پیر اور جمعرات کے دنوں کی فضیلت

فَضْلُ يَوْمِ الْاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسِ

257. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيْهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوْا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَمَالِكٌ، وَقَالَ أَبُوْدَاوُدَ: إِذَا كَانَتْ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَيْئٍ، النَّبِيُّ ﷺ هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب البر والصلة الآداب، باب النهي عن الشحناء والتهاجر، 4: 1987، الرقم: 2565، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 389، الرقم: 9041، وأبوداود في السنن، كتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم، 4: 279، الرقم: 4916، ومالك في الموطأ، 2: 908، الرقم: 1618.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ (فرشتوں سے) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔

اِسے امام مسلم، احمد، ابو داود اور مالک نے روایت کیا ہے۔ امام ابو داود نے فرمایا: اگر یہ چھوڑنا الله تعالیٰ کے لیے ہو تو اس وعید سے اس کا کوئی تعلق نہیں، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک اپنے آپ سے جدا رکھا تھا، حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنه نے اپنے بیٹے سے تاحیات قطع تعلق کیے رکھا اور حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک آدمی سے اپنا منہ ڈھانپ لیا تھا۔

258. عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضی الله عنهما: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ ﷺ كَانَ يَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ، وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 200، الرقم: 21792، وأبو داؤد في السنن، كتاب الصوم، باب في صوم الإثنين والخميس، 2: 325، الرقم: 2436.

حضرت اُسامہ بن زید رضی الله عنهما سے مروی ہے: الله کے نبی ﷺ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔

اِسے امام احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ امام ابو داؤد کے ہیں۔

259. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ تَصُومُ إِلَّا يَومَيْنِ إِنْ دَخَلاَ فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا. قَالَ: أَيُّ يَومَينِ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ. قَالَ: ذَلِكَ يَومَانِ تُعْرَضُ فِيْهِمَا الأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 201، الرقم: 21801، وأبوداود في السنن، كتاب الصوم، باب صوم الاثنين والخميس، 2: 325، الرقم: 2436، والنسائي في السنن، كتاب الصوم، باب صوم النبي ﷺ، 4: 201، الرقم: 2358، وأيضا في السنن الكبرى، 2: 121، الرقم: 2667.

ایک روایت میں حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنه بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول الله! آپ جب روزے رکھتے ہیں تو افطار کے قریب نہیں جاتے(یعنی ناغہ نہیں فرماتے) اور جب افطار کرنے لگتے ہیں تو روزے کے قریب نہیں جاتے۔ البتہ دو دن ایسے ہیں خواہ وہ روزوں کے دوران آئیں یا افطار کے دوران آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کون سے دو دن؟ میں نے عرض کیا: سوموار اور جمعرات۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دو دنوں میں رب العالمین کے حضور اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ مجھے یہ پسند ہے کہ میرا عمل روزہ کی حالت میں پیش ہو۔

اِسے امام احمد، ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے جب کہ اس کے الفاظ نسائی کے ہیں۔

260. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ. وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ ﷺ كَانَ يَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ، وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 200، الرقم: 21792، وأبوداؤد في السنن، كتاب الصوم، باب في صوم الاثنين والخميس، 2: 325، الرقم: 2436.

ایک روایت میں حضرت اسامہ بن زید کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ حضرت اسامہ رضی الله عنه کے ساتھ ان کے اونٹ تلاش کرنے کے لیے وادی القریٰ گئے۔ پس وہ (حضرت اسامہ رضی الله عنه ) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ ان کے آزاد کردہ غلام نے ان سے کہا: آپ پیر اور جمعرات کو روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: بے شک الله کے نبی ﷺ بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔

اِسے امام احمد بن حنبل اور ابو داؤد نے مذکورہ الفاظ سے روایت کیا ہے۔

261. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَهُوَ صَحِيْحٌ لِطُرُقِهِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ. وَلَهُ شَوَاهِدُ مِنْ أَحَادِيْثِ أَبِيْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ وَابْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ طُرُقٍ؛ هُوَ بِهَا صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس، 3: 122، الرقم: 747، وعبد الرزاق في المصنف، 4: 314، الرقم: 7917، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 78، الرقم: 1569.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کو اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پیش کیے جاتے ہیں۔ پس مجھے یہ پسند ہے کہ میرا عمل جب پیش کیا جائے تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔

اِسے امام ترمذی اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث متعدد طرق کی بناء پر صحیح ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس حدیث کے امام ابو داؤد، نسائی اور ابن خزیمہ کی روایت کردہ احادیث کے متعدد طرق سے شواہد ہیں جس کی وجہ سے یہ حدیث صحیح کے درجہ کو پہنچتی ہے۔

262. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَصُوْمُ الْاِثْنَيْنَ وَالْخَمِيْسَ. فَقِيْلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تَصُومُ الْاِثْنَيْنَ وَالْخَمِيسَ. فَقَالَ: إِنَّ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ يَغْفِرُ اللهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا مُتَهَاجِرَيْنِ. يَقُوْلُ: دَعْهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

أخرجه ابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب صيام يوم الاثنين والخميس، 1: 553، الرقم: 1740.

ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ قطع تعلق کرنے والوں کے سوا ہر مسلمان کی مغفرت فرماتا ہے (ان کے متعلق حکم) فرماتا ہے: جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے انہیں چھوڑ دو۔

اِسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

263. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الْاِثْنَيْنِ فَقَالَ: فِيْهِ وُلِدْتُ وَفِيْهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وَفِي رِوَايَةٍ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِيْهِ النُّبُوَّةُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب استحبابِ صيام ثلاثة أيام من كل شهر، 2: 819، الرقم: 1162، وأحمد بن حنبل في المسند، 5: 296، 297، الرقم: 22590، 22594، والنسائي في السنن الكبرى، 2: 146، الرقم: 2777.

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اِسی روز میری ولادت ہوئی اور اِسی روز میرے اُوپر قرآن نازل کیا گیا۔

اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اِسی روز مجھے نبوت (یعنی بعثت) سے سرفراز کیا گیا۔

اِسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

264. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما ، قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِيْنَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِيْنَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيْهِ ابْنُ لَهِيْعَةَ وَهُوَ ضَعِيْفٌ، وَبَقِيَّهُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيْحِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1: 277، الرقم: 2506، وأيضًا في المسائل، 1: 59، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3: 67، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1: 196، والطبري في جامع البيان، 6: 84، وابن كثير في تفسير القرآن العظيم، 2: 14، والطبري في تاريخ الأمم والملوك، 2: 5، 241، وابن كثير في البداية والنهاية، 2: 260، 3: 177، والكلاعي في الاكتفاء، 2: 453، والفاكهي في أخبار مكة، 4: 6، الرقم: 2298، وابن عبد البر في الاستيعاب، 1: 47، والسيوطي في الخصائص الكبرى، 2: 473.

حضرت (عبد الله) بن عباس رضی الله عنهما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی پیر کے روز ولادت ہوئی، اور پیر کے روز ہی آپ ﷺ کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور آپ ﷺ نے پیر کے روز ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ پیر کے روز ہی مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی اور حجر اسود اٹھانے کا واقعہ بھی پیر کے روز ہی ہوا۔

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن لھیعہ نامی راوی کے علاوہ دیگر رجال ثقہ اور صحیح حدیث کے رجال میں سے ہیں۔

265. وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رضی الله عنه ، قَالَ: وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَامَ الْفِيْلِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِاثْنَتَي عَشَرَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيْعِ الْأَوَّلِ.

رَوَاهُ الْحَاكِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه الحاكم في المستدرك، 2: 659، الرقم: 4182، وابن حبان في الثقات، 1: 15، والبيهقي في شعب الإيمان، 2: 135، الرقم: 1387، وأيضًا في دلائل النبوة، 1: 74، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3: 73، وابن جرير في تاريخ الأمم والملوك، 1: 453، والكلاعي في الاكتفاء، 1: 131، وابن إسحاق في السيرة النبوية: 591-594، وابن هشام في السيرة النبوية، 1: 293.

حضرت محمد بن اسحاق رضی الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ عام الفیل میں پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے۔

اسے امام حاکم، ابن حبان، ابن اسحاق اور بیہقی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved