ماہ ذوالحجہ کی فضیلت

فَضْلُ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ

اَلْقُرْآن

1. ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلًاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[آل عمران، 3: 97]

اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔

2. ﴿وَأَذِّن فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ. لِّيَشۡهَدُواْ مَنَٰفِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ اللهِ فِيٓ أَيَّامٖ مَّعۡلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۖ فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡبَآئِسَ ٱلۡفَقِيرَ.﴾

[الحج، 22: 27-28]

اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر الله نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) الله کے نام کا ذکر بھی کریں، پس تم اس میں سے خود (بھی) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو (بھی) کھلاؤ۔

عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: الأَيَّامُ الْمَعْلُومَاتُ الْعَشْرُ وَالأَيَّامُ الْمَعْدُوْدَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه البيهقي في السنن الكبرى، باب الأيام المعلومات والأيام المعدودات، 5: 228، الرقم: 9927، وأيضًا في شعب الإيمان، 3: 359، الرقم: 3770.

حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ أَيَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ سے مراد (ذی الحجہ کے) دس دن ہیں جبکہ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔

اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

3. ﴿لَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَآ إِلَى ٱلۡبَيۡتِ ٱلۡعَتِيقِ. وَلِكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكٗا لِّيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ اللهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۗ فَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَلَهُۥٓ أَسۡلِمُواْۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُخۡبِتِينَ.﴾

[الحج، 22: 32-34]

تمہارے لیے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقررہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر (خانہ کعبہ) کی طرف (ذبح کے لیے) پہنچنا ہے۔ اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو الله نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) الله کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیب!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔

4. ﴿وَٱلۡبُدۡنَ جَعَلۡنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَٰٓئِرِ اللهِ لَكُمۡ فِيهَا خَيۡرٞۖ فَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ اللهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّۖ فَإِذَا وَجَبَتۡ جُنُوبُهَا فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡقَانِعَ وَٱلۡمُعۡتَرَّۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ. لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُواْ اللهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُحۡسِنِينَ.﴾

[الحج، 22: 36-37]

اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لیے الله کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کرکے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر الله کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو تم خود (بھی) اس میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو (بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤ۔ ہرگز نہ (تو) الله کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے، اس طرح (الله نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) الله کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔

5. ﴿وَٱلۡفَجۡرِ. وَلَيَالٍ عَشۡرٖ. وَٱلشَّفۡعِ وَٱلۡوَتۡرِ.﴾

[الفجر، 89: 1-3]

اس صبح کی قَسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی)۔ اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم۔ اور جفت کی قَسم اور طاق کی قَسم۔

عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: ﴿وَٱلۡفَجۡرِ. وَلَيَالٍ عَشۡرٖ.﴾ قَالَ: عَشْرُ: الْأَضْحَى، ﴿وَٱلۡوَتۡرِ.﴾ يَوْمُ عَرَفَةَ، ﴿وَٱلشَّفۡعِ﴾ يَوْمُ النَّحْرِ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

أخرجه النسائي في السنن الكبرى، 6: 514، الرقم: 11672، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 7: 137.

حضرت جابر رضی الله عنه کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: (اس صبح کی قَسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی)۔ اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم) سے مراد ذو الحجہ کے دس دن ہیں۔ ( اور طاق کی قَسم) یومِ عرفہ ہے، (اور جفت کی قَسم) سے مراد قربانی کا دن ہے۔

اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

اَلْحَدِيْث

200. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، أبواب العمرة، باب قول الله تعالى: فلا رفث، 2: 645، الرقم: 1723، ومسلم فى الصحيح، كتاب الحج، باب فضل الحج والعمرة ويوم عرفة، 2: 983، الرقم: 1350، والنسائي في السنن، كتاب مناسك الحج، باب فضل الحج، 5: 114، الرقم: 2627، وابن ماجه في السنن، كتاب المناسك، باب فضل الحج والعمرة، 2: 964، الرقم: 2887.

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا پس وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جس دن اس کی ماں نے اُسے جنم دیا تھا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

201. وَعَنْهُ رضی الله عنه ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: اَلْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، أبواب العمرة، باب وجوب العمرة وفضلها، 2: 629، الرقم: 1683، ومسلم في الصحيح، كتاب الحج، باب في فضل الحج والعمرة ويوم عرفة، 2: 983، الرقم: 1349، والترمذي في السنن، كتاب الحج عن رسول الله ﷺ ، باب ما ذكر في فضل العمرة، 3: 272، الرقم: 933، والنسائي في السنن، كتاب مناسك الحج، باب فضل العمرة، 5: 115، الرقم: 2629، وابن ماجه في السنن، كتاب المناسك، باب فضل الحج والعمرة، 2: 964، الرقم: 2888.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه ہی سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کا درمیانی عرصہ گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ جنت ہی ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

202. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا، وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُوْرِ شَهْرُكُمْ هَذَا، وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبِلَادِ بَلَدُكُمْ هَذَا. أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَائَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: اللَّهُمَّ، اشْهَدْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3: 80، الرقم: 11779، وابن ماجه في السنن، كتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، الرقم: 3931.

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: خبردار! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا دن یہ ہے، تمام مہینوں میں سب سے زیادہ ذی شرف مہینہ یہ ہے اور تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ فضیلت والا ہے۔ خبردار! تمہارے مال اور تمہاری جان ایک دوسرے کے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جیسا کہ یہ شہر، یہ مہینہ اور یہ دن حُرمت والا ہے۔ کیا میں نے تمہیں پیغام (ربانی ) نہیں پہنچا دیا؟ صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! تو بھی گواہ ہوجا۔

اِسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

203. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ، وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِيْهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ. فَأَكْثِرُوْا فِيْهِنَّ مِنَ التَّهْلِيْلِ وَالتَّكْبِيْرِ وَالتَّحْمِيْدِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ عَوَانَةَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 75، الرقم: 5446، وأيضًا، 2: 131، الرقم: 6154، وأبو عوانة في المسند، 2: 246، الرقم: 3022، وعبد بن حميد في المسند، 1: 257، الرقم: 807، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 354، الرقم: 3751.

حضرت (عبد الله) بن عمر رضی الله عنهما ، حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ تو تمام دنوں میں سے کسی دن کی عظمت ان دِنوں جیسی ہے اور نہ ہی دوسرے دنوں کا کوئی نیک عمل ایسا ہے جو اللهتعالیٰ کو ان دس دنوں (ذی الحجہ) کے اعمال سے زیادہ پیارا ہو۔ لہٰذا تم ان دنوں میں لا إله إلّا الله، الله أکبر اور الحمد ﷲ کی کثرت کیا کرو۔

اِسے امام احمد، ابو عوانہ اور عبد بن حمید نے روایت کیا ہے۔

204. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيْهَا أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالَ: قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا رَجُلًا خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْئٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1: 224، الرقم: 1968، وأبو داود في السنن، كتاب الصوم، باب في صوم العشر، 2: 325، الرقم: 2438، وابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب صيام العشر، 1: 550، الرقم: 1727، وابن حبان في الصحيح، 2: 30، الرقم: 324، وابن أبي شيبة في المصنف، 4: 228، الرقم: 19540، والبيهقي في السنن الكبرى، 4: 284، الرقم: 8175.

حضرت (عبد الله) بن عباس رضی الله عنهما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: دوسرے دنوں کا کوئی نیک عمل ایسا نہیں جو اللهتعالیٰ کو ان دس ایام (ذی الحجہ) کے اَعمال سے زیادہ محبوب ہو۔ لوگ عرض گزار ہوئے: یارسول الله! کیا الله کی راہ میں جہاد کرنا بھی؟ فرمایا: الله کی راہ میں جہاد کرنا بھی، ما سوا اُس شخص کے جو اپنی جان اور اپنے مال سے نکلا اور کچھ بھی لے کر واپس نہ لوٹا۔

اِسے امام احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

205. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ. قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، هُنَّ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتُهُنَّ جِهَادًا فِي سَبِيْلِ اللهِ؟ قَالَ: هُنَّ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادًا فِي سَبِيْلِ اللهِ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ يَعْلَى.

أخرجه ابن حبان في الصحيح، كتاب الحج، باب الخروج من مكة إلى منى، ذكر رجاء العتق من النار لمن شهد عرفات يوم عرفة، 9: 164، الرقم: 3853، وأبويعلى في المسند، 4: 69، الرقم: 2090، والهيثمي في موارد الظمأن، 1: 248، الرقم: 1006، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 128، الرقم: 1790.

حضرت جابر رضی الله عنه روایت کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ کے نزدیک ذو الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن بھی فضیلت والے نہیں ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول الله! وہ دن افضل ہیں یا ا ن دنوں میں الله کی راہ میں جہاد کی تیاری ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عشرہ ذو الحجہ کے دن الله کی راہ میں جہاد کی تیاری کے دنوں سے بھی افضل ہیں۔

اِسے امام ابنِ حبان اور ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے۔

206. وَعَنْهُ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَلَا مِثْلُهَا فِي سَبِيْلِ اللهِ؟ قَالَ: إِلَّا مَنْ عَفَّرَ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ.

رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالطَّحَاوِيُّ.

أخرجه أبو عوانة في المسند، 2: 246، الرقم: 3023، والطحاوي في شرح مشكل الآثار، 7: 418، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 127، الرقم: 1785.

حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنهما حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: الله تعالیٰ کے نزدیک ذو الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن بھی فضیلت والے نہیں ہیں۔ صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول الله! الله تعالیٰ کی راہ میں گزرنے والے دن بھی ان کی مثل نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ہاں، اگر کوئی (الله تعالیٰ کی راہ میں) اپنے آپ کو خاک آلود کر لے (یہ جہاد کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اِن ایام کے برابر اجر پا سکتا ہے)۔

اسے امام ابو عوانہ اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔

207. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيْهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ. يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه الترمذي في السنن، كتاب الصوم، باب ما جاء في العمل في الأيام العشر، 3: 131، الرقم: 758، وابن ماجه في السنن، كتاب الصيام، باب صيام العشر، 1: 551، الرقم: 1728، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 2: 127، الرقم: 1786، والهندي في كنز العمال، 5: 27، الرقم: 12088.

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جن دنوں میں الله رب العزت کی عبادت کی جاتی ہے ان میں سے کوئی دن عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں۔ ان میں سے ہر دن کا روزہ سال کے روزوں اور ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہوتا ہے۔

اِسے امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

208. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: سَيِّدُ الشُّهُوْرِ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَأَعْظَمُهَا حُرْمَةً ذُو الْحِجَّةِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 355، الرقم: 3755، وأيضًا في فضائل الأوقات، 1: 335-336، الرقم: 167، ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 3: 140، والهندي في كنز العمال، 8: 216، الرقم: 23670.

حضرت ابو سعید الخدری رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ ذو الحجہ کا ہے۔

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے کہ اسے امام بزار نے روایت کیا ہے۔

مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْن

(ائمہ سلف صالحین کے اِرشادات و معمولات)

قَالَ عُمَرُ رضی الله عنه يَوْمًا، وَهُوَ بِطَرِيْقٍ مَكَّةَ: تَشْعَثُوْنَ وَتَغْبُرُوْنَ وَتَتْفَلُوْنَ وَتَضْحُوْنَ. لَا تُرِيْدُوْنَ بِذَلِكَ شَيْئًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا. مَا نَعْلَمُ سَفَرًا خَيْرًا مِنْ هَذَا، يَعْنِي الْحَجَّ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 237.

حضرت عمر رضی الله عنه ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے راستے میں یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: تمہارے بال بکھرے ہوں گے تم غبار آلود ہوگے۔ خوشبو نہ لگانے کے باعث تم بدبو دار ہو گے اور تم دھوپ برداشت کرو گے۔ ان تمام اعمال سے تمہاری غرض دنیا حاصل کرنا نہیں ہے۔ ہم اس سفر سے زیادہ خیر والا سفر نہیں جانتے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ رَجُلٌ ِلابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما: مَا أَكْثَرَ الْحَاجِّ! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا أَقَلَّهُمْ! ثُمَّ رَآى رَجُلًا عَلَى بَعِيْرٍ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ، خِطَامُهُ حِبَالٌ، فَقَالَ: لَعَلَّ هَذَا.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 5: 19، الرقم: 8836.

حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی الله عنهما سے ایک آدمی نے کہا: حاجیوں کی کتنی کثرت ہے! ابن عمر رضی الله عنهما نے جواباً ارشاد فرمایا: حقیقی حاجی کتنے تھوڑے ہیں! پھر انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو ایک اونٹ پر سوار تھا اور اس کا پالان بوسیدہ ہو چکا تھا، اس کی لگام ایک رسی تھی تو فرمایا: شاید یہی حقیقی حاجی (اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول) ہو۔

اسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

وَقَالَ شُرَيْحٌ: الْحَاجُّ قَلِيْلٌ وَالرُّكْبَانُ كَثِيْرٌ. مَا أَكْثَرَ مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ، وَلَكِنْ مَا أَقَلَّ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهُ!.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 236.

حضرت شریح فرماتے ہیں: حقیقی حاجی تو تھوڑے ہیں لیکن سوار بہت زیادہ ہیں۔بہت کم لوگ اَعمالِ صالحہ انجام دیتے ہیں مگر جو لوگ محض رضاے اِلٰہی کے لیے عمل کرتے ہیں ان کی تعداد سب سے کم ہے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ إِذَا رَآى مَنْ يُسَافِرُ إِلَى الْمَدِيْنَةِ النَّبَوِيَّةِ يَقُوْلُ لَهُ: أَقْرِيء رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مِنِّى السَّلَامَ.

ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 239.

حضرت عمر بن عبد العزیز رضی الله عنه جب کسی شخص کو (ادائیگیِ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ اور) مدینہ منورہ جاتے ہوئے دیکھتے تو اس سے کہتے: میری جانب سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کر دینا۔

وَرُوِيَ أَنَّهُ كَانَ يُبْرِدُ عَلَيْهِ الْبَرِيْدَ مِنَ الشَّامِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ بطور خاص ایک قاصد کو ملک شام سے مدینہ منورہ روانہ فرمایا کرتے تھے۔

اسے علامہ ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

قَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: كَانُوْا يُعَظِّمُوْنَ ثَلَاثَ عَشَرَاتٍ: الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَالْعَشْرَ الْأَخِيْرَ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْمُحَرَّمِ.

ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ.

ابن الجوزي في التبصرة، 2: 130، وابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف، ص: 35.

ابو عثمان النہدی کہتے ہیں کہ اسلاف تین عشروں کی تعظیم و توقیرکیا کرتے تھے: ذو الحجہ کا پہلا عشرہ، رمضان کا آخری عشرہ اور محرم کا پہلا عشرہ۔

اسے علامہ ابن الجوزی اور ابن رجب الحنبلی نے بیان کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved