بدھ کے دن کی فضیلت

فَضْلُ يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ

266. عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلَاثًا: يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ. فَاسْتُجِيْبَ لَهُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ.

قَالَ جَابِرٌ رضی الله عنه: فَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غَلِيْظٌ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، فَأَدْعُوْ فِيْهَا فَأَعْرِفُ الإِجَابَةَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْمَقْدِسِيُّ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْبَيْهَقِيُّ. قَالَ الْمُنْذِرِيُّ: إِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3: 332، الرقم: 14603، والمقدسي في الترغيب في الدعاء، 1: 87، وابن عبد البر في التمهيد، 19: 201، والبيهقي في فضائل الأوقات: 533، الرقم: 305، وابن سعد في الطبقات الكبرى، 2: 73، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 143، الرقم: 1850، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4: 12

حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مسجدِ فتح میں پیر، منگل اور بدھ تین دن دعا کی مگر آپ ﷺ کی دعا بروز بدھ ظہر اور عصر کے درمیانی وقت قبول ہوئی۔ اس قبولیت کی خوشی آپ ﷺ کے چہرۂ اقدس پر عیاں تھی۔

حضرت جابر رضی الله عنه فرماتے ہیں: مجھے بھی جب کوئی اَہم معاملہ در پیش ہوا تو میں نے بدھ کے روز ظہر اور عصر کے درمیان دعا کی اور وہ شرفِ قبولیت پاگئی۔

اِسے امام احمد بن حنبل، مقدسی، ابن عبد البر اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ حافظ منذری نے کہا ہے: احمد کی روایت کردہ حدیث کی اِسناد جید ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے: احمد کے رجال ثقہ ہیں۔

267. عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ رضی الله عنه، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ. فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا. صُمْ رَمَضَانَ، وَالَّذِي يَلِيْهِ، وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيْسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاودَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

أخرجه أبو داود في السنن، كتاب الصوم، باب في صوم شوال، 2: 324، الرقم: 2432، والترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الأربعاء والخميس، 2: 123، الرقم: 748، والنسائي في السنن الكبرى، 2: 147، الرقم: 2779، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 396، الرقم: 3869.

حضرت عبید الله بن مسلم قرشی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ انہوں نے یا کسی اور شخص نے رسول الله ﷺ سے (مسلسل) زندگی بھر روزے رکھنے کے متعلق عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ جائز نہیں ہے،) تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ رمضان کے روزے رکھ اور اس کے بعد آنے والے مہینے (شوال) کے (چھ) روزے رکھ اور ہر بدھ اور جمعرات کو بھی روزہ رکھ لیا کر۔ (گویا) اس طرح تو نے عمر بھر روزے رکھے ہیں۔

اسے امام ابو داود، ترمذی اور نسائی نے ثقہ رجال والی سند سے روایت کیا ہے۔

268. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَصُوْمُ مِنَ الشَّهْرِ: السَّبْتَ، وَالْأَحَدَ وَالاِثْنَيْنَ؛ وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ: الثُّلَاثَاءَ، وَالْأَرْبِعَاءَ، وَالْخَمِيسَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَويَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

أخرجه الترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس، 3: 122، الرقم: 746، وعبد الرزاق في المصنف، 4: 314، الرقم: 7914.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنها فرماتی ہیں: رسول الله ﷺ ایک ماہ ہفتہ، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تھے جب کہ دوسرے ماہ منگل، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔

اسے امام ترمذی اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عبدالرحمن بن مہدی نے اسے سفیان سے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔

269. عَنِ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَنْ صَامَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَالْخَمِيْسِ وَالْجُمُعَةِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، يُرَى ظَاهِرُهُ مِنْ بَاطِنِهِ وَبَاطِنُهُ مِنْ ظَاهِرِهِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الكبير، 8: 250، الرقم: 7981، وأيضًا في المعجم الأوسط، 1: 86، الرقم: 253، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 80، الرقم: 1576، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 198.

حضرت ابو امامہ باہلی رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ہر بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے تو الله تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں ایسا (صاف و شفاف) گھر بنا دیتا ہے جس کا بیرونی حصہ اندر سے دیکھا جا سکتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے۔

اِسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

270. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی الله عنه: أَنَّه، سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: مَنْ صَامَ الْأَرْبِعَاءَ، وَالْخَمِيْسَ، وَالْجُمُعَةَ، بَنَى اللهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَيَاقُوْتٍ، وَزَبَرْجَدٍ، وَكَتَبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1: 87، الرقم: 254، وأيضًا في مسند الشاميين، 2: 366، الرقم: 1506، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 397، الرقم: 3873.

حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ہر بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے تو الله تعالیٰ اس کے لیے جنت میں موتی، یاقوت اور زمرد کا ایک گھر بنا دیتا ہے اور اس کے لیے دوزخ سے نجات لکھ دیتا ہے۔

اِسے امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ صَامَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَالْخَمِيْسِ وَالْجُمُعَةِ، ثُمَّ شَهِدَ الْجُمُعَةَ مَعَ الْمُسْلِمِيْنَ، ثُمَّ ثَبَتَ، فَسَلَّمَ لِتَسْلِيمِ الإِمَامِ، ثُمَّ قَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى الْأَعْلَى الْأَعْلَى، الْأَعَزِّ الْأَعَزِّ الْأَعَزِّ، الْأَكْرَمِ الْأَكْرَمِ الْأَكْرَمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، الْأَجَلُّ الْأَجَلُّ، الْعَظِيْمُ الْأَعْظَمُ. لَمْ يَسْأَلِ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ عَاجِلًا وَآجِلًا، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُوْنَ.

ذَكَرَهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

ابن السني في عمل اليوم والليلة، 1: 333، الرقم: 376.

حضرت عمرو بن قیس ملائی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھا، پھر مسلمانوں کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے حاضر ہوا اور وہاں استقامت کے ساتھ بیٹھا رہا یہاں تک امام کے ساتھ سلام پھیرا۔ اِس کے بعد (ایک بار) سورۃ الفاتحہ اور دس بار سورۃ الاخلاص کی تلاوت کر کے الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دستِ دعا دراز کرتے ہوئے یوں عرض کیا: (اَللّٰهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَی الْأَعْلَی الْأَعْلَی، الْأَعَزِّ الْأَعَزِّ الْأَعَزِّ، الْأَكْرَمِ الْأَكْرَمِ الْأَكْرَمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، الْأَجَلُّ الْأَجَلُّ، الْعَظِیْمُ الْأَعْظَمُ) ’اے الله! میں تجھ سے تیرے اعلیٰ ترین، معزز ترین اور مکرم ترین نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں۔ الله سب سے بڑھ کر صاحبِ جلال، صاحبِ عظمت اور صاحبِ عزت ہے۔ الله سب سے بڑھ کر صاحبِ بزرگی، صاحبِ شرف و منزلت اور صاحبِ تکریم ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ جلیل القدر اور صاحبِ جلال ہے، وہ برتر اور عظیم ترین ہے‘۔ ان کلمات کے بعد وہ جس چیز کا بھی سوال کرے گا الله تعالیٰ جلد یا بدیر وہ اُسے عطا فرما دے گا۔ لیکن تم لوگ عجلت کرتے ہو۔

اِسے امام ابن السنی نے بیان کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved