Huzoor Nabi Akram ﷺ ka Paikar e Jamal

آپ ﷺ کے قدمین مبارک

23. وَصْفُ قَدَمَيْهِ ﷺ ﴿آپ ﷺ کے قدمین مبارک﴾

آپ ﷺ کے مقدس و معظم پاؤں چوڑے، پُر گوشت اور ایڑیاں کم گوشت والی اور تلوا اونچا جوفرشِ زمین پر نہ لگتا تھا۔ پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا۔آپ ﷺ کے ہتھیلیاں اور قدم کشادہ تھے لیکن تلوا گہرا نہ تھا۔ آپ ﷺ کی کہنیوں سے اوپر اور نیچے دونوں بازو بھاری تھے۔یہ شجاعت کی علامت ہے۔ ایڑیاں اور پنڈلیاں ہلکی تھیں۔ آپ ﷺ کے قدم مبارک ہی ہیں جنہیں قدومِ میمنت لزوم سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہاں اس امر کا ذکر از بس ضروری ہے کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی تھے جنہوں نے اپنے محبوب آقا ﷺ کے حسن معنوی کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کے جمالِ ظاہری، چال ڈھال، خدّ و خال، قد و قامت، عارض و گیسو، اندازِ گفتار، طرزِ رفتار، روز و شب کے معمولات،خوبیِِ تکلم، جمالِ تبسم، اَطوار، پوشاک،اِستراحت و آرام،قیام و طعام حتی کہ آپ ﷺ کے ساتھ گزرے ایک ایک پل اور ایک ایک ادا کو یاد رکھا اور بیان فرما کر آنے والی ملتِ اسلامیہ پر احسان عظیم کیا۔ یہ اسی کا فیضان ہے کہ ہم بھی ان کے فرمودات و ملفوظات کی روشنی میں محبوبِ رب العالمین ﷺ کے حلیۂ مبارک اور حسن و جمال کو نگاہِ شوق اور چشمِ تصور میں لا سکتے ہیں۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ ’ایمان کی تکمیل کے لیے اس بات پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ ربِ کائنات نے حضور ﷺ کا وجودِ اقدس حسن و جمال میں بے نظیر و بے مثال تخلیق فرمایا‘۔ امام قسطلانی لکھتے ہیں کہ ’اسلاف نے حضور ﷺ کے اوصاف کا جو تذکرہ کیا ہے یہ بطور تمثیل ہے ورنہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور مقام بہت بلند ہے‘۔

145. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ([154]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے قدمین شریفین گوشت سے پُر تھے۔

146. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ … مَنْهُوْسَ الْعَقِبَيْنِ([155]).

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک ایڑیوں پر گوشت کم تھا (یعنی ان میں نفاست اور لطافت تھی)۔

147. عَنْ عَلِيٍّ علیہ السلام، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ([156]).

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ کی ہتھیلیاں اور قدمین مبارک گوشت سے پُر تھے۔

148. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رضی اللہ عنہ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ أَحْسَنَ الْبَشَرِ قَدَمًا([157]).

حضرت عبد اللہ بن بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قدمین شریفین تمام لوگوں کے قدموں سے زیادہ خوبصورت اور نفیس تھے۔

149. عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ خُمْصَانَ الْأَخْمَصَيْنِ، مَسِيْحَ الْقَدَمَيْنِ، يَنْبُوْ عَنْهُمَا الْمَاءُ ([158]).

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دونوں قدموں کے تلوے قدرے گہرے تھے، قدمین شریفین ہموار اور نرم تھے اور (اس قدر ہموار تھے کہ) اُن پر پانی نہیں ٹھہرتا تھا۔

150. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: لَيْسَ لَهَا أَخْمَصُ([159]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کے تلوے زیادہ گہرے نہیں تھے (یعنی ان میں معمولی اور مناسب گہرائی تھی)۔


حوالہ جات


([154]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب اللباس، باب الجعد، 5/2212، الرقم/5568، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/125، الرقم/12288، وأبو يعلى في المسند، 5/255-256، الرقم/2875، والطىالسي في المسند، 1/338، الرقم/2589.

([155]) أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الفضائل، باب في صفة فم النبي ﷺ وعينيه وعقبىه، 4/1820، الرقم/2339، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/86، 88، 103، الرقم/20831، 20848، 20950، 21024، والترمذي في السنن، كتاب المناقب، باب في صفة النبي ﷺ، 5/603، الرقم/3646-3647، وابن حبان في الصحيح، 14/199، الرقم/6288.

([156]) أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/96، 127، الرقم/746، 1053، والترمذي في السنن، كتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي ﷺ، 5/598، الرقم/3637، وأبو يعلى في المسند، 1/304، الرقم/370، والبزار في المسند، 2/118، الرقم/474، والحاكم في المستدرك، 2/662، الرقم/4194، والبخاري في التاريخ الكبير، 1/8.

([157]) أخرجه ابن سعد في الطبقات الكبرى، 1/419، وابن إسحاق في السيرة النبوية، 2/122، وذكره السيوطي في الجامع الصغير، 1/25، الرقم/7، وأيضًا في الخصائص الكبرى، 1/128، والصالحي في سبل الهدى والرشاد، 2/79.

([158]) أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية/37-38، الرقم/8، وابن حبان في الثقات، 2/146، والطبراني في المعجم الكبير، 22/155-156، الرقم/414، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/154-155، الرقم/1430.

([159]) أخرجه البخاري في الأدب المفرد، باب إذا التفت التفت جمىعًا/395، الرقم/1155، وذكره السيوطي في الخصائص الكبرى، 1/125، والصالحي في سبل الهدى والرشاد، 2/30.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved