Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب بست

بَابٌ فِي دُخُوْلِ سَبْعِيْنَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ

 (جنت میں بغير حساب داخل ہونے والا ہر ایک ولی کامل اپنے ساتھ ستر ہزار لوگو علیہ السلام کو لے کر جائے گا)

331 / 1. عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِيْقِ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيْتُ سَبْعِيْنَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وُجُوْهُهُمْ کَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوْبُهُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي عَزَّوًَجَلَّ، فَزَادَنِي مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا. قَالَ أَبُوبَکْرٍ : فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَالِکَ آتٍ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی وَمُصِيْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِيْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلَی وَابْنُ کَثِيْرٍ.

1 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 6، الرقم : 22، وأبو يعلی في المسند، 1 / 104، الرقم : 112، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 410.

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ستر ہزار افراد ایسے عطا کیے گئے جو بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک شخص کے دل کے مطابق ہوں گے۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے زیادہ چاہا تو اس نے (اپنے ان مقربانِ خاص کی سنگت اختیار کرنے والوں کا خیال رکھتے ہوئے ان میں سے) ہر ایک کے ساتھ مزید 70 ہزار کا میرے لئے اضافہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ یہ (مقام) دیہات کے رہنے والوں کو حاصل ہوگا اور ننگے پاؤں چلنے والے صحرائی باشندے اس پر فائز ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل، ابو یعلی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

332 / 2. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ. فَقَالَ عُمَرُ : يَارَسُوْلَ اﷲِ، فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ : قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ کُلِّ رَجُلٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا، قَالَ عُمَرُ : فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ : قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَکَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 197، الرقم : 1706، والبزار في المسند، 6 / 234، الرقم : 2268، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 410.

’’حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پروردگار عزوجل نے مجھے ایسے 70 ہزار امتی عطا فرمائے ہیں جو بغير حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! کیا آپ نے اس سے زیادہ نہیں چاہا؟ فرمایا : میں نے اس سے زیادہ چاہا تو اس نے مجھے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار عطا فرمائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا : کیا آپ نے اس سے زیادہ نہیں چاہا؟ فرمایا : میں نے اس سے زیادہ چاہا تو اس نے مجھے اتنا اور عطا فرمایا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں سے لَپ بھر کر ڈالی)۔‘‘

اسے امام احمد، بزار اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

333 / 3. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا الْحَارِثُ بْنُ أُقَيْشٍ، فَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ لَيْلَتَئِذٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَکْثَرُ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّی يَکُوْنَ أَحَدَ زَوَيَاهَا.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو يَعْلَی وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ عَلَی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

3 : أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الزهد، باب : صفة النار، 2 / 1446، الرقم : 4323، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 312، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 313، الرقم : 31702، وأبويعلی في المسند، 3 / 154، الرقم : 1581، والحاکم في المستدرک، 1 / 242، الرقم : 238، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 2 / 294، الرقم : 1056.

’’عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں : میں ایک رات ابو بردہ کے پاس تھا کہ ہمارے پاس حضرت حارث بن اقیشث آئے۔ حارث نے اسی رات ہمیں بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے ایک امتی کی شفاعت کے سبب قبیلہ مضر سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور بے شک ایک ایسا امتی بھی ہوگا (جو اپنے گناہوں کے سبب) دوزخ کے لئے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ اس کا ایک کونہ محسو س ہو گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ، احمد، ابنِ ابی شیبہ، ابو یعلی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح الاسناد ہے۔

334 / 4. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ، مِثْلُ الْحَيَيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَيْنِ : رَبِيْعَةَ وَمُضَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَوَمَا رَبِيْعَةُ مِنْ مُضَرَ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا أَقُوْلُ مَا أُقَوَّلُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ أَسَانِيْدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيْحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

4 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 257، الرقم : 22215، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 143، الرقم : 7638، وأيضاً في مسند الشاميين، 2 / 147، الرقم : 1079، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 381، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 248.

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ایک شخص جو کہ نبی نہیں ہوگا، کی شفاعت کے سبب دو قبیلوں ربیعہ اور مضر یا ان دونوں میں سے ایک کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا ربیعہ مضر کی طرح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں وہی کہتا ہوں جس کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔‘‘

اسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : امام احمد کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح حدیث کے (بلند درجہ) رجال ہیں سوائے عبد الرحمان بن میسرہ کے، وہ ثقہ ہے۔

335 / 5. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ اُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا. قَالُوْا : زِدْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ! قَالَ : لِکُلِّ رَجُلٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا. قَالُوْا : زِدْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ! وَکَانَ عَلٰی کَثِيْبٍ، فَحَثَا بِيَدِهِ، قَالُوْا : زِدْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ! فَقَالَ : هٰذَا وَحَثَا بِيَدِه، قَالُوْا : يَا نَبِيَّ اﷲِ! أَبْعَدَ اﷲُ مَنْ دَخَلَ النًّارَ بَعْدَ هَذَا. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلَی وَالْمَقْدَسِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

5 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 6 / 417، الرقم : 3783، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 6 / 54، الرقم : 2028، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، وقال : هذا إسناد جید ورجاله کلهم ثقات، ما عدا عبد القاهر بن السري وقد سُئل عنه ابن معين فقال : صالح، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 404، وقال : إسناده حسن.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار افراد بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر شخص کے ساتھ مزید 70 ہزار افراد ہوں گے۔ انہوں نے (دوبارہ) عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ریت کے ٹیلہ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لپ بھری (اور اس میں اضافہ کر دیا)۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لو اور اپنے ہاتھوں سے پھر لپ بھری۔ انہوں نے عرض کیا : یا نبی اللہ! اللہ اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے جو اس کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو۔‘‘

اسے امام ابو یعلی، مقدسی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ اس کی اسناد حسن ہے۔

336 / 6. عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم إِنَّهُ تُغِيْبُ عَنْهُمْ ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَّا لِصَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ، فَقِيْلَ لَهُ فِي ذَالِکَ، قَالَ : إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي فِي هَذِهِ الثَلَا ثَةِ الْأَيَامِ، الْمَزِيْدَ، فَوَجَدْتُ رَبِّي وَاجِدًا، مَاجِدًا، کَرِيْمًا. فَأَعْطَانِي مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِيْنَ أَلْفًا، سَبْعِيْنَ أَلْفًا، قَالَ قُلْتُ : يَا رَبِّ! وَتَبْلُغُ أُمَّتِي هَذَا؟ قَالَ : أُکَمِّلُ لَکَ الْعَدَدَ مِنَ الْأَعْرَابِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

6 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 1 / 252، الرقم : 268.

’’حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے پاس تین دن تک صرف فرض نمازوں کے علاوہ تشریف فرما نہ ہوئے تو آپ سے اس بارے میں عرض کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پروردگار عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے 70 ہزار امتی بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے ان تین دنوں میں اپنے رب سے مزید کا سوال کیا تو میں نے اسے عطا فرمانے والا، عظمت وبزرگی والا اور بہت کرم کرنے والا پایا۔ پس اس نے مجھے اس ستر ہزار کے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار عطا فرمائے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے میرے پروردگار! کیا میری امت اس عدد تک پہنچ جائے گی؟ اس نے فرمایا : میں تیری خاطر اس عدد کی گنواروں سے تکمیل کروں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

337 / 7. عَنْ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : لَبِثَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَی صَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ، فَقِيْلَ لَهُ فِي ذَالِکَ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ رَبِّي مَاجِدًا کَرِيْمًا، أَعْطَانِي مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِيْنَ الْأَلْفِ الَّذِيْنَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، مَعَ کُّلِ وَاحِدٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا، فَقُلْتُ : إِنَّ اُمَّتِي لَا تَبْلُغُ أَوْ تُکْمِلُ هَذَا؟ فَقَالَ : أُکْمِلُهُمْ لَکَ مِنَ الْأَعْرَابِ.

رَوَاهُ الْمَقْدِسِيُّ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ، إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

7 : أخرجه المقدسي في الأحاديث المختاره، 8 / 207، الرقم : 243، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1195، الرقم : 1940، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 410.

’’حضرت عامر بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دن تک فرض نمازوں کے لیے تشریف نہ لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں عرض کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے رب کو عظمت وبزرگی والا اور بہت کرم کرنے والا پایا، اس نے مجھے ہر ایک کے ساتھ ایسے ستر ہزار امتی عطا فرمائے ہیں جو بغير حساب جنت میں داخل ہوں گے، (یاد رکھو) ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار افراد ہوں گے۔ میں نے عرض کیا : میری امت اس عدد تک پہنچنے کی اہل نہیں ہو گی یا اس گنتی کی تکمیل نہیں کر سکے گی؟ اس نے فرمایا : میں تیری خاطر اس عدد کو گنواروں سے پورا کروں گا۔‘‘

اسے امام مقدسی اور ابنِ عبد البر نے روایت کیا ہے، اس کی اسناد حسن ہے۔

الفائدة الجليلة

لو يدخل سبعون ألف رجل من الأمة المحمدية في الجنة ومع کل ألف من هؤلاء سبعين ألف رجل يدخل سبعون ألف رجل، فيبلغ هذا العدد إلي تسع وأربعين مائة ألف وسبعين ألف رجل. وإن دخل سبعون ألف رجل مع کل رجل من سبعين ألف رجل يدخلون الجنة، فيصير مجموع العدد أربعة بلايين وتسع مئات مليون وسبعين ألفاً. وإضافة إلي هذا ثلاث حثوات من اﷲ تعالي، التي لا نستطيع أن نحسبها.

نرجو، بعد هذا کله، من العلي العزيز أن يحيط هذا العدد بجميع الأمة المحمدية بالغفران. بلايين صلاة وسلام علي الرسول الأعظم والأکرم الذي يغفر اﷲ تعالي جميع أمته صلی الله عليه وآله وسلم إکراماً وإعظاماً ومحبة ومودّة له صلی الله عليه وآله وسلم.

’’اگر ستر ہزار پہلے اور بعد میں ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں تو یہ کل گنتی انچاس لاکھ ستر ہزار بنتی ہے. اگر ستر ہزار میں سے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار داخل ہوں تو پھر یہ کل عدد چار ارب نوے کروڑ ستر ہزار بنتا ہے. پھر اس پر مزید ربِ کریم کے تین چلّو بھی ہیں جن کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔

’’اﷲتعالیٰ کے کرم سے امید یہی ہے کہ اِن شاء اﷲ تعالیٰ یہ عدد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت کو گھیر لے گا۔ ایسے اعظم اور اکرم رسول پر اربوں درود و سلام ہوں جن کی عظمت و محبت میں اﷲتعالیٰ امتِ مسلمہ پر اس قدر بخشش کی برسات فرمائے گا۔‘‘

338 / 8. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيَدْخُلَنَّ بِشَفَاعَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا کُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالْمُنَاوِيُّ.

وَفِي رِوَيَةٍ أُخْرَی لابْنِ عَسَاکِرَ، قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيَشْفَعَنَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ حَتَّی يُدْخِلَهُمُ اﷲُ الْجَنَّةَ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالدَّيْلَمِيُّ.

8 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39 / 122، 123، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 360، الرقم : 7034، والمناوي في فيض القدير، 5 / 352.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) کی شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار وہ لوگ جنت میں جائیں گے جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی۔‘‘

اسے امام ابنِ عساکر اور مناوی نے روایت کیا ہے۔

’’ابنِ عساکر کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن عفان ( رضی اللہ عنہ قیامت کے روز) لازماً میری امت کے ان ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی تو اﷲ تعالیٰ انہیں (اس کی شفاعت کے سبب) جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ عساکر اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved