Intercession Substantiated by Fine Traditions

باب شانزدہم

بَابٌ فِي شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لِأُنَاسٍ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ

 (جنت میں بغير حساب داخل ہونے والے لوگوں کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا بیان)

248 / 1. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَذَکَرْتُهُ لِسَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ وَالنَّبِيَانِ يَمُرُّوْنَ مَعَهُمُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّی رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيْمٌ، قُلْتُ : مَا هَذَا؟ أُمَّتِي هَذِهِ؟ قِيْلَ : بَلْ هَذَا مُوْسَی وَقَوْمُهُ، قِيْلَ : أُنْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ، فَإِذَا سَوَادٌ يَمْلَأُ الْأُفُقَ، ثُمَّ قِيْلَ لِي : أُنْظُرْ هَا هُنَا! وَهَا هُنَا فِي آفَاقِ السَّمَاءِ، فَإِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلَأَ الْأُفُقَ، قِيْلَ : هَذِهِ أُمَّتُکَ! وَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هٰؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ، فَأَفَاضَ الْقَوْمُ وَقَالُوْا : نَحْنُ الَّذِيْنَ آمَنَّا بِاﷲِ وَاتَّبَعْنَا رَسُوْلَهُ، فَنَحْنُ هُمْ أَوْ أَوْلَادُنَا الَّذِيْنَ وُلِدُوْا فِي الْإِسْلَامِ فَإِنَّا وُلِدْنَا فِي الْجَهِلِيَةِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَخَرَجَ فَقَالَ : هُمُ الَّذِيْنَ لَا يَسْتَرْقُوْنَ وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ وَلَا يَکْتَوُوْنَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَالَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ : أَ مِنْهُمْ أَنَا يَارَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : نَعَمْ! فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَ مِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَغَيْرُهُمْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

1 : أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب : الطب، باب : من اکتوی أوکوی غيره، 5 / 2157، الرقم : 5378، وأيضاً في کتاب : الرقاق، باب : ومن يتوکل علي اﷲ فهو حسبه، 5 / 2385، الرقم : 6107، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 199، الرقم : 220، والترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق، باب : ما جاء في صفة أواني الحوض، 4 / 631، الرقم : 2446، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 271، الرقم : 2448، وابن حبان في الصحيح، 14 / 339، الرقم : 6430، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دم صرف نظرِ بد یا زہریلے جانور کے کاٹنے سے (کیا جاتا) ہے۔ میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے کہا : ہم سے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں تو ایک ایک اور دو دو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ ایک جماعت تھی اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا یہاں تک کہ ایک جمِ غفیر میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے کہا : یہ کیا ہے؟ یہ میری امت ہے؟ کہا گیا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔ کہا گیا : آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے اچانک دیکھا کہ ایک جمِ غفیر نے افق کو گھیرا ہوا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا : ادھر دیکھئے اور اور ادھر آسمان کے کناروں کی طرف بھی دیکھئے تو دیکھا کہ اس جمِ غفیر نے ہر طرف سے آسمان کو گھیرا ہوا ہے۔ کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے! ان میں سے ستر ہزار افراد بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے اور مزید وضاحت نہ فرمائی۔ لوگ باہم بات چیت کرتے ہوئے کہنے لگے : (بغير حساب جنت میں جانے والے) وہ لوگ ہم ہی ہیں کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے رسول کی اتباع کی، پس وہ ہم ہی ہیں یا ہماری اولاد ہے جو اسلام پر پیدا ہوئی کیونکہ ہم تو دورِ جاہلیت میں پیدا ہوئے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ نے تشریف لا کر فرمایا : وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کرائیں گے، نہ بدفالی لیں گے، نہ داغ لگوا کر علاج کرائیں گے اور اپنے رب پر توکل کریں گے۔ عکاشہ بن محصن نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ! کیا میں ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں! ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : کیا میں ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اس بارے میں تجھ پر پہل لے گیا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ترمذی، ابنِ کثیر اور دیگر ائمہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

249 / 2. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ، شَکَّ فِي أَحَدِهِمَا، مُتَمَاسِکِيْنَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، حَتَّی يَدْخُلَ أَوُّلُهُمْ وَآخِرُهُمُ الْجَنَّةَ، وَوُجُوْهُهُمْ عَلَی ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

2 : أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6177، وأيضاً في کتاب : بدء الخلق، باب : ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة، 3 / 1186، الرقم : 3075، وأيضاً في کتاب : الرقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2399، الرقم : 6187، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علی دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 219، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 335، الرقم : 22839، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد (بغير حساب و عذاب کے) جنت میں داخل ہوں گے، (راوی کو دونوں میں سے ایک کا شک ہے) یہ ایک دوسرے کو (نسبت کی وجہ سے باہم) تھامے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ ان کا پہلا (قیادت کرنے والا) اور آخری شخص جنت میں داخل ہوجائے گا۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، احمد بن حنبل اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

250 / 3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُوْنَ أَلْفًا، تُضِيئُ وُجُوْهُهُمْ إِضَاءَ ةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَقَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه : فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : أَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ : يَارَسُوْلَ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ فَقَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

3 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : يدخل الجنة سبعون ألفاً بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6176، وأيضاً في کتاب : اللباس، باب : البُرُوْد والحِبَرَة والشَّمْلَة، 5 / 2189، الرقم : 5474، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علی دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 197، الرقم : 216، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 400، الرقم : 9202، وابن منده في الإيمان، 2 / 892، الرقم : 970، إسناده صحيح، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میری امت کے ستر ہزار افراد کا گروہ (بغير حساب کے) جنت میں داخل ہو گا جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عکاشہ بن محصن نے اپنی اون کی چادر کو بلند کرتے ہوئے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ! تو اس کو ان میں شامل فرما لے، پھر ایک انصاری شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘

اسے امام بخاری، مسلم، احمد اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

251 / 4. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْأُمَّةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَه، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيْلُ هٰؤُلَاءِ أُمَّتِي؟ قَالَ : لَا! وَلٰکِنِ انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذْا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قَالَ : هٰؤُلَاءِ أُمَّتُکَ! وَهٰؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، قُلْتُ : وَلِمَ؟ قَالَ : کَانُوْا لَا يَکْتَوُوْنَ وَلَا يَسْتَرْقُوْنَ وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ : أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : أَللَّهُمَّ! اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ، قَالَ : أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

4 : أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : يدخل الجنة سبعون ألفاً بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6175.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا : جبرئیل! یہ میری امت ہے؟ اس نے کہا : نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ اس نے کہا : یہ آپ کی امت ہے؟ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغير حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا : کیوں؟ اس نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے۔ پس عکاشہ بن محصنص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ! تو اسے ان میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اس پر تجھ سے پہل لے گیا ہے۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

252 / 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : أَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ : يَارَسُوْلَ اﷲِ : أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

5 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علی دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 197، الرقم : 216، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 302، الرقم : 8016، وابن راهويه في المسند، 1 / 143، الرقم : 76، وابن منده في الإيمان، 2 / 894، الرقم : 974.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار افراد بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے تو ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ! تو اس کو ان میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘

اسے امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

253 / 6. عَنْ عِمْرَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ. قَالُوْا : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِيْنَ لَا يَکْتَوُوْنَ وَلَا يَسْتَرْقُوْنَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَةُ، فَقَالَ : أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

6 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علی دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 218، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 183، الرقم : 427، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394.

’’حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار افراد بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کرائیں گے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کرائیں گے اور اپنے رب پر کامل توکل کریں گے۔ عکاشہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تُو اُن میں سے ہے۔ فرماتے ہیں : ایک اورشخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا نبی اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اس معاملے میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘

اسے امام مسلم، طبرانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

254 / 7. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضی اﷲ عنهما (فِي طَوِيْلِ الْحَدِيْثِ) قَالَ : ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُوْنَ، فَتَنْجُوْ أَوَّلُ زُمْرَةٍ، وُجُوْهُهُمْ کَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرَِسبْعُوْنَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُوْنً، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ کَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ کَذٰلِکَ... الحديث. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

7 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 177، الرقم : 191، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 345، الرقم : 14721، ورواه مرفوعًا، وعبد اﷲ بن أحمد بن حنبل في السنة، 1 / 248، الرقم : 457، وابن منده في الإيمان، 2 / 825، الرقم : 851، إسناده صحيح، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394 - 395.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما (سے طویل حدیث روایت ہے) فرماتے ہیں : پھر قیامت کے دن مؤمنین نجات پائیں گے تو سب سے پہلے ایسی جماعت نجات پائے گی جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے، وہ ستر ہزار افراد ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں ليا جائے گا۔ پھر (وہ مومن نجات پائیں گے) جو ان سے متصل ہوں گے (اور جن کے چہرے) آسمان کے ستاروں کی مانند چمکتے ہوں گے پھر اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘

اسے امام مسلم، احمد اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

255 / 8. عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اﷲ عنهما : أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي، قَالَ : فَرَأَيْتُهُمْ فَأَعْجَبَتْنِي کَثْرَتُهُمْ وَهَيْئَاتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ، فَقَالَ : أَرَضِيْتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ، قَالَ : فَإِنَّ لَکَ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِيْنَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَهُمُ الَّذِيْنَ لَا يَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ، وَلَا يَکْتَوُوْنَ، وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَةُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ : سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّيَالِسِيُّ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ کَثِيْرٍ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.

8 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 454، الرقم : 4339، وابن حبان في الصحيح، 13 / 447، الرقم : 6084، والطيالسي في المسند، 1 / 47، الرقم : 352، والحاکم في المستدرک، 4 / 460، الرقم : 8278، وأبويعلی في المسند، 9 / 233، الرقم : 5340، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 314، الرقم : 911، وأورده الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 304، وقال : رواه أحمد مطولاً ومختصراً، ورواه أبو يعلی، ورجالهما في المطول رجال الصحيح، وأورده ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 394، وقال : رواه الحافظ الضياء المقدسي، وقَال : هذا عندي علی شرط مسلم.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) جمع ہونے کے مقام پر مجھے سابقہ امتیں دکھائی جائیں گی تو میری امت میرے پاس حاضر ہونے میں تاخیر کرے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر جب میں اپنے امتیوں کو دیکھوں گا تو مجھے ان کی کثرت اور تعداد پر تعجب ہو گا کہ انہوں نے پہاڑوں اور وادیوں کو بھرا ہو گا۔ اللہ گ مجھ سے پوچھے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا آپ راضی ہیں؟ میں عرض کروں گا : جی ہاں! اﷲ تعالیٰ فرمائے گا : آپ کی خاطر ان میں وہ ستر ہزار امتی بھی شامل ہیں جو بغير حساب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بد شگونی لیتے ہیں، نہ داغ لگوا کر علاج کراتے ہیں اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے ہیں. پس عکاشہ بن محصن نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا نبی اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اس معاملے میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘

اسے امام احمد، ابنِ حبان، طیالسی، حاکم اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : یہ حديث صحيح ا لاسناد ہے۔

256 / 9. عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اﷲ عنهما قَالَ : أَکْثَرْنَا الْحَدِيْثَ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَلَاثَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَه أَحَدٌ، حَتَّی مَرَّ عَلَيَّ مُوْسٰی مَعَه کَبْکَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ، فَأَعْجَبُوْنِي، فَقُلْتُ : مَنْ هٰؤُلَاءِ؟ فَقِيْلَ لِي : هٰذَا أَخُوْکَ مُوْسٰی، مَعَه بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ، قَالَ قُلْتُ : فَأَيْنَ اُمَّتِي؟ فَقِيْلَ لِي : أُنْظُرْ عَنْ يَمِيْنِکَ. فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوْهِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِيْلَ لِي : أُنْظُرْ عَنْ يَسَارِکَ. فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوْهِ الرِّجَالِ، فَقِيْلَ لِي : أَرَضِيْتَ؟ فَقُلْتُ : رَضِيْتُ يَا رَبِّ! رَضِيْتُ يَا رَبِّ! قَالَ : فَقِيْلَ لِي إِنَّ مَعَ هٰؤُلَاءِ سَبْعِيْنَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فِدًا لَکُمْ أَبِي وَأُمِّي، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُوْنُوْا مِنَ السَّبْعِيْنَ الْأَلْفِ، فَافْعَلُوْا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ، فَکُوْنُوْا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ، فَکُوْنُوْا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ : أُدْعُ اﷲَ لِي، يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِيْنَ؟ فَدَعَا لَه، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ : أُدْعُ اﷲَ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ فَقَالَ : قَدْ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ. قَالَ : ثُمَّ تَحَدَّثْنَا، فَقُلْنَا : مَنْ تَرَوْنَ هٰؤُلَاءِ السَّبْعُوْنَ الْأَلْفُ؟ قَوْمٌ وُلِدُوْا فِي الْإِسْلَامِ، لَمْ يُشْرِکُوْا بِاﷲِ شَيْءًا حَتَّی مَاتُوْا؟ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : هُمُ الَّذِيْنَ لَا يَکْتَوُوْنَ، وَلَا يَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ کَثِيْرٍ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.

9 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 401، الرقم : 3806، حديث صحيح، والبزار في المسند، 4 / 671، الرقم : 1441، والطبراني في المعجم الکبير، 10 / 6، الرقم : 9766، والحاکم في المستدرک، 4 / 621، الرقم : 8721، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، وأورده الهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 406، وقال : رواه أحمد بأسانيد، والبزار أتم منه، والطبراني وأبو يعلي بإختصار کثير، وأحد أسانيد أحمد والبزار، رجاله رجال الصحيح.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں : ہم نے ایک رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کثرت سے باتیں کیں، پھر جب دن کے پہلے وقت میں ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کو مجھ پر (خواب میں) تمام انبیاء اپنی امتوں سمیت پیش کیے گئے تو بعض نبی اپنے تین امتیوں کے ساتھ جارہے تھے، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ دس افراد تھے اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام قومِ بنی اسرائیل کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ میرے پاس سے گزرے جس سے مجھے تعجب ہوا۔ میں نے کہا : یہ کون ہیں؟ مجھ سے کہا گیا : یہ آپ کے بھائی موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے کہا : میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا : اپنے دائیں طرف دیکھیں تو میں نے ایک وادی دیکھی جو انسانوں کے چہروں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ پھر مجھ سے کہا گیا : اپنے بائیں طرف دیکھیں تو میں نے دیکھا کہ آسمان کے کنارہ تک ساری جگہ انسانوں کے چہروں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھے کہا گیا : کیا آپ (اتنی کثیر امت ہونے پر) راضی ہیں؟ میں نے کہا : میں راضی ہوں میرے رب! میں راضی ہوں میرے رب! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : مجھ سے کہا گیا : ان کے ساتھ (آپ کے) ستر ہزار امتی بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنے صحابہ سے) فرمایا : میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ ان ستر ہزار میں سے ہوں تو ایسا کرو، اگر تم نے (اعمال میں) کمی کی تو وادی والوں میں سے ہو گے اور اگر (ان کے مقابلہ میں بھی) کمی ہوئی تو اہلِ افق میں سے ہو گے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا آپ نے لوگوں کی اصلاح کردی جس سے وہ مضطرب ہوگئے۔ عکاشہ بن محصن نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کریں کہ وہ مجھے ان ستر (ہزار) میں سے بنا دے تو آپ نے اس کے لیے دعا کی، ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے بھی دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان (ستر ہزار) میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔ اس نے عرض کیا : پھر ان کے بارے میں کچھ ہمیں بتائیں ؟ (صحابہ کہتے ہیں) ہم نے کہا : تمہارے خیال میں، وہ ستر ہزار کون ہیں ؟ کیا وہ ہیں ؟ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مرتے دم تک شرک نہیں کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کرائیں گے اور نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کرائیں گے اور نہ بدشگونی کریں گے اور اپنے رب پر توکل کریں گے۔‘‘

اسے امام احمد، بزار، طبرانی، حاکم اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : اس حدیث کی اِسناد صحیح ہے۔

257 / 10. عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِيْدِ، أَوْ قَالَ : بِقُدَيْدٍ، فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأْذِنُوْنَ إِلَی أَهْلِيْهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ. فَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَحَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يَکُوْنُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِ الْآخَرِ، فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ هَذَا، لَسَفِيْهٌ، فَحَمِدَ اﷲَ، وَقَالَ حِيْنَئِذٍ : أَشْهَدُ عِنْدَ اﷲِ لَا يَمُوْتُ عَبْدٌ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اﷲِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِکَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ : وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّوًَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإنِّي لَأَرْجُوْ أَنْ لاَّ يَدْخُلُوْهَا حَتَّی تَبَوَّؤُوْا أَنْتُمْ، وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِکُمْ وَأَزْوَاجِکُمْ وَذُرِّيَاتِکُمْ مَسَاکِنَ فِي الْجَنَّةِ. وَقَالَ : إِذَا مَضَی نِصْفُ اللَّيْلِ، أَوْ قَالَ : ثُلُثَا اللَّيْلِ يَنْزِلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُوْلُ : لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي، مَنْ ذَا يَسْتَغْفِرُنِي؟ فَأَغْفِرَ لَهُ، مَنِ الَّذِي يَدْعُوْنِي؟ أَسْتَجِيْبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي؟ أُعْطِيَهِ حَتَّی يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالطَّيَالِسِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

10 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 16، الرقم : 16215، والطبراني في المعجم الکبير، 5 / 51، الرقم : 4558، والطيالسي في المسند، 1 / 182، الرقم : 1291، وأبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء، 6 / 286، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 20، وقال : رجاله موثقون، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، وقال : قال الضياء : هذا عندي علی شرط مسلم.

’’حضرت رِفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم (کسی سفر میں) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے تو ہم کدید یا قدید کے مقام پر تھے کہ لوگ اپنے اہل وعیال کے پاس جانے کے لئے اجازت طلب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے رسول کے ساتھ ملے ہوئے (ایمان کے) درخت کا کنارہ انہیں دوسرے (کفر ونفاق کے) کنارے سے زیادہ مبغوض ہے۔ (راوی فرماتے ہیں : ) اس بات پر ہم نے ہر ایک کو آنسو بہاتے دیکھا. اس پر ایک شخص نے عرض کیا : اب اس کے بعد جو بھی آپ سے اجازت طلب کرے گا وہ بیوقوف وجاہل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد کے بعد اسی وقت فرمایا : میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں جو بندہ اس حال میں مرے گا کہ صدقِ دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں پھر رہِ حق کی طرف رہنمائی کرے تو اسے جنت کی راہ پر چلایا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مزید) فرمایا : میرے رب عزوجل نے مجھ سے میری امت کے 70 ہزار افراد کو بغير حساب و عذاب کے جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے نیک ماں باپ، تمہاری نیک بیویاں اور تمہاری نیک اولاد جنت میں اپنے گھروں میں آباد نہ ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نصف یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول کر کے فرماتا ہے : میں اپنے بندوں میں سے کسی سے بھی اپنے سوا سوال نہیں کرتا، کون ہے مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میںاسے بخش دوں، کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں، یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔‘‘

اسے امام احمد، طبرانی، ابو داؤد طیالسی اور ابن کثیر نے روایت کیا ہے۔ اس کی اِسناد صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں.

258 / 11. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ عُکَّاشَةُ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ : أَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، فَسَکَتَ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَوْ قُلْنَا يَارَسُوْلَ اﷲِ! أُدْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ : سَبَقَکُمْ بِهَا عُکَّاشَةُ وَصَاحِبُه، أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ قُلْتُمْ، لَقُلْتُ، وَلَوْ قُلْتُ لَوَجَبَتْ. رَوَاهُ الْهَيْثَمِيُّ.

11 : أخرجه الهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 407، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 412.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے 70 ہزار امتی بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ عکاشہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ! تو اسے ان میں شامل فرما لے، سارے لوگ خاموش ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا : کاش ہم بھی عرض کرتے یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بھی ان میں شامل فرما لے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اور اس کا ساتھی اس پر تم سے پہل لے گیا ہے۔ ہاں اگر تم مجھ سے کہتے اور میں (ہاں) کر دیتا تو (پھر بغير حساب کے تمہارا جنت میں داخل ہونا) لازمی ہو جاتا۔‘‘

259 / 12. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّه قَالَ : سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِيْنَ لَا يَکْتَوُوْنَ، وَلَا يَکْوُوْنَ، وَلَا يَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ. رَوَاهُ الْهَيْثَمِيُّ.

12 : أخرجه الهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 408.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے 70 ہزار امتی بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کرائیں گے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کرائیں گے، نہ بد شگونی لیں گے اور اپنے رب پر توکل کریں گے۔‘‘

260 / 13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، کُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ عَلَی أَشَدِّ ضَوْءِ کَوْکَبٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنَازِلُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ رَاهَوَيْهِ وَابْنُ الْمُبَارَک.

13 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 504، الرقم : 10548، وابن راهويه في المسند، 1 / 310، الرقم : 291، وابن المبارک في الزهد، 1 / 549، الرقم : 1574، والهناد في الزهد، 1 / 71، الرقم : 56.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم سب سے آخر پر آئے ہیں قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ میری امت میں سب سے پہلے ستر ہزار افراد کا گروہ جنت میں داخل ہو گا جن کا کوئی حساب نہ ہوگا اور ان میں سے ہر شخص کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ پھران سے متصل جنت میں داخل ہونے والوں کے چہرے آسمان کے روشن ترین ستارے کی طرح ہوں گے پھر اسی طرح ان کے بعد دیگر منازل و مراتب ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد، ابنِ راہویہ اور عبد اﷲ بن مبارک نے روایت کیا ہے۔

261 / 14. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّوًَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُّدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا عَلَی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ، فَاسْتَزَدْتُ فَزَادَنِي مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا. فَقُلْتُ : أَيْ رَبِّ! إِنْ لَمْ يَکُنْ هٰؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي؟ قَالَ : إِذَنْ أُکْمِلُهُمْ لَکَ مِنَ الْأَعْرَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ منده. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

14 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 359، الرقم : 8707، وابن منده في الإيمان، 2 / 895، الرقم : 976، هذا إسناد صحیح علی رسم مسلم، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 404، وقال : رجاله رجال الصحيح، وأورده العسقلاني في فتح الباري، 11 / 410، وقال : سنده جيد.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا تو اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت سے ستر ہزار افراد جنت میں داخل فرمائے گا جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ میں نے زیادہ چاہا تو اس نے ہر ہزار کے ساتھ مزید 70 ہزار اضافہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا : اے میرے رب! اگر وہ میری امت کے مہاجر (گناہوں کو ترک کرنے والوں سے پورے) نہ ہوئے؟ اس نے فرمایا : تب میں ان کو تیرے لئے گنواروں سے مکمل کروں گا۔‘‘

اسے امام احمد اور ابنِ مندہ نے روایت کیا ہے۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔

262 / 15. عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضی اﷲ عنه قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمًا، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيْهَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : إِنَّ رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَا ذَا أَفْعَلُ بِهِمْ؟ فَقُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ! هُمْ خَلْقُکَ وَعِبَادُکَ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ کَذٰلِکَ، فَقَالَ : لَا أُحْزِنُکَ فِي أُمَّتِکَ يَا مُحَمَّدُ! وَبَشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ... الحديث.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَالْهَيْثَمِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

15 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 393، الرقم : 23336، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2 / 122، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 68.

’’حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہماری نظروں سے اوجھل رہے، آپ تشریف نہ لائے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ آج حجرہ مبارک سے باہر نہ نکلیں گے۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو اتنا طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ وصال فرما گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرِ انور اٹھا کر ارشاد فرمایا : میرے رب تبارک و تعالیٰ نے مجھ سے میری امت کے بارے مشورہ طلب کیا کہ میں ان سے کیا معاملہ کروں؟ تو میں نے عرض کیا : میرے رب! جیسا تو چاہے، وہ تیری مخلوق اور تیرے بندے ہیں. اس نے دوبارہ مجھ سے مشورہ طلب کیا تو میں نے اسی طرح عرض کیا۔ پس اس نے فرمایا : یامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں تجھے تیری امت کے بارے غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ میرے ستر ہزار امتی جن میں سے ہر ہزار کے ساتھ 70 ہزار ہوں گے بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل، ابنِ کثیر اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس کی اِسناد حسن ہے۔

263 / 16. قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ : مَرِضَ ثَوْبَانُ رضی اﷲ عنه بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ اﷲِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ، فَدَخَلَ عَلَی ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْکَلَاعِيِّيْنَ عَائِدًا. فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ : أَتَکْتُبُ؟ فَقَالَ : نَعَمْ، فَقَالَ : اکْتُبْ، فَکَتَبَ لِلْأَمِيْنِ عَبْدِ اﷲِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّهُ لَوْ کَانَ لِمُوْسَی وَعِيْسَی مَوْلًی بِحَضْرَتِکَ لَعُدْتَهُ، ثُمَّ طَوَی الْکِتَابَ، وَقَالَ لَهُ : أَتُبَلِّغُهُ يَاهُ؟ فَقَالَ : نَعَمْ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِکِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَی ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا. فَقَالَ النَّاسُ : مَا شَأْنُهُ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتَی ثَوْبَانَ حَتَّی دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ، وَقَالَ : اجْلِسْ حَتَّی أُحَدِّثَکَ حَدِيْثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَالْهَيْثَمِيُّ، وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : وَإِسْنَادُ رِجَالِهِ کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ شَامِيُّوْنَ حِمْصِيُّوْنَ، فَهُوَ حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

16 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 280، الرقم : 22471، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 407.

امام شریح رحمۃ اللہ علیہ بن عبید بیان کرتے ہیں : حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ حمص میں بیمار ہوئے اس وقت وہاں کا گورنر عبداﷲ بن قُرط تھا تو وہ آپ کی عیادت کے لئے نہ آیا، کلاعیین میں سے ایک شخص نے آپ کی عیادت کی تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کیا تمہیں لکھنا آتا ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں! لکھوائیے، اس نے لکھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان کی طرف سے گورنر عبد اﷲ بن قرط کے نام، اَمّا بَعْد : اگر حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کا کوئی آزاد کردہ غلام تیرے پاس موجود ہوتا تو (تعظیم کرتے ہوئے) تُو اس کی عیادت کو جاتا (لیکن ہمیں بھولا ہوا ہے جبکہ اغیار کا تجھے اتنا خیال ہے)، پھر اس نے خط کو لپیٹ دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کیا تم یہ پیغام اسے پہنچاؤ گے؟ اس نے کہا : جی ہاں! وہ شخص خط لے کر چلا گیا اور اس نے اسے ابنِ قرط کے حوالے کر دیا، جب اس نے یہ خط پڑھا تو ڈر کے مارے کھڑا ہو گیا۔ لوگوں نے کہا : اسے کیا ہو گیا ہے کیا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟ وہ فوراً عیادت کے لئے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا پھر اٹھ کر واپس آنے لگا تو حضرت ثوبان نے اسے چادر سے پکڑ کر فرمایا : یہاں بیٹھ جاؤ میں تمہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ سناتا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میرے ستر ہزار امتی بغير حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد، ابن کثیر اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے کہا ہے : اس حدیث کی اِسناد کے تمام رجال شامی حمصی ثقہ ہیں، لہذا یہ حديث صحيح ہے۔

264 / 17. عَنْ ثَوْبَانَ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنَّ رَبِّي عَزَّوًَجَلَّ وَعَدَنِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُوْنَ، مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

17 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 2 / 92، الرقم : 1413، وأيضاً في مسند الشاميين، 2 / 439، الرقم : 1657، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 407، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار افراد سے حساب نہیں ليا جائے گا نیز ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید 70 ہزار ہوں گے (جن سے حساب نہیں ليا جائے گا)۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

265 / 18. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَابْنُ کَثِيْرٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

18 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق والورع، باب : في الشفاعة، 4 / 626، الرقم : 2437، وابن ماجة في السنن، کتاب : الزهد، باب : صفة محمد صلی الله عليه وآله وسلم، 2 / 1433، الرقم : 4286، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 268، الرقم : 22303، إسناده حسن، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 315، الرقم : 31714، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 260، 261، الرقم : 588، 589، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 6 / 646، الرقم : 9233، سنده صحيح.

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار افراد کو بغير حساب و عذاب کے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ 70 ہزار کو داخل کرے گا نیز اللہ تعالیٰ اپنے چلوؤں میں سے تین چلو (اپنی حسب شان جہنمیوں سے بھر کر) بھی جنت میں ڈالے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابنِ ماجہ، احمد، ابنِ ابی شیبہ، ابنِ ابی عاصم اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن ہے۔

266 / 19. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ عَزَّوًَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِيْنَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ يَزِيْدُ بْنُ الْأَخْنَ السُّلَمِيُّ : وَاﷲِ! مَا أُوْلٰئِکَ فِي أُمَّتِکَ إِلَّا کَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : کَانَ رَبِّي عزوجل قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا، وَزَادَنِي ثلَاثَ حَثَيَاتٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَابْنُ کَثِيْرٍ. إِسْنَادُهُ قَوِيٌّ، رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

19 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 250، الرقم : 22156، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 159، الرقم : 7276، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 261، الرقم : 588، وقال الألباني : إسناده صحيح ورجاله کلهم ثقات، وأيضاً في الآحاد والمثاني، 2 / 445، الرقم : 1247، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 225، الرقم : 5473، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، وقال : هذا إسناد حسن، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 6 / 646، الرقم : 9233، سنده صحيح.

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار افراد کو بغير حساب وعذاب کے جنت میں داخل فرمائے گا۔ یزید بن اخن سلمی نے عرض کیا : اللہ رب العزت کی قسم! یہ تو آپ کی امت میں شہد کی مکھیوں میں سے (ایک قسم) سفید سرخی مائل مکھیوں کی تعداد تک ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے رب عزوجل نے مجھ سے 70 ہزار میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید 70 ہزار کو داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے (یعنی ان ہزار خوش بختوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھ معیت اختیار کرنے والوں میں سے 70 افراد کو لے کر جنت میں جائے گا) اور میرے لئے اس نے مزید تین چلوؤں کا اضافہ فرمایا ہے (اپنی حسبِ شان تین چلّو میری امت کے جہنمیوں کے نکال کر جنت میں داخل کرے گا)۔‘‘

اسے امام احمد، طبرانی، ابنِ ابی عاصم اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ اس کی اِسناد قوی ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں.

267 / 20. عَنْ عُتْبَةَ بنِ عَبْدِ السُّلَّمِيِّ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِيْنَ أَلْفًا بِغَيْرٍ حِسَابٍ ثُمَّ يُتْبِعُ کُلَّ أَلْفٍ بِسَبْعِيْنَ أَلْفًا (وَفِي رِوَيَةِ الطَّبَرَانِي قَالَ : ثُمَّ يَشْفَعُ کُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِيْنَ أَلْفاً)، ثُمَّ يَحْثِي بِکَفِّهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، فَکَبَّرَ عُمَرُ. فَقَالَ : إِنَّ السَّبْعِيْنَ أَلْفًا الْأُوَلَ يُشَفِّعُهُمُ اﷲُ فِي آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ، وَأَرْجُوْ أَنْ يَجْعَلَ أُمَّتِي أَدْنَی الْحَثَوَاتِ الْأَوَاخِرِ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ، وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : قَالَ الْحَافِظُ الضِّيَاء أَبُوعَبْدِ اﷲِ الْمَقْدَسِيُّ فِي کِتَابِهِ ’صفة الجنة‘ : لَا أَعْلَمُ لِهَذَا الْإِسْنَادِ عِلّة.

20 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 16 / 232، الرقم : 7247، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 127، الرقم : 312، وأيضاً في الأوسط، 1 / 127، الرقم : 402، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 409، 414.

’’حضرت عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے رب نے مجھ سے میری امت کے 70 ہزار افراد کو بغير حساب و عذاب کے جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر ہر ہزار کے ساتھ مزید 70 ہزار کو داخل فرمائے گا (طبرانی کی روایت کے الفاظ ہیں : پھر ہر ہزار ستر ہزار کی شفاعت کرے گا)، پھر اپنی ہتھیلی سے تین لپ مزید ڈالے گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا : ان کے پہلے ستر ہزار افراد کی شفاعت کو اللہ تعالیٰ ان کے آباء و اجداد، امہات اور قبائل کے حق میں قبول فرمائے گا اور مجھے امید ہے کہ میری امت کو دوسری ہتھیلیوں سے قریب ترین رکھے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ حبان، طبرانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ امام ابنِ کثیر نے کہا ہے کہ حافظ ضیاء الدین ابو عبد اﷲ المقدسی نے اپنی کتاب ’صفۃ الجنۃ‘ میں لکھا ہے : میں اس اِسناد پر کوئی علت نہیں جانتا۔

268 / 21. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : سَأَلْتُ (أي اﷲَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی) الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، فَقَالَ : لَکَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ. قُلْتُ : زِدْنِي، قَالَ : لَکَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا، قُلْتُ : زِدْنِي، قَالَ : فَإِنَّ لَکَ هَکَذَا وَهَکَذَا، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : حَسْبُنَا، فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَکْرِ، دَعْ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : يَا عُمَرُ، إِنَّمَا نَحْنُ حَفْنَةٌ مِنْ حَفَنَاتِ اﷲِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْهَنَّادُ وَالدَّيْلَمِيُّ.

21 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 318، الرقم : 31739، والهناد بن السري في الزهد، 1 / 135، الرقم : 178، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 311، الرقم : 3407.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اﷲ تبارک وتعالیٰ سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا تو اس نے فرمایا : آپ کی خاطر (آپ کی امت میں سے) ستر ہزار بغير حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے عرض کیا : میرے لیے اضافہ فرمائیں، فرمایا : آپ کی خاطر ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار داخل ہوں گے، میں نے عرض کیا : میرے لیے مزید اضافہ فرمائیں، فرمایا : پس آپ کی خاطر اتنے اتنے اور بھی (بغير حساب چلو بھر کر جنت میں داخل کروں گا). حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ہمارے لیے اتنا کافی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو بکر! رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا : عمر! (تمہیں معلوم تو ہے کہ) ہم سارے اﷲ تعالیٰ کے چلوؤں میں سے ایک چلو ہیں (وہ چاہے تو ہتھیلی کی ایک لَپ سے ہم سب کو جنت میں داخل کر دے)۔‘‘

269 / 22. عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِيْقِ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُعْطِيْتُ سَبْعِيْنَ أَلْفًا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وُجُوْهُهُمْ کَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوْبُهُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي عَزَّوًَجَلَّ، فَزَادَنِي مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا. قَالَ أَبُوبَکْرٍ : فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَالِکَ آتٍ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی وَمُصِيْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِيْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلَی وَابْنُ کَثِيْرٍ.

22 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 6، الرقم : 22، وأبو يعلی في المسند، 1 / 104، الرقم : 112، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 410.

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ستر ہزار افراد ایسے عطا کیے گئے جو بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک شخص کے دل کے مطابق ہوں گے۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے زیادہ چاہا تو اس نے (اپنے ان مقربانِ خاص کی سنگت اختیار کرنے والوں کا خیال رکھتے ہوئے ان میں سے) ہر ایک کے ساتھ مزید 70 ہزار کا میرے لئے اضافہ فرمایا. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ یہ مقام دیہات کے رہنے والوں کو حاصل ہوگا اور ننگے پاؤں چلنے والے صحرائی باشندوں کو پہنچے گا۔‘‘

اسے امام احمد، ابو یعلی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

270 / 23. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ. فَقَالَ عُمَرُ : يَارَسُوْلَ اﷲِ، فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ : قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ کُلِّ رَجُلٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا، قَالَ عُمَرُ : فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ : قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَکَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

23 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 197، الرقم : 1706، والبزار في المسند، 6 / 234، الرقم : 2268، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 393، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 410.

’’حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پروردگار عزوجل نے مجھے ایسے 70 ہزار امتی عطا فرمائے ہیں جو بغير حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! کیا آپ نے اس سے زیادہ نہیں چاہا؟ فرمایا : میں نے اس سے زیادہ چاہا تو اس نے مجھے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار عطا فرمائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا : کیا آپ نے اس سے زیادہ نہیں چاہا؟ فرمایا : میں نے اس سے زیادہ چاہا تو اس نے مجھے اتنا اور عطا فرمایا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں سے لَپ بھر کر ڈالی)۔‘‘

اسے امام احمد، بزار اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

271 / 24. عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم إِنَّهُ تُغِيْبُ عَنْهُمْ ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَّا لِصَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ، فَقِيْلَ لَهُ فِي ذَالِکَ، قَالَ : إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي فِي هَذِهِ الثَلَا ثَةِ الْأَيَامِ، الْمَزِيْدَ، فَوَجَدْتُ رَبِّي وَاجِدًا، مَاجِدًا، کَرِيْمًا. فَأَعْطَانِي مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِيْنَ أَلْفًا، سَبْعِيْنَ أَلْفًا، قَالَ قُلْتُ : يَا رَبِّ! وَتَبْلُغُ أُمَّتِي هَذَا؟ قَالَ : أُکْمِلُ لَکَ الْعَدَدَ مِنَ الْأَعْرَابِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ.

24 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 1 / 252، الرقم : 268.

’’حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے پاس تین دن تک صرف فرض نمازوں کے علاوہ تشریف فرما نہ ہوئے تو آپ سے اس بارے میں عرض کیا گیا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پروردگار عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے 70 ہزار امتی بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے ان تین دنوں میں اپنے رب سے مزید کا سوال کیا تو میں نے اسے عطا فرمانے والا، عظمت و بزرگی والا اور بہت کرم کرنے والا پایا۔ پس اس نے مجھے اس ستر ہزار کے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار عطا فرمائے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے میرے پروردگار! کیا میری امت اس عدد تک پہنچ جائے گی؟ اس نے فرمایا : میں تیری خاطر اس عدد کو گنواروں سے پورا کروں گا۔‘‘

اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

272 / 25. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ اُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا. قَالُوْا : زِدْنَا يَارَسُوْلَ اﷲِ! قَالَ : لِکُلِّ رَجُلٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا. قَالُوْا : زِدْنَا يَارَسُوْلَ اﷲِ! وَکَانَ عَلٰی کَثِيْبٍ، فَحَثَا بِيَدِهِ، قَالُوْا : زِدْنَا يَارَسُوْلَ اﷲِ! فَقَالَ : هٰذَا وَحَثَا بِيَدِه، قَالُوْا : يَا نَبِيَّ اﷲِ! أَبْعَدَ اﷲُ مَنْ دَخَلَ النًّارَ بَعْدَ هَذَا. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلَی وَالْمَقْدَسِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

25 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 6 / 417، الرقم : 3783، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 6 / 54، الرقم : 2028، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 404، وقال : إسناده حسن، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395، وقال : هذا إسناد جید ورجاله کلهم ثقات، ما عدا عبد القاهر بن السري، وقد سُئل عنه ابن معین، فقال : صالح.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار افراد بغير حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر شخص کے ساتھ مزید 70 ہزار افراد ہوں گے۔ انہوں نے (دوبارہ) عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ریت کے ٹیلہ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لپ بھری (اور اضافہ فرما دیا)۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لو اور اپنے ہاتھوں سے پھر لپ بھری۔ انہوں نے عرض کیا : یا نبی اللہ! اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنی رحمت سے دور فرمائے جو اس کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو۔‘‘

اسے امام ابو یعلی، مقدسی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ اس کی اسناد حسن ہے۔

273 / 26. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّوَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ مِائَةَ أَلْفٍ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ زِدْنَا، قَالَ لَهُ : وَهَکَذَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ زِدْنَا، فَقَالَ : وَهَکَذَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اﷲِ زِدْنَا، فَقَالَ : وَهَکَذَا، فَقَالَ عُمَرُ : قَطْکَ يَا أَبَا بَکْرٍ، قَالَ : مَا لَنَا وَلَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ قَادِرٌ أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ کُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : صَدَقَ عُمَرُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

26 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 193، الرقم : 13030، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 364، الرقم : 8884، وأبو نعيم الأصبهانی في حلية الأولياء، 2 / 344، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 383، الرقم : 7115، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ایک لاکھ امتیوں کو بغیرحساب کے جنت میں داخل فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ! ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اتنا اور، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لو اتنا اور، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا. حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا : حضور کچھ اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اچھا اور لے لو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا : ابو بکر! بس کیجئے، انہوں نے کہا کہ اے ابن خطاب تجھے اور ہمیں اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک ہاتھ سے تمام انسانوں کو جنت میں داخل فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر نے سچ کہا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد، طبرانی، ابو نعیم اصبہانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

274 / 27. عَنْ عُمَيْرٍ رضی اﷲ عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ تَعَالَی وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي ثَلَاثَ مِائَةِ أَلْفٍ الْجَنَّةَ. فَقَالَ عُمَيْرُ : يَا نَبِيَّ اﷲِ! زِدْنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ : حَسْبُکَ يَا عُمَيْرُ، فَقَالَ عُمَيْرُ : مَا لَنَا وَلَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَمَا عَلَيْکَ أَنْ يُّدْخِلَنَا اﷲُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اﷲَ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ أَوْ بِحَثْيَةٍ وَاحِدَةٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : صَدَقَ عُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

27 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 17 / 64، الرقم : 123، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 396، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 405، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 4 / 729، الرقم : 6065.

’’حضرت عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھ سے میرے 3 لاکھ امتیوں کو بغير حساب وعذاب کے جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عمیر! بس کیجئے، تو عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابنِ خطاب! ہمیں اور آپ کو کیا ہے، اور آپ کا کیا حرج ہے اگر اللہ تعالیٰ ہم (سب کو بلا حساب) جنت میں داخل فرما دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : یقینا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنی مخلوق کو ایک ہی چلو سے یا ایک ہی لپ سے جنت میں داخل فرما دے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر نے سچ کہا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

275 / 28. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ عزوجل وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ أَبُوْ بَکرٍْ : زِدْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ! قَالَ : وَهٰکَذَا، وَجَمَعَ کَفَّه، قَالَ : زِدْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ! قَالَ : وَهٰکَذَا، فَقَالَ عُمَرُ : حَسْبُکَ يَا أَبَا بَکْرٍ! فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : دَعْنِي يَا عُمَرُ! مَا عَلَيْکَ أَنْ يُّدْخِلَنَا اﷲُ عَزَّوًَجَلَّ الْجَنَّةَ کُلَّنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اﷲَ عزوجل إِنْ شَائَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِکَفٍّ وَاحِدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : صَدَقَ عُمَرُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَمَعْمَرٌ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ وَابْنُ کَثِيْرٍ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

28 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 165، الرقم : 12695، ومعمر بن راشد في الجامع، 11 / 286، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 359، الرقم : 3400، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 7 / 255، الرقم : 2703، 2704، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 404، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 395.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا اللہ عزوجل نے مجھ سے میری امت کے 4 لاکھ افراد کو (بغير حساب و عذاب کے) جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اضافہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس طرح بھی ہے اور آپ نے اپنی ہتھیلی کو اکٹھا کیا (اور لپ ڈال دی)۔ انہوں نے (دوبارہ) عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اور اضافہ فرمائیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور اس طرح بھی ہے (پہلی طرح ہی کیا)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو بکر! بس کیجئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : عمر! مجھے چھوڑ دو، آپ کو کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو (بلا حساب) جنت میں داخل فرما دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنی مخلوق کو ایک ہی لپ سے جنت میں داخل فرما دے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر نے سچ کہا۔‘‘

اسے امام احمد، معمر بن راشد، طبرانی اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس کی اسناد حسن ہے۔

276 / 29. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْحُبْرَانِيِّ الْأَنمَارِيِّ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ رَبِّي عَزَّوَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَيُشَفِّعُ لِکُلِّ أَلْفٍ سَبْعِيْنَ أَلْفًا، ثُمَّ يَحْثُو إِلَيَّ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِکَفِّهِ. قَالَ قَيْسٌ : قال : فَأَخَذْتُ بِتَلَابِيْبَ أَبِي سَعِيْدٍ فَجَذَبْتُهُ جَذْبَةً فَقُلْتُ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَ : نَعَمْ بِأُذُنِي وَوَعَاهُ قَلْبِي. قَالَ أَبُوْ سَعِيْدٍ : فَحَسَبَ ذَالِکَ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَبَلَغَ أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفِ أَلْفٍ وَتِسْعَ مِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ ذَلِکَ يَسْتَوْعِبُ إِنْ شَاءَ اﷲُ مُهَاجِرِي أُمَّتِي، وَيُوَفِّيْنَا اﷲُ مِنْ أَعْرَابِنَا.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

29 : أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد والمثانی، 5 / 298، الرقم : 2825، وأيضاً في السنة، 2 / 385، الرقم : 813، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 396، والعسقلاني في الإصابة في تمييز الصحابة، 7 / 177، الرقم : 10017، سنده صحيح، وکلهم من رجال الصحيح إلا قيس بن حجر وهو شامي ثقة.

’’حضرت ابو سعید حبرانی اَنماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میرے رب عزوجل نے مجھ سے میری امت کے 70 ہزار افراد کو بغير حساب کے جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، اور ہر ہزار 70 ہزار کی شفاعت کرے گا، پھر وہ میری خاطر اپنی ہتھیلی سے تین چُلّو بھی (جنت میں) ڈالے گا۔ قیس فرماتے ہیں : میں نے ابو سعید کو گریبان سے پکڑ کر کھینچتے (ہوئے کہا :) کیا تم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں اپنے کانوں سے سنا اور مجھے یاد بھی ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے شمار کیا تو چالیس کروڑ اور نو لاکھ تک تعداد پہنچ گئی۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک یہ عدد اِن شاء اللہ میری امت کے مہاجروں کو گھیر لے گا اور اللہ تعالیٰ یہ گنتی ہمارے کچھ دیہاتیوں سے بھی پوری فرمائے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ابی عاصم اور ابنِ کثیر نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved