رات کی نمازوں کی فضیلت

فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ

اَلْقُرْآن

1. ﴿وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحۡمُوداً﴾

[الإسراء، 17: 79]

اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی) قرآن کے ساتھ (شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لیے زیادہ (کی گئی) ہے، یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمیٰ جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)۔

2. ﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّداً وَقِيَٰماً﴾

[الفرقان، 25: 64]

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لیے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیں۔

3. ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفاً وَطَمَعاً﴾

[السجدة، 32: 16]

ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں۔

4. ﴿أَمَّنۡ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ الَّيۡلِ سَاجِداً وَقَآئِماً يَحۡذَرُ الۡأٓخِرَةَ وَيَرۡجُواْ رَحۡمَةَ رَبِّهِۦۗ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الۡأَلۡبَٰبِ﴾

[الزمر، 39: 9]

بھلا (یہ مشرک بہتر ہے یا) وہ (مومن) جو رات کی گھڑیوں میں سجود اور قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں۔ بس نصیحت تو عقلمند لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔

5. ﴿وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَأَدۡبَٰرَ السُّجُودِ﴾

[ق، 50: 40]

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی۔

6. ﴿ يَٰٓأَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُ. قُمِ الَّيۡلَ إِلَّا قَلِيلاً. نِّصۡفَهُٓ أَوِ انقُصۡ مِنۡهُ قَلِيلًا. أَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡءَانَ تَرۡتِيلًا. إِنَّا سَنُلۡقِي عَلَيۡكَ قَوۡلاً ثَقِيلًا. إِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡئًا وَأَقۡوَمُ قِيلًا. إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحاً طَوِيلاً.﴾

[المزمل، 73: 1-7]

اے کملی کی جھرمٹ والے(حبیب!)۔ آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لیے)۔ آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں۔ یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں۔ ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔ بے شک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یکسوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے۔ بے شک آپ کے لیے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں۔

7. ﴿إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ الَّيۡلِ وَنِصۡفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَۚ﴾

[المزمل، 73: 20]

بے شک آپ کارب جانتا ہے کہ آپ (کبھی) دو تہائی شب کے قریب اور (کبھی) نصف شب اور (کبھی) ایک تہائی شب (نماز میں) قیام کرتے ہیں، اور اُن لوگوں کی ایک جماعت (بھی) جو آپ کے ساتھ ہیں (قیام میں شریک ہوتی ہے)۔

8. ﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً وَأَصِيلاً. وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلاً طَوِيلًا.﴾

[الإنسان، 76: 25، 26]

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔ اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں۔

اَلْحَدِيْث

248. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيْضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ يَعْلَى وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ عَوَانَةَ.

أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الصيام، باب فضل صوم المحرم، 2: 821، الرقم: 1163 (202)، والترمذي في السنن، كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل صلاة الليل، 2: 301، الرقم: 438، والنسائي في السنن، كتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب فضل صلاة الليل، 3: 206، الرقم: 1613، وأبو يعلى في المسند، 11: 280، الرقم: 6392، وابن حبان في الصحيح، 8: 398، الرقم: 3636، وأبو عوانة في المسند 2: 232، الرقم: 2959.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نمازِ (تہجد) ہے۔

اِسے امام مسلم، ترمذی، نسائی، ابو یعلیٰ، ابن حبان اور ابو عوانہ نے روایت کیا ہے۔

249. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللهُ -فذكره منهم- ... وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُؤُوْسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 153، الرقم: 21393، والترمذي في السنن، كتاب صفة الجنة، باب ما جاء في كلام الحور العين، 4: 698، الرقم: 2568، والنسائي في السنن الكبرى، كتاب الزكاة، باب ثواب من يعطي سرا، 2: 44، الرقم: 2351، والحاكم في المستدرك، 1: 577، الرقم: 1520.

حضرت ابوذر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ … پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کا ذکر کیا اور فرمایا … اور ایک ایسی جماعت جو رات کو سفر کرتی ہے۔ جب ان کو نیند تمام مشاغل سے پیاری ہو گئی اور وہ سونے کے لیے لیٹ گئے تو ان میں سے ایک شخص اُٹھ کھڑا ہوا اور مجھے (اللہ تعالیٰ کو) راضی کرنے میں لگ گیا اور میری آیات تلاوت کرنے لگ گیا۔

اسے امام احمد، ترمذی اورنسائی نے روایت کیا ہے۔

250. وَفِيْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ رضی اللہ عنها لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

أخرجه أحمد في المسند، 6: 249، الرقم،: 26157، وأبو داود في السنن، كتاب التطوع، باب قيام الليل، 2: 32، الرقم: 1307، والحاكم في المستدرك، 1: 452، الرقم: 1158، وابن خزيمة في الصحيح، 2: 177، الرقم: 1137.

حضرت عبد الله بن ابو قیس کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها نے فرمایا: رات کی نماز کو ترک نہ کیا کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے ترک نہیں فرماتے تھے اور جب کبھی حالت مرض پیش آتی یا تھکن محسوس فرماتے تو بیٹھ کر نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔

اس روایت کو امام احمد ،ابوداود اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

251. عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِى ذَرٍّ رضی الله عنه: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُو ذَر: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَمَا سَأَلْتَنِي ... يَشُكُّ عَوْف ... فَقَال: جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرِ، أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه أحمد في المسند، 5: 179، الرقم: 21595، وابن حبان في الصحيح، 6: 303، الرقم: 2564، والمبارك في المسند، ص: 36، الرقم: 62.

حضرت ابو مسلم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر رضی الله عنه سے پوچھا: رات کو کونسے وقت کا قیام افضل ہے؟ حضرت ابوذر رضی الله عنه نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سوال کیا تھا جیسا کہ تو نے پوچھا ہے۔ (عوف نامی راوی کو اس مقام پر شبہ لگ گیا کہ) آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے کا درمیان یا درمیانی شب۔ اورقیام اللیل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔

اِسے امام احمد اور ابن حبان نے بیان کیا ہے۔

252. عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رضی الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنْ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِر.فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

أخرجه الترمذى في السنن، كتاب الدعوات، باب في دعاء الضيف (19)، 5: 569، الرقم: 3579.

حضرت عمرو بن عبسہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب آخری شب کے درمیانی حصے میں ہوتا ہے۔ اگرتجھ سے ہوسکے کہ ان لوگوں میں سے ہو جائے جو اس اس گھڑی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، تو ہوجا۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ۔

253. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: فَضْلُ صَلاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى صَدَقَةِ الْعَلانِيَةِ.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَاقِ وّالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ. وَقَالَ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيْرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 3: 47، الرقم: 4735، والطبراني في المعجم الكبير، 10: 179، الرقم: 10382، والبيهقي في السنن الكبرى، 2: 502، الرقم: 4426، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 2: 251.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسے ہی ہے جیسا کہ خفیہ صدقہ کرنے کی فضیلت اعلانیہ صدقہ کرنے پر ہے۔

اسے امام عبد الرزاق، طبرانی، بیہقی اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔

254. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيْعًا، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِيْنَ اللهَ كَثِيْرًا وَالذَّاكِرَاتِ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْحَاكِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُ، وَقَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه أبو داود في السنن، كتاب التطوع، باب الحث على قيام الليل، 2: 70، الرقم: 1451، وابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فيمن أيقظ أهله من الليل، 1: 423، الرقم: 1335، وعبد الرزاق في المصنف، 3: 48، الرقم: 4738، والنسائي في السنن الكبرى، 1: 413، الرقم: 1310، 11406، والحاكم في المستدرك، 1: 461، الرقم: 1189، والطبراني في المعجم الأوسط 3: 218، الرقم: 2965، والبيهقي في السنن الكبرى 2: 501، الرقم: 4420.

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات کو بیدار ہوا اور اس نے اپنی اہلیہ کو (بھی) بیدار کیا، اور پھر دونوں نے اکٹھے دو رکعت نماز ادا کی تو ان کا شمار کثرت سے الله تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں اور (کثرت سے) ذکر کرنے والی عورتوںمیں ہو گا۔

اِسے امام ابو داود،ابن ماجہ، نسائی، عبدالرزاق، حاکم، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے: یہ حدیث صحیح ہے۔

255. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رضی الله عنه: رَكْعَةٌ بِاللَّيْلِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرٍ بِالنَّهَارِ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا.

أخرجه ابن أبي الدنيا فى التهجد وقيام الليل، ص: 119، الرقم: 14.

حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رات کی ایک رکعت دن کی دس رکعتوں سے بہتر ہیں۔

اِسے امام ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے۔

256. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ رضی الله عنه: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَرَادَ سَفَرًا، أَلَيْسَ يَتَّخِذُ مِنَ الزَّادِ لَا يُصْلِحُهُ وَيُبَلِّغُهُ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: فَسَفَرُ طَرِيْقِ الْقِيَامَةِ أَبْعَدُ مَا تُرِيدُونَ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا يُصْلِحُكُمْ. قَالُوا: مَا يُصْلِحُنَا؟ قَالَ: حُجُّوا حَجَّةً لِعِظَامِ الْأُمُورِ، صُومُوا يَوْمًا شَدِيدًا، حَرُّهُ لِطُولِ النُّشُورِ، صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ فِى سَوَّادِ اللَّيْلِ لِوَحْشَةِ الْقُبُورِ.

رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ.

أخرجه أبو نعيم في الحلية الأولياء، 1: 165، وذكره ابن الجوزي في صفة الصفوة، 1: 592.

حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنه نے لوگوں سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی آدمی کا سفر کا ارادہ ہو تو کیا وہ سفر کے لحاظ سے سفر کے موافق زادِ راہ تیار نہیں کرتا جو اس کی منزل تک پہنچا دے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! تو انہوں نے کہا: پھر سنو! قیامت کے راستے کا سفر بہت لمبا ہے۔ اس سفر کے لیے جو چیزیں اس سفر کے موافق ہیں لے لو! لوگوں نے عرض کیا: ہمیں کیا زادِ راہ لینا چاہیے؟ آپ نے فرمایا: تم ایسا حج کرو جو عظیم امور کے لیے فائدہ مند ثابت ہو، ایسے دن کا روزہ رکھو جس کی گرمی کی شدت انتہا پر ہو تاکہ قیامت کے دن کی گرمی سے بچ سکو، رات کے اندھیرے میں دو رکعتیں پڑھو تاکہ قبر کی وحشت سے بچ سکو۔

اسے امام ابونعیم نے حلیۃ الأولیاء میں بیان کیا ہے۔

مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْن

(ائمہ سلف صالحین کے اِرشادات و معمولات)

قَالَ دَاوُدُ علیه السلام: إِلَهِي إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَعَبَّدَ لَكَ، فَأَيُّ وَقْتٍ أَفْضَلُ؟ فَأَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ، لَا تَقُمْ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَلَا آخِرَهُ، فَإِنَّ مَنْ قَامَ أَوَّلَهُ نَامَ آخِرَهُ، وَمَنْ قَامَ آخِرَهُ لَمْ يَقُمْ أَوَّلَهُ، وَلَكِنْ قُمْ وَسَطَ اللَّيْلِ حَتَّى تَخْلُوَ بِي وَأَخْلُوَ بِكَ، وَارْفَعْ إِلَيَّ حَوَائِجَكَ.

ذَكَرَهُ الْغَزَالِيُّ.

الغزالي في إحياء علوم الدين، 1: 345-346.

حضرت داود علیه السلام نے عرض کیا: یا الٰہی! میں تیری عبادت کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے کون سا وقت بہترین ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے داود! نہ تو رات کے اول وقت میں قیام کر اور نہ رات کے آخری وقت میں کیونکہ جو اوّل وقت میں قیام کرتا ہے وہ آخری وقت میں سوتا ہے اور جو آخری وقت میں قیام کرتاہے وہ اوّل وقت کے قیام سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن درمیانی شب میں قیام کر تاکہ میری بارگاہ میں تجھے خلوت نصیب ہو اور میں بھی تیرے ساتھ تنہا ہوں اور اس وقت اپنی حاجات کو مجھے پیش کر۔

اسے امام غزالی نے روایت کیا ہے۔

قِيْلَ لِابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه: مَا نَسْتَطِيْعُ قِيَامَ اللَّيْلِ. قَالَ: أَقْعَدَتْكُمْ ذُنُوْبُكُمْ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلى في لطائف المعارف، ص: 98

کسی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه سے پوچھا: (کیا وجہ ہے) ہم رات کا قیام کرنے پر قادر نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: تم کو تمہارے گناہوں نے بٹھائے رکھا ہے۔

اسے ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيُذْنِبُ الذَّنْبَ، فَيَحْرُمُ بِهِ قِيَامَ اللَّيْلِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا.

ابن رجب الحنبلى في لطائف المعارف، ص: 98

حضرت حسن بصری رضی الله عنه فرماتے ہیں: بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے رات کے قیام سے محروم ہو جاتا ہے۔

اسے ابن ابی الدنیا نے بیان کیا ہے۔

وَقَالَ الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ: إِذَا لَمْ تَقْدِرْ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ وَصِيَامِ النَّهَارِ فَاعْلَمْ أَنَّكَ مَحْرُوْمٌ، كَبَلَتْكَ خَطِيْئَتُكَ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلى في لطائف المعارف، ص: 98

حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں: جب تُو رات کے قیام اور دن کے روزے پر قدرت نہ رکھے تو جان لے کہ محروم اور (گناہوں میں) قید ہے اور تجھ کو تیری خطاؤں نے بیڑی ڈال دی ہے۔

اسے ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved