رمضان المبارک کی آخری سات (طاق) راتوں اور شب قدر کی فضیلت

فَضْلُ سَبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَلَيْلَةِ الْقَدْرِ

اَلْقُرْآن

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ. وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ. لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ. تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ. سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ﴾

[القدر، 97: 1-5]

بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔

اَلْحَدِيْث

171. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أُرُوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ. فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيْهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب صلاة التراويح، باب التماس ليلة القدر في السبع الأواخر، 2: 709، الرقم: 1911، ومسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها وبيان محلها وأرجى أوقات طلبها، 2: 822، الرقم: 1165، وابن حبان في الصحيح، 8: 432، الرقم: 3675.

حضرت (عبد الله) بن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خواب میں (رمضان کی) آخری سات راتوں کے اندر شبِ قدر دکھائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ لہٰذا جو تم میں سے اسے تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات (طاق) راتوں میں تلاش کرے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

172. وَفِي رِوَايَةٍ عَائِشَةَ رضی الله عنها أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ: قَالَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. وفي رواية: فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب صلاة التراويح، باب تحري ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر، 2: 710، الرقم: 1913، ومسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها وبيان محلها وأرجى أوقات طلبها، 2: 823، الرقم: 1165، 1169، والترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في ليلة القدر، 3: 158، الرقم: 792.

حضرت عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (ایک روایت میں ہے: رمضان کی آخری سات طاق راتوں) میں تلاش کیا کرو۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

173. وَفِي رِوَايَةٍ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضی الله عنه أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: هِيَ فِي رَمَضَانَ. الْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَإِنَّهَا وِتْرٌ فِي إِحْدَى وَعِشْرِيْنَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِيْنَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِيْنَ أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ. فَمَنْ قَامَهَا إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 318، 321، 324، الرقم: 22765، 22793، 22815، والطبراني في المعجم الأوسط، 2: 71، الرقم: 1284، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 65، الرقم: 1507، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 175-176.

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول الله! ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (رات) ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کے ارادہ سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

اِسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

174. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي، مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ تِسْعٍ أَوْ سَبْعٍ أَوْ خَامِسَةٍ أَوْ ثَالِثَةٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ. وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بَلْجَةٌ، كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ سَاجِيَةٌ، لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ، وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ أَنْ يُرْمَى بِهِ فِيْهَا حَتَّى تُصْبِحَ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيْحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَلَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْمَقْدِسِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 324، الرقم: 22817، والطبراني في مسند الشاميين، 2: 166، الرقم: 1119، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 8: 279، الرقم: 342، وذكره الهندي في كنز العمال، 8: 249، الرقم: 24085.

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه سے ہی مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ان راتوں میں قیام کرے الله تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیتا ہے۔ یہ رات اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات صاف و شفاف اور پر سکون ہوتی ہے، نہ زیادہ ٹھنڈی اور نہ زیادہ گرم (بلکہ معتدل ہوتی ہے)۔ اس رات صبح تک کسی ستارے کے لیے مناسب نہیں کہ اُسے شیاطین کے پیچھے بھگایا جائے۔ اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہو۔ اس دن کے آفتاب کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا۔

اِسے امام احمد، طبرانی اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔

175. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ رضی الله عنه، فَقَالَ: مَا أَنَا مُلْتَمِسُهَا لِشَيءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ. فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: الْتَمِسُوْهَا فِي تِسْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ فِي خَمْسٍ يَبْقَيْنَ أَوْ فِي ثَلَاثِ أَوَاخِرِ لَيْلَةٍ. قَالَ: وَكَانَ أَبُوْ بَكْرَةَ يُصَلِّي فِي الْعِشْرِيْنَ مِنْ رَمَضَانَ كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ. فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 39، الرقم: 20420، والترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في ليلة القدر، 3: 160، الرقم: 794، وابن حبان في الصحيح، 8: 442، الرقم: 3686، والحاكم في المستدرك، 1: 604، الرقم: 1598.

ایک روایت میں حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکرہ رضی الله عنه کے پاس لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اسے (پہلے بیس دنوں میں) تلاش نہیں کرتا کیونکہ میں نے رسول الله ﷺ سے ایک بات سنی ہے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا:) آگاہ رہو! وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (اس وقت) تلاش کرو جب نو یا سات یا پانچ یا تین راتیں رہ جائیں۔ عبد الرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ رضی الله عنه رمضان کے پہلے بیس دنوں میں عام دنوں کی طرح نماز پڑھتے۔ جب آخری دس دن شروع ہوتے تو زیادہ (عبادت) فرماتے۔

اِسے امام احمد بن حنبل نے اور ترمذی نے مذکورہ الفاظ سے اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام حاکم نے بھی کہا ہے: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

قَالَ التِّلِمْسَانِيُّ: إِنَّهَا (لَيْلَةُ الْقَدْرِ) فِي الْعَشْرِ الْأَخِيْرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَعَلَيْهِ تَدُلُّ الْأَحَادِيْثُ الْوَارِدَةُ فِي الصَّحِيْحِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَإِسْحَاقَ، وَأَبِي ثَوْرٍ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ. وَهُوَ الْقَوْلُ الَّذِيْ يَجْمَعُ أَشْتَاتِ الْأَحَادِيْثِ الْمُتَفَرَّقَةِ الْمُخْتَلَفَةِ فِي التَّعْيِيْنِ فِي الْعَشْرِ.

التلمساني في جنى الجنتين في شرف الليلتين، ص: 89.

علامہ تلمسانی کہتے ہیں: بے شک (شبِ قدر) رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتی ہے اوراِس پر صحیح اَحادیث دلالت کرتی ہیں۔ یہی قول امام مالک، شافعی، اَوزاعی، اِسحاق، ابو ثور اور اَحمد بن حنبل کا ہے۔ یہ وہ قول ہے جو عشرہ کی تعیین میں وارد مختلف متفرق احادیث کو جمع کرتا ہے۔

فَالْحَاصِلُ مِنْ مَجْمُوْعِهَا، وَمِمَّا اسْتَقَرَّ عَلَيْهِ أَمْرُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، طَلَبُهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَهُوَ جَامِعٌ مَا افْتَرَقَ وَاخْتَلَفَ؛ قَالَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْقُرْطُبِيُّ(1). وَقَالَ: فَاعْتَمِدْ عَلَيْهِ، وَتَمَسَّكْ بِهِ، يَعْنِيْ عَلَى مَا قَالَهُ الْقَاضِي أَبُو الْفَضْلِ(2). وَقَدْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْقُرْطُبِيُّ: وَهَذَا هُوَ الصَّحِيْحُ(3).، وَهُوَ الَّذِيْ صَحَّحَهُ الْحَافِظُ أَبُوْ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْبَرِّ(4). وَاللهُ أَعْلَمُ(5).

  1. القرطبي في المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم، 3: 251.
  2. القاضى عياض في إكمال المعلم، 4: 143-144.
  3. القرطبي في الجامع لأحكام القرآن، 20: 135.
  4. ابن عبد البر في الاستذكار، 3: 29.
  5. ذكره التلمساني في جنى الجنتين في شرف الليلتين، ص: 89.

اِس مجموعۂ (اقوال واَحادیث) کا خلاصہ یہ ہے کہ جس پر رسول اللہ ﷺ کا حکم ثابت ہوا ہے، وہ لیلۃ القدر کو آخری عشرے میں تلاش کرنا ہے، یہی حکم متفرق اور مختلف اقوال کا جامع ہے۔ امام ابو العباس احمد بن عمر قرطبی نے یہ قول بیان کیا ہے، اور مزید کہا ہے: اِسی پر بھروسہ کر لو اور اِسی (قول) کو تھام لو یعنی جس کو قاضی ابو الفضل نے بیان کیا ہے۔ امام ابو عبد اللہ قرطبی کہتے ہیں: یہی بات درست ہے۔ اِس بات کو حافظ ابو عمر بن عبد اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔

176. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الصوم، باب من صام صوم رمضان إيمانا واحتسابا، 2: 672، الرقم: 1802، ومسلم في الصحيح، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح، 1: 523، الرقم: 760، وأبوداود في السنن، كتاب الصلاة، باب في قيام شهر رمضان، 2: 49، الرقم: 1371، والترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب الترغيب في قيام رمضان وما جاء فيه من الفضل، 3: 171، الرقم: 808.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے شبِ قدر میں اخلاص و ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کی حالت میں خالص ثواب کی غرض سے رمضان کے روزے رکھے اُس کے بھی سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

177. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ. تُفْتَحُ فِيْهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيْهِ أَبْوَابُ الْجَحِيْمِ وَتُغَلُّ فِيْهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِيْنِ. ِﷲِ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ. مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 230، الرقم: 7148، والنسائي في السنن، كتاب الصيام، باب ذكر اختلاف على معمر فيه، 4: 129، الرقم: 2106، وابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب ما جاء في فضل شهر رمضان، 1: 526، الرقم: 1644، وعبد الرزاق في المصنف، 4: 175، الرقم: 7383، وابن راهويه في المسند، 1: 74.

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه سے ہی مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس رمضان المبارک کا مہینہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شریر شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔ جو اس کے ثواب سے محروم رہا، وہ (دائمی) محروم رہا۔

اِسے امام احمد بن حنبل نے، نسائی نے مذکورہ الفاظ سے اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

178. وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ رضی الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ، فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لَا يَبْلُغُوْا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُوْلِ الْعُمْرِ. فَأَعْطَاهُ اللهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ.

رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه مالك في الموطأ، كتاب الاعتكاف، باب ما جاء في ليلة القدر، 1: 321، الرقم: 698، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 323، الرقم: 3667، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 65، الرقم: 1508.

امام مالک رضی الله عنه سے روایت ہے کہ انہوں نے ثقہ (یعنی قابل اعتماد) اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سابقہ اُمتوں کی عمریں دکھائی گئیں یا اس بارے میں جو الله تعالیٰ نے چاہا دکھایا گیا۔ اس پر آپ ﷺ نے اپنی امت کی کم عمروں کا خیال کرتے ہوئے سوچا کہ کیا میری اُمت اس قدر اعمال کر سکے گی، جس قدر دوسری اُمتوں کے لوگوں نے طوالتِ عمر کے باعث کیے۔ سو الله تعالیٰ نے آپ ﷺ کو (فضل و انعام کے طور پر) شبِ قدر عطا فرما دی جو ہزار مہینوں سے افضل ہے (تاکہ عمروں کی کمی کی تلافی آسانی سے ہو جائے)۔

اِسے امام مالک اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: وَمِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ أَنْ أَعْطَاهَا قِيْرَاطَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوْبِ الشَّمْسِ، وَأَعْطَى الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى جَمِيْعًا قِيرَاطَيْنِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَأَعْطَاهَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَجَعَلَ لَهَا عَامًا بِأَلْفِ شَهْرٍ. فَمَا فَاتَهُمْ فِي تَقَاصُرِ الْأَعْمَارِ الَّتِيْ كَانَتْ لِمَنْ قَبْلَهُمْ أَدْرَكُوْهُ فِيْهَا فَخَفَّ عَلَيْهِمْ شَغَبُ الدُّنْيَا، وَأَدْرَكُوْا عِظَمَ الثَّوَابِ فِي اْلآخِرَةِ؛ وَالْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.

ذكره التلمساني في جنى الجنتين في شرف الليلتين، ص: 96-97.

قاضی ابو بکر بن العربی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اِس امت پر اپنا فضل فرمایا ہے کہ ان کو نمازِ عصر سے سورج کے غروب ہونے تک دو قیراط عطا فرمائے ہیں، جب کہ یہود و نصاریٰ کو تمام دن کے اول حصہ سے لے کر نماز عصر تک دو قیراط عطا کیے ہیں۔ اِس اُمت کو لیلۃ القدر عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِس اُمت کے لیے ایک سال میں ایک ہزار مہینے کی عبادت بنا دی ہے توعمروں کے کم ہونے کی وجہ سے اُن سے (وہ اَعمال) فوت نہیں ہوں گے جو اِن سے پہلی اُمتوں کے لوگوں نے پا لیے تھے، اِن پر دنیا کی پریشانیاں(فتنے)ہلکی ہو گئی ہیں اور انہوں نے آخرت کے عظیم ثواب کو پا لیا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔

179. وَفِي رِوَايَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيْلُ علیه السلام فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّوْنَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللهَ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 343، الرقم: 3717، وأيضًا في فضائل الأوقات: 318، الرقم: 155.

حضرت انس رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل امین علیه السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھ اُترتے ہیں، اور ذکر الٰہی میں مشغول ہر کھڑے یا بیٹھے ہوئے بندے پر سلام بھیجتے ہیں۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

180. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، مَا أَقُوْلُ فِيْهَا؟ قَالَ: قُوْلِي: اَللَّهُمَّ، إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيْمٌ، تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6: 258، الرقم: 26258، والترمذي في السنن، كتاب الدعوات، باب: (85)، 5: 534، الرقم: 3513، والنسائي في السنن الكبرى، 6: 218، الرقم: 10708، والحاكم في المستدرك، 1: 712، الرقم: 1942.

حضرت عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ارشاد فرمائیے! اگر مجھے شب قدر کا علم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اَللَّهُمَّ، إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ، تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي. (یا اللہ! تو بہت معاف کرنے والا کریم ہے، تُو عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے۔ سو مجھے معاف فرما دے۔

اِسے امام احمد بن حنبل نے، ترمذی نے مذکورہ الفاظ سے اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

181. وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، يَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ هُمْ سُكَّانُ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمِنْهُمْ جِبْرِيلُ، فَيَنْزِلُ جِبْرِيْلُ وَمَعَهُ أَلْوِيَةٌ يَنْصِبُ مِنْهَا لِوَاءً عَلَى قَبْرِي، وَلِوَاءً عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَلِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَلِوَاءً عَلَى طُورِ سَيْنَاءَ. وَلَا يَدَعُ فِيْهَا مُؤْمِنًا وَلَا مُؤْمِنَةً إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ، إِلَّا مُدْمِنَ الْخَمْرِ، وَآكِلَ الْخِنْزِيْرِ، وَالْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ.

ذَكَرَهُ الثَّعْلَبِيُّ وَالْقُرْطُبِيُّ.

أخرجه الثعلبي في الكشف والبيان عن تفسير القرآن، 10: 255، والقرطبي فى الجامع لأحكام القرآن، 20: 137.

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنهما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب شبِ قدر ہوتی ہے تو سدرۃ المنتہی کے مکین فرشتے جبریل علیه السلام کی معیت میں (زمین پر) اُترتے ہیں۔ جبریل علیه السلام کے پاس جھنڈے ہوتے ہیں، وہ ایک جھنڈا میری قبر پر، ایک جھنڈا بیت المقدس پر، ایک جھنڈا مسجد حرام پر اور ایک جھنڈا طورِ سیناء پر نصب کر دیتے ہیں۔ (اس رات میں جبریل علیه السلام) ہر مومن مرد اور مومن عورت پر سلام بھیجتے ہیں، مگر شراب کے عادی، خنزیر کا گوشت کھانے والے اور کثرت کے ساتھ زعفران استعمال کرنے والے پر سلام نہیں بھیجتے۔

اسے امام ثعلبی اور قرطبی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ التِّلِمْسَانِيُّ: وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ هَذَا الْحَدِيْثُ فِي الْكُتُبِ السِّتَّةِ فِي ذِكْرِيْ، لَكِنَّا قَدْ رَوَيْنَاهُ فِي جُمْلَةِ الْمَأْثُوْرَاتِ مِنْ أَحَادِيْثِ الْقُرُبَاتِ وَأَعْمَالِ الطَّاعَاتِ.

التلمساني في جنى الجنتين في شرف الليلتين، ص: 81.

علامہ تلمسانی کہتے ہیں: اگرچہ یہ حدیث میری یادداشت میں کتبِ صحاح ستہ میں وارِد نہیں ہوئی، لیکن ہم نے اِسے تمام ماثورات یعنی ثواب اور طاعات کے اعمال کی روایات میں پایا ہے۔

(1) عَلَامَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ

(شبِ قدر کی علامت)

182. وَفِي صَحِيْحِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِيْنَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها، 2: 829، الرقم: 1170، وذكره عنه البيهقي في السنن الكبرى، 4: 312، الرقم: 8336.

’صحیح مسلم‘ میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں شبِ قدر کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون یہ بات یاد رکھے گا، شبِ قدر اس شب میں ہے جس میں چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے۔

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْفَارِسِيُّ: أَيْ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ، فَإِنَّ الْقَمَرَ يَطْلُعُ فِيْهَا بِتِلْكَ الصِّفَةِ.

ذكره ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 4: 264، والزرقاني في شرح الموطأ، 2: 295.

امام ابو الحسن فارسی فرماتے ہیں: یعنی ستائیسویں شب۔ بے شک چاند اس رات میں اسی صفت کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔

183. وَأَخْرَجَ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَالطَّيَالِسِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ لَا حَارَّةٌ، وَلَا بَارِدَةٌ، تُصْبِحُ الشَّمْسُ يَوْمَهَا حَمْرَاءَ ضَعِيْفَةً.

أخرجه ابن خزيمة في الصحيح، 3: 331، الرقم: 2192، والطيالسي في المسند، 1: 349، الرقم: 2680، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 177، وقال: رواه البزار.

امام ابن خزیمہ اور طیالسی نے روایت بیان کی ہے۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے شبِ قدر کے بارے میں فرمایا: یہ روشن رات ہوگی، نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی۔ اس کی صبح کا سورج سرخ اور دھیما ہو گا۔

(2) اِسْتِنْبَاطُ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما فِي تَعْيِيْنِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ

(شبِ قدر کی تعیین میں حضرت ابن عباس رضی الله عنهما کا استنباط)

وَزَعَمَ ابْنُ قُدَامَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما اسْتَنْبَطَ تَعْيِيْنَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنْ عَدَدِ كَلِمَاتِ السُّورَةِ وَأَنَّ كَلَمِةَ (هِيَ) مِنْ قَوْلِهِ ﴿سَلَٰمٌ هِيَ﴾ سَابِعُ كَلِمَةٍ بَعْدَ الْعِشْرِيْنَ.

ابن قدامہ کا یہ گمان ہے کہ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما نے شبِ قدر کی تعیین کا استنباط سورۃ القدر کے کلمات سے کیا ہے۔ بے شک آیت مبارکہ ﴿ سَلَٰمٌ هِيَ﴾میں کلمہ (ھِیَ) ستائیسواں کلمہ ہے۔

وَنَقَلَهُ ابْنُ حَزْمٍ عَنْ بَعْضِ الْمَالِكِيَّةِ وَبَالَغَ فِي إِنْكَارِهِ.

ابن حزم نے یہ قول بعض مالکی علماء سے نقل کیا ہے اور اس کا انکار کیا ہے۔

وَاسْتَنْبَطَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ فِي جِهَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ تِسْعَةُ أَحْرُفٍ، وَقَدْ أُعِيْدَتْ فِي السُّورَةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَذَلِكَ سَبْعٌ وَعِشْرُوْنَ.

ذكر هذه الأقوال ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 4: 265.

بعض ائمہ نے دوسری جہت سے بھی اس کا استنباط کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے: لیلۃ القدر کے نو (9) حروف ہیں، اور یہ لفظ سورۃ میں تین بار مکرر آیا ہے، لہٰذا یہ ستائیس الفاظ بنتے ہیں۔

وَهَذِهِ الْاِسْتِنْبَاطَاتُ لَيْسَتْ مِنَ الْعِلْمِ فِي شَيْئٍ، وَلَمْ يَصِحْ مَا نُقِلَ مِنْهَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما وَلَا غَيْرَهُ.

ان استنباطات کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما سے جو قول نقل کیا گیا ہے یا دیگر جتنے بھی اقوال ہیں وہ صحیح سند کے ساتھ مروی نہیں ہیں۔

اِسْتَنْبَطَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِطَرِيْقٍ أُخْرَى، فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَأَجْمَعُوْا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما : فَقُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ، أَوْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَيَّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ قَالَ عُمَرُ رضی الله عنه: وَأَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ فَقُلْتُ: سَابِعَةٌ تَمْضِي، أَوْ سَابِعَةٌ تَبْقَى مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ. فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه: وَمِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَسَبْعَ أَرَضِيْنَ، وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنَّ الدَّهْرَ يَدُوْرُ فِي سَبْعٍ، وَخَلَقَ اللهُ الإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، وَيَسْجُدُ عَلَى سَبْعٍ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ سَبْعٌ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ سَبْعٌ. لِأَشْيَاءَ ذَكَرَهَا. فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه: لَقَدْ فَطِنْتَ لِأَمْرٍ مَا فَطِنَّا لَهُ.

حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما نے ایک اور طریق سے بھی شبِ قدر کی تعیین پر استنباط کیا ہے۔ امام عبد الرزاق، طبرانی اور دیگر ائمہ نے اس روایت کو بیان کیا ہے: حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی الله عنه نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلایا اور اُن سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر رضی الله عنه سے عرض کیا: مجھے علم ہے، یا فرمایا: میرا گمان ہے کہ یہ کون سی رات ہے۔ اُنہوں نے پوچھا: یہ کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا: (رمضان کے) آخری عشرہ کی ساتویں گزرنے والی رات (یعنی ستائیسویں رات) یا وہ رات جس کے بعد سات راتیں باقی ہوں (یعنی تئیسویں رات)۔ حضرت عمر رضی الله عنه نے پوچھا: آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ میں نے عرض کیا: الله تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں تخلیق فرمائیں، سات دن بنائے، بے شک مہینہ ان سات دنوں پر گھومتا ہے۔ انسان کو سات دنوں میں تخلیق فرمایا، وہ سات آنتوں سے کھاتا ہے، وہ سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے، بیت الله کا طواف سات چکروں میں پورا کرتا ہے، سات دفعہ شیطان کو کنکریاں مارتا ہے۔ اسی طرح اُنہوں نے دیگر اشیاء کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی الله عنه نے فرمایا: (اے ابن عباس!) آپ نے وہ معاملہ سمجھا دیا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہ تھی۔

وَكَانَ قَتَادَةُ يَزِيْدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما فِي قَوْلِهِ: يَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، قَالَ: هُوَ قَوْلُ اللهِ: ﴿فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا27 وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا28﴾ [عبس، 80: 27-28].

حضرت قتادہ نے حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما کے قول میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: انسان سات چیزیں کھاتا ہے۔ کہا: یہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ’پھر ہم نے اس میں اناج اگایا۔ اور انگور اور ترکاری۔‘

قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ كَثِيْرٍ: إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ قَوِيٌّ وَلَكِنِ الْمَتَنُ غَرِيْبٌ جِدًّا.

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4: 246، الرقم: 7679، والطبراني في المعجم الكبير، 10: 264، الرقم: 10618، والبيهقي في السنن الكبرى، 4: 313، الرقم: 8341، وأيضًا في شعب الإيمان، 3: 331-332، وذكره ابن كثير في تفسير القرآن العظيم، 4: 534.

حافظ ابن کثیر نے کہا ہے: اس حدیث کی اسناد قوی اور جید ہیں لیکن اس کا متن انتہائی غریب ہے۔

(3) أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟

(لیلۃ القدر میں کون سا عمل افضل ہے؟)

وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَهَجَّدُ فِي لَيَالِي رَمَضَانَ وَيَقْرَأُ قِرَائَةً مُرَتَّلَةً، لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيْهَا رَحْمَةٌ إِلَّا سَأَلَ، وَلَا بِآيَةٍ فِيْهَا عَذَابٌ إِلَّا تَعَوَّذَ، فَيَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالْقِرَائَةِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّفَكُّرِ.

حضور نبی اکرم ﷺ رمضان کی راتوں میں تہجد ادا فرماتے، قرآن مجید کی ترتیل کے ساتھ تلاوت فرماتے۔ آپ ﷺ جب ایسی آیت تلاوت فرماتے جس میں رحمت کا ذکر ہوتا تو اُس کا سوال کرتے، اگر ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو اُس سے پناہ طلب فرماتے۔ آپ ﷺ رمضان میں نماز، تلاوتِ قرآن، دعا اور تفکر فرماتے تھے۔

(4) مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْنَ

(اَئمہ سلف صالحین کے ارشادات و معمولات)

قَالَ الْقُشَيْرِيُّ: ﴿سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ5﴾ [القدر، 97: 5]. فِيْ لَيْلَةِ قَدْرٍ فِيْهَا الرَّحْمَةُ لِأَوْلِيَائِهِ، فِي لَيْلَةٍ يَجِدُ فِيْهَا الْعَابِدُوْنَ قَدْرَ نُفُوْسِهِمْ، وَيَشْهَدُ فِيْهَا الْعَارِفُوْنَ قَدْرَ مَعْبُوْدِهِمْ، وَشَتَّانَ بَيْنَ وُجُوْدِ قَدْرٍ وَشُهُوْدِ قَدْرٍ، فَلِهَؤُلَاءِ وُجُوْدُ قَدْرٍ وَلَكِنْ قَدْرَ أَنْفُسِهِمْ، وَلِهَؤُلَاءِ شُهُوْدُ قَدْرٍ وَلَكِنْ قَدْرَ مَعْبُوْدِهِمْ.وَقَالَ: ﴿لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ﴾ [القدر، 97: 3]، أَيْ: هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، لَيْسَتْ فِيْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ: هِيَ لَيْلَةٌ قَصِيْرَةٌ عَلَى الْأَحْبَابِ، لِأَنَّهُمْ فِيْهَا فِي مُسَامَرَةٍ وَخِطَابٍ.

القشيري في لطائف الإشارات، 3: 750.

امام قشیری ﴿سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس رات میں (اللہ تعالیٰ) نے اپنے دوستوں کے لیے رحمت مقرر کی ہے۔ اس رات میں عبادت گزار اپنی عبادت کے مطابق (اجر) پاتے ہیں اور اس رات میں عارفین اپنے معبود کی قدر و منزلت کے مطابق اُس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وجودِ قدر اور شہودِ قدر کے مابین جدائی ہوتی ہے۔ ان کے لیے قدر کا وجود ہے لیکن ان کی جانوں کی بقدر، اور ان کے لیے قدر کا شہود ہے لیکن اپنے معبود کے بقدر۔ نیز فرمایا: ﴿لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ﴾یعنی یہ ایسے ہزار ماہ سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر نہیں ہے۔ یہ رات (اللہ تعالی)کے دوستوں کے لیے بہت چھوٹی ہے، اِس لیے کہ (محبوبانِ خدا) اِس رات میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔

كَانَ أَيُّوْبُ السَّخْتِيَانِيُّ يَغْتَسِلُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ، وَيَمَسُّ طِيْبًا، وَلَيْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِيْنَ، وَيَقُوْلُ: لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ لَيْلَةُ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ، وَلَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِيْنَ لَيْلَتُنَا. يَعْنِي أَهْلَ الْبَصْرَةِ.

ذَکَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ذكره ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 218.

امام ایوب السختیانی رمضان المبارک کی ہر تیئسویں اور چوبیسویں رات کو (عبادت کی تیاری کے لیے) غسل کرتے اور خوشبو لگاتے۔ وہ فرماتے: تیئسویں رات میں ایسا اہتمام کرنا اہلِ مدینہ کا معمول ہے اور چوبیسویں رات میں ہمارا یعنی اہلِ بصرہ کا معمول ہے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: اَلدُّعَاءُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ. قَالَ: وَإِذَا كَانَ يَقْرَأُ وَهُوَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ إِلَى اللهِ فِي الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ لَعَلَّه، يُوَافِقُ.

ذَکَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف: 228.

امام سفیان الثوری بیان کرتے ہیں: اس رات دعا کرنا مجھے نماز سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ قرآن مجید کی قراء ت کرتے تو بھی دعائیہ انداز میں کرتے، دعا اور سوال میں الله تعالیٰ کی طرف خوب راغب ہوتے کہ شاید وہ اُن کی موافقت فرما دے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: قَدْ كَانَ السَّلَفُ يَتَأَهَّبُوْنَ لَهَا. فَكَانَ لِتَمِيْمٍ الدَّارِيِّ حُلَّةٌ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ يَلْبَسُهَا فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرْجَى أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. وَكَانَ ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ يَغْتَسِلَانِ وَيَتَطَيَّبَانِ وَيَلْبَسَانِ أَحْسَنَ ثِيَابِهِمَا، وَيُطَيِّبَانِ مَسَاجِدَهُمَا فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ.

ابن الجوزي في التبصرة، 2: 105.

علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: سلف صالحین اس رات کے لیے بالخصوص اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت تمیم الداری کے پاس ایک ہزار درہم کا جبہ تھا جسے وہ اُس رات زیب تن کرتے، جس میں لیلۃ القدر ہونے کی اُمید ہوتی۔ حضرت ثابت اور حمید غسل کرتے، خوشبو لگاتے، اچھا لباس زیبِ تن کرتے اور اپنی مساجد میں صفائی کا خاص اہتمام کرتے تھے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved