شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت

فَضْلُ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ

اَلْقُرْآن

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ. فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ.﴾

(الدخان، 44: 3-4)

بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔

سُمِّيَتْ لَيْلَةً مُبَارَكَةً لِتَقْدِيْرِ اللهِ تَعَالَى فِيْهَا مَا يَكُوْنُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ مِنَ الْأَرْزَاقِ وَالْآجَالِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَالْمُرَادُ بِهَذَا التَّقْدِيْرِ إِظْهَارُ ذَلِكَ لِلْمَلَائِكَةِ، وَهِيَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ. فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ. أَمۡراً مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ.﴾

[الدخان، 44: 3-5].

شعبان کی پندرھویں رات کو ’لیلۃ مبارکہ‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس رات میں آئندہ سال کے اَرزاق اور اَموات وغیرہ کا فیصلہ تقدیرِ اِلٰہی سے کیا جاتا ہے۔ اس تقدیر سے مراد اس کا فرشتوں کے سپرد کیا جانا ہے۔ یہی الله تعالیٰ کے اِس فرمان سے مراد ہے: ﴿بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بارگاہ کے حکم سے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔﴾

يَقُوْلُ الْإِمَامُ السَّمْعَانِيُّ (ت: 489ﻫ) مُبَيِّنًا وَجْهَ تَسْمِيَةِ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ بِلَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ: وَسَمَّاهَا مُبَارَكَةً لِكَثْرَةِ الْخَيْرِ فِيْهَا. وَالْبَرَكَةُ: نَمَاءُ الْخَيْرِ، وَنَقِيْضُهُ الشُّؤْمُ: نَمَاءُ الشَّرِّ. وَقِيْلَ: مُبَارَكَةٌ لِأَنَّهُ يُرْجَى فِيْهَا إِجَابَةُ الدُّعَاءِ.

السمعاني في تفسير القرآن، 5: 121.

ماہِ شعبان المعظم کی پندرہویں شب کو لیلۃ مبارکہ کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سمعانی (م489ھ) رقم طراز ہیں: شبِ نصف شعبان کو الله تبارك و تعالیٰ نے برکت والی رات قرار دیا ہے، کیوں کہ اِ س رات میں کثرت کے ساتھ خیر اور بھلائی پائی جاتی ہے۔ برکت کا معنی ہے: خیر کا بڑھنا اور اس کی ضد بد شگونی ہے، جس سے مراد شَر کا بڑھنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: یہ رات اِس لیے مبارک ہے کیوں کہ اِس میں دعا کی قبولیت کی اُمید کی جاتی ہے۔

قَالَ الْآلُوْسِيُّ (ت: 1270ﻫ) مُبَيِّنًا وَجْهَ تَسْمِيَةِ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ بِلَيْلَةِ الرَّحْمَةِ وَلَيْلَةِ الْبَرَكَةِ: وَتُسَمَّى لَيْلَةَ الرَّحْمَةِ وَاللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ وَلَيْلَةَ الصَّكِّ وَلَيْلَةَ الْبَرَاءَةِ.

الآلوسي في روح المعاني في التفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، 25: 110-111.

علامہ آلوسی شبِ نصف شعبان کو رحمت اور برکت والی رات قرار دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس رات کو رحمت، برکت، بخشش اور براءت کی رات کا نام دیا جاتا ہے۔

(1) هَلِ الْمُرَادُ مِنْ ‹‹لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ›› لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ أَوْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟

(’لیلہ مبارکہ‘ سے مراد شبِ برأت ہے یا شبِ قدر؟)

قَالَ اللهُ تَعَالَی فِي كَلَامِهِ الْمَجِيْدِ: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ. فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ.﴾

[الدخان، 44: 3-4].

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔﴾

فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْمُبَارَكَةِ هَلِ الْمُرَادُ مِنْ ﴿لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍ﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ لِرَمَضَانَ أَوْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ؟ اِخْتَلَفَ فِيْهِ الْأَئِمَّةُ وَالْمُفَسِّرُوْنَ وَذَهَبَ أَكْثَرُهُمْ إِلَی أَنَّ الْمُرَادَ مِنْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ بَيْنَمَا ذَهَبَ الْآخَرُوْنَ إِلَی أَنَّ الْمُرَادَ مِنْهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

اِس آیت مبارکہ میں ”لیلۃ مبارکہ“یعنی برکت والی رات کا مصداق ماہِ رمضان کی شبِ قدر ہے یا شعبان کی پندرھویں شب؟ اِس میں اَئمہ و مفسرین کا اِختلاف ہے۔ اکثریت کا رُجحان ہے کہ اِس سے مراد ماہِ رمضان کی شبِ قدر ہے، جب کہ اَئمہ کرام کی ایک جماعت کا قول ہے کہ ”لیلۃ مبارکہ“ سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔

وَقَالَ ابْنُ جَرِيْرٍ الطَّبَرِيُّ (ت: 310ﻫ) بِسَنَدِهِ فِي ‹‹جَامِعِ الْبَيَانِ›› عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِ اللهِ تعالیٰ: ﴿فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾ [الدخان، 44: 3]، قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يُبْرَمُ فِيهِ أَمْرُ السَّنَةِ، وَتُنْسَخُ الْأَحْيَاءُ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَيُكْتَبُ الْحَاجُّ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ، وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ.

ابن جرير الطبري في جامع البيان في تفسير القرآن، 25: 109.

ابن جریر طبری (م 310ھ) ’جامع البیان‘ میں اپنی سند کے ساتھ عکرمہ کا یہ قول روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔﴾ سے مراد ہے: شعبان کی پندرہویں رات میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے، زندوں کا نام مردوں میں بدل دیا جاتا ہے اور حج کرنے والوں کا نام بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر (سال بھر) ان میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے۔

رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيُّ (ت: 327ﻫ) مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ سُوْقَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: ﴿فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾ [الدخان، 44: 3]، قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُبْرَمُ أَمْرُ السَّنَةِ، وَيُنْسَخُ الْأَحْيَاءُ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَيُكْتَبُ الْحَاجُّ، فَلَا يُزَادُ فِيْهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ.

ابن أبي حاتم الرازي في تفسير القرآن العظيم، 10: 3287، الرقم: 18531.

ابن ابی حاتم الرازی (م327ھ) نے محمد بن سوقہ کے طریق سے عکرمہ سے ﴿اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔﴾ کے بارے میں روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے: شعبان کی پندرہویں رات کو پورے سال کے معاملات طے کر لیے جاتے ہیں اور زندوں کو مرنے والوں سے الگ لکھ لیا جاتا ہے اور حج کرنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر (سال بھر) ان لوگوں میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اِضافہ ہوتا ہے۔

وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْمَاوَرْدِيُّ (ت: 450ﻫ) في ﴿لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍ﴾ [الدخان، 44: 3]: فِيْهَا قَوْلَانِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ؛ قَالَهُ عِكْرِمَةُ. وَالثَّانِي: أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ.

الماوردي في النكت والعيون، 5: 244.

امام ابو الحسن الماوردی نے ﴿ایک بابرکت رات﴾ کے بارے میں کہا ہے: اس کے بارے میں دو اَقوال ہیں: پہلا یہ کہ اس سے مراد نصف شعبان کی شب ہے اور یہ عکرمہ کا قول ہے؛ جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ اِس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔

وَرَوَى الْبَغَوِيُّ (ت: 516ﻫ) فِي ‹‹الْمَعَالِمِ››: قَالَ آخَرُوْنَ: هِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

البغوي في معالم التنزيل، 4: 148.

امام بغوی (م516ھ) اپنی تفسیر ’’معالم التنزیل‘‘ میں روایت کرتے ہیں کہ دیگر اَئمہ نے کہا ہے: اِس سے مراد شبِ نصف شعبان ہے۔

وَقَالَ الرَّازِيُّ (ت: 604ﻫ): اِخْتَلَفُوْا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ، فَقَالَ الْأَكْثَرُونَ: إِنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَطَائِفَةٌ آخَرُوْنَ: إِنَّهَا لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ، وَهِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

الرازي في التفسير الكبير، 27: 203.

امام رازی (م604ھ) لکھتے ہیں کہ يہاں لیلۃ مبارکہ کی تعیین میں اِختلاف ہے۔ اکثر کا قول ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ جب کہ حضرت عکرمہ اور دیگر طبقاتِ اَئمہ کی رائے ہے کہ اس سے مرادلیلۃ البراءۃ ہے اور یہ شعبان کی پندرہویں شب ہے۔

وَقَالَ الْآلُوْسِيُّ (ت: 1270ﻫ) فِي ﴿لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍ﴾ [الدخان، 44: 3]، هِيَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَتَادَةَ وَابْنِ جُبَيْرٍ وَمُجَاهِدٍ، وَابْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ الْمُفَسِّرِيْنَ وَالظَّوَاهِرِ مَعَهُمْ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَجَمَاعَةٌ: هِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

الآلوسي في روح المعاني في التفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، 25: 110.

علامہ آلوسی ﴿ایک بابرکت رات ﴾ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد شبِ قدر ہے اور یہ قول اِبن عباس، قتادہ، ابن جبیر، مجاہد، ابن زید اور حسن نے روایت کیا ہے۔ نیز اکثر مفسرین بھی يہی قول کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ظواہر کا موقف بھی یہی ہے۔ جب کہ حضرت عکرمہ اور ان کے ساتھ ایک کثیر جماعت کی رائے یہ ہے کہ اِس سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔

الْجَمْعُ بَيْنَ الرَّأْيَيْنِ

(دونوں آراء میں تطبیق)

بَيَّنَ الْبَغَوِيُّ (ت: 516ﻫ) فِي ‹‹الْمَعَالِمِ›› جَامِعًا بَيْنَ هَذِهِ الْأَقْوَالِ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنهما عَنْ طَرِيْقِ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: إِنَّ اللهَ یَقْضِي الْأَقْضِيَةَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَيُسَلِّمُهَا إِلَى أَرْبَابِهَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ.

البغوي في معالم التنزيل، 4: 149.

امام بغوی ’معالم التنزیل‘ میں اِن اَقوال کی تطبیق کرتے ہوئے امام ابو الضحیٰ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنهما کی روایت بیان کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو معاملات کے فیصلے فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں ان فیصلوں کو (نفاذ و انجام دہی کے لیے) اِن پر مامور اَصحاب کے سپرد کر دیتا ہے۔

وَقَالَ الرَّازِيُّ (ت: 604ﻫ) اَلْأَقْوَالُ الْمُخْتَلِفَةُ فِيْ لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ وَلَيْلَةِ الْقَدْرِ: قُلْنَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللهَ یُقَدِّرُ الْمَقَادِيْرَ فِي لَيْلَةِ الْبَرَاءَةِ، فَإِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ يُسَلِّمُهَا إِلَى أَرْبَابِهَا.

الرازي في التفسير الكبير، 32: 35.

امام فخر الدین رازی (م 604ھ) نے کہا ہے کہ لیلہ مبارکہ اور لیلۃ القدر کے حوالے سے مختلف اقوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات تقدیروں کے فیصلے فرماتا ہے اور جب لیلۃ القدر آتی ہے تو اِن فیصلوں کو (نفاذ و اَنجام دہی کے لیے) اُن پر مامور اَصحاب کے سپرد کر دیتا ہے۔

وَقِيْلَ: يُقَدِّرُ لَيْلَةَ الْبَرَاءَةِ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ، وَلَيْلَةَ الْقَدْرِ يُقَدِّرُ الْأُمُوْرَ الَّتِي فِيْهَا الْخَيْرُ وَالْبَرَكَةُ وَالسَّلَامَةُ.

الرازي في التفسير الكبير، 32: 35.

(امام رازی دوسرا قول لکھتے ہیں:) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رب تعالیٰ شبِ براءت میں زندگی، موت اور رزق کے فیصلے فرماتا ہے، اور شبِ قدر میں اُن اُمور کے فیصلے فرماتا ہے جو (اِنسان کے لیے) خیر، برکت اور (اس کی) سلامتی سے تعلق رکھتے ہیں۔

وَقِيْلَ: يُقَدَّرُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ إِعْزَازُ الدِّيْنِ، وَمَا فِيْهِ النَّفْعُ الْعَظِيْمُ لِلْمُسْلِمِيْنَ. وَأَمَّا لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ، فَيُكْتَبُ فِيْهَا أَسْمَاءُ مَنْ يَمُوْتُ وَيُسَلَّمُ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ.

الرازي في التفسير الكبير، 32: 35.

(امام رازی تیسرا قول لکھتے ہیں:) یہ بھی کہا گیا ہے: شبِ قدر میں دین کی عزت اور مسلمانوں کے لیے نفع عظیم سے متعلقہ اُمور کے فیصلہ جات ہوتے ہیں۔ جب کہ شبِ براءت میں (آنے والے سال میں) فوت ہونے والوں کی فہرست تیار کرکے ملک الموت کے سپرد کر دی جاتی ہے۔

وَقَالَ الْقُرْطُبِيُّ (ت: 671ﻫ): وَقِیْلَ: يَبْدَأُ فِي اسْتِنْسَاخِ ذَلِكَ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ فِي لَيْلَةِ الْبَرَاءَةِ وَيَقَعُ الْفَرَاغُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ.

القرطبي في الجامع لأحكام القرآن، 16: 128.

امام قرطبی (م 671ھ) فرماتے ہیں: ایک قول یہ ہے کہ اِن اُمور کے لوحِ محفوظ سے نقل کرنے کا آغاز شب براءت سے ہوتا ہے اور اِختتام شبِ قدر میں ہوتا ہے۔

وَقَالَ الْمُلَّا عَلِيٌّ الْقَارِيُّ (ت: 1014ﻫ): وَلَا نِزَاعَ فِي أَنَّ لَيْلَةَ نِصْفِ شَعْبَانَ يَقَعُ فِيهَا فَرْقٌ، كَمَا صَرَّحَ بِهِ الْحَدِيثُ، وَإِنَّمَا النِّزَاعُ فِي أَنَّهَا الْمُرَادَةُ مِنَ الْآيَةِ.. .. وَحِينَئِذٍ يُسْتَفَادُ مِنَ الْحَدِيثِ وَالْآيَةِ وُقُوعُ ذَلِكَ الْفَرْقِ فِي كُلٍّ مِنَ اللَّيْلَتَيْنِ إِعْلَامًا بِمَزِيدِ شَرَفِهِمَا. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَقَعَ الْفَرْقُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مَا يُصَدَّرُ إِلَى لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُوْنَ الْفَرْقُ فِي إِحْدَاهُمَا إِجْمَالًا، وَفِي الْأُخْرَى تَفْصِيلًا، أَوْ تَخُصُّ إِحْدَاهُمَا بِالْأُمُورِ الدُّنْيَوِيَّةِ، وَالْأُخْرَى بِالْأُمُورِ الْأُخْرَوِيَّةِ، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الْاِحْتِمَالَاتِ الْعَقْلِيَّةِ.

الملا علي القاري في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، 3: 347.

ملا علی قاری (م1014ھ) آیت مبارکہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اِس اَمر میں کوئی نزاع نہیں ہے کہ شعبان کی پندرھویں شب میں مذکورہ اُمور انجام پاتے ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے صراحت ہو رہی ہے، البتہ اِس میں اِختلاف ہے کہ (سورۃ الدخان کی) آیت کریمہ سے شب براءت مراد ہے یا نہیں۔ … اِس وقت آیت کریمہ اور حدیثِ مبارک سے یہ مستفاد ہوگا کہ اِن اُمور کی انجام دہی دونوں راتوں میں ہوتی ہے۔ اِن دونوں راتوں کے مزید شرف و بزرگی بتلانے کے لیے یہ اِحتمال بھی ہے کہ پندرہویں شعبان میں اِن اُمور کی انجام دہی کا فیصلہ ہوتا ہو جو شبِ قدر تک انجام پاتے ہیں۔ نیز یہ اِحتمال بھی ہے کہ اِن اُمور کی انجام دہی ایک شب میں اِجمالاً ہوتی ہو اور دوسری شب میں تفصیلاً ہوتی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں راتوں میں سے ایک کو اُمورِ دنیویہ کی اَنجام دہی کے ساتھ خاص کر دیا جائے اور دوسری کو اُمورِ اُخرویہ کی اَنجام دہی کے لیے مخصوص کیا جائے۔ اس کے علاوہ مزید احتمالات عقلیہ بھی نکل سکتے ہیں۔

وَقَالَ الْمُبَارَكْفُوْرِيُّ (ت: 1353ﻫ) فِيْ ‹‹شَرْحِ التِّرْمِذِيِّ››: وَلَا نِزَاعَ فِي أَنَّ لَيْلَةَ نِصْفِ شَعْبَانَ يَقَعُ فِيْهَا فَرْقٌ كَمَا صَرَّحَ بِهِ الْحَدِيْثُ، وَإِنَّمَا النِّزَاعُ فِي أَنَّهَا الْمُرَادَةُ مِنَ الْآيَةِ؟. .. وَحِيْنَئِذٍ يُسْتَفَادُ مِنَ الْحَدِيْثِ وَالْآيَةِ وُقُوْعُ ذَلِكَ الْفَرْقِ فِي كُلٍّ مِنَ اللَّيْلَتَيْنِ إِعْلَامًا لِمَزِيْدِ شَرَفِهِمَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَکُوْنَ الْفَرْقُ فِي أَحَدِهِمَا إِجْمَالًا وَفِي الْأُخْرَى تَفْصِيْلًا، أَوْ تُخَصُّ إِحْدَاهُمَا بِالْأُمُوْرِ الدُّنْيَوِيَّةِ وَالْأُخْرَى بِالْأُمُوْرِ الْأُخْرَوِيَّةِ، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الْاِحْتِمَالَاتِ الْعَقْلِيَّةِ.

المباركفوري في تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي، 3: 367.

مبارک پوری (م1353ھ) ’سنن الترمذی‘ کی شرح میں لکھتے ہیں: اِس اَمر میں کوئی اِختلاف نہیں ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کو فیصلے کیے جاتے ہیں، جیسا کہ حدیث نے اس کی صراحت کی ہے، بلکہ نزاع صرف اس میں ہے کہ کیا اس آیت سے یہی (شعبان کی پندرھویں رات) مراد ہے؟ … اس طرح حدیث اور آیت سے یہی سمجھا جائے گا کہ فیصلہ دونوں راتوں میں ہوتا ہے، (اور یہ) اِن دونوں راتوں کا مزید شرف بتلانے کے لیے (بیان کیا گیا)۔ نیز یہ بھی اِحتمال ہے کہ (سال بھر کے) فیصلہ جات اِجمالی طور پر ان دو میں سے کسی ایک رات میں ہوں اور تفصیلی طور پر دوسری رات میں ہوں۔ یا ان دونوں میں سے ایک شب دنیوی اُمور کے ساتھ خاص ہو اور دوسری شب اُخروی اُمور کے ساتھ۔ نیز اِس کے علاوہ دیگر عقلی اِحتمالات بھی ہو سکتے ہیں۔

وَ لَكَ أَنْ تَسْلُكَ طَرِيْقَةَ الْجَمْعِ بِمَا رَوَاهُ أَبُو الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنهما، أَنَّ اللهَ يَقْضِي الْأَقْضِيَةَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَيُسَلِّمُهَا إِلَى أَرْبَابِهَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ.

أخرجه الثعلبي في الكشف والبيان في تفسير القرآن، 10: 248، والبغوي في معالم التنزيل، 4: 149، والقرطبي في الجامع لأحكام القرآن، 20: 130.

(اے قاری!) تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم دونوں اَقوال میں جمع و تطبیق کا طریقہ اختیار کرو، جیسا کہ ابو الضحی نے حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنهما سے روایت کیا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا ہے: بے شک الله تعالیٰ اپنے فیصلے شعبان کی پندرہویں رات فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں اُنہیں اپنے نائبین کے سپرد کر دیتا ہے۔

اِتَّضَحَ مِنَ التَّفَاصِيْلِ الْمَذْكُوْرَةِ أَعْلَاهُ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ ﴿لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍ﴾ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ. وَبِقِرَاءَةِ الْأَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِي فَرْقِ أُمُوْرِ الْحَيَاةِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَالَّتِيْ سَتُذْكَرُ فِي الصَّفَحَاتِ الْآتِيَةِ نَصِلُ إِلَى هَذِهِ النَّتِيْجَةِ أَنَّ الْقَوْلَ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ هُوَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَوْلٌ رَاجِحٌ.

مذکورہ بالا تفاصیل سے ثابت ہوجاتا ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد ماہِ شعبان کی پندرھویں شب ہے۔ نیز شعبان کی پندرھویں شب میں اُمور ِ حیات کے فیصلے ہونے کے حوالے سے آئندہ صفحات میں دی گئی احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے بھی یہ قول راحج معلوم ہوتا ہے کہ ’’لیلہ مبارکہ‘‘ سے مراد شعبان کی پندرہویں شب ہی ہے۔

اَلْحَدِيْث

45. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: أَكُنْتِ تَخَافِيْنَ أَنْ يَحِيْفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُوْلُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ. فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تعالیٰ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی اللہ عنه.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6: 238، الرقم: 26060، والترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 3: 116، الرقم: 739، وابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1: 444، الرقم: 1389، وابن أبي شيبة في المصنف، 6: 108، الرقم: 29858.

احمد بن منیع > یزید بن ہارون > حجاج بن اَرطاۃ > یحی بن ابی کثیر > عروہ > انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں: ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (خواب گاہ میں) نہ پایا تو میں (آپ ﷺ کی تلاش میں) نکل پڑی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تیرے ساتھ نا انصافی کرے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا کہ شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو بخشتا ہے۔

اسے امام احمد بن حنبل، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ امام ترمذی کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے روایت کرنے کے بعد کہا ہے: اس موضوع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی روایت بیان ہوئی ہے۔

وَفِيْهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كَانَ مِنَ الْحُفَّاظِ. وَقَالَ ابْنُ خِرَاشٍ: كَانَ حَافِظًا لِلْحَدِيْثِ. وَقَالَ الْخَطِيْبُ: كَانَ أَحَدَ الْعُلَمَاءِ بِالْحَدِيْثِ وَالْحُفَّاظِ لَهُ.

ذكره السيوطي في طبقات الحفاظ، 1: 88.

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک حجاج بن ارطاۃ ہیں۔ ان کے بارے میں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: یہ حفاظِ حدیث میں سے تھے۔ ابن خراش (ان کے بارے میں) کہتے ہیں: وہ حدیث کے حافظ تھے۔ جب کہ خطیب بغدادی نے کہا ہے: وہ حدیث کے علماء اور حفاظ میں سے تھے۔

وَفِيْهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيْرٍ الْيَمَامِيُّ. قِيْلَ: إِنَّهُ كَثِيْرُ التَّدْلِيْسِ؛ وَلَكِنْ ذَكَرَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِيْنٍ أَنَّهُ أَثْبَتَ لَهُ السَّمَاعَ مِنْ عُرْوَةَ.

أبو سعيد العلائي في جامع التحصيل، 1: 299.

اس حدیث کے راویوں میں یحیی بن ابی کثیر الیمامی بھی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مدلس ہیں، لیکن اسحاق بن منصور نے حضرت یحیی بن معین کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اُنہوں نے یحیی بن ابی کثیر کا حضرت عروہ سے سماع ثابت کیا ہے۔

وَهُنَاكَ قَاعِدَةٌ فِقْهِيَّةٌ عِنْدَ الْأُصُوْلِيِّيْنَ وَالْفُقَهَاءِ: اَلْمُثْبِتُ مُقَدَّمٌ عَلَى النَّافِي(1). وَلِهَذَا السَّبَبِ سَمَاعُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ صَحِيْحٌ بِنِسْبَةِ قَوْلِ ابْنِ مَعِيْنٍ.

(1) ذكره الشربيني في مغني المحتاج، 1: 487، وابن دقيق العيد في شرح عمدة الأحكام، 1: 230، وابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 1: 27.

علماءِ اُصولِ حدیث اور فقہا ء کے ہاں ایک متفقہ قاعدہ ہے کہ ’’مثبت، نافی پر مقدم ہوتا ہے‘‘۔ لہٰذا اس بنا پر ابن معین کے قول پر عمل کرتے ہوئے یحییٰ کا عُروہ سے سماعِ حدیث قبول کیا جائے گا۔

46. عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اللهُ تعالیٰ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيْهِ.

أخرجه البزار في المسند، 1: 206-207، الرقم: 80، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 381، الرقم: 3829، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 307، الرقم: 4190، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 65.

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جب ماہِ شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو الله تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر (اپنی حسبِ شان) نزول فرماتا ہے اور سوائے مشرک اور اپنے بھائی سے بغض و عناد رکھنے والے کے اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ كَمَا قَالَ الْحَافِظُ الْمُنْذِرِيُّ. وَقَالَ الْبَزَّارُ: وَهَذَا الْحَدِيْثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ أَبِي بَكْرٍ. وَأَعْلَى مَنْ رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَبُو بَكْرٍ رضی اللہ عنه، وَإِنْ كَانَ فِي إِسْنَادِهِ شَيْءٌ فَجَلَالَةُ أَبِي بَكْرٍ تُحَسِّنُهُ. وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيْثَ أَهْلُ الْعِلْمِ وَنَقَلُوْهُ وَاحْتَمَلُوْهُ فَذَكَرْنَا لِذَلِكَ.

وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

اسے امام بزار اور بیہقی نے ایسی اسناد سے روایت کیا ہے جس کی صحت میں کوئی شک نہیں؛ جیسا کہ حافظ منذری نے کہا ہے۔ امام بزار فرماتے ہیں: ہم اِسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی صرف اسی طریق سے جانتے ہیں اور یہ حدیث حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مروی ہے۔ مگر سب سے اعلیٰ اسناد سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ اس اِسناد میں کچھ ہو بھی، تب بھی ابو بکر کی جلالت نے اسے حسین بنا دیا ہے۔ اگرچہ عبد الملک بن عبد الملک معروف راوی نہیں ہے، مگر اہلِ علم نے اِسے روایت کیا ہے اور نقل کیا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی اِسے اِسی لیے ذکر کیا ہے۔

امام ہیثمی نے کہا ہے: اسے بزار نے روایت کیا ہے۔ اس میں عبد الملک بن عبد الملک نامی راوی ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم الرازی نے (اپنی کتاب) ’’الجرح والتعدیل‘‘ میں کیا ہے اور اُسے ضعیف نہیں کہا، جب کہ اس حدیث کے بقیہ تمام رجال ثقہ ہیں۔

47. حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: يَطَّلِعُ اللهُ تعالیٰ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ. (1)

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْهَيْثَمِيُّ وَقَالَ: رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيْهِ ابْنُ لَهِيْعَةَ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيْثِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوْا. وَصَحَّحَهُ أَحْمَدُ شَاكِرٌ فِي تَحْقِيْقِهِ لِمُسْنَدِ الإِمَامِ أَحْمَدَ.

وَقَالَ السُّيُوْطِيُّ: وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ. (2)

  1. أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 176، الرقم: 6642، وذكره الخطيب التبريزي في مشكاة المصابيح، 1: 409، الرقم: 1307، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2: 73، الرقم: 1548، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 65.
  2. ذكره السيوطي في طبقات الحفاظ، 1: 107.

حسن > ابن لہیعہ > حیی بن عبد الله > ابو عبد الرحمان الحبلی > انہوں نے حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنه سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں شب (آسمانِ دنیا پر) اپنی شانِ جلالت کا اِظہار فرماتا ہے اور دو اشخاص یعنی چغل خور اور قاتل کے علاوہ سب کی بخشش فرما دیتا ہے۔

اِسے امام احمد اور ہیثمی نے بیان کیا ہے۔ ہیثمی نے کہا ہے: اِسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے جو روایتِ حدیث میں نرمی کرنے والا ہے۔ باقی تمام راویوں کو ثقہ قرار دیا گیا ہے۔ احمد شاکر نے اپنی تحقیق کردہ ’’مسند احمد‘‘ کے نسخہ میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

امام سیوطی نے کہا ہے: اس کے راوی ابن لہیعہ کو امام احمد اور دیگر نے ثقہ قرار دیا ہے۔

48. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه، وَذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي ‹‹التَّهْذِيْبِ›› بِسَنَدٍ جَيِّدٍ، فَلَا شَكَّ فِي صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيْثِ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1: 445، الرقم: 1390، وذكره المزي في تهذيب الكمال، 9: 308، الرقم: 1964.

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، رسول الله ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو (آسمان دنیا پر) ظہورِ اِجلال فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور چغل خور کے۔

اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام مزی نے یہ حدیث ’’تہذیب الکمال‘‘ میں بہت اعلیٰ سند سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے صحیح مرفوع متصل ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

49. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوْ خَلِيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، وَابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی اللہ عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: يَطَّلِعُ اللهُ إِلَى خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي ‹‹الصَّحِيْحِ›› وَالطَّبَرَانِيُّ فِي ‹‹الْكَبِيْرِ›› وَ‹‹الْأَوْسَطِ›› وَ‹‹الْمُسْنَدِ››. وَقَال الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي ‹‹الْكَبِيرِ›› وَ‹‹الْأَوْسَطِ›› وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

وَقَالَ الْمِزِّيُّ فِي تَهْذِيْبِ الْكَمَالِ: مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيُّ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي كِتَابِ الثِّقَاتِ، وَرَوَى عَنْهُ مَكْحُوْلٌ. وَقَالَ الْعَسْقَلَانِيُّ فِي تَقْرِيْبِ التَّهْذِيْبِ: مَكْحُوْلٌ الشَّامِيُّ أَبُوْ عَبْدِ اللهِ ثِقَةٌ.

أخرجه ابن حبان في الصحيح، 12: 481، الرقم: 5665، والطبراني في المعجم الأوسط، 7: 36، الرقم: 6776، وأيضا الطبراني في المعجم الكبير، 20: 108 الرقم: 215، وأيضا في مسند الشاميين، 1: 128، 130، الرقم: 203، 205، وابن أبي عاصم في السنة، 1: 224، الرقم: 512، والبيهقي في شعب الإيمان، 5: 272، الرقم: 6628، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 5: 191، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 65، والمزي في تهذيب الكمال، 27: 167، والعسقلاني في تقريب التهذيب، 1: 545.

ہشام بن خالد الازرق > ابو خلید عتبہ بن حماد > اوزاعی اور ابن ثوبان اَز ثوبان > مکحول > مالک بن یخامر > انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ماہِ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور مشرک اور بغض رکھنے والے کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔

اسے امام ابنِ حبان نے ’’الصحیح‘‘ میں اور طبرانی نے ’’المعجم الکبیر‘‘، ’’المعجم الاوسط‘‘ اور ’’مسند الشامیین‘‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے: اسے طبرانی نے ’’الکبیر‘‘ اور ’’الاوسط‘‘ میں روایت کیا ہے اور ان دونوں روایات کے راوی ثقہ ہیں۔

امام مزی نے ’’تہذیب الکمال‘‘میں کہا ہے: مالک بن یخامر السکسکی کو ابن حبان نے ’’کتاب الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے، جن سے مکحول الشامی نے روایت لی ہے اور حافظ ابن حجر العسقلانی نے ’’تقریب التہذیب‘ ‘میں ابو عبد اللہ مکحول الشامی کو ثقہ کہا ہے۔

50. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيْصِيُّ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رضی اللہ عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: يَطَّلِعُ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدَعُوْهُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ: وَهُوَ بَيْنَ مَكْحُوْلٍ وَأَبِي ثَعْلَبَةَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.

أخرجه الطبراني في المعجم الكبير، 22: 223، الرقم: 590، وابن أبي عاصم في السنة، 1: 223-224، الرقم: 511، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 381-382، الرقم: 3831-3832، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 65.

احمد بن نضر العسکری > محمد بن آدم المصیصی > المحاربی > اَحوص بن حکیم > حبیب بن صہیب > مکحول > انہوں نے ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر (اپنی شان کے لائق) جلوہ گر ہوتا ہے، وہ مومنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے۔ وہ اہلِ حسد کو ان کے حسد میں چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس (حسد) کو ترک کر دیں۔

اسے امام طبرانی، ابنِ ابی عاصم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی نے کہا ہے: مکحول اور ابو ثعلبہ الخشنی کے مابین اس کی سند مرسل جید ہے۔

قَالَ الْأَلْبَانِيُّ: حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيْمٍ، فَإِنَّهُ ضَعِيْفُ الْحِفْظِ كَمَا فِي ‹‹التَّقْرِيْبِ››. فَمِثْلُهُ يُسْتَشْهَدُ بِهِ فَيَتَقَوَّى بِالطَّرِيْقِ الَّتِيْ بَعْدَهُ وَبِشَوَاهِدِهِ الْمُتَقَدِّمَةِ وَغَيْرِهَ.

السنة لابن أبي عاصم ومعها ظلال الجنة للألباني، 1: 224.

ناصر الدین البانی نے کہا ہے: یہ حدیث صحیح ہے اور احوص بن حکیم (جو کہ ضعیف الحفظ ہے) کے علاوہ اس کے تمام رجال ثقہ ہیں جیسا کہ ’’تقریب التہذیب‘‘میں ہے۔ مگر اس طرح کی احادیث سے اِستشہاد کیا جائے گا کیونکہ انہیں اپنے شواہد و توابع سے تقویت مل جاتی ہے۔

قَالَ الْمِزِّيُّ: وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يُعْتَبَرُ بِهِ إِذَا حَدَّثَ عَنْهُ ثِقَةٌ. وَقَالَ أَبُوْ أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ: لَهُ رِوَايَاتٌ وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ وَلَيْسَ فِيْمَا يَرْوِيْهِ شَيْءٌ مُنْكَرٌ إِلَّا أَنَّهُ يَأْتِيْ بِأَسَانِيْدَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَ.

المزي في تهذيب الكمال، 2: 293-294.

امام مزی بیان کرتے ہیں: دارقطنی نے احوص بن حکیم کے بارے میں کہا ہے کہ اِس پر اُس صورت میں اعتبار کیا جائے گا جب کوئی ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔ ابو احمد بن عدی نے کہا ہے: ان سے بہت سی احادیث مروی ہیں، یہ اُن راویوں میں سے ہے جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں اور ثقہ رُواۃ کی ایک جماعت نے ان سے احادیث لی ہیں۔ اس میں کوئی اَمر مانع نہیں ہے جس کا وہ ردّ کرتے اِلّا یہ کہ وہ ایسی اسانید بیان کرے جن کی اِتباع نہیں کی جاسکتی۔

51. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللهَ يَنْزِلُ فِيْهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا؟ أَلَا كَذَا؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1: 444، الرقم: 1388، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 379، الرقم: 3822، والديلمي في مسند الفردوس، 1: 259، الرقم: 1007، وعبد الغني المقدسي في الترغيب في الدعاء، ص: 72، الرقم: 33.

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے: جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن کا روزہ رکھا کرو۔ بے شک الله تعالیٰ اس رات کو اپنی شان کے مطابق غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی آسمانِ دنیا پر نزولِ اِجلال فرماتا ہے اور طلوعِ فجر تک فرماتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی بیماری میں مبتلا نہیں ہے کہ میں اسے شفا دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں ہے؟ کیا کوئی ویسا نہیں ہے؟

اسے امام ابنِ ماجہ، بیہقی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

52. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رضی اللہ عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ نَادَى مُنَادٍ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ، فَلَا يَسْأَلُ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ، إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أَوْ مُشْرِكٌ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيْفٍ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 383، الرقم: 3836، وأيضًا في فضائل الأوقات، ص: 126، الرقم: 25، وذكره الهندي في كنز العمال، 12: 140، الرقم: 35178.

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب ماہِ شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ایک ندا دینے والا ندا دیتا ہے: ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اُسے معاف کر دوں؟ ہے کوئی سوالی کہ میں اُسے عطا کروں؟ اُس دن جو شخص جس چیز کا سوال کرتا ہے اُسے وہ عطا کر دی جاتی ہے، سوائے زانیہ اور مشرک کے۔

اِسے امام بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

53. عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَأَطَالَ السُّجُوْدَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ قُبِضَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُمْتُ حَتَّى حَرَّكْتُ إِبْهَامَهُ فَتَحَرَّكَ، فَرَجَعْتُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ، وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ أَوْ يَا حُمَيْرَاءُ، ظَنَنْتِ أَنَّ النَّبِيَّ خَاسَ بِكِ؟ قُلْتُ: لَا، وَاللهِ، يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَلَكِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ قُبِضْتَ لِطُوْلِ سُجُوْدِكَ. فَقَالَ: أَتَدْرِيْنَ أَيُّ لَيْلَةٍ هَذِهِ؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: هَذِهِ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، إِنَّ اللهَ تعالیٰ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِيْنَ، وَيَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِيْنَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَقَالَ: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُوْنَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ أَخَذَهُ مِنْ مَكْحُوْلٍ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 382-383، الرقم: 3835، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 73-74، الرقم: 1549، وأيضًا في 3: 308-309، الرقم: 4196، والهندي طرفا منه في كنز العمال، 3: 186، الرقم: 7450، وابن حجر الهيتمي في الزواجر، 2: 612.

حضرت العلاء بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول الله ﷺ نے قیام اللیل فرمایا اور سجدہ اس قدر طویل فرما دیا کہ مجھے گمان ہوا شاید آپ ﷺ کی روحِ اقدس قبض کر لی گئی ہے۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے کھڑے ہو کر آپ ﷺ کے انگوٹھا مبارک کو ہلایا، اُس میں حرکت پیدا ہوئی، (یہ دیکھ کر) میں واپس آ گئی۔ پھر رسول الله ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر اپنا سر انور سجدہ سے اُٹھایا اور دریافت فرمایا: اے عائشہ، یا فرمایا: اے حمیراء! کیا تم یہ گمان کرتی ہو کہ الله کے نبی نے تمہارے ساتھ خیانت کی؟ میں نے عرض کیا: نہیں، الله کی قسم، اے الله کے رسول! (میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی)۔ لیکن میں نے آپ کا طویل سجدہ دیکھ کر یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح مبارک قبض کر لی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا: الله تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ پھر فرمایا: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی شان کے لائق) جلوہ گر ہوتا ہے، وہ مغفرت طلب کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔ لیکن وہ حسد کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث مرسل جید ہے، ہو سکتا ہے کہ العلاء بن الحارث نے یہ حدیث مکحول سے لی ہو۔

54. عَنْ كَثِيْرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَغْفِرُ اللهُ تعالیٰ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا الْمُشْرِكَ وَالْمُشَاحِنَ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَقَالَ: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ (لِأَنَّ كَثِيْرَ بْنَ مُرَّةَ تَابِعِيٌّ).

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 381، الرقم: 3831.

حضرت کثیر بن مرہ الحضرمی، حضور نبی اکرم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات مشرک اور بغض رکھنے والے کے سوا تمام اہل زمین کو بخش دیتا ہے۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث مرسل جید ہے (کیونکہ کثیر بن مرہ تابعی ہیں)۔

55. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما قَالَ: خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيْهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلَيْلَتَا الْعِيْدِ.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4: 317، الرقم: 7927، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 342، الرقم: 3713.

حضرت عبد الله بنِ عمر رضی اللہ عنهما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پانچ راتوں میں دعا رَد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، ماہِ رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی راتیں۔

اِسے امام عبد الرزاق اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ بیہقی کے ہیں۔

56. وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنه أَنَّهُ قَالَ: يُعْجِبُنِي أَنْ يُفْرِغَ الرَّجُلُ نَفْسَهُ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَةِ الْفِطْرِ وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ.

ابن الجوزي في التبصرة، 2: 20.

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے وہ شخص بہت پسند ہے جو اپنے آپ کو اِن چار راتوں میں عبادت کے لیے فارغ کر لیتا ہے: عید الفطر کی رات، عید الاضحیٰ کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔

اسے علامہ ابن الجوزی نے بیان کیا ہے۔

57. وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ رضی اللہ عنه: أَرْبَعٌ لَيَالِيْهِنَّ كَأَيَّامِهِنَّ وَأَيَّامُهُنَّ كَلَيَالِيْهِنَّ، يُبِرُّ اللهُ فِيْهِنَّ الْقَسَمَ، وَيُعْتِقُ فِيْهِنَّ النَّسَمَ، وَيُعْطِي فِيْهِنَّ الْجَزِيْلَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَصَبَاحُهَا، وَلَيْلَةُ عَرَفَةَ وَصَبَاحُهَا، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَصَبَاحُهَا، وَلَيْلَةُ الْجُمُعَةِ وَصَبَاحُهَ.

ذَكَرَهُ الْهِنْدِيُّ.

ذكره الهندي في كنز العمال، 12: 144، الرقم: 35214.

حضرت اَنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چار دن ایسے ہیں کہ ان کی راتیں (فضیلت میں) ان کے دنوں کی طرح ہیں اور ان کے دن (فضیلت میں) ان کی راتوں کی طرح ہیں۔ ان میں الله تعالیٰ (اپنے بندوں کی) قسمیں پوری کردیتا ہے اور بے پناہ لوگوں کو (جہنم سے) آزادی کا پروانہ عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ عبادات پر بہت زیادہ اجر و ثواب بھی عطا فرماتا ہے۔ (وہ راتیں اور دن یہ ہیں): شبِ قدر اور اس کا دن، شب عرفہ اور اس کا دن، شبِ برأت اور اس کا دن اور جمعہ کی رات اور جمعہ کا دن۔

اِسے علامہ ہندی نے بیان کیا ہے۔

(2) فِيْمَا يُقَالُ مِنَ الدُّعَاءِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟

(شعبان کی پندرہویں رات کیا دعا کی جائے؟)

58. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها فِي رِوَايَةٍ طَوِيْلَةٍ قَالَتْ: قَالَ ﷺ: بَلْ أَتَانِي جِبْرِيْلُ علیہ السلام ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيْهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُوْرِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيْهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ. (ثُمَّ) قَالَتْ:. .. فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ، تَأْذَنِيْنَ لِي فِي قِيَامِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، بِأَبِي وَأُمِّي. فَقَامَ فَسَجَدَ لَيْلًا طَوِيْلًا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قُبِضَ، فَقُمْتُ أَلْتَمِسُهُ، وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ فَتَحَرَّكَ، فَفَرِحْتُ، وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ فِي سُجُوْدِهِ: أَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، جَلَّ وَجْهُكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرْتُهُنَّ لَهُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، تَعَلَّمْتِهُنَّ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: تَعَلَّمِيْهِنَّ وَعَلِّمِيْهِنَّ، فَإِنَّ جِبْرِيْلَ علیہ السلام عَلَّمَنِيْهِنَّ وَأَمَرَنِي أَنْ أُرَدِّدَهُنَّ فِي السُّجُودِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 384-385، الرقم: 3837، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 307-308، الرقم: 4191.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک طویل روایت میں بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اور اس رات میں الله تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو دوزخ سے آزاد فرماتا ہے، مگر الله تعالیٰ اس رات مشرک، کینہ پرور، قطع رحمی کرنے والے، تکبر سے کپڑا لٹکانے والے، والدین سے قطع تعلقی کرنے والے اور عادی شراب نوش کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ (پھر) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ……… حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس رات الله تعالیٰ کی بارگاہ میں قیام کروں؟ میں نے عرض کیا: جی بالکل، (یا رسول الله!) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے قیام فرمایا، بعد ازاں رات کا ایک حصہ آپ ﷺ مسلسل سجدے میں رہے، یہاں تک کہ مجھے یوں گمان ہوا کہ شاید آپ ﷺ کا وصال اقدس ہو گیا ہے۔ میں اُٹھی تاکہ آپ ﷺ کو چھو کر دیکھوں، میں نے آپ ﷺ کے قدمین مبارک کے تلوؤں پر اپنا ہاتھ رکھا تو آپ ﷺ نے حرکت فرمائی، یہ دیکھ کر میں خوش ہو گئی۔ میں نے سنا کہ آپ ﷺ سجدہ میں یوں دعا فرما رہے ہیں: (أَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، جَلَّ وَجْهُكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.) ’(اے الله!) میں تیری پکڑ سے تیری مغفرت کی پناہ طلب کرتا ہوں، تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں، میں (ہر قسم کے شر سے) تیری پناہ طلب کرتا ہوں، تیرا چہرہ جلالت والا ہے، میں تیری اُس طرح حمد و ثنا بیان نہیں کر سکتا جس طرح تُو نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے‘۔

جب صبح ہوئی تو میں نے یہ دعا آپ ﷺ کے سامنے ذکر کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم نے یہ دعا یاد کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (اچھی طرح) یاد کر لو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دو کہ جبریل امین علیہ السلام نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں اور مجھے یہ حکم پہنچایا ہے کہ میں انہیں اپنے سجدوں میں بار بار پڑھوں۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اسناد ضعیف ہے۔

59. وَعَنْهَا رضی الله عنها قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ لَيْلَتِي،. .. وَفِيْهِ: وَهُوَ يَقُوْلُ فِي سُجُوْدِهِ: سَجَدَ لَكَ خَيَالِي وَسَوَادِي، وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، فَهَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيْمُ، يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيْمٍ، يَا عَظِيْمُ اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ. ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ عَادَ سَاجِدًا، فَقَالَ: أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَقُوْلُ كَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ، أُعَفِّرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَيِّدِي، وَحَقٌّ لَهُ أَنْ يُسْجَدَ. ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ، ارْزُقْنِي قَلْبًا تَقِيًّا مِنَ الشَّرِّ نَقِيًّا لَا جَافِيًا وَلَا شَقِيًّ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. إِسْنَادُهُ ضَعِيْفٌ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 385، الرقم: 3838، وذكر المحدثون طرفا من هذا الحديث ومنهم: مسلم في الصحيح، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود، 1: 352، الرقم: 486، وأحمد بن حنبل في المسند، 6: 58، الرقم: 24357، وأبوداود في السنن، كتاب الصلاة، باب في الدعاء في الركوع والسجود، 1: 232، الرقم: 879، والترمذي في السنن، كتاب الدعوات، باب (76)، 5: 524، الرقم: 3493، وابن ماجه في السنن، كتاب الدعاء، باب ما تعوذ منه رسول الله ﷺ، 2: 1262، الرقم: 3841.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات میری رات تھی ……… اِس روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سجدہ میں یوں دعا فرما رہے تھے: (سَجَدَ لَكَ خَيَالِي وَسَوَادِي، وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، فَهَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيْمُ، يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيْمٍ، يَا عَظِيْمُ اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ.) ’میرا گمان و خیال بھی تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہے۔ میرا دل تجھ پر کامل یقین رکھتا ہے۔ یہ میرا ہاتھ ہے کہ اس سے میں نے اپنے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی۔ اے عظمت والے! بے شک ہر عظیم سے ہی اُمید لگائی جاتی ہے۔ اے عظمت والے (رب)! بڑے گناہ معاف فرما دے۔ میرا چہرہ اُس کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے تخلیق کیا، اور اس میں اُس کی سماعت اور بصارت رکھی‘۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اُٹھایا، لیکن دوبارہ سجدہ ریز ہو گئے اور یوں عرض گزار ہوئے: (أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَقُوْلُ كَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ، أُعَفِّرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَيِّدِي، وَحَقٌّ لَهُ أَنْ يُسْجَدَ.) ’(اے الله!) میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری پکڑ سے تیری مغفرت کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں (ہر قسم کے شر سے) تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ تیرا چہرہ جلالت والا ہے، میں تیری اُس طرح حمد و ثنا بیان نہیں کر سکتا جس طرح تُو نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ میں اُسی طرح تیری بارگاہ میں عرض گزار ہوں جیسے میرے بھائی داؤود علیہ السلام ہوئے تھے۔ میں اپنے آقا کے لیے اپنے چہرے کو خاک آلود کرتا ہوں، وہی اس کا حق دار ہے کہ اُسے سجدہ کیا جائے‘۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے سجدہ سے سر انور اُٹھایا اور پھر یوں دعا کی: (اللَّهُمَّ، ارْزُقْنِي قَلْبًا تَقِيًّا مِنَ الشَّرِّ نَقِيًّا لَا جَافِيًا وَلَا شَقِيًّا.) ’اے الله! مجھے متقی دل عطا فرما، جو بُرائی سے بچنے والا ہو، سخت اور شقی نہ ہو‘۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد ضعیف ہے۔

(3) هَلْ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ تُنسَخُ الآجَالُ؟

(کیا اس رات زندگیوں کے خاتمہ کا فیصلہ ہوتا ہے؟)

قَالَ اللهُ تعالیٰ: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ3 فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾

[الدخان، 44: 3-4]

الله تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔

ذَكَرَ ابْنُ عَطِيَّةَ الْأَنْدَلُسِيُّ (ت: 546ﻫ) فِي تَفْسِيْرِهِ ‹‹الْمُحَرَّرِ›› تَحْتَ هَذِهِ الْآيَةِ: رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيْثِ عَنِ النَّبِيِّ ‏ﷺ‏ «إِنَّ الرَّجُلَ يَتَزَوَّجُ وَيُعَرِّسُ وَقَدْ خَرَجَ اسْمُهُ ‏فِي الْمَوْتَى، لِأَنَّ الْآجَالَ تُقْطَعُ فِي شَعْبَانَ».‏

ذكره.ابن عطية الأندلسي في المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، 5: 69.‏

ابن عطیہ الاندلسی اپنی تفسیر ’المحرّر‘ میں اِس آیت مبارکہ کی تفسیر ميں لکھتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ‏ﷺ‏ سے کسی حدیث میں مروی ہے: بے شک ایک آدمی شادی کرتاہے اور حقِ زَوجیت ادا کرتا ہے ‏حالانکہ اُس کا نام (آئندہ سال کے) فوت شدگان میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔

وَقَالَ عِكْرِمَةُ رضی اللہ عنه: هِيَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُبْرَمُ فِيْهَا أَمْرُ السَّنَةِ، وَيُنْسَخُ الْأَحْيَاءُ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَيُكْتَبُ الْحَاجُّ، فَلَا يُزَادُ فِيْهِمْ أَحَدٌ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ.

ذكره النحاس في معاني القرآن، 6: 397، والثعلبي في الكشف والبيان عن تفسير القرآن، 8: 349، والقرطبي في الجامع لأحكام القرآن، 16: 126، وابن الجوزي في التبصرة، 2: 62، والسيوطي في الدر المنثور، 7: 401، وأيضًا في شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور: 60 الرقم: 6.

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ اس میں عمر کا تعین ہوتا ہے، زندہ لوگوں میں سے وفات پا جانے والوں کا شمار کیا جاتا ہے اور حاجیوں کے نام لکھے جاتے ہیں، ان میں نہ کسی کا اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ کسی کو خارج کیا جاتا ہے۔

وَوَرَدَتْ فِي ذَلِكَ أَحَادِيْثٌ ضَعِيْفَةٌ، بَعْضُهَا أَشَدُّ ضَعْفًا مِنْ بَعْضٍ، وَلَا بَأْسَ أَنْ نَذْكُرَهَا تَتْمِيْمًا لِلْفَائِدَةِ.

اِس موضوع پر کچھ ضعیف احادیث بھی وارد ہوئی ہیں، بعض زیادہ ضعیف ہیں، لیکن یہاں فائدہ کو مکمل کرنے کے لیے ان کو بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

60. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه، أَنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَيْكَ أَنْ تَصُوْمَهُ شَعْبَانُ. قَالَ: إِنَّ اللهَ يَكْتُبُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مَيِّتَةٍ تِلْكَ السَّنَةَ، فَأُحِبُّ أَنْ يَأْتِيَنِي أَجَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَذَكَرَهُ الْمُنْذِرِيُّ، وَقَالَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أخرجه أبو يعلى في المسند، 8: 311، الرقم: 4911، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 72، الرقم: 1540، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 192.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُنہیں حدیث بیان کی کہ حضور نبی اکرم ﷺ پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا شعبان آپ کو تمام مہینوں سے پسندیدہ ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ ہر سال میں وفات پا جانے والی جانوں کے نام اس مہینے میں لکھ دیتا ہے، لہٰذا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میری وفات کا وقت آئے تو میں روزے سے ہوں۔

اِسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور منذری نے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اسناد حسن ہے۔

61. عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رضی الله عنها، قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ، وَلَمْ يَكُنْ يَصُوْمُ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُوْمُهُ كُلَّهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ شَعْبَانَ لَمِنْ أَحَبِّ الشُّهُوْرِ إِلَيْكَ أَنْ تَصُوْمَهُ. فَقَالَ: نَعَمْ، يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ نَفْسٌ تَمُوْتُ فِي سَنَةٍ إِلَّا كُتِبَ أَجَلُهَا فِي شَعْبَانَ وَأُحِبُّ أَنْ يُكْتَبَ أَجَلِي وَأَنَا فِي عِبَادَةِ رَبِّي وَعَمَلٍ صَالِحٍ.

رَوَاهُ الْخَطِيْبُ وَابْنُ الْجَوْزِيِّ.

أخرجه الخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 4: 436، الرقم: 2339، وابن الجوزي في التبصرة، 2: 50، وذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 402، وذكره النسائي مختصرا في السنن، كتاب الصيام، باب ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عائشة رضی اللہ عنہا فيه، 4: 151، الرقم: 2179.

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ پورا شعبان روزے رکھا کرتے حتیٰ کہ اُسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔ شعبان کے علاوہ آپ ﷺ کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! بے شک شعبان آپ کو تمام مہینوں میں زیادہ پسندیدہ ہے کہ آپ اس ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اے عائشہ! پورے سال میں کوئی شخص فوت نہیں ہوتا مگر یہ کہ اُس کی موت کا تعین شعبان میں کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ جس وقت میری موت کا پروانہ لکھا جائے اس وقت میں اپنے رب کی عبادت اور نیک عمل میں مصروف ہوں۔

اِسے امام خطیب بغدادی اور ابن الجوزی نے بیان کیا ہے۔

62. وَعَنْهَا رضی الله عنها، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: هَلْ تَدْرِيْنَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟ قَالَتْ: مَا فِيْهَا، يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ فَقَالَ: فِيْهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ مَوْلُوْدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ، وَفِيْهَا تُنْزَلُ أَرْزَاقُهُمْ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه البيهقي في فضائل الأوقات، ص: 128، الرقم: 26.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ اس رات میں کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! اس رات میں کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اِس رات میں آئندہ سال میں اولاد آدم میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اِسی رات میں آئندہ سال اولادِ آدم میں سے وفات پا جانے والے ہر فرد کا نام بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اسی رات اُن کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور اُن کا رزق (زمین میں) اُتارا جاتا ہے۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

63. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَخْنَسِ رضی اللہ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: تُقْطَعُ الْآجَالُ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى شَعْبَانَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْكِحُ فِيْهِ وَيُوْلَدُ لَهُ وَلَقَدْ خَرَجَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى.

رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ وَالطَّبَرِيُّ وَالْبَغَوِيُّ.

أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 2: 73، الرقم: 2410، والطبري في جامع البيان في تفسير القرآن، 25: 109، والبغوي في معالم التنزيل، 4: 149، وذكره السيوطي في شرح الصدور، باب قطع الآجال كل سنة، ص: 60، الرقم: 1.

حضرت عثمان بن الاخنس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شعبان سے شعبان تک عرصہ ہاے حیات کے اختتام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایک شخص شادی کرتا ہے اور اُس کی اولاد پیدا ہوتی ہے لیکن اُس کا نام فوت ہونے والوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔

اِسے امام دیلمی، طبری اور بغوی نے روایت کیا ہے۔

64. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: يَفْتَحُ اللهُ الْخَيْرَ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَةِ الْأَضْحَى، وَالْفِطْرِ، وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُنْسَخُ فِيْهَا الْآجَالُ وَالأَرْزَاقُ وَيُكْتَبُ فِيْهَا الْحَاجُّ، وَفِي لَيْلَةِ عَرَفَةَ إِلَى الْأَذَانِ.

ذَكَرَهُ السُّيُوْطِيُّ وَقَالَ: أَخْرَجَهُ الْخَطِيْبُ فِي رُوَاةِ مَالِكٍ.

ذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 402، وأيده الهندي في كنز العمال، 12: 144، الرقم: 35215.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: الله تعالیٰ چار راتوں میں خیر و برکت کے دروازے کھول دیتا ہے: عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی رات، پندرہ شعبان کی رات کہ اس میں زندگیاں اور رزق لکھ دیے جاتے ہیں، اسی رات میں حج کی سعادت پانے والے ہر خوش بخت کے نام کا اندراج کیا جاتا ہے اور چوتھی رات یوم عرفہ کی رات ہے، اذانِ فجر تک۔

اِسے امام سیوطی نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے: اسے خطیب بغدادی نے ’’رواۃ مالک‘‘ میں بیان کیا ہے۔

65. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَيْضًا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيْرَةِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ طَلَعَتْ شَمْسُهُ فِيْهِ إِلَّا يَقُوْلُ: مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَعْمَلَ فِي خَيْرٍ فَلْيَعْمَلْهُ، فَإِنِّي غَيْرُ مُكَرَّرٍ عَلَيْكُمْ أَبَدًا، وَمَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا يُنَادِي مُنَادِيَانِ مِنَ السَّمَاءِ يَقُوْلُ أَحَدُهُمَا: يَا طَالِبَ الْخَيْرِ، أَبْشِرْ. وَيَقُوْلُ الْآخَرُ: يَا طَالِبَ الشَّرِّ، أَقْصِرْ. وَيَقُوْلُ أَحَدُهُمَا: اَللَّهُمَّ، أَعْطِ مُنْفِقًا مَالًا خَلَفًا. وَيَقُوْلُ الآخَرُ: اللَّهُمَّ، أَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفً.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِّيْنَا بَعْضَهُ مَوْصُوْلًا.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 386، الرقم: 3840، وذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 402، والهندي في كنز العمال، 15: 336، الرقم: 43162.

زہری بیان کرتے ہیں کہ مجھے عثمان بن محمد بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے: کوئی دن ایسا نہیں جس میں طلوع ہونے والا سورج یہ نہ کہتا ہو: جو کوئی نیک عمل کی استطاعت رکھتا ہے، وہ نیک عمل ضرور کرے، میں تم پر ہمیشہ بار بار طلوع نہیں ہوں گا۔ کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں آسمان سے دو ندا دینے والے ندا نہ دیتے ہوں، ایک کہتا ہے: اے بھلائی چاہنے والے! تجھے خوشخبری ہو۔ دوسرا کہتا ہے: اے بُرائی چاہنے والے! (بُرے اعمال) کم کر دے۔ ایک کہتا ہے: اے الله! مال خرچ کرنے والے کو اُس کا نائب عطا فرما۔ دوسرا کہتا ہے: مال روک کر رکھنے والے کے مال کو ضائع کر دے۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث منقطع ہے، اس کا بعض حصہ ہمیں موصولا روایت کیا گیا ہے۔

66. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، لِأَنَّهُ يُنْسَخُ فِيْهِ أَرْوَاحُ الْأَحْيَاءِ فِي الْأَمْوَاتِ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ يَتَزَوَّجُ وَقَدْ رُفِعَ اسْمُهُ فِيْمَنْ يَمُوْتُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَحُجُّ وَقَدْ رُفِعَ اسْمُهُ فِيْمَنْ يَمُوْتُ.

ذَكَرَهُ السُّيُوْطِيُّ وَقَالَ: أَخْرَجَهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ وَابْنُ عَسَاكِرَ.

ذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 401.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول الله ﷺ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینے میں اِس قدر (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے، کیونکہ اس مہینے میں زندوں کی اَرواح کو مُردوں کی اَرواح میں لکھ دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایک شخص شادی کرتا ہے لیکن اُس کا نام وفات پانے والوں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوتا ہے۔ ایک شخص حج کرتا ہے اور اس کا نام بھی وفات پانے والوں میں سب سے اوپر لکھا ہوتا ہے۔

اِسے امام سیوطی نے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے ابن مردویہ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

67. عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُوْحِي اللهُ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ بِقَبْضِ كُلِّ نَفْسٍ يُرِيْدُ قَبْضَهَا فِي تِلْكَ السَّنَةِ.

ذَكَرَهُ السُّيُوْطِيُّ وَقَالَ: أَخْرَجَهُ الدِّيْنَوَرِيُّ فِي الْمُجَالَسَةِ.

ذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 401، وأيضا في شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور، ص: 60، الرقم: 7، والهندي في كنز العمال، 12: 140، الرقم: 35176.

حضرت راشد بن سعد سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پندرہویں شعبان کی رات الله تعالیٰ ہر اُس جان کا نام ملک الموت کو وحی کر دیتا ہے جس جان کی اُس سال روح قبض کرنے کا الله تعالیٰ ارادہ فرما لیتا ہے۔

اِسے امام سیوطی نے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے دینوری نے المجالسۃ میں روایت کیا ہے۔

68. عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، وَذَلِكَ أَنَّهُ يُنْسَخُ فِيْهِ آجَالُ مَنْ يُنْسَخُ فِي السَّنَةِ.

ذَكَرَهُ السُّيُوْطِيُّ وَقَالَ: أَخْرَجَهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. هَذَا حَدِيْثٌ مُرْسَلٌ.

ذكره السيوطي في الدر المنثور، 7: 401.

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول الله ﷺ شعبان سے بڑھ کر اور کسی مہینہ میں اس قدر (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے، وہ اس لیے کہ اس مہینے میں اُن لوگوں کی اموات کا فیصلہ لکھ دیا جاتا ہے جنہوں نے اس سال داعیِ اَجل کو لبیک کہنا ہوتا ہے۔

اِسے امام سیوطی نے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے۔

فَهَذِهِ الأَحَادِيْثُ هِيَ مُسْتَنَدُ مَنْ قَالَ: إِنَّ لَيْلَةَ النِّصْفِ تُنْسَخُ فِيْهَا الآجَالُ وَالْأَرْزَاقُ وَغَيْرُهَا كَمَا سَبَقَ عَنْ عِكْرِمَةَ.

وَوَرَدَ مِثْلُ ذَلِكَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، فَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا عَنْهُ قَالَ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ دُفِعَ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَحِيْفَةً فَيُقَالُ: اقْبِضْ مَنْ فِي هَذِهِ الصَّحِيْفَةِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَغْرِسُ الْغِرَاسَ، وَيَنْكِحُ الْأَزْوَاجَ، وَيَبْنِي الْبُنْيَانَ وَأَنَّ اسْمَهُ قَدْ نُسِخَ فِي الْمَوْتَى.

ذكره السيوطي في شرح الصدور، ص: 60، الرقم: 4، وأيضًا في الدر المنثور في التفسير بالمأثور، 7: 402.

مذکورہ تمام احادیث مستند دلیل ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو قائل ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات میں اَموات اور رزق وغیرہ لکھے جاتے ہیں؛ جیسا کہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کا ذکر گزرا ہے۔

اسی طرح کی روایت حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ ابن ابی الدنیا نے بھی اُن سے روایت کیا ہے کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک کتاب دی جاتی ہے اور اُسے کہا جاتا ہے: جن کا نام اس کتاب میں ہے اُن کی روح قبض کر لو۔ بے شک کوئی بندہ درخت لگا رہا ہوتا ہے، یا وہ شادی کر رہا ہوتا ہے، یا کوئی عمارت تعمیر کر رہا ہوتا ہے حالانکہ اُس کا نام فوت شدگان میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔

لَكِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيْثُ ضَعِيْفَةٌ كَمَا قُلْنَا، وَالْقُرْآنُ يُفِيْدُ خِلَافَ مَا أَفَادَتْهُ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ3 فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾ [الدخان، 44: 3-4]، ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ﴾ [القدر، 97: 1].

لیکن ان میں بعض احادیث ضعیف بھی ہیں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، کیونکہ قرآن حکیم اُس کے خلاف بیان کرتا ہے جو کچھ مذکورہ روایات سے ماخوذ ہے۔ بے شک الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔‘ پھر الله تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے‘۔

وَحَاصِلُ هَذَا أَنَّ اللهَ يَقْضِي مَا يَشَاءُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ سَلَّمَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ صَحَائِفَ بِمَا قَضَاهُ، فَيُسَلِّمُ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَحِيْفَةَ الْمَوْتَى، وَإِلَى مَلَكِ الرِّزْقِ صَحِيْفَةَ الْأَرْزَاقِ، وَهَكَذَا كُلُّ مَلَكٍ يَتَسَلَّمُ مَا نِيْطَ بِهِ، وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾ أَشَارَ إِلَى هَذَا. وَاللهُ أَعْلَمُ، حَيْثُ قَالَ: ﴿يُفۡرَقُ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: ‹‹يُقْضَى›› أَوْ ‹‹يُكْتَبُ››. وَالْفَرْقُ: اَلتَّمِيْزُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ، فَالآيَةُ تُشِيْرُ إِلَى أَنَّ الْمَقْضِيَّاتِ تُفْرَقُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِتَوْزِيْعِهَا عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُوَكَّلِيْنَ بِهَا؛ أَمَّا كِتَابَتُهَا وَتَقْدِيْرُهَا فَهُوَ حَاصِلٌ فِي لَيْلَةِ نِصْفِ شَعْبَانَ كَمَا فِي الْأَحَادِيْثِ الْمَذْكُوْرَةِ، وَبِهَذَا يُجْمَعُ شَمْلُ الْأَقْوَالِ الْمُتَضَارِبَةِ فِي هَذَا الْبَابِ وَيُرْأَبُ صَدْعُهَا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.

اِس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ الله تعالیٰ لوحِ محفوظ میں جو فیصلے بھی چاہتا ہے وہ شعبان کی پندرہویں رات فرما دیتا ہے، اور جب لیلۃ القدر آتی ہے تو ان فیصلوں کے نفاذ کی ذمہ داری فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ فوت شدگان کی فہرست ملک الموت کے سپرد کر دی جاتی ہے، رزق والے فرشتے کے سپرد رزق والا صحیفہ کر دیتا ہے، اس طرح ہر فرشتے کے سپرد وہ امر کر دیا جاتا ہے جس کا اُسے نگران بنایا گیا تھا۔ اسی بارے میں الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ﴾ ’اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے‘۔ اس آیت میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ الله بہتر جانتا ہے لیکن اُس نے ﴿يُفۡرَقُ﴾ فرمایا ہے، ’’یُقْضٰی‘‘ نہیں فرمایا، یا ’’یُكْتَبُ‘‘ نہیں فرمایا، اور فرق دو چیزوں کے درمیان تمیز کو کہتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فیصلے لیلۃ القدر میں فرشتوں کے درمیان اُن کی ذمہ داریوں کے مطابق تقسیم کر دیےجاتے ہیں، جبکہ اُن کا لکھا جانا اور مقدر کر دیا جانا شعبان کی پندرہویں رات وقوع پذیر ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث میں صراحتاً بیان ہوا ہے۔ یوں اس معاملہ میں تمام متعارض اَقوال کو جمع کیا جا سکتا ہے، اُن میں تطبیق پیدا کی جا سکتی ہے اور اختلاف سے بچا جا سکتا ہے۔ والحمد ﷲ رب العالمین۔

(4) مَنْ لَا يُغْفَرُ لَهُمْ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةَ

(وہ لوگ جنہیں اِس رات بخشش نصیب نہیں ہوتی)

إِذْا تَأَمَّلْتَ الأَحَادِيْثَ الَّتِي أَوْرَدْنَاهَا وَجَدْتَهَا تُخْبِرُ بِعُمُوْمِ مَغْفِرَةِ اللهِ لِعِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ نِصْفِ شَعْبَانَ إِلَّا أَشْخَاصًا مَعْدُوْدِيْنَ لَا تَشْمَلُهُمْ مَغْفِرَةُ اللهِ، وَلَا تَنَالُهُمْ رَحْمَتُهُ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ، لِاتِّصَافِهِمْ بِصِفَاتٍ قَبِيْحَةٍ وَتَلَبُّسِهِمْ بِخِلَالٍ شَنِيْعَةٍ، إِلَّا مَنْ تَابَ مِنْهُمْ وَصَلَحَ. فَإِنَّ اللهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ وَيُبَدِّلُ سَيِّئَاتِهِ حَسَنَاتٍ، كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَٰلِحاً فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّ‍َٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ اللهُ غَفُوراً رَّحِيماً﴾ [الفرقان، 25: 70]. وَإِلَيْكَ أَسْمَاءَ الْأَشْخَاصِ الْمَحْرُوْمِيْنَ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ لِتَجْتَنِبَ مَا حُرِمُوْا بِسَبَبِهِ:

جب آپ اس باب میں مذکور احادیث کا بغور مطالعہ کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اِن میں عمومی طور پر شعبان کی اس پندرہویں رات میں الله تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے مغفرت کا ذکر ہے، مگر ان چند افراد کے علاوہ جنہیں الله تعالیٰ کی اس مغفرت میں شامل نہیں کیا گیا۔ معاذ الله! اُنہیں الله تعالیٰ کی رحمت بھی نہیں پہنچے گی اور اِس کی وجہ اُن کا صفاتِ قبیحہ اور بُرے افعال سے متصف ہونا ہے، سوائے اُن اشخاص کے جنہوں نے توبہ کر لی اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لی۔ بے شک الله تعالیٰ اُن کی توبہ قبول فرمائے گا اور اُن کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ جیسا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَٰلِحاً فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّ‍َٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ اللهُ غَفُوراً رَّحِيماً﴾ ’مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘۔ ذیل میں اس رات مغفرت سے محروم رہ جانے والے اشخاص کا تذکرہ کیا جاتا ہے تاکہ آپ اُن افعال سے کنارہ کشی اختیار کریں جو ان کی محرومی کا سبب بنتے ہیں:

أ) اَلْمُشْرِكُ

(مشرک)

فَجَدِيْرٌ بِهِ أَنْ يُحْرَمَ وَيُمْنَعَ؛ لِأَنَّهُ ارْتَكَبَ أَقْبَحَ الذُّنُوْبِ، وَتَلَبَّسَ بِأَعْظَمِ الظُّلْمِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ﴾ [لقمان، 31: 13]، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ﴾ [النساء، 4: 48].

مشرک اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے محروم رکھا جائے، کیونکہ اُس نے قبیح گناہ اور سب سے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، جیسا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ﴾ ’بے شک شِرک بہت بڑا ظلم ہےo‘۔ اور الله تعالیٰ یہ بھی نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّ اللهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ﴾ ’بے شک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے‘۔

وَمَثَلُ الْمُشْرِكِ فِي الْحِرْمَانِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ؛ اَلْكَافِرُ وَهُوَ الَّذِي لَمْ يَعْتَنِقْ دِيْنَ الإِسْلَامِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِيناً فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾ [آل عمران، 3: 85].

مشرک کے مغفرت سے محروم ہونے کی مثال کافر کی سی ہے کہ وہ بھی دین اسلام کو قبول نہیں کرتا اور یوں محروم رہتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِيناً فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾ ’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا‘۔

ب) اَلْمُشَاحِنُ

(کینہ پرور)

وَهُوَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ حِقْدٌ عَلَى أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ لِهَوًى فِي نَفْسِهِ، وَهَذَا الْحِقْدُ وَالتَّشَاحُنُ يَمْنَعُ الْمَغْفِرَةَ فِي أَغْلَبِ أَوْقَاتِهَا.

یہ وہ شخص ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے اپنے دل میں کینہ (بغض) رکھتا ہے، ایسا اپنے نفس کی خواہش کی بنا پر کرتا ہے۔ یہ کینہ اور بغض اکثر اوقات مغفرت سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔

69. فَفِي الصَّحِيْحِ لِمُسْلِمٍ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيْهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوْا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَمَالِكٌ، وَقَالَ أَبُوْدَاوُدَ: إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَيْءٍ. النَّبِيُّ ﷺ هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب البر والصلة الآداب، باب النهي عن الشحناء والتهاجر، 4: 1987، الرقم: 2565، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 389، الرقم: 9041، وأبوداود في السنن، كتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم، 4: 279، الرقم: 4916، ومالك في الموطأ، 2: 908، الرقم: 1618.

’صحیح مسلم‘ میں حدیث مبارک ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ (فرشتوں سے) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔

اِسے امام مسلم، احمد، ابو داود اور مالک نے روایت کیا ہے۔ امام ابو داود نے فرمایا: اگر یہ چھوڑنا الله تعالیٰ کے لیے ہو تو اس وعید سے اس کا کوئی تعلق نہیں، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعض ازواجِ مطہرات کو چالیس دن تک اپنے آپ سے جدا رکھا تھا، حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے تاحیات قطع تعلق کیے رکھا اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے اپنا منہ ڈھانپ لیا تھا۔

وَقِيْلَ: بَلِ الشَّحْنَاءُ الْمَانِعَةُ مِنَ الْمَغْفِرَةِ هِيَ الْحِقْدُ عَلَى الصَّحَابَةِ وَبُغْضُهُمْ، هَذَا أَحَدُ قَوْلَي الْأَوْزَاعِيِّ، وَالْقَوْلُ الثَّانِي لَهُ: أَنَّ الشَّحْنَاءَ هِيَ الْاِبْتِدَاعُ وَمُفَارَقَةُ الْجَمَاعَةِ، وَفِي مَعْنَى هَذَا قَوْلُ ابْنِ ثَوْبَانَ: اَلْمُشَاحِنُ هُوَ التَّارِكُ لِسُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ، اَلطَّاعِنُ عَلَى أُمَّتِهِ، اَلسَّافِكُ دِمَاءَهُمْ.

کہا گیا ہے: وہ کینہ جو مغفرت کے مانع ہے، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض ہے۔ یہ امام اَوزاعی کے اقوال میں سے ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے: کینہ بدعت اور جماعت سے الگ ہونے کا نام ہے۔ اس معنٰی میں ابن ثوبان کا یہ قول دلیل ہے: سنت نبوی کا تارک، آپ ﷺ کی اُمت پر طعن کرنے والا اور اُن کا ناحق خون بہانے والا (حقیقتاً) کینہ پرور ہے۔

وَظَاهِرُ الْأَحَادِيْثِ بَلْ صَرِيْحُهَا يُفِيْدُ أَنَّ الشَّحْنَاءَ الْمَانِعَةَ مِنَ الْمَغْفِرَةِ هِيَ تَهَاجُرُ الْأَقْرَانِ وَتَحَاقُدُهُمْ، اَلشَّحْنَاءُ بِهَذَا الْمَعْنَى تَسْتَلْزِمُ غَيْرَهَا مِمَّا ذُكِرَ بِطَرِيْقِ الأَوْلَى؛ لِأَنَّهُ إِذَا كَانَ هَجْرُ مُطْلَقِ الْمُسْلِمِ وَالْحِقْدُ عَلَيْهِ يَمْنَعُ الْمَغْفِرَةَ فَيَكُوْنُ تَرْكُ السُّنَّةِ، وَاتِّبَاعُ الْبِدْعَةِ، وَبُغْضُ الصَّحَابَةِ أَوْلَى بِالْمَنْعِ وَأَجْدَرُ بِالْحِرْمَانِ. وَهَذَا وَاضِحٌ.

لیکن احادیث کا ظاہری معنٰی بلکہ صریح الفاظ اس بات کا فائدہ دیتے ہیں کہ کینہ اور بغض جو مغفرت کے مانع ہے وہ قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی اور اُن سے بغض رکھنا ہے۔ اس معنٰی کے لحاظ سے بھی دیگر معانی بھی بطریق اولیٰ اس معنٰی کو مستلزم ہیں۔ اگر مطلقاً ایک مسلمان سے قطع تعلق اور اُس سے بغض و عناد رکھنا مغفرت سے محرومی کا سبب ہے تو ترکِ سنت، بدعت کا ارتکاب اور بغض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بدرجہ اولیٰ محرومی کا سبب ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے۔

ج) اَلْقَاتِلُ

(قاتل)

وَالْقَتْلُ أَعْظَمُ الذُّنُوْبِ بَعْدَ الْكُفْرِ، وَهُوَ مِنَ السَّبْعِ الْمُوْبِقَاتِ.

کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ قتل ہے۔ یہ سات ناپسندیدہ ترین گناہ کبیرہ میں سے ہے۔

70. وَفِي ‹‹سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ››: عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی اللہ عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مُؤْمِنٌ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدً.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاكِمُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

أخرجه أبو داود في السنن، كتاب الفتن والملاحم، باب في تعظيم قتل المؤمن، 4: 103، الرقم: 4270، والطبراني في المعجم الأوسط، 9: 95، الرقم: 9228، والبيهقي في السنن الكبرى، 8: 21، الرقم: 15639.

’’سنن ابی داود‘‘ میں روایت ہے: حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: الله تعالیٰ کی بارگاہ سے اُمید ہے کہ وہ ہر گناہ بخش دے گا، سوائے اُس شخص کے جو مشرک مرا یا اُس مومن کے جس نے دوسرے مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا۔

اِسے امام ابو داود، طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

وَالْأَحَادِيْثُ فِي تَعْظِيْمِ أَمْرِ الْقَتْلِ كَثِيْرَةٌ، وَيَكْفِي قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: ﴿وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِداً فِيهَا وَغَضِبَ ٱللهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيماً﴾ [النساء، 4: 93].

قتل کے معاملے میں کثیر احادیث مروی ہیں، لیکن یہاں الله تعالیٰ کا یہ فرمان ہی کافی ہے: ’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہےo‘۔

د) قَاطِعُ الرَّحِمِ

(قطع رحمی کرنے والا)

قَطْعُ الرَّحِمِ مِنَ الْكَبَائِرِ.

قطع رحمی کبیرہ گناہ ہے۔

71. فَفِي ‹‹الصَّحِيْحَيْنِ››: عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رضی اللہ عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الأدب، باب إثم القاطع، 5: 2231، الرقم: 5638، ومسلم في الصحيح، كتاب البر والصلة والآداب، باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها، 4: 1981، الرقم: 2556، وأحمد بن حنبل في المسند، 4: 83، الرقم: 16809، وأبو داود في السنن، كتاب الزكاة، باب في صلة الرحم، 2: 133، الرقم: 1696.

صحیحین کی روایت ہے: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

72. وَفِي الْمُسْنَدِ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيْسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 483، الرقم: 10277، والبخاري في الأدب المفرد، ص: 35، الرقم: 61، والبيهقي في شعب الإيمان، 6: 224، الرقم: 7965، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 233، الرقم: 3824، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 151.

’مسند احمد‘ میں ثقہ رجال کی اسناد کے ساتھ یہ روایت ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول الله ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اولادِ آدم کے اعمال ہر جمعہ کی رات (بارگاہِ الٰہی میں) پیش کیے جاتے ہیں، لیکن قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا۔

اِسے امام احمد نے، بخاری نے ’’الأدب المفرد‘‘ میں اور بیہقی نے ’’شعب الإیمان‘‘ میں روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے: اِس کے رجال ثقہ ہیں۔

وَقَدْ تَوَعَّدَ اللهُ قَاطِعَ الرَّحِمِ بِاللَّعْنَةِ وَغَيْرِهَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ﴾ [محمد، 47: 22].

الله تعالیٰ نے قطع رحمی کرنے والے پر لعنت اور دیگر سزائیں نازل فرمائی ہیں، جیسا کہ الله تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)o‘۔

ر) اَلْمُسَبِّلُ وَالْمُتَكَبِّرُ

(تکبر و غرور سے کپڑا لٹکانے والا اور متکبر)

وَالْمُرَادُ بِهِ مَنْ يُسَبِّلُ ثِيَابَهُ وَيَجُرُّهَا فَخْرًا وَتَكَبُّرًا.

اِس سے مراد وہ شخص ہے جو تکبر اور غرور سے اپنا کپڑا لٹکائے اور اُسے زمین پر گھسیٹے۔

73. فَفِي ‹‹صَحِيْحِ الْبُخَارِيِّ›› عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، خُسِفَ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الأنبياء، باب حديث الغار،3: 1285، الرقم: 3297، ومسلم في الصحيح، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم التبختر في المشي مع إعجابه بثيابه، 3: 1653، الرقم: 2088، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 66، الرقم: 5340، والنسائي في السنن، كتاب الزينة، التغليظ في جر الإزار، 8: 206، الرقم: 5326.

’’صحیح بخاری‘‘ میں حدیث مبارک ہے:حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنهما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے تکبر کی وجہ سے اپنی ازار (چادر، تہ بند) لٹکائی ہوئی تھی، وہ زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

74. وَفِي ‹‹صَحِيْحِ الْبُخَارِيِّ›› عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما أَيْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ أَبُوْبَكْرٍ: إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ ثَوْبِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّكَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي ﷺ: لو كنت متخذا خليلا، 3: 1340، الرقم: 3465، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 67، الرقم: 5351، وأبو داود في السنن، كتاب اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار، 4: 56، الرقم: 4085.

’’صحیح بخاری‘‘ میں ہی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنهما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو از راہِ تکبر کپڑا گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اُس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے کپڑے کا ایک کونہ عموماً لٹک جاتا ہے، لہٰذا اب میں احتیاط کیا کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا از راہِ تکبر نہیں کرتے۔

اِسے امام بخاری، احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

75. وَفِي ‹‹صَحِيْحِ مُسْلِمٍ›› عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ. قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً. قَالَ: إِنَّ اللهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، اَلْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الإيمان، باب تحريم الكبر وبيانه، 1: 93، الرقم: 91 (147)، والترمذي في السنن، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في الكبر، 4: 361، الرقم: 1999، وابن حبان في الصحيح، 12: 280، الرقم: 5466.

’’صحیح مسلم‘‘ میں روایت ہے: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں رتی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور حسن و جمال سے محبت کرتا ہے۔ تکبر(اپنی انانیت کی وجہ سے) حق بات کو جھٹلانا اور دوسرے کو حقیر سمجھنا ہے۔

اِسے امام مسلم، ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

وَالْمَقْصُوْدُ أَنَّ الْفَخْرَ وَالْخُيَلَاءَ وَالْكِبْرَ تَمْنَعُ صَاحِبَهَا الْمَغْفِرَةَ؛ لِأَنَّهُ نَازَعَ اللهَ تَعَالَى فِيْمَا اخْتَصَّ بِهِ، لِأَنَّ الْكِبْرِيَاءَ لِلَّهِ وَحْدَهُ. ﴿وَٱللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ﴾ [الحديد، 57: 23].

حاصلِ کلام یہ ہے کہ فخر، غرور اور تکبر اپنے حامل کو مغفرت سے محروم رکھتا ہے، کیونکہ یہ الله تعالیٰ کی خاص صفت میں اُس کے ساتھ جھگڑا کرنے (اور شریک ہونے) کے مترادف ہے، اور کبریائی صرف الله تعالیٰ کی ذاتِ واحد کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿وَٱللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ﴾ ’اور اللہ کسی تکبّر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا‘۔

س) اَلْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ

(والدین کا نافرمان)

وَالْعُقُوْقُ هُوَ الدَّاهِيَةُ الدَّهْيَاءُ، وَأَصْلُ كُلِّ مُصِيْبَةٍ وَبَلَاءٍ، وَلَيْسَ مِنْ ذَنْبٍ يُعَجِّلُ اللهُ عُقُوْبَتَهُ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لِصَاحِبِهِ مِنَ الْعَذَابِ فِي الآخِرَةِ غَيْرِ الْبَغْيِ وَالْعُقُوْقِ، فَتَجِدُ الْعَاقَّ يُلَاحِقُهُ الْبُؤْسُ وَالشَّقَاءُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَيُرَافِقُهُ سُوْءُ الْحَظِّ وَنَكَدُ الطَّالِعِ أَيْنَمَا كَانَ، هَذَا بَعْضُ مَا يَلْقَاهُ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا فِي الْآخِرَةِ فَيَكْفِيْكَ دَلِيْلًا عَلَى عِظَمِ جُرْمِهِ.

والدین کی نافرمانی بہت بڑی آزمائش ہے، یہ ہر مصیبت اور بلا کی جڑ ہے۔ والدین کی نافرمانی اور اُن سے بغاوت کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی سزا الله تعالیٰ آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی دینے میں جلدی کرے۔ لہٰذا تم دیکھتے ہو کہ والدین کا نافرمان ہر وقت بد بختی میں مبتلا رہتا ہے، بد قسمتی ہر جگہ اُس کا پیچھا کرتی ہے۔ یہ وہ سزائیں ہیں جن کا اُسے دنیا میں ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رہ گئی آخرت کی سزا تو اس جرم کے بہت بڑا ہونے پر حضور نبی اکرم ﷺ کا یہ ایک فرمان ہی کافی ہے۔

76. قَوْلُهُ ﷺ: ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّيُّوْثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخُبْثَ.

حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ حَدِيْثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنهما.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 69، الرقم: 5372، وأيضًا، 2: 128، الرقم: 6113، والنسائي في السنن، بألفاظ مختلفة، كتاب الزكاة، باب المنان بما أعطى، 5: 80، الرقم: 2562، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 178، الرقم: 3567، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 147.

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ نے تین طرح کے لوگوں پر جنت حرام کر دی ہے: بکثرت شراب نوشی کرنے والا، والدین کا نافرمان اور دیوث جو کہ اپنے گھر والوں کو برائی کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ حدیث صحیح ہے اور اسے امام احمد، نسائی اور دیگر نے حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنهما سے روایت کیا ہے۔

77. وَفِي حَدِيْثٍ آخَرَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَرْبَعٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ وَلَا يُذِيْقَهُمْ نَعِيْمَهَا: مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَآكِلُ الرِّبَا، وَآكِلُ مَالِ الْيَتِيْمِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ.

رَوَاهُ الْحَاكِمُ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه الحاكم في المستدرك، 2: 43، الرقم: 2260، والبيهقي في شعب الإيمان، 4: 397، الرقم: 5530، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 4، الرقم: 2844.

ایک اور حدیث مبارک میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ اِن چار لوگوں کو جنت میں داخل نہیں فرمائے گا اور نہ ہی اُنہیں جنت کی نعمتیں چکھائے گا: عادی شراب نوش، سود کھانے والا، ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور والدین کا نافرمان۔

اِس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

وَقُبْحُ الْعُقُوْقِ أَوْضَحُ مِنْ أَنْ يُسْتَدَلَّ عَلَيْهِ، فَلْنَقْتَصِرْ عَلَى هَذَا فَفِيْهِ كِفَايَةٌ.

الغرض! والدین کی نافرمانی کی قباحت واضح ہے۔ لہٰذا اس پر دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔ سو ہم اِسی پر اکتفا ء کرتے ہیں۔

ص) مُدْمِنُ الْخَمْرِ

(عادی شراب نوش)

وَالْخَمْرُ -أَعَاذَاكَ اللهُ- أُمُّ الْخَبَائِثِ، وَأَصْلُ الْبَلَايَا. تُذْهِبُ الْعَقْلَ وَالدِّيْنَ، وَتُسْقِطُ الْمَرُوْءَةَ، وَتَدَعُ صَاحِبَهَا عُرْضَةً لِسُخْرِيَةِ الأَطْفَالِ وَتَضَاحُكِهِمْ مِنْهُ كَمَا هُوَ مُشَاهَدٌ. وَقَدْ رَأَيْتَ فِي الْحَدِيْثِ الْمُتَقَدَّمِ قَرِيْبًا أَنَّ مُدْمِنَ الْخَمْرِ تُحْرَمُ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ وَنَعِيْمُهَا؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْخَمْرَ تُعَادِلُ الشِّرْكَ، وَشَارِبُهَا يُحْشَرُ كَعَابِدِ وَثَنٍ.

شراب، اُمّ الخبائث (گناہوں کی جڑ) ہے۔ الله تعالیٰ تجھے اس سے محفوظ رکھے۔ (یہ مصیبتوں کی اصل ہے)۔ یہ عقل اور دین دونوں کو ضائع کرنے والی ہے۔جیساکہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ اس کے نشے میں مبتلا بچوں کے استہزاء اور ان کے ہنسی مزاح کانشانہ بنتے ہیں۔ قبل ازیں بیان کی گئی حدیث میں آپ نے جانا کہ عادی شراب نوش پر جنت اور اُس کی نعمتیں حرام کر دی جاتی ہیں، کیونکہ شراب نوشی شرک کے برابر ہے اور شراب نوش کا حشر بتوں کی پرستش کرنے والے کی طرح ہو گا۔

78. فَقَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنهما، قَالَ: لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ مَشَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَقَالُوْا: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَجُعِلَتْ عَدْلًا لِلشِّرْكِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْمَقْدِسِيُّ وَالْحَاكِمُ. وَقَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الطبراني في المعجم الكبير، 12: 37، الرقم: 12399، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 10: 191، الرقم: 192، والحاكم في المستدرك، 4: 160، الرقم: 7227، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 180، الرقم: 3576، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5: 52.

امام طبرانی نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت (عبد الله) ابن عباس رضی اللہ عنهما سے روایت کیا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: جب شراب حرام کی گئی تو رسول الله ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کے پاس جاتے اور اُنہیں خبر دیتے کہ شراب حرام کر دی گئی ہے اور اسے شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

اِس حدیث کو امام طبرانی، مقدسی اور حاکم نے روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

79. وَفِي ‹‹صَحِيْحِ ابْنِ حِبَّانَ›› عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ لَقِيَ اللهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ.

أخرجه ابن حبان في الصحيح، 12: 167، الرقم: 5347، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 10: 330، الرقم: 356، واليبهقي في شعب الإيمان، 5: 12، الرقم: 5597.

’صحیح ابن حبان‘ میں ہے: حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنهما ہی روایت کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: عادی شراب نوش کا اللہ تعالیٰ سے سامنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بت پرست کا اس سے ملنا ہو۔

وَلَا شَكَّ أَنَّ عَابِدَ الْوَثَنِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَكَذَلِكَ مَنْ كَانَ مِثْلَهُ؛ فَلِهَذَا لَا يَدْخُلُ مُدْمِنُ الْخَمْرِ الْجَنَّةَ بِنَصِّ الْحَدِيْثِ.

وَمِثْلُهُ فِي هَذَا أَيْضًا مُدِيْمُ الزِّنَا؛ فَقَدْ أَخْرَجَ الْخَرَائِطِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْمُقِيْمُ عَلَى الزِّنَا كَعَابِدِ وَثَنٍ.

ذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 190، الرقم: 3627.

اس میں کوئی شک نہیں کہ بتوں کی پرستش کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا اور اِسی طرح اس کی مانند دوسرے لوگ۔ لہٰذا عادی شراب نوش جنت میں داخل نہیں ہو گا اور یہ بات نصِ حدیث سے ثابت ہے۔

اِسی کی مثل دائمی بدکار ہے۔ امام خرائطی اور دیگر نے حدیث روایت کی ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: دائمی بدکار بتوں کی پوجا کرنے والے کی طرح ہے۔

ط) اَلزَّانِيَةُ بِفَرْجِهَا

(بدکار عورت)

الزَّانِيَةُ بِفَرْجِهَا: وَهِيَ الَّتِي تَحْتَرِفُ وَتَتَكَسَّبُ مِنْهُ.

اِس سے مراد وہ عورت ہے جو بدکاری کو بطور پیشہ اختیار کرتی ہے اور اسے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتی ہے۔

80. وَفِي الْحَدِيْثِ الصَّحِيْحِ: عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيْجٍ رضی اللہ عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب المساقاة، باب تحريم ثمن الكلب وحلوان الكاهن ومهر البغي والنهي عن بيع السنور، 3: 1199، الرقم: 1568، والنسائي في السنن، كتاب الصيد والذبائح، باب النهي عن ثمن الكلب، 7: 190، الرقم: 4294، وأبو عوانة في المسند، 3: 355، الرقم: 5277.

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بُری کمائی فاحشہ کی اُجرت ہے۔

وَالزِّنَا أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ، وَهُوَ الثَّالِثُ فِي التَّرْتَيْبِ؛ لِأَنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ، ثُمَّ الْقَتْلُ، ثُمَّ الزِّنَا، وَبَعْضُ الْعُلَمَاءِ قَدَّمَهُ عَلَى الْقَتْلِ، ولَكِنِ الرَّاجِحُ أَنَّهُ بَعْدَهُ، وَقَدْ سَمَّاهُ اللهُ فَاحِشَةً فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلاً﴾ [بني إسرائيل، 17: 32].

الله تعالیٰ کے نزدیک بدکاری شراب نوشی سے بھی بڑا گناہ ہے۔ ترتیب میں یہ تیسرے درجہ پر ہے۔ کیونکہ کبیرہ گناہوں میں پہلے شرک ہے، پھر قتل اور پھر بدکاری۔ بعض علماء نے بدکاری کو قتل پر مقدم کیا ہے، لیکن راجح قول یہی ہے کہ یہ قتل کے بعد ہے۔ الله تعالیٰ نے بدکاری کو بے حیائی کا عمل قرار دیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُ كَانَ فَٰحِشَة وَسَآءَ سَبِيلاً﴾ ’اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہےo‘۔

81. وَصَحَّ فِي الْحَدِيْثِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيْمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ، فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الإِيمَانُ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْحَاكِمُ وَلَفْظُهُ: قَالَ ﷺ: مَنْ زَنَى وَشَرِبَ الْخَمْرَ نَزَعَ اللهُ مِنْهُ الْإِيْمَانَ، كَمَا يَخْلَعُ الإِنْسَانُ الْقَمِيْصَ مِن رَأْسِهِ.

أخرجه أبو داود في السنن، كتاب السنة، باب الدليل على زيادة الإيمان ونقصانه، 4: 222، الرقم: 4690، والحاكم في المستدرك، 1: 73، الرقم: 57.

حدیثِ صحیح میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی زنا کرنے لگتا ہے تو اس کے اندر سے ایمان نکل کر اس کے اوپر بادل کے ٹکڑے کی مانند معلق ہو جاتا ہے۔ جب وہ شخص بدکاری سے رک جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

اِسے امام ابوداود اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ حاکم کی روایت کے الفاظ ہیں: جس نے بدکاری کی، یا شراب نوشی کی الله تعالیٰ اُس کے دل سے ایمان ایسے نکال لیتا ہے، جیسے کوئی شخص قمیص کو اپنے سر سے باہر نکال دیتا ہے۔

إِذَا كَانَ هَذَا حَالُ مَنْ زَنَى مَرَّةً فَمَا ظَنُّكَ بِمَنْ يَتَّخِذُ الزِّنَا طَرِيْقًا لِلْكَسْبِ وَالتَّعَيُّشِ؟ ثُمَّ مَا ظَنُّكَ بِمَنْ يُسَاعِدُهَا عَلَى ذَلِكَ وَيُعْطِيْهَا تَرْخِيْصًا بِهِ؟ وَبِرَبِّكَ قُلْ لِي كَيْفَ يَسْتَجِيْبُ اللهُ لِقَوْمٍ هَذَا حَالُهُمْ، وَكَيْفَ يَنْصُرُهُمْ عَلَى أَعْدَائِهِمْ، مَعَ أَنَّهُمْ قَدْ أَحَلُّوْ بِأَنْفُسِهِمْ عَذَابَ اللهِ وَاسْتَحَقُّوْا عِقَابَهُ؟

اگر ایک دفعہ بدکاری کرنے کی یہ سزا ہے تو پھر تمہارا اُس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اِسے کمائی اور عیاشی کا ذریعہ بنا لیتا ہے؟ پھر اُس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اس کے لیے مدد فراہم کرتا ہے اور اِس کے لیے رخصت دیتا ہے؟ تمہارے رب کی قسم! مجھے ذرا یہ بتا دیجئے کہ اس حال کو پہنچی ہوئی قوم الله تعالیٰ کو کیا جواب دے گی؟ ایسی قوم کی اُن کے دشمن کے مقابلہ میں کیسے مدد کی جائے گی جنہوں نے (ان بُرے اعمال کی وجہ سے) اپنے لیے الله تعالیٰ کے عذاب کو حلال کر لیا ہے اور اُس کی سزا کے مستحق ٹھہرے ہوئے ہیں؟

فَيَا أَيُّهَا الْمُسْلِمُ الْحَرِيْصُ عَلَى إِحْيَاءِ لَيْلَةِ نِصْفِ شَعْبَانَ، إِنْ كُنْتَ تُرِيْدُ أَنْ يَقْبَلَكَ اللهُ وَيَشْمَلَكَ بِرَحْمَتِهِ وَغُفْرَانِهِ فَابْتَعِدْ عَنْ هَذِهِ الْكَبَائِرِ الْمُوْبِقَاتِ، وَطَهِّرْ نَفْسَكَ مِنْهَا وَمِنْ غَيْرِهَا بِالتَّوْبَةِ وَالْاِسْتِغْفَارِ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوْبَ مُسِيءُ النَّهَارِ حَتَّى تَطْلَعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا. .. وَابْكِ عَلَى خَطِيْئَتِكَ، وَعُضَّ يَدَ النَّدَمِ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْكَ.

اے شعبان کی پندرہویں رات کو شب بیداری کرنے والے مسلمان (بھائی)! اگر تم چاہتے ہو کہ الله تعالیٰ تمہاری تقدیر بدل دے اور تمہیں اپنی رحمت اور مغفرت کے حق داروں میں شامل فرما لے تو ان کبیرہ گناہوں سے دور رہو، اپنے نفس کو ان آلائشوں سے توبہ و استغفار کے ذریعے پاک کرو۔ بے شک الله تعالیٰ ہر رات (اپنی شان کے لائق) اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کر لے۔ (یہ عمل جاری رہے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے (یعنی قیامت آ جائے)۔ لہٰذا تم اپنی خطاؤں پر گریہ و زاری کرو، اور جو گناہ تم سے سرزد ہوئے اُن پر ندامت والے ہاتھ کو (افسوس سے) کاٹو۔ (یہی الله تعالیٰ کی بارگاہ سے معافی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔)

(5) هَلْ وَرَدَتْ صَلَاةٌ مُعَيَّنَةٌ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟

(کیا شعبان کی اِس رات کوئی خاص نماز وارد ہوئی ہے؟)

لَمْ تَرِدْ صَلَاةٌ مُعَيَّنَةٌ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ مِنْ طَرِيْقٍ صَحِيْحٍ وَلَا ضَعِيْفٍ، وَإِنَّمَا وَرَدَتْ أَحَادِيْثُ مَوْضُوْعَةٌ مَكْذُوْبَةٌ.

کسی صحیح یا ضعیف حدیث سے اِس رات میں کسی خاص نماز کی ادائیگی ثابت نہیں ہے۔ اس بابت موضوع، جھوٹی اور من گھڑت روایات وارد ہوئی ہیں۔

قَالَ الْحَافِظُ الْعِرَاقِيُّ فِي ‹‹الْمُغْنِي››: ‹‹حَدِيْثُ صَلَاةِ نِصْفِ شَعْبَانَ بَاطِلٌ››. وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي ‹‹الْمَجْمُوْعِ››: ‹‹أَمَّا صَلَاةُ الرَّغَائِبِ وَهِيَ ثِنْتَا عَشْرَةَ رَكَعْةً بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ لَيْلَةَ أَوَّلِ جُمُعَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَصَلَاةُ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ مِائَةُ رَكْعَةٍ، فَلَيْسَتَا بِسُنَّتَيْنِ.

وَلَا تَغْتَرَّ بِذِكْرِ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ لَهُمَا فِي كُتُبِهِمْ. وَقَدْ صَنَّفَ الْعِزُّ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ كِتَابًا نَفِيْسًا فِي إِبْطَالِهَا فَأَحْسَنَ فِيْهِ وَأَجَادَ.

جیسا کہ حافظ العراقی نے ’المغني عن حمل الأسفار‘ میں کہا ہے: شعبان کی پندرہویں رات نماز والی حدیث باطل ہے۔ امام نووی نے ’المجموع‘ میں کہا ہے: رجب کے پہلے جمعہ کی رات کو مغرب اور عشاء کے درمیان بارہ رکعت والی صلاۃ الرغائب اور شعبان کی پندرہویں رات سو (100) رکعت نماز ادا کرنا ہرگز سنت نہیں ہیں۔

بعض علماء کا ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کرنا تمہیں مغالطے میں مبتلا نہ کر دے۔

وَلِأَبِي شَامَةَ فِي هَذَا الْمَوْضُوْعِ كِتَابٌ اسْمُهُ ‹‹اَلْبَاعِثُ عَلَى إِنْكَارِ الْبِدَعِ وَالْحَوَادِثِ››.

وَمِمَّنِ انْتَصَرَ لِلْعِزِّ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ مِنَ الْمُتَأَخِّرِيْنَ عَنْ عَصْرِهِمَا تَقِيُّ الدِّيْنِ السُّبْكِيُّ وَنَقَلَ كَلَامَهُ ابْنُ حَجَرِ الْهَيْتَمِيُّ فِي ‹‹الإِيْضَاحِ وَالْبَيَانِ›› فَارْجِعْ إِلَيْهِ.

جبکہ امام العز بن عبد السلام نے ان نمازوں کے باطل ہونے پر بڑی نفیس کتاب تصنیف کی ہے اور اس میں نہایت عمدہ اور اعلیٰ اُسلوب اختیار کیا ہے۔

امام ابو شامہ کی بھی اس موضوع پر کتاب ہے جس کا نام ’اَلْبَاعِثُ عَلَی إِنْكَارِ الْبِدَعِ وَالْحَوَادِثِ‘ ہے۔

وہ علماء متاخرین جنہوں نے امام العز بن عبد السلام کی تائید کی ہے، ان میں امام تقی الدین السبکی ہیں، اور اُن کی بحث کو علامہ ابن حجر ہیتمی نے اپنی کتاب ’اَلإِيْضَاح وَالْبَيَان‘ میں ذکر کیا ہے۔ لہٰذا مزید تفصیل اور مطالعہ کے لیے اِن کتب کی طرف رجوع کریں۔

(6) خُلَاصَةُ الْكَلَامِ

(خلاصۂ کلام)

اَلْأَوَّلُ: أَنَّ فَضْلَ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ثَابِتٌ فِي الْجُمْلَةِ، وَأَنَّ إِنْكَارَهُ عَلَى سَبِيْلِ الإِطْلَاقِ كَمَا فَعَلَ ابْنُ الْعَرَبِيِّ الْمُعَافِرِيُّ غَلَطٌ.

پہلی بات: شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت نصوص سے ثابت ہے اور اس کا مطلقاً انکار جیسا کہ ابن العربی المعافری نے کیا ہے، غلط ہے۔

اَلثَّانِي: أَنَّ إِحْيَاءَهَا بِأَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ مُسْتَحَبٌّ، وَالْإِحْيَاءُ لَا يَكُوْنُ إِلَّا بِاللَّيْلِ كَمَا هُوَ مَعْلُوْمٌ، وَالْأَحَادِيْثُ تُفِيْدُ ذَلِكَ كَمَا تَقَدَّمَ.

دوسری بات: اس رات کو شب بیداری کرنا اور اس میں مختلف عبادات کی ادائیگی مستحب ہے۔ شب بیداری رات کو ہوتی ہے جیسا کہ معلوم ہے۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ جیسا کہ پہلے اِن کا ذکر ہوچکا ہے۔

اَلثَّالِثُ: أَنَّ صَلَاةَ مِائَةِ رَكْعَةٍ أَوْ خَمْسِيْنَ أَوِ اثْنَتَي عَشْرَةَ بِصِفَةٍ خَاصَّةٍ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ لَمْ تَثْبُتْ، وِلِلْإِنْسَانِ أَنْ يُصَلِّيَ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ تَقْيِيْدٍ بِعَدَدٍ مُعَيَّنٍ.

تیسری بات: اس رات سو رکعت نماز، پچاس رکعت نماز یا بارہ رکعت نماز کسی خاص کیفیت اور طریقے سے ادا کرنا ثابت نہیں، لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ وہ معین عدد کے بغیر اپنی استطاعت کے مطابق نماز ادا کرے۔

اَلرَّابِعُ: أَنَّ الْإِنْسَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِتَوْبَةٍ صَادِقَةٍ مُخْلِصَةٍ لِيَفُوْزَ بِبِشَارَةِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى اللهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّ‍َٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِي اللهُ ٱلنَّبِيَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥۖ نُورُهُمۡ يَسۡعَىٰ بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتۡمِمۡ لَنَا نُورَنَا وَٱغۡفِرۡ لَنَآۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ﴾ [التحريم، 66: 8].

چوتھی بات: ہر شخص کو چاہیے کہ اس رات صدقِ دل اور اخلاص کے ساتھ توبہ و استغفار کرے تاکہ وہ الله تعالیٰ کی اِس بشارت کے مطابق کامیاب ہو سکے: ’اے ایمان والو! تم اللہ کے حضور رجوعِ کامل سے خالص توبہ کرلو، یقین ہے کہ تمہارا رب تم سے تمہاری خطائیں دفع فرما دے گا اور تمہیں بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں جس دن اللہ (اپنے) نبی (ﷺ) کو اور اُن اہلِ ایمان کو جو اُن کی (ظاہری یا باطنی) معیّت میں ہیں رسوا نہیں کرے گا، اُن کا نور اُن کے آگے اور اُن کے دائیں طرف (روشنی دیتا ہوا) تیزی سے چل رہا ہوگا وہ عرض کرتے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہماری مغفرت فرما دے، بے شک تو ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔‘

(7) مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْنَ

(ائمہ سلف صالحین کے ارشادات و معمولات)

رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيْزِ رضی اللہ عنه كَتَبَ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ: إِنَّ عَلَيْكَ بِأَرْبَعِ لَيَالٍ، فَإِنَّ اللهَ يُفْرِغُ فِيْهِنَّ الرَّحْمَةَ إِفْرَاغًا، فَذَكَرَ هَذِهِ اللَّيَالِيَ الْأَرْبَعَ (أَيْ لَيْلَةَ الْفِطْرِ، وَلَيْلَةَ الْأَضْحَى، وَلَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَأَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ).

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن الجوزي في التبصرة، 2: 20-21، وابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 150، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 2: 80، والمناوي في فيض القدير، 3: 454.

حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عدی بن ارطاۃ کی طرف لکھا: تم چار راتوں میں عبادت کو اپنے اوپر خوب لازم کرلو کیونکہ الله تعالیٰ ان راتوں میں (اپنے بندوں کو) بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔ پھر انہوں نے ان چار راتوں کا تذکرہ کیا: عید الفطر کی رات، عید الاضحیٰ کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔

اسے علامہ ابن الجوزی اور ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ رضی اللہ عنه: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ دُفِعَ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَحِيْفَةٌ، فَيُقَالُ: اقْبِضْ مَنْ فِي هَذِهِ الصَّحِيْفَةِ. فَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَغْرِسُ الْغِرَاسَ، وَيَنْكِحُ الْأَزْوَاجَ، وَيَبْنِي الْبُنْيَانَ، وَإِنَّ اسْمَهُ قَدْ نُسِخَ فِي الْمَوْتَى. مَا يَنْتَظِرُ بِهِ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِهِ فَيَقْبِضُهُ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 151.

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو ایک صحیفہ ملک الموت کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ (اس سے) کہا جاتا ہے کہ جن کے نام اس صحیفے میں درج ہیں تم نے (اس سال) ان کی روح قبض کرنی ہے۔ (اُن میں سے) کوئی بندہ درخت لگا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی کر رہا ہوتا ہے اور کوئی عمارت تعمیر کر رہا ہوتا ہے مگر اس کا نام فوت شدگان میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ملک الموت اس کا منتظر ہوتا ہے کہ جیسے ہی اسے حکم دیا جائے وہ اس کی روح قبض کر لے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ الشَّافِعِيُّ رحمة الله علیه: وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إِنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ فِي خَمْسِ لَيَالٍ: فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، وَلَيْلَةِ الأَضْحَى، وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ، وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه البيهقي في السنن الكبرى، كتاب صلاة العيدين، باب عبادة ليلة العيدين، 3: 319، الرقم: 6087، وذكره ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 264.

امام شافعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ (صحابہ کرام اور تابعین عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں یہ) کہا جاتا تھا: بے شک پانچ راتوں میں دعا ضرور قبول کی جاتی ہے: جمعہ کی رات، عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، ماہ رجب کی پہلی رات اور ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ أَخْنَسَ: تُقْطَعُ الْآجَالُ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى شَعْبَانَ، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْكِحُ، وَيُولَدُ لَهُ، وَقَدْ خَرَجَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى.

ذَكَرَهُ الْبَيْهَقِيُّ.

البيهقي في شعب الإيمان، 3: 386، الرقم: 3839.

حضرت عثمان بن محمد بن المغیرہ بن اخنس بیان کرتے ہیں: (شعبان کی پندرہویں شب میں) ایک سال کے ماہِ شعبان سے اگلے سال کے ماہِ شعبان تک ہونے والی تمام اَموات کو لکھ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے: ایک شخص نکاح کرتا ہے اور اس کے ہاں اولاد ہوتی ہے، حالاں کہ اس کا نام زندوں سے نکال کر فوت ہونے والوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔

اسے امام بیہقی نے بیان کیا ہے۔

عَنِ ابْنِ كُرْدُوْسٍ: مَنْ أَحْيَى لَيْلَةَ الْعِيْدَيْنِ وَلَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَالْعَسْقَلَانِيُّ وَالْهِنْدِيُّ.

ذكره ابن الجوزي في التبصرة، 2: 62، وابن حجر العسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 5: 580، وأيضًا في تلخيص الحبير، 2: 80، والهندي في كنز العمال، 8: 251، الرقم: 24107.

ابن کُردُوس بیان کرتے ہیں: جس نے شبِ عیدین اور شعبان کی پندرہویں رات کو (عبادت کرتے ہوئے) زندہ رکھا اُس کا دل اُس دن بھی مردہ نہیں ہوگا جس دن (سب کے) دل مردہ ہو جائیں گے۔

اسے ابن الجوزی، ابن حجر عسقلانی اور ہندی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ ابْنُ تَيْمِيَّةَ: وَأَمَّا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقَدْ رُوِيَ فِي فَضْلِهَا أَحَادِيْثُ وَآثَارٌ وَنُقِلَ عَنْ طَائِفَةٍ مِنَ السَّلَفِ أَنَّهُمْ كَانُوْا يُصَلُّوْنَ فِيْهَا.

ابن تيمية في مجموع الفتاوى، 23: 132.

علامہ ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں: شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت میں بہت سی احادیث اور آثارِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وارد ہوئے ہیں۔ نیز اَسلاف (تابعین، تبع تابعین اور سلف صالحین) سے (اس رات کی فضیلت میں) کثیر تعداد میں اَقوال مروی ہیں۔ لہٰذا یہ اَمر ثابت شدہ ہے کہ وہ اس رات میں خصوصی نمازیں پڑھتے تھے اور عبادت کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے۔

وَقَالَ أَيْضًا: إِذَا صَلَّى الإِنْسَانُ لَيْلَةَ النِّصْفِ وَحْدَهُ أَوْ فِي جَمَاعَةٍ خَاصَّةٍ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ طَوَائِفُ مِنَ السَّلَفِ فَهُوَ أَحْسَنُ.

ابن تيمية في مجموع الفتاوى، 23: 131.

علامہ ابن تیمیہ ہی بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا باجماعت نماز پڑھے (جیسا کہ سلف صالحین میں سے بہت سارے گروہ اس کا خوب اہتمام کرتے تھے) تو یہ بہت اَعلیٰ کام ہے۔

وَقَالَ أَيْضًا فِي ‹‹اقْتِضَاءِ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيْمِ››: وَمِنْ هَذَا الْبَابِ: لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَدْ رُوِيَ فِي فَضْلِهَا مِنَ الْأَحَادِيْثِ الْمَرْفُوْعَةِ وَالْآثَارِ مَا يَقْتَضِي أَنَّهَا لَيْلَةٌ مُفَضَّلَةٌ، وَأَنَّ مِنَ السَّلَفِ مَنْ كَانَ يَخُصُّهَا بِالصَّلَاةِ فِيْهَا، وَصَوْمُ شَهْرِ شَعْبَانَ قَد جَاءَتْ فِيْهِ أَحَادِيْثُ صَحِيْحَةٌ.. .. لَكِنِ الَّذِي عَلَيْهِ كَثِيْرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَوْ أَكْثَرُهُمْ مِنْ أَصْحَابِنَا وَغَيْرُهُمْ عَلَى تَفْضِيْلِهَا. وَعَلَيْهِ يَدُلُّ نَصُّ أَحْمَدَ لِتَعَدُّدِ الْأَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِيْهَا، وَمَا يُصَدِّقُ ذَلِكَ مِنَ الْآثَارِ السَّلَفِيَّةِ، وَقَدْ رُوِيَ بَعْضُ فَضَائِلِهَا في الْمَسَانِيْدِ وَالسُّنَنِ. وَإِنْ كَانَ قَدْ وُضِعَ فِيْهَا أَشْيَاءُ أُخَرُ.

ابن تيمية في اقتضاء الصراط المستقيم، 1: 302.

علامہ ابن تیمیہ ’اقتضاء الصراط المستقیم‘ میں لکھتے ہیں: اس باب میں شعبان کی پندرھویں رات بھی ہے جس کی فضیلت میں متعدد مرفوع احادیث اور کئی آثار روایت کیے گئے ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بہت زیادہ فضیلت والی رات ہے۔ بعض علماء سلف اس فضیلت کو صرف اس رات کی نماز کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ ماہِ شعبان کے روزے کے بارے میں بھی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ……… لیکن ہمارے مسلک اور دوسرے مسلک کے کثیر یا اکثر اَہلِ علم کا اس کی فضیلت پر اتفاق ہے۔ اس بارے میں بہت ساری احادیث وارد ہونے کی وجہ سے امام احمد بن حنبل کی روایت کردہ حدیث (اس رات کی فضیلت پر) دلالت کرتی ہے اور اَئمہ اَسلاف کے آثار سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کے بعض فضائل کتبِ سنن و مسانید میں روایت کیے گئے ہیں، اگرچہ اس ضمن میں کچھ باتیں من گھڑت بھی ہیں۔

وَقَالَ ابْنُ الْحَاجِّ الْمَالِكِيُّ: فَهَذِهِ اللَّيْلَةُ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَلَهَا فَضْلٌ عَظِيْمٌ وَخَيْرٌ جَسِيْمٌ. وَكَانَ السَّلَفُ يُعَظِّمُوْنَهَا وَيُشَمِّرُوْنَ لَهَا قَبْلَ إِتْيَانِهَا، فَمَا تَأْتِيْهِمْ إِلَّا وَهُمْ مُتَأَهِّبُوْنُ لِلِقَائِهَا وَالْقِيَامِ بِحُرْمَتِهَا.

ابن الحاج المالكي في المدخل، 1: 299.

امام ابن الحاج المالکی فرماتے ہیں: اور یہ (شعبان کی پندرہویں رات) اگرچہ شبِ قدر کی رات نہیں ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑی با برکت اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت عظمت والی رات ہے۔ (ہمارے) اسلاف اس رات کی بڑی تعظیم اور قدر کیا کرتے تھے اور اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے (اِستقبال کے) لیے بھرپور تیاری کر لیتے تھے۔ جب یہ رات آتی تو وہ اس کی ملاقات اور اس کی حرمت و عظمت بجا لانے کے لیے مستعد ہو جاتے تھے۔

وَقَالَ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ: كَانَ التَّابِعُوْنَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ كَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمَكْحُوْلٍ وَلُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ وَغَيْرِهِمْ يُعَظِّمُوْنَهَا وَيَجْتَهِدُوْنَ فِيْهَا فِي الْعِبَادَةِ وَعَنْهُمْ أَخَذَ النَّاسُ فَضْلَهَا وَتَعْظِيْمَهَا.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 151.

علامہ ابن رجب الحنبلی بیان کرتے ہیں: اہل شام کے تابعین مثلا حضرت خالد بن معدان، مکحول اور لقمان بن عامر وغیرہم نصف شعبان کی رات کی بہت تعظیم کرتے تھے اور عبادت میں بہت مجاہدہ کرتے تھے۔ انہی حضرات سے دوسرے لوگوں نے اس رات کی فضیلت اور تعظیم سیکھی ہے۔

وَقَالَ أَيْضًا: كَانَ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ وَلُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ وَغَيْرُهُمَا يَلْبَسُوْنَ فِيْهَا أَحْسَنَ ثِيَابِهِمْ وَيَتَبَخَّرُوْنَ وَيَكْتَحِلُوْنَ وَيَقُوْمُوْنَ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَتَهُمْ تِلْكَ. وَوَافَقَهُمْ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ عَلَى ذَلِكَ، وَقَالَ: فِي قِيَامِهَا فِي الْمَسَاجِدِ جَمَاعَةً، لَيْسَ ذَلِكَ بِبِدْعَةٍ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 151.

علامہ ابنِ رجب الحنبلی مزید بیان کرتے ہیں: خالد بن معدان، لقمان بن عامر اور دیگر تابعین اس رات بہترین لباس زیب تن کرتے، بخور سے خوشبو دار ہوتے، آنکھوں میں سرمہ لگاتے اور اس رات مسجد میں قیام کیا کرتے تھے۔ امام اسحاق بن راہویہ نے اس عمل میں ان کی موافقت کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس رات مساجد میں باجماعت قیام کرنا بدعت نہیں ہے۔

وَقَالَ أَيْضًا: فَيَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَتَفَرَّغَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ لِذِكْرِ اللهِ تَعَالَى وَدُعَائِهِ بِغُفْرَانِ الذُّنُوبِ وَسَتْرِ الْعُيُوْبِ وَتَفْرِيْجِ الْكُرُوْبِ، وَأَنْ يُقَدِّمَ عَلَى ذَلِكَ التَّوْبَةَ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَتُوْبُ فِيْهَا عَلَى مَنْ يَتُوْبُ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 151.

علامہ ابن رجب الحنبلی نے مزید کہا ہے: مومن کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس رات میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اپنے گناہوں کی معافی، اپنے عیبوں کے چھپانے اور تکلیفوں کے دور ہونے کی دعا کرنے کے لیے فارغ کرے اور ان سب چیزوں پر توبہ کو مقدم رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں جو (صدقِ دل سے) توبہ کرتا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved