Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب دوازدہم

بَابٌ فِي إِرْضَاءِ اﷲِ تَعَالَی رَسُوْلَهُ صلی الله عليه وآله وسلم بِالشَّفَاعَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

 (اﷲ تعالیٰ کا اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن شفاعت کے ذریعے راضی کرنے کا بیان)

191 / 1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم تَلَا قَوْلَ اﷲِ تَعَالٰی فِي إِبْرَهِيْمَ : (رَبِّ إِنّهُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَإِنَّه مِنِّيْ) [إبراهيم، 14 : 36] وَقَالَ عِيْسٰی : (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo) [المائدة، 5 : 118] فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : أَللَّهُمَّ! أُمَّتِي، أُمَّتِي، وَبَکَی، فَقَالَ اﷲُ : يَا جِبْرِيْلُ! إِذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْکِيْکَ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيْلُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِمَا قَالَ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اﷲُ تَعَالٰی : يَا جِبْرِيْلُ! إِذْهَبْ إِلٰی مُحَمَّدٍ، فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِيْکَ فِي أُمَّتِکَ وَلَا نَسُؤْکَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُو عَوَانَةَ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

1 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : دعاء النبی صلی الله عليه وآله وسلم لأمته، 1 / 191، الرقم : 202، والنسائی في السنن الکبری، 6 / 373، الرقم : 11269، وأبوعوانة في المسند، 1 / 138، الرقم : 415، والطبرانی في المعجم الأوسط، 8 / 367، الرقم : 8894 وابن منده في الإيمان، 2 / 869، الرقم : 924، إسناده حسن.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کریم سے حضرت ابرہیم علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی (اے میرے رب! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے پس جس نے میری پیروی کی تو وہ میرا ہے) [ابراہیم، 14 : 36] اور وہ آیت پڑھی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کایہ قول ہے ( (اے اللہ!) اگر تو انہیں عذ اب دے تو وہ تیرے (ہی) بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی بڑا غالب حکمت والا ہےo) [المائدۃ، 5 : 118] پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر عرض کی : اے اللہ!میری امت! میری امت! اور آپ کے آنسو جاری ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جبرئیل! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور ان سے معلوم کرو حالانکہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے (کہ ان پر اس قدر گریہ کیوں طاری ہے؟) ان سے پوچھنا کہ کیوں آنسو بہا رہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کہا تھا اسے اس کی خبر دی حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جبرئیل سے فرمایا : جبریل! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ کی امت کی بخشش کے معاملہ میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور ابو عوانہ نے روایت کیا ہے۔ اس کی اِسناد صحیح ہے۔

192 / 2. عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضی اﷲ عنه قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمًا، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيْهَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : إِنَّ رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَا ذَا أَفْعَلُ بِهِمْ؟ فَقُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ! هُمْ خَلْقُکَ وَعِبَادُکَ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ کَذٰلِکَ، فَقَالَ : لَا أُحْزِنُکَ فِي أُمَّتِکَ يَا مُحَمَّدُ! وَبَشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ... الحديث. رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 393، الرقم : 23336، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 68، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2 / 122.

’’حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہماری نظروں سے اوجھل رہے، آپ تشریف نہ لائے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ آج حجرہ مبارک سے باہر نہ نکلیں گے۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو اتنا طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ وصال فرما گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرِ انور اٹھا کر ارشاد فرمایا : میرے رب تبارک و تعالیٰ نے مجھ سے میری امت کے بارے مشورہ طلب کیا کہ میں ان سے کیا معاملہ کروں؟ تو میں نے عرض کیا : میرے رب! جیسا تو چاہے، وہ تیری مخلوق اور تیرے بندے ہیں. اس نے دوبارہ مجھ سے مشورہ طلب کیا تو میں نے اسی طرح عرض کیا۔ پس اس نے فرمایا : یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں تجھے تیری امت کے بارے غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ میرے ستر ہزار امتی جن میں سے ہر ہزار کے ساتھ 70 ہزار ہوں گے بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس کی اِسناد حسن ہے۔

193 / 3. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لِلْأَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ : فَيَجْلِسُوْنَ عَلَيْهَا وَيَبْقٰی مِنْبَرِي لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ، قَائِمًا بَيْنَ يَدَيَّ رَبِّي مَخَافَةً أَنْ يَبْعَثَ بِي إِلَی الْجَنَّةِ وَيَبْقٰی أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي، فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ : يَا مُحَمَّدُ! مَا تُرِيْدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِکَ؟ فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ عَجِّلْ حِسَابَهُمْ، فَيُدْعٰی بِهِمْ فَيُحَاسَبُوْنَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اﷲِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتَّی أُعْطٰی صِکَاکًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ، وَآتِي مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ فَيَقُوْلُ : يَا مُحَّمَدُ! مَا تَرَکْتَ لِلنَّارِ لِغَضَبِ رَبِّکَ فِي أُمَّتِکَ مِنْ بَقِيَةٍ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ والطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ وَالْکَبِيْرِ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

3 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم : 220، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 208، الرقم : 2937، وأيضاً في المعجم الکبير، 10 / 317، الرقم : 10771، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 241، الرقم : 5515، وابن کثير في نهاية البداية والنهاية، 10 / 440.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) تمام انبیاء کیلئے سونے کے منبر بچھائے جائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے، اور میرا منبر خالی رہے گا میں اس پر نہ بیٹھوں گا بلکہ اپنے رب کریم کے حضور کھڑا رہوں گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد (کہیں بے یار و مددگار) رہ جائے۔ پس میں عرض کروں گا : اے میرے رب! میری امت، میری امت. اللہ تعالیٰ فرمائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تیری کیا مرضی ہے، تیری امت کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں عرض کروں گا : میرے رب! ان کا حساب جلدی فرما دے۔ بس ان کو بلایا جائے گا اور ان کا حساب ہو گا، ان میں سے کچھ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے، اور کچھ میری شفاعت سے۔ میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میں ان کی رہائی کا پروانہ بھی حاصل کر لوں گا جنہیں دوزخ میں بھیجا جا چکا ہو گا، حتی کہ مالک داروغۂ جہنم عرض کرے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ نے اپنی امت میں سے کوئی بھی آگ میں باقی نہیں چھوڑا جس پر اللہ رب العزت ناراض ہو۔‘‘

اسے امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ حاکم نے کہا ہے : یہ حديث صحيح ہے۔

194 / 4. عَنْ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ الْبَزَّازِ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ رضی اﷲ عنه : جُعِلْتُ فِدَاکَ أَرَيْتَ هٰذِهِ الشَّفَاعَةَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ بِهَا أَهْلُ الْعِرَاقِ، أَحَقٌّ هِيَ؟ قَالَ : شَفَاعَةُ مَا ذَا؟ قُلْتُ : شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : حَقٌّ وَاﷲِ، وَاﷲِ لَحَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ ابْنِ الْحَنَفِيَةِ، عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَشْفَعُ لِأُمَّتِي حَتَّی يُنَادِيَنِي رَبِّي عزوجل فَيَقُوْلُ : أَرَضِيْتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَأَقُوْلُ : نَعَمْ رَضِيْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ.

4 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 44، الرقم : 2084، والبزار في المسند، 2 / 240، الرقم : 638، وأبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء، 3 / 179، وابن کثير في نهاية البداية والنهاية، 10 / 457.

’’حرب بن سریج بزاز سے روایت ہے کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : میں آپ پر قربان! آپ کا اس شفاعت کے بارے کیا خیال ہے جس کے بارے میں اہلِ عراق تذکرہ کرتے ہیں، کیا یہ حق ہے؟ انہوں نے فرمایا : کون سی شفاعت؟ میں نے عرض کیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت! انہوں نے فرمایا : اللہ رب العزت کی قسم! حق ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! مجھ سے میرے چچا محمد بن علی بن حنفیہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم سے روایت کیا : انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) میں اپنی امت کے لئے شفاعت کرتا رہوں گا حتی کہ میرا رب مجھے ندا دے کر پوچھے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا آپ راضی ہوگئے؟ میں عرض کروں گا : ہاں! میں راضی ہوگیا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور بزار نے روایت کیا ہے۔

195 / 5. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ بَيْتِي، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ الْأَنْصَارُ، ثُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَاتَّبَعَنِي مِنَ الْيَمَنِ، ثُمَّ مِنْ سَائِرِ الْعَرَبِ، ثُمَّ الْأَعَاجِمُ، وَأَوّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَه اُوْلُو الْفَضْلِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالدَّيْلَمِيُّ.

5 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 421، الرقم : 13550، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 23، الرقم : 29، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 380.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قیامت کے روز سب سے پہلے اپنی امت میں سے اپنے اہلِ بیت کی شفاعت کروں گا، پھر مرتبہ بمرتبہ قریب ترین قریشی کی، پھر انصار کی، پھر اس کی جو یمن میں سے مجھ پر ایمان لایا اور میری اتباع کی، پھر باقی عرب، پھر تمام عجم کے مؤمنین کی اور میں جس کی سب سے پہلے شفاعت کروں گا وہ (مؤمنین میں سے) بلند رتبہ والے ہوں گے۔‘‘

اسے امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

196 / 6. عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَادِ بْنِ جَعْفَرٍ رضی اﷲ عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ، ثُمَّ أَهْلُ مَکَّةَ، ثُمَّ أَهْلُ الطَّائِفِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

6 : أخرجه الطبراني في المعجم الأسط، 2 / 230، الرقم : 1827، وابن عبد البر في الاستیعاب في معرفة الأصحاب، 3 / 1007، الرقم : 1705، والفاکهي في أخبار مکة، 3 / 72، الرقم : 1817، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 4 / 382، الرقم : 5262.

’’حضرت عبد الملک بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میں سب سے پہلے اپنی امت میں سے اہلِ مدینہ کی شفاعت کروں گا، پھر اہلِ مکہ اور پھر اہلِ طائف کی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

197 / 7. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ جَعْفَرٍ رضی اﷲ عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي : أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ وَأَهْلُ مَکَّةَ وَأَهْلُ الطَّائِفِ. رَوَاهُ الْمَقْدِسِيُّ.

7 : أخرجه المقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 187، الرقم : 167، والهندي في کنزالعمال، 14 / 399، الرقم : 39063.

’’حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سب سے پہلے اپنی امت میں سے اہلِ مدینہ کی شفاعت کروں گا، پھر اہلِ مکہ کی اور پھر اہلِ طائف کی۔‘‘

اسے امام مقدسی نے روایت کیا ہے۔

198 / 8. عَنْ جَرِيْرٍ رضی اﷲ عنه سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَه أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيْخِ الْکَبِيْرِ.

8 : أخرجه البخاري في التاريخ الکبير، 5 / 404، رقم : 1306.

’’حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میں سب سے پہلے اہلِ مدینہ کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

199 / 9. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ أهل الْمَدِيْنَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيْخِ الْکَبِيْرِ.

9 : أخرجه البخاري في التاريخ الکبير، 5 / 414، رقم : 1348.

’’محمد بن عبادہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سب سے پہلے اہلِ مدینہ کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved