Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 12 :فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کا بیان

فَصْلٌ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ الْمَفْرُوْضَةِ

{فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کا بیان}

1۔ عَنْ مُغِيْرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ۔ وفي روایۃ للبخاري : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ إِذَا سَلَّمَ۔ وفي روایۃ مسلم : کَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ۔ اَللّٰھُمَّ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : صفۃ الصلاۃ، باب : الذکر بعد الصلاۃ، 1 / 289، الرقم : 808، وفي کتاب : الدعوات، باب : الدعاء بعد الصلاۃ، 5 / 2332، الرقم : 5971، ومسلم في الصحیح، کتاب : المساجد ومواضع الصلاۃ، باب : استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفته، 1 / 414، الرقم : 593، والترمذي نحوه في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : ما یقول إذا أسلم من الصلاۃ، 2 / 96، الرقم : 299۔

’’حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یوں فرمایا کرتے تھے (اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے : ) حضور نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یوں فرمایا کرتے تھے (اور مسلم کی روایت میں ہے : ) جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے اور سلام پھیرتے تو اس کے بعد یوں فرماتے : {لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ۔ اَللّٰھُمَّ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ} ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو تیرے مقابلے میں دولت نفع نہیں دے گی۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيِّ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ سَعْدٌ رضی الله عنه یُعَلِّمُ بَنِيْهِ ھَؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ الْکِتَابَةَ، وَیَقُوْلُ : إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنْھُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ : اَللَّھُمَّ، إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرُدَّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسْنٌ صَحِيْحٌ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الجھاد والسیر، باب : ما یتعوذ من الجبن، 3 / 1038، الرقم : 2667، وفي کتاب : الدعوات، باب : التعوذ من عذاب القبر، 5 / 2341، الرقم : 6004، والترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : في دعاء النبي وتعوذه في دبر کل صلاۃ، 5 / 562، الرقم : 3567، والنسائي في السنن، کتاب : الاستعاذۃ، باب : الاستعاذۃ من العجل، 8 / 267، الرقم : 5447، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 18، الرقم : 29130۔

’’حضرت عمرو بن میمون الْأَوْدِي رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادوں کو ان کلمات کی ایسے تعلیم دیتے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے : بیشک رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے (آپ ﷺ فرماتے : ) اَللَّھُمَّ، إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرُدَّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں ذلت کی زندگی کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ حدیث حضرت مصعب (بن سعد) کے سامنے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔‘‘

یہ حدیث امام بخاری و ترمذی نے روایت کی ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔

3۔ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : کَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رضی الله عنه یَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ حِيْنَ یُسَلِّمُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ۔ وَقَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالشَّافِعِيُّ وَلَفْظُهُ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ یَقُوْلُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلَی … فذکر الحدیث۔

3 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : المساجد ومواضع الصلاۃ، باب : استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفته، 1 / 415، الرقم : 594، وأبو داود في السنن، کتاب : الوتر، باب : ما یقول الرجل إذا سلم، 2 / 82، الرقم : 1506۔1507، والنسائي في السنن، کتاب : السهو، باب : عدد التهلیل والذکر بعد التسلیم، 3 / 70، الرقم : 1340، وفي السنن الکبری، 1 / 398، الرقم : 1263، 6 / 38، الرقم : 9956، والشافعي في المسند، 1 / 44، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 4، الرقم : 16150۔

’’حضرت ابو زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد (دعا میں) کہا کرتے تھے : {لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ} ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ نیکی کرنے کی توفیق اور برائی سے بچنے کی طاقت اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی، احمد اور شافعی نے روایت کیا ہے، اور امام شافعی رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’رسول اللہ ﷺ ان کلمات کو ہر نماز کے بعد بلند آواز سے ادا فرماتے تھے پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر کی۔‘‘

4۔ عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَـلَاثًا وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ۔ قَالَ الْوَلِيْدُ : فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ : کَيْفَ الْاِسْتِغْفَارُ؟ قَالَ : تَقُوْلُ : أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

4 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : المساجد ومواضع الصلاۃ، باب : استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفته، 1 / 414، الرقم : 591۔

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار استغفار کرتے اور فرماتے : ’’اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ‘‘ (اے اللہ تو صاحب سلامتی ہے اور تجھ سے ہی سلامتی ہے، اے صاحب جلال و اکرام تو بڑی برکت والا ہے)۔ حضرت ولید (راوی) کہتے ہیں : میں نے اوزاعی سے پوچھا : استغفار کیسے کرتے تھے؟ کہا کہ فرماتے تھے : أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ : قِيْلَ : لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ : جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

5 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 79، 5 / 526، الرقم : 3499، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 424، الرقم : 3944، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 32، الرقم : 9936، وفي عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 186، الرقم : 108، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 370، الرقم : 3428، وفي مسند الشامیین، 1 / 454، الرقم : 803، والبیهقي في السنن الصغری، 1 / 477، الرقم : 839، 840۔

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا کہ کس وقت کی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : رات کے آخری حصے میں (کی گئی دعا) اور فرض نمازوں کے بعد (کی گئی دعا جلد مقبول ہوتی ہے)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور نسائی نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔

6۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ : إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِيْنَ یُسَلِّمُ : اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّـلًا۔ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه۔

6 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیها، باب : ما یقال بعد التسلیم، 1 / 298، الرقم : 925، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 33، الرقم : 29265، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 294، الرقم : 26564، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 31، الرقم : 9930۔

’’حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے : ’’اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں)۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي أَحْسَنِ صُوْرَةٍ… وَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ : اَللّٰهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِيْنِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مَفْتُوْن۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَمَالِکٌ وَأَحْمَدُ، وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ۔

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسیر القرآن، باب : ومن سورۃ رضی الله عنه، 5 / 366، 368، الرقم : 3233، 3235، ومالک في الموطأ، کتاب : القرآن، باب : العمل في الدعائ، 1 / 218، الرقم : 508، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 368، الرقم : 3484، 5 / 243، الرقم : 22162، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 109، الرقم : 216، والحاکم في المستدرک، 1 / 708، الرقم : 1932۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج رات میرا رب میرے پاس نہایت احسن صورت میں آیا … اور فرمایا : اَللّٰهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِيْنِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مَفْتُوْن۔ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا : اے محمد! جب آپ نماز ادا کر چکیں تو یہ دعا مانگیں : اے اللہ! میں تجھ سے اچھے اعمال کے اپنانے، برے اعمال کو چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو آزمانے کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے ہی بغیر آزمائے اپنے پاس بلا لے۔‘‘

اسے امام ترمذی، مالک اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس کو حسن حدیث کہا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔

8۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَخَذَ بِیَدِهِ یَوْمًا ثُمَّ قَالَ : یَا مُعَاذُ، إِنِّي لَأُحِبُّکَ۔ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَأَنَا، وَاللهِ، أُحِبُّکَ۔ قَالَ : أُوْصِيْکَ یَا مُعَاذُ، لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ أَنْ تَقُوْلَ : اَللَّھُمُّ، أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔

8 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : في الاستغفار، 2 / 86، الرقم : 1522، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 32، الرقم : 9937، وفي عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 187، الرقم : 109، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 244، الرقم : 22172، والبزار في المسند ، 7 / 104، الرقم : 2661، وابن حبان في الصحیح، 5 / 365، الرقم : 2021، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 60، الرقم : 110، والحاکم في المستدرک، 1 / 407، الرقم : 1010۔

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بخدا میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنا ہرگز نہ چھوڑنا : اَللَّھُمُّ، أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ ’’اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کی ادائیگی میں میری مدد فرما۔‘‘

اسے امام ابو داود، نسائی، احمد، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ نسائی کے ہیں جبکہ حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

9۔ عَنْ أَبِي أَیُّوْبَ رضی الله عنه قَالَ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ نَبِيِّکُمْ ﷺ إِلاَّ سَمِعْتُهُ حِيْنَ یَنْصَرِفُ یَقُوْلُ : اَللَّھُمَّ، اغْفِرْ لِي خَطَایَايَ وَذُنُوْبِيکُلَّھَا، اَللَّھُمَّ وَأَنْعِشْنِي وَاجْبُرْنِي وَاھْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلاَقِ، إِنَّهُ لَا یَھْدِي لِصَالِحِھَا، وَلَا یَصْرِفُ سَيِّئَھَا إِلاَّ أَنْتَ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ۔

9 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغیر، 1 / 365، الرقم : 610، وفي المعجم الأوسط، 4 / 362، الرقم : 4442، وفي المعجم الکبیر، 4 / 125؛ الرقم : 3875، 8 / 227، الرقم : 7893، والحاکم في المستدرک، 3 / 522، الرقم : 5942، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 475، الرقم : 1935، وابن السني في عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 45، الرقم : 117۔

’’حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی (تو دیکھا کہ) آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو میں آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنتا : {اَللَّھُمَّ، اغْفِرْ لِي خَطَایَايَ وَذُنُوْبِيکُلَّھَا، اَللَّھُمَّ وَأَنْعِشْنِي وَاجْبُرْنِي وَاھْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلاَقِ، إِنَّهُ لَا یَھْدِي لِصَالِحِھَا، وَلَا یَصْرِفُ سَيِّئَھَا إِلاَّ أَنْتَ} ’’اے میرے اللہ! میری تمام خطائیں اور گناہ بخش دے، اے میرے اللہ! مجھے (اپنی عبادت و اطاعت کے لئے) ہشاش بشاش رکھ اور مجھے اپنی آزمائش سے محفوظ رکھ اور مجھے نیک اعمال اور اخلاق کی رہنمائی عطا فرما، بیشک نیک اعمال اور اخلاق کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دیتا اور بُرے اعمال اور اخلاق سے تیرے سوا کوئی نہیں بچاتا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

10۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا قَضَی صَلَاتَهُ مَسَحَ جَبْھَتَهُ بِیَدِهِ الْیُمْنَی، ثُمَّ یَقُوْلُ : نَشْهَدُ أَنْ لَا إلٰهَ إِلَّا اللهُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ، اَللَّھُمَّ اذْھَبْ بِالْهَمِّ وَالْحُزْنِ۔ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ۔

10 : أخرجه النسائي في عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 101، الرقم : 112، والنّووي في الأذکار من کلام سیّد الأبرار : 71۔

’’‘حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح کرتے اور فرماتے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ رحمن و رحیم کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اے اللہ! غم و حزن کو دور فرما دے۔‘‘

اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved