Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب دوم

بَابٌ فِي بَعْثِ اﷲِ تَعَالَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

(اللہ تعالیٰ کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن مقام محمود پر فائز فرمانے کا بیان)

28 / 1. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنه قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَصِيْرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا، کُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَهَا يَقُوْلُوْنَ : يَا فُلَانُ! إِشْفَعْ، يَا فُلَانُ! اِشْفَعْ، حَتَّی تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَالِکَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اﷲُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التفسير، باب قوله : عسی أن يبعثک ربک مقاماً محموداً، 4 / 1748، الرقم : 4441، والنسائی في السنن الکبری، 6 / 381، الرقم : 11295، وابن منده في الإيمان، 2 / 871، الرقم : 927، والقرطبی في الجامع لأحکام القرآن، 10 / 309، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 56.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے روز لوگ گروہ در گروہ اپنے اپنے نبی کے پیچھے چلیں گے اور عرض کریں گے : اے فلاں! ہماری شفاعت فرمائیے، اے فلاں! ہماری شفاعت فرمائیے حتی کہ طلب شفاعت کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آکر ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

29 / 2. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی يْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ. وَقَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّی يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاهُمْ کَذٰلِکَ اسْتَغَاثُوْا بآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَی، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم. وَزَادَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ صَالِحٍ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ : فَيَشْفَعُ لِيُقْضَی بَيْنَ الْخَلْقِ، فَيَمْشِي حَتَّی يْخُذَ بِحَلَقَةِ الْبَابِ فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اﷲُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا، يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ کُلُّهُمْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ منده وَالْبَيْهَقِيُّ.

2 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : من سأل الناس تکثراً، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن مندہ في الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والبيهقی في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمی في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 377، الرقم : 3677، والطبری في جامع البيان في تفسير القرآن، 15 / 146، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 : 56.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص (دنیا میں بھکاری بن کر) لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا تک نہ ہوگا۔ اور فرمایا : قیامت کے دن سورج (مخلوق کے) اتنا قریب ہوگا کہ (ان کا) پسینہ نصف کان تک پہنچ جائے گا۔ پس وہ اس حال میں حضرت آدم علیہ السلام سے مدد طلب کریں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد طلب کرنے جائیں گے۔ عبد اﷲ بن جعفر نے اتنا زیادہ بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کریں گے تاکہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کیا جائے۔ آپ جائیں گے حتی کہ جنت کے دروازے کا کنڈا پکڑ لیں گے۔ یہ وہ دن ہوگا جب اﷲ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا اور سارے اہل محشر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کریں گے۔‘‘

اسے امام بخاری، ابن مندہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

30 / 3. عَنْ يَزِيْدَ الْفَقِيْرِ قَالَ : کُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيْدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَی النَّاسِ. قَالَ : فَمَرَرْنَا عَلَی الْمَدِيْنَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَی سَارِيَةٍ، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. قَالَ : فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَکَرَ الْجَهَنَّمِيِّيْنَ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ! مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُوْنَ؟ وَاﷲُ يَقُوْلُ : (إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ) [آل عمران، 3 : 192] وَ (کُلَّمَآ أَرَادُوْا أَنْ يَخْرُجُوْا مِنْهَآ أُعِيْدُوْا فِيْهَا) [السجدة، 32 : 20] فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُوْلُوْنَ؟ قَالَ : أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ : نَعَمْ! قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم (يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اﷲُ فِيْهِ)؟ قُلْتُ : نَعَمْ! قَالَ : فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم الْمَحْمُوْدُ الَّذِي يُخْرِجُ اﷲُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ : ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، قَالَ : وَأَخَافُ أَنْ لَّا أَکُوْنَ أَحْفَظُ ذَاکَ، قَالَ : غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَکُوْنُوْا فِيْهَا. قَالَ : يَعْنِي فَيَخْرُجُوْنَ کَأَنَّهُمْ عِيْدَانُ السَّمَاسِمِ. قَالَ : فَيَدْخُلُوْنَ نَهْرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُوْنَ فِيْهِ، فَيَخْرُجُوْنَ کَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيْسُ، فَرَجَعْنَا، قُلْنَا : وَيْحَکُمْ أَتَرَوْنَ الشَّيْخَ يَکْذِبُ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ فَرَجَعْنَا فَلَا وَاﷲِ! مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ کَمَا قَالَ أَبُوْ نُعَيْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو عَوَانَة وَابْنُ منده وَالْبَيْهَقِيُّ.

3 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 179، الرقم : 191، وأبو عوانة في المسند، 1 / 154، الرقم : 448، وابن مندہ في الإيمان، 2 / 829، الرقم : 858، والبيهقی في شعب الإيمان، 1 / 289، الرقم : 315، وأيضاً في الاعتقاد، 1 / 195.

’’یزید الفقیر کہتے ہیں : مجھے خوارج کی رائے نے گھیر ليا تھا (کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے)۔ ہم لوگوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ حج کرنے کے لئے نکلے (اور سوچا کہ بعد میں) ہم لوگوں کے پاس (اپنے اس عقیدہ کوبیان کرنے کے لئے) جائیں گے۔ فرماتے ہیں : ہمارا گزر مدینہ منورہ سے ہوا تو دیکھا کہ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما ایک ستون کے پاس بیٹھے لوگوں کو احادیث بیان فرما رہے ہیں۔ فرماتے ہیں : اچانک انہوں نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ یہ کیا بیان کرتے ہیں؟ اﷲ تعالیٰ تو (جہنمیوں کے بارے) فرماتا ہے : (بے شک تو جسے دوزخ میں ڈال دے تو تُو نے اسے واقعۃً رسوا کر دیا) [آل عمران، 3 : 192] اور ایک مقام پر ہے (دوزخی) جب بھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے) [السجدۃ، 32 : 20] آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا : تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا : ہاں! فرمایا : کیا تم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ مقام پڑھا ہے جس پر اﷲ تعالیٰ انہیں فائز فرمائے گا؟ میں نے کہا : ہاں! فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ایسا مقام محمود ہے جس پر فائز ہونے کے سبب اﷲ تعالیٰ جس کو چاہے گا جہنم سے نکالے گا۔ فرماتے ہیں : پھر انہوں نے پل صراط اور لوگوں کے اس پر گزرنے کو بیان فرمایا. کہتے ہیں : مجھے ڈر ہے کہ شاید میں اسے یاد نہ رکھ سکوں۔ تاہم انہوں نے یہ بیان کیا کہ لوگ جہنم میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلیں گے۔ ابو نعیم کہتے ہیں : وہ ایسے نکلیں گے جیسا کہ آبنوس کی جلی ہوئی لکڑیاں، پھر جنت کی نہر میں غسل کرکے کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ پس ہم وہاں سے لوٹے اور ہم نے آپس میں کہا : تم پر افسوس ہو کیا یہ شیخ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں؟ پس ہم میں سے ایک شخص کے سوا سبھی خوارج کے عقیدہ سے تائب ہوگئے جیسا کہ ابو نعیم نے بیان کیا ہے۔‘‘

اسے امام مسلم، ابو عوانہ، ابنِ مندہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

31 / 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فِي قوْلِهِ (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79] سُئِلَ عَنْهَا قَالَ : هِيَ الشَّفَاعَةُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

4 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن، باب : من سورة بني إسرائيل، 5 / 303، الرقم : 3137، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 444، الرقم : 9735، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 319، الرقم : 31745، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 364، الرقم : 784، والبيهقی في شعب الإيمان، 1 / 681، الرقم : 299، والصيداوي في معجم الشيوخ، 2 / 664، الرقم : 293، والطبری في جامع البيان في تفسير القرآن، 15 / 145، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 59، والقرطبی في الجامع لأحکام القرآن، 10 / 309، والعسقلانی في فتح الباری، 11 / 426.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79] کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

اسے امام ترمذی، احمد، ابنِ ابی شیبہ اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔

32 / 5. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الخدري رضی اﷲ عنه، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمَ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، قَالَ : فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ، فَيَقُولُ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أُهْبِطْتُ مِنْهُ إِلَی الْأَرْضِ، وَلَکِنِ ائْتُوا نُوحًا فَيَأْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُولُ إِنِّي دَعَوْتُ عَلَی أَهْلِ الْأَرْضِ دَعْوَةً فَأُهْلِکُوا، وَلَکِنِ اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَهِيْمَ فَيَأْتُوْنَ إِبْرَهِيْمَ، فَيَقُوْلُ : إِنِّي کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْهَا کَذِبَةٌ إِلَّا مَا حَلَّ بِهَا عَنْ دِيْنِ اﷲِ وَلَکِنِ ائْتُوا مُوسَی فَيَأْتُوْنَ مُوسَی، فَيَقُولُ : إِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا وَلَکِنِ ائْتُوا عِيْسَی فَيَأْتُونَ عِيْسَی، فَيَقُوْلُ : إِنِّي عُبِدْتُ مِنْ دُونِ اﷲِ وَلَکِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا، قَالَ : فَيَأْتُونَنِي، فَأَنْطَلِقُ مَعَهُمْ، قَالَ ابْنُ جُدْعَانَ : قَالَ أَنَسٌ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا، فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُوْنَ لِي وَيُرَحِّبُوْنَ بِي، فَيَقُولُونَ : مَرْحَبًا فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُلْهِمُنِي اﷲُ مِنَ الثَّنَائِ وَالْحَمْدِ فَيُقَالُ لِي : اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَقُلْ يُسْمَعْ لِقَوْلِکَ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي قَالَ اﷲُ (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [الإسراء، 17 : 79] قَالَ سُفْيَانُ لَيْسَ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا هَذِهِ الْکَلِمَةُ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَدْ رَوَی بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

5 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن، باب : ومن سورة بني إسرائيل، 5 / 308، الرقم : 3148.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا قائد ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں۔ حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور کوئی فخر نہیں، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سارے لوگ اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ میں ہی وہ ہوں جس سے سب سے پہلے زمین شق ہوگی اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگ تین بار گھبرانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ ہمارے باپ ہیں اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے۔ آپ فرمائیں گے : مجھ سے لغزش واقع ہوئی جس کے باعث مجھے زمین پر اترنا پڑا تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، پھر وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو آپ فرمائیں گے : میں نے زمین پر ایک دعا مانگی جس کے باعث سارے لوگ ہلاک کردیئے گئے تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو آپ فرمائیں گے میں نے تین مرتبہ (بظاہر) خلاف واقعہ بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہوںنے ان تینوں باتوں سے دین الٰہی کو بچانے کے لئے حیلہ کیا، حضرت ابراہیم فرمائیں گے حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو آپ فرمائیں گے : میں نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا تم عیسیٰ کے پاس جاؤ، وہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے : لوگوں نے اﷲ عزوجل کے علاوہ مجھے بھی معبود بنا ليا تھا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میںان کے ساتھ چلوں گا۔ ابنِ جدعان (راوی حدیث) کہتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا گویا کہ میں اب بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں جنت کے دروازے کی زنجیر پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا، تو کہا جائے گا : کون؟ جواب دیا جائے گا : حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ چنانچہ وہ میرے لئے دروازہ کھولیں گے اور مجھے مرحبا کہیں گے، میں (اﷲ عزوجل کے سامنے) سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثناء کا کچھ حصہ الہام فرمائے گا۔ مجھے کہا جائے گا : سر اٹھائیے، مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی اور فرمائیے آپ کی بات مانی جائے گی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79]۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض راویوں نے بواسطہ ابو نضرہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو مفصل روایت کیا ہے۔

33 / 6. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي قوْلِهِ تَعَالَی : (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79] قَالَ : أَلْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ : الشَّفَاعَةُ. يُعَذِّبُ اﷲُ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْيْمَانِ بِذُنُوْبِهِمْ ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم فَيُوْتَی بِهِمْ نَهَرًا، يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ. فَيَغْتَسِلُوْنَ فِيْهِ ثُمَّ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّوْنَ، ثُمَّ يَطْلُبُوْنَ مِنَ اﷲِ تَعَالَی فَيُذْهِبُ عَنْهُمْ ذٰلِکَ الْإِسْمَ. رَوَاهُ أَبُوْ حَنِيْفَةَ.

6 : أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة، 1 / 148.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا o) [بنی اسرائیل، 17 : 79] کے بارے میں فرمایا : مقامِ محمود شفاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں میں سے ایک قوم کو ان کے گناہوں کے باعث عذاب دے گا، پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے انہیں (جہنم) سے نکال کر ایسی نہر کے پاس لایا جائے گا جسے حیات آور کہا جاتا ہے۔ پس وہ اس میں غسل کریں گے اور پھر جنت میں داخل ہو جائیں گے، انہیں (جنت میں) جہنمی کہہ کر پکارا جائے گا۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے (اس نام کے خاتمہ کا) مطالبہ کریں گے تو وہ اس نام کو ان سے ختم کر دے گا۔‘‘

اسے امام ابو حنیفہ نے روایت کیا ہے۔

34 / 7. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : فِي قوْلِهِ تَعَالَی : (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79] قَالَ : يُخْرِجُ اﷲُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْيْمَانِ وَالْقِبْلَةِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم فَذٰلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ. فَيُوْتَی بِهِمْ نَهَرًا، يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ. فَيُلْقَوْنَ فِيْهِ فَيَنْبُتُوْنَ کَمَا يَنْبُتُ الثَّعَارِيْرُ، ثُمَّ يَخْرُجُوْنَ فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّوْنَ، وَيَطْلُبُوْنَ مِنَ اﷲِ تَعَالَی أَنْ يُذْهِبَ عَنْهُمْ ذٰلِکَ الْإِسْمَ فَيُذْهِبَهُ عَنْهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ حَنِيْفَةَ.

7 : أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة، 1 / 152.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کے فرمان (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79] کے بارے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور اہل قبلہ میں سے ایک قوم کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے جہنم سے نکالے گا، یہی مقامِ محمود ہے۔ پس انہیں ایسی نہر کے پاس لایا جائے گا جسے حیات آور کہا جاتا ہے۔ پھر انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا تو وہ اس میں ایسے اگیں گے جیسے سفید ککڑیاں اگتی ہیں، بعد ازاں وہ (اس نہر سے نکل کر) جنت میں داخل ہو جائیں گے تو انہیں (اس میں) جہنمی کہہ کر پکارا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے (اس نام کے خاتمے کا) مطالبہ کریں گے تو وہ اس نام کو ان سے ختم کر دے گا۔‘‘

اسے امام ابو حنیفہ نے روایت کیا ہے۔

35 / 8. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَلْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ : الشَّفَاعَةُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

8 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 478، الرقم : 10200، والبيهقي في شعب الإيمان، 1 / 281، الرقم : 299، وأبو نعيم الأصبهانی في حلية الأولياء، 8 / 372.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مقامِ محمود شفاعت ہے۔‘‘ اسے امام احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

36 / 9. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي قَوْلِهِ تَعَالٰی (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79] قَالَ : وَهُوَ الْمَقَامُ الَّذِي أَشْفَعُ لِأُمَّتِي فِيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

9 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 441، الرقم : 9684، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 59، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 8 / 454.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79] کے بارے فرمایا : یہ وہ مقام ہے جس میں، میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

37 / 10. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : حَدَّثَنِي نَبِيُّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَی الصِّرَاطِ، إِذْ جَاءَ نِي عِيْسٰی، فَقَالَ : هَذِه الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَ تْکَ؟ يَا مُحَمَّدُ! يَسْأَلُوْنَ. أَوْ قَالَ : يَجْتَمِعُوْنَ إِلَيْکَ. وَيَدْعُوْنَ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَی حَيْثُ يَشَاءُ اﷲُ لَهُمْ لِغمِّ مَا هُمْ فِيْهِ، وَالْخَلْقُ مُلْجَمُوْنَ فِي الْعَرَقِ، وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ کَالزَّکْمَةِ وَأَمَّا الْکَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ. قَالَ : قَالَ لِعِيْسٰی : إِنْتَظِرْ حَتَّی أَرْجِعَ إِلَيْکَ. قَالَ : فَذَهَبَ نَبِيُّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم حَتَّی قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَکٌ مُصْطَفًی وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ. فَأَوْحَی اﷲُ إِلَی جِبْرِيْلَ : إِذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ، فَقُلْ لَه : إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. قَالَ : فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ کُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِيْنَ إِنْسَانًا وَّاحِدًا. قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَی رَبِّي عَزَّوَجَلَّ، فَلًا أَقُوْمُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ، حَتَّی أَعْطَانِيَ اﷲُ مِنْ ذَالِکَ أَنْ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ! أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مِنْ خَلْقِ اﷲِ مَنْ شَهِدَ أَنَّه لَآ إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَی ذَالِکَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

10 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 178، الرقم : 12824، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 7 / 249، الرقم : 2695، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 235، الرقم : 5503، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 373.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں پل صراط پر کھڑا اپنی امت کے اسے عبور کرنے کا انتظار کر رہا ہوں گا کہ اس اثناء میرے پاس عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا کر کہیں گے : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ انبیاء آپ کے پاس التجا لے کر آئے ہیں یا آپ کے پاس اکٹھے ہیں (راوی کو شک ہے) اور اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے ہیں کہ وہ تمام گروہوں کو اپنی منشاء کے مطابق الگ کر دے تاکہ انہیں پریشانی سے نجات مل جائے۔ اس دن ساری مخلوق پسینے میں ڈوبی ہوگی، مومن پر اس کا اثر ایسے ہو گا جیسے زکام (میں ہلکا پُھلکا پسینہ)اور جو کافر ہوگا اس پر جیسے موت وارد ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس میں عیسیٰ سے کہوں گا : ذرا ٹھہرئیے جب تک کہ میں آپ کے پاس لوٹوں۔ راوی کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جائیں گے یہاں تک کہ عرش کے نیچے کھڑے ہوں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ شرفِ باریابی حاصل ہو گا جو کسی برگزیدہ فرشتہ کو حاصل ہوا نہ کسی نبی مرسل کو. پھر اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کو وحی فرمائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر کہو : اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس میری امت کے حق میں میری شفاعت قبول کی جائے گی کہ ہر 99 لوگوں میں سے ایک کو نکالتا جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں بار بار اپنے رب کے حضور جاؤں گا اور جب بھی اس کے حضور کھڑا ہوں گا میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے شفاعت کا مکمل اختیار عطا کر کے فرمائے گا : محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنی امت اور اللہ کی مخلوق میں سے ہر اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دیجیے جس نے ایک دن بھی اخلاص کے ساتھ یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی پر اس کو موت آئی ہو۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے : اس حدیث کے اشخاص صحیح حدیث کے اشخاص ہیں۔

38 / 11. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَهْتَمُّوْنَ لِذٰلِکَ، فَيَقُوْلُوْنَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَيُرِيْحُنَا مِنْ مَکَانِنَا. فَيَأْتُوْنَ آدَمَ، فَيَقُوْلُوْنَ : أَنْتَ أَبُوْنَا، خَلَقَکَ اﷲُ بِيَدِه وَأَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَهُ، وَعَلَّمَکَ أَسْمَاءَ کُلِّ شَيْئٍ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ. قَالَ : فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ. وَيَذْکُرُ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَکْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا، وَلَکِنِ ائْتُوْا نُوْحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اﷲُ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ. قَالَ : فَيَأْتُوْنَ نُوْحًا، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ. وَيَذْکُرُ خَطِيْئَتَهُ : سُؤَالَهُ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَلَکِنِ ائْتُوْا إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلَ الرَّحْمٰنِ. فَيَأْتُوْنَ إِبْرَاهِيْمَ، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ. وَيَذْکُرْ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، ثَلاَثَ کَذِبَاتٍ، کَذَبَهُنَّ، قَوْلَهُ : (إِنِّيْ سَقِيْمٌo) [الصافات، 37 : 89] وَقَوْلَه : (بَلْ فَعَلَهُ کَبِيْرُهُمْ هٰذَا) [الأنبياء، 21 : 63] وَأَتَی عَلَی جَبَّارٍ مُتْرَفٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ : أَخْبِرِيْهِ أَنِّي أَخُوْکِ فَإِنِّي مُخْبِرُهُ أَنَّکِ أُخْتِي، وَلَکِنِ ائْتُوْا مُوْسَی عَبْدًا کَلَّمَهُ اﷲُ تَکْلِيْمًا، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ. قَالَ : فَيَأْتُوْنَ مُوْسَی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيْئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ الرَّجُلَ. وَلَکِنِ ائْتُوْا عِيْسَی عَبْدَ اﷲِ وَرَسُوْلَهُ وَکَلِمَةَ اﷲِ وَرُوْحَهُ. فَيَأْتُوْنَ عِيْسَی، فَيَقُوْلُ : لَسْتُ هُنَاکُمْ، وَلَکِنِ ائْتُوْا مُحَمَّدًا عَبْدَ اﷲِ وَرَسُوْلَه، غُفِرَ لَه مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ.

قَالَ : فَيَأْتُوْنِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي عَزَّوَجَلَّ فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُوْلُ : إِرْفَعْ رَأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيْدٍ يُعَلِّمُنِيْهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. قَالَ : ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي عَزَّوَجَلَّ الثَّانِيَةَ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُوْلُ : إِرْفَعْ رَأْسَکَ مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، وَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَائٍ وَتَحْمِيْدٍ يُعَلِّمُنِيْهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. قَالَ هَمَّامٌ : وَأَيْضًا سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. قَالَ : ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي عَزَّوَجَلَّ الثَّالِثَةَ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُوْلُ : إِرْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيْدٍ يُعَلِّمُنِيْهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ. قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، فَلَا يَبْقَی فِي النَّاِر إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ. أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُوْدُ.

ثُمَّ تَلَا قَتَادَةُ : (عَسٰی أَن يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79] قَالَ : هُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي وَعَدَ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ نَبِيَهُ صلی الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

11 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 244، الرقم : 13562، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 374، الرقم : 804.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن ایمان والوں کو روک ليا جائے گا تو وہ اس سے غمگین ہو کر آپس میں کہیں گے : ہمیں اپنے پروردگار کے ہاں کوئی سفارشی چاہئے جو ہمیں اس سے راحت فراہم کرے۔ پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ ہمارے باپ ہیں، اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے تخلیق فرمایا اور آپ کے لئے ملائکہ کو سجدہ کرایا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھلا دیئے تو آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں۔ وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں اور اپنے درخت سے کھانے کا ذکر کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ پہلے نبی ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اہلِ زمین کی طرف مبعوث فرمایا. وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں اور بغیر علم کے اﷲ تعالیٰ سے سوال کرنے کی خطا کا ذکر کریں گے، بلکہ تم اللہ الرحمن کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پس وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر فائز نہیں اوراپنے (بظاہر نظر آنے والے) تین جھوٹوں کی خطا کا ذکر کریں گے۔ ان کا یہ کہنا (بے شک میں بیمار ہونے والا ہوںo) [القرآن، الصافات، 37 : 89] اور ان کا قول (بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا) [القرآن، الانبیاء، 21 : 63] اور جب وہ مع اہلیہ ظالم صاحب ثروت (حکمران) کے پاس آئے تو اہلیہ سے فرمایا : تم اسے کہنا کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور میں اسے بتاؤں گا کہ تو میری بہن ہے۔ (اس سبب کی وجہ سے وہ لوگوں سے فرمائیں گے) تم اس کے بندہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اﷲ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور ان کو تورات عطا کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس پر فائز نہیں اور ایک شخص کو قتل کرنے کی اپنی خطا کا ذکر کریں گے، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اﷲ کے بندے، اس کے رسول، اﷲ کے کلمے اور اس کی روح ہیں۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس منصب پر نہیں، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ جو اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جن کو پہلے اور بعد کی تمام تقصیرات کی مغفرت سنا دی گئی ہے۔

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب سے اس کے گھر میں داخلے کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اذن دیا جائے گا۔ پس رب کو دیکھتے ہی میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو اﷲ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت پر رکھے گا پھر فرمائے گا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کو سنا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ فرماتے ہیں : میں اپنا سر اٹھا کر اﷲ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے کلمات سے حمد و ثنا کروں گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو وہ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا لہذا میں انہیں دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر دوسری بار میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اذن دیا جائے گا۔ پس اس کو دیکھتے ہی میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو اﷲ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اس حال پر رکھے گا پھر فرمائے گا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنا سر اٹھائیے ! کہیے آپ کو سنا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ فرماتے ہیں : میں اپنا سر اٹھا کر اپنے رب کی ان کلمات سے حمد وثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھلائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا تو وہ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا پس میں انہیں دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری بار میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا۔ پس اس کو دیکھتے ہی سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو اﷲ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اس حال پر رکھے گا پھر فرمائے گا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر اٹھائیے ! کہیے آپ کو سنا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ فرماتے ہیں : میں اپنا سر اٹھا کر اپنے رب کی ان کلمات سے حمد وثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھلائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا تو وہ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا پس میں انہیں دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ جہنم میں صرف وہ رہ جائے گا جسے قرآن نے روکا ہے یعنی جس نے ہمیشہ رہنا ہے۔

’’پھر حضرت قتادہ نے آیتِ مبارکہ تلاوت کی : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79] فرمایا : یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔‘‘

اسے امام احمد اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

39 / 12. عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضی اﷲ عنه سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : فِي قَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بنی إسرائيل، 17 : 79] قَالَ : يُجْمَعُ النَّاسُ فِي صَعِيْدٍ وَّاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، حُفَاةً عُرَاةً کَمَا خُلِقُوْا، سَکُوْتًا لَا تَتَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ. قَالَ : فَيُنَادِي : مُحَمَّدُ! فَيَقُوْلُ : لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ، وَالشَّرُ لَيْسَ إِلَيْکَ، الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُکَ بَيْنَ يَدَيْکَ، وَلَکَ وَإِلَيْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجیٰ مِنْکَ إِلَّا إِلَيْکَ، تَبَارَکْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْبَيْتِ. فَذٰلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي قَالَ اﷲُ : (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79].

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، ووافقه الذهبي.

12 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 395، الرقم : 3384، والنسائی في السنن الکبری، 6 / 381، الرقم : 11295، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 139، الرقم : 34800، والطبرانی في المعجم الأوسط، 2 / 36، الرقم : 1062، والطيالسی في المسند، 1 / 55، الرقم : 414، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 377، وقال : رجاله رجال الصحيح.

’’حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ کے فرمان (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گاo) [القرآن، بنی اسرائیل، 17 : 79] کے بارے فرماتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ روز آخرت لوگوں کو ایک ہموار میدان میں اکٹھا فرمائے گا، جہاں پکارنے والے کی آواز سب سنیں گے اور سب نظر آتے ہوں گے، لوگ اسی طرح عریاں ہوں گے جس طرح پیدا ہوئے تھے اور سب خاموش ہوں گے اذن الٰہی کے بغیر کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوگی۔ (اللہ رب العزت) آواز دے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے : اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لئے مستعد ہوں، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، اور کسی شر کو تیرے آگے کوئی چارہ نہیں، جس کو تُو ہدایت سے نوازے وہی ہدایت یافتہ ہے، تیرا بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے، میں تیرے ہی لئے ہوں اور میری دوڑ تیری ہی جانب ہے، تیری بارگاہ کے سوا کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں۔ تیری ذات بابرکات بلند اور پاک ہے، اے بیت اللہ کے رب۔ یہی مقامِ محمود ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گاo) [بنی اسرائیل، 17 : 79]۔‘‘

اسے امام حاکم، نسائی، ابنِ ابی شیبہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : شیخین کی شرط پر یہ حديث صحيح ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

40 / 13. عَنْ جَابِرٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : تُمَدُّ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَدًّا لِعَظَمَةِ الرَّحْمٰنِ ثُمَّ لَا يَکُوْنُ لِبَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلاَّ مَوْضِعُ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُدْعَی أَوْليَ النَّاسِ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُوْمُ فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! أَخْبَرَنِي هَذَا لَجِبْرِيْلُ وَهُوَ عَنْ يَمِيْنِ الرَّحْمَنِ. وَاﷲِ! مَا رَآهُ جِبْرِيْلَ قَبْلَهَا قَطُّ، إِنَّکَ أَرْسَلْتَه إِليَّ؟ قَالَ : وَجِبْرِيلُ سَاکِتٌ لَا يَتَکلَّمُ حَتَّی يَقُوْلَ اﷲُ : صَدَقَ. ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ، فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! عِبَادُکَ عَبَدُوْکَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ فَذَالِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

13 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 : 614، الرقم : 8701، والحارث في المسند، 2 / 1008، الرقم : 1131، وابن المبارک في الزهد، 1 / 111، الرقم : 375، وأبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء، 3 / 145.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سطح زمین کو عظمتِ رحمن کے سبب اتنا کم کر دیا جائے گا کہ کسی بھی بشر کے لئے فقط اپنا پاؤں رکھنے کے لئے جگہ ہو گی۔ پھر سب انسانوں سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پھر مجھے اذنِ کلام دیا جائے گا تو میں کھڑا ہو کر عرض کروں گا : اے میرے رب! یہ ہے وہ جبرئیل جس نے مجھے خبر دی، اور وہ اللہ کے دائیں طرف ہوں گے، اللہ کی قسم! میں نے جبریل کو ایسی حالت میں پہلے کبھی نہیں دیکھا، تُو نے اس کو میری طرف بھیجا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل خاموش کھڑے ہوں گے، کچھ کلام نہیں کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس نے سچ کہا، پھر مجھے اذن شفاعت دیا جائے گا تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب! تیرے بندے زمین میں ہر جگہ تیری عبادت کرتے تھے یہی وہ مقام ( جہاں کھڑا ہوکر میں شفاعت کروں گا) مقامِ محمود ہوگا۔‘‘

اسے امام حاکم نے روایت کیا اور کہا ہے : شیخین کی شرط پر اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

41 / 14. عَنْ سَلْمَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : تُعْطَی الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَرَّ عَشَرَ سِنِيْنَ، ثُمَّ تُدْنَی مِنْ جَمَاجِمِ النَّاسِ، فَذَکَرَ الْحَدِيْثَ، قَالَ : فَيْتُوْنَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَيَقُوْلُوْنَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ! أَنْتَ الَّذِي فَتَحَ اﷲُ بِکَ، وَغَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ. وَقَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِيْهِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا. فَيَقُوْلُ : أَنَا صَاحِبُکُمْ! فَيَخْرُجُ يَحُوْشُ النَّاسَ حَتَّی يَنْتَهِيَ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ، فَيْخُذُ بِحَلْقَةٍ فِي الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ! فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيَجِيْئُ حَتَّی يَقُوْمَ بَيْنَ يَدَيِ اﷲِ، فَيَسْجُدُ. فَيُنَادِي : إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَذٰلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

14 : أخرجه الطبرانی في المعجم الکبير، 6 / 247، الرقم : 6117، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 308، الرقم : 31675، وابن أبی عاصم في السنة، 2 / 383، الرقم : 813، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 235، الرقم : 5502، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 372.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن سورج دس سال کی مسافت سے گرم ہوگا، پھر (آہستہ آہستہ) وہ لوگوں کے گروہوں سے قریب ہو جائے گا، (انہوں نے پوری حدیث ذکر کی پھر) فرماتے ہیں : لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے اﷲ کے نبی! آپ ہی وہ ذات ہیں جن سے اللہ نے معاملۂ تخلیق اور نبوت کا آغاز فرمایا اورآپ کی خاطر آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ آپ ہماری حالت مشاہدہ فرما رہے ہیں لہذا آپ ہی اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں، آپ فرمائیں گے : میں تمہارا خیر خواہ ہوں تو آپ لوگوں کو جمع کرتے ہوئے جنت کے دروازے تک پہنچ جائیں گے، پس آپ سونے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹائیں گے تو پوچھا جائے گا : کون ہے؟ فرمایا جائے گا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسے کھول دیا جائے گا تو آپ اﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ وہ فرمائے گا : اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، پس یہی مقامِ محمود ہے۔‘‘

اسے امام طبرانی، ابنِ ابی شیبہ اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے : اس کی اِسناد صحیح ہے۔

42 / 15. عَنْ عَبْدِ اﷲِ. یعني ابن مسعود. رضی اﷲ عنه قَالَ : ثُمَّ يَأْذَنُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَقُوْمُ رُوْحُ الْقُدُسِ جِبْرِيْلُ، ثُمَّ يَقُوْمُ إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اﷲِ، ثُمَّ يَقُوْمُ عِيْسٰی أَوْ مُوْسٰی. قَالَ أَبُوالزَّعْرَاء : لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا؟ قَالَ : ثُمَّ يَقُوْمُ نَبِيُّکُمْ صلی الله عليه وآله وسلم رَابِعًا، فَيَشْفَعُ لَا يَشْفَعُ لِأَحدٍ بَعْدَه أَکْثَرَ مِمَّا يَشْفَعُ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي قَالَ اﷲُ : (عَسٰی أَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوْدًاo) [بني إسرائيل، 17 : 79]. رَوَاهُ الطَّيَالِسِيُّ.

15 : أخرجه الطيالسي في المسند، 1 / 51، الرقم : 389، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 58. وأخرج الطبري في جامع البيان في تفسير القرآن، 30 / 113، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 59، 4 / 489. عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَدَّ اﷲُ الْأَرْضَ حَتَّی لَا يَکُوْنَ لِبَشَرٍ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَوْضِعُ قَدَمَيْهِ، فَأَکُوْنُ أَوَّلَ مَنْ يُدْعٰی، وَجِبْرِيْلُ عَنْ يَمِيْنِ الرَّحْمٰنِ، وَاﷲِ! مَا رَآهُ قَبْلَهَا، فَأَقُوْلُ : يَارَبِّ! إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّکَ أَرْسَلْتَه إِلَيَّ، فَيَقُوْلُ : صَدَقَ. ثُمَّ أَشْفَعُ فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ! عِبَادُکَ عَبَدُوْکَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ. قَالَ : وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں : پھر اﷲ تعالیٰ شفاعت کا اِذن عطا فرمائے گا تو روح القدس جبرئیل علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے، پھر اﷲ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے، پھر عیسیٰ یا موسیٰ علیہما السلام شفاعت فرمائیں گے۔ ابو زعراء کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون ہوگا؟ فرماتے ہیں : پھر (عموماً) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھے شفاعت فرمائیں گے، آپ اتنی کثرت سے شفاعت کریں گے کہ آپ کے بعد کوئی بھی التجا نہ کرے گا۔ یہی مقام محمود ہے جس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : (یقیناً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گاo) [القرآن، بنی اسرائیل، 17 : 79]۔‘‘ اسے امام طیالسی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved