Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب اول

بَابٌ فِي اخْتِصَاصِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالشَّفَاعَةِ الْعُظْمٰی مِنْ بَيْنِ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ

(تمام انبیاء و رسل میں سے فقط حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیامت کے دن شفاعت عظمیٰ کے مقام پر فائز ہونے کا بیان)

1 / 1. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِداً وَّطَهُوْرًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي اَدْرَکَتْهُ الصَّلٰوةُ فَلْيُصَلِّ، وَاُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ، وَکَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ اِلَی قَوْمِه خَآصَّةً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَآمَّةً.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُمْ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التيمم، باب قول اﷲ : فلم تجدوا ماءً فتيمّمُوا صعيداً طيباً، 1 / 128، الرقم : 328، وأيضاً في کتاب : الصلاة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : جُعِلَتْ لِيَ الأرضُ مسجدًا وطهورًا، 1 / 168، الرقم : 427، ومسلم في الصحيح، کتاب : المساجد ومواضع الصلوة، 1 / 370، الرقم : 521، والنسائي في السنن، کتاب : الغسل والتيمم، باب : التيمم بالصعيد، 1 / 210 - 211، الرقم : 432، وابن حبان في الصحيح، 14 / 308، الرقم : 6398، والدارمي في السنن، 1 / 374، الرقم : 1389، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 303، الرقم : 31642، وأبوعوانة في المسند، 1 / 330، الرقم : 1173، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 349، الرقم : 1154، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 329، 6 / 291، وأيضاً في شعب الإيمان، 2 / 177، الرقم : 1479.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے تمام زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی لہذا میری امت میں سے جو شخص جہاں بھی نماز کا وقت پائے وہیں پڑھ لے، میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت عطا کی گئی، پہلے ہر نبی ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا جبکہ مجھے تمام انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، نسائی، ابن حبان، دارمی، ابن ابی شیبہ اور دیگر بہت سے ائمہ نے روایت کیا ہے۔

2 / 2. عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَنَزِيِّ قَالَ : إِجْتَمَعْنَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَذَهَبْنَا إِلَی أَنَسِ بْنِ مًالِکٍ رضی اﷲ عنه وَذَهَبْنَا مَعَنَا بِثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ إِلَيْهِ، يَسْأَلُه لَنَا عَنْ حَدِيْثِ الشَّفَاعَةِ؟ فَإِذَا هُوَ فِي قَصْرِه، فَوَافَقْنَاهُ يُصَلِّي الضُّحٰی، فَاسْتَأْذَنَّا فَأُذِنَ لَنَا وَهُوَ قَاعِدٌ عَلٰی فِرَاشِهِ. فَقُلْنَا لِثَابِتٍ : لَاتَسْأَلْهُ عَنْ شَيْئٍ أَوَّلَ مِنْ حَدِيْثِ الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ! هٰؤُلَاءِ إِخْوَانُکَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، جَاؤُوْکَ يَسْأَلُوْنَکَ عَنْ حَدِيْثِ الشَّفَاعَةِ؟

فَقَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ. فَيْتُوْنَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ لَهَا، وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِإِبْرَاهِيْمَ فَإِنَّه خَلِيْلُ الرَّحْمٰنِ. فَيَأْتُوْنَ إِبْرَاهِيْمَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ لَهَا، وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُوْسَی فَإِنَّهُ کَلِيْمُ اﷲِ. فَيَأْتُوْنَ مُوْسَی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ لَهَا، وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِعِيْسَی فَإِنَّه رُوْحُ اﷲِ وَکَلِمَتُه. فَيْتُوْنَ عِيْسَی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ لَهَا، وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم.

فَيْتُوْنَنِي فَأَقُوْلُ : أَنَا لَهَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُه بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ، وَأَخِرُّ لَه سَاجِدًا. فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ : إِنْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيْرَةٍ مِنْ يْمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فأَفْعَلُ. ثُمَّ أَعُوْدُ فَأَحْمَدُه بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَه سَاجِدًا، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلَ : يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ : إِنْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِه مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ يْمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ. ثُمَّ أَعُوْدُ فَأَحْمَدُه بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَه سَاجِدًا، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِْی، فَيَقُوْلُ : إِنْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِه أَدْنَی أَدْنَی أَدْنَی مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ يْمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ.

فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ أَنَسٍ قُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِنَا : لَوْ مَرَرْنَا بِالْحَسَنِ، وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيْفَةَ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ ابْنُ مَالِکٍ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَنَا. فَقُلْنَا لَه : يَا أَبَا سَعِيْدٍ! جِئْنَاکَ مِنْ عِنْدِ أَخِيْکَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ. فَقَالَ : هِيْهِ، فَحَدَّثْنَاهُ بِالْحَدِيْثِ، فَانْتَهٰی إِلَی هَذَا الْمَوْضِعِ. فَقَالَ : هِيْهِ، فَقُلْنَا لَه : لَمْ يَزِدْ لَنَا عَلَی هَذَا، فَقَالَ : لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ جَمِيْعٌ مُنْذُ عِشْرِيْنَ سَنَةً، فَلَا أَدْرِيْ : أَنَسِيَ، أَمْ کَرِهَ أَنْ تَتَّکِلُوْا. فَقُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيْدٍ! فَحَدِّثْنَا، فَضَحِکَ، وَقَالَ : خُلِقَ الْإِنْسَانُ عَجُوْلًا، مَا ذَکَرْتُه إِلَّا وَأَنَا أُرِيْدُ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ، حَدَّثَنِي کَمَا حَدَّثَکُمْ بِه.

قَالَ : ثُمَّ أَعُوْدُ الرَّابِعَةَ، فَأَحْمَدُه بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَه سَاجِدًا، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! إِئْذَنْ لِي فِيْمَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ، فَيَقُوْلُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، وَکِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي : لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

2 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : کلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الأنبياء وغيرهم، 6 / 2727، الرقم : 7072، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنٰی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 182 - 184، الرقم : 193، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 330، الرقم : 11131، وأبو يعلی في المسند، 7 / 311، الرقم : 4350، وابن مندہ في الإيمان، 2 / 841، الرقم : 873.

’’معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم اہلِ بصرہ اکٹھے ہو کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے اور ہم ان کے پاس اپنے ساتھ ثابت بُنانی کو لے گئے تاکہ وہ ان سے ہمارے لیے حدیثِ شفاعت کا سوال کریں؟ وہ اپنے گھر میں تھے۔ ہم نے انہیں نماز چاشت پڑھتے ہوئے پایا اور داخل ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی آپ اپنے بچھونے پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا : حدیث شفاعت سے قبل آپ ان سے کوئی اور سوال نہ کریں تو انہوں نے عرض کیا : ابو حمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے حدیثِ شفاعت کے بارے پوچھنا چاہتے ہیں؟

’’انہوں نے کہا : ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگ دریا کی موجوں کی مانند بے قرار ہوں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، وہ فرمائیں گے : یہ میرا مقام نہیں، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے جس پر وہ فرمائیں گے : یہ میرا منصب نہیں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔ پس وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس لائق نہیں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس شفاعت کے قابل نہیں تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’پس لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : ہاں! اس شفاعت کے لیے تو میں ہی مخصوص ہوں۔ پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی اور مجھے ایسے حمدیہ کلمات الہام کئے جائیں گے جن کے ساتھ میں اللہ کی حمد و ثنا کروں گا وہ اب مجھے مستحضر نہیں ہیں۔ پس میں ان محامد سے اﷲ کی تعریف و توصیف کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ سو مجھے کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں، اپنی بات کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : میرے رب! میری امت، میری امت، پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے ہر ایسے امتی کو نکال لو جس کے دل میں جَو کے برابر بھی ایمان ہو پس میں جاکر یہی کروں گا۔ پھر واپس آکر ان محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پس کہا جائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے!آپ کو سنا جائے گا، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب! میری امت، میری امت! پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں ذرے کے برابر یا رائی کے برابر بھی ایمان ہو۔ پس میں جا کر ایسے ہی کروں گا۔ پھر واپس آ کر انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثناء بیان کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدے میں گرجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب! میری امت، میری امت، پس وہ فرمائے گا : جاؤ اور اسے بھی جہنم سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی بہت ہی کم بہت ہی کم بہت ہی کم ایمان ہو۔ پس میں خود جاؤں گا اور جا کر ایسا ہی کروں گا۔

’’جب ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا : ہمیں حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلنا چاہئے جو کہ ابو خلیفہ کے مکان میں روپوش ہیں اور انہیں وہ حدیث بیان کرنی چاہئے جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی تو ہم نے ان سے کہا : ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں سے ہوکر آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی ہے اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ انہوں نے کہا : بیان کرو، ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا : (مزید) بیان کرو، ہم نے ان سے کہا : اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ آج سے بیس سال قبل جب صحت مند تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے ہیں یا اس لئے بیان کرنا ناپسند کیا ہے کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا : ابوسعید! پھر آپ ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے اس پر آپ ہنسے اور فرمایا : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لئے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی۔

’’(مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں چوتھی دفعہ واپس لوٹوں گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کروں گا پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب ! مجھے اُن کی (شفاعت کرنے کی) اجازت بھی دیجئے جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے، پس وہ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت و جلال اور عظمت و کبریائی کی قسم! میں انہیں ضرورجہنم سے نکالوں گا جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3 / 3. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يَجْمَعُ اﷲُ الْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَذٰلِکَ، فَيَقُوْلُوْنَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيْحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هَذَا. فَيَأْتُوْنَ آدَمَ فَيَقُوْلُوْنَ : يَا آدَمُ! أَمَا تَرَی النَّاسَ، خَلَقَکَ اﷲُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَهُ، وَعَلَّمَکَ أَسْمَاءَ کُلِّ شَيئٍ، إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيْحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هٰذَا، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکَ، وَيَذْکُرُ لَهُمْ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وَلٰ.کِنِ ائْتُوْا نُوْحًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُوْلٍ بَعَثَهُ اﷲُ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ. فَيْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ، وَيَذْکُرُ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وًلٰکِنِ ائْتُوْا إِبْرَهِيْمَ خَلِيْلَ الرَّحْمٰنِ. فَيْتُوْنَ إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُم، وَيَذْکُرُ لَهُمْ خَطَيَاهُ الَّتِي أَصَابَهَا، وَلٰکِنِ ائْتُوْا مُوْسٰی، عَبْدًا آتَاهُ اﷲُ التَّوْرَاةَ وَکَلَّمَهُ تَکْلِيْمًا. فَيْتُوْنَ مُوْسٰی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ، وَيَذْکُرُ لَهُمْ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وًلٰکِنِ ائْتُوْا عِيْسٰی، عَبْدَ اﷲِ وَرَسُوْلَهُ وَکَلِمَتَهُ وَرُوْحَهُ. فَيْتُوْنَ عِيْسٰی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ، وًلٰکِنِ ائْتُوْا مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم، عَبْدًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ.

فَيْتُوْنَنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ لَهُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي. ثُمَّ يُقَالُ لِي : إِرْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيْهَا، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. ثُمَّ أَرْجِعُ فَإِذَا رَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي. ثُمَّ يُقَالُ : إِرْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيْهَا رَبِّي، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَإِذَا رَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ : اِرْفَعْ مُحَمَّدُ! قُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيْهَا، ثُمّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. ثُمَّ أَرْجِعُ فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُوْدُ. قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيْرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُِمنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ ما يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ مِنَ الْخَيْرِ ذَرَّةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

3 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب قول اﷲ : لما خلقت بيدي، 6 / 2695.2696، الرقم : 6975، وأيضاً في کتاب : التفسير، باب قول اﷲ : وعلّم آدم الأسماء کلها، 4 / 1624، الرقم : 4206، وأيضاً في کتاب : الرقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2401، الرقم : 6197، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 180، الرقم : 193، وابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1442، الرقم : 4312، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 116، الرقم : 12174، إسناده صحيح علی شرط الشيخين.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت کے دن مومنوں کو جمع فرمائے گا۔ وہ کہیں گے : کاش ہم اپنے رب کے پاس کوئی سفارش لے جاتے تاکہ وہ ہمیں اس حالت سے آرام عطا فرماتا۔ چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے : اے آدم! کیا آپ لوگوں کو نہیں دیکھتے، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے لہذا ہمارے لئے اپنے رب سے سفارش کیجئے تاکہ وہ ہمیں ہماری اس حالت سے آرام عطا فرمائے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے : میں اِس لائق نہیں، پھر وہ اپنی لغزش کا ان کے سامنے ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی البتہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے زمین والوں پر بھیجا تھا. چنانچہ سب حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں اور وہ اپنی لغزش یاد کریں گے جو اُن سے ہوئی، البتہ تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے : میں اس قابل نہیں اور اپنی لغزشوں کا ذکر لوگوں سے کریں گے۔ البتہ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے ہیں اور اللہ نے انہیں توریت دی تھی اور ان سے کلام کیا تھا. سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں ہوں اور ان کے سامنے اپنی لغزش کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی، البتہ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : میں بارگاہ الٰہی میں لب کشائی کے قابل نہیں، تم سب لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ ایسے محبوب ہیں کہ ان کی عظمت کے صدقے ان کی امت کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔

’’چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں ان کے ساتھ چلوں گا اور اپنے رب سے اِذن چاہوں گا تو مجھے اذن دے دیا جائے گا۔ پھر اپنے رب کو دیکھتے ہی اس کے لئے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا اسی حالت میں مجھے رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اٹھ کر کہیں، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں، عطا کیا جائے گا، شفاعت کریں آپ کی شفاعت منظور کی جائے گی، پس میں اپنے رب کی تعریف ان کلماتِ تعریف سے کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لئے حد مقرر کی جائے گی تو میں اس کے مطابق لوگوں کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں دوسری بار لوٹوں گا اور اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اٹھ کر کہیں، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو دیا جائے گا، شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپنے رب کی حمد ان کلماتِ حمد سے کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لئے حد مقرر کر دی جائے گی پس میں انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں تیسری بار لوٹوں گا تو اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اﷲ تعالیٰ جب تک چاہے گا اسی حالت پر مجھے برقرار رکھے گا، پھر کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھیے! کہیے آپ کو سنا جائے گا، سوال کیجئے عطا کیا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی تو میں اپنے رب کی ان کلماتِ حمد سے تعریف کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میرے لئے ایک حد مقرر کر دی جائے گی تو میں انہیں جنت میں داخل کروں گا پھر میں لوٹ کر عرض کروں گا : اے رب! اب جہنم میں کوئی باقی نہیں رہا سوائے ان کے جنہیں قرآن نے روک دیا ہے اورانہیں ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہنم سے وہ نکلے گا جس نے لَاِالٰهَ اِلَّا اﷲُ کا اقرار کیا ہوگا اور اس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی خیر ہو گی، پھر جہنم سے وہ بھی نکلے گا جس نے لَاِالٰهَ اِلَّا اﷲُ کہا ہو گا اور اس کے دل میں گیہوں کے برابر بھی خیر ہو گی، پھر جہنم سے وہ بھی نکلے گا جس نے لَاِالٰهَ اِلَّا اﷲُ کا اقرار کیا ہوگا اور اس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

4 / 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : أُتِيَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَکَانَتْ تُعْجِبُه، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّ ذٰلِکَ؟ يَجْمَعُ اﷲُ النَّاسَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيْقُوْنَ وَلَا يَحْتَمِلُوْنَ. فَيَقُوْلُ النَّاسُ : أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ؟ أَلَا تَنْظُرُوْنَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ؟

فَيَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : عَلَيْکُمْ بِآدَمَ. فَيْتُوْنَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ لَه : أَنْتَ أَبُوالْبَشَرِ، خَلَقَکَ اﷲُ بِيَدِه، وَنَفَخَ فِيْکَ مِنْ رُوْحِه، وَأَمًرَ الْمَلَا ئِکَةَ فَسَجَدُوْا لَکَ، إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ. أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ أَلَا تَرٰی اِلٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُوْلُ آدَمُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَه مِثْلَه وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَه مِثْلَه، وَإِنَّه نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُه، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی غَيْرِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی نُوْحٍ. فَيْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا نوْحُ! إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلٰی أَهْلِ الْأَرْضِ، وَقَدْ سَمَّاکَ اﷲُ عَبْدًا شَکُوْرًا، إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ. أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ فَيَقُوْلُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَه مِثْلَه وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَه مِثْلَه، وَإِنَّه قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلٰی قَوْمِي، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی غَيْرِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی إِبْرَهِيْمَ.

فَيْتُوْنَ إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا إِبْرَهِيْمُ! أَنْتَ نَبِيُّ اﷲِ وَخَلِيْلُه مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ. أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ فَيَقُوْلُ لَهُمْ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَه مِثْلَه وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَه مِثْلَه، وَإِنِّي قَدْ کُنْتُ کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی غَيْرِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی مُوْسٰی. فَيْتُوْنَ مُوْسٰی، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا مُوْسٰی! أَنْتَ رَسُوْلُ اﷲِ، فَضَّلَکَ اﷲُ بِرِسَالَتِه وَبِکَلَامِه عَلَی النَّاسِ، إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ. أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ فَيَقُوْلُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَه مِثْلَه وَلَنْ يَغْضَبْ بَعْدَه مِثْلَه، وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی غَيْرِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی عِيْسٰی. فَيْتُوْنَ عِيْسٰی، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا عِيْسٰی! أَنْتَ رَسُوْلُ اﷲِ وَکَلِمَتُه أَلْقَهَا إِلٰی مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ، وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا. إِشْفَعْ لَنَا، أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ فَيَقُوْلُ عِيْسٰی : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَه مِثْلَه قَطُّ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَه مِثْلَه، وَلَمْ يَذْکُرْ ذَنْبًا، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، إِذْهَبُوْا إِلٰی غَيْرِي إِذْهَبُوْا إِلٰی مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم.

فَيَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا مُحَمَّدُ! أَنْتَ رَسُوْلُ اﷲِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ غًفَرَ اﷲُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ. إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّکَ، أَلَا تَرٰی إِلٰی مَا نَحْنُ فِيْهِ؟ فَأَنْطَلِقُ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ، ثُمَّ يَفْتَحُ اﷲُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِه وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْءًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلٰی أَحَدٍ قَبْلِي. ثُمَّ يُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُوْلُ : أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الْيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَکَاءُ النَّاسِ فِيْمَا سِوَی ذٰلِکَ مِنَ الْأَبْوَابِ. ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيْعِ الْجَنَّةِ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَحِمْيَرَ، أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرٰی.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

4 : أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب : التفسير، باب : ذرّيّة من حملنا مع نوح إنه کان عبداً شکوراً، 4 / 1745.1747، الرقم : 4435، وأيضاً في کتاب : الأنبياء، باب قول اﷲ : ولقد أرسلنا نوحاً إلی قومه، 3 / 1215 - 1216، الرقم : 3162، وأيضاً في کتاب : الأنبياء، باب قول اﷲ تعالی : واتّخذ اﷲ إبراهيم خليلاً، 3 / 1226، الرقم : 3182، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 184، الرقم : 194، والترمذی في السنن، کتاب : صفة القيامة، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 622، الرقم : 2434، وقال : هذا حديث حسن صحيح، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 435، الرقم : 9623، إسناده صحيح علی شرط الشيخين.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو دستی کا حصہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دانتوں سے کاٹ کاٹ کر تناول فرمانے لگے پھر ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے وہ کون سا دن ہوگا؟ اس دن اﷲ تعالیٰ دنیا کی ابتداء سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائے گا کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ پس لوگوں کی پریشانی اور بے قراری اس حد تک پہنچی ہو گی جس کی انہیں نہ طاقت ہو گی اور نہ وہ برداشت کر پائیں گے۔ لوگ کہیں گے : کیا دیکھتے نہیں ہو کہ تمہیں کس طرح کی پریشانی لاحق ہو گئی ہے؟ کیا کوئی ایسا برگزیدہ بندہ نہیں ہے جو اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے؟

’’بعض لوگ بعض سے کہیں گے : تمہیں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلنا چاہیے۔ لہذا سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ تمام انسانوں کے جدِ امجد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی طرف سے آپ میں روح پھونکی اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا لہذا آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر دیجئے۔ آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے : بے شک میرا رب آج انتہائی غضب ناک ہے، اس سے پہلے اتنا غضب ناک وہ کبھی نہ ہوا تھا اور نہ بعد میں کبھی اتنا غضب ناک ہوگا۔ رب العزت نے مجھے درخت سے روکا تھا تو میں نے اس کا حکم نہ مانا، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے نوح! آپ (طوفان کے بعد) سب سے پہلے رسول ہیں جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے تھے اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے شکر گزار بندہ کا خطاب دیا ہے، آپ ہی ہمارے لئے اپنے رب کے حضور شفاعت کر دیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : میرا رب آج اتنا غضب ناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضب ناک ہو گا، مجھے ایک مقبول دعا عطا کی گئی تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ مجھے اپنی فکر ہے، مجھے اپنی فکر ہے، مجھے تو اپنی فکر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔

’’سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور روئے زمین میں اﷲ کے خلیل ہیں، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے : آج میرا رب بہت غضب ناک ہے۔ اتنا غضب ناک وہ نہ پہلے ہوا تھا اور نہ آج کے بعد ہوگا۔ میں نے (بظاہر نظر آنے والے) تین جھوٹ بولے تھے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعہ فضیلت دی۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : آج اللہ تعالیٰ بہت غضب ناک ہے، اتنا غضب ناک وہ نہ پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی ہو گا، میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا حالانکہ اللہ کی طرف سے مجھے اس کا حکم نہیں ملا تھا، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم کی طرف القاء کیا تھا اور اللہ کی طرف سے روح ہیں، آپ نے بچپن میں گہوارے میں لوگوں سے کلام کیا تھا، (لہذا آپ) ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہماری کیا حالت ہو چکی ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کہیں گے : میرا رب آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ہو گا اور آپ کسی لغزش کا ذکر نہیں کریں گے (صرف اتنا کہیں گے :) مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں محمد حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’سب لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ اللہ کے رسول اور سب سے آخری پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے اور بعد کے تمام گناہوں سے معصوم رکھا ہے، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ) میں آگے بڑھوں گا اور عرش تلے پہنچ کر اپنے رب عزوجل کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور حسن تعریف کے ایسے دروازے کھولے گا کہ مجھ سے پہلے کسی اور پر اس نے نہیں کھولے تھے۔ پھر کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : میرے رب میری امت! میرے رب میری امت ! میرے رب میری امت ! کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے جنت کے دائیں دروازے سے داخل کیجئے ویسے انہیں اختیار ہے کہ جس دروازے سے چاہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت کے دروازے کے دونوں کناروں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں ہے یا جتنا مکہ اور بصری میں ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

5 / 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه وَأَبُوْ مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ رضی اﷲ عنه قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَجْمَعُ اﷲُ النَّاسَ فَيَقُوْمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَتَّی تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُوْنَ آدَمَ فَيَقُوْلُوْنَ : يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُوْلُ : وَهَلْ أَخْرَجَکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيْئَةُ أَبِيْکُمْ آدَمَ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ، إِذْهَبُوا إِلَی إِبْنِي إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اﷲِ. قَالَ : فَيَقُوْلُ إِبْرَاهِيْمُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ، اِنَّمَا کُنْتُ خَلِيْلاً مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ، اعْمِدُوْا إِلَی مُوْسَی الَّذِي کَلَّمَهُ اﷲُ تَکْلِيْمًا. فَيَأْتُوْنَ مُوْسَی فَيَقُوْلُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ، إِذْهَبُوْا إِلَی عِيْسَی کَلِمَةِ اﷲِ وَرُوْحِهِ. فَيَقُوْلُ عِيْسَی : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ.

فَيْتُوْنَ مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم، فَيَقُوْمُ فَيُؤْذَنُ لَهُ، وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُوْمَانِ جَنَبَتَی الصِّرَاطِ يَمِيْنًا وَشِمَالًا. فَيَمُرُّ أَوَّلُکُمْ کَالْبَرْقِ. قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي! أَيُّ شَيئٍ کَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْبَرْقِ کَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ کَمَرِّ الرِّيْحِ، ثُّمَّ کَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّحَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ. وَنَبِيُّکُمْ قَائِمٌ عَلَی الصِّرَاطِ يَقُوْلُ : رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّی تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِِ حَتَّی يَجِيئَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيْعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا. قَالَ : وَفِي حَافَتَی الصِّرَاطِ کَلَالِيْبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُوْرَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوْشٌ نَاجٍ وَمَکْدُوْسٌ فِي النَّارِ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُوْنَ خَرِيْفًا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو يَعْلَی وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

5 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 187، الرقم : 195، وأبو يعلی في المسند، 11 / 81، الرقم : 6216، والحاکم في المستدرک، 4 / 631، الرقم : 8749، والبزار في المسند، 7 / 260، الرقم : 2840، وابن منده في الإيمان، 2 / 753، الرقم : 883، والمنذری في الترغيب والترهيب، 4 / 231، الرقم : 5493.

’’حضرات ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مؤمنین کے کھڑے ہونے پر جنت ان کے قریب کر دی جائے گی، پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جا کر عرض کریں گے : اے ہمارے ابا جان! ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوائیے۔ وہ فرمائیں گے : تمہارے باپ کی ایک لغزش نے ہی تم کو جنت سے نکالا تھا. میرا یہ منصب نہیں، میرے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اﷲ تعالیٰ کے خلیل ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے میرا یہ مقام نہیں ہے، میرے خلیل ہونے کا مقام، مقامِ شفاعت سے بہت پیچھے ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جن کو اﷲ تعالیٰ نے شرف کلام سے نوازا ہے، پھر لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میرا یہ منصب نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اﷲ تعالیٰ کے کلمہ اور اس کی روح ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : میرا یہ مقام نہیں۔

’’پس وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں گے تو آپ کھڑے ہوں گے اور آپ کو شفاعت کا اذن دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں امانت اور رحم کو چھوڑ دیا جائے گا اور وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہوجائیں گے۔ تم میں سے پہلا شخص پل صراط سے بجلی کی طرح گزرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : میرے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں بجلی کی طرح کونسی چیز گزرتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے بجلی کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح گزرتی ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے۔ پھر لوگ پل صراط سے آندھی کی طرح گزریں گے، اس کے بعد پرندوں کی رفتار سے اور اس کے بعد آدمیوں کے دوڑنے کی آواز سے گزریں گے۔ ہر شخص کی رفتار اس کے اعمال کے مطابق ہوگی اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط پر کھڑے ہو کر کہہ رہے ہوں گے : اے رب! ان کو سلامتی سے گزار دے، ان کو سلامتی سے گزار دے پھر ایک وقت وہ آئے گا کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کر دیں گے اور لوگوں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوگی اور وہ اپنے آپ کو گھسیٹتے ہوئے پل صراط سے گزریں گے۔ پل صراط کے دونوں جانب لوہے کے کانٹے لٹکے ہوں گے اور جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اس کو یہ پکڑ لیں گے بعض ان کی وجہ سے زخمی حالت میں نجات پا جائیں گے اور بعض ان سے الجھ کر دوزخ میں گر جائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں ابو ہریرہ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔‘‘

اسے امام مسلم، ابو یعلی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر یہ حديث صحيح ہے۔

6 / 6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِيْ : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَبْيَضِ، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ والْحُمَيْدِيُّ.

6 : أخرجه الشافعي في السنن المأثورة، 1 / 242، الرقم : 185، والحميدي في المسند، 2 / 421، الرقم : 945.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی، اور رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے، اور مجھے ہر سرخ و سفید کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔‘‘

اسے امام شافعی اور حمیدی نے روایت کیا ہے۔

7 / 7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبيٌّ قَبْلِي، وَلَا أَقُوْلُهُنَّ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کًافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيْحِ غَيْرَ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيْثِ.

7 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 301، الرقم : 2742، وابن أبی شيبة في المصنف، 6 / 303، الرقم : 31643، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 215، الرقم : 643، والطبراني في المعجم الکبير، 11 / 73، الرقم : 11085، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 258.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور میں انہیں فخریہ بیان نہیں کرتا : مجھے تمام لوگوں سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھے، اور میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے، پس میں نے اسے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا تو وہ ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل اور ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : امام احمد کے رُواۃ صحیح حدیث کے رجال ہیں سوائے یزید بن ابی زیاد کے، ان کی روایت حسن ہوتی ہے۔

8 / 8. عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيْتُ خَمْسًا بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ کَانَ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً وَإِنِّي أَخْبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. قَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

8 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 416، الرقم : 19735، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 304، الرقم : 31645، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 258.

’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں : مجھے سرخ و سیاہ (تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مسجد بنا دی گئی، میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھے، ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے، اور ہر نبی نے شفاعت کا سوال کیا تھا اور بے شک میں نے اپنی شفاعت کو ذخیرہ کر دیا ہے پھر میں اس کو اپنی امت کے ہر اس شخص کے لیے کروں گا جو اس حال میں مرا ہو کہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔‘‘

اسے امام احمد اور ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : امام احمد کے رجال حدیثِ صحیح کے رجال ہیں۔

9 / 9. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ عَلَی عَدُوِّي، وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعًةَ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَّا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا. قَالَ حَجَّاجٌ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالطَّيَالِسِيُّ. رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

9 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 161، الرقم : 21435، حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات رجال الشيخين، والدارمي في السنن، 2 / 295، الرقم : 2467 بألفاظه صلی الله عليه وآله وسلم : ‘‘وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا يُرْعَبُ مِنِّی الْعَدُوُّ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ وَقِيْلَ لِي : سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي‘‘، والبزار في المسند، 9 / 461، الرقم : 4077، والطيالسي في المسند، 1 / 64، الرقم : 472، والهيثمی في مجمع الزوائد، 8 / 259، وقال : رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح، وأيضاً في 10 / 371، وقال : رواه البزار بإسنادين حسنين.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں : میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مسجد بنا دی گئی، میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، ایک ماہ کی مسافت تک کے رعب سے دشمن پر میری مدد فرمائی گئی، مجھے ہر سرخ و سیاہ (تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا گیا، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے، اور وہ میری امت کے ہر اس شخص کو پہنچنے والی ہے جو اﷲ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔ حجاج (راوی) کہتے ہیں : جو اس حال میں مرا ہو کہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔‘‘

اسے امام احمد، دارمی، بزار اور طیالسی نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

10 / 10. عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم عَامَ غَزْوَةِ تَبُوکَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّيْ، فَاجْتَمَعَ وَرَاءَ هُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُوْنَهُ حَتَّی إِذَا صَلَّی وَانْصَرَفَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ : لَقَدْ أُعْطِيْتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَی النَّاس کُلِّهِمْ عَامَّةً وَکَانَ مَنْ قَبْلِي إِِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَی قَوْمِهِ، وَنُصِرْتُ عَلَی الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيْرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ آکُلُهَا وَکَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُوْنَ أَکْلَهَا کَانُوْا يُحْرِقُوْنَهَا، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُوْرًا أَيْنَمَا أَدْرَکَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ وَکَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُوْنَ ذٰلِکَ إِنَّمَا کَانُوْا يُصَلُّوْنَ فِي کَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ، وَالْخَامِسَةُ، هِيَ مَا هِيَ؟ قِيْلَ لِي : سَلْ فَإِنَّ کُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ لَکُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي السُّنَنِ الْکُبْرَی. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

10 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 222، الرقم : 7068، صحیح، إسناده حسن، والبيهيقي في السنن الکبری، 1 / 222، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 233، الرقم : 5497، وقال : رواه أحمد بإسناد صحيح، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 367، وقال : رواه أحمد، ورجاله ثقات، واللالکائي في شرح أصول إعتقاد أهل السنة، 4 / 487، الرقم : 1451، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2 / 256.

’’حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد وہ اپنے دادا (عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال ایک رات نماز پڑھتے ہوئے قیام فرمایا تو آپ کے صحابہ میں سے بعض اشخاص آپ کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کے پیچھے جمع ہوگئے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ نے ان کی طرف پلٹ کر ان سے فرمایا : اس رات مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : مجھے تمام عامۃ الناس کی طرف بھیجا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے ہر نبی کو اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، اور رعب سے دشمن پر میری مدد فرمائی گئی اگرچہ میرے اور ان کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تک کا فاصلہ ہو اس کو خوف سے بھر دیا جاتا ہے، اور میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کر دیئے گئے کہ میں انھیں کھاتا ہوں جبکہ مجھ سے پہلے اس کے کھانے کو بھاری سمجھتے تھے اور وہ اسے جلا دیتے تھے، اور میرے لئے تمام روئے زمین مساجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی جہاں کہیں بھی نماز مجھے پائے میں مسح کرکے نماز پڑھ لوں جبکہ مجھ سے پہلے لوگ اس کی تعظیم کیا کرتے تھے وہ صرف کلیساؤں اور گرجا گھروں (عبادت گاہوں) میں عبادت کرتے تھے، اور پانچویں خصوصیت مجھ سے کہا گیا : سوال کیجیے؟ کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا ہے تو میں نے اپنے سوال کو قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے، پس وہ تمہارے لیے ہے اور اس شخص کے لیے جس نے گواہی دی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

اسے امام احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

11 / 11. عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ أَرْبَعاً لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَنَا، وَسَأَلْتُ رَبِّيَ الْخَامِسَةَ فَأَعْطَانِيْهَا، کَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَی قَرْيَتِهِ وَلَا يَعْدُوْهَا وَبُعِثْتُ کَافَّةً إِلَی النَّاسِ، وَأَرْهَبَ مِنَّا عَدُوُّنَا مَسِيْرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسَاجِدَ، وَأُحِلَّ لَنَا الْخُمُسُ وَلَمْ يَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلَنَا، وَسَأَلْتُ رَبِّيَ الْخَامِسَةَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَحِّدُهُ إِلَّا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، فَأَعْطَانِيْهَا. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ.

11 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 14 / 309، الرقم : 6399، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 523، الرقم : 2125.

’’حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے چار ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور پانچویں عطا یہ کہ میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو اس نے مجھے عطا کیا : (ہر) نبی کو اس کی بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور وہ اس سے تجاوز نہیں کرتا تھا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اور ہمارا دشمن ہم سے ایک ماہ کی مسافت سے خوفزدہ ہو جاتا ہے، اور میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مساجد بنا دی گئی، اور ہمارے لئے خمس حلال کر دیا گیا ہے جبکہ ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھا اور میں نے اپنے رب سے پانچواں سوال کیا : میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ کوئی بھی میرا امتی جو اسے توحید کی حالت میں ملے پس وہ اسے جنت میں داخل فرمائے تو اس نے مجھے یہ عطا کر دیا۔‘‘

اسے امام ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔

12 / 12. عَنْ حُذَيْفَةَ رضی اﷲ عنه عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی اﷲ عنه قَالَ : أَصْبَحَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّی الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الضُّحٰی ضَحِکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، ثُمَّ جَلَسَ مَکَانَه حَتّٰی صَلَّی الْأُوْلَی وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، کُلُّ ذٰلِکَ لَا يَتَکَلَّمُ، حَتَّی صَلَّی الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَی أَهْلِه، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَکْرٍ : أَلَا تَسْأَلُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَا شَأْنُه صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْءًا لَمْ يَصْنَعْه قَطُّ؟ قَالَ : فَسَأَلَه، فَقَالَ : نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ کَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَأَمْرِ الْآخِرَةِ فَجُمِعَ الْأَوَّلُوْنَ وَالْآخِرُوْنَ بِصَعِيْدٍ وَاحِدٍ، فَفَظِعَ النَّاسُ بِذَلِکَ، حَتَّی انْطَلَقُوْا إِلَی آدَمَ، وَالْعَرَقُ يَکَادُ يُلْجِمُهُمْ. فَقَالُوْا : يَا آدَمُ! أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، وَأَنْتَ اصْطَفَاکَ اﷲُ، إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، قَالَ : قَدْ لَقِيْتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيْتُمْ، إِنْطَلِقُوْا إِلَی أَبِيْکُمْ بَعْدَ أَبِيْکُمْ إِلَی نُوْحٍ : (إِنَّ اﷲَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِيْنَo) [آل عمران، 3 : 33]. قَالَ : فَيَنْطَلِقُوْنَ إِلَی نُوْحٍ، فَيَقُوْلُوْنَ : إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَأَنْتَ اصْطَفَاکَ اﷲُ، وَاسْتَجَابَ لَکَ فِي دُعَائِکَ، وَلَمْ يَدَعْ عَلَی الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِيْنَ دَيَارًا، فَيَقُوْلُ : لَيْسَ ذَاکُمْ عِنْدِي، إِنْطَلِقُوْا إِلَی إِبْرَهِيْمَ، فَإِنَّ اﷲَ اتَّخَذَهُ خَلِيْلًا، فَيَنْطَلِقُوْنَ إِلَی إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُ : لَيْسَ ذَاکُمْ عِنْدِي، وَلَکِنِ انْطَلِقُوْا إِلَی مُوْسَی، فَإِنَّ اﷲَ کَلَّمَهُ تَکْلِيْمًا فَيَقُوْلُ مُوْسَی : لَيْسَ ذَاکُمْ عِنْدِي، وَلَکِنِ انْطَلِقُوْا إِلَی عِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ، فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَی فَيَقُوْلُ عِيْسَی : لَيْسَ ذَاکُمْ عِنْدِي، وَلَکِنِ انْطَلِقُوْا إِلَی سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اِنْطَلِقُوْا إِلَی مُحَمَّدٍ، فَيَشْفَعَ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ.

قَالَ : فَيَنْطَلِقُ، فَيَأْتِي جِبْرِيْلُ رَبَّهُ، فَيَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ : إِئْذَنْ لَه وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. قَالَ : فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيْلُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، وَيَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَه، فَإِذَا نَظَرَ إِلٰی رَبِّهِ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرٰی، فَيَقُوْلُ اﷲُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيْخُذُ جِبْرِيْلُ بِضَبْعَيْهِ، فَيَفْتَحُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَی بَشَرٍ قَطُّ فَيَقُوْلُ : أَي رَبِّ! خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، حَتَّی إِنَّه لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرُ مِمَّا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَيْلَةَ... إلی آخر الحديث.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو يَعْلَی وَالْبَزَّارُ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

12 : أخرجه أحمد في المسند، 1 / 4.5، رقم : 15، وابن حبان في الصحيح، 14 / 393. 395، الرقم : 6476، وأبو يعلی في المسند، 1 / 44.45، الرقم : 52، والبزار في المسند، 1 / 149. 151، الرقم : 76، والهيثمی في مجمع الزوائد، 10 / 375، وقال : رجالهم ثقات.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے تو نمازِ فجر ادا کرکے تشریف فرما ہوئے یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہوگیا تو آپ (کسی بات پر) مسکرائے، پھراپنی جگہ تشریف فرما رہے یہاں تک کہ نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا فرمائی، اس دوران آپ نے کوئی گفتگو نہ فرمائی یہاں تک کہ آپ عشاء ادا کرکے اپنے اہلِ خانہ کے پاس تشریف لے گئے۔ پس لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ اس کی کیا وجہ ہے آج آپ نے جو کیا اس سے قبل کبھی اس طرح نہیں کیا؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں! دنیا اور آخرت کے معاملات میں سے جو کچھ ہونے والا تھا مجھ پر پیش کیا گیا، اوّلین اور آخرین کو ایک میدان میں جمع کیا گیا، پس لوگ گھبرا کر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور قریب تھا کہ وہ پسینے میں ڈوب جاتے۔ عرض کریں گے : اے آدم علیہ السلام! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اور آپ ہی ہیں جو اللہ تعالی کے منتخب ہیں اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ وہ فرمائیں گے : مجھے بھی اس طرح پریشانی ہے جس طرح تمہیں ہے۔ تم اپنے (پہلے) باپ کے بعد دوسرے باپ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ (بے شک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہان والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرمایا ہےo) [آل عمران، 3 : 33] پس لوگ مل کر حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اورکہیں گے : اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے آپ کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا اور آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور روئے زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑا. آپ فرمائیں گے : شفاعت کا منصب میرے پاس نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کو خلیل بنایا تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ آپ فرمائیں گے : یہ منصب میرے پاس نہیں البتہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بلاواسطہ گفتگو فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : یہ منصب میرے پاس نہیں لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ انہوں نے مادر زاد اندھوں اور برص زدہ مریضوں کو (اللہ کے حکم سے) ٹھیک کر دیا اور مردوں کو زندہ کر دیا. پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : میرے پاس شفاعت کا یہ منصب نہیں البتہ تم اولاد آدم کے سردار کے پاس چلے جاؤ کیونکہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کے لئے سب سے پہلے زمین پھٹ جائے گی تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے جاؤ وہ اللہ کے حضور تمہاری شفاعت کریں گے۔

’’راوی فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائیں گے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام رب کے پاس آئیں گے، پس اللہ رب العزت فرمائیں گے : اُن کو شفاعت کی اجازت دے دو اورجنت کی خوشخبری سناؤ۔ فرمایا : پھر جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جائیں گے(یہ خبر سننے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقدارِ جمعہ کے برابر سجدہ میں پڑے رہیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے سنا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر انور اٹھائیں گے تو یکایک اپنے رب کا دیدار کرتے ہی پھر دوسری بار جمعہ کی مقدار کے برابر سجدہ میں پڑے رہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے، کہیے سنا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ آپ پھر سجدہ ریز ہونا چاہیں گے تو جبرئیل علیہ السلام آپ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ لیں گے، پھر اللہ تعالیٰ آپ پر ایسے دعائیہ کلمات منکشف فرمائے گا کہ آج تک کسی فرد بشر پر نہیں فرمائے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرض کریں گے : اے پروردگار! تو نے مجھے اولاد آدم کا سردار بنایا اور میں یہ بات بطور فخرنہیں کہتا اور سب سے پہلے قیامت کے دن مجھ ہی سے زمین شق ہوگی یہاں تک کہ روز قیامت (بعد ازاں) مجھ پر حوض پیش کیا جائے گا جس کی حدود صنعاء اور ایلہ کے درمیانی علاقہ کے برابر ہوں گی۔... ‘‘ الی آخر الحديث۔

اسے امام احمد بن حنبل، ابن حبان، ابو یعلی اور بزار نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی اسناد حسن ہے۔

13 / 13. عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه عَلَی مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ : قَالَ : رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِِ وَلَا فَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُوْنَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ. وَيَطُوْلُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَی النَّاسِ، فَيَقُوْلُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ إِلَی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيْتُوْنَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا آدَمُ! أَنْتَ الَّذِي خَلَقَکَ اﷲُ بِيَدِهِ، وَأَسْکَنَکَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَهُ، اِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيَقُوْلُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاکُمْ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيْئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَکِنِ ائْتُوْا نُوْحًا رَأْسَ النَّبِيِّيْنَ.

فَيْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا نُوْحُ! إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيَقُوْلُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاکُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَکِنِ ائْتُوْا إِبْرَهِيْمَ خَلِيْلَ اﷲِ. فَيْتُوْنَ إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا إِبْرَهِيْمُ! إِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّنَا، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيَقُوْلُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاکُمْ، إِنِّي کَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ. وَاﷲِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِيْنِ اﷲِ : قَوْلُه (إِنِّيْ سَقِيْمٌo) [الصافات، 37 : 89] وَقَوْلُه : (بَلْ فَعَلَه کَبِيْرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوْهُمْ إِنْ کَانُوْا يَنْطِقُوْنَo) [الأنبياء، 21 : 63] وَقَوْلُه لِإِمْرَأَتِهِ حِيْنَ أَتَی عَلَی الْمَلِکِ : أُخْتِي. وَإِنَّه لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَکِنِ ائْتُوْا مُوسَی الَّذِي اصْطَفَاهُ اﷲُ بِرِسَالَتِهِ وَکَلَامِهِ.

فَيَأْتُوْنَهُ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا مُوْسَی! أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاکَ اﷲُ بِرِسَالَتِهِ وَکَلَّمَکَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّه لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَکِنِ ائْتُوْا عِيْسَی رُوْحَ اﷲِ وَکَلِمَتَهُ. فَيْتُوْنَ عِيْسَی فَيَقُوْلُوْنَ : إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاکُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُوْنِ اﷲِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَکِنْ أَرَيْتُمْ لَوْ کَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُوْمٍ عَلَيْهِ، أَکَانَ يُقْدَرُ عَلَی مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّی يُفَضَّ الْخَاتَمُ، قَالَ فَيَقُوْلُوْنَ : لَا. قَالَ : فَيَقُوْلُ : إِنَّ مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ، وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ.

قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَيْتُوْنِي، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا مُحَمَّدُ! إِشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا. فَأَقُوْلُ : أَنَا لَهَا، حَتَّی يْذَنَ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ، لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَی، فَإِذَا أَرَادَ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ، نَادَی مُنَادٍ : يْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيْقِنَا، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُوْرِ. فَتَقُوْلُ الْأُمَمُ : کَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَکُوْنَ أَنْبِيَاءَ کُلُّهَا، فَآتِِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ : مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُوْلُ : أَنَا مُحَمَّدٌ! فَيُفْتَحُ لِي، فَآتِي رَبِّي عَزَّوَجًلَّ عَلَی کُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيْرِهِ. شَکَّ حَمَّادٌ. فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ کَانَ قَبْلِي وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فأَقُوْلُ : أَي رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُوْلُ : أَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا. لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ، ثُمَّ أُعِيْدُ فَأَسْجُدُ، فَأَقُوْلُ : مَا قُلْتُ، فَيُقَالُ : اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلُ : أَي رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِی، فَيَقُوْلُ : أَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا دُوْنَ الْأَوَّلِ. ثُمَّ أُعِيْدُ فَأَسْجُدُ، فَأَقُوْلُ : مِثْلَ ذٰلِکَ، فَيُقَالُ لِي : إِرْفَعْ رَأْسَکَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُوْلُ : أَي رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُوْلُ : أَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا دُونَ ذٰلِکَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَی. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : فِيْهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَی ضُعْفِهِ وَبَقِيَةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

13 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 281، الرقم : 2546، وأبو يعلی في المسند، 4 / 215.216، الرقم : 2328، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 372.

’’ابو نضرہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے بصرہ کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے حصہ میں مقبول دعا نہ آئی ہو جو دنیا میں پوری ہوئی اور میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر دیا ہے۔ میں قیامت کے دن تمام بنی آدم کا سردار ہوں گا مگر یہ بات بطور فخر نہیں کہتا، میں ہی وہ شخص ہوں جس پر سب سے پہلے زمین (قبر) کھل جائے گی مگر یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میرے ہاتھوں میں لواءِ حمد ہوگا اور یہ بات بطور فخر نہیں کرتا،. حضرت آدم اور ان کے علاوہ تمام انبیاء میرے جھنڈے تلے ہوں گے اور یہ بات بطور فحر نہیں کہتا۔ قیامت کا دن لوگوں کیلئے لمبا ہو جائے گا تو ان میں سے بعض بعض سے کہیں گے : ہمارے ساتھ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلو تاکہ وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کریں جس کی وجہ سے اللہ رب العزت ہمارا فیصلہ فرمائے۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوکر کہیں گے : اے آدم علیہ السلام! آپ ہی وہ شخصیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت سے تخلیق فرمایا، آپ کو اس نے اپنی جنت میں ٹھہرایا اور اس نے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا. اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے۔ پس وہ کہیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں ہوں اپنی لغزش کی وجہ سے میں جنت سے نکالا گیا اور آج کے دن مجھے اپنا غم ہے لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ جو نبیوں کے سردار ہیں۔

’’پس وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے : اے نوح علیہ السلام ! اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے۔ آپ فرمائیں گے : میرا یہ منصب نہیں میں نے ایک دعا کی جس سے اہل ارض غرق ہوگئے۔ آج کے دن مجھے اپنا غم ہے البتہ تم ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ تمام لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور کہیں گے : اے ابراہیم علیہ السلام ! اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : میں ا س منصب پر فائز نہیں ہوں میں نے اسلام میں (بظاہر) تین جھوٹ بولے تھے۔ خدا کی قسم اگر کوئی اور شخص ایسی باتوں کے ساتھ حیلہ طلب کرتا ہے تو وہ دین سے نکل جاتا ہے۔ (ان باتوں میں سے) آپ کا کہنا (میری طبیعت مضمحل ہےo) [القرآن، الصافات، 37 : 89] دوسری بات (بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تم ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیںo) [القرآن، الانبیاء، 21 : 89] اور آپ کا اپنی زوجہ کو جب آپ بادشاہ کے پاس آئے میری بہن کہنا۔ (ابراہیم علیہ السلام کہیں گے) آج کے دن مجھے اپنا غم ہے لیکن تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جنہیں اللہ نے اپنی رسالت اور کلام سے منتخب کیا۔

’’لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے : اے موسیٰ علیہ السلام ! آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا اور آپ کے ساتھ کلام کیا لہذا آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ پس آپ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں ہوں۔ میں نے ایک شحص کو بغیر قصاص کے قتل کیا تھا اور یہ کہ آج مجھے اپنا غم ہے لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہے۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے : آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں ہوں، مجھے اللہ کے سوا معبود بنا ليا گیا اور آج کے دن مجھے اپنا غم ہے لیکن کیا تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی سامان کسی مہر لگے برتن کے اندر ہو توکیا کوئی اس کے اندر تک بغیر مہر توڑے رسائی حاصل کرسکتا ہے؟ وہ کہیں گے : نہیں! تو آپ فرمائیں گے : بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ آج کے دن اس حال میں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوپہلے اور بعد کے ہر گناہ سے معصوم رکھا ہوا ہے۔

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس لوگ میرے پاس آ کر کہیں گے : اے محمد! اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے تو میں کہوں گا : یہ میرا ہی منصب ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت عطا فرمائے گا جس کو چاہے گا اور جس سے راضی ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائے گا کہ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ فرما دے، ایک آواز دینے والا آواز دے گا : کہاں ہیں احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت؟ پس ہم آخر میں آنے والے اور سب سے پہلے جنت میں جانے والے ہیں، ہم آخری امت ہیں اور وہ ہیں جن کا سب سے پہلے حساب ليا جائے گا، ہمارے راستے سے باقی امتوں کوہٹا دیا جائے گا۔ ہم اس حال میں چلیں گے کہ ہماری پیشانیاں وضو کے اثر کی وجہ سے چمک رہی ہوں گی۔ دوسری امتیں کہیں گی : امت کا یہ گروہ تو سارے کے سارے انبیاء لگتے ہیں۔ میں باب جنت پر آجاؤں گا، دروازے کی کنڈی پکڑ کر دروازہ کھٹکاؤں گا تو پوچھا جائے گا : آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں پس میرے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت (اپنی شان کے مطابق) اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوگا یا تخت پر تو میں اللہ رب العزت کیلئے سجدہ میں گر پڑوں گا اور ایسے تعریفی کلمات کے ساتھ اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کروں گا جن کے ساتھ نہ مجھ سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی کسی نے تعریف کی ہے اور نہ میرے بعد کوئی ان کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا کرے گا۔ کہا جائے گا : محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا، کہیے آپ کو سنا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : اے رب! میری امت، میری امت. اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیجئے جس کے دل میں اتنی اتنی مقدار کا ایمان ہو (حماد راوی کو صحیح مقدار یاد نہیں رہی)۔ میں دوبارہ سجدہ ریز ہو کر اسی طرح عرض کروں گا تو مجھے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کو سنا جائے گا، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا : اے رب! میری امت، میری امت تو وہ فرمائے گا : جہنم سے اسے بھی نکال لیجئے جس کے دل میں اتنی اتنی مقدار میں ایمان ہو۔ یہ لوگ پہلے سجدہ سے نکالے جانے والوں کے علاوہ ہوں گے۔ پھر تیسری بار میں سجدہ ریز ہو کر اسی طرح عرض کروں گا تو مجھے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کو سنا جائے گا، سوال کیجئے عطا کر دیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں کہوں گا : اے رب! میری امت، میری امت تو وہ فرمائے گا : جہنم سے اس کو بھی نکال لیجئے جس کے دل میں اتنی اتنی مقدار میں ایمان ہو۔ یہ تعداد پہلی تعدادوں کے علاوہ ہوگی۔‘‘

اسے امام احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس میں ایک راوی علی بن زید ہے جسے ضعف کی وجہ سے ثقہ قرار دیا گیا ہے باقی اِن کے رجال صحیح ہیں۔

14 / 14. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وأُعْطِيَ لِوَاءَ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ.

وَإِنِّي آتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا، فَيَقُوْلُوْنَ : مَنْ هٰذَا؟ فَأَقُوْلُ : أَنَا مُحَمَّدٌ. فَيَفْتَحُوْنَ لِي، فَأَدْخُلُ، فَإِذَا الْجَبَّارُ مُسْتَقْبِلِي، فَأَسْجُدُ لَه، فَيَقُوْلُ : اِرْفَعْ رَأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْکَ، وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْکَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُوْلَُ : أُمَّتِي، أُمَّتِي، يَارَبِّ! فَيَقُوْلُ : اِذْهَبْ إِلَی أُمَّتِکَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيْرٍ مِنَ الْيْمَانِ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ. فَأَقْبِلُ، فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ ذٰلِکَ، فَأُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ.

فَإِذَا الْجَبَّارُ مُسْتَقْبِلِي، فَأَسْجُدُ لَه، فَيَقُوْلُ : اِرْفَعْ رأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْکَ، وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْکَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُوْلَُ : أُمَّتِي، أُمَّتِي، أَي رَبِّ! فَيَقُوْلُ : اِذْهَبْ إِلَی أُمَّتِکَ، فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيْرٍ مِنَ الْيْمَانِ، فَأَدْخِلْهُمُ الْجَنَّةَ. فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ أُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ.

فَإِذَا الْجَبَّارُ مُسْتَقْبِلِي، فَأَسْجُدُ لَه، فَيَقُوْلُ : اِرْفَعْ رأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْکَ، وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْکَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُوْلَُ : أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيَقُوْلُ : اِذْهَبْ إِلَی أُمَّتِکَ، فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الْيْمَانِ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ أَدْخَلْتُهُمُ الْجَنَّةَ.

وَفَرَغَ اﷲُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُوْلُ أَهْلُ النَّارِ : مَا أَغْنٰی عَنْکُمْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ اﷲَ لَا تُشْرِکُوْنَ بِه شَيْءًا؟ فَيَقُوْلُ الْجَبَّارُ : فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنَ النَّارِ. فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ، فَيَخْرُجُوْنَ وَقَدِ امْتَحَشُوْا، فَيَدْخُلُوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُوْنَ فِيْهِ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي غُثَائِ السَّيْلِ، وَيُکْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ : هٰؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اﷲِ عَزَّوَجَلَّ، فَيَذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ، فَيَقُوْلُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : هٰؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّوْنَ. فَيَقُوْلُ الْجَبَّارُ : بَلْ هٰؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ عزوجل.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ. إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

14 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 144، الرقم : 12469، والدارمي في السنن، 1 / 41، الرقم : 52، وابن مندہ في الإيمان، 2 / 846، الرقم : 877، هذا حديث صحيح، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 6 / 323، الرقم : 2345، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1 / 276، الرقم : 268.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن جملہ مخلوقات میں سب سے پہلے میری زمین شق ہوگی اور میں یہ بات بطور فخر نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا مجھے تھمایا جائے گا اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا، قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا اور میں یہ بات بطور فخر نہیں کہتا۔

’’میں جنت کے دروازے کے پاس آ کر اس کی کنڈی پکڑ لوں گا تو فرشتے پوچھیں گے : یہ کون ہیں؟ میں کہوں گا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ وہ میرے لئے دروازہ کھولیں گے تو میں اندر داخل ہوں گا۔ اللہ تعالیٰ میرے سامنے جلوہ افروز ہوگا تو میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کلام کیجئے آپ کو سنا جائے گا، اور کہیے آپ کی بات قبول کی جائے گی اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : میرے رب! میری امت، میری امت۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنی امت کے پاس چلے جائیے اور جس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر ایمان پائیں اس کو جنت میں داخل کیجئے۔ میں آ کر جس کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا تو اُسے جنت میں داخل کردوں گا۔

’’پھر اچانک دیکھوں گا کہ اللہ تعالیٰ میرے سامنے جلوہ افروز ہے تو میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھا لیجیے اور گفتگو کیجئے آپ سے سنا جائے گا، اور کہیے آپ کی بات قبول کی جائے گی اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنی امت کے پاس چلے جائیے اور جس کے دل میں آدھے جَو کے دانے کے برابر ایمان پائیں اس کو جنت میں داخل کیجئے۔ پس میں جاؤں گا اور جس کے دل میں اتنی مقدار میں ایمان پاؤں گا ان کو بھی جنت میں داخل کروں گا۔

’’پھر اچانک دیکھوں گا کہ اللہ رب العزت میرے سامنے جلوہ افروز ہے تو میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھا لیجیے اور گفتگو کیجئے آپ سے سنا جائے گا، اور کہیے آپ کی بات قبول کی جائے گی اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : میری امت، میری امت. پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنی امت کے پاس چلے جائیے اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان موجود ہو اس کو جنت میں داخل کیجئے، میں جاؤں گا اور جن کے دل میں ایمان کی اتنی مقدار پاؤں گا ان کو بھی جنت میں داخل کروں گا۔

’’اللہ تعالیٰ لوگوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا اور میری امت میں سے باقی جو لوگ بچ جائیں گے وہ اہل نار کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ پس دوزخ والے لوگ ان کو طعنہ دیں گے : تمہیں اس چیز نے کوئی فائدہ نہیں دیا کہ تم اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے؟ اس پر اللہ رب العزت فرمائے گا : مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ان کو ضرور جہنم کی آگ سے نجات دوں گا۔ پس ان کی طرف فرشتہ بھیجے گا تو وہ اس حال میں اس سے نکلیں گے کہ بری طرح جھلس گئے ہوں گے، پھر وہ نہر حیات میں داخل ہوں گے تو اس میں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح پانی کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ ان کے ماتھے کے درمیان لکھ دیا جائے گا یہ ’’عُتَقَاءُ اﷲ‘‘ (اللہ کے آزاد کردہ) ہیں۔ وہ فرشتہ ان کو لے جائے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔ اہلِ جنت انہیں کہیں گے : یہ لوگ جہنمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ ’’عُتَقَاءُ الجَبّار‘‘ (اللہ تعالیٰ جبَّار کے آزاد کردہ) ہیں۔‘‘

اسے امام احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی اِسناد ٹھیک ہے۔

15 / 15. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِذَا جَمَعَ اﷲُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ فَقَضَی بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنَ الْقَضَائِ. قَالَ الْمُؤْمِنُوْنَ : قَد قَضَی بَيْنَنَا رَبُّنَا، فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّنَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ : إِنْطَلِقُوْا إِلَی آدَمَ، فَإِنَّ اﷲَ خَلَقَهُ بِيَدِهِ، وَکَلَّمَهُ. فَيْتُوْنَه، فَيَقُوْلُوْنَ : قُمْ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا، فَيَقُوْلُ آدَمُ : عَلَيْکُمْ بِنُوْحٍ. فَيَأْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَدُلُّهُمْ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ. فَيَأْتُوْنَ إِبْرَاهِيْمَ، فَيَدُلُّهُمْ عَلَی مُوْسَی. فَيَأْتُوْنَ مُوْسَی، فَيَدُلُّهُمْ عَلَی عِيْسَی. فَيَأْتُوْنَ عِيْسَی، فَيَقُوْلُ : أَدُلُّکُمْ عَلَی النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ. قَالَ : فَيَأْتُوْنِي، فَيَأْذَنُ اﷲُ لِي أَنْ أَقُوْمَ إِلَيْهِ، فَيَثُوْرُ مَجْلِسِي أَطْيَبَ رِيْحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ، حَتَّی آتِيَ رَبِّي فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُوْرًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَی ظُفُرِ قَدَمِي. فَيَقُوْلُ الْکَافِرُوْنَ عِنْدَ ذَلِکَ لِإِبْلِيْسَ : قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُوْنَ مَنْ يَشْفَعُ لَهُمْ، فَقُمْ أَنْتَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَإِنَّکَ أَنْتَ اَضْلَلْتَنَا. قَالَ : فَيَقُوْمُ، فَيَثُوْرُ مَجْلِسُهُ أَنْتَنَ رِيْحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ، ثُمَّ يَعْظُمُ لِجَهَنَّمَ، فَيَقُوْلُ عِنْدَ ذَلِکَ (وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اﷲَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَأَخْلَفْتُکُمْ) إِلی آخر الآية. [إبرهيم، 14 : 22]. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ.

15 : أخرجه الدارمی في السنن، 2 / 421، الرقم : 2804، والطبرانی في المعجم الکبير، 17 / 320، الرقم : 887.

’’حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب اللہ تعالیٰ اوّلین و آخرین کو جمع فرمائے گا اور حساب کتاب کے فیصلے سے فارغ ہو جائے گا۔ مومن کہیں گے : ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیا پس کون ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے گا؟ وہ (آپس میں) کہیں گے : حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلو، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور ان کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : کھڑے ہو جائیے اور اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ آدم علیہ السلام فرمائیں گے : تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ پس وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جانے کا کہیں گے۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آئیں گے تو وہ انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے میں نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کے لئے تمہاری رہنمائی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس وہ لوگ میرے پاس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ مجھے اپنے حضور کھڑا ہونے کی توفیق فرمائے گا، میری نشست سے ایسی خوشبو پھیلے گی کہ اس جیسی مہک کسی نے کبھی نہیں سونگھی ہوگی۔ یہاں تک کہ میں اپنے رب کے حضور آؤں گا تو وہ مجھے حق شفاعت عطا فرمائے گا اور مجھے سر کے بالوں سے لے کر قدموں کے ناخنوں تک سراپائے نور بنا دے گا۔ اس پر کافر ابلیس سے کہیں گے : ایمان والوں نے ایسی ہستی کو پاليا ہے جو ان کی شفاعت کرے گا پس تو کھڑا ہو اور اپنے رب سے ہماری شفاعت کر کیونکہ تو نے ہی ہمیں گمراہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ کھڑا ہو گا تو اس کی نشست سے اتنی سخت بدبو پھیلے گی کہ کسی نے اس جیسی کبھی نہ سونگھی ہوگی، پھر وہ عذاب جہنم کے لئے بڑا ہو جائے گا تو اس وقت وہ کہے گا : (اور شیطان کہے گا جبکہ فیصلہ ہو چکا ہوگا بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے (بھی) تم سے وعدہ کیا تھا سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی ہے) [القرآن، ابراہیم، 14 : 22]۔‘‘

اسے امام دارمی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

16 / 16. عَنْ سَلْمَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : تُعْطيَ الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَرَّ عَشَرَ سِنِيْنَ، ثُمَّ تَدْنُوْ مِنْ جَمَاجِمِ النَّاسِ حَتَّی يَکُوْنَ قَابَ قَوْسَيْنِ فَيَغْرُقُوْنَ حَتَّی يَرْشَحَ الْعِرْقُ قَامَةً فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يَرْتَفِعُ حَتَّی يُغَرْغِرَ الرَّجُلُ. قَالَ سَلْمَانُ : حَتَّی يَقُوْلَ الرَّجُلُ : غُرْغِرَ، فَإِذَا رَأَوْا مَا هُمْ فِيْهِ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيْهِ؟ إِئْتُوْا أَبَاکُمْ آدَمَ فَلْيَشْفَعْ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ. فَيْتُوْنَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا أَبَانَا! أَنْتَ الَّذِي خَلَقَکَ اﷲُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيْکَ مِنْ رُوْحِهِ وَأَسْکَنَکَ جَنَّتَهُ، قُمْ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا فَقَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ. فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکَ وَلَسْتُ بِذَاکَ، فَيْنَ الْفِعْلَةُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ : إِلَی مَنْ تَأْمُرُنَا؟ فَيَقُوْلُ : إِئْتُوْا عَبْدًا جَعَلَهُ اﷲُ شَاکِرًا. فَيْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ! أَنْتَ الَّذِي جَعَلَکَ اﷲُ شَاکِرًا، وَقَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکَ وَلَسْتُ بِذَاکَ، فَيْنَ الْفِعْلَةُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ : إِلَی مَنْ تَأْمُرُنَا؟ فَيَقُوْلُ : إِئْتُوْا خَلِيْلَ الرَّحْمٰنِ إِبْرَهِيْمَ. فَيَأْتُوْنَ إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا خَلِيْلَ الرَّحْمٰنِ! قَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکَ وَلَسْتُ بِذَاکَ، فَأَيْنَ الْفِعْلَةُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ : إِلَی مَنْ تَأْمُرُنَا؟ فَيَقُوْلُ : ائْتُوْا کَلِمَةَ اﷲِ وَرُوْحَهُ عِيْسَی ابْنَ مَرْيَمَ. فَيْتُوْنَ عِيْسَی، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا کَلِمَةَ اﷲِ وَرُوْحَهُ! قَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکَ وَلَسْتُ بِذَاکَ، فَأَيْنَ الْفِعْلَةُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ : إِلَی مَنْ تَأْمُرُنَا؟ فَيَقُوْلُ : ائْتُوْا عَبْدًا فَتَحَ اﷲُ بِهِ وَخَتَمَ، وَغَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَنَحْنُ فِي هَذَا الْيَوْمِ أُمَنَء.

فَيْتُوْنَ مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم، فَيْتُوْنَ مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم، فَيَقُوْلُوْنَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ! فَتَحَ اﷲُ بِکَ وَخَتَمَ، وَغَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَجِئْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ آمِنًا، وَقَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ. فَيَقُوْلُ : أَنَا صَاحِبُکُمْ، فَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ حَتَّی يَنْتَهِيَ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ، فَيْخُذُ بِحَلْقَةٍ فِي الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْرَعُ الْبَابَ فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا؟ فَيَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ! قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ فَيَجِيْئُ حَتَّی يَقُوْمَ بَيْنَ يَدَيِ اﷲِ فَيَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُوْدِ فَيُؤْذَنُ لَهُ، فَيَسْجُدُ فَيُنَادِيْ : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَادْعُ تُجَبْ قَالَ : فَيَفْتَحُ اﷲُ عَلَيْهِ مِنَ الثَّنَاءِ وَالتَّحْمِيْدِ وَالتَّمْجِيْدِ مَا لَمْ يَفْتَحْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَا ئِقِ، قَالَ : فَيَقُوْلُ : رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، ثُمَّ يَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُوْدِ فَيُؤْذَنُ لَهُ فَيَسْجُدُ فَيَفْتَحُ اﷲُ عَلَيْهِ مِنَ الثَّنَاءِ وَالتَّحْمِيْدِ وَالتَّمْجِيْدِ مَا لَمْ يَفْتَحْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَا ئِقِ، وَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ! إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَادْعُ تُجَبْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُوْلُ : يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ (سَلْمَانُ) : فَيَشْفَعُ فِي کُلٍّ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ حِنْطَةٍ مِنْ يْمَانٍ أَوْ مِثْقَالُ شَعِيْرَةٍ مِنْ يْمَانٍ أَوْ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ يْمَانٍِ، فَذَالِکُمُ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ قَالَهُ الْأَلْبَانِيُّ.

16 : أخرجه ابن أبی شيبة في المصنف، 6 / 308، الرقم : 31675، وابن أبی عاصم في السنة، 2 / 384، الرقم : 813.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قیامت کے دن سورج کو دس سال کی مسافت جتنی گرمی عطا کی جائے گی، پھر (آہستہ آہستہ) وہ لوگوں کے سروں کے قریب ہو جائے گا یہاں تک کہ دو کمانوں جتنا فاصلہ ہوگا۔ لوگ پسینہ میں غرق ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ زمین پر ٹپک رہا ہو گا پھر سورج بلند ہوگا تو انسان اس کی حدت سے ہانڈی کے ابلنے کی طرح جوش مارے گا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہاں تک کہ کوئی شخص کہے گا : (ہمیں) ذبح کر دیا گیا پس جب وہ اپنی حالت دیکھیں گے، ان میں سے بعض بعض سے کہیں گے : کیا تم اپنی حالت نہیں دیکھ رہے؟ آؤ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں کہ وہ تمہارے رب سے تمہاری شفاعت فرمائیں، پس وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، میں اس منصب پر فائز نہیں، تو (تمہارا کام مجھ سے) کہاں ہوگا؟ پس وہ عرض کریں گے : آپ ہمیں کس کی طرف جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے : تم اللہ کے شکر گزار بندے کے پاس جاؤ تو وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے اللہ کے نبی! آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کواللہ نے شکر گزار بنایا ہے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں لہذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، میرا یہ منصب نہیں تو (مجھ سے یہ کام) کہاں ہوگا؟ پس وہ عرض کریں گے : آپ ہمیں کس کی طرف جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے : رحمان کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے خلیل الرحمان! آپ ہماری حالت ملاحظہ فرما رہے ہیں لہذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، میرا یہ منصب نہیں تو کام کہاں ہوگا؟ پس وہ عرض کریں گے : آپ ہمیں کس کی طرف جانے کا حکم کرتے ہیں تو وہ فرمائیں گے : تم اللہ کے کلمہ اور اس کی روح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے اللہ کے کلمہ اور اس کی روح! آپ ہماری حالت ملاحظہ فرما رہے ہیں لہذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، میرا یہ منصب نہیں، تو کام کہاں ہوگا؟ پس وہ عرض کریں گے : آپ ہمیں کس کی طرف جانے کا حکم کرتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے : تم اس بندہ کے پاس جاؤ جس کے ذریعہ اللہ نے بابِ نبوت کھولا اور نبوت ختم فرمائی اور اس کے صدقے پہلے اور پچھلے بخش دئیے گئے، اور آج کے دن ہم (ان کی عظمت کو متعارف کرانے کے) امین ہیں۔

’’پس وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے بابِ نبوت کھولا اور آپ پر نبوت کا خاتمہ فرمایا اور آپ کے صدقے پہلے اور پچھلے بخش دیئے گئے اور آپ اس دن امن میں ہیں، آپ ہماری حالت ملاحظہ فرما رہے ہیں تواپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے تو آپ فرمائیں گے : میں تمہارا خیر خواہ ہوں، پس آپ لوگوں کے درمیان سے نکل کر جنت کے دروازے تک آئیں گے اور دروازے میں لگا سونے کا کنڈا پکڑ کر دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو پوچھا جائے گا : کون ہے؟ آپ فرمائیں گے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! راوی فرماتے ہیں : آپ کے لئے اسے کھول دیا جائے گا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے حضور حاضر ہو کر سجدوں کی اجازت طلب کریں گے توآپ کو اذن دیا جائے گا، پس آپ سجدہ ریز ہوں گے تو رب تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے، مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا، شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور دعا کیجیے آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرض کریں گے : اے میرے رب! میری امت، میری امت! پھر سجود کی اجازت طلب کریں گے تو آپ کو اذن دیا جائے گا، آپ سجدہ ریز ہوں گے تو اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی حمد وثنا اور بزرگی کے ایسے کلمات کشف فرمائے گا کہ خلائق میں سے کسی پر ایسا نہیں کیا گیا۔ پس وہ فرمائے گا : اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھایے، سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر اٹھا کر عرض کریں گے : اے میرے رب! میری امت، میری امت! دو بار یا تین بار فرمائیں گے۔ (حضرت سلمان رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر اس شخص کی شفاعت فرمائیں گے جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوگا یا جَو کے برابر ایمان ہوگا یا رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، وہی مقام محمود ہوگا۔‘‘

اسے امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ علامہ البانی نے اس حدیث کی اِسناد کو شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

17 / 17. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي، بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا کَانَ يُبْعَثُ کُلُّ نَبِيٍّ إِلَی قَرْيَتِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَی مَسِيْرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيْتُ الْمَغْنَمَ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

17 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 413، الرقم : 13522، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 261.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : مجھے تمام لوگوں سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جبکہ ہر نبی صرف اپنی بستی کی طرف مبعوث ہوتا تھا، رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی کہ میرا دشمن ایک ماہ کی مسافت پر مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، مجھے مال غنیمت سے نوازا گیا، میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

18 / 18. عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِيَاءِ بِخَمْسٍ : بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً، وَادَّخَرْتُ شَفَاعَتِِي لِأُمَّتِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا أَمَامِي وَشَهْرًا خَلْفِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

18 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 154، الرقم : 6674، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 259، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 332.

’’حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ چیزوں کی وجہ سے تمام انبیاء پر فضیلت سے نوازا گیا : مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا، میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کر دیا، میری رعب کے ذریعے ایک ماہ آگے اور ایک ماہ پیچھے مدد فرمائی گئی، میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی، اور میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھے۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

19 / 19. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا کَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهِ، ونُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ، وَأُطْعِمْتُ مِنَ الْمَغْنَمِ وَلَمْ يُطْعَمْهَا أَحَدٌ کَانَ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ دَعْوَةً فَتَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ بَالِغَةٌ إِنْ شَاءَ اﷲُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

19 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 211، الرقم : 7435.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : مجھے سرخ و سیاہ ( تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جبکہ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا، ایک ماہ کی مسافت کے رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی، مجھے مال غنیمت کھلایا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں کھلایا گیا، میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مسجد بنا دی گئی، اور ہر نبی کو اس کا طلب کیا ہوا عطا کر دیا گیا جس میں اس نے جلدی کی تھی جبکہ میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے مؤخر کر دیا ہے، اور وہ ان شاء اﷲ ہر اس شخص کو پہنچنے والی ہے جو مرتے دَم تک اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

20 / 20. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا وَکَانَ مِنْ قَبْلِنَا يُصَلُّوْنَ فِي الْمَحَارِيْبِ، وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَسْوَدَ وَأَحْمَرَ وَکَانَ الرَّجُلُ يُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ بَيْنَ يَدَيَّ يَسْمَعُ بِيَ الْقَوْمُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيْرَةُ شَهْرٍ فيَرْعَبُوْنَ مِنِّي وَجُعِلَ لِيَ الرُّعْبُ نَصْرًا، وَقِيْلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَجَعَلْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

20 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 269، الرقم : 7471.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی جبکہ ہم سے پہلے لوگ مخصوص مقامات پر نماز پڑھتے تھے، مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے حالانکہ کسی بھی خاص شخص (نبی) کو اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، میرے آگے ایک ماہ کی مسافت کے رعب کے ذریعے مدد فرمائی گئی ہے، کوئی قوم میرے بارے میں سنتی ہے حالانکہ ان کے اور میرے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا ہے تو وہ مجھ سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں یعنی رعب و دبدبہ کو میرا مدد گار بنایا گیا، اور مجھے کہا گیا : سوال کیجیے آپ کو عطا کیا جائے گا تومیں نے اسے اپنی امت کی شفاعت کے لیے رکھ چھوڑا ہے اور وہ ہر اس شخص کو پہنچنے والی ہے جس نے گواہی دی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

21 / 21. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : کَانَ لِآلِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم خَادِمٌ تَخْدِمُهُمْ، يُقَالُ لَهَا : بَرِيْرَةُ. فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَقَالَ لَهَا : يَا بَرِيْرَةُ! غَطِّي شُعَيْفَاتِکِ فَاِنَّ مُحَمَّدًا لَنْ يُغْنِيَ عَنْکِ مِنَ اﷲِ شَيْءًا، فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَ هُ مُحْمَرَّةً وَجْنَتَاهُ. وَکُنَّا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ نَعْرِفُ غَضْبَهُ بِجَرِّ رِدَائِهِ وَحُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ، فَأَخَذْنَا السِّلَاحَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مُرْنَا بِمَا شِئْتَ فَوَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَوْ أَمَرْتَنَا بِأُمَّهَاتِنَا وَآبَائِنَا وَأَوْلَادِنَا لَأَمْضَيْنَا قَوْلَکَ فِيْهِمْ. فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ : مَنْ أَنَا؟ فَقُلْنَا : أَنْتَ رَسُوْلُ اﷲِ. قَالَ : نَعَمْ. وَلَکِنْ مَنْ أَنَا؟ فَقُلْنَا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ يُنْفَضُ التُّرَابُ عَنْ رَأْسِهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ دَاخِلٍ الْجَنَّةَ وَلَا فَخْرَ. مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُوْنَ أَنَّ رِحْمَتِي لَا تَنْفَعُ؟ لَيْسَ کَمَا زَعَمُوْا، إِنِّي لَأَشْفَعُ وَأَشْفَعُ حَتَّی إِنَّ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ لَيَشْفَعُ فَيُشَفَّعُ، حَتَّی إِنَّ إِبْلِيْسَ لَيَتَطَاوَلُ فِي الشَّفَاعَةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

21 : أخرجه الطبرانی في المعجم الأوسط، 5 / 202، الرقم : 5082، والهيثمی في مجمع الزوائد، 10 / 375.

’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی ایک خادمہ ان کی خدمت سر انجام دیتی تھی جس کا نام بریرہ تھا. ایک شخص نے اس سے مل کر کہا : اپنے بالوں کی چھوٹی زلفوں کو ڈھانپ کر رکھا کر کیونکہ تجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے ہرگز کسی چیز کا کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے۔ اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر کر دی تو آپ چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے اپنے سرخ رخساروں کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ (راوی فرماتے ہیں) ہم گروہ انصار آپ کے جلال کو چادر مبارک کے گھسیٹنے اور رخسار مبارک کے سرخ ہونے سے پہچانتے تھے لہذا ہم اپنا اسلحہ اٹھا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ! آپ جو چاہیں ہمیں حکم فرمائیں، پس اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ ہمیں ہمارے والدین اور اولاد کے بارے میں کوئی حکم بھی فرمائیں گے تو ہم آپ کے ارشاد کو ان کے بارے میں ضرور کر گزریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر رونق افروز ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور پوچھا : میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں(ایسا ہی ہے)! لیکن میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن مناف ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور (مجھے اس پر) فخر نہیں، سب سے پہلے مجھ ہی سے زمین شق ہوگی اور فخر نہیں، سب سے پہلے میرے ہی سر سے خاک جھاڑی جائے گی اور مجھے فخر نہیں اور میں ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وہ گمان کرتے ہیں کہ میرا رشتہ نفع نہیں پہنچائے گا؟ ایسا نہیں ہے جیسا انہوں نے گمان کیا، بے شک میں ضرور شفاعت کروں گا اور یہاں تک شفاعت کروں گا کہ جس کی میں شفاعت کروں گا وہ بھی شفاعت کرسکے گا اور اس کی شفاعت بھی قبول کی جائے گی یہاں تک کہ ابلیس بھی میری شفاعت میں رغبت رکھے گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

22 / 22. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَدْخُلُ مِنْ أَهْلِ هَذِه الْقِبْلَةِ النَّارَ مَنْ لَا يُحْصِي عَدَدَهُمْ اِلَّا اﷲُ بِمَا عَصَوا اﷲَ وَاجْتَرَؤُوْا عَلَی مَعْصِيَتِهِ، وَخَالَفُوْا طَاعَتَهُ. فَيُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ فَأُثْنِي عَلَيْهِ جَلَّ ذِکْرُهُ سَاجِدًا کَمَا أُثْنِي عَلَيْهِ قَائِمًا... وذکر الحديث أقول وتتمته... فَيُقَالُ لِي : إِرْفَعْ رَأْسَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيْرِ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ قَالَهُ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ.

22 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغیر، 1 / 80، الرقم : 103، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 236، الرقم : 5504، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 376.

’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت پر گامزن رہنے اور اطاعت کی مخالف کے سبب اہلِ قبلہ میں سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے جن کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مجھے اذن شفاعت دیا جائے گا تو میں اللہ جل جلالہ کی حالت سجدہ میں تعریف کروں گا جیسے میں اس کی قیام میں تعریف کروں گا... (اور راوی نے حدیث ذکر کی اسکا آخری حصہ اس طرح ہے) پس مجھ سے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے، اور سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے اس کی اِسناد کو حسن کہا ہے۔

23 / 23. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه : عَنِ الَّنبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : نِعْمَ الرُّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي، فَقَالَ لَه رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : کَيْفَ أَنْتَ يَارَسُوْلَ اﷲِ! لِخِيَارِهِمْ؟ قَالَ : أَمَّا شِرَارُ أُمَّتِي فَيُدْخِلُهُمُ اﷲُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، وَأَمَّا خِيَارُهُمْ فَيُدْخِلُهُمُ اﷲُ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

23 : أخرجه الطبرانی في المعجم الکبير، 8 / 97، الرقم : 7483، والهيثمي في مجمع الزوائد 10 / 377.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اپنی امت کے بدتر لوگوں کے لئے بہترین ہوں۔ آپ کے ہم نشینوں میں سے کسی شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ان کے بہترین لوگوں کے لئے کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے بدترین لوگوں کو اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے جنت میں داخل فرمائے گا اور ان کے بہترین کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

24 / 24. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه فِي حَدِيْثِ الصُّوْرِ بَعْدَ ذِکْرِ مُرُوْرِ النَّاسِ عَلَی الصِّرَاطِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَإِذَا أَفْضَی أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَی الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ، قَالُوْا : مَنْ يَشْفَعُ لَنَا إلَی رَبِّنَا لِيُدْخِلَنَا الْجَنَّةَ؟ قَالَ : فَيَقُوْلُوْنَ : وَمَنْ أَحَقُّ بِذٰلِکَ مِنْ أَبِيْکُمْ آدَمَ؟ إِنَّ خَلَقَهُ اﷲُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوْحِهِ، وَکَلَّمَهُ قَبْلًا فَيُؤْتَی آدَمُ، فَيُطْلَبُ ذٰلِکَ إِلَيْهِ، فَيْبَی وَيَقُوْلُ : عَلَيْکُمْ بِنُوْحٍ، فَإِنَّه أَوَّلُ رُسُلِ اﷲِ. فَيُؤْتَی نُوْحٌ، فَيُطْلَبُ ذٰلِکَ إِلَيْهِ، فَيَذْکُرُ ذَنْباً وَيَقُوْلُ : مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذٰلِکَ ولٰ.کِنْ عَلَيْکُمْ بِإِبْرَاهِيْمَ فَإِنَّ اﷲَ اتَّخَذَهُ خَلِيْلًا. فَيُوْتَی إِبْرَاهِيْمُ، فَيُطْلَبُ ذٰلِکَ إِلَيْهِ، فَيَقُوْلُ مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذٰلِکَ وَلٰکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُوْسَی فَإِنَّ اﷲَ قَرَّبَهُ نَجِيًّا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ. فَيُؤْتَی مُوْسٰی، فَيُطْلَبُ ذٰلِکَ إِلَيْهِ، فَيَقُوْلُ : مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذٰلِکَ، وَلٰکِنْ عَلَيْکُمْ بِرُوْحِ اﷲِ وَکَلِمَتِهِ عِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ. فَيُؤْتَی عِيْسٰی، فَيُطْلَبُ ذٰلِکَ إِلَيْهِ، فَيَقُوْلُ : مَا أَنَا بِصَاحِبِ ذٰلِکَ وَلَکِنْ سَأَدُلُّکُمْ عَلَيْکُمْ بِمُحَمَّدٍ.

قَالَ : فَيَأْتُوْنِي، وَلِي عِنْدَ رَبِّي ثَلَاثُ شَفَاعَاتٍ وَعَدَنِيْهِنَّ. قَالَ : فَآتِي الْجَنَّةَ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُفْتَحُ لِي، فَأُحَيَی، وَيُرَحَّبُ بِي فَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ. فَإِذَا دَخَلْتُهَا فَنَظَرْتُ إِلَی رَبِّي عَلَی عَرْشِهِ خَرَرْتُ سَاجِدًا فَأَسْجُدُ مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ أَسْجُدَ، فَيَأْذَنُ اﷲُ لِي مِنْ حَمْدِهِ وَتَمْجِيْدِهِ بِشَيْئٍ مَا أُذِنَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ : إِرْفَعْ رَأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ! وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، إِسْأَلْ تُعْطَهْ، قَالَ : فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! مَنْ وُقِعَ فِي النَّارِ مِنْ أُمَّتِي؟ فَيَقُوْلُ اﷲُ : إِذْهَبُوْا فَمَنْ عَرَفْتَ صُوْرَتَه فَأَخْرِجُوْهُ مِنَ النَّارِ، فَيُخْرَجُ أُوْلٰئِکَ حَتَّی لَاَيبْقِي أَحَدٌ. ثُمَّ يَقُوْلُ اﷲُ : إِذْهَبُوْا فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ دِيْنَارٍ مِنْ يْمَانٍ فَأَخْرِجُوْهُ مِنَ النَّارِ، ثُمْ يَقُولُ : ثُلُثَی دِيْنَارٍ، ثُمَّ يَقُوْلُ : نِصْفَ دِيْنَارٍ، ثُمَّ يَقُوْلُ : قِيْرَاطٍ، ثُمَّ يَقُوْلُ : إِذْهَبُوْا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِه مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ يْمَانٍ. قَالَ : فَيُخْرَجُوْنَ فَيُدْخَلُوْنَ الْجَنَّةَ. قَالَ! فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِه مَا أَنْتُمْ بِأَعْرَفَ فِي الدُّنْيَ بِمَسَاکِنِکُمْ وَأَزْوَاجِکُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ بِمَسَاکِنِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ إِذَا دَخَلُوا الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ ابْنُ رَهَوَيْهِ.

24 : أخرجه ابن راهويه في المسند، 1 / 94، الرقم : 10، وابن حيان في العظمة، 3 / 835، الرقم : 386، وابن کثيرفی تفسير القرآن العظيم، 2 / 148 - 149.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے طویل حدیث صور میں روایت ہے کہ لوگوں کے پل صراط کے پار ہو جانے کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس جب اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف پہنچایا جائے گا۔ وہ کہیں گے : کون ہمارے رب کے حضور ہماری شفاعت کرے گا کہ وہ ہمیں جنت میں داخل فرمائے؟ راوی فرماتے ہیں : پس وہ کہیں گے : تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے بڑھ کر کون شخص اس کا زیادہ حق دار ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی اور سب سے پہلے ان سے کلام کیا۔ پس آدم علیہ السلام کولایا جائے گا اور ان سے یہ طلب کیا جائے گا تو وہ انکار کریں گے اور فرمائیں گے : تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے یہ طلب کیا جائے گا تو وہ اپنا (بظاہر) گناہ یاد کرکے عرض کریں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کو لازمی پکڑو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خلیل بنایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے یہ مطالبہ کیا جائے گا تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کو لازمی پکڑو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قریب کرکے سرگوشی کی ہے اور ان پر تورات اتاری ہے۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے اس کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں لیکن تم اللہ کی روح اور اس کے کلمہ عیسیٰ بن مریم علیھا السلام کے پاس لازمی جاؤ۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے یہ مطالبہ کیا جائے گا تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں لیکن میں تمہاری رہنمائی کروں گا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لازمی جاؤ۔

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے پاس آئیں گے، میرے لئے اپنے رب کے ہاں تین شفاعتیں ہیں جن کا اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں : میں جنت کی طرف آؤں گا اور دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا تو اسے میرے لئے کھول دیا جائے گا۔ پس مجھے سلام کیا جائے گا اور مرحبا کہا جائے گا تو میں جنت میں داخل ہوں گا۔ جب میں اس میں داخل ہوں گا تو اپنے رب کو عرش پر دیکھتے ہی سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس وقت تک سجدہ میں رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ میں سجدہ میں رہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی حمد اور بڑائی کرنے کا ایسے کلمات سے اذن دے گا کہ مخلوق میں سے کسی کو ایسا اِذن نہیں دیا گیا، بعد ازاں وہ فرمائے گا : اپنا سر اٹھائیے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں عرض کروں گا : اے میرے رب! جو میرے امتی جہنم میں گر گئے ہیں(ان کی بخشش چاہتا ہوں)؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم جاؤ جس کی تم صورت پہچانو اسکو جہنم سے نکال لو، پس ان کو نکال ليا جائے گا حتی کہ ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم جاؤ پس جس کے دل میں دینار کے برابر ایمان ہو اس کو دوزح سے نکال لو، پھر فرمائے گا : دو تہائی دینار کے برابر، پھر فرمائے گا : آدھے دینار کے برابر، پھر فرمائے گا : ایک قیراط (دینار کے دسویں حصے کے نصف برابر) پھر فرمائے گا : تم جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو (اس کو نکال لو) فرماتے ہیں : پس انہیں نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے تم دنیا میں اپنے گھروں اور بیویوں کو اہل جنت کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے گھروں اور بیویوں سے زیادہ پہچان رکھنے والے نہیں ہو۔‘‘

اسے امام ابنِ راہویہ نے روایت کیا ہے۔

25 / 25. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَّمَسْجِدًا وَلَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُصَلِّي حَتّٰی يَبْلُغَ مِحْرَابَه، وَأُعْطِيْتُ الرُّعْبَ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ يَکُوْنُ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُشْرِکِيْنَ مَسِيْرَةُ شَهْرٍ فَيُقْذِفُ اﷲُ الرُّعْبَ فِي قُلُوْبِهِمْ، وَکَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَی خَاصَّةٍ قَوْمِه وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَی الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَکَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَعْزِلُوْنَ الْخُمُسَ فَتَجِئُ النَّارُ فَتَأْکُلُه وَأُمِرْتُ أَنَا أُقَسِّمُهَا فِي فُقَرَاءِ أُمَّتِيْ، وَلَمْ يَبْقِ نَبِيٌّ إِلاَّ أُعْطِيَ سُؤْلَهُ وَأَخَّرْتُ شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي السُّنَنِ الْکُبْرَی.

25 : أخرجه البيهقي في السنن الکبری، 2 / 433، الرقم : 4064، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 258.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دی گئیں : میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مسجد بنا دی گئی جبکہ پہلے انبیاء میں سے کوئی نبی بھی مخصوص مقام کے علاوہ کسی جگہ نماز نہیں پڑھتا تھا، ایک ماہ کی مسافت تک کے رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے اور مشرکوں کے درمیان ابھی ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے، ہر نبی کو اس کی خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ مجھے جن و انس کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، انبیاء خمس مال کو جدا کر کے رکھ دیتے تھے تو آگ آ کر ان کو کھا جاتی جبکہ مجھے اسے اپنی امت کے فقراء میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور ہر نبی کو اس کا طلب کیا ہوا عطا کر دیا گیا جبکہ میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

26 / 26. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ تَعَالَی بَعَثَنِي إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّ لِيَ الْمَغْنَمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ لِلْمُذْنِبِيْنَ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

26 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 14 / 296.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سرخ و سیاہ (تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لئے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، اور میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی، اور مجھے روز قیامت میری امت کے گناہ گاروں کے لئے شفاعت عطا کی گئی ہے۔‘‘

اسے امام ابنِ عساکر نے روایت کیا ہے۔

27 / 27. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : قَالَ : أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّ طَهُوْرًا، أَوْ قَالَ : جُعِلَتْ لِي کُلُّ أَرْضٍ طَيِّبَةً طَهُوْرًا وَّ مَسْجِدًا... فَقِيْلَ لِأَبِي عَامِرٍ : أَنْتَ تَشُکُّ؟ قَالَ : نَعَمْ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَی عَدُوِّي مَسِيْرَةَ شَهْرٍ، وَبُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأُطْعِمَتْ أُمَّتِي الْفَيْئَ وَلَمْ يُطْعَمْهُ أُمَّةً قَبْلِي، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ اللَّالْکَائِيُّ.

27 : أخرجه اللالکائي في شرح أصول إعتقاد أهل السنة، 1 / 444، الرقم : 1449. وأخرج ابن اسحاق في السيرة النبوية، 3 / 287، الرقم : 475، وابن هشام في السيرة النبوية، 3 / 231، والطبري في جامع البيان، 10 / 47 : عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي جَعْفَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّ طَهُوْرًا، وَأُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِیٍّ کَانَ قَبْلِيْ، وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ، خَمْسٌ لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی۔۔۔ یا فرمایا : میرے لئے تمام روئے زمین پاکیزہ، پاک کرنیوالی (جائے تیمم) اور مسجد بنا دی گئی۔..، تو ابو عامر سے کہا گیا کہ کیا آپ کو شک ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں۔۔۔ اور ایک ماہ کی مسافت کے رعب کے ذریعے میرے دشمن پر میری مدد فرمائی گئی، مجھے سرخ و سیاہ(تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، میری امت کو مال فئی کھلایا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی امت کو اسے نہیں کھلایا گیا، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور وہ ہر اس شخص کو پہنچنے والی ہے جو مرتے دم تک اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔‘‘

اسے امام لالکائی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved