Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 3 :فرشتوں کا اہل ذکر کی راہوں میں چکر لگانے کا بیان

فَصْلٌ فِي طَوَافِ الْمَلَائِکَةِ فِي طُرُقِ أَھْلِ الذِّکْرِ

{فرشتوں کا اہلِ ذکر کی راہوں میں چکر لگانے کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِکَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَo

(حم السجدۃ، 41 : 30)

’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھاo‘‘

2۔ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِھِنَّ وَالْمَلٰٓئِکَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِھِّمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ اللهَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُo

(الشوری، 42 : 5)

’’قریب ہے آسمانی کرّے اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو، اللہ ہی بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo‘‘

3۔ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ج مِّنْ کُلِّ اَمْرٍo

(القدر، 97 : 4)

’’اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنَّ ِللهِ مَـلَائِکَةً یَطُوْفُوْنَ فِي الطُّرُقِ، یَلْتَمِسُوْنَ أَھْلَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا قَوْمًا یَذْکُرُوْنَ اللهَ تَنَادَوْا : ھَلُمُّوْا إِلَی حَاجَتِکُمْ۔ قَالَ : فَیَحُفُّوْنَھُمْ بِأَجْنِحَتِھِمْ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا، قَالَ : فَیَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ، وَھُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ : مَا یَقُوْلُ عِبَادِي؟ قَالَ : تَقُوْلُ : یُسَبِّحُوْنَکَ وَیُکَبِّرُوْنَکَ وَیَحْمَدُوْنَکَ وَیُمَجِّدُوْنَکَ قَالَ : فَیَقُوْلُ : ھَلْ رَأَوْنِي؟ قَالَ : فَیَقُوْلُوْنَ۔ لَا وَاللهِ، مَا رَأَوْکَ۔ قَالَ : فَیَقُوْلُ : وَکَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : لَوْ رَأَوْکَ کَانُوْا أَشَدَّ لَکَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَکَ تَمْجِيْدًا وَأَکْثَرَ لَکَ تَسْبِيْحًا، قَالَ : یَقُوْلُ : فَمَا یَسْأَلُوْنَنِي؟ قَالَ : یَسْأَلُوْنَکَ الْجَنَّةَ، قَالَ : یَقُوْلُ : وَھَلْ رَأَوْھَا؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : لَا، وَاللهِ، یَا رَبِّ، مَا رَأَوْھَا، قَالَ : یَقُوْلُ : فَکَيْفَ لَوْ أَنَّھُمْ رَأَوْھَا؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : لَوْ أَنَّھُمْ رَأَوْھَا کَانُوْا أَشَدَّ عَلَيْھَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَھَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيْھَا رَغْبَةً، قَالَ : فَمِمَّ یَتَعَوَّذُوْنَ؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : مِنَ النَّارِ، قَالَ : یَقُوْلُ : وَھَلْ رَأَوْھَا؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : لَا وَاللهِ، یَا رَبِّ، مَا رَأَوْھَا، قَالَ : یَقُوْلُ : فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْھَا؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : لَوْ رَأَوْھَا کَانُوْا أَشَدَّ مِنْھَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَھَا مَخَافَةً قَالَ : فَیَقُوْلُ : فَأُشْھِدُکُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ، قَالَ : یَقُوْلُ مَلَکٌ مِنَ الْمَـلَائِکَةِ : فِيْھِمْ فُـلَانٌ، لَيْسَ مِنْھُمْ، إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ : ھُمُ الْجُلَسَاءُ، لَا یَشْقَی بِھِمْ جَلِيْسُھُمْ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : فضل ذکر الله عزوجل، 5 / 2353، الرقم : 6045، وابن حبان في الصحیح، 3 / 139، الرقم : 857، والبیهقي في شعب الإیمان، 1 / 399، الرقم : 531، وابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1 / 345۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ ایسے لوگوں کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو نداء دیتے ہیں کہ ادھر اپنی حاجت کی طرف دوڑ آئو۔ ارشاد فرمایا : پھر وہ آسمانِ دنیا تک ان پر اپنے پروں سے سایہ فگن ہو جاتے ہیں۔ پھر (جب وہ واپس اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں تو) ان سے ان کا رب پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، کہ میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تیری پاکیزگی، بڑائی، تعریف اور بزرگی بیان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں : اللہ رب العزت کی قسم! تجھے تو انہوں نے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری بہت زیادہ عبادت کریں، تیری بہت زیادہ بزرگی بیان کریں اور تیری بہت زیادہ تسبیح کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے رب! اللہ کی قسم، انہوں نے اسے دیکھا تو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر اسے دیکھ لیں تو کیا حال ہو گا؟ وہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو اس کی بہت زیادہ حرص، بہت زیادہ طلب اور بہت زیادہ رغبت رکھنے والے ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں : دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے دوزخ کو دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں : اللہ کی قسم! اسے دیکھا تو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر اسے دیکھ لیں تو کیا حال ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں : اگر اسے دیکھ لیں تو ان کا اس سے بھاگنا اور ڈرنا بہت زیادہ بڑھ جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : گواہ رہنا میں نے انہیں بخش دیا۔ ایک فرشتہ عرض کرتا ہے : ان میں فلاں شخص ایسا بھی تھا جو (ذکر کے لیے نہیں بلکہ) اپنی حاجت کے لیے آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ (یعنی میرے اولیاء اللہ) ایسے ہم نشیں ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا کبھی بدبخت و محروم نہیں ہوتا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : إِنَّ ِللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مَـلَائِکَةً، سَيَّارَةً فُضُلًا، یَتَتَبَّعُوْنَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا مَجْلِسًا فِيْهِ ذِکْرٌ، قَعَدُوْا مَعَھُمْ، وَحَفَّ بَعْضُھُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِھِمْ، حَتَّی یَمْلَؤُوْا مَا بَيْنَھُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْیَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوْا وَصَعِدُوْا إِلَی السَّمَاءِ۔ قَالَ : فَیَسْأَلُھُمُ اللهُ عزوجل ۔ وَھُوَ أَعْلَمُ بِھِمْ : مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَکَ فِي الْأَرْضِ، یُسَبِّحُوْنَکَ وَیُکَبِّرُوْنَکَ، وَیُھَلِّلُوْنَکَ وَیَحْمَدُوْنَکَ وَیَسْأَلُوْنَکَ، قَالَ : وَمَاذَا یَسْأَلُوْنِي؟ قَالُوْا : یَسْأَلُوْنَکَ جَنَّتَکَ۔ قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوْا : لَا أَيْ رَبِّ، قَالَ : فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوْا : وَیَسْتَجِيْرُوْنَکَ۔ قَالَ : وَمِمَّ یَسْتَجِيْرُوْنَنِي؟ قَالُوْا : مِنْ نَارِکَ یَا رَبِّ۔ قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوْا : لَا۔ قَالَ : فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوْا : وَیَسْتَغْفِرُوْنَکَ۔ قَالَ : فَیَقُوْلُ : قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ، أَعْطَيْتُھُمْ مَا سَأَلُوْا، وَأَجَرْتُھُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوْا۔ قَالَ : فَیَقُوْلُوْنَ : رَبِّ، فِيْھِمْ فُـلَانٌ، عَبْدٌ خَطَّاءٌ، إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَھُمْ، قَالَ : فَیَقُوْلُ : وَلَهُ غَفَرْتُ، ھُمُ الْقَوْمُ، لَا یَشْقَی بِھِمْ جَلِيْسُھُمْ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ۔

2 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب : فضل مجالس الذکر، 4 / 2069، الرقم : 2689، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 252، الرقم : 7420، 2 / 382، الرقم : 8960۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ گشت کرنے والے فرشتے ہیں جو ذکر کی مجالس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، جب وہ ذکر کی کوئی مجلس دیکھتے ہیں تو ان (ذاکرین) کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے بعض فرشتے دوسرے فرشتوں کو (اوپر تلے) ڈھانپ لیتے ہیں، حتی کہ زمین سے لے کر آسمانِ دنیا تک کی جگہ (ان کے نورانی وجود سے) بھر جاتی ہے، جب ذاکرین مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو یہ فرشتے آسمان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں، پھر اللہ عزوجل ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ اسے ان سے زیادہ علم ہوتا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین پر تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں، جو سبحان اللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ اور الحمد لله کہہ رہے تھے اور تجھ سے سوال کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ مجھ سے کیا سوال کر رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں اے ہمارے رب۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے تو ان کا کیا عالم ہوتا؟ (پھر) فرشتے عرض کرتے ہیں : اور وہ تجھ سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اے رب! تیری دوزخ سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری دوزخ کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ میری دوزخ کو دیکھ لیتے تو پھر کس قدر پناہ مانگتے؟ (پھر) فرشتے عرض کرتے ہیں : اور وہ تجھ سے استغفار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے انہیں بخش دیا اور جو کچھ انہوں نے مانگا وہ میں نے انہیں عطا کر دیا اور جس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی اس سے میں نے انہیں پناہ دے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : فرشتے عرض کرتے ہیں : اے رب! ان میں فلاں خطا کار بندہ بھی تھا، وہ اس مجلس کے پاس سے گزرا اور ان کے ساتھ آ کے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اسے بھی بخش دیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی بدبخت و محروم نہیں رہتا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : یَتَعَاقَبُوْنَ فِيْکُمْ مَـلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَـلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ، وَیَجْتَمِعُوْنَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَاتُوْا فِيْکُمْ، فَیَسْأَلُهُمْ۔ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي؟ فَیَقُوْلُوْنَ : تَرَکْنَاهُمْ، وَهُمْ یُصَلُّوْنَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ یُصَلُّوْنَ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَمَالِکٌ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : التوحید، باب : کلام الرب مع جبریل ونداء الله الملائکۃ، 6 / 2721، الرقم : 7048، والنسائي في السنن الکبری، 1 / 175، الرقم : 459، ومالک في الموطأ، کتاب : النداء للصلاۃ، باب : العمل في جامع الصلاۃ، 1 / 170، الرقم : 411، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 315، الرقم : 1119، والبیهقي في شعب الإیمان، 3 / 50، الرقم : 2836۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے ہیں اور نمازِ عصر اور نمازِ فجرکے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر جن فرشتوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری تھی وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت ان سے دریافت فرماتا ہے حالانکہ وہ بہتر جانتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری، نسائی اور مالک نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنھما أَنَّھُمَا شَھِدَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ : لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُوْنَ اللهَ عزوجل إِلَّا حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَةُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْھِمُ السَّکِيْنَةُ، وَذَکَرَھُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه، وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

4 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب : فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر، 4 / 2074، الرقم : 2700، والترمذي في السنن کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في القوم یجلسون فیذکرون الله عزوجل ما لھم من الفضل، 5 / 459، الرقم : 3378، وابن ماجه في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل الذکر، 2 / 1245، الرقم : 3791۔

’’حضرت ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنھما دونوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جب بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بیٹھتے ہیں انہیں فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں اور رحمتِ الٰہی انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ (سکون و اطمینان) کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنی بارگاہ کے حاضرین میں کرتا ہے۔‘‘

اسے امام مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : إِنَّ ِللهِ عزوجل مَـلَائِکَةً سَيَّارَةً فُضُلًا یَلْتَمِسُوْنَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ۔

5 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب : فضل مجالس الذکر، 4 / 2069، الرقم : 2689، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 359، الرقم : 8690۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کی باقاعدہ ذمہ داری کوئی نہیں مگر وہ صرف مجالسِ ذکر کی تلاش میں رہتے ہیں۔‘‘

اسے امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔ الفاظ امام احمد کے ہیں۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved