Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 2 :حضور ﷺ کی محبت میں کیفیات صحابہ کا بیان

فَصْلٌ فِي کَيْفِيَّاتِ الصَّحَابَةِ فِي حُبِّ النَّبِيِّ ﷺ

{حضور ﷺ کی محبت میں کیفیاتِ صحابہ کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ اِذْاَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَيْنِ اِذْهُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنَا ج فَاَنْزَلَ اللهُ سَکِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِيْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ط وَکَلِمَةُ اللهِ هِیَ الْعُلْیَا ط وَاللهُ عَزِيْزٌ حَکِيْمٌo

(التوبۃ، 9 : 40)

’’اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی غلبہ اسلام کی جدوجہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بے شک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جب کہ دونوں (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق ص) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابو بکر صدیق ص) سے فرما رہے تھے غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہےo‘‘

2۔ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ۔

(التوبۃ، 9 : 100)

’’اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہو گیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہو گئے۔‘‘

3۔ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰـتُهُمْ۔

(الأحزاب، 33 : 6)

’’یہ نبیِ (مکرّم) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں اور آپ کی ازواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں۔‘‘

4۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ ط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِهٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَیُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًاo

(الفتح، 48 : 10)

’’(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہو گا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo‘‘

5۔ لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِيْنَةَ عَلَيْھِمْ وَ اَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِيْبًاo

(الفتح، 48 : 18)

’’بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے، سو جو (جذبۂ صدِق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اللہ نے معلوم کرلیا تو اللہ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیاo‘‘

6۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ ط وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ۔

(الفتح، 48 : 29)

’’محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ ( ﷺ ) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ذَھَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ، فَقَالَ : أَ تُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيْمَ؟ قَالَ : نَعَمْ، فَصَلَّی أَبُوْ بَکْرٍ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍصلَا یَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيْقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ أَبُوْبَکْرٍ رضی الله عنه یَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ عَلَی مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنْ ذَلِکَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُوْبَکْرٍ رضی الله عنه حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَصَلَّی، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ، مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ۔ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه : مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ یُصَلِّيَ بَيْنَ یَدَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : مَنْ دخل لِیؤم الناس فجاء الإمام الأول،1 / 242، الرقم : 652، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : تقدیم الجماعۃ من یصلي بھم، 1 / 316، الرقم : 421، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاۃ ، باب : التصفیق في الصلاۃ،1 / 247، الرقم : 940، والنسائي في السنن، کتاب : الإمامۃ، باب : استخلاف الإمام، 2 / 82، الرقم : 793 ومالک في الموطأ،1 / 163، الرقم : 390۔

’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ بنی عمرو بن عوف کے ہاں تشریف لے گئے تاکہ اُن (کے کسی تنازعہ) کی صُلح کرا دیں۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ مؤذن، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : اگر آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں تو میں اقامت کہہ دوں؟انہوں نے فرمایا : ہاں! پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے ۔ تو اسی دوران حضورنبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے آئے اور لوگ ابھی نماز میں تھے۔ پھر آپ ﷺ صفوں میں داخل ہوتے ہوئے پہلی صف میں جا کھڑے ہو ئے۔ لوگوں نے تالی کی آواز سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو متوجہ کرنا چاہا۔ مگر چونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حالتِ نماز میں اِدھر ادھر توجہ نہ کرتے تھے اس لئے انہوں نے توجہ نہ کی۔ پھر جب لوگوں نے بہت زور سے تالیاں بجائیں تووہ متوجہ ہوئے اورحضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا۔ حضورنبی اکرم ﷺ نے انہیں( حضرت ابو بکر صدیق کو) اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور اللہ رب العزت کی حمد بیان کی اور اللہ تعالیٰ کے رسولِ مکرم ﷺ نے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کا جو حکم فرمایا تھا اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے اور صف میں مل گئے۔ حضورنبی اکرم ﷺ آگے تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ادھر متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے ابو بکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو کس چیز نے تمہیں اپنی جگہ پر قائم رہنے سے منع کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھائے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه وَکَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ ﷺ ، وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ یُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ ﷺ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ، حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الْاِثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوْفٌ فِي الصَّلَاةِ، فَکَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، یَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ، کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ یَضْحَکُ فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْیَةِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَنَکَصَ أَبُوْ بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِیَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَارِجٌ إِلَی الصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ : أَنْ أَتِمُّوْا صَلَاتَکُمْ وَأَرْخَی السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ یَوْمِهِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ، 1 / 240، الرقم : 648، وفي کتاب : الأذان، باب : هل یلتفت لأمر ینزل به، 1 / 262، الرقم : 721، وفي کتاب : التهجد، باب : من رجع القھقري في صلاته، 1 / 403، الرقم : 1147، وفي کتاب : المغازی، باب : مرض النبي ﷺ ووفاته، 4 / 1616، الرقم : 4183، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر وغیرھما من یصلي بالناس، 1 / 316، الرقم : 419، والنسائي نحوه في السنن، کتاب : الجنائز، باب : الموت یوم الاثنین، 4 / 7، الرقم : 1831۔

’’حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ جو کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابی اور خادم خاص تھے فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے مرض وصال میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، چنانچہ پیر کے روز لوگ صفیں بنائے نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھایا اور کھڑے کھڑے ہمیں دیکھنے لگے۔ اس وقت حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ انور قرآن کے اوراق کی طرح معلوم ہوتا تھا، جماعت کو دیکھ کر آپ ﷺ مسکرائے۔ آپ ﷺ کے دیدار پرُانوار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم نماز توڑ دیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ شاید آپ ﷺ نماز میں تشریف لا رہے ہیں۔ اس لئے انہوں نے ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ کر صف میں مل جانا چاہا، لیکن حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اشارہ سے فرمایا کہ تم لوگ نماز پوری کرو، پھر آپ ﷺ نے پردہ گرا دیا اور اسی روز آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ رضي اللهُ عنهما قَالَا : إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ یَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ بِعَيْنَيْهِ قَالَ : فَوَاللهِ، مَا تَنَخَّمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي کَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَکَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُم ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وُضُوْئِهِ، وَإِذَا تَکَلَّمَ خَفَضُوْا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا یُحِدُّوْنَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيْمًا لَهُ۔ فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَي قَوْمِ، وَاللهِ، لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوْکِ، وَفَدْتُ عَلَی قَيْصَرَ وَکِسْرَی وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللهِ، إِنْ رَأَيْتُ مَلِکًا قَطُّ یُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا یُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُحَمَّدًا۔… الحدیث۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الشروط، باب : الشروط في الجھاد والمصالحۃ مع أھل الحرب وکتابۃ الشروط، 2 / 974، الرقم : 2581، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، وابن حبان في الصحیح، 11 / 216، الرقم : 4872، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 9، الرقم : 13، والبیھقی في السنن الکبری، 9 / 220۔

’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، عروہ بن مسعود (جب بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں کفار کا وکیل بن کر آیا تو) صحابہ کرام کو دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ ﷺ اپنا لعاب دہن پھینکتے ہیں تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اسے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب آپ ﷺ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو اس کی فوراً تعمیل کی جاتی ہے۔ جب آپ ﷺ وضو فرماتے ہیں تو لوگ آپ ﷺ کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے ہیں تو صحابہ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے ہیں اور انتہائی تعظیم کے باعث آپ ﷺ کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم! اللہ رب العزت کی قسم! میں (عظیم الشان) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں، میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ﷺ کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔‘‘

اسے امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَنْسٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَخْرُجُ عَلَی أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ، وَھُمْ جُلُوْسٌ، فِيْھِمْ أَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ، فَـلَا یَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْھُمْ بَصَرَهُ إِلاَّ أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَإِنَّھُمَا کَانَا یَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَیَنْظُرُ إِلَيْھِمَا وَیَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَیَتَبَسَّمُ إِلَيْھِمَا۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

4 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في مناقب أبي بکر وعمر کلیھما، 5 / 612، الرقم : 3668، والحاکم في المستدرک، 1 / 209، الرقم : 417، والطیالسي في المسند، 1 / 275، الرقم : 2064، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابۃ، 1 / 212، الرقم : 339، والطبري في ریاض النضرۃ، 1 / 338، الرقم : 209۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ اپنے مہاجر اور انصار صحابہ کرام کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہوتے اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما بھی ان میں ہوتے تو کوئی صحابی بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتا البتہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھما حضور نبی اکرم ﷺ کے چہرہ انور کو مسلسل تکتے رہتے اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام انہیں دیکھتے، یہ دونوں حضرات رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے اور خود حضور نبی اکرم ﷺ ان دونوں کو دیکھ کر تبسم فرماتے۔‘‘

اسے امام ترمذی، حاکم اور احمد نے ’’فضائل الصحابۃ‘‘ میں روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

5۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رضی الله عنه عَنْ أَبِيْهِ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه یَقُوْلُ : أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِکَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ : الْیَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَکْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ یَوْمًا، قَالَ : فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِکَ؟ قُلْتُ : مِثْلَهُ، وَأَتَی أَبُوْ بَکْرٍ بِکُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ ﷺ : یَا أَبَا بَکْرٍ، مَا أَبْقَيْتَ لِأَھْلِکَ؟ قَالَ : أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُوْلَهُ، قُلْتُ : لاَ أَسْبِقُهُ إِلَی شَيئٍ أَبَدًا۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

5 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنھما کلیھما، 6 / 614، الرقم : 3675، وأبو داود في السنن، کتاب : الزکاۃ، باب : الرخصۃ في ذالک، 2 / 129، الرقم : 1678، والدارمي في السنن، 1 / 480، الرقم : 1660، والبزار في المسند، 1 / 263، الرقم : 159، والحاکم في المستدرک، 1 / 574، الرقم : 1510، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 33، الرقم : 13، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 32، وابن أبي عاصم في السنۃ، 2 / 579، الرقم : 1240، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 1 / 173، الرقم : 80۔

’’حضرت زیدبن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ نے صدقہ دینے کا حکم فرمایا۔ اس حکم کی تعمیل کے لئے میرے پاس مال تھا۔ میں نے (اپنے آپ سے) کہا، اگر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کبھی سبقت لے جا سکا تو آج سبقت لے جاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنا نصف مال لے کر حاضرِ خدمت ہوا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ میں نے عرض کیا : اتنا ہی مال اُن کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ (اتنے میں) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جوکچھ اُن کے پاس تھا وہ سب کچھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو بکر! اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی : میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول ﷺ چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا، میں اِن سے کسی شے میں آگے نہ بڑھ سکوں گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، اور ابو داود اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

6۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : أَصَابَ نَبِيَّ اللهِ ﷺ خَصَاصَةٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا، فَخَرَجَ یَلْتَمِسُ عَمَـلًا یُصِيْبُ فِيْهِ شَيْئًا لِیُقِيْتَ بِهِ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ، فَأَتَی بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ، فَاسْتَسْقَی لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا کُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْیَھُوْدِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشَرَةَ عَجْوَةً، فَجَائَ بِھَا إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه۔

ورواه البیهقي أیضًا إِلاَّ قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مِنْ أَيْنَ هَذَا یَا أَبَا الْحَسَنِ؟ قَالَ : بَلَغَنِي مَا بِکَ مِنَ الْخَصَاصَةِ یَا نَبِيَّ اللهِ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ عَمَـلًا لِأُصِيْبَ لَکَ طَعَامًا۔ قَالَ : فَحَمَلَکَ عَلَی هَذَا حُبُّ اللهِ وَرَسُوْلِهِ؟ قَالَ عَلِيٌّ رضی الله عنه : نَعَمْ، یَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ نَبِيٌّ ﷺ : وَاللهِ، مَا مِنْ عَبْدٍ یُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ إِلَّا الْفَقْرُ أَسْرَعُ إِلَيْهِ مِنْ جَرْیَةِ السَّيْلِ عَلَی وَجْھِهِ، مَنْ أَحَبَّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فَلْیُعِدَّ تِجْفَافًا وَإِنَّمَا یَعْنِي الصَّبْرَ۔

6 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الأحکام، باب : الرجل یستسقي کل دلو بتمرۃ ویشترط جلدۃ، 2 / 818، الرقم : 2446، والبیھقي في السنن الکبری، 6 / 119، الرقم : 11429، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 6 / 385، والزیلعي في نصب الرایۃ، 4 / 132۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ فاقہ سے تھے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو وہ مزدوری کرنے کے لئے نکلے تاکہ اس سے کچھ (معاوضہ) حاصل کر کے حضور نبی اکرم ﷺ کی تکلیف کا مداوا کر سکیں چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں پہنچے تو اس کے لئے (بطورِ معاوضہ) سترہ ڈول پانی کھینچا اور ہر ڈول کے بدلے اس نے ایک عمدہ کھجور دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ سترہ عجوہ کھجوریں لے کر بارگاهِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو گئے۔‘‘اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا۔

’’امام بیہقی نے مزید بیان کیا کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا : اے ابو الحسن! یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ! مجھے معلوم ہوا کہ آپ کئی دن کے فاقہ سے ہیں تو میں مزدوری کی تلاش میں نکل پڑا تاکہ آپ کی خدمت میں کچھ کھانے کو پیش کیا جا سکے تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تجھے اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی محبت نے اس کام پر ابھارا تھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : جی ہاں، یا نبی اللہ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : خدا کی قسم! کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو اور فقر و فاقہ اس کے چہرے کی طرف سیلاب کی سی تیزی سے نہ بڑھیں لهٰذا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا تو اسے (ان آزمائشوں پر) صبر کے لئے تیار رہنا چاہئے۔‘‘

7۔ قَالَتْ عَائِشَةُ رضي الله عنها : جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُوْلِ الله ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَإِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي، وَإِنِّي لَأَکُوْنُ فِي الْبَيْتِ، فَأَذْکُرُکَ، فَمَا أَصْبِرُ حَتَّی آتِیَکَ، فَأَنْظُرُ إِلَيْکَ، وَإِذَا ذَکَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَکَ عَرَفْتُ أَنَّکَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّيْنَ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ حَسِبْتُ أَنْ لَا أَرَاکَ، فَلَمْ یَرُدَّ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَيْئًا، حَتَّی نَزَلَ جِبْرِيْلُ علیه السلام بِهَذِهِ الْآیَةِ : {وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ …} ]النساء، 4 : 69[ فَدَعَا بِهِ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ۔ وَقَالَ الْھَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ۔

7 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 152، الرقم : 477، وفي المعجم الصغیر، 1 / 53، الرقم : 52، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 4 / 240، 8 / 125، والهیثمي في مجمع الزوائد، 7 / 7، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 1 / 524، والسیوطي في الدر المنثور، 2 / 182۔

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک صحابی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوئے : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ مجھے میری جان، اہل و عیال اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو ہی یاد کرتا رہتا ہوں اور اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک حاضر ہوکر آپ کی زیارت نہ کرلوں۔ لیکن جب مجھے اپنی موت اور آپ کے وصال مبارک کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ بلند ترین مقام پر جلوہ افروز ہوں گے اور جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو خدشہ ہے کہ کہیں آپ کی زیارت سے محروم نہ ہوجاؤں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس صحابی کے جواب میں سکوت فرمایا : یہاں تک کہ حضرت جبرائیل ںاس آیت مبارکہ کو لے کر نازل ہوئے {اور جو کوئی اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روز قیامت) اُن (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے…} پس آپ ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور اسے (سورہ نساء کی) یہ آیت پڑھ کر سنائی۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

8۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : لَقَدْ ضَرَبُوْا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ حَتَّی غَشِيَ عَلَيْهِ فَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ رضی الله عنه فَجَعَلَ یُنَادِي یَقُوْلُ : وَيْلَکُمْ أَ تَقْتُلُوْنَ رَجُـلًا أَنْ یَقُوْلَ رَبِّيَ اللهُ؟ قَالُوْا : مَنْ ھَذَا؟ قَالُوْا : ھَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ الْمَجْنُوْنُ۔ رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلَی، وَالْحَاکِمُ۔

8 : أخرجه أبو یعلی في المسند، 6 / 362، الرقم : 3691، والحاکم في المستدرک، 3 / 70، الرقم : 4424، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 6 / 221، والهیثمي في مجمع الزوائد، 6 / 17، والسیوطي في الدر المنثور، 7 / 285۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفار و مشرکین نے حضور نبی اکرم ﷺ کو اس قدر جسمانی اذیت پہنچائی کہ آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ (آئے اور) کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے کہنے لگے : تم تباہ و برباد ہو جائو، کیا تم ایک (معزز) شخص کو صرف اِس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرا رب اللہ عزوجل ہے؟ اُن ظالموں نے کہا : یہ کون ہے؟ (کفارو مشرکین میں سے کچھ) لوگوں نے کہا : یہ ابو قحافہ کا بیٹا ہے جو (عشقِ رسول ﷺ میں) مجنوں بن چکا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : لَمَّا کَانَ لَيْلَةَ الْغَارِ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، دَعْنِي أَدْخُلْ قَبْلَکَ فَإِنْ کَانَ حَيَّةٌ اَوْ شَيئٌ کَانَتْ لِي قَبْلَکَ۔ قَالَ ﷺ : ادْخُلْ فَدَخَلَ أَبُوْ بَکْرٍ، فَجَعَلَ یَلْتَمِسُ بِیَدِهِ، کُلَّمَا رَأَی جُحْرًا جَاءَ بِثَوْبِهِ فَشَقَّهُ ثُمَّ أَلْقَمَهُ الْجُحْرَ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ بِثَوْبِهِ أَجْمَعَ۔ قَالَ : فَبَقِيَ جُحْرٌ فَوَضَعَ عَقِبَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ۔ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : فَأَيْنَ ثَوْبُکَ یَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَدَيْهِ وَقَالَ : اَللَّهُمَّ، اجْعَلْ أَبَا بَکْرٍ مَعِي فِي دَرَجَتِي یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔ فَأَوْحَی اللهُ عزوجل إِلَيْهِ أَنَّ اللهَ تَعَالَی قَدِ اسْتَجَابَ لَکَ۔ رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ۔

9 : أخرجه أبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 33، وابن الجوزي في صفوۃ الصفوۃ، 1 / 240، ومحب الدین الطبري في الریاض النضرۃ، 1 / 451۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : (وقتِ ہجرت) جب غار (میں پناہ لینے) کی رات تھی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے اجازت عنایت فرمائیے کہ میں آپ ﷺ سے پہلے غار میں داخل ہوں تاکہ اگر کوئی سانپ یا کوئی اور چیز ہو تو وہ آپ ﷺ کی بجائے مُجھے تکلیف پہنچائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جائو داخل ہو جاؤ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور اپنے ہاتھ سے ساری جگہ کی تلاشی لینے لگے۔ جب بھی کوئی سوراخ دیکھتے تو اپنے لباس کو پھاڑ کر سوراخ کو بند کر دیتے۔ یہاں تک کہ اپنے تمام لباس کے ساتھ یہی کچھ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر بھی ایک سوراخ بچ گیاتو انہوں نے اپنی ایڑی کو اُس سوراخ پر رکھ دیا اور پھر حضورنبی اکرم ﷺ سے اندر تشریف لانے کی گزارش کی۔ جب صبح ہوئی تو حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’اے ابو بکر ! تمھارا لباس کہاں ہے؟ تو انہوں نے جو کچھ کیا تھا اُس کے بارے بتا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دُعا کی : اے اللہ! ابو بکر رضی اللہ عنہ کو قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف وحی فرمائی کہ اُس نے آپ ﷺ کی دُعا کو قبول فرما لیا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

10۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ حَاصَ أَھْلُ الْمَدِيْنَةِ حَيْصَةً، قَالُوْا : قُتِلَ مُحَمَّدٌ ( ﷺ ) حَتَّی کَثُرَتْ الصَّوَارِخُ فِي نَاحِیَةِ الْمَدِيْنَةِ، فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُتَحَزِّمَةً فَاسْتَقْبَلَتْ بِابْنِھَا وَأَبِيْھَا وَزَوْجِھَا وَأَخِيْھَا لَا أَدْرِي أَيَّھُمُ اسْتَقْبَلَتْ بِهِ أَوَّلًا۔ فَلَمَّا مَرَّتْ عَلَی آخِرِھِمْ قَالَتْ : مَنْ ھَذَا؟ قَالُوْا : أَبُوْکِ، أَخُوْکِ، زَوْجُکِ، ابْنُکِ، تَقُوْلُ : مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ؟ یَقُوْلُوْنَ : أَمَامَکِ حَتَّی دُفِعَتْ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَخَذَتْ بِنَاحِیَةِ ثَوْبِهِ ثُمَّ قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مِنْ عَطَبٍ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ۔ وَقَالَ الْھَيْثَمِيُّ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ۔

10-11 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 280، الرقم : 7499، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 2 / 72، 332، وابن جریر الطبري في تاریخ الأمم والملوک، 2 / 74، وابن هشام في السیرۃ النبویۃ، 4 / 50، والقاضي عیاض في الشفا، 1 / 497، الرقم : 1215، والهیثمي في مجمع الزوائد، 6 / 115۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ اُحد کا دن تھا تو اہل مدینہ سخت تنگی و پریشانی میں مبتلا ہوگئے (کیونکہ)، انہوں نے (غلط فہمی اور منافقین کی افواہیں سن کر) سمجھا کہ محمد مصطفی ﷺ کو (العیاذ باللہ) شہید کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں چیخ و پکار کرنے والی عورتوں کی کثیر تعداد (جمع) ہوگئی، یہاں تک کہ انصار کی ایک عورت پیٹی باندھے ہوئے باہر نکلی اور اپنے بیٹے، باپ، خاوند اور بھائی (کی لاشوں کے پاس) سے گذری، (راوی کہتے ہیں : ) میں نہیں جانتا کہ وہ سب سے پہلے کس سے ملیں۔ پس جب وہ ان میں سے سب سے آخری شحص کے پاس سے گزری تو پوچھنے لگی : یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : تمہارا باپ، بھائی، خاوند اور تمہارا بیٹا ہے۔ (جوکہ شہید ہو چکے ہیں) وہ کہنے لگی : (مجھے صرف یہ بتاؤ کہ) رسول اللہ ﷺ کس حال میں ہیں؟ لوگ کہنے لگے : وہ تمہارے سامنے تشریف فرما ہیں یہاں تک کہ اسے حضور نبی اکرم ﷺ تک پہنچایا گیا اس نے حضور نبی اکرم ﷺ کے کرتہ مبارک کا پلو پکڑ لیا اور پھر عرض کرنے لگی : یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ کسی نقصان سے محفوظ ہیں تو مجھے اور کسی کی پرواہ نہیں (یعنی آپ سلامت ہیں تو سب کچھ سلامت ہے)۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اسے امام طبرانی نے اپنے شیخ محمد بن شعیب سے روایت کیا ہے انہیں میں نہیں جانتا اور باقی تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

11۔ وفي روایۃ : عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه قَالَ : مَرَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي دِيْنَارٍ وَقَدْ أُصِيْبَ زَوْجُهَا وَأَخُوْھَا وَأَبُوْھَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بِأُحُدٍ فَلَمَّا نَعَوْا لَھَا قَالَتْ : فَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ؟ قَالُوْا : خَيْرًا یَا أُمَّ فُلاَنٍ۔ ھُوَ بِحَمْدِ اللهِ کَمَا تُحِبِّيْنَ۔ قَالَتْ : أَرُوْنِيْهِ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَأُشِيْرَ لَھَا إِلَيْهَ حَتَّی إِذَا رَأَتْهُ قَالَتْ : کُلُّ مُصِيْبَةٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ۔ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيْرٍ الطَّبَرِيُّ وَالْقَاضِي عِیَاضٌ۔

’’ایک اور روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ قبیلہ بنی دینار کی ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کا باپ، بھائی اور شوہرجنگ اُحد کے دن آپ ﷺ کے سامنے شہید ہوئے تھے۔ جب اسے یہ بتایا گیا تو اس نے کہا : (میرے آقا) رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ صحابہ کرام نے کہا : اے فلاں کی ماں! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ﷺ خیریت سے ہیں۔ جیسا کہ تو چاہتی ہے تو اس نے کہا : مجھے آپ ﷺ کی زیارت کرواؤ تاکہ میں انہیں دیکھ لوں۔ تو میں نے اسے (دکھانے) کے لئے حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کیا یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ کو دیکھ لیا اور کہنے لگی آپ ﷺ کی (سلامتی کے) بعد ساری مصیبتیں آسان ہیں۔ (مجھے کسی بھی مصیبت کی پروا نہیں)۔‘‘ اسے امام ابن جریر طبری اور قاضی عیاض نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَی مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ مُقْبِلاً وَعَلَيْهِ إِهَابُ کَبْشٍ قَدْ تَنَطَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : انْظُرُوْا إِلَی هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ نَوَّرَ اللهُ قَلْبَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ أَبْوَيْنِ یَغْذُوَانِهِ بِأَطْیَبِ الطَّعَامِ وَالشَّرِابِ، فَدَعَاهُ حُبُّ اللهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَی مَا تَرَوْنَ۔ رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ وَالْبَيْھَقِيُّ۔

13 : أخرجه أبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 108، والبیهقي في شعب الإیمان، 5 / 160، الرقم : 6189، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 36 / 333، والمنذري في الترغیب والترهیب، 3 / 81، الرقم : 3163، وابن الجوزي في صفۃ الصفوۃ، 1 / 391۔

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو دنبہ کی کھال میں ملبوس دیکھ کر صحابہ سے فرمایا : اِس شخص دیکھو جس کے قلب کو اللہ نے روشن فرما دیا ہے ۔ میں نے ان کی عیش و عشرت والی زندگی بھی دیکھی ہے۔ اِس کے والدین اس کو سب سے اچھا کھانا اور سب سے اچھا مشروب دیتے تھے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی وجہ سے ان میں کس قدر تبدیلی آئی جسے تم دیکھ رہے ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو نعیم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رضی الله عنه وَهُوَ فِي سِیَاقَةِ الْمَوْتِ، فَبَکَی طَوِيْـلًا وَقَالَ : وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ، وَمَا کُنْتُ أُطِيْقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْـلَالًا لَهُ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ … الحدیث۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ مَنْدَه۔

1 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : کون الإسلام یهدم ما قبله وکذا الهجرۃ والحج، 1 / 112، الرقم : 121، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 131، الرقم : 2515، والشیباني في الأحاد والمثاني، 2 / 101، الرقم : 801، وابن منده في الإیمان، 1 / 420، الرقم : 270، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 70، الرقم : 200، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 259۔

’’حضرت ابن شماسہ مہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مرض موت میں مبتلا تھے ہم ان کی عیادت کے لئے گئے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کافی دیر تک روتے رہے اور فرمایا : مجھے حضور نبی اکرم ﷺ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ تھا، نہ میری نظر میں آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی بزرگ تھا، نہ ہی آپ ﷺ کی جلالت کے پیش نظر آپ ﷺ کو جی بھر کے دیکھ سکا کہ رسول اللہ ﷺ کا حلیہ بیان کروں۔ میں آپ ﷺ کا حلیہ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں آپ ﷺ کو کبھی آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، ابن خزیمہ، اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ فَرَضَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي ثَلاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَـلَاثَةِ آلَافٍ۔ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِیهِ : لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَيَّ، فَوَاللهِ، مَا سَبَقَنِي إِلَی مَشْهَدٍ۔ قَالَ : لِأَنَّ زَيْدًا کَانَ أَحَبَّ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنْ أَبِيْکَ وَکَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنْکَ فَآثَرْتُ حُبَّ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ عَلَی حُبِّي۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔

2 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب مناقب زید بن حارثۃ، 5 : / 675 ، الرقم : 3813۔

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا وظیفہ ساڑھے تین ہزار مقرر فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد سے پوچھا : آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو مجھ پر کیوں فضیلت دی؟ وہ کسی جنگ میں مجھ پر سبقت نہیں لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ کو حضرت زید، تمہارے باپ سے اور حضرت اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے تو میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَةَ رضی الله عنه في قصۃ طویلۃ : أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی الله عنه إِلَی قُرَيْشٍ … فَدَعُوْا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی الله عنه لِیَطُوْفَ بِالْبَيْتِ، فَأَبَی أَنْ یَطُوْفَ وَقَالَ : کُنْتُ لَا أَطُوْفُ بِهِ حَتَّی یَطُوْفَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ، فَرَجَعَ إِلیَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ۔

3 : أخرجه البیھقي في السنن الکبری، 9 / 221، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 369۔

’’حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے طویل واقعہ میں مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو (صلح حدیبیہ کے موقع پر) کفارکی طرف (سفیربنا کر) روانہ کیا (مذاکرات کے بعد) انہوںنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو طواف کعبہ کی دعوت دی توآپ رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا اورفرمایا : اللہ کی قسم! میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گاجب تک رسول اللہ ﷺ طواف نہیںکرلیتے اورپھر (بغیر طواف کئے) پلٹ کر حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آگئے۔‘‘ اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

4۔ قال مصعب بن عبد الله : ولقد کان عبد الرحمن بن القاسم رحمهما الله یذکر النبي ﷺ فینظر إلی لونه کأنه نزف منه الدم، وقد جف لسانه في فمه هیبةً لرسول الله ﷺ ۔

4 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفی : 522۔

’’مصعب بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن قاسم رَحِمَهُ اللہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کر رہے ہوتے تو ان کے چہرے کا رنگ ایسا ہو جاتا کہ گویا اس سے خون نچوڑ لیا گیا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے ہیبت و جلال سے ان کا منہ اور زبان خشک ہو جاتی۔

5۔ قال مصعب بن عبد الله رَحِمَهُ الله : ولقد کنت آتي عامر بن عبد الله بن الزبیر رَحِمَهُ الله فإذا ذکر عنده النبي ﷺ بکی حتی لا یبقی في عینیه دموع۔

5 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفی : 522۔

’’مصعب بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عامر بن عبد اللہ بن زبیر رَحِمَهُ اللہ کے پاس آیا کرتا تھا۔ جب بھی ان کے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر جمیل کیا جاتا تو وہ اتنا روتے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو تک نہ رہتا۔‘‘

6۔ قال مصعب بن عبد رَحِمَهُ الله : ولقد رأیت الزهري، وکان من أهنإ الناس وأقربهم، فإذا ذکر عنده النبي ﷺ فکأنه ما عرفک ولا عرفته۔

6 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفی : 522۔

’’مصعب بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری رَحِمَهُ اللہ کو دیکھا کہ وہ بڑے نرم دل اور ملنسار تھے۔ پس جب بھی ان کے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایسے ہو جاتے گویا کہ نہ وہ تمہیں پہچانتے ہیں اور نہ تم انہیں پہچانتے ہو۔‘‘

7۔ بلغ معاویۃ أن کابس بن ربیعۃ یشبه برسول الله ﷺ ، فلما دخل علیه من باب الدار قام عن سریره وتلقاه وقبّل بین عینیه، وأقطعه المرغاب لشبهه صورۃ رسول الله ﷺ ۔

7 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفی : 532۔

’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ کابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے مشابہت صوری رکھتے ہیں۔ چنانچہ (ایک مرتبہ) جب وہ دروازہ میں داخل ہوئے اور آپ کے دربار میں پہنچے تو آپ اپنے تخت پر (تعظیم کے لئے) کھڑے ہو گئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رسول اللہ ﷺ سے آپ کی مشابہت صوری کی بنا پر ان کو مرغاب کا علاقہ عنایت فرما دیا۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved