Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب پانزدہم

بَابٌ فِي شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لِمَنْ مَاتَ بِالْمَدِيْنَةِ أَوْ زَارَ قَبْرَهُ وَبِأَسْبَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ

 (مدینہ طیبہ میں وفات پانے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کی زیارت کرنے اور دیگر اَسباب کے باعث شفاعتِ نبوی کا بیان)

232 / 1. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِيْنَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوْتُ بِهَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

1 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ما جاء في فضل المدينة، 5 / 719، رقم : 3917، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 104، الرقم : 5818، وابن حبان في الصحيح، 9 / 57، الرقم : 3741، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 498، الرقم : 4185، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 146، الرقم : 1859، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 255، الرقم : 1031.

’’حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے یہاں ہی مرنا چاہیے کیونکہ میں یہاں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام ترمذی، احمد اور ابنِ حبان نے روایت کیا اور ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

233 / 2. عَنْ صَفِيَةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ رضی اﷲ عنها أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِيْنَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لَهُ أَوْ أَشْهَدُ لَهُ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْبَيْهَقِيُّ.

2 : أخرجه النسائي في السنن الکبری، 2 / 488، الرقم : 4285، والطبراني في المعجم الکبير، 24 / 331، الرقم : 824، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 497، الرقم : 4183، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 255، الرقم : 1032.

’’حضرت صفیہ بنتِ ابی عبید رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص مدینہ منورہ میں فوت ہونے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے یہاں ہی مرنا چاہیے کیونکہ میں اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘

اسے امام نسائی، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

234 / 3. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي. رَوَاهُ الدَّارقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي السُّنَنِ الْکُبْرَی.

3 : أخرجه الدارقطني في السنن، 2 / 278، الرقم : 194، والبيهقي في السنن الکبری، 5 / 245، وأيضاً في شعب الإيمان، 3 / 490، الرقم : 4159.

’’حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے حق میں میری شفاعت واجب ہوگئی۔‘‘

اسے امام دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

235 / 4. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ جَاءَ نِي زَائِراً لَا يَعْلَمُهُ حَاجَةً إِلاَّ زِيَارَتِي کَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَکُوْنَ لَه شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْأَوْسَطِ.

4 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 291، الرقم : 13149، وأيضاً في الأوسط، 5 / 16، الرقم : 4546، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 2.

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی بھی زیارت کرنے والا میرے پاس آتا ہے اور اسے میری زیارت کے سوا کوئی اور حاجت نہیں ہوتی تو مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کروں۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

236 / 5. عَنْ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ زَارَ قَبْرِي، أَوْ قَالَ : مَنْ زَارَنِي کُنْتُ لَه شَفِيْعًا أَوْ شَهِيْدًا، وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اﷲُ فِي الْآمِنِيْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي السُّنَنِ الْکُبْرَی.

5 : أخرجه البيهقي في السنن الکبری، 5 / 245، الرقم : 10053، وأيضاً في شعب الايمان، 3 / 489، الرقم : 4153، والطيالسي في المسند، 1 / 12، الرقم : 65.

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے میری قبر کی زیارت کی، یا فرمایا : جس نے میری زیارت کی تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں فوت ہوگیا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن امن پانے والوں میں سے اٹھائے گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

237 / 6. عَنْ صُمَيْتَةَ رضی اﷲ عنها قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِيْنَةِ فَلْيَمُتْ، فَمَنْ مَاتَ بِالْمَدِيْنَةِ کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا أَوْ شَفِيْعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْبَيْهَقِيُّ.

6 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 24 / 331، الرقم : 823، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 497، الرقم : 4182، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 146، الرقم : 1861، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 7 / 748، الرقم : 11418، والصيداوي في معجم الشيوخ، 1 / 353.

’’حضرت صمیتہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے یہاں ہی مرنا چاہیے، پس جو مدینہ میں فوت ہوا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

238 / 7. عَنْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَةِ رضی اﷲ عنها أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِيْنَةِ فَلْيَمُتْ، فَإِنَّهُ لَا يَمُوْتُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيْعًا أَوْ شَهِيْدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ.

7 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 24 / 294، الرقم : 747، وابن أبی عاصم في الآحاد والمثاني، 6 / 65، الرقم : 3275، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 498، الرقم : 4184، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 146، الرقم : 1863، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 7 / 692، الرقم : 11275.

’’حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھے تو اسے یہاں ہی مرنا چاہیے، پس جو بھی مدینہ میں فوت ہوا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘

اسے امام طبرانی، ابنِ ابی عاصم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

239 / 8. عَنْ عُبَيْدِ اﷲِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی الله عنهم عَنِ امْرَأَةٍ يَتِيْمَةٍ کَانَتْ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوْتَ بِالْمَدِيْنَةِ فَلْيَمُتْ فَإِنَّهُ مَنْ مَاتَ بِالْمَدِيْنَةِ کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا أَوْ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

8 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 24 / 332، الرقم : 825، 826، وابن أبی عاصم في الآحاد والمثاني، 6 / 17، الرقم : 3194، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 146، الرقم : 1864، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 306.

’’حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھم ایک یتیم صحابیہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھے تو اسے یہاں ہی مرنا چاہیے کیونکہ جو بھی مدینہ میں فوت ہوا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے اس کی اِسناد کو حسن لکھا ہے۔

240 / 9. عَنْ سَلْْمَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ، اسْتَوْجَبَ شَفَاعَتِي وَکَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآمِنِيْنَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْبَيْهَقِيُّ.

9 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 6 / 240، الرقم : 6104، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 469، الرقم : 4180، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 319.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں فوت ہوگیا وہ میری شفاعت کا ضرور مستحق ہوگا اور وہ قیامت کے دن امن پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

241 / 10. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي قَوْلِهِ : (فَيُوَفِّيْهِمْ أُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ) [النساء، 4 : 173]، قَالَ : أُجُوْرُهُمْ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَةَ، وَيَزِيْدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ الشَّفَاعَةَ، لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ لِمَنْ صَنَعَ إِلَيْهِمُ الْمَعْرُوْفَ فِي الدُّنْيَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْأَوْسَطِ.

10 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 201، الرقم : 10462، وأيضاً في الأوسط، 6 / 53، الرقم : 5770، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 13، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 297.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وہ انہیں پورے پورے اجر عطا فرمائے گا اور (پھر) اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا) [النساء، 4 : 173] کے بارے (تفسیر کرتے ہوئے) فرمایا : ان کے اجر کے باعث وہ انہیں جنت میں داخل کرے گا اور اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا، وہ فضل شفاعت ہے۔ شفاعت کا مستحق وہ ہوگا جس نے دنیا میں نیکی کی ہوگی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

242 / 11. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ زَارَنِي بِالْمَدِيْنَةِ مُحْتَسِبًا، کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا وَشَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

11 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3 / 489، الرقم : 4157، والعجلوني في کشف الخفاء، 2 / 329، الرقم : 2489.

وأخرج العسقلاني في لسان الميزان، 6 / 29، الرقم : 107، والذهبي في ميزان الاعتدال، 6 / 415، الرقم : 8494. عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ جَائَ نِي زَائِرًا لَمْ تَنْزَعْهُ حَاجَةٌ إِلَّا زِيَارَتِي کَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَکُوْنَ لَهُ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے خلوصِ نیت سے مدینہ منورہ حاضر ہوکر میری زیارت کا شرف حاصل کیا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ ہوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

243 / 12. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ عَبْدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي إِلَّا وَکَّلَ اﷲُ بِهِ مَلَکٌ يَبْلُغُنِي، وَکَفَی أمْرَ آخِرَتِهِ وَدُنْيَاهُ وَکُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا وَشَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

12 : أخرجه البيهقي في شعب الايمان، 3 / 489، الرقم : 4156.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو مجھے اس کا درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس کے دنیا و آخرت کے معاملات کو کفایت کر جاتا ہے اور میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ اور شفیع ہوں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

244 / 13. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی اﷲ عنه قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا حَدُّ الْعِلْمِ إِذَا حَفِظَهُ الرَّجُلُ کَانَ فَقِيْهًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ حَفِظَ عَلَی أُمَّتِي أُرْبَعِيْنَ حَدِيْثًا مِنْ أَمْرِدِيْنِهَا بَعَثَهُ اﷲُ فَقِيْهاً وکُنْتُ لَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعًا وَشَهِيْدًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

13 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 2 / 270، الرقم : 1726، وابن عبد البر في جامع بیان العلم وفضله، 1 / 43، 44

وأخرج الرافعي في التدوين في أخبار قزوين، 4 / 125، والسيوطي في مفتاح الجنة في الإحتجاج بالسنة، 1 / 67. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ حَفِظَ عَلَی أُمَّتِي أَرْبَعِيْنَ حَدِيْثًا مِنَ السُّنَّةِ کُنْتُ لَهُ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اس علم کی حد کیا ہے جسے یاد کرلینے کے بعدآدمی فقیہ بن جاتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میرا امتی دین کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرلے، اللہ تعالیٰ اسے (قبر سے) فقیہ اٹھائے گا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

245 / 14. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَضَی لِأَخِيْهِ حَاجَةً، کُنْتُ وَاقِفًا عِنْدَ مِيْزَانِهِ فَإِنْ رَجَحَ وَإِلَّا شَفَعْتُ لَهُ.

رَوَاهُ أَبُونُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ.

14 : أخرجه الأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 6 / 353.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کی، میں (روزِ قیامت) میزان کے قریب کھڑا ہوں گا پس اگر وہ نیکیوں کی طرف جھک گیا (تو ٹھیک) ورنہ میں اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

246 / 15. عَنْ سَلْمَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَا شَفِيْعٌ لِکُلِّ رَجُلَيْنِ اتَّخَيَا فِي اﷲِ مِنْ مَبْعَثِي إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ.

15 : أخرجه الأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 1 / 368.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے مبعوث کیے جانے سے لے کر قیامت کے دن تک ان دو شخصوں میں سے ہر ایک کے لئے شفاعت کروں گا جنہوں نے اللہ. تعالیٰ کی خاطر اپنا تعلق قائم کر رکھا ہو۔‘‘

اسے امام ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

247 / 16. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي مَنْ أَحَبَّ أَهْلَ بَيْتِي وَهُمْ شِيْعَتِي. رَوَاهُ الْخَطِيْبُ الْبَغْدَادِيُّ.

16 : أخرجه الخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 146، الرقم : 563، والهندي في کنزالعمال، 14 / 399، الرقم : 39057.

’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت میں اس کے لئے ہے جس نے میرے اہلِ بیت سے محبت کی، اور وہ (یعنی میرے اہلِ بیت) میرا گروہ ہے۔‘‘

اسے امام خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved