Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب سیزدہم

بَابٌ فِي شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لِمَنْ صَلَّی عَلَيْهِ أَوْ سَأَلَ لَهُ الْوَسِيْلَةَ بَعْدَ الْأَذَانِ

 (اذان کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے والوں اور مقام وسیلہ مانگنے والوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا بیان)

200 / 1. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضی اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ قَالَ حِيْنَ يَسْمَعُ النِّدَائَ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَةِ وَالصَّلٰوةِ الْقَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا الَّذِي وَعَدْتَّهُ، حَلَّتْ لَه شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الأذان، باب : الدعاء عند النداء، 1 / 222، الرقم : 589، وأيضاً في کتاب : التفسير، باب : عَسٰی أن يبعثک ربک مقاماً محمودًا، 4 / 1749، الرقم : 4442، والترمذي في السنن، کتاب : الصلاة، باب : ما يقول الرجل إذا أذّن المؤذن من الدعاء، 1 / 413، الرقم : 211، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : ما جاء في الدعاء عند الأذان، 1 / 146، الرقم : 529، والنسائي في السنن، کتاب : الأذان، باب : الدعاء عند الأذان، 2 / 27، الرقم : 680، وابن ماجة في السنن، کتاب : الأذان، باب : ما يقال إذا أذن المؤذن، 1 / 239، الرقم : 722، وزاد البيهقي في السنن الکبري، 4 / 1749’’إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ، حَلَّتَ لَهُ شَفَاعَتِي۔‘‘.

’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اذان سن کر یوں دعا مانگے گا : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَةِ وَالصَّلٰوةِ الْقَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدَانِ الَّذِي وَعَدْتَّهُ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ وسیلہ اور فضیلت مرحمت فرما اور انہیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تُو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔) ایسا کہنے والے کے لئے قیامت کے روز میری شفاعت واجب ہوگی۔‘‘

اسے امام بخاری، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

201 / 2. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اﷲ عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اﷲَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اﷲِ وَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

2 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : استحباب القول مثل قول المؤذّن لمن سمعه، 1 / 288، الرقم : 384، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 5 / 586، الرقم : 3614، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : ما يقول إذا سمع المؤذّن، 1 / 444، الرقم : 523، والنسائي في السنن، کتاب : الأذان، باب : الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم بعد الأذان، 2 / 25، الرقم : 678، وابن حبان في الصحيح، 4 / 589، الرقم : 1691.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے سنو) تو جیسے وہ کہے تم کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، پس جس شخص نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس بار رحمت بھیجے گا۔ پھر تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، وہ جنت میں ایسا مقام ہے جس پر صرف ایک اللہ کا خاص بندہ فائز ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ میں ہی وہ شخص ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اسے شفاعت حاصل ہوگی۔‘‘

اسے امام مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

202 / 3. عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ صَلَّی عَلَّی مُحَمَّدٍ وَقَالَ : أَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : أَسَانِيْدُهُمْ حَسَنَةٌ.

3 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 108، الرقم : 16991، والطبراني في المعجم الکبير، 5 / 25 الرقم : 4480، وابن القيم في جلاء الأفهام : 101، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 329، الرقم : 2587، وقال : رواه البزار والطبراني في الکبير والأوسط وبعض أسانيدهم حسنة، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 163،.

وأخرج إسماعيل الجهضمي في فضل الصلاة علي النبي صلی الله عليه وآله وسلم : 51، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 514. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی اﷲ عنهما قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ أَوْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ، حَقَّتْ عَلَيْهِ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے اوریہ کہے : أَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! ان کو قیامت کے دن اپنے قربِ خاص میں جگہ عطا فرما) اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگی۔‘‘

اسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : ان کی اسانید اچھی ہیں.

203 / 4. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : سَلِ اﷲَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ لَا يَسْأَلُهَا لِي مُؤْمِنٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا أَوْ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

4 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 76، الرقم : 29590.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مقامِ وسیلہ کا سوال کیا کر. جو مؤمن بھی دنیا میں اس کا میرے لیے سوال کرے گا میں قیامت کے روز ضرور اس کے حق میں گواہ یا شفیع (شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

204 / 5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : سَلُوا اﷲَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهَا لِي عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا أَوْشَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

5 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 199، الرقم : 633، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 230، الرقم : 688 بألفاظه ’’ لَا يَسْأَلُ اﷲَ لِي مُؤْمِنٌ فِي الدُّنْيَا۔‘‘

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مقامِ وسیلہ کا سوال کیا کرو۔ جو بندہ بھی دنیا میں میرے لیے اس کا سوال کرے گا میں قیامت کے دن ضرور اس کے حق میں گواہ یا شفیع (شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

205 / 6. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُوْلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رضی اﷲ عنه يَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ قَالَ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَالَ هَذَا عِنْدَ النِّدَاءِ جَعَلَهُ اﷲُ فِي شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

6 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 79، الرقم : 3662، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 333.

’’عبد اللہ بن ضمرہ سلولی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو دَرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اذان سنتے تو یہ پڑھتے : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! تو اپنے بندے اور رسول پر درود بھیج، اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اذان کے وقت یہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن میری شفاعت سے نوازے گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

206 / 7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةً الْوَسِيْلَةَ عِنْدَکَ وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

7 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 85، الرقم : 12554.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اذان سن کر کہا : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةً الْوَسِيْلَةَ عِنْدَکَ وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ! تو ان پر درود بھیج اور انہیں اپنے ہاں مقامِ وسیلہ پر فائز فرما اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما) اس کے لیے لازمی شفاعت ہو گی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

207 / 8. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَقُوْلُ حِيْنَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، فَيُکَبِّرُ وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، ثُمَّ يَقُوْلُ : أَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ، وَاجْعَلْهُ فِي الْأَعْلَيْنِ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُصْطَفِيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِيْنَ ذِکْرَهُ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ مُوَثَّقُوْنَ.

8 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 41، الرقم : 9790، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 333.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی بھی مسلمان جب نماز کے لیے اذان سنتے ہوئے تکبیر کہتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر وہ کہتا ہے : أَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ، وَاجْعَلْهُ فِي الْأَعْلَيْنِ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُصْطَفِيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِيْنَ ذِکْرَهُ (اے اللہ! محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، دونوں عالموں کی بلندیوں میں ان کو درجہ عطا فرما، چنے ہوئے بندوں میں ان کی محبت پیدا فرما اور مقربین میں ان کے ذکر کو عام فرما) قیامت کے دن اس کے لیے لازمی شفاعت ہوگی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اس کے رُواۃ کی توثیق کی گئی ہے۔

208 / 9. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الدَّعْوَاتِ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ، وَاجْعَلْهُ فِي الْمُصْطَفِيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْعَالَمِيْنَ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِيْنَ ذِکْرَ دَارِهِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

9 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 237، الرقم : 7926، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 112.

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے ہر فرض نماز کے بعد اِن کلمات کے ساتھ دعا کی، قیامت کے دن میں اس کی شفاعت ضرور کروں گا (وہ کلمات یہ ہیں) : أَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيْلَةَ، وَاجْعَلْهُ فِي الْمُصْطَفِيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْعَالَمِيْنَ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِيْنَ ذِکْرَ دَارِهِ (اے اللہ! محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما، اور چنے ہوئے بندوں میں ان کی محبت پیدا فرما، اور تمام جہانوں میں ان کو بلند درجہ عطا فرما، اور مقربین میں ان کے گھر کے ذکر کو عام فرما)۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

209 / 10. عَنْ أَيُّوْبَ وَجَعْفَرٍ الْجُعْفِيِّ قَالَا : مَنْ قَالَ عِنْدَ الْإِقَامَةِ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَةِ وَالصَّلٰوةِ القَآئِمَةِ أَعْطِ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَارْفَعْ لَهُ الدَّرَجَاتِ، حَقَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

10 : أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 1 / 496، الرقم : 1911.

وأخرج ابن القيسراني في تذکرة الحفاظ، 1 / 369، الرقم : 363، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 10 / 113. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، أَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَالَتْهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’ایوب اور جعفر جعفی فرماتے ہیں : جس شخص نے اقامت کے وقت کہا : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَةِ وَالصَّلٰوةِ القَآئِمَةِ أَعْطِ سَيِّدَنَا مُحَمَّدَانِ الْوَسِيْلَةَ وَارْفَعْ لَهُ الدَّرَجَاتِ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام وسیلہ عطا فرما اور ان کے درجات بلند فرما) ایسا کہنے والے کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت لازم ہوگی۔‘‘

اسے امام عبدالرزاق نے روایت کیا ہے۔

210 / 11. عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ أَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ کَانَ مِمَّنْ يُشْفَعُ لَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

11 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 97، الرقم : 29771.

’’امام حکم فرماتے ہیں : جس شخص نے منادی کو نماز کی اقامت کہتے ہوئے سن کر کہا : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ أَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا طلب کیا ہوا روزِ قیامت عطا فرما) ایسا کہنے والا ان میں شمار ہوگا جن کی شفاعت کی جائے گی۔‘‘

اسے امام ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

211 / 12. عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا سَمِعْتَ الْمُؤَذِّنَ، فَقُلْ کَمَا يَقُوْلُ، فَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ، فَقُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاﷲِ، فَإِذَا قَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَقُلْ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ أَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ يَقُوْلَهَا رَجُلٌ حِيْنَ يُقِيْمُ إِلَّا أَدْخَلَهُ اﷲُ فِي شَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

12 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 206، الرقم : 2365، وأيضاً، 6 / 97، الرقم : 29772.

’’حضرت حسن بصری فرماتے ہیں : جب تو مؤذن کو (اذان دیتا) سنے تو جو وہ کہتا ہے تو بھی کہہ، پس جس وقت وہ کہے : حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ تَو تُو کہہ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاﷲِ، جس وقت وہ (اقامت میں) کہے : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، توُ کہہ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ أَعْطِ مُحَمَّدًا سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا طلب کیا ہوا روزِ قیامت عطا فرما) ہر ایسا کہنے والے کو اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

212 / 13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ قَالَ : أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ، وَتَرَحَّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ. شَهِدْتُ لَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالشَّهَادَةِ وَشَفَعْتُ لَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ الْمُفْرَدِ.

13 : أخرجه البخاري في الأدب المفرد : 223، الرقم : 641، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 159.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے پڑھا : أَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ، وَتَرَحَّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاهِيْمَ (اے اللہ! تو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر درود بھیج جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر درود بھیجا، اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر برکت کا نزول فرما جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت فرمائی، اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت فرما جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت فرمائی۔) میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دوں گا اور شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

213 / 14. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي وُکِّلَ بِهَا مَلَکٌ يَبْلُغُنِي، وَکَفَی بِهَا أَمْرُ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ وَکُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا أَوْ شَفِيْعًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

14 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 2 / 218، الرقم : 1583، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 3 / 292، الرقم : 1377.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ پر میری قبر کے نزدیک درود پڑھا، اس پر ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اسے مجھ تک پہنچا دیتا ہے، اور اس درود کے سبب کے وہ اس شخص کی دنیا اور آخرت کے معاملہ (کی اصلاح) کے لیے کافی ہوتا ہے اور میں (قیامت کے دن) اس کے حق میں گواہ یا شفیع ہوں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

214 / 15. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَکْثِرُوْا مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيَّ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ کُنْتُ لَه شَهِيْدًا أَوْ شَافِعًا. رَوَاهُ الْعَجَلُوْنِيُّ.

15 : أخرجه العجلوني في کشف الخفاء، 1 / 190، الرقم : 501، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 456.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، پس جس نے ایسا کیا، میں اس کے لیے گواہی دوں گا یا شفاعت کروں گا۔‘‘

اسے امام عجلونی نے روایت کیا ہے۔

215 / 16. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا، وَحِيْنَ يُمْسِي عَشْرًا، أَدْرَکَتْهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْمُنْذِرِيُّ وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ أَحَدِهِمِا جَيِّدٌ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

16 : أخرجه المنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 261، الرقم : 987، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 120، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 456، والمناوي في فيض القدير، 6 / 169، الرقم : 8811.

’’حضرت ابو دَرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ پر صبح اور شام کے وقت دس دس بار درود پڑھا، قیامت کے دن اسے میری شفاعت حاصل ہوگی۔‘‘

اسے امام منذری نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے : اسے طبرانی نے دو اِسنادوں کے ساتھ روایت کیا ہے جن میں سے ایک ٹھیک ہے اور اس کے رِجال ثقہ ہیں.

216 / 17. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَقُوْلُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَکَانَ يَسْمَعُهَا مِنْ حَوْلِهِ وَيُحِبُّ أَنْ يَقُوْلُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ إِذَا سَمِعُوا الْمُؤَذِّنَ، قَالَ : وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْمُنْذِرِيُّ.

17 : أخرجه المنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 116، الرقم : 398، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 333.

’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو پڑھتے تھے : أَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج، اور انہیں قیامت کے دن ان کا طلب کیا ہوا عطا فرما). آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اردگرد (صحابہ سے بھی یہی پڑھتا) سنتے تھے اور پسند فرماتے تھے کہ وہ بھی جب مؤذن کو اذان دیتا ہوا سنیں تو ایسا ہی پڑھیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مؤذن کو سن کر ایسا ہی کہا تو قیامت کے دن اسے لازمی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘

اسے امام منذری نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved