Huzoor Nabi Akram ﷺ ka Paikar e Jamal

حضور ﷺ کی بصارت مبارک

10. وَصْفُ بَصَرِهِ ﷺ ﴿حضور ﷺ کی بصارت مبارک﴾

صاحبِ قابَ قوسین ﷺ اور صاحبِ ما زاغَ کی اس بصارت کا بیان انسان کے بس کی بات نہیں جس نے براہِ رست صاحبِ عرشِ عظیم رب ذو الجلال کا مشاہدہ کیا اور اس سے مکالمہ کیا۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’بے شک اللہ تعالیٰ نے زمیں کو سمیٹ کر میرے قریب کردیا ہے اور میں اس کے مشارق و مغارب کو دیکھتا ہوں‘۔روایات اور احادیثِ صحیحہ میں آتا ہے کہ آپ ﷺ رات کے اندھیرے میں بھی اسی طرح دیکھتے جس طرح دن کے اجالے میں۔

92. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا؟ فَوَاللهِ، مَا يَخْفَی عَلَيَّ خُشُوْعُكُمْ وَلَا رُكُوْعُكُمْ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي([98]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم یہی دیکھتے ہو کہ میرا چہرہ اس سمت (یعنی قبلہ رُخ) ہے؟ بخدا! مجھ سے نہ تمہارے دلوں کی حالت اور ان کا خشوع و خضوع پوشیدہ ہے اور نہ ہی تمہارے ظاہری رکوع، میں تمہیں عقب سے بھی اُسی طرح دیکھتا ہوں (جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں)۔

93. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَىُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلَا تَسْبِقُوْنِي بِالرُّكُوْعِ وَلَا بِالسُّجُوْدِ، وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالْاِنْصِرَافِ. فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي([99]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ تم رکوع، سجود، قیام اور نماز کے اختتام پر سلام پھیرنے میں مجھ پر پہل نہ کیا کرو۔ بے شک میں تمہیں سامنے اور پسِ پشت یکساں طور پر دیکھتا ہوں۔

94. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَرَى بِاللَّيْلِ فِي الظُّلْمَةِ كَمَا يَرَى بِالنَّهَارِ مِنَ الضَّوْءِ([100]).

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ رات کی تاریکی میں بھی اُسی طرح دیکھتے تھے جس طرح دن کے اُجالے میں۔

95. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ([101]).

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔

96. عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ اللهَ زَوَی لِيَ الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا([102]).

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بےشک الله تعالیٰ نے زمین کو سمیٹ کر میرے قریب کر دیا ہے اور میں اس کے مشارق اور مغارب کو یکساں دیکھتا ہوں۔


حوالہ جات


([98]) أخرجه البخاري في الصحیح، كتاب الصلاة، باب عظة الإمام الناس في إتمام الصلاة وذكر القبلة، 1/161، الرقم/408، وفي كتاب الأذان، باب الخشوع في الصلاة، 1/259، الرقم/708، ومسلم في الصحیح، كتاب الصلاة، باب الأمر بتحسین الصلاة وإتمامها والخشوع فیها، 1/259، الرقم/424، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/303، 365، 375، الرقم/8011، 8756، 8864.

([99]) أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الصلاة، باب تحريم سبق الإمام بركوع أو سجود ونحوهما، 1/320، الرقم/426، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/102، الرقم/12016، وابن خزيمة في الصحيح، 3/47، الرقم/1602، وابن أبي شيبة في المصنف، 2/117، الرقم/7156، وأبو يعلى في المسند، 7/41، الرقم/3952، والبيهقي في السنن الكبرى، 2/91، الرقم/2423.

([100]) أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 6/75، وذكره الهندي في كنز العمال، 7/60، الرقم/18519، والمناوي في فىض القدىر، 5/214، والسيوطي في الخصائص الكبرى1/104، وأيضًا في الشمائل الشرىفة/304، الرقم/558، والحلبي في السيرة الحلبىة، 3/386، والصالحي في سبل الهدى والرشاد، 2/24، وابن الملقن في غاىة السول في خصائص الرسول ﷺ /299.

([101]) أخرجه الترمذي في السنن، كتاب الزهد، باب في قول النبي ﷺ : لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قلىلا، 4/556، الرقم/2312، وابن ماجه في السنن، كتاب الزهد، باب الحزن والبكاء، 2/1402، الرقم/4190، والحاكم في المستدرك، 4/587، الرقم/8633، والبيهقي في السنن الكبرى، 7/52، الرقم/13115، وأيضًا في شعب الإيمان، 1/484، الرقم/783، والدىلمي في مسند الفردوس، 1/77-78، الرقم/233.

([102]) أخرجه مسلم فی الصحیح، كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب هلاك هذه الأمة بعضهم ببعض، 4/2215، الرقم/2889، وأحمد بن حنبل فی المسند، 5/278، الرقم/22448، 22505، وأبو داود فی السنن، كتاب الفتن والملاحم، باب ذكر الفتن ودلائلها، 4/97، الرقم/4252، والترمذی فی السنن، كتاب الفتن، باب ما جاء فی سوال النبيﷺ ثلاثا فی أمته، 4/472، الرقم/2176.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved