Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 3 :حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کے آثار سے توسّل کا بیان

فَصْلٌ فِي التَّوَسُّلِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَآثَارِهِ الْمُقَدَّسَةِ

{حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کے آثار سے توسّل کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ وَلَمَّا جَآء ھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِيْنَ کَفَرُوْا ج فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکٰفِرِيْنَo

(البقرۃ، 2 : 89)

’’اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اور ان پر اترنے والی کتاب ’قرآن‘ کے وسیلے سے) کافروں پر فتحیابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب ’قرآن‘ کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہےo‘‘

2۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ ط وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًاo

(النساء، 4 : 64)

’’اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول ( ﷺ ) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

3۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِيْقًاo

(النساء، 4 : 69)

’’اور جو کوئی اللہ اور رسول( ﷺ ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) ان (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیںo‘‘

4۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo

(المائدۃ، 5 : 35)

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤo‘‘

5۔ وَمَا کَانَ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ط وَمَا کَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَo

(الأنفال، 8 : 33)

’’ور (درحقیقت بات یہ ہے کہ) اللہ کی یہ شان نہیں کہ ان پر عذاب فرمائے درآنحالیکہ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ بھی ان میں (موجود) ہوں، اور نہ ہی اللہ ایسی حالت میں ان پر عذاب فرمانے والا ہے کہ وہ (اس سے) مغفرت طلب کر رہے ہوںo‘‘

6۔ اِذْھَبُوْا بِقَمِيْصِيْ ھٰذَا فَأَلْقُوْهُ عَلٰی وَجْهِ أَبِيْ یَأْتِ بَصِيْراً۔

(یوسف، 12 : 93)

’’ـ(حضرت یوسف ںنے کہا : ) میرا یہ قمیض لے جاؤ، سو اِسے میرے باپ (حضرت یعقوبں) کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا ہوجائیں گے۔‘‘

7۔ فَلَمَّآ أَنْ جَآء الْبَشِيْرُ أَلْقٰهُ عَلٰی وَجْھِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا۔

(یوسف، 12 : 96)

’’پھر جب خوش خبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی۔‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِيْنَةِ قَحْطٌ عَلَی عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَبَيْنَا هُوَ یَخْطُبُ یَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، هَلَکَتِ الْکُرَاعُ هَلَکَتِ الشَّاء فَادْعُ اللهَ یَسْقِيْنَا فَمَدَّ یَدَيْهِ وَدَعَا قَالَ أَنَسٌ : وَإِنَّ السَّمَاءَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ فَهَاجَتْ رِيْحٌ أَنْشَأَتْ سَحَابًا ثُمَّ اجْتَمَعَ ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِیَهَا فَخَرَجْنَا نَخُوْضُ الْمَاءَ حَتَّی أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ نَزَلْ نُمْطَرُ إِلَی الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ فَادْعُ اللهَ یَحْبِسْهُ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ إِلَی السَّحَابِ تَصَدَّعَ حَوْلَ الْمَدِيْنَةِ کَأَنَّهُ إِکْلِيْلٌ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1313، الرقم : 3389، ومسلم في الصحیح، کتاب : الاستسقاء، باب : الدعاء في الاستسقاء، 2 / 614، الرقم : 897، وأبوداود في السنن، کتاب : صلاۃ الاستسقاء، باب : رفع الیدین في الاستسقاء، 1 / 304، الرقم : 1174، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 214، الرقم : 612، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 95، الرقم : 2601، وفي الدعائ، 1 / 596۔ 597، الرقم : 2179۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے زمانۂ مبارک میں ایک دفعہ اہل مدینہ (شدید) قحط سے دوچار ہوگئے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ! گھوڑے ہلاک ہوگئے، بکریاں مرگئیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں پانی مرحمت فرمائے۔ آپ ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت آسمان شیشے کی طرح صاف تھا لیکن ہوا چلنے لگی، بادل گھر کر جمع ہوگئے اور آسمان نے ایسا اپنا منہ کھولا کہ ہم برستی ہوئی بارش میں اپنے گھروں کو گئے اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر (آئندہ جمعہ) وہی شخص یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوکر عرض گزار ہوا : یا رسول اللہ! گھر تباہ ہو رہے ہیں، لهٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اب اس (بارش) کو روک لے۔ تو آپ ﷺ (اس شخص کی بات سن کر) مسکرا پڑے اور (اپنے سرِ اقدس کے اوپر بارش کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا : ’’ہمیں چھوڑ کر ہمارے گردا گرد برسو۔‘‘ تو ہم نے دیکھا کہ اسی وقت بادل مدینہ منورہ کے اوپر سے ہٹ کر یوں چاروں طرف چھٹ گئے گویا وہ تاج ہیں (یعنی تاج کی طرح دائرہ کی شکل میں پھیل گئے)۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا ضَرِيْرَ الْبَصَرِ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ : ادْعُ اللهَ لِي أَنْ یُعَافِیَنِي۔ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَکَ وَهُوَ خَيْرٌ۔ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ۔ فَقَالَ : ادْعُهُ۔ فَأَمَرَهُ أَنْ یَتَوَضَّأَ فَیُحْسِنَ وُضُوْءَ هُ وَیُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ۔ وَیَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ۔ یَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی۔ اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ وَأَحْمَدُ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِیسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَالَ الْھَيْثَمِيُّ : حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْأَلْبَانِيُّ : صَحِيْحٌ۔

وفي روایۃ لأحمد : قَالَ : فَفَعَلَ الرَّجُلُ فَبَرَأَ۔

وفي روایۃ : قَالَ عُثْمَانُ : فَوَاللهِ، مَا تَفَرَّقْنَا وَلَا طَالَ بِنَا الْحَدِيْثَ حَتَّی دَخَلَ الرَّجُلُ وَکَأَنَّهُ لَمْ یَکُنْ بِهِ ضَرٌّ قَطُّ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ۔

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الْبُخَارِيِّ۔

وذکر العـلامۃ ابن تیمیۃ : عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا أَعْمَی أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ : إِنِّي أُصِبْتُ فِي بَصَرِي فَادْعُ اللهَ لِي قَالَ : اذْھَبْ فَتَوَضَّأْ وَصَلِّ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ : اَللَّھُمَّ إِنِّي سَائِلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيٍّ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، یَا مُحَمَّدُ، أَسْتَشْفِعُ بِکَ عَلَی رَبِّي فِي رَدِّ بَصَرِي، اَللَّھُمَّ فَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي وَشَفِّعْ النَّبِيَّ فِي رَدِّ بَصَرِي، وَإِنْ کَانَتْ حَاجَةٌ فَافْعَلْ مِثْلَ ذَلِکَ فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ۔

2 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : في دعاء الضعیف، 5 / 569، الرقم : 3578، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 168، الرقم : 10494،10495، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیها، باب : ما جاء في صلاۃ الحاجۃ، 1 / 441، الرقم : 1385، وابن خزیمۃ في الصحیح، 2 / 225، الرقم : 1219، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 138، الرقم : 17279۔17282، والحاکم في المستدرک، 1 / 458، 700، 707، الرقم : 1180، 1909، 1929، والطبراني في المعجم الصغیر، 1 / 306، الرقم : 508، وفي المعجم الکبیر، 9 / 30، الرقم : 8311، والبخاري في التاریخ الکبیر، 6 / 209، الرقم : 2192، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 147، الرقم : 379، والنسائي في عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 417، الرقم : 658۔660، والبیهقي في دلائل النبوۃ، 6 / 166، وأبو یوسف في المعرفۃ والتاریخ، 3 / 294، والمنذري في الترغیب والترهیب، 1 / 272، الرقم : 1018، وابن تیمیۃ في مجموع الفتاوی، 1 / 74، والهیثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279۔

’’حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے لئے خیر و عافیت (یعنی بینائی کے لوٹ آنے) کی دعا فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو تیرے لئے دعا کو مؤخر کر دوں جو تیرے لئے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو تیرے لئے (ابھی) دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا : (آقا) دعا فرما دیجئے۔ آپ ﷺ نے اسے اچھی طرح وضو کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا : یہ دعا کرنا : {اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ۔ یَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی۔ اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ} ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں نبی رحمت محمد مصطفی ﷺ کے وسیلہ سے، اے محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں تاکہ پوری ہو۔ اے اللہ! میرے حق میں سرکار دوعالم ﷺ کی شفاعت قبول فرما۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور البانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

’’اور امام احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ تب اس شخص نے فوراً ہی وہ عمل کیا اور اسی وقت صحت یاب ہو گیا۔‘‘

’’اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس خدا کی قسم! ابھی ہم وہاں سے اٹھے تھے اورنہ ہی اس بات کو زیادہ دیر گزری تھی کہ وہ آدمی دوبارہ اس حال میں آیا کہ جیسے اُسے کبھی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام بخاری کی شرائط پر صحیح ہے۔

’’علامہ ابن تیمیہ نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن حنیفص بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میری بصارت جواب دے گئی ہے۔ آپ میرے حق میں دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جائو وضو کرو اور پھر دو رکعت نماز پڑھو، پھر کہو : اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور محمد ﷺ جو کہ تیرے رحیم نبی ہیں ان کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب سے اپنی بینائی کی شفایابی کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! تو مجھے شفاء عطا فرما اور اپنے نبی ﷺ کی شفاعت میرے بینائی کے لوٹانے میں قبول فرما۔‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تجھے پھر بھی آرام نہ آئے تو دوبارہ ایسا کرنا، تو اللہ نے اسے بینائی عطا فرما دی۔‘‘

3۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ سِیَابَةَ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَسِيْرٍ لَهُ، فَأَرَادَ أَنْ یَقْضِيَ حَاجَةً، فَأَمَرَ وَدْیَتَيْنِ فَانْضَمَّتْ إِحْدَاھُمَا إِلَی الْأُخْرَی، ثُمَّ أَمَرَھُمَا فَرَجَعَتَا إِلَی مَنَابَتِھِمَا۔ وَجَائَ بَعِيْرٌ فَضَرَبَ بِجِرَانِهِ إِلَی الْأَرْضِ ثُمَّ جَرْجَرَ حَتَّی ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَتَدْرُوْنَ مَا یَقُوْلُ الْبَعِيْرُ؟ إِنَّهُ یَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ یُرِيْدُ نَحْرَهُ۔ فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ : أَوَاھِبُهُ أَنْتَ لِي؟ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ۔ قَالَ : اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوْفًا۔ فَقَالَ : لَا جَرَمَ لَا أُکْرِمُ مَالًا لِي کَرَامَتُهُ، یَا رَسُوْلَ اللهِ۔ وَأَتَی عَلَی قَبْرٍ یُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ : إِنَّهُ یُعَذَّبُ فِي غَيْرِ کَبِيْرٍ۔ فَأَمَرَ بِجَرِيْدَةٍ، فَوُضِعَتْ عَلَی قَبْرِهِ، فَقَالَ : عَسَی أَنْ یُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً۔ رَوَاهُ أَحْمَدَُ وَابْنُ حُمَيْدٍ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ۔

3 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 172، الرقم : 17595، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 154، الرقم : 405، والخطیب البغدادي في موضح أوھام الجمع والتفریق، 1 / 272، الرقم : 271 والنووي في ریاض الصالحین، 1 / 243، الرقم : 243، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 144، 145، الرقم : 3431، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 6۔

’’حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھا۔ آپ ﷺ نے ایک جگہ قضائے حاجت کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے کھجور کے دو درختوں کو حکم دیا۔ وہ آپ ﷺ کے حکم سے ایک دوسرے سے مل گئے (اور آپ ﷺ کے لیے پردہ بن گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے قضائے حاجت فرمائی)۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ حکم دیا تو وہ اپنی اپنی جگہ پر واپس آ گئے۔ پھر ایک اونٹ آپ ﷺ کی خدمت میں اپنی گردن کو زمین پر رگڑتا ہوا حاضر ہوا۔ وہ اتنا بلبلایا کہ اس کے اردگرد کی جگہ گیلی ہو گئی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ اس کا خیال ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس کے مالک کی طرف آدمی بھیجا (کہ اسے بلا لائے۔ جب وہ آ گیا تو) آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے اس سے بڑھ کر اپنے مال میں سے کوئی چیز محبوب نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں تم سے اس کے معاملہ میں بھلائی کی توقع رکھتا ہوں۔ اس صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اپنے تمام مال سے بڑھ کر اس کا خیال رکھوں گا۔ پھر آپ ﷺ کا گزر ایک قبر سے ہوا جس کے اندر موجود میت کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے گناہ کبیرہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک درخت کی ٹہنی طلب فرمائی اور اسے اس قبر پر رکھ دیا اور فرمایا : جب تک یہ ٹہنی خشک نہیں ہو جاتی اسے عذاب میں تخفیف دی جاتی رہے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی اسناد حسن ہے۔

4۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَمَّا اقْتَرَفَ آدَمُ الْخَطِيْئَةَ قَالَ : یَا رَبِّ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفَرْتَ لِي فَقَالَ اللهُ : یَا آدَمُ، وَکَيْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا وَلَمْ أَخْلُقْهُ؟ قَالَ : یَا رَبِّ، لِأَنَّکَ لَمَّا خَلَقْتَنِي بِیَدِکَ، وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوْحِکَ، رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ عَلَی قَوَائِمِ الْعَرْشِ مَکْتُوْبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ فَعَلِمْتُ أَنَّکَ لَمْ تُضِفْ إِلَی اسْمِکَ إِلَّا أَحَبَّ الْخَلْقِ إِلَيْکَ، فَقَالَ اللهُ : صَدَقْتَ یَا آدَمُ، إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ، اُدْعُنِي بِحَقِّهِ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ، وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُکَ۔

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ۔

4 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 672، الرقم : 4228، والبیهقي في دلائل النبوۃ، 5 / 489، والقاضي عیاض في الشفا، 1 / 227، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 7 / 437،ابن تیمیۃ في مجموع الفتاوی، 2 / 150، وابن کثیر في البدایۃ والنهایۃ، 1 / 131، 2 / 291، 1 / 6، وابن تیمیۃ في قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ : 84، والسیوطي في الخصائص الکبری، 1 / 6، وابن سرایا في سلاح المؤمن في الدعائ، 1 / 130، الرقم : 206۔

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب حضرت آدمں سے خطا سرزد ہوئی، تو انہوں نے (بارگاہ الٰہی میں) عرض کیا : اے پروردگار! میں تجھ سے محمد( ﷺ ) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم! تو نے محمد ﷺ کو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی تک میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : اے پروردگار! جب تو نے اپنے دستِ قدرت سے مجھے تخلیق کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی، میں نے اپنا سر اٹھایا تو عرش کے ہر ستون پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ لکھا ہوا دیکھا۔ تو میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہوسکتا ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے محبوب ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم تو نے سچ کہا ہے مجھے ساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب وہی ہیں، اب جبکہ تم نے ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف فرما دیا اور اگر محمد ( ﷺ ) نہ ہوتے تو میں تجھے بھی تخلیق نہ کرتا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

5۔ عَنْ مَالِکٍ الدَّارِ رضی الله عنه قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِيْ زَمَنِ عُمَرَ رضی الله عنه۔ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَی قَبْرِالنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، اسْتَسْقِ لِأُمَّتِکَ فَإِنَّهُمْ قَدْ ھَلَکُوْا۔ فَأَتَی الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّکُمْ مَسْقِیُّوْنَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْکَ الْکَيْسُ! عَلَيْکَ الْکَيْسُ! فَأَتَی عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ فَبَکَی عُمَرُ ثُمَّ قَالَ : یَارَبِّ، لَا آلُوْ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ۔

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ۔

5 : أخرجه ابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32002، ۔ وابن تیمیۃ في اقتضاء الصراط المستقیم، 1 / 373، والبیهقي في دلائل النبوۃ، 7 / 47، وابن عبد البر في الاستیعاب، 3 / 1149، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 130، والھندي في کنز العمال، 8 / 431، الرقم : 23535، وابن کثیر في البدایۃ والنھایۃ، 5 / 167، وقال : إسناده صحیح، والعسقلاني في الإصابۃ، 3 / 484 وقال : رواه ابن أبي شیبۃ بإسناد صحیح۔

’’حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے۔ ایک صحابی حضور نبی اکرم ﷺ کی قبرِ اطہر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ (اللہ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگیں کیونکہ وہ (قحط سے) ہلاک ہو گئی ہے۔ پھر خواب میں حضور نبی اکرم ﷺ اس صحابی سے فرمایا : عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کئے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی) کہہ دو : (دین کے دشمن تمہاری جان لینے کے درپے ہیں) عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو! پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : اے اللہ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جاؤں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه کَانَ إِذَا قَحَطُوْا اسْتَسْقَی بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ۔ فَقَالَ : اَللَّهُمَّ، إِنَّا کَنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِيْنَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ فَیُسْقَوْنَ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاستسقاء، باب : سؤال الناس الإمام الاستسقاء إِذا قحطوا، 1 / 342، الرقم : 964، وفي کتاب : فضائل الصحابۃ، باب : ذکر العباس بن عبد المطلب رضي الله عنهما، 3 / 1360، الرقم : 3507، وابن حبان في الصحیح، 7 / 110، الرقم : 2861، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 49، الرقم : 2437، والبیهقي في السنن الکبری، 3 / 352، الرقم : 6220، وابن خزیمۃ في الصحیح، 2 / 337، الرقم : 1421۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط پڑ جاتا تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بارش کی دعا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے کرتے اور کہتے : اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرّم ﷺ کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کے چچا جان کو وسیلہ بناتے ہیں کہ ہم پر بارش برسا۔ فرمایا : تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّهُ قَالَ : اسْتَقَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه عَامَ الرِّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ فَقَالَ : اَللَّهُمَّ، هَذَا عَمُّ نَبِيِّکَ الْعَبَّاسُ نَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِهِ فَاسْقِنَا فَمَا بَرِحُوْا حَتَّی سَقَاھُمُ اللهُ قَالَ : فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ : أَیُّھَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَرَی لِلْعَبَّاسِ مَا یَرَی الْوَلَدُ لِوَالِدِهِ یُعَظِّمُهُ وَیُفْحِمُهُ وَیَبِرُّ قَسَمَهُ فَاقْتَدُوْا أَیُّھَا النَّاسُ، بِرَسُولِ اللهِ فِي عَمِّهِ الْعَبَّاسِ وَاتَّخَذُوْهُ وَسِيْلَةً إِلَی اللهِ عزوجل فِيْمَا نَزَلَ بِکُمْ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ۔

2 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 377، الرقم : 5438، وابن عبد البر في الاستیعاب، 3 / 98، وفي الجامع الصغیر، 1 / 305، الرقم : 559، والذھبي في سیر أعلام النبلاء، 2 / 92، والعسقلاني في فتح الباری، 2 / 497، والقسطلاني في المواهب اللدنیۃ، 4 / 277، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والمبارکفوري في تحفۃ الأحوذي، 9 / 348، والمناوي في فیض القدیر، 5 / 215۔

’’حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ (قحط و ہلاکت کے سال) میں حضرت عباس بن عبد المطلب کو وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگی۔ پھر لوگوں سے خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو! حضور نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ویسا ہی سمجھتے تھے جیسے بیٹا باپ کو سمجھتا ہے (یعنی حضور نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بمنزل والد سمجھتے تھے) آپ ﷺ ان کی تعظیم و توقیر کرتے اور ان کی قسموں کو پورا کرتے تھے۔ اے لوگو! تم بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کرو اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بناؤ تاکہ وہ تم پر (بارش) برسائے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِيْنَارٍ رضی الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ :

وَأَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ

ثِمَالُ الْیَتَامَی عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ

وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِيْهِ : رُبَّمَا ذَکَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی وَجْهِ النَّبِيِّ ﷺ یَسْتَسْقِي، فَمَا یَنْزِلُ حَتَّی یَجِيْشَ کُلُّ مِيْزَابٍ۔

وَأَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ

ثِمَالُ الْیَتَامَی عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ

وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاستسقاء، باب : سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، 1 / 342، الرقم : 963، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیها، باب : ما جاء في الدعاء في الاستسقاء، 1 / 405، الرقم : 1272، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 93، الرقم : 5673،26۔

’’حضرت عبد اللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت ابو طالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا :

’’وہ گورے (مکھڑے والے ﷺ ) جن کے چہرے کے صدقے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے والی، بیواؤں کے سہارا ہیں۔‘‘

حضرت عمر بن حمزہ کہتے ہیں کہ سالم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی(وہ کہتے ہیں) : کبھی میں شاعر کے اس قول کو یاد کرتا اور(ساتھ ساتھ) حضور نبی اکرم ﷺ کے چہرہ اقدس کو تکتا درا نحالیکہ آپ ﷺ بارش طلب کر رہے ہوتے، تو آپ ﷺ (منبر سے) اُترنے بھی نہ پاتے کہ سارے پرنالے بہنے لگتے۔(وہ قول یہ ہے : )

‘‘وہ گورے (مکھڑے والے ﷺ ) جن کے چہرے کے صدقے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے والی، بیواؤں کے سہارا ہیں۔‘‘

’’اور مذکورہ بالا شعرحضرت ابوطالب کا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه قَالَ : قُحِطَ أَھْلُ الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَی عَائِشَةَ۔ فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ ﷺ فَاجْعَلُوْا مِنْهُ کِوًی إِلَی السَّمَاءِ حَتَّی لَا یَکُوْنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ۔ قَالَ : فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّی نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الإِبِلُ حَتَّی تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ۔ فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ۔

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ۔

4 : أخرجه الدارمي في السنن، المقدمۃ، باب : ما أکرم الله تعالی نبیّه ﷺ بعد موته، 1 / 56، الرقم : 92، والخطیب التبریزي في مشکاۃ المصابیح، 4 / 400، الرقم : 5950، وابن الجوزي في الوفاء بأحوال المصطفی ﷺ ، 2 / 801، وتقي الدین السبکي في شفاء السقام، 1 / 128، والقسطلاني في المواهب اللدنیۃ، 4 / 276، وفي شرح الزرقانی، 11 / 150۔

’’حضرت ابو جوزاء اَوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (اپنی ناگفتہ بہ حالت کی) شکایت کی۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ کی قبر انور (یعنی روضہ اقدس) کے پاس جاؤ اور اس سے ایک کھڑکی (سوراخ) آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو بہت زیادہ بارش ہوئی یہاں تک کہ خوب سبزہ اگ آیا اور اونٹ اتنے موٹے ہو گئے : (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے لهٰذا اس سال کا نام ہی ’عَامُ الْفَتْق‘ (پیٹ) پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔‘‘ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

5۔ قال ابن عباس : {وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ} من قبل محمد ﷺ والقرآن (یستفتحون) یستنصرون بمحمد والقرآن {عَلَی الَّذِيْنَ کَفَرُوْا} من عدوّھم أسد وغطفان ومزینۃ وجهینۃ {فَلَمَّا جَاءَ هُمْ مَّا عَرَفُوْا} صفته ونعته في کتابهم {کَفَرُوْا بِهٖ} جحدوا به {فَلَعْنَةُ اللهِ} سخط الله وعذابه {عَلَی الْکَافِرِيْنَ} علی الیهود۔

5 : أخرجه فیروز آبادي في تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس ص : 13۔

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’(یہود) حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے نزول سے قبل اپنے دشمنوں اسد، غطفان، مزینۃ اور جہینۃ (کے قبائل) کے خلاف اللہ عزوجل سے حضور نبی اکرم ﷺ اور قرآن کے توسل سے حصولِ فتح کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ لیکن جب وہ ہستی جس کی صفات و خصوصیات کو وہ اپنی کتابوں میں پہچان چکے تھے، تشریف لے آئی تو اس کا اِنکار کر دیا۔ پس (اس کفر کی وجہ سے) کافر یہود پر اللہ کا عذاب اور لعنت ہو۔‘‘

6۔ قال الشیخ تقي الدین السبکی : إن التوسل بالنبي ﷺ جائز في کل حال قبل خلقه وبعد خلقه في مدۃ حیاته في الدنیا وبعد موته في مدۃ البرزخ و بعد البعث في عرصات القیمۃ والجنۃ وقال أیضاً طلب الاستسقاء من النبي ﷺ بعد موته في مدۃ البرزخ ولا مانع من ذلک فإن دعاء النبي ﷺ لربه تعالی في هذه الحالۃ غیر ممتنع۔

6 : أخرجه تقي الدین السبکي في شفاء السقام في زیارۃ خیر الأنام : 120

’’شیخ تقی الدین سبکیؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے توسل ہر حال میں جائز ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادت سے قبل بھی اور بعد از ولادت بھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں بھی، بعد از وصال برزخی زندگی میں بھی اور حشر کے میدان اور جنت میں بھی۔ اسی طرح مزید فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک کے بعد برزخی زندگی میں آپ ﷺ سے بارش کے لیے درخواست کی جا سکتی ہے۔ اس حالت میں حضور نبی اکرم ﷺ سے دعا کرانا کوئی بعید از قیاس امر نہیں ہے ۔‘‘

7۔ قال الشیخ تقي الدین السبکي : یجوز ویحسن مثل هذا التوسل بمن له نسبۃ من النبي ﷺ کما کان عمر بن الخطاب رضی الله عنه إذا قحط استسقی بالعباس بن عبد المطلب رضی الله عنه ویقول : اللهم إنا کنا إذا قحطنا توسلنا إلیک بنبینا فقینا وإنا نتوسل إلیک بعم نبینا محمد ﷺ فاسقنا قال : فیسقون رواه البخاري من حدیث أنس واستسقی به عام الرمادۃ فسقوا وفي ذلک یقول عباس بن عتبۃ بن أبي لهب :

بعمي سقی الله الحجاز وأهله
عشیۃ یستسقي بشیبته عمر

7 : أخرجه تقی الدین السبکی في شفاء السقام في زیارۃ خیر الأنام : 128۔

’’شیخ تقی الدین سبکیؒ بیان کرتے ہیں کہ (جس طرح حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات سے توسل جائز ہے، اسی طرح) ان بزرگوں کے ذریعے بھی توسل مستحسن اور جائز ہے جن کو حضور ﷺ سے خاص نسبت ہے۔ جیسا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا توسل اختیار کرتے تھے اور کہتے تھے : اے اللہ تعالیٰ! جب ہم قحط میں مبتلا ہوتے تھے تو تیرے نبی مکرم ﷺ کو وسیلہ بناتے تھے، تو ہمیں سیراب فرما دیتا تھا، اب ہم تیرے نبی مکرم ﷺ کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں۔ ہمیں سیراب فرما دے۔ تو وہ سیراب کر دئے جاتے تھے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں مذکور ہے کہ عام الرمادہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا تھا۔ اسی لیے حضرت عباس بن عتبہ بن ابی لہب نے کہا ہے : ’’میرے چچا کے طفیل اللہ تعالیٰ نے حجاز اور اہل حجاز کو اس شام سیراب کیا جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے بڑھاپے کے طفیل سیرابی کی درخواست کر رہے تھے۔‘‘

8۔ قال الشیخ تقي الدین السبکي : اعلم أنه یجوز ویحسن التوسّل والاستعانۃ والتشفع بالنبي ﷺ إلی ربّه سبحانه و تعالیٰ وجوز ذلک وحسنه من الأمور المعلومۃ لکل ذي دین المعروفۃ من فعل الأنبیاء والمرسلین وسیر السلف الصالحین والعلماء والعوام من المسلمین ولم ینکر أحد ذلک من أهل الأدیان ولا سمع به في زمن من الأزمان۔

8 : أخرجه تقي الدین السبکي في شفاء السقام في زیارۃ خیر الأنام : 119۔

’’شیخ تقی الدین سبکیؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کو وسیلہ اور آپ ﷺ کی مدد و شفاعت چاہنا جائز ہی نہیں بلکہ ایک امرِ مستحسن ہے۔ اس کا جائز اور مستحسن ہونا ہر دین دار کے لیے ایک بدیہی امر ہے جو انبیاے کرام، رسلِ عظام علیہم السلام، سلف صالحین، علماے کرام اور عام مسلمانوں سے سے ثابت ہے اور کسی مذہب والے نے اس کا انکار نہیں کیا اور نہ کسی زمانہ میں ان امور کی برائی کی بات سنی گئی۔‘‘

9۔ قَالَ ابْنُ تَيْمِيَّۃ : إِنَّ التَّوَسُّلَ بِالْإِيْمَانِ بِنَبِيِّهِ ﷺ وَطَاعَتِهِ فَرْضٌ عَلَی کُلِّ أَحَدٍ فِي کُلِّ حَالٍ، بَاطِنًا وَظَاهِرًا، فِي حَیَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَبَعْدَ مَوْتِهِ، فِي مَشْهَدِهِ وَمَغِيْبِهِ۔

9 : أخرجه ابن تیمیۃ في قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ : 5۔

’’علامہ ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی اطاعت بجا لانے کا توسل ہر ایک پر ہر حال میں باطناً اور ظاہراً، آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اور آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد، آپ ﷺ کی موجودگی میں اور آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں فرض ہے۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved