Huzoor Nabi Akram ﷺ ka Paikar e Jamal

حضور ﷺ کی رنگت مبارک

4. وَصْفُ لَوْنِهِ ﷺ ﴿حضور ﷺ کی رنگت مبارک﴾

حضرب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کیا ہی دِل کش اور خوب صورت الفاظ میں آپ ﷺ کی رنگت بیان کی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی رنگت ایسے سفید تھی کہ لگتا تھا کہ آپ ﷺ کا سراپا چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔آپ ﷺ کی رنگت سفید مگر سرخی مائل تھی نہایت روشن، نکھری نکھری اور چمکتی دمکتی۔ اس چمک اور دمک کے سامنے صیقل شدہ تلواروں کی تابش و تابانی بھی مانددکھائی دیتی۔جب آپ ﷺ کسی بات پر خوش ہوتے تو روئے انور آئینہ کی طرح یوں چمک اٹھتا کہ دیواروں کا عکس تک آپ ﷺ کے چہرۂ اقدس میں جھلکتا اور ڈلکتا دکھائی دیتا۔ دربارِ رسالت مآب ﷺ کے ثنا خوان حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کے حسنِ لم یزل کی تعریف و توصیف ایسے الفاظ میں کرتے ہیں کہ ہر لفظ اپنی جگہ ایک جہانِ معانی لیے ہوئے ہے:

وَأَحْسَنُ مِنكَ لَم تَرَ قَطُّ عَينٌ
وَأَجمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

(یا رسول اللہ!) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔

خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

(یا رسول اللہ!) آپ ہر عیب و نقص سے پاک پیدا کیے گئے ہیں۔ گویا آپ ایسے ہی پیدا کیے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

29. عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْوَرَهُمْ لَوْنًا، أَزْهَرَ اللَّوْنِ([31]).

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ نہایت روشن، نکھرا، کِھلا اور چمکتا ہوا تھا۔

30. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَزْهَرَ اللَّوْنِ([32]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک انتہائی روشن اور چمک دار تھا۔

31. وَعَنْهُ رضی اللہ عنہ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ لَوْنًا([33]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رنگت و نگہت کے اعتبار سے (کرۂ ارض پر موجود) سب انسانوں سے زیادہ حسین و جمیل تھے۔

32. وَعَنْهُ رضی اللہ عنہ، قَالَ: وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالْآدَمِ([34]).

آپ رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ کا رنگ نہ تو بالکل سفید تھا اور نہ ہی گندمی تھا۔

33. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ، کَانَ ﷺ أَبْیَضَ مُشْرَبًا بِحُمْرَةٍ([35]).

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ کا رنگ مبارک سفید مگر سرخی مائل تھا۔

34. عَنْ أَبِي جُحَیْفَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَبْیَضَ([36]).

حضرت ابو جُحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک خوب گورا تھا۔

35. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اللہ عنہ، کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَبْیَضَ، تَعْلُوْهُ حُمْرَةٌ([37]).

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک سرخی مائل سفید تھا۔

36. قَالَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَبْیَضَ کَأَنَّمَا صِیْغَ مِنْ فِضَّةٍ([38]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی رنگت ایسی سفید تھی کہ لگتا تھاآپﷺ کا سراپا چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔


حوالہ جات


([31]) أخرجه البیهقي في دلائل النبوة، 1/300، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/358، وذکره القسطلاني في المواهب اللدنیة، 2/89.

([32]) أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1306، الرقم/3368، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب طیب رائحة النبي ﷺ ولین مسه والتبرك بمسحه، 4/1815، الرقم/2330، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/228، 270، الرقم/13405، 13887، والدارمي في السنن، 1/45، الرقم/61.

([33]) أخرجه ابن عساكر في السيرة النبوية، 1/321.

([34]) أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1303، الرقم/3355، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في صفة النبي ﷺ ومبعثه وسنه، 4/1824، الرقم/2347، والترمذي في السنن، كتاب المناقب، باب في مبعث النبي ﷺ وبن كم كان حين بعث، 5/592، الرقم/3623، وابن حبان في الصحیح، 14/298، الرقم/6387، والنسائي في السنن الکبری، 5/409، الرقم/9310.

([35]) أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/116، الرقم/944، وابن حبان في الصحیح، 14/216-217، الرقم/6311، وابن أبي شیبة في المصنف، 6/328، الرقم/31807، وأبو یعلى في المسند، 1/303، الرقم/369.

([36]) أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب شیبه ﷺ، 4/1822، الرقم/2343، والترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في العدة، 5/128، الرقم/2826.

([37]) أخرجه الرویاني في المسند، 2/318، الرقم/1280، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1/416، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/300، 302.

([38]) أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدیة/40، الرقم/12، والبیهقي في دلائل النبوة، 1/241، والخطیب البغدادي في تاریخ بغداد، 10/297، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/271.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved