Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب ہفتم

بَابٌ فِي شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لِمَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ مُخْلِصًا

(اخلاص سے کلمہ پڑھنے والے ہر شخص کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا بیان)

126 / 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّهُ قَالَ : قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَاهُرَيْرَةَ! أَنْ لَا يَسْئَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيْثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْکَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِيْثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ خَالِصاً مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : العلم، باب : الحرص علی الحديث، 1 / 49، الرقم : 99، وأيضاً في کتاب : الرقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2402، الرقم : 6201، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 373، الرقم : 8858، والنسائی في السنن الکبری، 3 / 426، الرقم : 5842، وابن منده في الإيمان، 2 / 862، 863، الرقم : 905، 906.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! قیامت کے روز آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ اس بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تم حدیث پر بہت حریص ہو۔ قیامت کے روز میری شفاعت حاصل کرنے میں سب سے زیادہ خوش نصیب شخص وہ ہوگا جس نے خلوص دل و جاں سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ پڑھا ہوگا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

127 / 2. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ شُفِّعْتُ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ! أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ، فَيَدْخُلُوْنَ. ثُمَّ أَقُوْلُ : أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَی شَيْئٍ. فَقَالَ أَنَسٌ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی أَصَابِعِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

2 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : کلام الرب یوم القيامة مع الأنبياء وغيرهم، 6 / 2727، الرقم : 7071، وابن منده في الإيمان، 2 / 843، رقم : 873.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے روز میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : یا رب! جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو اسے جنت میں داخل فرما دے، پس وہ داخل ہو جائیں گے۔ پھر میں عرض کروں گا : اسے بھی جنت میں داخل فرما دے جس کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : گویا کہ میں (اب بھی اشارہ کرتے) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشتان مبارک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیاہے۔

128 / 3. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : قَالَ هِشَامٌ : يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ، وَقَالَ شُعْبَةُ : أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيْرَةً. أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً. أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً. وَقَالَ شُعْبَةُ : مَا يَزِنُ ذَرَّةً مُخَفَّفَةً.

وَقَالَ التِّرمِذِيُّ : وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيْدٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضی اﷲ عنهم.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو عَوَانَة، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

3 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة جهنم، باب : أن للنار نفسين وما ذکر من يخرج من النار من أهل التوحيد، 4 / 711، الرقم : 2593، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 173، الرقم : 12772، وأبو عوانة في المسند، 1 / 157، الرقم : 452، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 354، الرقم : 1172، وابن منده في الإيمان، 2 / 840، الرقم : 872.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہشام (راوی) نے کہا : (دوزخی کو) دوزخ سے نکالا جائے گا، شعبہ (راوی) فرماتے ہیں (اﷲ تعالیٰ فرشتوں کو فرمائے گا) تم اس شخص کو آگ سے نکالو جس نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہا ہو اور اس کے دل میں جَو کے دانے کے وزن برابر بھلائی ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکالو جس نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہو، اس کو بھی جہنم سے نکالو جس نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہا اوراس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی ہو۔ اور شعبہ نے (روایت کرتے ہوئے یہ بھی) کہا : جس کے دل میں ہلکا سا ذرہ برابر بھلائی ہو۔‘‘

’’امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں حضرات جابر، ابو سعید اور عمران بن حصینث سے بھی روایات ہیں۔‘‘

امام ترمذی، احمد اور ابو عوانہ نے اس حدیث کو روایت کیا۔ امام ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

129 / 4. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : يَدْخُلُ قَوْمٌ مِنَ أَهْلِ الْيْمَانِ بِذُنُوْبِهِمُ النَّارَ، فَيَقُوْلُ لَهُمُ الْمُشْرِکُوْنَ : مَا أَغْنَی عَنْکُمْ يْمَانُکُمْ وَنَحْنُ وَأَنْتُمْ فِي دَارٍ وَّاحِدَةٍ مُعَذَّبُوْنَ، فَيَغْضَبُ اﷲُ لَهُمْ، فَيَأْمُرُ مَالِکًا فَلَا يَدَعُ فِي النَّارِ أَحَدًا يَقُوْلُ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ، فَيُخْرَجُوْنَ وَقَدِ احْتَرَقُوْا حَتَّی صَارُوْا کَالْحُمَّةِ السَّوْدَاءِ إِلَّا وُجُوْهَهُمْ، وَأَنَّهُ لَا تَزْرَقُ أَعْيُنُهُمْ فَيُؤْتَی بِهِمْ نَهَرَ الْحَيَوَانِ، فَيَغْتَسِلُوْنَ فِيْهِ، فَيُذْهَبُ عَنْهُمْ کُلُّ فَتْرَةٍ وَأَذًی ثُمَّ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ.

فَتَقُوْلُ لَهُمُ الْمَلَائِکَةُ : طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خَالِدِيْنَ، فَيُدْعَوْنَ الْجَهَنَّمِيُّوْنَ، ثُمَّ يَدْعُوْنَ اﷲَ تَعَالَی فَيُذْهِبُ عَنْهُمْ ذٰلِکَ الْإِسْمَ فَلَا يُدْعَوْنَ بِهِ أَبَدًا، فَإِذَا خَرَجُوْا مِنَ النَّارِ قَالَ الْکُفَّارُ : يَا لَيْتَنَا کُنَّا مُسْلِمِيْنَ، فَذٰلِکَ قَوْلُهُ تَعَالٰی : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِيْنَo) [الحجر، 15 : 2]. رَوَاهُ أَبُوْ حَنِيْفَةَ.

4 : أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة، 1 / 156.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اہلِ ایمان میں سے ایک قوم اپنے گناہوں کے باعث جہنم میں داخل ہوگی تو مشرکین ان سے کہیں گے : تمہیں تمہارے ایمان نے کوئی فائدہ نہیں دیا کہ ہمیں اور تمہیں ایک ہی جگہ عذاب دیا جا رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان پر غضب فرمائے گا اور (داروغۂ جہنم) مالک کو حکم دے گا کہ دوزخ میں ایسے کسی شخص کو نہ چھوڑے جس نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہا ہو۔ انہیں اس حال میں جہنم سے نکالا جائے گا کہ چہرے کے سوا ( ان کے پورے جسم) جل کر سیاہ کوئلے کی مانند ہو چکے ہوں گے اور ان کی آنکھیں نیلگوں نہیں ہونگی، پس انہیں نہر حیات پر لایا جائے گا تو وہ اس میں نہائیں گے، ان سے ہر قسم کی کمزوری اور تکلیف دور کر دی جائے گی پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔

’’فرشتے ان سے کہیں گے : تمہیں مبارک ہو، تم اس جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ، پس انہیں (جنت میں) جہنمی کہہ کر بلایا جائے گا، پھر (کچھ عرصہ بعد) وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے تو وہ ان سے اس نام کو ختم فرما دے گا سو انہیں اس نام سے کبھی بھی نہیں بلایا جائے گا۔ جب وہ آگ سے نکلیں گے تو کافر کہیں گے : کاش ہم مسلمان ہوتے! اسی کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (کفار (آخرت میں مومنوں پر اﷲ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتےo) [القرآن، الحجر، 15 : 2]۔‘‘

اسے امام ابو حنیفہ نے روایت کیاہے۔

130 / 5. عَنْ أَبِي أَيُّوْبَ الْأَنْصَارِيِّ رضی اﷲ عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَبَّکُمْ خَيَرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الجنة عَفْوًا بِغَيْرِحِسَابٍ وَبَيْنَ الْخَبِيْئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي؟ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَيَخْبَأُ ذٰلِکَ رَبُّکَ عزَّوَجَلَّ؟ فَدَخَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُکَبِّرُ، فَقَالَ : إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا وَالْخَبِيْئَةَ عِنْدَهُ. قَالَ أَبُوْ رُهْمٍ : يَاأَبَا أَيُّوْبَ! وَمَا تَظُنُّ خَبِيْئَةَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ فَأَکَلَهُ النَّاسُ بأَفْوَاهِهِمْ، فَقَالُوْا : وَمَا أَنْتَ وَخَبِيْئَةَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ! فَقَالَ أَبُوْ أَيُّوْبَ : دَعُوا الرَّجُلَ عَنْکُمْ أَخْبِرْکُمْ عَنْ خَبِيْئَةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَمَا أَظُنُّ، بَلْ کَالْمُسْتَيْقِنِ : إِنَّ خَبِيْئَةَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يَقُوْلَ : رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، مُصَدِّقًا لِسَانُهُ قَلْبَهُ، أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ.

5 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 413، الرقم : 23505، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 375.

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاں تشریف لا کر ارشاد فرمایا : تمہارے رب نے مجھے ستر ہزار بغير حساب کے جنت میں داخل ہونے والے اور میری امت کے لئے اپنے پاس محفوظ شدہ حق کے درمیان اختیار دیا؟ اس پر آپ کے بعض صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا آپ کا رب اسے چھپا کر رکھے گا؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجرہ مبارک میں) داخل ہوگئے پھر اَﷲُ اَکْبَر کہتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا : میرے رب عزوجل نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار (کا جنت میں جانے) کا اضافہ فرمایا ہے اور محفوظ شدہ حق اس کے پاس ہے۔ ابو رُہم (راوی نے) پوچھا : ابو ایوب! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ذخیرہ شدہ حق کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے اسے اپنی زبانوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا : تجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس خفیہ حق کے بارے میں کیا غرض ہے؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس شخص کو چھوڑ دو، میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس محفوظ شدہ حق کے بارے میں بتاتا ہوں جیسا کہ مجھے اپنے اس خیال پر پورا یقین ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محفوظ حق یہ ہے کہ وہ (اپنے رب سے) فرمائیں گے : اے میرے رب! جس شخص نے یہ گواہی دی ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ واحد و یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اس حال میں کہ اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو، تُو اسے جنت میں داخل فرما۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیاہے۔

131 / 6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَاذَا رَدَّ إِلَيْکَ رَبُّکَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِه! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذٰلِکَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَيْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يُهِمُّنِي مِنْ إِنْقِصَافِهِمْ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّةِ هَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ مُخْلِصاً، يُصَدِّقُ قَلْبُه لِسَانَه، وَلِسَانُه قَلْبَه.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ. حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَإِسْنَادُ الْحَدِيْثِ قَابِلٌ لِلتَّحْسِيْنِ.

6 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 307، الرقم، 8070، والحاکم في المستدرک، 1 / 141، الرقم : 233، والحارث في المسند، 2 / 1012، الرقم : 1136، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 404.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا : آپ کے رب نے آپ کو شفاعت کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! مجھے یقین تھا کہ میری امت میں تم ہی سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے کیونکہ میں نے علم کے حصول پر تمہاری حرص کو دیکھا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! جنت کے دروازوں پر (اپنے امتیوں کو جنت میں داخل ہونے کے لیے) ایک دوسرے کو دھکیلتے وقت مجھے اپنی شفاعت کے پورا کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ پریشان نہ کرے گی۔ اور (یاد رکھو کہ) میری شفاعت اس کے لیے ہے جس نے خلوص کے ساتھ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ اس حال میں کہا ہو کہ اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔‘‘

اسے امام احمد اور حاکم نے روایت کیاہے۔ یہ حديث صحيح ہے اور اس کی اِسناد قابل تحسین ہے۔

132 / 7. عَنِ ابْنِ دَارَّةَ مَوْلٰی عُثْمَانَ قَالَ : إِنَّا لَبِالْبَقِيْعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُوْلُ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ : فَتَدَاکَّ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالُوْا : يْهٍ يَرْحَمُکَ اﷲُ! قَالَ : يَقُوْلُ (رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم) : أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِکُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَکَ مَُؤْمِنٌ بِي لَا يُشْرِکُ بِکَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

7 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 454، الرقم : 9852، وأيضاً في المسند، 2 / 499، الرقم : 10473، وابن کثيرفی البداية والنهاية، 10 / 465.

’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابنِ دارّہ سے روایت ہے کہ ہم جنت البقیع میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ہم نے ان کو فرماتے ہوئے سنا : میں لوگوں میں سب سے زیادہ قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کے بارے جانتا ہوں۔ لوگوں نے ان کے گرد ہجوم کر ليا اور کہا : اﷲ آپ پر رحم فرمائے! آپ بیان کریں؟ انہوں نے کہا کہ (قیامت کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں گے : اے اﷲ تو ہر اس مسلمان بندے کو بخش دے جو تجھ سے اس حال میں ملا کہ (زندگی میں) مجھ پر ایمان رکھا رہا (اور) تیر ے ساتھ شرک سے بچا رہا۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیاہے۔ اس کی اِسناد حسن ہے۔

133 / 8. عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّه أَتَانِي اٰتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نَصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ؟ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ. فَقُلْنَا : نُذَکِّرُکَ اﷲَ وَالصُّحْبَةَ إِلاَّجَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِکَ؟ قَالَ : أَنْتُمْ مِنْهُمْ. ثُمَّ مَضَيْنَا، فَيَجِئُی الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي أَخْبَرَنَا بِه، فَيُذَکِّرُوْنَهُ اﷲَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِه؟ فَيَقُوْلُ : فَإِنَّکُمْ مِنْهُمْ حَتَّی انْتَهَی النَّاسُ فَأَضَبُّوْا عَلَيْهِ. وَقَالُوْا : إِجْعَلْنَا مِنْهُمْ. قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُکُمْ أَنَّهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکْ بِاﷲِ شَيْءًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الشَّيْخَيْنِ.

8 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 23، الرقم : 23977، وأَيضًا، 6 / 28، الرقم : 24002.

’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے رب کی طرف سے آنے والے (جبرئیل فرشتہ) نے مجھے میری آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا؟ تو میں نے شفاعت کو اختیار کر ليا۔ ہم نے عرض کیا : ہم آپ کو اﷲ اور صحابیت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی شفاعت کا ضرور حقدار بنائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے ہو۔ پھر ہم چل پڑے تو ایک یا دو آدمی آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسا ہمیں بتلایا تھا ویسا ہی انہیں بھی بتلایا تو وہ بھی آپ کو اﷲاور صحابیت کا واسطہ دینے لگیں کہ انہیں بھی اپنی شفاعت کا مستحق بنائیں؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ان میں سے ہو۔ یہاں تک کہ لوگوں کا ایک ہجوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد ہوگیا اور وہ سبھی یہی کہنے لگے : آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت کا حق دار بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ یقیناً وہ میرے ہر اس امتی کے لئے ہے جو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس کی اِسناد صحیح ہے اور اس کے رجال شیخین کے ثقہ رجال ہیں۔

134 / 9. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ وَحِلَقُهُ مِنْ فِضَّةٍ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّوْرُ الْأَکْبَرُ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَأُلْقٰی مِنَ الثَّنَاءِ عَلَی اﷲِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي فَيُقَالُ لِي : إِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعَْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَقُوْلُ : أُمَّتِي. فَيُقَالُ : لَکَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيْرَةٍ مِنْ يْمَانٍ. قَالَ : ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ ثُمْ أُلْقٰی مِثْلَ ذَلِکَ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذٰلِکَ، وَأَقُوْلُ : أُمَّتِي! فَيُقَالُ لِي : لَکَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ يْمَانٍ. ثُمْ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ لِي : مِثْلُ ذٰلِکَ. ثُمَّ أَرْفَعَُرأْسِي فَأَقُوْلُ أُمَّتِي. فَيُقَالُ لِي : لَکَ مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ مُخْلِصًا. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلَی.

9 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 7 / 158، 164، الرقم : 4130، 4137.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا توسونے کا دروازہ کھول دیا جائے گا اور اس کا کنڈا چاندی کا ہے۔ سب سے بڑا نور (اللہ تعالیٰ) میرا استقبال فرمائے گا تو میں سجدے میں گر جاؤں گا۔ مجھے اﷲ تعالیٰ کی تعریف و ثناء کرنے کے لیے ایسے کلمات اِلقاء کیے جائیں گے جو اس نے مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کیے۔ پھر مجھے کہاجائے گا : اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا، کہیے سناجائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں عرض کروں گا : میری امت! کہاجائے گا : جس کے دل میں جَو کے برابر ایمان ہو اس کا آپ کو (دوزخ سے نکالنے کا) اختیار ہے۔ فرماتے ہیں : پھر دوسری بار میں سجدہ ریز ہوں گا تو ایسے ہی کلمات القاء کیے جائیں گے اور اس طرح فرمایا جائے گا تومیں عرض کروں گا : میری امت! پھر مجھے کہا جائے گا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو آپ کو اس پربھی اختیار ہے۔ میں تیسری بار سجدہ ریز ہوں گا تو ایسے ہی فرمایا جائے گا تومیں سر اٹھا کر عرض کروں گا : میری امت! پھر کہا جائے گا : آپ کو اس پر بھی اختیار ہے جس نے اِخلاص سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہا ہے۔‘‘

اسے امام ابو یعلی نے روایت کیاہے۔

135 / 10. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يُعَذَّبُوْنَ بِذُنُوْبِهِمْ فَيَکُوْنُوْا فِي النَّارِ مَا شَاءَ اﷲُ أَنْ يَکُوْنُوْا، ثُمْ يُعَيِّرُهُمْ أَهْلُ الشِّرْکِ فَيَقُوْلُوْنَ : مَا نَرَی مَا کُنْتُمْ تُخَالِفُوْنَا فِيْهِ مِنْ تَصْدِيْقِکُمْ وَيْمَانِکُمْ نَفَعَکُمْ، فَلَا يَبْقِي مُوَحِّدٌ إِلَّا أَخْرَجَهُ اﷲُ. ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِيْنَo) [الحجر، 15 : 2]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

10 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 223، الرقم : 5146، والهيثمي فيمجمع الزوائد، 10 / 379، الرقم : 18532..

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سے لوگوں کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب دیا جائے گا تو وہ جب تک اﷲ چاہے گا دوزخ میں رہیں گے۔ پھر مشرک ان کو طعنہ دیتے ہوئے کہیں گے : تم اپنے ایمان اور تصدیق کے باعث ہماری مخالفت کرتے تھے ہم نہیں دیکھ رہے کہ اس عمل نے تمہیں کوئی نفع دیا ہو۔ پس اﷲ تعالیٰ ہر توحید پرست کو (آگ سے) نکال لے گا۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی (کفار (آخرت میں مومنوں پر اﷲ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتےo) [القرآن، الحجر، 15 : 2]۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیاہے۔

136 / 11. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه فِي طَوِيْلِ الْحَدِيْثِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنِّي آتِي جَهَنَّمَ فَأَضْرِبُ بَابَهَا فَيُفْتَحُ لِي فَأَدْخُلُ فَأَحْمَدُ اﷲَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَهُ أَحَدٌ قَبْلِي مِثْلَهُ، وَلَا يَحْمَدُهُ أَحَدٌ بَعْدِي. ثُمْ أُخْرِجُ مِنْهَا مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ مُخْلِصًا، فَيَقُوْمُ إِلَيَّ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَيَنْتَسِبُوْنَ لِي فَأَعْرِفُ نَسَبَهُمْ وَلَا أَعْرِفُ وُجُوْهَهُمْ، وَأَتْرُکُهُمْ فِي النَّارِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.

11 : أخرجه الطبراني فيالمعجم الأوسط، 4 / 503، الرقم : 3857، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 379.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) میں دوزخ کے پاس آکر اس کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا تو میرے لیے اسے کھول دیا جائے گا۔ میں اس میں داخل ہو کر اﷲ تعالیٰ کی ایسی حمد کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے کبھی نہیں کی ہوگی اور نہ میرے بعد ایسی کوئی اس کی حمد کرے گا۔ پھر میں اخلاص سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہنے والوں کو دوزخ سے نکال لوں گا۔ پس قریش کے چند لوگ میرے پاس آ کر مجھے اپنا نسب بتائیں گے تو میں ان کے نسب پہچانوں گا لیکن ان کے چہرے نہ پہچانوں گا اور انہیں جہنم میں چھوڑ دوں گا (کیونکہ وہ کفار یا منافقین قریش ہوں گے)۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیاہے۔

137 / 12. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ يَدْخُلُوْنَ النَّارَ بِذُنُوْبِهِمْ. فَيَقُوْلُ لَهُمْ أَهْلُ اللَّاتِ وَالْعُزَّی : مَاأَغْنَی عَنْکُمْ قَوْلُکُمْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ وَأَنْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟ فَيَغْضَبُ اﷲُ لَهُمْ، فَيُخْرِجُهُمْ فَيُلْقِيْهِمْ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ، فَيَبْرَءُ وْنَ مِنْ حَرْقِهِمْ کَمَا يَبْرَأُ الْقَمَرُ مِنْ کُسُوْفِهِ. فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ فِيْهَا الْجَهَنَّمِيِّيْنَ. فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَنَسُ! أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ فَقَالُ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. نَعَمْ! أَنَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ هَذَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

12 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 209، الرقم : 7293، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 379.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی گواہی دینے والوں میں سے کچھ لوگ اپنے گناہوں کے باعث دوزخ میں داخل ہوں گے تو لات اور عزیٰ کے ماننے والے ان سے کہیں گے : تمہیں تمہارے کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲ ُ نے کوئی فائدہ نہیں دیا کہ تم آگ میں ہمارے ساتھ ہو؟ پس اﷲ تعالیٰ کفار پر غصے کا اظہار فرماتے ہوئے ان (اہل ایمان) کو دوزخ سے نکال کر نہر حیات میں داخل فرمائے گا تو وہ اپنے جلنے کے نشان سے اس طرح چھٹکارہ پا لیں گے جس طرح چاند اپنے گرہن سے چھٹکارا پاتا ہے۔وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں وہاں جہنمی کہہ کر پکارا جائے گا۔ ایک شخص نے کہا : اے انس! آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا بیان کرتے ہوئے سنا تھا؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا ليا۔ ہاں! میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی فرماتے ہوئے سنا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیاہے۔

138 / 13. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ : أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِه مِثْقَالُ شَعِيْرَةٍ مِنْ يْمَانٍ. ثُمَّ يَقُوْلُ : أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ يْمَانٍ. ثُمَّ يَقُوْلُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَجْعَلُ مَنْ آمَنَ بِي سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ کَمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيْرِ.

13 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغیر، 2 / 114، الرقم : 875، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 380.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ (قیامت کے دن فرشتوں سے) فرمائے گا : تم دوزخ سے اس شخص کو نکال دو جس کے دل میں جَو کے برابر ایمان ہو۔ پھر فرمائے گا : اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، پھر فرمائے گا : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اس شخص کو جو مجھ پر دن اور رات کی کسی گھڑی میں ایمان لایا تھا، ایمان نہ لانے والے شخص کی طرح کبھی نہ کروں گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیاہے۔

139 / 14. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَا زِلْتُ أَشْفَعُ إِلَی رَبِّي وَيُشَفِّعُنِي حَتَّی أَقُوْلَ : رَبِّ شَفِّعْنِي فِيْمَنْ قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ. فَيَقُوْلُ : لَيْسَتْ هٰذِهِ لَکَ يَا مُحَمَّدُ! إِنَّمَا هِيَ لِي. أَمَا وَعِزَّتِي وَحِلْمِي وَرَحْمَتِي لَا أَدَعُ فِي النَّارِ أَحَدًا. أَوْ قَالَ : عَبْدًا قَالَ : لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.

رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلَی وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

14 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 5 / 172، الرقم : 2786، وابن أبی عاصم في السنة، 2 / 396، الرقم : 828.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے رب کے ہاں شفاعت کرتا رہوں گا اور وہ میری شفاعت قبول فرماتا رہے گا یہاں تک کہ میں عرض کروں گا : میرے رب! میری شفاعت اس کے حق میں بھی قبول فرما جس نے صرف لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲ کہا ہو۔ پس وہ فرمائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! یہ کام آپ کا نہیں ہے یہ کام میرا ہے۔ یاد رکھیے مجھے اپنی عزت کی قسم، اپنے حلم کی قسم، اور اپنی رحمت کی قسم! میں کسی بھی ایسے شخص کو آگ میں نہیں چھوڑوں گا۔ یا فرمایا : کسی بھی ایسے بندے کو جس نے صرف لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ بھی کہا ہو۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو یعلی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیاہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved