Intercession Substantiated by Fine Traditions

مصادر التخریج

بَابٌ فِي الْأَسْبَابِ الْمَانِعَةِ مِنَ الشَّفَاعَةِ

 (شفاعت سے محروم کرنے والے اَسباب کا بیان)

388 / 1. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَزَّارُ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ.

1 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل العرب، 5 / 724، الرقم : 3928، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 72، الرقم : 519، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 410، الرقم : 32471، والبزار في المسند، 2 / 16، الرقم : 354، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 48، الرقم : 53.

’’حضرت عثمان بن عفا ن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے عرب سے دھوکہ کیا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے میری محبت نصیب ہوگی۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، احمد، ابنِ ابی شیبہ، بزار اور عبد بن حميد نے روایت کیا ہے۔

389 / 2. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَنْ تَنَالَهُمَا شَفَاعَتِي : إِمَامٌ ظلُوْمٌ وَکُلُّ غَالٍ مَارِقٍ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالْأَوْسَطِ. وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

2 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 281، الرقم : 8079، وأيضاً في المعجم الأوسط، 1 / 200، الرقم : 640، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 275، الرقم : 3279، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 127، الرقم : 3361، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 235.

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو ہرگز میری شفاعت حاصل نہیں ہوگی : ظالم حکمران اور دین کی حدوں سے نکلنے والا ہر شخص۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے : اس حدیث کے رُواۃ ثقہ ہیں.

390 / 3. عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : سُلْطَانٌ ظَلُوْمٌ غَشُوْمٌ وَغَالٌ فِي الدِّيْنِ يُشْهَدُ عَلَيْهِمْ فَيُتَبَرَّأُ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

3 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 213، الرقم : 495، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 185، الرقم : 422، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 235.

’’حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو ہر گز میری شفاعت نہیں پہنچے گی : ظالم جابر حکمران اور دین میں غلو کرنے والا شخص، ان کے خلاف گواہی دی جائے گی اور ان سے بیزاری اختیار کی جائے گی۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

391 / 4. عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صِنْفَانِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : المُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَةُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

4 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 174، الرقم : 1625، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 206.

’’حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت حاصل نہیں ہوگی : مرجۂ اور قدریہ۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

392 / 5. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ أَدَانِي خِرَاسَانَ بَکَی عُمًرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اﷲ عنه، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ رضی اﷲ عنه فَقَالَ : مَا يُبْکِيْکَ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! وَقَدْ فَتَحَ اﷲُ عَلَيْکَ مِثْلَ هَذَا الْفَتْحِ؟ فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْکِي، وَاﷲِ! لَوَدَدْتُ أَنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَحْرًا مِنَ النَّارِ. سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِذَا أَقْبَلَتْ رَيَاتُ وَلَدِ الْعَبَّاسِ مِنْ عُقَارِ خِرَاسَانَ جَاؤُا بِنَعْيِ الْإِسْلَامِ، مَنْ سَارَ تَحْتَ لِوَائِهِ لَمْ تَنُلْهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُسْنَدِ الشَّامِيِّيْنَ.

5 : أخرجه الطبراني في مسند الشاميين، 2 / 203، الرقم : 1190، والأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 5 / 192.

’’حضرت سعید رحمۃ اللہ علیہ بن مسیب روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جب خراسان کے علاقے فتح ہوگئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس تشریف لا کر کہا : امیر المؤمنین! آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی عظیم فتح عطا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا : میں کیوں نہ روؤں، اللہ رب العزت کی قسم! کیا میں اس کی چاہت رکھوں جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان آگ کا سمندر ہے۔ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب خراسان کے علاقوں میں عباس کی اولاد فتح کے جھنڈے گاڑے ہوئے آئے گی تو وہ اپنے ساتھ اسلام کی بربادی کا پیغام لیکر آئے گی، جو اس کے جھنڈے تلے ہوا قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نہیں پہنچے گی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

393 / 6. عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ کَذَبَ بِالشَّفَاعَةِ لَمْ يَنُلْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الْقَضَاعِيُّ.

6 : أخرجه القضاعي في مسند الشهاب، 1 / 248، الرقم : 399.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے شفاعت کو جھٹلایا قیامت کے دن وہ اسے حاصل نہیں ہو گی۔‘‘

اسے امام قضاعی نے روایت کیا ہے۔

394 / 7. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا لَمْ يَکُنْ مِنْ أَهْلِهَا.

رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.

7 : أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 57، الرقم : 4154، والهندي في کنز العمال، 14 / 399، الرقم : 39059.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میری شفاعت حق ہے۔ پس جو شخص اس پر یقین نہیں رکھتا وہ شفاعت کا اہل بھی نہیں ہوگا (یعنی شفاعت سے محروم رہے گا)۔‘‘

اسے امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

395 / 8. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : مَنْ کَذَبَ بِالشَّفَاعَةِ فَلَيْسَ لَهُ فِيْهَا نَصِيْبٌ. رَوَاهُ الْهَنَّادُ وَالْآجُرِيُّ.

8 : أخرجه الهناد في الزهد، 1 / 143، الرقم : 189، والآجري في الشريعة : 337، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 426.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جس نے شفاعت کو جھٹلایا تو اس کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘

اسے امام ہناد اور آجری نے روایت کیا ہے۔

396 / 9. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : الْمُرْجِيَةُ وَالْقَدَرِيَةُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

9 : أخرجه ابن أبي عاصم في السنة، 2 / 461، الرقم : 946

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت حاصل نہیں ہوگی : مرجئہ اور قدریہ۔‘‘

اسے امام ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

397 / 10. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمْ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَةُ.

رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ.

10 : أخرجه الأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 9 / 254.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت حاصل نہیں ہوگی : مرجئہ اور قدریہ۔‘‘

اسے امام ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

398 / 11. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَحْيَا حَيَاتِي، وَيَمُوْتَ مَمَاتِي، وَيَسْکُنَ جَنَّةَ عَدْنٍ غَرَسَهَا رَبِّي، فَلْيُوَالِ عَليا مِنْ بَعْدِي، وَلْيُوَالِ وَلِيَهُ، وَلْيَقْتَدِ بِالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِي، فَإِنَّهُمْ عِتْرَتِي خُلِقُوْا مِنْ طِيْنَتِي، رُزِقُوْا فَهْمًا وَعِلْمًا، وَوَيْلٌ لِّلْمُکَذِّبِيْنَ بِفَضْلِهِمْ مِنْ أُمَّتِي، لِلْقَاطِعِيْنَ فِيْهِمْ صِلَتِي، لَا أَنَالَهُمُ اﷲُ شَفَاعَتِي.

رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ.

11 : أخرجه الأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 1 / 86، والرافعی في التدوين في أخبار قزوين، 2 / 485.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص یہ پسند کرتا ہے میری طرح زندگی بسر کرے، میری طرح وصال پائے، جنتِ عدن اس کا ٹھکانہ ہو جسے میرے رب نے سنوارا ہے پس وہ میری بعد علی کو دوست رکھے اور اس کے دوست کو بھی دوست رکھے اور میرے بعد ائمہ کی اقتداء کرے کیونکہ وہ میرا کنبہ ہے جنہیں میری خلقت پر پیدا کیا گیا ہے (اور انہیں) علم و فہم عطا کیا گیا ہے۔ میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو اُن کی فضیلت کا انکار کریں گے اور اُن کے درمیان میرے رشتے کو کاٹیں گے، اﷲ تعالیٰ انہیں میری شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔‘‘

اسے امام ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

399 / 12. عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ. فَقِيْلَ لِي : يَا مُحَمَّدُ! إِشْفَعْ، فَاخْرُجْ مَنْ أَحْبَبْتَ مِنْ أُمَّتِکَ. قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَشَفَاعَتِي عَلَی رَجُلٍ مَا لَقِيَ اﷲَ بِشَتَمَةِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِي.

رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ.

وَفِي رِوَيَةٍ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي مُبَاحَةٌ إِلَّا لِمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ. (1)

12 : أخرجه الأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 7 / 236 وأخرج ابن حیان في طبقات المحدثین بأصبهان، 4 / 273، الرقم : 663، عَنْ جَابِرٍ رضی اﷲ عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَنُلْهُ مِنِّي مَوَدَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

 (1) أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 352، الرقم : 3580، والهندي في کنز العمال، 14 / 399، الرقم : 39058.

’’حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب اہلِ جنت جنت میں اور اہلِ جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو مجھ سے کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! شفاعت کیجئے! پس آپ اپنی امت کے ان افراد کو نکال لیجئے جن سے آپ محبت رکھتے ہیں. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت ہر اس فرد کو حاصل ہوگی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملا ہو کہ میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہتا ہو۔‘‘

اسے امام ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

’’اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت ہر آدمی کے لئے جائز ہوگی مگر جو میرے صحابہ کا گستاخ ہوگا وہ میری شفاعت سے محروم رہے گا۔‘‘

اسے امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

400 / 13. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضی اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : نِعْمَ الرَّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي! قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! کَيْفَ أَنْتَ لِخِيَارِهِمْ؟ قَالَ خِيَارُ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَشِرَارُ أُمَّتِي يَنْتَظِرُوْنَ شَفَاعَتِي، أَلَا! إِنَّهَا مُبَاحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِجَمِيْعِ أُمَّتِي إِلَّا رَجُلٌ مُنْتَقِصٌ أَصْحَابِي. رَوَاهُ الْهِنْدِيُّ.

13 : أخرجه الهندي في کنز العمال، 14 / 413، الرقم : 39111.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کے برے لوگوں کے لئے سب سے بہتر شخص ہوں. عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! امت کے اچھے لوگوں کے لئے آپ کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے اچھے لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے اور میری امت کے برے لوگ میری شفاعت کا انتظار کر رہے ہوں گے، خبردار! سن لو کہ وہ قیامت کے دن میری ساری امت کے لئے ہے سوائے اس شخص کے جو میرے صحابہ کی تنقیص کرے۔‘‘

اسے امام علاؤ الدین ہندی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved