا باب أغلق بعد موت محمّد ﷺ فلا یفتح لأحد إلی یوم القیامۃ۔

شعرانی، الیواقیت والجواہر، المبحث الخمس والثلاثون، 2: 371

’’یہ (وحی کا) باب حضور ﷺ کے وصال کے بعد بند ہو چکا ہے اب قیامت تک کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔‘‘

(3) امام عبد الوھاب شعرانی ؒ(م 973ھ)

امام عبد الوھاب شعرانی فرماتے ہیں:

اعلم أن الإجماع قد انعقد علی أنہ ﷺ خاتم المرسلین کما أنہ خاتم النبیین۔

شعرانی، الیواقیت والجواہر، 2: 37

’’جان لو کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے سلسلہ رسل ختم فرما دیا ہے جس طرح آپ ﷺ نے سلسلہ انبیاء ختم فرمایا ہے۔‘‘

(4) حضرت مجدد الف ثانی ؒ(م 1034ھ)

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فرماتے ہیں:

1۔ باید دانست کہ منصب نبوت ختم بر ختم الرسل شدہ است علیہ و علی اٰلہ الصلوات والتسلیمات۔

مجدد الف ثانی، مکتوبات، دفتر اول، حصہ چہارم: 110، مکتوب نمبر260

’’جان لینا چاہیے کہ منصب نبوت ختم الرسل حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔‘‘

2۔ خاتمِ انبیاء محمد رسول اللہ است صلی اللہ تعالیٰ وسلّم وعلٰی اٰلہ و علیھم اجمعین و دینِ او ناسخِ ادیانِ سابق ست و کتابِ او بہترین کتب ما تقدم ست و شریعتِ او را ناسخے نخواہد بود بلکہ تا قیامِ قیامت خواہد ماند و عیسیٰ علی نبیّنا و علیہ الصّلٰوۃ و السّلام کہ نزولِ خواہد نمود عمل بشریعتِ او خواہد کرد و بعنوان امتِ او خواہد بود۔

مجدد الف ثانی، مکتوبات، دفتر دوم، حصہ ہفتم: 49، مکتوب نمبر: 67

محمد رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء علیھم السّلام کے خاتم اور آپ ﷺ کا دین ادیانِ سابقہ کا ناسخ ہے اور آپ ﷺ کی کتاب پہلی کتب سے بہترین ہے، آپ ﷺ کی شریعت کا ناسخ کوئی نہیں ہو گا اور قیامت تک یہی شریعت رہے گی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو نزول فرمائیں گے وہ بھی آپ ﷺ کی شریعت ہی پر عمل کریں گے اور آپ ﷺ کے امتی کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘

3۔ نبوت عبارت از قرب الٰہی است جل سلطانہ کہ شائبہ ظلیت ندارد و عروجش رو بحق دارد جل وعلا و نزولش رو بخلق این قرب بالاصالۃ نصیب انبیاء است علیھم الصلوات و التسلیم و این منصب مخصوص باین بزرگواران است وخاتم این منصب سید البشر است علیہ و علی اٰلہ الصّلوٰۃ والسّلام حضرت عیسیٰ علی نبیّنا و علیہ الصّلوةُ والتحیّۃ بعد از نزول متابع شریعتِ خاتم الرسل خواھدبود علیہ الصّلوۃ و السّلام۔

مجدد الف ثانی، مکتوبات، دفتر اول، حصہ پنجم: 148، مکتوب نمبر: 301

’’نبوت قرب الٰہی سے عبارت ہے جس میں ظلیت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اس کا عروج حق کی طرف اور نزول مخلوق کی طرف ہوتاہے، قرب کا یہ درجہ اِصالتاً انبیاء علیہم السلام کا حصہ ہے اور یہ انہیں معزز ہستیوں کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔ اس منصب کے ختم فرمانے والے سید البشر حضرت محمد ﷺ ہیں حضرت عیسی علیہ السلام بھی نزول کے بعد آپ ﷺ کی شریعت کی اتباع کریں گے۔‘‘

4۔ در شان فاروق رضی اللہ عنہ فرمودہ است علیہ وعلی الہ الصّلٰوۃ والسّلام: لَوْکَانَ بَعْدِيْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ یعنی لوازم و کمالاتے کہ در نبوت درکار است ہمہ را عمرصدارد امّا چوں منصبِ نبوت بخاتمِ الرُّسُل ختم شدہ است علیہ وعلی الہ الصّلٰوۃ والسّلام بدولتِ منصبِ نبوت مشرف نگشت۔

مجدد الف ثانی، مکتوبات، دفتر سوم، حصہ ہشتم: 69، 70، مکتوب نمبر: 24

’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرہوتے یعنی تمام لوازمات و کمالات نبوت ان کے اندر موجود ہیں لیکن چونکہ منصبِ نبوت حضور انور ﷺ پر تمام ہوچکا ہے اس لیے وہ اس منصب سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔‘‘

اسی مکتوب میں ہے:

5۔ مقرر است ہیچ ولی امتے بمرتبۂ صحابی آں امت نرسد فکیف بہ نبی آں امت۔

مجدد الف ثانی، مکتوبات، دفتر سوم، حصہ ہشتم: 70، مکتوب نمبر: 24

’’یہ بات طے شدہ ہے کہ کسی امت کا ولی اس امت کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ ایک امتی اس امت کے نبی کے درجہ تک رسائی حاصل کرے۔‘‘

ماحصل کلام

آئمہ امت کی مذکورہ بالا تصریحات، تشریحات اور دلائل و اقوال سے ثابت ہو گیا کہ امت نے خاتم النبیین کا مطلب ہمیشہ یہی سمجھا ہے کہ حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک ہر قسم کی نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے اور پھر اس دعویٰ کے بارے میں کتنی ہی تاویلیں کیوں نہ کرے، اپنی نبوت کو ظلی، بروزی، لغوی ثابت کرنے کے لاکھ جتن کرے، بالاجماع اسے کافر، مرتد اور زندیق ہی سمجھا جائے گا اور صرف اسے ہی نہیں بلکہ اسے سچا ماننے والوں کو بھی اس دائرہ میں شامل کیا جائے گا حتیٰ کہ جو اس دجال اور اس کے ماننے والوں کے کفر میں شک بھی کرے اسے بھی خارج از اسلام قرار دیا جائے گا۔

مذکورہ بالا صفحات میں جن آئمہ کی تصریحات پیش کی گئیں ہیں ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنینِ وفات بھی دے دیئے ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ ہر دور اور ہر صدی کے اکابرینِ امت خاتم النبیین سے مراد ’’آخری نبی‘‘ ہی لیتے رہے ہیں اور پہلی صدی ہجری سے لے کر آج تک تمام اُمتِ مسلمہ کا عقیدہ یہی رہا ہے نیز ان اہل علم و دانش کا تعلق ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک اور ترکی سے لے کر یمن تک دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں سے تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر صدی میں دنیا کے ہر خطہ کے مسلمانوں کا موقف یہی رہا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved