Huzoor Nabi Akram ﷺ ka Paikar e Jamal

حضور ﷺ کے مبارک شانے اور بغليں

18. وَصْفُ كَتِفَيْهِ وَإِبْطَيْهِ ﴿حضور ﷺ کے مبارک شانے اور بغليں﴾

فخرِ موجودات حضور سرورِ کائنات ﷺ کے جسمِ اَطہر کا ایک ایک عضو اتنا حسین و جمیل اور رعنائی و زیبائی کا مرقع ہے کہ اس کی تحسین و تعریف اور توصیف و ثناء کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ کے شانوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے۔حضورِ اقدس ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت تھی۔ یہ بظاہر سرخی مائل اُبھرا ہوا گوشت تھا۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہرِ نبوت کو دیکھا جو کبوتر کے انڈے کی مقدار میں سرخ اُبھرا ہوا ایک غدود تھا؛ یعنی مہر نبوت ایک چمکتا ہوا نور تھا۔ راویوں نے اس کی ظاہری شکل و صورت اور مقدار کو کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے۔آپ ﷺ نے دستِ دعاء بلند کیے اورکس حد تک بلند کیے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کی بغل مبارک کے نیچے سے سفیدی کی طرح نور دیکھا۔

122. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ مَرْبُوْعًا، بَعِيْدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ([131]).

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ میانہ قد تھے۔ آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔

123. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَظِيْمَ مُشَاشِ الْمَنْكِبَيْنِ([132]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کندھے مبارک (موزونیت کے ساتھ) اُبھرے ہوئے تھے۔

124. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ([133]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (دعا کے لیے) ہاتھ اُٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغل مبارک کے نیچے سے سفیدی کی طرح نور دیکھا۔


حوالہ جات


([131]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1303، الرقم/3358، ومسلم في الصحيح، كتاب الفضائل، باب في صفة النبي ﷺ وأنّه كان أحسن الناس وجهًا، 4/1818، الرقم/2337، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/281، الرقم/18496، والترمذي في الشمائل المحمدية/30، الرقم/3.

([132]) أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 1/241، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/271، وذكره ابن كثير في البداية والنهاية، 6/19، والسيوطي في الخصائص الكبرى، 1/126.

([133]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الدعوات، باب رفعِ الأىدي في الدّعاء، 5/2335، وأيضًا في كتاب الاستسقاء، باب رفع الإمام ىده في الاستسقاء، 1/349، الرقم/984، وأيضًا في كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1307، الرقم/3372، وذكره الزرقاني في شرح المواهب اللدنية، 5/460.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved