Belief in the Finality of Prophethood

باب 3 :مسئلہ ولادت امام مہدی علیہ السلام

ولادتِ امام مہدی علیہ السلام کا موضوع اگرچہ براهِ راست ختمِ نبوت سے متعلق نہیں، مگر چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٔ نبوت سے پہلے امام مہدی ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور بعض دیگر گمراہانِ اُمت کی طرف سے بھی اس قسم کے دعوے کیے گئے اور آئے روز ہوتے رہتے ہیں، اِس لیے ہم نے ضروری خیال کیا کہ اس عقیدہ کو احادیث کی روشنی میںبیان کر دیا جائے تاکہ مرزا صاحب کے دعویٰ مہدیّت کا ردّ بھی ہو اور آئندہ مدعیان مہدیّت کا علمی سطح پر سد باب بھی ہوسکے۔

ہر زمانے کا ایک مخصوص امام ہے اور کوئی دور ایسا نہیں جس میں اُمتِ مسلمہ کا کوئی امام نہ ہو۔ امام کی اہمیت کے باب میں کوئی کلام نہیں جیسا کہ قرآنِ حکیم میں واضح طور پر ارشاد ہوا ہے:

یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسٍم بِإمَامِھِمْ۔

بنی اسرائیل، 17: 71

’’وہ دن (یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقے کو اُن کے امام (پیشوا) کے ساتھ بلائیں گے۔‘‘

امام کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ کی ایک معروف حدیث ہے:

عن معاویۃ قال: قال رسول الله ﷺ : من مات ولیس لہ إمام مات میتۃ جاھلیۃ۔

1۔ ابن حبان، الصحیح، 10: 434، رقم: 4573
2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 70، رقم: 5820

’’حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص بغیر کسی امام (کی معرفت) کے اس دنیا سے رخصت ہو گیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘

اس سلسلہ کے پہلے امام حضرت علی کرّم اللہ وجھّہ فاتح باب ولایت ہیں یعنی ولایت کا سلسلہ ان کی ذاتِ گرامی سے شروع ہوا اور حضرت مہدی علیہ السلام آخری امام ہوں گے یعنی ان پر امامت ختم ہو جائے گی۔

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہے

انعقادِ قیامت جو کہ اس دنیائے فانی کے خاتمے اور انسانی اعمال کے محاسبے کا نام ہے امرِ حق ہے اور اس پر ایمان نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہے۔ قیامت کا قائم ہونا تو بر حق ہے لیکن یہ قائم کب ہوگی؟ اس بات کو اللہ رب العزت نے اپنے اور اپنے نبی آخر الزماں ﷺ کے درمیان راز رکھا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس کی چند نشانیاں بھی مقرر فرما دیں تاکہ ان کو دیکھ کر اہلِ ایمان یہ جان لیں کہ اب انعقادِ قیامت کا وقت قریب ہے۔ اللہ رب العزت نے قیامت کی نشانیوں کا ذکر قرآن مجید کی اِس آیتِ مبارکہ میںیوں فرمایا ہے:

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً ج فَقَدْ جَآء اَشْرَاطُهَا فَاَنّٰی لَهُمْ اِذَا جَآئَتْهُمْ ذِکْرٰهُمْo

محمد، 47: 18

’’تو اب یہ (منکر) لوگ صرف قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آ پہنچے؟ سو واقعی اس کی نشانیاں (قریب) آ پہنچی ہیں، پھر انہیں ان کی نصیحت کہاں (مفید) ہو گی جب (خود) قیامت (ہی) آ پہنچے گیo‘‘

قیامت کی وہ علامات جن کا ظہور قیامت کے انتہائی قریبی زمانے میں ہو گا اور جن کے ظہور کے بعد قیامت یک لخت واقع ہو جائے گی ان علامات کو قیامت کی علاماتِ کبریٰ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ قیامت کے انتہائی قریبی زمانہ میں واقع ہوں گی اور ان کا ظہور پہ در پہ ہو گا۔ اُن کے ظہور کی یہ نشانی ہو گی کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ باہم منسلک ہو کر ظہور پذیر ہوں گی۔ اُن کے بارے میں کوئی واضح رہنمائی تو نہیں ملتی کہ یہ کب ظہور پذیر ہوں گی لیکن احادیثِ مبارکہ میں اُن کے زمانۂ ظہور کا اشارہ ضرور دیا گیا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علاماتِ کبریٰ کے زمانۂ ظہور کا ذکر اپنے ایک فرمان مبارکہ میں یوں کیا ہے:

عن أبي قتادۃ قال: قال رسول الله ﷺ الآیات بعد المائتین۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب الآیات، 2: 1348، رقم: 4057
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 475، رقم: 8319
3۔ دیلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1: 125، رقم: 343

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیاں (کسی بھی ہزارویں سال کی) دوسری صدی ختم ہونے کے بعد ظاہر ہوں گی۔‘‘

اِس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ جن کی تعداد دس ہے جب بھی ظاہر ہونا شروع ہوں گی وہ وقت کسی بھی ہزارویں سال کے شروع ہونے کے بعد پہلی دو صدیوں کے اختتام پر آئے گا۔ یعنی ہزارواں سال کوئی بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ کئی ہزار برس کے بعد آئے یا لاکھوں برس کے بعد، اس امر کا تعین نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ اب سن ہجری کا دوسرا ہزارواں برس شروع ہے مثلاً اس وقت 1429؁ سن ہجری ہے۔ گویا سن ہجری کو شروع ہوئے پہلا ہزارواں سال ختم ہو چکا ہے، اس پر مزید چار صدیاں بھی بیت چکی ہیں اور 28 سال اگلی صدی کے بھی گزر چکے ہیں، اب پندرہویں صدی ہجری جاری ہے۔ ’’بعد المائتین‘‘ کا معنی یہ ہوا کہ جس طرح پہلا ہزارواں سال ختم ہو چکا ہے اور اس کی پانچویں صدی جاری ہے۔ اسی طرح قیامت کی علامات کبریٰ کے ظہور کا زمانہ جب بھی شروع ہو گا اس کی ترتیب زمانی اور وقوع کی صورت یوں ہوگی کہ کسی زمانہ میں حسبِ سابق نیا ہزارواں سال شروع ہو کر اس کی پہلی دو صدیاں ختم ہو چکی ہوں گی اور اس ہزارویں برس کی تیسری صدی کی ابتداء ہو گی جب ظہورِ علامات کا آغاز ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ علاماتِ کبریٰ میں سے پہلی علامت امام مہدی علیہ السلام کی آمد ہے، حضرت امام مہدی علیہ السلام اُمتِ محمدی کے آخری مجدد ہوں گے بلکہ وہ مجددِ اعظم ہوں گے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ میری اُمت میں تجدیدِ دین کے لیے مجدد ہر صدی کے شروع میں آئے گا۔ مجدد کی پیدائش پچھلی صدی کے نصف آخر یا آخری تہائی میں ہوتی ہے اور نئی صدی کے آغاز پر وہ اپنا کام شروع کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس لیے امام مہدی علیہ السلام اُس ہزارویں سال کی دوسری صدی کے دورِ اواخر میں پیدا ہو چکے ہوں گے اور جوں ہی تیسری صدی (بعد المائتین) کا زمانہ شروع ہو گا تو آپ کا ظہور اور اعلان ہو جائے گا۔ یہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے پہلی علامت ہو گی۔

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام اُمت کا اجماعی عقیدہ ہے

اُمتِ مسلمہ کے اجماعی اور متفق علیہ عقائد میں سے ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اخیر زمانہ میں حق ہے اس لیے اس پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور احادیثِ صحیحہ متواترہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے، اگرچہ ان کے ظہور کے حوالے سے بعض تفصیلات اخبارِ احاد سے ثابت ہیں۔ عہدِ صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کو شرق و غرب کے ہر طبقۂ فکر کے علماء و محققین، ہر قرن اور ہر زمانہ میں نقل کرتے چلے آئے ہیں جن میں ان تمام احادیث اور آثارِ صحابہ کو جمع کیا گیا ہے۔

آمدِ مہدی علیہ السلام کے حوالے سے کثیر تعداد میں ائمہ حدیث نے اس موضوع پر روایت کی جانے والی احادیث کو متواتر کہا ہے۔ واضح رہے کہ متواتر احادیث کو ماننا واجب کا درجہ رکھتا ہے اور ان پر ایمان نہ رکھنا گمراہی کی دلیل ہے۔ ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کے باب میں مروی احادیث کو بیان کرنے والے ائمہ میں امام قرطبی، امام ابن قیم جوزی، امام ابن حجر عسقلانی، امام سخاوی، امام جلال الدین سیوطی، امام ابن حجر مکی، ملا علی قاری، امام زرقانی، امام قسطلانی اور امام برزنجی رحمھم اللہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں جن ائمہ نے ان حدیث متواترہ سے استنباط کیا ہے ان میںامام سفیان ثوری، امام ابن حبان، امام بیہقی، امام ابو القاسم السہیلی، امام ابو عبداللہ القرطبی، امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم جوزی، امام ابن کثیر، امام جلال الدین سیوطی، امام بن حجر مکی رحمھم اللہ شامل ہیں۔

اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ آمدِ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ خالصتاً اسلامی عقیدہ ہے۔

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام پر ائمہ حدیث کی تصانیف

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ سے متعلق بہت سے ثقہ آئمہ حدیث نے اپنی تصانیف میں احادیث کی تخریج کی ہے۔ ذیل میں ایسی چند منتخب کتب کی فہرست عام استفادہ کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ اس سے اس امرکا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آئمہ و محدثین و علمائے ملت کے نزدیک اس عقیدہ کی کتنی اہمیت ہے؟ ترتیبِ زمانی کے ساتھ فہرست کتب ملاحظہ ہو:

1۔ عبد الرزاق بن ہمام (م 211) ، المصنف

2۔ ابن ماجہ (م 273) ، السنن

3۔ ابو داود (م 275) ، السنن

4۔ ابو عیسٰی ترمذی (م 297) ، السنن

5۔ مقدسی (م 355) ، البدء والتاریخ

6۔ طبرانی (م 388) ، المعجم الکبیر

7۔ ابو سلیمان الخطابی (م 388) ، معالم السنن

8۔ بغوی (م 510) ، مصابیح السنۃ

9۔ ابن اثیر جزري (م 606) ، جامع الأصول

10۔ محی الدین ابن عربی (م 638) ، الفتوحات المکیۃ

11۔ ابن طلحہ شافعی (م 652) ، مطالب السؤل

12۔ ابن جوزی (654) ، تذکرۃ خواص الأمۃ

13۔ عبد الحمید بن ابی الحدید (م 655) ، شرح نہج البلاغۃ

14۔ منذری (م 656) ، مختصر سنن أبی داود

15۔ محمد بن ابی بکر قرطبی (م 671) ، التذکرۃ

16۔ ابن خلکان (م 689) ، وفیات الأعیان

17۔ محب الدین طبری (م 694) ، ذخائر العقبی

18۔ حموئی خراسانی (م 732) ، فرائد السمطین

19۔ خطیب تبریزی (م 737) ، مشکاۃ المصابیح

20۔ سراج الدین ابن الوردی (م 749) ، خریدۃ العجائب

21۔ ابن قیم جوزیہ حنبلی (م 751) ، المنار المنیف

22۔ ابن کثیر دمشقی (م 774) ، الفتن والملاحم

23۔ سید علی ہمدانی (م 876) ، مودۃ القربی

24۔ سعد الدین تفتازانی (م 793) ، شرح المقاصد

25۔ نور الد ین ہیثمی الشافعی (م 807) ، مجمع الزوائد

26۔ نور الدین ہیثمی الشافعی (م 807) ، موارد الظمآن

27۔ ابن الصباغ مالکی (م 855) ، الفصول المھمۃ

28۔ سیوطی شافعی، العرف الوردی

29۔ ابن طولون دمشقی (م 953) ، الائمۃ الإثني عشر

30۔ عبد الوہاب شعرانی (م 973) ، الیواقیت والجواھر

31۔ احمد بن حجر ہیتمی (م 974) ، الصواعق المحرقۃ

32۔ احمد بن حجر ہیتمی (م 974) ، الفتاوی الحدیثیۃ

33۔ علاء الدین متقی ہندی (م 975) ، کنز العمال

34۔ احمد الدمشقی قرمانی (م 1008) ، أخبار الدول وآثار الأول

35۔ ملا علی قاری حنفی (م 1014) ، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح

36۔ محمد بن عبد الرسول بزرنجی (م 1103) ، الاشاعۃ من أشراط الساعۃ

37۔ احمد بن علی منینی (م 1173) ، فتح المنان شرح الفوز والأمان

38۔ شمس الدین سفارینی (م 1188) ، لوائح الأنوار الإلھیۃ

39۔ محمد الصبان شافعی (م 1206) ، اسعاف الراغبین

40۔ سید مؤمن شبلنجی (م 1290) ، نور الابصار

41۔ عبد الرؤف مناوی (م 1301) ، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر

42۔ شیخ حسن خمراوی مصری (م 1303) ، مشارق الأنوار

43۔ سید محمد صدیق قنوجی (م 1307) ، الإذاعۃ لما کان وما یکون

44۔ شھاب الدین حلوانی (م 1308) ، القطر الشھدی فی اوصاف المھدی

45۔ محمد البلبیسی شافعی (م 1308) ، العطر الوردی فی شرح القطر

46۔ خیر الدین الوسی حنفی (م 1317) ، غالیۃ المواعظ

47۔ شمس الحق العظیم آبادی (المتولد 1273) ، عون المعبود شرح سنن ابو داود

48۔ محمد بن جعفر کتانی (م 1345) ، نظم المتناثر

49۔ محمد عبدالرحمن مبارکپوری (م 1354) ، تحفۃ الأحوذی

50۔ شیخ الأزھر محمد الخضر حسین (م 1377) ، نظرۃ فی أحادیث المھدی

51۔ شیخ منصور علی ناصف (م 1371) ، التاج الجامع للاصول

52۔ احمد بن صدیق مغربی (م 1380) ، ابراز الوھم المکنون (1)

 (1) مہدی الفقیہ ایماني، الإمام المھدی عند أھل السنۃ، المحتویات

ان ائمہ و محدثین کے علاوہ بھی اہلِ علم کی کثیر تعداد نے اس موضوع پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔

امام مہدی کے مسئلے پر تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کا اِجماع

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آمدِ امام مہدی علیہ السلام کے عقیدے پر ہر دور میں اُمت کا اجماع رہا ہے۔ یہ مسئلہ کبھی بھی صحابہ، تابعین، تبع تابعین کے ادوار میں ائمہ، فقہائ، مجتہدین، علماء و صوفیاء کے درمیان مختلف فیہ نہیں رہا۔ تمام مکاتبِ فکر و مذاہب کے ہاں اس مسئلے پر ہمیشہ اتفاق ہی رہا ہے۔ اہلِ تشیع اور اہل سنت کے درمیان صرف ایک نکتے پر اختلاف ہے کہ اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق امام مہدی علیہ السلام پیدا ہونے کے بعد غائب ہو گئے اور ان کا دوبارہ ظہور قرب قیامت کے وقت ہو گا جبکہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے اور ان کی ولادت ہونی ہے۔ اس اختلاف کے علاوہ اُمت میں ان کی آمد اور مقام و مرتبہ کے حوالے سے اور کوئی اختلاف نہیں۔ اہل سنت اور اہل تشیع کی کتب میں یہ اختلاف دیکھا جاسکتا ہے۔

آمد امام مہدی علیہ السلام کا حوالہ قران حکیم کے تناظر میں

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللهِ اَنْ یُّذْکَرَ فِيْھَا اسْمُهٗ وَسَعٰی فِيْ خَرَابِھَا ط اُوْلٰئِٓکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ط لَھُمْ فِيْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌo

البقرۃ، 2: 114

’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گاجو اللہ کی مسجدوں میں اُس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور اُنہیں ویران کرنے کی کوشش کرے انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا (بلکہ ان کو تو یہ چاہیے تھا) کہ مسجدوں میں (اللہ سے) ڈرتے ہوئے داخل ہوتے، ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہےo‘‘

مذکورہ آیہ مبارکہ میں عمومی اطلاق اُمت کے لوگوں کے لیے ہے لیکن تاریخی شانِ نزول کے اعتبار سے مشہور تابعی امام سُدّی (شاگرد حضرت عبد اللہ بن عباسؓ) روایت کرتے ہیں کہ ان سے مراد پرانے وقت کے رومی لوگ ہیں کہ جب بخت نصر غالب آیا تھا تو اس نے اللہ کے گھروں کو ویران کر دیا اور اللہ کے نام کو بلند کرنا بند کروا دیا تھا۔ ان رومیوں نے اپنے غلبے کے دوران بیت المقدس کو ویران کیا تھا۔ اب یہ لوگ جب بھی بیت المقدس میں داخل ہوں گے تو خوفزدہ ہو کر اور گردنیں جھکاتے ہوئے داخل ہوں گے لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ آج رومی نہ تو خائف ہیں اور نہ سر جھکائے ہوئے داخل ہوتے ہیں کیونکہ بیت المقدس تو یہودیوں کے قبضے میں ہے اور رومیوں پر تو پابندی ہی نہیں ہے بلکہ آج تو مسلمان سر جھکاکر داخل ہوتے ہیں اور ڈرتے پھرتے ہیں۔ امام ابن جریر طبری آیت کریمہ کے اس حصہ کے بارے میں امام سُدّی الکبیر سے روایت کرتے ہیں:

{لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ} أما خزیھم في الدّنیا فإنّھم إذا قام المہدي وفتحت القسطنطینیہ، قتلھم، فذالک الخزی۔

طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 1: 501

’’{ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے} دنیا میں ان کی ذلت اُس وقت ہوگی جب امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور قسطنطینیہ فتح ہوگا۔ امام مہدی انہیں ایک جنگ میں ہلاک کریں گے، پس یہ ان کی ذلت ہوگی۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

وَقَضَيْنَـآ اِلٰی بَنِيْٓ اِسْرَآءيْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِيْرًاo فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰـهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْکُمْ عِبَادًا لَّـنَـآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًاo ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِيْرًاo اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ قف وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ط فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗ ا وُجُوْهَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًاo

بنی اسرائیل، 17: 4۔ 7

’’اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ ضرور فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گےo پھر جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دیئے جو سخت جنگجو تھے پھر وہ (تمہاری) تلاش میں (تمہارے) گھروں تک جا گھسے اور (یہ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھاo پھر ہم نے اُن کے اوپر غلبہ کو تمہارے حق میں پلٹا دیا اور پھر ہم نے اموال و اولاد (کی کثرت) کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی اور ہم نے تمہیں افرادی قوت میں (بھی) بڑھا دیاo اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لیے بھلائی کرو گے اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لیے۔ پھر جب دوسرے وعدے کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلط کر دیا) تاکہ (مار مار کر تمہاری نافرمانیوں اور سرکشی کی سزا کے طور پر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجد اقصیٰ میں (اسی طرح) داخل ہوں (غالب اور فاتح ہو کر) جیسے اس میں (حملہ آور) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اس کو تباہ و برباد کر ڈالیںo‘‘

ان آیات میں بنی اسرائیل، یروشلم اور القدس کا ذکر کیا گیا ہے نیز بیت المقدس پر مختلف اوقات میں ہونے والے پے درپے حملوں کے ہونے اور اس کا فتح کیا جانا مذکور ہے۔

اس دوسرے وعدے کی گھڑی کی تعبیرات مفسرین نے مختلف کی ہیں۔ بعضوں نے اسے ماضی سے متعلق کیا ہے اور بعضوں نے اسے مستقبل سے متعلق کیا ہے اگر اسے ماضی سے تعبیر کریں تو یہی ترجمہ ہو گا کہ پھر جب دوسرے وعدے کی گھڑی آئی اگر مستقبل سے متعلق ہو تو مطلب ہو گا کہ جب دوسرے وعدے کی گھڑی آئے گی تو تم پر اوروں کو مسلط کر دیں گے۔ مستقبل کے لحاظ سے آیت مبارکہ کے معانی کریں تو قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ قرآن حکیم کے ان مضامین میں شامل ہے جو قرآنی پیشین گوئیاں کہلاتی ہیں۔ جن میں آئندہ پیش آنے والے واقعات کا ذکر موجود ہوتا ہے۔

پیشین گوئیاں قرآن پاک کے مضامین کا ایک باب ہیں۔ درج بالا آیت نمبر 7 کی ائمہ تفسیر، صحابہ، تابعین اور اکابرین نے مختلف حوالوں سے تعبیرات، اطلاقات اور انطباقات بیان کیے ہیں۔ تمام تعبیرات اپنی جگہ پر صحیح اور درست ہیں اور ان میں سے ایک تعبیر امام ابن جریر طبری نے ’جامع البیان في تفسیر القرآن‘ میں روایت کی ہے اور یہ روایت صحابیٔ رسول حضرت حذیفہ بن الیمان صسے مروی ہے نیز اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر ’الدر المنثور‘ میں بھی بیان کیا ہے۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فھذا من صنعۃ حُليّ بیت المقدس ویردّهُ المہدي إلی البیت المقدس، وھو ألف سفینۃ وسبع مائۃ سفینةٍ، یُرسي بہا علی یافا، حتّی تُنْقَلَ إلی بیت المقدس، وبھا یجمع اللہ الأوّلین والآخرین۔

1۔ طبری، جامع البیان في تفسیر القرآن، 15: 22
2۔ سیوطی، الدر المنثور، 5: 243

’’یہ بیت المقدس کے زیورات کی سرگزشت ہے، انہیں امام مہدی واپس بیت المقدس پہنچائیں گے۔ یہ زیورات سترہ سو بحری بیڑوں میں لدے ہوئے ہوں گے جنہیں یافا کے مقام پر لنگر انداز کیا جائے گا یہاں تک کہ انہیں بیت المقدس منتقل کر دیا جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بیت المقدس میں ہی اوّلین و آخرین کو جمع فرمائے گا۔‘‘

اس حدیثِ مبارکہ سے دو باتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ سیدنا امام مہدی علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بیت المقدس (یروشلم) آخری بار آپ ہی کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ آپ اپنی عالمی خلافت کا ہیڈ کوارٹر بیت المقدس کو بنائیں گے۔ آپ کا کل زمانۂ خلافت مقبول اور مختار روایات کے مطابق 7 سے 9 برس یا 20 برس ہے۔ اس سے زائد کا ذکر بھی موجود ہے مگر یہ روایات مقبول اور مختار ہیں۔ اب ان دو مختار روایات کو جمع کیا جائے تو اس کی تطبیق یوں کی جا سکتی ہے کہ آپ مجموعی طور پر 20 سال حکومت کریں گے اور ان 20 سالوں میں سے 7 یا 9 سال کا عرصہ ایسا ہو گا جب آپ خلیفۃ اللہ فی الارض کے مرتبہ کو پہنچ جائیں گے، یعنی پوری زمین پر آپ کی حکومت ہو گی۔ روئے زمین پر سلطنتِ اسلامیہ، خلافتِ الهٰیہ اور خلافتِ محمدیہ قائم ہو گی۔ اسلام، دنیا کی سپریم پاور کے طور پر سامنے آئے گا اور امام مہدی علیہ السلام اس خلافت و سلطنت کے خلیفہ و سربراہ ہوں گے۔ یہ خلافت 7 سے 9 برس قائم ہو گی اور 20 میں سے پہلے 13، 14 سالوںمیں عرب سے لے کر شام، قسطنطنیہ، روم اور یورپ آپ کی سلطنت میں آ جائے گا اور باقی سلطنتیں آپ بعد میں فتح کریںگے۔ ان کی فتح کے بعد عالمی خلافت قائم ہوگی جو کہ 7 سے 9 سال تک رہے گی۔

2۔ دوسری بات اس حدیث سے یہ سامنے آتی ہے کہ بیت المقدس کی فتح کے وقت 1700 بحری بیڑے استعمال ہوں گے۔ حدیث کا یہ دوسرا حصہ ان لوگوں کے لیے غور و فکر کا متقاضی ہے جو امام مہدی علیہ السلام کے پیدا ہو چکنے کے دعویدار رہتے ہیں اور ہمیشہ اگلے ’’دو، تین‘‘ سالوں میں ان کے ظہور کا اعلان کرتے رہتے ہیں نیز ان کے ’’عنقریب‘‘ ظہور کے حوالے سے اُمت کے اندر ایسے خیالات کو پروان چڑھایا جاتارہا ہے۔ عرب و عجم کے کئی علماء نے کئی مرتبہ اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں۔ راقم ایسے کئی علماء کو جانتا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے بلا ناغہ حج پر جا رہے ہیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر براہ راست بیعت کرنے والوں میں شامل ہو جائیں حتی کہ کئی افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ 1960ء میں پیدا ہوچکے ہیں اور عنقریب ایک دو سالوں میں اعلان کرنے والے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت معجزانہ طورپرخود بخود ہی وجود میں نہیں آ جائے گی، بلکہ دنیا کے واقعات پورے فطری عمل کے ساتھ اس طرح تبدیل ہوں گے کہ با لآخر ایک عالمگیر اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آجائے گا۔

حالات کا معروضی سطح پر جائزہ لیا جائے تو دنیا کے موجودہ حالات دور دور تک بھی اس تصور کا اشارہ نہیں دیتے۔ نیز سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج اُمتِ مسلمہ بیت المقدس کو فتح کرنے کے لیے 1700 بحری بیڑے جمع کرنے کے قریب آ گئی ہے…نہیں، اُمتِ مسلمہ کی اس حوالے سے صورتحال ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی۔ امام مہدی علیہ السلام کی آمد میں بھی اتنا وقت درکار ہے کہ تغیراتِ زمانہ بڑی بڑی تبدیلیاں لانے کا باعث بنے گا۔ بڑی بڑی طاقتیں اس وقت تک تاخت و تاراج ہوچکی ہوں گی عالمی سطح پر موجودہ طاقت کا توازن ٹوٹے گا۔ عالمی طاقت کے توازن میں دور رس تبدیلیاں رونما ہوں گی اور ایک عالمگیر خلافتِ اسلامیہ کی تشکیلِ نو عمل میں آئے گی۔

احادیث کے ضخیم ذخیرہ میں تلاش بسیار کے باوجود آج کی سپر پاور کا کہیں بھی اشارہ یا ذکر نہیں ملتا اور نہ یہ پتا چلتا ہے کہ اس وقت کون لوگ عالمِ کفر کی طاقت ہوں گے۔ اس سے توفیقِ الٰہی اور فیضِ مصطفی ﷺ کے ذریعے یہ تصور اور گمان غالب ہے کہ موجودہ بڑی طاقت کا ذکر نہ ملنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس زمانے کے آنے تک آج کی سپر طاقت مٹ چکی ہو گی اور دوسری طاقتیں امام مہدی علیہ السلام کے مد مقابل ہوں گی۔ احادیث کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی بڑی طاقت غالباً یورپ ہو گا یعنی طاقت کا توازن اس کے پاس ہو گا اور یورپ کا دارالحکومت اس وقت روم ہوگا۔ جس طرح آج یورپ آپس میں متحد ہورہا ہے اور بیلجیئم (Belgium) کے برسلز (Brussels) کو انہوں نے اس کے محل وقوع کی اہمیت کی وجہ سے اپنا دارالحکومت بنا رکھا ہے، ممکن ہے آنے والے وقتوں میں یورپ اپنا دارالحکومت روم کو بنا لے۔ پس امام مہدی علیہ السلام کی آمد کے وقت کا تعین کرنے کے لیے اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کہ کیا عالمی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں اور بیت المقدس کی فتح کے لیے 1700 بحری بیڑے اس وقت اُمتِ مسلمہ کے پاس موجود ہیں اور اگر نہیں تو اس صورتحال اور ان عالمی حالات تک پہنچنے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟

جب سیدنا امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو تین شخصیتیں بیک وقت ظہور پذیر ہوں گی:

1۔ سیدنا امام مہدی علیہ السلام

2۔ دجال

3۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

ذیل میں پہلے وارد ہونے والی شخصیت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے احوال قدرے شرح و بسط کے ساتھ بیان کیے جا رہے ہیں:

سیدنا امام مہدی علیہ السلام کی ولادت و حلیہ

احادیث و روایات کے مطابق سیدنا امام مہدی علیہ السلام کی پیدائش مدینہ طیبہ میں اس وقت موجود ایک قصبہ قرعہ میں ہو گی اور 30 سے 40 سال کا عرصہ مدینہ طیبہ میں ہی گزاریں گے۔ بعد ازاں ایک حج کے موقع پر مکۃ المکرمہ میں حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان آپ کے ہاتھ پر 313 اکابرین اُمت بیعت کریں گے اور سات علماء اُمت پہلے بیعت کریں گے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اِس اُمت کے مجددِ اعظم اور آخری مجدد ہوں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کا نام محمد ہو گا، والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہو گا، آپ حسنی حسینی سید ہوں گے۔ والد کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی ہوں گے، حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے، آپ کی داڑھی گھنی ہو گی، آپ کی دائیں گال میں ایک تل ہو گا، آپ کے کندھوں کے درمیان حضور نبی اکرم ﷺ کے اسم مبارک کی مہر ہو گی، اُوپر اُونی چادریں پہن رکھی ہوں گی، ہاتھ میں حضور ﷺ کی تلوار ہو گی، جوان ہوں گے، عمر 30 سے 40 سال کے درمیان ہو گی، درمیانہ قد، اکہرا جسم، سیاہ زلفیں، بڑی سرمگیں آنکھیں، چہرہ سفید سرخی مائل، چمکتے ہوئے ستارے محسوس ہوں گے، شخصیت و حسن عربی، جسامت عجمی (شخصیت عرب و عجم کے خواص کی جامع) ، چوڑی پیشانی، ناک اونچی، دانت آگے سے کھلے ہوں گے اور ان سے نور نکلے گا، سر پر عمامہ، کملی اوڑھے ہوئے ہوں گے۔

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام سے قبل کے حالات

امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے قبل زلزلے کثرت سے ہوں گے بعض اوقات ہم آج کل کے زلزلوں کو دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ شاید یہ وہی نشانی ہے جو آمدِ امام مہدی کی ہے۔ نہیں بلکہ یہ زلزلے تو ان زلزلوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ اس کی وضاحت کرتی ہے:

عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: یکون بعدي خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف في جزیرۃ العرب قلت: أیخسف بالأرض وفیھا الصالحون؟ قال لھا رسول اللہ ﷺ إذا کثر أھلھا الخبث۔

ہیثمی، مجمع الزوائد، 8: 11

’’حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد ایک خسف (وہ زلزلہ جس کے نتیجہ میں زمین دھنس جائے گی) مشرق میں ہو گا اور ایک زلزلہ مغرب میں اور ایک زلزلہ جزیرۂ عرب میں واقع ہو گا میں نے عرض کیا : کیا زمین دھنسا دی جائے گی در آں حال یہ کہ اس میں نیک لوگ ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے فرمایا: جب اس کے رہنے والوں میں برائی زیادہ ہو جائے گی۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین بہت بڑے زلزلے زمین پر آئیں گے جس کے نتیجے میں زمین دھنس جائے گی، یہ زلزلے درج ذیل مقامات پر ہوں گے:

  1. کرۂ ارضی کے مشرق کی جانب
  2. کرۂ ارضی کے مغرب کی طرف
  3. سر زمین عرب پر

آپ علیہ السلام کے ظہور سے قبل سورج ایک خاص نشانی سے طلوع ہو گا اور یہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا نہیں بلکہ ایک اور نشانی ہو گی۔ مشرق کی طرف سے ایک بڑا روشن ستارہ بہت لمبی دم والا طلوع ہو گا، دنیا دیر تک اس کو دیکھے گی۔

امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے قبل رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو سورج گرہن ہو گا اور ایک ہی رمضان میں دو بار چاند گرہن ہوں گے اور یہ واقعہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا ہو گا۔

جس سال حج کے موقع پر سیدنا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا اس حج پر منیٰ کے میدان میں بہت بڑی جنگ ہو گی، قبائل کے درمیان مقاتلہ سے بہت زیادہ خون خرابہ اور تباہی ہو گی۔ اس کے بعد لوگ اپنی پناہ گاہ ڈھونڈیں گے کہ کسی کے دامن میں پناہ مل جائے پس وہ پناہ گاہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو بنایا گیا ہے۔

جب حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا تو سفیانی نامی ایک شخص جس کا تعلق بدبخت اور ملعون یزید کے قبیلے سے ہو گا وہ ملک شام کے علاقے میں بہت بڑا مقاتلہ کرے گا جو کوفہ اور عراق کی سر زمین تک بہت سارے شہروں کے تقریبا ایک لاکھ افراد کو قتل کر دے گا۔ بعد ازاں سفیانی سے بدلہ لینے کے لیے مشرق کی سر زمین سے (اور احادیث میں خراسان اور کوفہ کا لفظ آیا ہے) سیاہ رنگ کے جھنڈے لے کر لشکر نکلیں گے (حضور نبی اکرم ﷺ اکثر غزوات میں جو جھنڈا استعمال فرماتے اس کا رنگ بھی سیاہ ہوتا تھا) اور جنگ کرتے کرتے آگے بڑھیں گے، اس لشکر کی قیادت بنو تمیم کا ایک شخص شعیب بن صالح التمیمی کر رہا ہوگا۔ یہ اکہرا بدن اور چھوٹی داڑھی والا جوان شخص ہو گا اور ملک شام سے بیت المقدس تک بہت سارے علاقے فتح کرلے گا۔

سفیانی کو امام مہدی علیہ السلام کے مدینہ سے مکہ آنے کی خبر ہو گی وہ ایک بہت بڑے لشکر کو آپ کو گرفتار کرنے کی غرض سے بھیجے گا۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیدآء (چٹیل میدان) پر زمین پھٹے گی اور اس کا سارا لشکر تباہ ہوجائے گا۔ بیسیوؤں احادیث میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل مقام بیدآء پر زمین کے پھٹنے اور سفیانی لشکر کے تباہ ہونے کا ذکر موجود ہے۔ یہ واقعہ سن کر شام سے قافلے مکہ کی جانب چل پڑیں گے اور پوری دنیا سے 40 ابدال اور سر زمینِ عراق کے کل اولیاء بھی مکہ کی جانب چل پڑیں گے اور مکہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کے ایک بھائی ہوں گے جو ایک روایت کے مطابق باپ کی طرف سے ہوں گے اور دوسری روایت کے مطابق چچا زاد بھائی ہوں گے جنہیں ہاشمی کہا جائے گا۔ وہ بھی ایک لشکر لے کر چلیں گے اور یہ لشکر شعیب بن صالح التمیمی کے لشکر کے ساتھ مل کر دیگر قافلوں کے ہمراہ سیدنا امام مہدی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو جائے گا اور ایک عظیم لشکر امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں سوئے شام اور قسطنطنیہ روانہ ہو جائے گا۔ عرب پر آپ کی حکومت قائم ہو جائے گی اور پھر عالمی خلافت قائم کرنے کے لیے قسطنطنیہ روانہ ہوں گے، اس وقت کا قسطنطنیہ آج کا استنبول ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کے پیدا ہونے کے دعویدار ذرا غور کریں کہ ابھی تو ترکی مسلمانوں کے پاس ہے اور جب امام مہدی علیہ السلام ترکی فتح کریں گے توگویا اس وقت کے حالات بدل چکے ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد آپ القدس پر حملہ کرکے بیت المقدس فتح کریں گے۔ بعد ازاں بلاد روم فتح ہوں گے۔ بیت المقدس کو فتح کرلینے کے بعد آپ اپنی افواج ہند اور سندھ (پاکستان اور ہندوستان) کو فتح کرنے کے لیے بھیجیں گے۔

ان احادیث کو بیان کرنے کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ جب ہند و سند کی فتوحات، بیت المقدس اور قسطنطنیہ کی فتوحات، بلاد روم و یورپ کی فتوحات اور چائنہ کا فتح ہونا یہ سب امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں عمل میں آئے گا تو وہ احباب جو امام مہدی علیہ السلام کو اگلے 3/4 سالوں میں سامنے لانا چاہتے ہیں اُن کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ کیا وہ وقت آ چکا ہے؟ کیا حالات اتنے سازگار ہوگئے ہیں؟ کیا عالمی طاقتوں کی طاقت کا توازن بکھر کر ایک نیا طاقت کا توازن تشکیل پذیر ہوچکا ہے؟

بیت المقدس کی فتح

حضرت امام مہدی علیہ السلام بیت المقدس کو فتح کریں گے۔ حدیث مبارکہ میں اس فتح کی پیشین گوئی کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

عن أبي ھریرۃ، عن رسول اللہ ﷺ أنّہ قال: یَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَان رایاتٌ سُودٌ، لَا یُرُدُّھَا شيئٌ حَتَّی تُنْصَبَ بإِيْلِیاءَ۔

أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8775

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے جنہیں کوئی بھی چیز نہ روک سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں نصب کیے جائیں گے۔‘‘

بیت المقدس کی فتح کے بعد چین بھی فتح ہو گا۔ امام ابن حجر مکی نے ’القول المختصر‘ میں بیان کیا ہے کہ چین بھی اُنہی غزوات کے دوران فتح ہو گا۔

فتحِ قسطنطینیہ اور غزوۂ ہند کا پس منظر

روایات میں ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح کے لیے امام مہدی علیہ السلام لشکر روانہ کریں گے تو اس میں ایک لاکھ افراد مارے جائیں گے۔ یہ جنگ آپ علیہ السلام کے زمانے میں ہو گی مگر آپ خود شریک نہ ہوں گے بلکہ آپ کا لشکر جنگ کرے گا۔ ابتدائی فتح کے دوران یہ خبر ملے گی کہ دجال نکل آیا ہے۔ اس خبر کو سننے کے بعد تمام لوگ امام مہدی علیہ السلام کی مدد کے لیے واپس پہنچ جائیں گے لیکن یہ خبر جھوٹی ہوگی اورصورتحال مختلف ہو گی۔ سیدنا امام مہدی علیہ السلام تمام لشکر اور افواج کو لے کر بلاد شام و روم کی فتوحات کے لیے بڑھیں گے جب آپ قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی کریں گے اس وقت آپ کے لشکر میں 70 ہزار افراد شامل ہوں گے۔ پہلے معرکہ میں 40 ہزار افراد مارے جائیں گے دوبارہ جب سیدنا امام مہدی علیہ السلام قیادت کر کے جنگ کریں گے تو یہ جنگ عالمی جنگ بن جائے گی۔ اس عالمی جنگ میں 6 لاکھ افراد مارے جائیں گے اور امام مہدی کو فتح نصیب ہو گی۔ اس جنگ کی پیشین گوئی بھی حضورنبی اکرم ﷺ نے فرما دی تھی:

عن معاذ بن جبل عن النبيّ ﷺ قال: الملحمۃ العظمی وفتح القُسْطَنْطِيْنِيَّةِ وخروج الدجال في سبعۃ أشھر۔

ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في علامات خروج الدجال، 4: 509، رقم: 2238

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح، دجال کا نکلنا یہ تینوں واقعات اکٹھے 7 ماہ کے اندر ظہور پذیر ہوں گے۔‘‘

عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عن النبيّ ﷺ قال: الملحمۃ الکبریٰ وفتح القُسْطُنْطِيْنِيَّۃ وخروج الدجال في سبعۃ أشہر۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب الملاحم، 2: 1370، رقم: 4082

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح، دجال کا نکلنا یہ تینوں واقعات اکٹھے 7 ماہ کے اندر ظہور پذیر ہوں گے۔‘‘

دیگر احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور آپ کی بیعت سے لے کر بیت المقدس کی فتح تک 6 سال لگیں گے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اس زمانے میں بیت المقدس کی فتح ہو جائے گی اور ساتویں سال میں دجال نکلے گا۔ گویا جب امام مہدی علیہ السلام کا تخت پر پہلا سال ہو گا تب دجال آئے گا۔

امام مہدی علیہ السلام کی عمر ظہور کے وقت تقریباً 40 سال ہو گی اور اس کے بعد 40 سال مزید امام مہدی علیہ السلام زندہ رہیں گے۔ گویا آپ کی عمر مبارک 80 برس ہو گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول کے بعد 40 سال زندہ رہیں گے۔ اس طرح دجال بھی ظاہر ہونے کے بعد 40 سال تک رہے گا لیکن چونکہ اس کا ظہور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہو چکا ہو گا اِس لیے اس کے 40 سال امام مہدی علیہ السلام اور عیسیٰں سے پہلے مکمل ہو چکے ہوں گے اس لیے وہ ان کے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔

سیدنا امام مہدی علیہ السلام کی وفات کے بعد منصور نامی شخص کو خلیفہ بنایا جائے گا اور وہ 21 سال حکومت کرے گا اس کے بعد ہشام المہدی کی حکومت ہو گی وہ 3 سال 4 ماہ اور 10 دن حکومت کرے گا۔

خاتمِ سلسلۂ ولایت امام مہدی علیہ السلام

اُمتِ محمدی ﷺ میں فیضِ ولایت کا منبع و سرچشمہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں، گویا آپ فاتح ولایت یعنی باب ولایت کھولنے والے ہیں اور یہ سلسلہ ولایت کبریٰ بارہ ائمہ اہل بیت میں ایک مقررہ ترتیب سے چلایا جائے گا جن کے آخری فرد سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہوں گے۔ جس طرح سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ اُمتِ محمدی ﷺ میں فاتح ولایت کے درجے پر فائز ہوئے اسی طرح سیدنا امام مہدی علیہ السلام قرب قیامت کے زمانے میں خاتم ولایت کے درجے پر فائز ہوں گے۔

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوبات میں اس موضوع کے حوالے سے جو بیان فرمایا ہے ہم اسے ذیل میں من و عن درج کر رہے ہیں:

و راہی است کہ بقربِ ولایت تعلق دارد: اقطاب و اوتاد و بدلا و نجباء و عامۂ اولیاء اللہ ، بہمین راہ واصل اندراہ سلوک عبارت ازین راہ است بلکہ جذبۂ متعارفہ، نیز داخل ہمین است و توسط و حیلولت درین راہ کائن است و پیشوای، و اصلان این راہ و سرگروہ اینھا و منبع فیض این بزرگواران: حضرت علی مرتضی است کرم اللہ تعالے وجھہ الکریم، و این منصب عظیم الشان بایشان تعلق دارد درینمقام گوئیا ہر دو قدم مبارک آنسرور علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام برفرق مبارک اوست کرم اللہ تعالی وجھہ حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ عنہم درینمقام با ایشان شریکند، انکارم کہ حضرت امیر قبل از نشاء ہ عنصرے نیز ملاذ این مقام بودہ اند، چنانچہ بعد از نشاء ہ عنصرے و ہرکرا فیض و ہدایت ازین راہ میر سید بتوسط ایشان میر سید چہ ایشان نزد نـقطہ منتھائے این راہ و مرکز این مقام بایشان تعلق دارد، و چون دورہ حضرت امیر تمام شُد این منصب عظیم القدر بحضرات حسنین ترتیبا مفوض و مسلم گشت، و بعد از ایشان بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب و التفصیل قرار گرفت و در اعصاراین بزرگواران و ہمچنیں بعد از ارتحال ایشان ہر کرا فیض و ہدایت میرسید بتوسط این بزرگواران بودہ و بحیلولۃ ایشانان ہرچند اقطاب و نجبای وقت بودہ باشند و ملاذ وملجاء ہمہ ایشان بودہ اند چہ اطراف را غیر از لحوق بمرکز چارہ نیست۔

امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، 3: 251، 252، مکتوب نمبر: 123

’’اور ایک راہ وہ ہے جو قربِ وِلایت سے تعلق رکھتی ہے: اقطاب و اوتاد اور ابدال اور نجباء اور عام اولیاء اللہ اِسی راہ سے واصل ہیں، اور راهِ سلوک اِسی راہ سے عبارت ہے، بلکہ متعارف جذبہ بھی اسی میں داخل ہے، اور اس راہ میں توسط ثابت ہے اور اس راہ کے واصلین کے پیشوا اور اُن کے سردار اور اُن کے بزرگوں کے منبعِ فیض حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں، اور یہ عظیم الشان منصب اُن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس راہ میں گویا رسول اللہ ﷺ کے دونوںقدم مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مبارک سر پر ہیں اور حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اِس مقام میں اُن کے ساتھ شریک ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ (سیدنا علی) اپنی جسدی پیدائش سے پہلے بھی اس مقام کے ملجا و ماویٰ تھے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ جسدی پیدائش کے بعد ہیں اور جسے بھی فیض و ہدایت اس راہ سے پہنچی ان کے ذریعے سے پہنچی، کیونکہ وہ اس راہ کے آخری نقطہ کے نزدیک ہیں اور اس مقام کا مرکز ان سے تعلق رکھتا ہے، اور جب حضرت امیر رضی اللہ عنہ (سیدنا علی) کا دور ختم ہوا تو یہ عظیم القدر منصب ترتیب وار حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو سپرد ہوا اور ان کے بعد وہی منصب ائمہ اثنا عشرہ میں سے ہر ایک کو ترتیب وار اور تفصیل سے تفویض ہوا، اور ان بزرگوں کے زمانہ میں اور اِسی طرح ان کے انتقال کے بعد جس کسی کو بھی فیض اور ہدایت پہنچی ہے انہی بزرگوں کے ذریعہ پہنچی ہے، اگرچہ اقطاب و نجبائے وقت ہی کیوں نہ ہوں اور سب کے ملجا و ماویٰ یہی بزرگ ہیں کیونکہ اطراف کو اپنے مرکز کے ساتھ الحاق کیے بغیرچارہ نہیں ہے۔‘‘

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان سے مترشح ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام منصبِ ولایت میں حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام کے ساتھ شریک کار ہوں گے۔ اس طرح مرتبہ ولایت کے حامل سب سے پہلے امام برحق مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ مقرر ہوئے اور ولایت کا یہ سلسلہ اہلِ بیت اور آل اطہار میں ائمہ اثنا عشر (بارہ اماموں) میں جاری ہوا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاآنکہ اُمتِ محمدی ﷺ میں آخری امام برحق جو بارہویں امام ہوں گے سیدنا امام مہدی علیہ السلام ہیں اور وہ آخری خلیفہ بھی ہوں گے۔ ان کی ذاتِ اقدس میں ظاہر و باطن کے دونوں راستے جو پہلے جدا جدا تھے اس طرح مجتمع کر دیئے جائیں گے کہ بیک وقت ولایت اور خلافت کے دونوں مرتبے ان پر ختم کر دیئے گئے۔ سو اس بات پر اُمت کا اجماع ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا منکر دین کی ظاہری اور باطنی خلافتوں کا منکر ہو گا۔ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مظہریت محمدی ﷺ کی انتہا ہے اس لیے ان کا نام بھی محمد ہو گا اور وہ خلق محمدی ﷺ کے بھی وارث ہوں گے جس سے دنیائے انسانیت کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ امام آخر الزماں فیضانِ محمدی ﷺ کے ظاہر و باطن کا امین ہے اور ان کی تکذیب کرنے والا کافر ہو جائے گا۔

ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کے وقت ان کی ذاتِ اقدس تمام اولیاء کا مرجع ہو گی اور اُمتِ محمدی ﷺ کا امام ہونے کے باعث سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آپ کی اقتداء میں نمازیں ادا کریں گے اور آپ کی امامت کا اعلان تمام روئے زمین پر کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے حضور نبی اکرم ﷺ سے کثیر احادیث متواترہ، مرفوعہ، صحیح اور حسن کے درجے کو پہنچی ہوئی ہیں۔ راقم کے علم میں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق دو سو سے زائد احادیث آئی ہیں۔ اس موضوع پر کل احادیث کی تعداد یقینا اس سے کہیں زیادہ ہوں گی۔ سیدنا امام مہدی علیہ السلام کے فضائل و مناقب کے حوالے سے جو روایات کتبِ احادیث میں بیان ہوئی ہیں اُن میں سے بیشتر درج ذیل ہیں:

 (1) حضرت امام مہدی علیہ السلام امام برحق اور بنو فاطمہ سے ہیں

1۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: المھدي من عترتي من ولد فاطمۃ۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب الفتن عن رسول اللہ ﷺ ، باب ما جاء في المھدي، 4: 505، رقم: 2231
2۔ أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 107، رقم: 4284
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 376، رقم: 3571

’’اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی اولاد سے ہو گا۔‘‘

2۔ عن أم سلمۃ رضي اللہ عنہا زوج النبي ﷺ قالت: سمعتُ رسول اللہ ﷺ یذکر المھدی، فقال: ھو حق وھو من بني فاطمۃ رضي اللہ عنہا۔

حاکم، المستدرک، 4: 600، رقم: 8671

’’اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضي اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (امام) مہدی کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے فرمایا: مہدی حق ہے۔ (یعنی ان کا ظہور برحق اور ثابت ہے) اور وہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔‘‘

3۔ عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: نحن ولد عبد المطلب سادۃ أھل الجنّۃ أنا وحمزۃ وعلي وجعفر والحسن والحسین والمھدي۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب خروج المھدي، 2: 1368، رقم: 4087

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خود فرماتے سنا ہے کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد اہلِ جنت کے سردار ہوں گے یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ث۔‘‘

4۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت: ذکر رسول اللہ ﷺ المھدي وھو من ولد فاطمۃ۔

حاکم، المستدرک، 4: 601، رقم: 8672

’’اُم المؤمنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مہدی کا تذکرہ فرمایا (اور اس میں فرمایا کہ) وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔‘‘

5۔ عن عائشۃ رضي اللہ عنہا عن النبي ﷺ قال: ہو رجل من عترتي، یقاتل علی سنتي کما قاتلت أنا علی الوحي۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 371، رقم: 1092
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 74

’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مہدی میری عترت (اہل بیت) سے ہوں گے، جو میری سنت (کے قیام) کے لیے جنگ کریں گے، جس طرح میں نے وحی الٰہی (کی اتباع) میں جنگ کی۔‘‘

6۔ عن أبي أمامۃ رضی اللہ عنہ مرفوعا قال: سیکون بینکم وبین الروم أربع ہدن تقوم الرابعۃ علی ید رجل من آل ہرقل یدوم سبع سنین قیل یا رسول اللہ ! من إمام النّاس یومئذ؟ قال: من ولدي ابن أربعین سنۃ کان وجہہ کوکب دري في خدہ الأیمن خال أسود علیہ عبائتان قطوانیتان کأنّہ من رجال بني إسرائیل یملک عشر سنین یستخرج الکنوز ویفتح مدائن الشرک۔

1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 8: 101، رقم: 7495
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 319
3۔ طبرانی، المسند الشامیین، 2: 410، رقم: 1600

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور روم کے درمیان چار مرتبہ صلح ہو گی۔ چوتھی صلح ایسے شخص کے ہاتھ پر ہو گی جو آل ھرقل سے ہو گا اور یہ صلح سات سال تک برابر قائم رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کا امام کون شخص ہو گا آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص میری اولاد میں سے ہو گا جس کی عمر چالیس سال کی ہو گی۔ اس کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکدار، اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہو گا، اور دو قطوانی عبائیں پہنے ہو گا، بالکل ایسا معلوم ہو گا جیسا بنی اسرائیل کا شخص، وہ دس سال حکومت کرے گا، زمین سے خزانوں کو نکالے گا اور مشرکین کے شہروں کو فتح کرے گا۔‘‘

7۔ عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبيّ ﷺ قال: اسم المہدي محمد۔

سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 73

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (امام) مہدی کا نام محمد ہو گا۔‘‘

 (2) امام مہدی علیہ السلام کا دورِ خلافت آئے بغیر قیامت بپا نہیں ہو گی

1۔ عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : لا تذھب الدّنیا حتّی یملک العرب رجل من أھل بیتي یواطیء اسمہ إسمي۔

1۔ ترمذي، السنن، کتاب الفتن عن رسول اللہ ﷺ ، باب ما جاء في المھدي، 4: 505، رقم: 2230
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 488، رقم: 8364
3۔ بزار، المسند، 5: 204، رقم: 1804
4۔ طبراني، المعجم الصغیر، 2: 289، رقم: 1181
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 376، رقم: 3571

’’حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا اُس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص جو میرا ہم نام ہو گا عرب کا حکمران نہ بن جائے۔‘‘

2۔ عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ عن النبيّ ﷺ قال: یلي رجل من أھل بیتي یواطی إسمہ إسمي قال عاصم: وحدّثنا أبو صالح عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ لو لم یبق من الدّنیا إلّا یوما لطول اللہ ذالک الیوم حتّی یلي۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في المھدي، 4: 505، رقم: 2231

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اہلِ بیت سے ایک شخص خلیفہ ہو گا جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اتنا دراز فرما دے گا یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدی علیہ السلام) خلیفہ ہو جائے۔‘‘

3۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: المھدي من عترتي من ولد فاطمۃ۔

أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 107، رقم: 4284

’’اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی اولاد سے ہو گا۔‘‘

4۔ عن أبي نضرۃ قال: کنّا عند جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فقال: یوشک أھل الشام أن لا یجبی إلیھم دینار ولا مدی قلنا: من أین ذالک قال: من قبل الروم ثم أسکت ھنیۃ ثم قال: قال رسول اللہ ﷺ : یکون فی آخر أمتي خلیفۃ یحثی المال حثیا ولا یعدہ عدا قال: قلت لأبي نضرۃ وأبي العلاء أتریان أنّہ عمر بن عبد العزیز فقالا: لا۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل، 4: 2234، رقم: 2913
2۔ احمد بن حنبل، المسند، 3: 317، رقم: 14446
3۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 75، رقم: 6682

’’ابو نضرہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے کہ انہوں نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی غلہ، ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ میری اُمت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو مال لبالب بھر بھر کے دے گا، اور اسے شمار نہیں کرے گا۔‘‘

اس حدیث کے راوی الجریری کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ) ابو نضرہ اور ابو العلاء سے دریافت کیا۔ کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیثِ پاک میں مذکور خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا نہیں، یہ خلیفہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ ہوں گے۔

5۔ عن أبي سعید نالخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : لا تقوم السّاعۃ حتّی تملأ الأرض ظلما وجورا وعدوانا ثم یخرج من أھل بیتي من یملأھا قسطا وعدلا۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 600، رقم: 8669
2۔ ھیثمی، مواردالظمآن، 1: 464، رقم: 1880

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ زمین ظلم و جور اور سرکشی سے بھر جائے گی، بعد ازاں میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (مہدی) پیدا ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (مطلب یہ ہے کہ خلیفہ مہدی کے ظہور سے پہلے قیامت نہیں آئے گی) ۔‘‘

6۔ عن أبي سعید نالخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : المھدي منّا أھل البیت أشم الأنف أقنی أجلی یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما یعیش ھکذا وبسط یسارہ وإصبعین من یمینہ المسبحۃ والأبہام وعقد ثلاثۃ۔

حاکم، المستدرک، 4: 600، رقم: 8670

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہدی میری نسل سے ہوں گے۔ ان کی ناک ستواں و بلند اور پیشانی روشن اور نورانی ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جس طرح (اس سے پہلے وہ) ظلم و زیادتی سے بھر گئی ہوگی اور انگلیوں پرشمار کرکے بتایا کہ (وہ خلافت کے بعد) سات سال تک زندہ رہیں گے۔‘‘

7۔ عن علي رضی اللہ عنہ عن النبي ﷺ قال: لو لم یبق من الدّھر إلّا یوم لبعث اللہ رجلا من أھل بیتي یملأھا عدلا کما ملئت جورا۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 107، رقم: 4283
2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 513، رقم: 37648

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا (تو اللہ تعالیٰ اسی کو دراز فرما دے گا اور) میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو پیدا فرمائے گا۔ جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (اُن سے پہلے) ظلم سے بھری ہوگی۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے۔

8۔ عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ عن النّبي ﷺ قال: یلي رجل من أھل بیتی یواطیٔ اسمہ إسمي قال عاصم: وحدثنا أبو صالح عن أبي ھریرۃص لو لم یبق من الدّنیا إلّا یوما لطول اللہ ذالک الیوم حتّی یلي۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن عن رسول اللہ ﷺ ، باب ما جاء في المھدي، 4: 505، رقم: 2231
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 376، رقم: 3571

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اہلِ بیت سے ایک شخص خلیفہ ہوگا جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اتنا دراز فرما دے گا یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدی علیہ السلام) خلیفہ ہو جائے۔‘‘

 (3) امام مہدی علیہ السلام زمین پر معاشی عدل کا نظام نافذ کریں گے

1۔ عن أبي سعید نالخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : المھدي مني أجلی الجبھۃ أقنی الأنف یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا ویملک سبع سنین۔

 (1) أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 107، رقم: 4285

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہدی مجھ سے ہوں گے (یعنی میری نسل سے ہوں گے) ان کا چہرہ خوب نورانی، چمک دار اور ناک ستواں و بلند ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح پہلے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ (مطلب یہ ہے کہ مہدی کی خلافت سے پہلے دنیا میں ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور عدل و انصاف کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔) ‘‘

2۔ عن أبي سعید نالخدری رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ ﷺ قال: تملأ الأرض جورا وظلما فیخرج رجل من عترتي فیملک سبعا أو تسعا فیملأ الأرض عدلا وقسطا کما ملئت جورا وظلما۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 70، رقم: 11683
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 601، رقم: 8674

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (آخری زمانہ میں) زمین جور و ظلم سے بھر جائے گی تو میری اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا اور سات سال یا نو سال خلافت کرے گا (اور اپنے زمانۂ خلافت میں) زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ جور و ظلم سے بھر گئی ہوگی۔‘‘

3۔ عن أبي سعید رضی اللہ عنہ قال: ذکر رسول اللہ ﷺ بلاء یصیب ھذہ الأمّۃ حتّی لا یجد الرجل ملجأ یلجأ إلیہ من الظلم فیبعث اللہ رجلا من عترتي وأہل بیتي فیملأ بہ الأرض قسطا کما ملئت ظلما وجورا یرضی عنہ ساکن السماء وساکن الأرض لا تدع السماء من قطرھا شیئا إلّا صبتہ مدرارا ولا تدع الأرض من مائھا شیئًا إلّا أخرجتہ حتّی تتمنی الإحیاء الأموات یعیش في ذالک سبع سنین أو ثمان سنین أو تسع سنین۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 512، رقم: 8438
2۔ معمربن راشد الازدی، الجامع، 11: 371
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 258، رقم: 1038
4۔ أبو عمرو الدانی، السنن الوادہ فی الفتن، 5: 1049، رقم: 564

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے ایک بڑی آزمائش کا ذکر فرمایا جو اس اُمت کو پیش آنے والی ہے۔ ایک زمانے میں اتنا شدید ظلم ہوگا کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایک شخص کو پیدا فرمائے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے پھر ویسا ہی بھر دے گا جیسا وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ زمین اور آسمان کے رہنے والے سب ان سے راضی ہوں گے، آسمان اپنی تمام بارش موسلا دھار برسائے گااور زمین اپنی سب پیداوار نکال کر رکھ دے گی یہاں تک کہ زندہ لوگوں کو تمنا ہوگی کہ ان سے پہلے جو لوگ تنگی و ظلم کی حالت میںگذر گئے ہیں کاش وہ بھی اس سماں کو دیکھتے اسی برکت کے حال پر وہ سات یا آٹھ یا نو سال تک زندہ رہیں گے۔‘‘

4۔ عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : لو لم یبق من الدّنیا إلّا لیلۃ لطوّل اللہ تلک لیلۃ حتّی یملک رجل من أہل بیتي یواطیٔ، اسمہ إسمي وإسم أبیہ إسم أبي، یملؤہا قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً وجوراً، ویقسم المال بالسویۃ، ویجعل اللہ الغنی في قلوب ہذہ الأمۃ، فیمکث سبعا أو تسعا، ثم لا خیر فی عیش الحیاۃ بعد المہدي۔

1۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 64
2۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 133، رقم: 10216
3۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 135، 1024
4۔ دانی، السنن الواردہ فی الفتن، 5: 1055، رقم: 572

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر دنیا (کے زمانہ) میں صرف ایک رات ہی باقی رہ گئی تو بھی اللہ رب العزت اس رات کو لمبا فرما دے گا یہاں تک کہ میری اہلِ بیت میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جس کا نام میرے نام اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو انصاف اور عدل سے لبریز کر دیں گے۔ جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور وہ مال کو برابر تقسیم کریں گے اور اللہ رب العزت اس اُمت کے دلوں میں غنا رکھ (پیدا فرما) دے گا۔ وہ سات یا نو سال (تشریف فرما) رہیں گے۔ پھر (امام) مہدی کے (زمانے کے) بعد زندگی میں کوئی خیر (بھلائی) باقی نہیں رہے گی۔‘‘

 (4) تمام اولیاء و ابدال امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کریں گے

1۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ ﷺ : یبایع رجل من أمّتي بین الرکن والمقام کعدۃ أھل بدر فیأتیہ عصب العراق وأبدال الشام۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 478، رقم: 8328
2۔ ابن أبی شیبہ، المصنف، 7: 460، رقم: 37223
3۔ مناوی، فیض القدیر، 6: 277

’’حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت کے ایک شخص (مہدی) سے رکنِ حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان اہلِ بدر کی تعداد کے مثل (یعنی 313) افراد بیعتِ خلافت کریں گے۔ بعد ازاں اس امام کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال (بیعت کے لیے) آئیں گے۔‘‘

2۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا زوج النبيّ ﷺ قال: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من أھل المدینۃ ھاربا إلی مکۃ فیأتیہ ناس من أھل مکۃ فیخرجونہ وھو کارھ فیبایعونہ بین الرکن والمقام ویبعث إلیہ بعث من الشام فیخسف بہم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ فإذا رأی النّاس ذالک أتاہ أبدال الشام وعصائب أہل العراق فیبایعونہ ثم ینشؤ رجل من قریش أخوالہ کلب فیبعث إلیھم بعثا فیظہرون علیھم وذالک کلب والخیبۃ لمن لم یشھد غنیمۃ کلب فیقسم المال ویعمل في النّاس بسنۃ نبیہ ﷺ ویلقی الإسلام بجرأنہ إلی الأرض فیلبث سبع سنین ثم یتوفی ویصلي علیہ المسلمون۔ قال أبو داود وقال بعضھم عن ہشام: تسع سنین وقال بعضھم: سبع سنین۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 107، رقم: 4286
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 316، رقم: 26731
3۔ حاکم، المستدرک، 4: 478، رقم: 8328
4۔ ابن أبي شبیہ، المصنف، 7: 460، رقم: 37223
5۔ أبو یعلی، المسند، 12: 369، رقم: 6940
6۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 23: 295، رقم: 656
7۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 23: 389، رقم: 930
8۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 23: 390، رقم: 931
9۔ اسحاق بن راھویہ، المسند، 1: 170، رقم: 141
10۔ أبو عمرو الداني، السنن الواردہ فی الفتن، 5: 1084، رقم: 595

’’حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب پر مدینہ کے مسلمانوں میں) اختلاف ہوگا ایک شخص (یعنی مہدی اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے نہ خلیفہ بنا دیں) مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے۔ مکہ کے کچھ لوگ (جو انہیں بحیثیت مہدی پہچان لیں گے) ان کے پاس آئیں گے اور انہیں (مکان) سے باہر نکال کر حجرِ اسود و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت (خلافت) کر لیں گے (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملکِ شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے روانہ ہوگا (جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا (اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آکر آپ سے بیعتِ خلافت کریں گے۔ بعد ازاں ایک قریشی النسل شخص (یعنی سفیانی) جس کی ننہال قبیلۂ کلب میں سے ہوگی خلیفۂ مہدی اور ان کے اعوان و انصار سے جنگ کے لیے ایک لشکر بھیجے گا۔ یہ لوگ اس حملہ آور لشکر پر غالب ہوں گے یہی (جنگ) کلب ہے۔ اور خسارہ ہے اس شخص کے لیے جو کلب سے حاصل شدہ غنیمت میں شریک نہ ہو (اس فتح و کامرانی کے بعد) خلیفہ مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی ﷺ کی سنت پر چلائیں گے اور اسلام مکمل طور پر زمین میں مستحکم ہو جائے گا (یعنی دنیا میں پورے طور پر اسلام کا رواج و غلبہ ہوگا) بحالتِ خلافت، (امام) مہدی دنیا میں سات سال اور دوسری روایات کے اعتبار سے نو سال رہ کر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔‘‘

3۔ عن أم سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من بني ہاشم فیأتي مکۃ فیستخرجہ النّاس من بیتہ وھو کارہ فیبایعوہ بین الرکن والمقام فیتجھز إلیہ جیش من الشّام حتّی إذا کانوا بالبیداء خسف بہم فیأتیہ عصائب العراق وأبدال الشام وینشؤ رجل بالشام وأخوالہ من کلب فیجھز إلیہ جیش فیھزمھم اللہ فتکون الدائرۃ علیھم فذالک یوم کلب، الخائب من خاب من غنیمۃ کلب فیفتح الکنوز ویقسم الأموال ویلقی الإسلام بجرانہ إلی الأرض فیعیشون بذالک سبع سنین أو قال تسع۔

1۔ طبرانی، المعجم الاوسط، 2: 35، رقم: 1153
2۔ طبرانی، المعجم الاوسط، 9: 176، رقم: 9459
3۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 159، رقم: 6757
4۔ معمر بن راشد الازدی، الجامع، 11: 371

’’اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا۔ (یعنی اس کی جگہ دوسرے خلیفہ کے انتخاب پر یہ صورتِ حال دیکھ کر) خاندان بنی ہاشم کا ایک شخص (اس خیال سے کہیں لوگ ان پر بارِ خلافت نہ ڈال دیں) مدینہ سے مکہ چلا جائے گا۔ (کچھ لوگ انہیں پہچان کر کہ یہی مہدی ہیں) انہیں گھر سے نکال کر باہر لائیں گے اور حجرِ اسود و مقام ابراہیم کے درمیان زبردستی ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کر لیں گے (اُن کی بیعتِ خلافت کی خبر سن کر ایک لشکر مقابلہ کے لیے) شام سے اُن کی سمت روانہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جب مقام بیداء (مکہ و مدینہ کے درمیان میدان) میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کے بعد اُن کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال حاضر ہوں گے اور ایک شخص شام سے (سفیانی) نکلے گا جس کی ننہال قبیلۂ کلب میں ہوگی اور وہ اپنا لشکر خلیفۂ مہدی کے مقابلہ کے لیے روانہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سفیانی کے لشکر کو شکست سے دوچار فرما دے گا۔ یہی کلب کی جنگ ہے۔ پس وہ شخص خسارہ میں رہے گا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔ پھرخلیفہ مہدی خزانوں کو کھول دیں گے اور خوب اموال تقسیم کریں گے اور اسلام پورے طور پر دنیا میں تمام ہو جائے گا۔ لوگ اسی (عیش و راحت کے ساتھ) سات یا نو سال رہیں گے، (یعنی جب تک خلیفۂ مہدی حیات رہیں گے لوگوں میں فارغ البالی اور چین و سکون رہے گا۔) ‘‘

4۔ عن علي رضی اللہ عنہ عن النّبي ﷺ قال: قال رسول اللہ ﷺ : المھدي منّا أھل البیت یصلحہ اللہ تعالٰی في لیلۃ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب خروج المھدي، 2: 1367، رقم: 4085
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 84، رقم: 645
3۔ أبو یعلی، المسند، 1: 359، رقم: 465
4۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 513، رقم: 37644
5۔ بزار، المسند، 2: 243، رقم: 644
6۔ دیلمی، الفردوس، 4: 222، رقم: 6669

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (امام) مہدی میرے اہلِ بیت سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اُسے ایک ہی رات میں صالح بنا دے گا (یعنی اپنی توفیق و ہدایت سے ایک ہی شب میں ولایت کے اس بلند مقام پر پہنچا دے گا جو اس کے لیے مطلوب ہو گا۔‘‘

 (5) امام مہدی علیہ السلام خلیفۃ اللہ علی الاطلاق ہوں گے

1۔ عن ثوبان رضی اللہ عنہ یقتتل عند کنزکم ثلاثۃ کلھم ابن خلیفۃ ثم لا یصیر إلی واحد منہم ثم تطلع الرایات السّود من قبل المشرق فیقاتلونکم قتالا لم یقاتلہ قوم ثم ذکر شیأ فقال: إذا رأیتموہ فبایعوہ ولو حبّوا علی الثلج فإنّہ خلیفۃ اللہ المھدي۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب خروج المھدي، 2: 1367، رقم: 4084
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 277، رقم: 22441
3۔ حاکم، المستدرک، 4: 510، رقم: 8432
4۔ حاکم، المستدرک، 4: 547، رقم: 8531
5۔ دیلمی، الفردوس، 2: 323، رقم: 3470
6۔ رویانی، المسند، 1: 417، رقم: 637
7۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 311، رقم: 896

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے خزانے کے پاس تین شخص جنگ کریں گے۔ یہ تینوں خلیفہ کے لڑکے ہوں گے۔ پھر بھی یہ خزانہ ان میں سے کسی کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہوں گے اور وہ تم سے اس شدت کے ساتھ جنگ کریںگے کہ اس سے پہلے کسی قوم نے اس قدر شدید جنگ نہ کی ہوگی (راوی حدیث یعنی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے کوئی بات بیان فرمائی (جس کو یہ سمجھ نہ سکے) یعنی پھر اللہ کے خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب تم لوگ انہیں دیکھنا تو ان سے بیعت کر لینا اگرچہ اس بیعت کے لیے برف پر گھسٹ کر آنا پڑے، بلا شبہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔‘‘

ضروری وضاحت

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’فتح الباری شرح بخاری (13: 81) ‘ پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس حدیث مذکور میں خزانہ سے مراد اگر وہ خزانہ ہے جس کا ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ’’یوشک الفرات أن یحسر عن کنز من ذھب‘‘ (1) (قریب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہو کر) سونے کا خزانہ ظاہر کر دے گا) ۔ تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعات ظہورِ مہدی کے وقت رُونما ہوں گے۔

1۔ بخاری، الصحیح، 6: 2605، رقم: 6702
2۔ مسلم، الصحیح، 4: 2219، رقم: 2894
3۔ ترمذی، السنن، 4، 698، رقم: 2569
4۔ ابو داود، السنن، 4: 115، رقم: 4313

2۔ عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : المہدي رجل من ولدي، لونہ لون عربی، وجسمہ جسم إسرائیلي، علی خدہ الأیمن خال کأنّہ کوکب دري، یملأ الأرض عدلا کما ملئت جوراً، یرضی في خلافتہ أہل الأرض وأہل السماء والطیر في الجو۔

1۔ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 4: 221، رقم: 6667
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 66

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُنہوں نے فرمایا: حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے۔ ان کا رنگ عربی اور ان کی جسمانی ساخت اسرائیلی ہوگی۔ ان کے دائیں رخسار پر تل ہوگا گویا وہ نور افشاں ستارہ ہوں گے۔ وہ (مھدی) زمین کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ان کی خلافت پر اہلِ زمین اور اہلِ آسمان سب راضی ہوں گے اور فضا میں پرندے بھی راضی (خوش) ہوں گے۔‘‘

3۔ عن أبي سعید رضی اللہ عنہ عن النبيّ ﷺ قال: یخرج في آخر الزّمان خلیفۃ یعطی الحق بغیر عدد۔

1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 513، رقم: 37640
2۔ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 5: 501، رقم: 8918
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 357، رقم: 1032
4۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 64

’’حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں ایک خلیفہ (مھدی) تشریف لائیں گے جو بغیر حساب کے (لوگوں کو اُن کا) حق عطا فرمائیں گے۔‘‘

 (6) امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے دین کا غلبہ و استحکام

1۔ عن أبي الطفیل عن محمد نبن الحنفیۃ قال: کنا عند عليص فسألہ رجل عن المھدي فقال علي رضی اللہ عنہ ھیہات ثم عقد بیدہ سبعا فقال: ذاک یخرج في آخر الزمان إذا قال الرجل: اللہ اللہ قتل فیجمع اللہ تعالٰی لہ قوما قزع کقزع السحاب یؤلف اللہ قلوبہم لا یستوحشون إلی أحد ولا یفرحون بأحد یدخل فیھم علی عدۃ أصحاب بدر لم یسبقھم الأوّلون ولا یدرکھم الٓاخرون وعلی عدد أصحاب طالوت الّذین جاوزوا معہ النہر قال ابن الحنفیۃ: أتریدہ قلت: نعم قال: إنّہ یخرج من بین ھذین الخشبتین قلت: لا جرم واللہ لا أدیمھما حتّی أموت فمات بہا یعني بمکۃ حرسھا اللہ تعالٰی۔

 حاکم، المستدرک، 4: 596، رقم: 8659

’’حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ محمد بن الحنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہص نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے (امام) مہدی کے بارے میں پوچھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (بر بنائے لطف) فرمایا۔ دور ہو، پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مہدی کا ظہور آخر زمان میں ہوگا (اور بے دینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ) اللہ کے نام لینے والے کو قتل کر دیا جائے گا (ظہور مہدی کے وقت) اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو ان کے پاس اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرق ٹکڑوں کو مجتمع کر دیتا ہے اور اُن میں یگانگت و اُلفت پیدا کر دے گا۔ یہ نہ تو کسی سے خوفزدہ ہوں گے اور نہ کسی کے انعام کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ ان کا باہمی ربط وضبط سب کے ساتھ یکساں ہوگا) خلیفہ مہدی کے پاس اکٹھا ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر (غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابۂ کرام ث) کی تعداد کے مطابق (یعنی 313) ہوگی۔ اس جماعت کو ایک ایسی (خاص) فضیلت حاصل ہوگی جو ان سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی ہے نہ بعد والوں کو حاصل ہوگی۔ نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالوت کی تعداد کے برابر ہوگی۔ جنہوں نے طالوت کے ہمراہ نہر (اردن) کو عبور کیا تھا۔ حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہ نے مجمع سے پوچھا کیا تم اس جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ اور خواہش رکھتے ہو، میں نے کہا ہاں توانہوں نے (کعبہ شریف کے) دو ستونوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیفہ مہدی کا ظہور انہی کے درمیان ہوگا۔ اس پر حضرت ابوالطفیل نے فرمایا بخدا میں ان سے تاحیات جدا نہ ہوں گا۔ (راوی حدیث کہتے ہیں) چنانچہ حضرت ابوالطفیل کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔‘‘

2۔ عن علي الھلالي رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ ﷺ قال لفاطمۃ: یا فاطمۃ والّذي بعثنی بالحق إن منہما۔ یعنی من الحسن والحسین۔ مہدي ھذہ الأمّۃ، إذا صارت الدّنیا ھرجا ومرجا وتظاھرت الفتن وتقطعت السبل وأغار بعضھم علی بعض فلا کبیر یرحم صغیراً ولا صغیر یوقر کبیراً بعث اللہ عند ذلک منہما من یفتح حصون الضلالۃ وقلوبا غلفا، یقوم بالدّین في آخر الزّمان کما قمت فی أوّل الزّمان، ویملأ الأرض عدلا کما ملئت جورا۔

1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 3: 57، رقم: 2675
2۔ طبرانی، المعجم الاوسط، 6: 328، رقم: 6540
3۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 9: 165
4۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 66، 67

’’حضرت علی الھلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا ’’اے فاطمہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا بے شک ان دونوں یعنی حسن و حسین رضی اللہ عنہما (کی اولاد) میں سے اس امت کے مہدی پیدا ہوں گے۔ جب دنیا فتنہ و فساد کا شکار ہو جائے گی اور فتنوں کا ظہور ہوگا، اور راستے کٹ جائیں گے اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے۔ کوئی بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا اور کوئی چھوٹا بڑے کی عزت نہیں کرے گا تو اللہ رب العزت اس وقت ان دونوں (حسن و حسین کی اولاد) میں سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے اور بند دلوں کو کھولیں گے اس امت کے آخری زمانے میں دین کو قائم کریں گے جس طرح میں نے (اس اُمت کے) ابتدائی زمانے میں قائم فرمایا ہے اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح پہلے وہ ظلم سے بھری ہو گی۔‘‘

3۔ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: یخرج رجل من أھل بیتي یقول بسنتي، ینزل اللہ لہ القطر من السمائ، و تخرج لہ الأرض من برکتہا، تملأ الأرض منہ قسطا وعدلا کما ملئت جوراً وظلماً، یعمل علی ھذہ الأمۃ سبع سنین، وینزل بیت المقدس۔

1۔ طبرانی، المعجم الاوسط، 2: 15، رقم: 1075
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 317
3۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 62

’’سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: میری اہلِ بیت میں سے ایک شخص ظاہر ہوں گے جو میری سنت کی بات کریں گے، اللہ رب العزت اُن کے لیے آسمان سے بارش برسائے گا اور زمین ان کے لیے اپنی برکات نکال دے گی (یعنی اپنے خزانے اُگل دے گی) ۔ زمین اُن کے ذریعے عدل و انصاف سے بھر جائیگی جس طرح پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔ وہ اس اُمت پر سات سال تک حکومت کریں گے اور بیت المقدس میں نزول فرمائیں گے۔‘‘

4۔ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: حدّثني خلیلی أبو القاسم ﷺ قال: لا یقوم السّاعۃ حتّی یخرج علیہم رجل من أھل بیتی، فیضربہم حتّی یرجعوا إلی الحق، قلت: وکم یملک؟ قال: خمساً واثنین۔

1۔ أبو یعلی، المسند، 12: 19، رقم: 3335
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 315
3۔ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ، 2: 2

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے میرے خلیل ابو القاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ میری اہلِ بیت سے ایک شخص ظاہر نہ ہو جو لوگوں کا مقابلہ کرے گا حتی کہ وہ حق کی طرف رجوع کرلیں گے میں نے عرض کیا: وہ کتنا عرصہ بادشاہ رہیں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ اور دو (یعنی سات سال) ۔‘‘

5۔ عن جابر رضی اللہ عنہ عن النّبيّ ﷺ قال: یکون في أمتي خلیفۃ یحثی المال في النّاس حثیا لا یعدّہ عدّا ثم قال: والّذي نفسي بیدہ لیعودن۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 501، رقم: 8400
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 316
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 362، رقم: 1055

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا۔ شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پرشمار کیے بغیرکثرت سے لوگوں میں عطیات تقسیم کرے گا) اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا۔) ‘‘

 (7) امام مہدی علیہ السلام کے دورِ حکومت میں معاشی خوشحالی ہوگی

1۔ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ یخرج في آخر أمّتي المھدي یسقیہ اللہ الغیث ویخرج الأرض نباتہا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیۃ وتعظم الأمۃ یعیش سبعا أو ثمانیا یعنی حججا۔

حاکم، المستدرک، 4: 601، رقم: 8673

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اُمت کے آخری دور میں مہدی پیدا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اُن پر خوب بارش برسائے گا اور زمین اپنی پیداوار باہر نکال دے گی اور وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے۔ ان کے زمانۂ (خلافت) میں مویشیوں کی کثرت اور اُمت کی عظمت ہوگی۔ (وہ خلافت کے بعد) سات سال یا آٹھ سال زندہ رہیں گے۔‘‘

2۔ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ : أبشرکم بالمھدي یبعث في أمتي علی اختلاف من النّاس وزلزال فیملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما یرضی عنہ ساکن السماء وساکن الأرض یقسم المال صحاحا، قال لہ رجل: ما صحاحا؟ قال: بالسّویۃ بین النّاس ویملأ اللہ قلوب أمّۃ محمد ﷺ

غنی ویسعھم عدلہ حتّی یأمر منادیا فینادي فیقول: من لہ في المال حاجۃ؟ فما یقوم من النّاس إلّا رجل واحد فیقول لہ: ائت السدان یعني الخازن فقل لہ: إنّ المھدي یأمرک أن تعطیني مالا فیقول لہ: إحث فیحثی حتّی إذا جعلہ في حجرہ وائتزرہ ندم فیقول: کنت أجشع أمّۃ محمد ﷺ نفسا أو عجز عني ما وسعھم؟ قال: فیردّہ فلا یقبل منہ فیقال لہ: إنّا لا نأخذ شیئا أعطیناہ فیکون کذالک سبع سنین أو ثمان سنین أو تسع سنین ثم لا خیر في العیش بعدہ أو قال: ثم لا خیر في الحیاۃ بعدہ۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 37، رقم: 11344
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 52، رقم: 11502
3۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 314

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں اختلاف و اضطراب کے زمانہ میں بھیجے جائیں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (ان سے پہلے) ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ زمین اور آسمان والے ان سے خوش ہوں گے۔ وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے (یعنی اپنی عطا میں وہ کسی سے امتیاز نہیں برتیں گے) اللہ تعالیٰ (اُن کے دورِ خلافت میں) میری اُمت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا۔ (اور بغیر امتیاز و ترجیح کے) اُن کا انصاف سب کو عام ہو گا وہ اپنے منادی کو حکم دیں گے کہ عام اعلان کر دے کہ جسے مال کی حاجت ہو (وہ مہدی کے پاس آ جائے اس اعلان پر) مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا۔ مہدی اس سے فرمائیں گے، خازن کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمہیں حکم دیا ہے (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا) تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں (حسب تمنا) بھر لے چنانچہ وہ (حسب خواہش) دامن میں بھرلے گا اور خزانے سے باہر لائے گا تواسے (اپنے اس عمل پر) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں کہے گا کیا) اُمت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا۔ میرے ہی لیے وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی و وافی ہے۔ (اس ندامت پر) وہ مال واپس کرنا چاہے گا۔ مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے۔ (امام) مہدی عدل و انصاف اور احسان و عطاکے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہیں گے۔ ان کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خیر (یعنی لطفِ زندگی باقی) نہیں (رہے گا) ۔‘‘

3۔ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: ذکر رسول الله ﷺ المھدي قال: إنّ قصر فسبع وإلّا ثمان وإلّا فتسع ولیملأن الأرض قسطا کما ملئت ظلما وجورا۔

ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 316

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اگر ان کی مدت خلافت کم ہوئی تو سات برس ہوگی ورنہ آٹھ یا نوسال ہوگی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہو گی۔‘‘

4۔ عن جابر رضی اللہ عنہ عن النّبيّ ﷺ قال: یکون في أمّتي خلیفۃ یحثي المال في النّاس حثیا لا یعدہ عدّا ثم قال: والّذي نفسي بیدہ لیعودن۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 501، رقم: 8400
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 316، رقم:
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 362، رقم: 1055

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا۔ شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پرشمار کیے بغیرکثرت سے لوگوں میں عطیات تقسیم کریں گے) اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا۔) ‘‘

5۔ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النّبيّ ﷺ قال: یکون في أمتي المھدي أن قصر فسبع وإلّا ثمان وإلّا فتسع تنعم أمّتي فیھا نعمۃ لم ینعموا مثلھا یرسل السماء علیہم مدرارا ولا یدخر الأرض شیئا من النبات والمال کدوس یقوم الرّجل یقول: یا مھدي! اعطني فیقول: خذہ۔

1۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 5: 311، رقم: 5406
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 317

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں ایک مہدی ہو گا (اُن کی مدتِ خلافت) اگر کم ہوئی تو سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ میری اُمت اُن کے زمانہ میں اس قدر خوش حال ہوگی کہ اتنی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسبِ ضرورت) موسلا دھار بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار اُگل دے گی۔ ایک شخص کھڑا ہو کر مال کا سوال کرے گا تو مہدی کہیں گے (اپنی حسبِ خواہش خزانہ میں جا کر) خود لے لو۔‘‘

6۔ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ عن النبيّ ﷺ قال: یکون في أمّتي المھدي إن قصرفسبع وإلّا فتسع تنعم أمّتي فیہ نعمۃ لم ینعموا مثلھا قط تؤتی الأرض أکلھا لا تدخر عنھم شیئا والمال یومئذ کدوس۔ یقوم الرجل یقول: یا مھدي! أعطني فیقول: خذ۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب خروج المھدي، 2: 1366، رقم: 4083
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 601، رقم: 8675
3۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 7: 512، رقم: 37638
4۔ أبو عمرو الدانی، السنن الواردہ فی الفتن، 5: 1035، رقم: 550

’’حضرت ابو سعید خدر ی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں مہدی ہوگا جو کم سے کم سات سال ورنہ نو سال تک رہے گا۔ اُن کے زمانے میں میری اُمت اتنی خوشحال ہو گی کہ اس سے قبل کبھی ایسی خوشحال نہ ہوئی ہوگی۔ زمین اپنی ہر قسم کی پیداوار اُن کے لیے نکال کر رکھ دے گی اور کچھ بچا کر نہ رکھے گی اور مال اُس زمانے میں کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہو گا حتی کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے۔ وہ فرمائیں گے (جتنا مرضی میں آئے) اُٹھا لے۔‘‘

7۔ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ قال: خشینا أن یکون بعد نبینا حدث فسألنا نبي الله ﷺ قال: إنّ في أمّتي المہدي یخرج یعیش خمسا أو سبعا أو تسعا - زید الشاک - قال: قلنا: وما ذالک؟ قال: سنین۔ قال: فیجییٔ إلیہ الرّجل فیقول: یا مھدي! اعطني إعطني قال: فیحثي لہ في ثوبہ ما استطاع أن یحملہ۔

1۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في المھدي، 4: 506، رقم: 2232
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 21، رقم: 11179

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد وقوعِ حوادث کے خیال سے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں مہدی ہوگا جو پانچ سات یا نو تک حکومت کرے گا۔ (زید راوی حدیث کو ٹھیک مدت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اس عدد سے مراد) سال ہیں۔ اُن کا زمانہ ایسی خیر و برکت کا ہوگا کہ ایک شخص اُن سے آ کر سوال کرے گا اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے، مجھے کچھ دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (امام) مہدی ہاتھ بھر بھر کر اس کو اتنامال دے دیں گے جتنا وہ اٹھانے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔‘‘

 (8) امام مہدی علیہ السلام کی ولایت و سلطنت پر انعاماتِ الٰہیہ کی کثرت

1۔ حدّثنا عبد الله بن نمیر ثنا موسی الجہني ثني عمر بن قیس الماصر ثني مجاہد ثني فلان رجل من أصحاب النبيّ ﷺ إنّ المہدي لا یخرج حتّی تقتل النّفس الزکیّۃ فإذا قتلت النّفس الزکیّۃ غضب علیہم من في السماء ومن في الأرض فأتی النّاس المہدي فزفوہ کما تزف العروس إلی زوجہا لیلۃ عرسہا وہو یملأ الأرض قسطا وعدلا ویخرج الأرض نباتہا وتمطر السماء مطرہا وتنعم أمّتي في ولایتہ نعمۃ لم تنعمہا قط۔

ابن أبي شیبۃ، المصنف : 7: 514: رقم: 37653

’’امام مجاہد (مشہور تابعی) ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ’’نفس زکیہ‘‘ کے قتل کے بعد ہی خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ جس وقت نفس زکیہ قتل کر دیے جائیں گے تو زمین و آسمان والے ان قاتلین پر غضب ناک ہوں گے۔ بعد ازاں لوگ (امام) مہدی علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور اُنہیں دلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کریں گے اور (امام) مہدی علیہ السلام زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ (اُن کے زمانہ خلافت میں) زمین اپنی پیداوار کو اُگل دے گی اور آسمان خوب برسے گا اور میری اُمت پر اُن کی ولایت و سلطنت میں اس قدر نعمتیں نازل ہوں گی کہ اتنی نعمتوں سے اسے پہلے کبھی نہیں نوازا گیا ہو گا۔‘‘

ضروری وضاحت

ایک نفس زکیہ محمد بن عبد اللہ بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے خلیفہ منصور عباسی کے خلاف 245ھ میں خروج کیا تھا اور شہید ہوئے تھے۔ حدیث بالا میں مذکور ’’نفس زکیہ‘‘ سے مراد یہ نہیں ہیں بلکہ اس نام کے ایک اور بزرگ ہوں گے جو ظہور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ سے قبل ہوں گے۔

2۔ عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ أنّ رسول الله ﷺ قال: یکون في أمّتي المہدي إن قصر فسبع وإلّا فثمان وإلّا فتسع تنعم أمّتي فیہ نعمۃ لم ینعموا مثلھا یرسل الله السماء علیہم مدرارا ولا تدخر الأرض بشیٔ من النبات والمال کدوس یقوم الرّجل فیقول: یا مھدي! اعطني فیقول: خذہ۔

1۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 5: 311، رقم: 5406
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 317

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں (امام) مہدی ہوں گے جن کا زمانہ اگر کم ہوا تو سات سال ورنہ آٹھ یا نوسال ہوگا۔ مہدی کے زمانے میں میری اُمت اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوشحالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ اللہ رب العزت آسمان سے (حسب ضرورت) بارش نازل فرمائے گا اور زمین اپنی تمام پیداوار اُگا دے گی۔ مال کھلیان کی طرح پڑا ہوگا۔ ایک آدمی اُٹھ کر عرض کرے گا: اے مہدی! مجھے عطا فرمائیں تو آپ ارشاد فرمائیں گے: (اپنی مرضی کے مطابق) لے لو۔‘‘

3۔ عن علي رضی اللہ عنہ قال: قلت: یا رسول الله ! أمنّا آل محمد المہدي أم من غیرنا؟ فقال: لا، بل منّا، یختم الله بہ الدّین کما فتح بنا، وبنا ینقذون من الفتنۃ کما أنقذوا من الشرک، وبنا یؤلف الله بین قلوبہم بعد عداوۃ الفتنۃ کما ألّف بین قلوبہم بعد عداوۃ الشرک، وبنا یصبحون بعد عداوۃ الفتنۃ إخوانا کما أصبحوا بعد عداوۃ الشرک إخواناً في دینہم۔

1۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 1: 56، رقم: 157
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 61
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 370، رقم: 1089
4۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 371، رقم: 1090
5۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 371

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: میں نے (حضور ﷺ کی خدمت میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا (امام) مہدی ہم آلِ محمد میں سے ہوں گے یا ہمارے علاوہ کسی اور سے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ وہ ہم ہی میں سے ہوں گے۔ اللہ رب العزت اُن پر (سلطنت) دین اسی طرح ختم فرمائے گا جیسے ہم سے آغاز فرمایا ہے اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو فتنہ سے بچایا جائے گا۔ جس طرح اُنہیں شرک سے نجات عطا فرمائی گئی ہے اور ہمارے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں فتنہ کی عداوت کے بعد محبت و اُلفت پیدا فرمائے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے شرک کی عداوت کے بعد اُن کے دلوں میں (ہمارے ذریعے) اُلفت پیدا فرمائی اور ہمارے ذریعے ہی فتنہ (و فساد) کی عداوت کے بعد لوگ آپس میں بھائی بھائی ہو جائیں گے، جس طرح وہ شرک کی عداوت کے بعد اس دین میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔‘‘

 (9) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمانا

1۔ عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ کیف أنتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب نزول عیسی ابن مریم، 3: 1272، رقم: 3265
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب نزول عیسی ابن مریم حاکما بشریعۃ نبینا محمد، 1: 136، رقم: 155
3۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 213، رقم: 6802

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کا اُس وقت (خوشی سے) کیا حال ہوگا۔ جب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے اور امام خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہوں گے، بلکہ اُمّت کا ایک فرد یعنی خلیفہ مہدی ہوں گے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر بحوالہ مناقب الشافعی از امام ابو الحسین آجری لکھتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک نماز خلیفہ مہدی کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ (1)

 (1) عسقلاني، فتح الباری، 6: 493

2۔ عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: لا تزال طائفۃ من أمّتي یقاتلون علی الحق ظاہرین إلی یوم القیامۃ قال: وینزل عیسٰی ابن مریم علیہ السلام فیقول: أمیرہم تعال صلّ لنا فیقول: لا، إنّ بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ الله ہذہ الأمّۃ۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب نزول عیسی ابن مریم حاکما بشریعۃ نبینا محمد، 1: 137، رقم: 156
2۔ ابن حبان، الصحیح، 15: 231، رقم: 6819
3۔ ابن مندہ، الإیمان، 1: 517، رقم: 418
4۔ ابن جارود، المنتقیٰ، 1: 257، رقم: 1031
5۔ بیھقی، السنن الکبریٰ، 9: 180
6۔ أبو عوانۃ، المسند، 1: 99، رقم: 317

’’حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میری اُمت میں سے ایک جماعت قیامِ حق کے لیے کامیاب جنگ قیامت تک کرتی رہے گی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان مبارک کلمات کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: آخر میں (حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے تو مسلمانوں کا امیر، اُن سے عرض کرے گا: تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے۔ اس کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: (اِس وقت) میں امامت نہیں کروں گا۔ تمہارا بعض، بعض پر امیرہے۔ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرما دیں گے اُس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو عطا کی ہے۔) ‘‘

3۔ عن جابر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ: یخرج الدجال في خفۃ من الدّین وذکر الدجال ثم قال: ینزل عیسٰی ابن مریم علیہ السلام فینادي من السحر فیقول: یاأیہا النّاس! ما یمنعکم أن تخرجوا إلی ہذا الکذاب الخبیث فیقولون: ہذا رجل جنی فینطلقون فإذا ہم بعیسی ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلاۃ فیقال لہ: تقدم یا روح الله ! فیقول: لیتقدم إمامکم فلیصل بکم فإذا صلوا صلاۃ الصبح خرجوا إلیہ قال: فحین یراہ الکذاب ینماث کما ینماث الملح في الماء۔

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 444، رقم: 14997
2۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، 7: 444

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دین کے کمزور ہو جانے کی حالت میں دجال نکلے گا اور دجال سے متعلق تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا: بعد ازاں عیسی ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے اور بوقت سحر (یعنی صبح صادق سے پہلے) آواز دیں گے کہ اے مسلمانو! تمہیں اس جھوٹے خبیث (دجال) سے مقابلہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ تو لوگ کہیں گے کہ یہ کوئی جناتی مخلوق ہے۔ پھر آگے بڑھ کر دیکھیں گے تو اُنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نظر آئیں گے۔ پھر نمازِ فجر کے لیے اقامت ہوگی تو اُن کا امیر کہے گا: اے روح اللہ! امامت کے واسطے آگے تشریف لائیے حضرت عیسٰیں فرمائیں گے: تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے (اور اس وقت کے امام سیدنا مہدی علیہ السلام ہوں گے) ۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں گے تو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں) دجال سے مقابلہ کے لیے نکلیں گے۔ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو (خوف کے مارے) نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلنے لگے گا۔‘‘

4۔ عن أبي أمامۃ الباہلي رضی اللہ عنہ مرفوعا فقالت أم شریک بنت أبي العکر: یا رسول الله ! فأین العرب یومئذ؟ قال: ہم یومئذ قلیل وجلہم ببیت المقدس وإمامہم رجل صالح قد تقدم یصلي بہم الصبح إذ نزل علیہم ابن مریم الصبح فرجع ذلک الإمام ینکص یمشي القہقری لیتقدم عیسٰی ابن مریم یصلي بالنّاس فیضع عیسٰی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصلّ فإنّہا لک أقیمت فیصلي بہم إمامہم۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم، 2: 1361، رقم: 4077

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں جس میں ہے کہ ایک صحابیہ ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عرب اس وقت کہاں ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ اہلِ عرب دین کی حمایت میں مقابلے کے لیے کیوں سامنے نہیں آئیں گے) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: عرب اس وقت کم ہوں گے اور اُن میں بھی اکثر بیت المقدس (یعنی شام) میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح (مہدی) ہوگا۔ جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا۔ اچانک (حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسی وقت (آسمان سے) اُتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام نمازپڑھائیں۔ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام امام کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے تو ان کے امام (مہدی) لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔‘‘

5۔ عن عثمان بن أبي العاص رضی اللہ عنہ مرفوعا وینزل عیسٰی ابن مریم عليه السلام عند صلاۃ الفجر فیقول لہ النّاس: یا روح الله ! تقدم فصلّ بنا فیقول: إنّکم معاشر أمّۃ محمد أمراء بعضکم علی بعض فتقدّم أنت فصلّ بنا فیتقدم الأمیر فیصلي بھم۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 524، رقم: 8473
2۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 9: 60، رقم: 8392

’’حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نماز فجر کے وقت (آسمان سے) اُتریں گے تو لوگ اُن سے عرض کریں گے: اے روح اللہ! آگے تشریف لائیے، اور ہمیں نماز پڑھائیے، عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: تم اُمتِ محمدیہ کے لوگ ہو۔ اس اُمت کا بعض بعض پر امیر ہے۔ پس آپ ہی آگے بڑھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا۔‘‘

6۔ عن عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ قال: المہدي الّذي ینزل علیہ عیسٰی ابن مریم ویصلي خلفہ عیسٰی۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 373، رقم: 1103
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 78

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام امام مہدی کے بعد نازل ہوں گے اوران کے پیچھے (ایک) نماز ادا فرمائیں گے۔‘‘

7۔ عن أبي سعید نالخدري رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ: منّا الّذي یصلي عیسٰی ابن مریم خلفہ۔

1۔ محمد بن أبی بکر الدمشقی، المنار المنیف، 1: 147، رقم: 337
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 64

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اِسی اُمت میں سے ایک شخص ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نماز ادا فرمائیں گے۔‘‘

8۔ عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ یلتفت المہدي وقد نزل عیسٰی ابن مریم کأنّما یقطر من شعرہ الماء فیقول المہدي: تقدم صل بالنّاس فیقول عیسٰی علیہ السلام: إنّما أقیمت الصلاۃ لک فیصلي خلف رجل من ولدي۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 81

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اُن کو دیکھ کر یوں معلوم ہوگا گویا اُن کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اُس وقت (امام) مہدی علیہ السلام اُن کی طرف مخاطب ہو کر عرض کریں گے: تشریف لائیے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے۔ وہ فرمائیں گے: اِس نماز کی اقامت تو آپ کے لیے ہوچکی ہے اس لیے نماز تو آپ ہی پڑھائیں چنانچہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یہ نماز میری اولاد میں سے ایک شخص کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔‘‘

9۔ عن ابن سیرین قال: المہدي من ہذہ الأمّۃ وہو الّذي یؤم عیسٰی ابن مریم علیہما السلام۔

1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 513، رقم: 37649
2۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 373، رقم: 1107

’’ابن سیرین سے روایت ہے کہ (امام) مہدی علیہ السلام اِسی اُمت میں سے ہوں گے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی امامت سر انجام دیں گے۔‘‘

 (10) امام مہدی علیہ السلام کی اطاعت واجب اور تکذیب کفر ہوگی

1۔ عن شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ في المحرم ینادي من السماء: ألا إنّ صفوۃ الله فلان، فاسمعوا لہ وأطیعوا، في سنۃ الصوت والمعمۃ۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 226، رقم: 630
2۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 338، رقم: 980
3۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 76

’’حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: محرم (کے مہینے) میں آواز دینے والا آسمان سے آواز دے گا: خبردار (آگاہ ہو جاؤ!) بیشک فلاں بندہ اللہ رب العزت کا چنا ہوا (منتخب کردہ) شخص ہے۔ پس تم اُن کی بات سنو اور اُن کی اطاعت کرو۔‘‘

2۔ عن جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ من کذب بالدّجال فقد کفر، ومن کذب بالمہدي فقد کفر۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 73

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دجال (کے آنے) کا انکار کیا یقیناً اس نے کفر (کا ارتکاب) کیا۔ جس نے (امام) مہدی علیہ السلام (کے تشریف لانے) کا انکار کیا یقیناً اس نے (بھی) کفر کیا۔‘‘

3۔ عن ابن عمر رضي الله عنہما قال: قال رسول الله ﷺ: یخرج المہدي وعلی رأسہ عمامۃ، فیأتي مناد ینادي: ہذا المہدي خلیفۃ الله فاتّبعوہ۔

1۔ طبرانی، مسند الشامیین، 2: 71، رقم: 937
2۔ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 5: 510، رقم: 8920
3۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 61

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (امام) مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور اُن کے سر پر عمامہ ہوگا۔ پس ایک منادی یہ آواز بلند کرتے ہوئے آئے گا: یہ مہدی ہیں جو اللہ کے خلیفہ ہیں۔ سو تم ان کی اتباع و پیروی کرو۔‘‘

 (11) امام آخر الزمان علیہ السلام، مہدي الأرض والسّماء ہوں گے

1۔ عن سلمان بن عیسٰی قال: بلغني أنّہ علی یدي المہدي یظہر تأبوت السکینۃ من بحیرۃ طبریۃ حتّی یحمل فیوضع بین یدیہ ببیت مقدس، فإذا نظرت إلیہ الیہود أسلمت إلّا قلیلا منہم۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 360، رقم: 1050
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 83

’’حضرت سلمان بن عیسیٰ سے مروی ہے اُنہوں نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ بحیرہ طبریہ سے (امام) مھدی علیہ السلام کے ذریعے تابوت سکینہ ظاہر ہوگا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس میں آپ کے سامنے اسے اُٹھا کر رکھ دیا جائیگا۔ جب یہود اس (تابوت) کو دیکھیں گے تو چند لوگوں کے سوا تمام اسلام قبول کر لیں گے۔‘‘

2۔ عن کعب رضی اللہ عنہ قال: یطلع نجم من المشرق قبل خروج المھدي، لہ ذنب یضيئ۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 229 رقم: 642
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 82

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: امام مہدی علیہ السلام کے خروج (ظہور) سے پہلے جانبِ مشرق سے ایک ستارہ طلوع ہوگا جس کی چمکتی ہوئی دم ہوگی۔‘‘

3۔ عن شریک رضي اللہ عنہ قال: بلغني أنّہ قبل خروج المھدي ینکسف القمر في شہر رمضان مرتین۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 229، رقم: 642
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 82

’’حضرت شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ (امام) مہدی علیہ السلام کے خروج (ظہور) سے پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں دو مرتبہ چاند گرہن ہوگا۔‘‘

4۔ عن علي رضي الله عنه، قال: إذا نادی مناد من السّماء إنّ الحق في آل محمد فعند ذلک یظھر المھدي علی أفواہ النّاس، ویشربون حبّہ، ولا یکون لھم ذکر غیرہ۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 334، رقم: 965
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 68

’’حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب آسمان سے آواز دینے والا آواز دے گا: حق آلِ محمد میں ہے تو اُس وقت لوگوں کی زبانوں پر (امام) مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ لوگوں کو اُن کی محبت (اس طرح) پلا دی جائے گی کہ وہ اُن کے سوا کسی (اور) کا تذکرہ نہیں کریں گے۔‘‘

5۔ عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ: إذا رأیتم الرایات السود قد أقبلت من خراسان فأتوہا ولو حبّوا علی الثلج، فإنّ فیہا خلیفۃ الله المہدي۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب خروج المھدي، 2: 1367، رقم: 4084
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 277، رقم: 22441
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 311، رقم: 896
4۔ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 2: 323، رقم: 3470
5۔ أبو عمرو الدانی، السنن الواردہ فی الفتن، 5: 1032، رقم: 548
6۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 63

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں (کا قافلہ) آتے ہوئے دیکھو تو اُس میں ضرور شامل ہو جانا اگرچہ برف پر گھسٹ کر آنا پڑے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔‘‘

6۔ عن أبي الجلد قال: تکون فتنۃ بعدہا فتنۃ، الأولی في الآخرۃ کثمرۃ السوط یتّبعہا ذباب السیف، ثم یکون بعد ذلک فتنۃ استحل فیہا المحارم کلّہا، ثم تأتي الخلافۃ خیر أہل الأرض وہو قاعد في بیتہ۔

1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 531، رقم: 37754
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 65

’’حضرت ابو الجلد سے روایت ہے اُنہوں نے فرمایا: ایک فتنہ (برپا) ہوگا جس کے بعد ایک (اور) فتنہ ہو گا۔ پہلا (فتنہ) دوسرے (فتنہ) کے ساتھ بالکل ویسے ہوگا جیسے کوڑے کا تسمہ۔ پھر اس کے بعد تلواروں کی دھاریں ہونگی۔ اس کے بعد پھر ایک (اور) فتنہ ہوگا جس میں تمام محارم (اللہ کی حرام کردہ چیزوں) کو حلال کردیا جائے گا۔ پھر تمام زمین والوں میں سب سے بہتر شخص کے ذریعے خلافت آئے گی جبکہ وہ (خلیفہ) اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہوں گے۔‘‘

7۔ عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنہما قال: یحج النّاس معا، ویعرفون معا، علی غیر إمام، فبینا ہم نزول بمنی إذ أخذہم کالکلب، فثأرت القبائل بعضہم إلی بعض، فاقتتلوا حتّی تسیل العقبۃ دماً، فیفزعون إلی خیرہم فیأتونہ وہو ملصق وجہہ إلی الکعبۃ، یبکي کأنّي أنظر إلی دموعہ، فیقولون: ہلم إلینا، فلنبایعک، فیقول: ویحکم کم من عہد نقضتموہ، وکم من دم سفکتموہ! فیبایع کرہا، فإن أدرکتموہ فبایعوہ، فإنّہ المہدي في الأرض والمہدي في السماء۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 227، رقم: 632
2۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 341، رقم: 987
3۔ أبو عمرو الداني، السنن الواردۃ فی الفتن، 5: 1044، رقم: 560
4۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 76

’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے اُنہوں نے فرمایا: لوگ اکٹھے حج (ادا) کریں گے اور بغیر امام کے عرفات میں اکٹھے ہوں گے۔ پس منیٰ میں ان کے نزول کے دوران ایک فتنہ اُنہیں کتے کی طرح دبوچ لے گا (جس کی وجہ سے مختلف) قبائل ایک دوسرے پر چڑھائی کر دیں گے۔ پس وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے یہاں تک کہ گھاٹی خون سے بہنے لگے گی (اس گھبراہٹ کے عالم میں) وہ سب سے بہتر ہستی کی پناہ لینے کے لیے اُن کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے جبکہ وہ کعبۃ اللہ سے اپنا چہرہ لگائے رو رہے ہوں گے۔ گویا میں اُن کے آنسوؤں کو دیکھ رہا ہوں۔ پس وہ اُن کی خدمت میں عرض کریں گے: آپ ہمارے پاس تشریف لائیں تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں وہ فرمائیں گے: تم پر افسوس تم نے کتنے ہی عہد توڑے ہیں اور کتنے ہی خون بہائے ہیں! پس وہ مجبوراً اُن کی بیعت قبول فرمائیں گے۔ اگر تم اس ہستی کو پالو تو اُن کی بیعت کرنا کیونکہ وہ زمین میں مہدی (علیہ السلام) ہوں گے اور آسمان میں بھی مہدی (علیہ السلام) ہوں گے۔‘‘

 (12) امام مہدی علیہ السلام بارھویں امام اور آخری خلیفۃ اللہ ہوں گے

1۔ عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله یقول: لا یزال ھذا الدّین قائماً حتّی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلّھم تجتمع علیہ الأمّۃ۔ فسمعت کلاماً من النّبي ﷺ لم أفھمہ، قلتُ لأبي: ما یقول؟ قال: کلّہم من قریش۔

أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 106، رقم: 4279

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: یہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلفاء ہوں گے۔ اُن تمام پر اُمت مجتمع ہوگی پھر میں نے حضور نبی اکرمﷺ سے (کچھ) گفتگو سنی جسے میں سمجھ نہ سکا تو میں نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا: میرے باپ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: وہ تمام (بارہ خلفاء) قریش سے ہوں گے۔‘‘

2۔ عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: لا یزال ھذا الدّین عزیزا إلی اثنی عشر خلیفۃ قال: فکبّر النّاس وضجوا، ثم قال کلمۃ خفیۃ قلت لأبي: یا أبت! ما قال؟ قال: کلّھم من قریش۔

أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 106، رقم: 4280/4281

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ا‘نہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء کے آنے تک غالب رہے گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (اس پر) لوگوں نے (بلند آواز) سے ’’اللہ اکبر‘‘ کہا اور شور برپا ہوگیا۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے آہستہ آواز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا۔ میں نے اپنے باپ سے عرض کیا: اباجان! آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ (اُنہوں نے بتایا) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: وہ سب (بارہ خلفاء) قریش میں سے ہوں گے۔‘‘

امام سیوطیؒ ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں ابو داود کی مذکورہ بالا روایات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

عقد أبو داود في سننہ بابا في المہدي وأورد في صدرہ حدیث جابر بن سمرۃ عن رسول الله ﷺ : لا یزال ہذا الدّین قائماً حتی یکون اثنا عشر خلیفۃ کلہم تجتمع علیہ الأمۃ۔ وفي روایۃ: لا یزال ہذا الدّین عزیزًا إلی اثنی عشر خلیفۃ کلّہم من قریش، فأشار بذلک إلی ما قالہ العلماء إنّ المہدي أحد الإثنی عشر۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 85

’’امام ابو داود نے اپنی کتاب السنن میں امام مہدی علیہ السلام پر ایک باب باندھا ہے جس کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت درج فرمائی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء ہوں گے جن پر یہ اُمت مجتمع ہوگی‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’یہ دین بارہ خلفاء تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔‘‘ امام ابو داؤد نے گویا یہ باب باندھ کر علماء کے اس قول کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اُن بارہ خلفاء میں سے ایک ہیں۔‘‘

امام سیوطی نے اس سے واضح طور پر یہ استنباط فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام روئے زمین پر بارہویں اور آخری امام ہوں گے کیونکہ امام ابو داود، امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں باب کا آغاز ان دو احادیث سے کر کے پھر حضرت اُم سلمہ رضي الله عنہا سے مروی یہ حدیث لائے ہیں:

عن أمّ سلمۃ رضي الله عنہا قالت: سمعت رسول الله ﷺ یقول: المھدي من عترتي من ولد فاطمۃ۔

أبو داود، السنن، کتاب المھدي، 4: 106، رقم: 8284

’’حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: امام مہدی علیہ السلام میری عترت اور اولاد فاطمہ سے ہوں گے۔‘‘

اور اس سے پہلے وہ حدیث بھی لائے ہیں جس میں ارشاد ہے: ’’قیامت میں سے خواہ ایک ہی دن کیوں نہ بچ جائے اللہ رب العزت میری اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو بھیجے گا جو زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھر دی گئی تھی۔‘‘

3۔ عن أبي سعید رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ یکون عند إنقطاع من الزّمان وظہور من الفتن رجل یقال لہ المھدي، یکون عطاؤہ ھنیئا۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 63

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں جب بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے تو اُس وقت ایک آدمی ہوگا جس کو ’’مہدی‘‘ کہا جائے گا۔ اُن کی عطائیں (بڑی) خوش گوار ہوں گی۔‘‘

4۔ عن الزھري قال: إذا التقی السفیاني والمھدي للقتال یومئذ یسمع صوت من السماء: ألا إنّ أولیاء الله أصحاب فلان۔ یعني المھدي۔ وقالت أسماء بنت عمیس: إنّ أمارۃ ذلک الیوم أن کفاء من السماء مدلاۃ ینظر إلیھا الناس۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 76

’’امام الزھری سے روایت ہے آپ نے فرمایا: جب سفیان (کا لشکر) اور امام مہدی علیہ السلام کا لشکر قتال کے لیے آمنے سامنے ہوں گے، تو اُس دن آسمان سے ایک آواز سنائی دے گی، خبردار! (آگاہ رہو) بیشک (امام) مہدی علیہ السلام کے احباب ہی اللہ کے ولی اور دوست ہیں۔ اسماء بنت عمیس رضي الله عنہا نے فرمایا: اُس دن کی علامت یہ ہو گی کہ آسمان سے لٹکا ہوا ہاتھ نظر آئے گا جس کو (تمام) لوگ دیکھیں گے۔‘‘

5۔ عن علي رضی اللہ عنہ قال: قلت: یا رسول الله ! أمنّا آل محمد المہدي أم من غیرنا؟ فقال: لا، بل منّا، یختم الله بہ الدّین کما فتح بنا، وبنا ینقذون من الفتنۃ کما أنقذوا من الشرک، وبنا یؤلف الله بین قلوبہم بعد عداوۃ الفتنۃ کما ألف بین قلوبہم بعد عداوۃ الشرک، وبنا یصبحون بعد عداوۃ الفتنۃ إخوانا کما أصبحوا بعد عداوۃ الشرک إخواناً في دینہم۔

1۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 1: 56، رقم: 157
2۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 370، رقم: 1089
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 371، رقم: 1090
4۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 371
5۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 61

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: میں نے (حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا (امام) مہدی ہم آلِ محمد میں سے ہوں گے یا ہمارے علاوہ کسی اور سے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ وہ ہم میں سے ہوں گے۔ اللہ رب العزت ان پر (سلطنت) دین اسی طرح ختم فرمائے گا جیسے ہم سے آغاز فرمایا تھا۔ اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو فتنہ سے بچایا جائیگا جس طرح اُنہیں شرک (اور کفر) سے نجات عطا فرمائی گئی ہے اور ہمارے ذریعے ہی اللہ ان کے دلوں میں فتنہ کی عداوت کے بعد (محبت اور) اُلفت پیدا فرمائے گا۔ جس طرح اللہ نے شرک کی عداوت کے بعد ان کے دلوں میں (ہمارے ذریعے) اُلفت پیدا فرمائی اور ہمارے ذریعے ہی فتنہ (وفساد) کی عداوت کے بعد لوگ آپس میں بھائی بھائی ہو جائیں گے، جس طرح وہ شرک کی عداوت کے بعد اس دین میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔‘‘

6۔ عن أرطاۃ قال: ثم یخرج رجل من أھل بیت النّبي ﷺ مہدي حسن السیرۃ، یغزو مدینۃ قیصر، وھو آخر أمیر من أمۃ محمد ﷺ ثم یخرج في زمانہ الدجال وینزل في زمانہ عیسٰی ابن مریم۔

1۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 402، 408، رقم: 1214، 1234
2۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 80

’’حضرت ارطاۃ سے مروی ہے پھر اہل بیت نبی ﷺ سے حسنِ سیرت کے پیکر ایک شخص (امام) مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا جو قیصر روم کے شہر میں جنگ کریں گے اور وہ اُمتِ محمدی کے آخری امیر ہوں گے۔ پھر اُن کے زمانہ میں دجال ظاہر ہو گا اور اُن کے زمانہ میں ہی حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام (آسمان سے) نازل ہوں گے۔‘‘

امام سیوطیؒ نے ’الحاوی للفتاوی‘ میں امام منتظر (امام مہدی) کے ظہور کے وقت کے آثار و علامات درج کرنے کے بعد لکھا ہے:

ھذہ الآثار کلھا لخصتہا من کتاب ’’الفتن‘‘ لنعیم بن حماد، وھو أحد الائمۃ الحفاظ، وأحد شیوخ البخاري۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 80

’’یہ تمام آثار و علامات ہیں جن کی تلخیص میں نے نعیم بن حماد کی کتاب ’الفتن‘ سے کی ہے اور وہ (نعیم بن حماد) ائمہ حفاظ میں سے ہیں اور (امام) بخاری کے شیوخ (اساتذہ) میں سے ایک ہیں۔‘‘

7۔ عن جابر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ : یکون في آخر أمتي خلیفۃ یحثي المال حثیّا ولا یعدہ عدّاً۔

سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 60، 61

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اُمت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال لبالب بھر بھر کے دے گا اور اُسے شمار نہیں کرے گا۔‘‘

8۔ عن جابر رضی اللہ عنہ عن النّبيّ ﷺ قال: یکون في أمّتي خلیفۃ یحثي المال في النّاس حثیا لا یعدہ عدا ثم قال: والّذي نفسي بیدہ لیعودن۔

1۔ حاکم، المستدرک، 4: 501، رقم: 8400
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 7: 316، رقم:
3۔ نعیم بن حماد، الفتن، 1: 362، رقم: 1055

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ میری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھربھر کے تقسیم کرے گا اور اُسے شمار نہیں کرے گا۔ قسم ہے اُس ذاتِ پاک کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا۔ (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد اُن کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا۔) ‘‘

9۔ عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله ﷺ لو لم یبق من الدّنیا إلّا لیلۃ لطول الله تلک لیلۃ حتّی یملک رجل من أہل بیتي یواطیٔ، اسمہ اسمي واسم أبیہ اسم أبي، یملؤہا قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً وجوراً، ویقسم المال بالسّویۃ، ویجعل الله الغنی في قلوب ہذہ الأمۃ، فیمکث سبعا أو تسعا، ثم لا خیر فی عیش الحیاۃ بعد المہدي۔

1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 133، رقم: 10216
2۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 135، رقم: 10224
3۔ أبو عمرو الداني، السنن الواردۃ في الفتن، 5: 1055، رقم: 572
4۔ سیوطی، الحاوی للفتاوی، 2: 64

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر دنیا (کے زمانہ) میں صرف ایک رات ہی باقی رہ گئی تو بھی اللہ رب العزت اُس رات کو لمبا فرمادے گا یہاں تک کہ میری اہلِ بیت میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جس کا نام میرے نام اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہو گا۔ وہ زمین کو انصاف اور عدل سے لبریز کر دیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور وہ مال کو برابر تقسیم کریں گے اور اللہ رب العزت اس اُمت کے دلوں میں غنا پیدا فرما دے گا۔ وہ سات یا نو سال رہیں گے۔ پھر (امام) مہدی کے (زمانے کے) بعد زندگی میں کوئی خیر (یعنی لطف زندگی باقی) نہیں (رہے گا) ۔‘‘

خلاصۂ کلام

مذکورہ بالا احادیث و روایات کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ قربِ قیامت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت و ظہور عین اسلامی عقیدہ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے پہلے کے حالات و واقعات، ان کی ولادت، ظہور اور شخصی اوصاف کو واضح طور پر بیان فرما دیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اُسی وقت ہوگی جب احادیث میں مذکور علامات کا ظہور ہو گا اور وہی شخص امام مہدی علیہ السلام ہوگا جو احادیث میں مذکور صفات کا حامل ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی آمدِ امام مہدی علیہ السلام کا ہزار بار اعلان کرتا پھرے یا امام مہدی ہونے کا لاکھ بار دعویٰ کرے سب جھوٹ اور دجل و فریب ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت کو اِن احادیث کے آئینے میں دیکھا جائے تو وہ کسی لحاظ سے بھی امام مہدی علیہ السلام کے معیار پر پورا نہیں اُترتے، سو دیگر دعاوی کی طرح ان کا دعویٰ مہدویت بھی مبنی بر کذب و افترا اور جہالت و گمراہی ہے۔ مرزا صاحب کے شخصی اوصاف اس کتاب کے حصہ دوم میں بیان ہوئے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ وہ تو ایک اچھا انسان کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مہدی، مسیح یا نبی وغیرہ۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved