ماہ شعبان المعظم کی فضیلت

فَضْلُ شَهْرِ شَعْبَانَ الْمُعَظَّمِ

37. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ يَصُوْمُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.

وَفِي رِوَايَةِ لِمُسْلِمٍ: كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيْلًا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الصوم، باب صوم شعبان، 2: 695، الرقم: 1869، ومسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب صيام النبي ﷺ رمضان واستحباب أن لا يخلي شهر عن صوم، 2: 811، الرقم: 1156، وأحمد بن حنبل في المسند، 6: 143، الرقم: 25144، والنسائي في السنن، كتاب الصيام، باب ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عائشة فيه، 4: 151، الرقم: 2179-2180، وابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب ما جاء في صيام النبي ﷺ ، 1: 545، الرقم: 1710.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ ﷺ شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے: آپ ﷺ چند دن چھوڑ کر شعبان کا پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

38. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضی الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لَهُ أَوْ لِآخَرَ: أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الصوم، باب الصوم آخر الشهر، 2: 700، الرقم: 1882، ومسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب صوم سرر شعبان، 2: 821، الرقم: 1161، وأحمد بن حنبل في المسند، 4: 443، الرقم: 19992، وأبو داود في السنن، كتاب الصوم، باب في التقدم، 2: 298، الرقم: 2328، والنسائي في السنن الكبرى، 2: 164، الرقم: 2868.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ان سے یا کسی اور شخص سے فرمایا: کیا تم نے شعبان کے درمیانی دن کا روزہ رکھا ہے؟ اسں نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم عید (الفطر) کر لو تو تم (اس کے بدلے میں) دو روزے رکھنا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

39. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشُّهُوْرِ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه أحمد في المسند، 6: 188، الرقم: 25589، وأبو داود في السنن، كتاب الصوم، باب في صوم شعبان، 2: 323، الرقم: 2431، والنسائي في السنن، كتاب الصيام، باب صوم النبي ﷺ ، 4: 199، الرقم: 2350.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺ کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ ﷺ شعبان کے روزوں کو رمضان المبارک سے ملا دیا کرتے تھے۔

اسے امام احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

40. وَفِي رِوَايَةِ أُمِّ سَلَمَةَ رضی الله عنها عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُوْمُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه أبو داؤد في السنن، كتاب الصوم، باب كراهية صوم يوم الشك، 2: 300، الرقم: 2336، والبيهقي في السنن الكبرى، 4: 210، الرقم: 7755.

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ (شعبان کے علاوہ) سال میں کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے۔

اِسے امام ابو داود اوربیہقی نے روایت کیا ہے۔

41. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا رضی الله عنها قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَصُوْمُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6: 300، الرقم: 26604، والنسائي في السنن، كتاب الصيام، باب ذكر حديث أبي سلمة في ذلك، 4: 150، الرقم: 2175، وابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب ما جاء في وصال شعبان برمضان، 1: 528، الرقم: 1648، وأبو يعلى في المسند، 12: 405، الرقم: 6970.

اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسلسل دو مہینوں کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا مگر آپ ﷺ شعبان المعظم کے مسلسل روزے رکھتے کہ وہ رمضان المبارک کے روزہ سے مل جاتا۔

اِسے امام احمد بن حنبل اور نسائی نے روایت کیا ہے مذکورہ الفاظ امام نسائی کے ہیں۔

42. عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضی اللہ عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

أخرجه أحمد في المسند، 5: 201، الرقم: 21801، والنسائي في السنن، كتاب الصيام، باب صوم النبي ﷺ بأبي هو وأمي، 4: 201، الرقم: 2357، والبزار في المسند، 7: 69، الرقم: 2617، وابن أبي شيبة في المصنف، 2: 346، الرقم: 9765.

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے (حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں (بندوں کے) اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، سو مجھے پسند ہے کہ میرا عمل حالتِ روزہ میں بارگاہ ایزدی میں پیش کیا جائے۔

اسے امام احمد بن حنبل، نسائی، بزار اور ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

43. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه أَنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها حَدَّثَتْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ. قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَحَبُّ الشُّهُوْرِ إِلَيْكَ أَنْ تَصُوْمَهُ شَعْبَانَ؟ قَالَ: إِنَّ اللهَ يَكْتُبُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مَيِّتَةٍ تِلْكَ السَّنَةَ، فَأُحِبُّ أَنْ يَأْتِيَنِي أَجَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَذَكَرَهُ الْمُنْذِرِيُّ وَقَالَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أخرجه أبو يعلى في المسند، 8: 311، الرقم: 4911، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 72، الرقم: 1540، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 192.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ سے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ شعبان کا پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! تمام مہینوں سے زیادہ آپ کو شعبان میں روزے رکھنا زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یقینا الله تعالیٰ اس سال میں ہر ایک مرنے والے کی موت کو (اسی مہینہ میں) لکھتا ہے۔ لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ حالتِ روزہ میں میرا وصال نامہ لکھا جائے۔

اِسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور منذری نے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اسناد حسن ہے۔

44. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنه قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ، قَالَ: اَللَّهُمَّ، بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَفِيْهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ وَفِيْهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4: 189، الرقم: 3939، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 375، الرقم: 3815، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 6: 269، والديلمي في مسند الفردوس، 1: 485، الرقم: 1984، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 140.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماہِ رجب کا آغاز ہوتا تو رسول الله ﷺ دعا کرتے: اے الله! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔

اِسے امام طبرانی، بیہقی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے کہ اس میں ایک راوی زائدہ بن ابی الرقاد ہے جس پر کلام ہے، مگر اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے۔

مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْنَ

(ائمہ سلف صالحین کے اِرشادات و معمولات)

قَالَتْ لُؤْلُؤَةُ مَوْلَاةُ عَمَّارٍ: كَانَ عَمَّارٌ رضی اللہ عنه يَتَهَيَّأُ لِصَوْمِ شَعْبَانَ كَمَا يَتَهَيَّأُ لِصَوْمِ رَمَضَانَ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ.

ذكره ابن الجوزي في التبصرة، 2: 47.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی لؤلؤۃ کہتی ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شعبان کے روزوں کے لیے ایسے ہی اہتمام کرتے جیسے وہ رمضان کے روزوں کے لیے اہتمام کرتے تھے۔

اسے علامہ ابن الجوزی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: كَانَ يُقَالُ شَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرُ القُرَّاءِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 258.

حضرت سلمہ بن کہیل فرماتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ شعبان قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کا مہینہ ہے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

وَكَانَ حَبِيْبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ إِذَا دَخَلَ شَعْبَانُ، قَالَ: هَذَا شَهْرُ الْقُرَّاءِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 259.

حبیب بن ابی ثابت شعبان کے آنے پر کہتے تھے کہ یہ قرآن مجید کے قاریوں کا مہینہ ہے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

وَكَانَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، إِذَا دَخَلَ شَعْبَانُ، أَغْلَقَ حَانُوْتَهُ وَتَفَرَّغَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَابْنُ رَجَبٍ.

ذكره ابن الجوزي في التبصرة، 2: 47، وابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 259.

عمرو بن قیس المُلَائی شعبان کے آنے پر اپنی دکان کو تالا لگا دیتے اور شعبان اور رمضان میں تلاوتِ قرآن کے لیے خود کو مکمل طور پر فارغ کر دیتے۔

اسے علامہ ابن الجوزی اور ابنِ رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ: قَالَ شَعْبَانُ: يَا رَبِّ، جَعَلْتَنِي بَيْنَ شَهْرَيْنِ عَظِيْمَيْنِ فَمَا لِي؟ قَالَ: جَعَلْتُ فِيْكَ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

ذكره ابن الجوزي في التبصرة، 2: 47، وابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 259.

حسن بن سہل فرماتے ہیں کہ شعبان کہتا ہے: اے میرےپروردگار! آپ نے مجھے دو عظیم مہینوں کے درمیان رکھا ہے تو میرے لیے کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے تیرے اندر قرآن حکیم کی تلاوت رکھی ہے۔

اسے علامہ ابن الجوزی اور ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ انہی کے ہیں۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved