Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 15 :بعض ماثورہ دعائیں اور ان کی فضیلت

فَصْلٌ فِي فَضْلِ بَعْضِ الْأَدْعِيَّةِ الْمَأْثُوْرَةِ

{بعض ماثورہ دعاؤں کی فضیلت کا بیان}

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ أَکْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ : اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : قول النبي ﷺ : ربنا آتنا في الدنیا حسنۃ، 5 / 2347، الرقم : 6026، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 101، الرقم : 12000، وابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ : 564۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دینا اور ہمیں عذاب جہنم سے بچانا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : بِتُّ عِنْدَ مَيْمُوْنَةَ رضي الله عنها … فَآذَنَهُ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَکَانَ یَقُوْلُ فِي دُعَائِهِ : اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُوْرًا وَفِي بَصَرِي نُوْرًا وَفِي سَمْعِي نُوْرًا وَعَنْ یَمِینِي نُوْرًا وَعَنْ یَسَارِي نُوْرًا وَفَوْقِي نُوْرًا وَتَحْتِي نُوْرًا وَأَمَامِي نُوْرًا وَخَلْفِي نُوْرًا وَاجْعَلْ لِي نُوْرًا۔ قَالَ کُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوْتِ فَلَقِيْتُ رَجُلًا مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَکَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعَرِي وَبَشَرِي وَذَکَرَ خَصْلَتَيْنِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : الدعاء إذا انتبه باللیل، 5 / 2327، الرقم : 5957، ومسلم في الصحیح، کتاب : صلاۃ المسافرین وقصرها، باب : الدعاء في صلاۃ اللیل وقیامه، 1 / 525، الرقم : 763۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزاری۔ … حضرت بلال نے نماز (تہجد) کے لیے اذان دی۔ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا اور آپ ﷺ اپنی دعا میں فرما رہے تھے : ’’اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر دے اور میری نگاہ میں نور اور میری سماعت میں نور اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور اور مجھے نور بنا دے۔‘‘ کُرَیب کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے سات چیزوں کا ذکر فرمایا۔ میں حضرت عباس کی اولاد میں سے ایک شخص سے ملا تو اس نے ان کا ذکر کر کے عصبی و لحمی و دمی، شعری اور بشری (میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری جلد) کا ذکر کیا نیز دو چیزیں اور بیان کیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ، اَلْحَمْدُ ِللهِ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ قَالَ : اَللّٰھُمَّ، اغْفِرْ لِي أَوْ دَعَا اسْتُجِيْبَ لَهُ فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّی قُبِلَتْ صَلَاتُهُ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، أبواب : التهجد، باب : من تعار من اللیل فصلی، 1 / 387، الرقم : 1103، والترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في الدعاء إذا انتبه من اللیل، 5 / 480، الرقم : 3414، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقول الرجل إذا تعار من اللیل، 4 / 314، الرقم : 5060، وابن ماجه في السنن، کتاب : الدعائ، باب : ما ویدعو به إذا انتبه من اللیل، 2 / 1276، الرقم : 3878۔

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات کو اُٹھے اور کہے : ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ‘‘ (نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ پاک ہے اور نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ اور اللہ بہت بڑا ہے اور (نیکی کرنے کی) طاقت اور (گناہ سے بچنے کی) قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔) پھر کہے : ’’اے اللہ! مجھے بخش دے یا اور دعا کرے تو (اس کی دعا) قبول کی جائے گی اور اگر وضو کرے اور نماز ادا کرے تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ترمذی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ یَتَهَجَّدُ قَالَ : اَللّٰھُمَّ، لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، لَکَ مُلْکُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِکُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ ﷺ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اَللّٰھُمَّ، لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَيْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُکَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، أبواب : التهجد، باب : التهجد باللیل، 1 / 377، الرقم : 1069، ومسلم في الصحیح، کتاب : صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب : الدعاء في صلاۃ اللیل وقیامه، 1 / 532، الرقم : 769، والترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما یقول إذا قام من اللیل إلی الصلاۃ، 5 / 481، الرقم : 3418، والنسائي في السنن، کتاب : قیام اللیل وتطوع النهار، باب : ذکر ما یستفتح به القیام، 3 / 209، الرقم : 1619، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : ما یستفتح به الصلاۃ من الدعائ، 1 / 205، الرقم : 771۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے : اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا قائم رکھنے والا ہے۔ تیرے لیے سب تعریفیں ہیں اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی تیرے لیے ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے اور تیرے لیے سب تعریفیں ہیں اور تو برحق ہے، تیرا وعدہ برحق ہے، تیرا دیدار برحق ہے، تیرا کلام برحق ہے، جنت برحق ہے، دوزخ برحق ہے، سارے نبی برحق ہیں، محمد مصطفی ﷺ برحق ہیں اور قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے حضور گردن جھکا دی، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف متوجہ ہوا، تیری خاطر جھگڑا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا۔ پس مجھے بخش دے اور جو میں نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اور جو چھپا کر کیا اور جو علانیہ کیا، تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب کے بعد ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر تو اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ یہ متفق علیہ حدیث ہے۔

5۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : کَانَ النَّبِيُّ ﷺ یَقُوْلُ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَی وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ۔ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَایَايَ کَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : التعوذ من فتنۃ الکفر، 5 / 2344، الرقم : 6016، ومسلم في الصحیح، کتاب : المساجد ومواضع الصلاۃ، باب : التعوذ من شر الفتن وغیرها، 4 / 2078، الرقم : 589، والترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 77، 5 / 525، الرقم : 3495۔

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ یوں دعا کیا کرتے : اے اللہ! میں فتنہ جہنم، فتنہ قبر، عذاب جہنم، عذاب قبر، فتنہ دولت مندی کی برائی، فتنہ مفلسی کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے یوں صاف کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے، نیز میری خطاؤں اور میرے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! میں سستی، بار عصیاں اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

6۔ عَنْ حُذَيْفَةَ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ قَالَ : اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَأَمُوْتُ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ : اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

6 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : التوحید، باب : السؤال بأسماء الله تعالی والاستعاذ بها، 6 / 2692، الرقم : 6959، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما یقال عند النوم، 4 / 411، الرقم : 5049، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 322، الرقم : 26521، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 399، الرقم : 23439۔

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب بستر پر جانے لگتے تو فرماتے : اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جتیا (سوتا اور جاگتا) ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : سب تعریفیں خدا کے لیے ہیں جس نے ہمیں مر جانے کے بعد زندہ کیا اور اُسی کی طرف جمع ہونا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی الله عنه قَالَ : لَا أَقُوْلُ لَکُمْ إِلَّا کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ، کَانَ یَقُوْلُ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَکِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَکَّاهَا أَنْتَ وَلِیُّهَا وَمَوْلَاهَا۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا یُسْتَجَابُ لَهَا۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَالنَّسَائِيُّ۔

7 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : المساجد ومواضع الصلاۃ، باب : التعوذ من شر ما عمل ومن شر ما لم یعمل، 4 / 2088، الرقم : 2722، والنسائي في السنن، کتاب : الاستعاذۃ، باب : الاستعاذۃ من العجز، 8 / 260، الرقم : 5458، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 371، الرقم : 19327۔

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں تم سے اسی طرح کہتا ہوں جس طرح حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا، آپ فرماتے تھے : اے اللہ! میں عجز، سستی، بزدلی، بخل، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما، اس کو پاکیزہ کر، تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے اور تو اسی کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! جو علم نفع نہ دے، جو دل ڈرتا نہ ہو، جو نفس سیر نہ ہو اور جو دعاء قبول نہ ہو اس سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِکَ وَجَمِيْعِ سَخَطِکَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُوْدَاوُدَ۔

8 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب : أکثر أهل الجنۃ الفقراء وأکثر أهل النار النساء وبیان الفتنۃ بالنساء، 4 / 2097، الرقم : 2739، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : في الاستعاذۃ، 2 / 91، الرقم : 1545۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی (دعاؤں میں سے) یہ دعا بھی تھی : اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت کے پھر جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقُلْ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

9 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : صلاۃ المسافرین وقصرها، باب : ما یقول إذا دخل المسجد، 1 / 494، الرقم : 713، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : فیما یقوله الرجل عند دخوله المسجد، 1 / 126، الرقم : 465، والدارمي في السنن، 1 / 377، الرقم : 1394۔

’’حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے : ’’اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر آئے تو کہے : ’’اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ‘‘ (اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

10۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ قَالَ یَعْنِي إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ : بِسْمِ اللهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، یُقَالُ لَهُ : کُفِيْتَ وَوُقِيْتَ، وَتَنَحَّی عَنْهُ الشَّيْطَانُ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

10 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما یقول إذا خرج من بیته، 5 / 490، الرقم : 3426، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ما جاء فیمن دخل بیته ما یقول، 4 / 325، الرقم : 5095، وابن حبان في الصحیح، 3 / 104، الرقم : 822۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص گھر سے باہر جاتے وقت یہ کلمات کہے : ’’بِسْمِ اللهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ‘‘ (اللہ کے نام سے (باہر جاتا ہوں)، میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، نیکی کرنے اور برائی سے باز رہنے کی قوت اسی (کی عطا) سے ہے۔) ایسے آدمی کو کہا جاتا ہے کہ تیری کفایت کی گئی، تو (شر سے) بچایا گیا اور اس سے شیطان دور رہتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

11۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ : اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّیئِ الْأَسْقَامِ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

11 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : في الاستعاذۃ، 2 / 93، الرقم : 1554، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 192، الرقم : 13027، وابن حبان في الصحیح، 3 / 295، الرقم : 1017۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ یوں دعا مانگا کرتے : اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں برص، دیوانہ پن، کوڑھ اور جملہ بُری بیماریوں سے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَقُوْلَ : یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَی دِيْنِکَ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ : نَعَمْ، إِنَّ الْقُلُوْبَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ یُقَلِّبُهَا کَيْفَ یَشَاءُ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

12 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : القدر، باب : ما جاء أن القلوب بین إصبعي الرحمن، 4 / 448، الرقم : 2140، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 25، الرقم : 29196، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 112، الرقم : 12128، وأبو یعلی في المسند، 6 / 359، الرقم : 3687۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لائے کیا آپ کو ہمارا دین سے پھر جانے کا ڈر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، انسانوں کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں وہ جس طرح چاہے انہیں پھیر دے (یعنی اس کے قبضہ میں ہیں)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ بِهَؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ : اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ۔

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَأَحْمَدُ۔

13 : أخرجه النساني في السنن، کتاب : الاستعاذۃ، باب : الاستعاذۃ من غلبۃ الدین، 8 / 265، الرقم : 5475، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 173، الرقم : 6618، والحاکم في المستدرک، 1 / 713، الرقم : 1945۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ! میں قرضے اور دشمن کے غلبہ اور دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

14۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ ﷺ یَدْعُوْ یَقُوْلُ : رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْکُرْ لِي وَلَا تَمْکُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَیَسِّرْ الْهُدَی لِي وَانْصُرْنِي عَلَی مَنْ بَغَی عَلَيَّ۔ رَبِّ اجْعَلْنِي لَکَ شَکَّارًا لَکَ ذَکَّارًا لَکَ رَهَّابًا لَکَ مِطْوَاعًا لَکَ مُخْبِتًا إِلَيْکَ أَوَّاهًا مُنِيْبًا۔ رَبِّ، تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيْمَةَ صَدْرِی۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه۔قَالَ أَبُو عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

14 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : في دعاء النبي ﷺ ، 5 / 554، الرقم : 3551، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : ما یقول الرجل إذا سلم، 2 / 83، الرقم : 1510، وابن ماجه في السنن، کتاب : الدعائ، باب : دعاء رسول الله ﷺ ، 2 / 1259، الرقم : 3830۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے میرے پروردگار! میری مدد فرما میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر مجھے کامیاب فرما اور میرے خلاف کسی کو کامیابی نہ دے، میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کی تدبیر کارگر نہ ہو۔ مجھے ہدایت دے اور اسے میرے لئے آسان فرما۔ مجھ پر زیادتی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے پالنہار! تو مجھے اپنا کثرت سے ذکر کرنے والا شکر گزار، بہت ڈرنے والا نہایت فرمانبردار، خوب اطاعت کرنے والا، بہت عاجزی کرنے والا بہت گریہ و زاری کرنے والا اور تیری ہی جانب رجوع کرنے والا بنا دے۔ میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہوں کو دھو ڈال۔ میری دعا قبول فرما، میری دلیل کو قائم رکھ، میری زبان کو درست رکھ، میرے دل کو ہدایت پر قائم رکھ اور میرے سینے کی کھوٹ نکال دے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

15۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَرْدَفَهُ عَلَی دَابَّتِهِ فَلَمَّا اسْتَوَی عَلَيْهَا، کَبَّرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ثَـلَاثًا، وَحَمِدَ اللهَ ثَـلَاثًا، وَسَبَّحَ اللهَ ثَـلَاثًا، وَهَلَّلَ اللهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَی عَلَيْهِ فَضَحِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَقَالَ : مَا مِنَ امْرِیئٍ یَرْکَبُ دَابَّتَهُ فَصَنَعَ کَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَضَحِکَ إِلَيْهِ کَمَا ضَحَکْتُ إِلَيْکَ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ۔

15 : أخرجه أحمد ابن حنبل في المسند، 1 / 330، الرقم : 3058، والطبراني في مسند الشامیین، 2 / 356، الرقم : 1489، والهیثمي في مجمع الزوائد، 10 / 131۔

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے تین دفعہ اللہ اکبر، تین دفعہ الحمد لله، تین دفعہ سبحان اللہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللہ کہا۔ پھر تھوڑے سے جھکے اور مسکرائے۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : جو شخص اپنی سواری پر سوار ہوتے ہوئے اس طرح کرتا ہے جیسے میں نے کیا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسی طرح مسکراتا ہے جس طرح میں مسکرایا۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

16۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَی : {لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَo} [الأنبیاء، 21 : 87] أَیُّمَا مُسْلِمٍ دَعَا بِهَا فِي مَرَضِهِ أَرْبَعِيْنَ مَرَّةً فَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِکَ أُعْطِيَ أَجْرَ شَهِيْدٍ وَإِنْ بَرَأَ بَرَأَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ جَمِيْعُ ذُنُوْبِهِ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ۔

16 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 506، الرقم : 1865، والمنذري في الترغیب والترھیب، 4 / 167، الرقم : 5284، والسیوطي في الدر المنثور، 5 / 669۔

’’حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّي کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَo} (تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھاo) کے متعلق فرمایا کہ جو مسلمان اپنی بیماری کے دوران اس کے توسل سے چالیس دفعہ دعا کرے، پھر وہ اس بیماری میں فوت ہو جائے تو اسے شہید کا ثواب ملتا ہے اور اگر وہ شفایاب ہو جائے تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

17۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ : لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه ثَوْبًا جَدِيْدًا فَقَالَ : اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي کَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَیَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَی الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيْدًا فَقَالَ : اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي کَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَیَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَی الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، کَانَ فِي کَنَفِ اللهِ وَفِي حِفْظِ اللهِ وَفِي سَتْرِ اللهِ حَیًّا وَمَيِّتًا۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ۔

17 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 108، 5 / 558، الرقم : 3560، وابن ماجه في السنن، کتاب : اللباس، باب : ما یقول الرجل إذا لبس ثوبا جدیدا، 2 / 1178، الرقم : 3557، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 189، الرقم : 25089، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 44، الرقم : 305، والحاکم في المستدرک، 4 / 214، الرقم : 7410۔

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے نیا لباس زیب تن فرمایا تو اس طرح اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا : ’’اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي کَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَیَاتِي‘‘ (اللہ تعالیٰ لائق ستائش ہے جس نے مجھے لباس پہنایا کہ میں اس سے اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔) پھر فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص نیا لباس پہن کر یہ (مذکورہ بالا) دعا مانگے اور پرانے کپڑے صدقہ کر دے وہ زندگی بھر اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی حمایت، حفاظت اور پردے میں رہے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

18۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : مَنْ أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ : اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ۔ قَالَ : وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ : اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي کَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ۔

أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مُخْتَصَرًا وَأَبُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ۔

18 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : ما یقول إذا فرغ من الطعام، 5 / 508، الرقم : 3458، وأبو داود في السنن، کتاب : اللباس، باب : 1، 4 / 42، الرقم : 4023، وابن ماجه في السنن، کتاب : الأطعمۃ، باب : ما یقال إذا فرغ من الطعام، 2 / 1093، الرقم : 3285، وأبو یعلی في المسند، 3 / 62، الرقم : 1488، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 181، الرقم : 389، والبخاري في التاریخ الکبیر، 7 / 360، الرقم : 1557۔

’’حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ‘‘ (تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ (کھانا) کھلایا اور بغیر ہمت اور قوت کے یہ مجھے عطا کیا) تو اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اور جس نے نیا لباس پہننے کے بعد یہ دعا پڑھی : ’’اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي کَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ‘‘ (تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور بغیر ہمت اور قوت کے یہ مجھے عطا کیا) تو اس کے بھی اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘

اسے امام ترمذی نے مختصراً اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔

19۔ عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یَا عَلِيُّ، أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ إِذَا وَقَعْتَ فِي وَرْطَةٍ قُلْتَهَا؟ قُلْتُ بَلَی، جَعَلَنِيَ اللهُ فِدَاکَ، کَمْ مِنْ خَيْرٍ قَدْ عَلَّمْتَنِيْهِ قَالَ : إِذَا وَقَعْتَ فِي وَرْطَةٍ فَقُلْ : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّ اللهَ یَصْرِفُ بِهَا مَا یَشَاءُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَـلَاءِ۔

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ۔

19 : أخرجه النسائي في عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 298، الرقم : 336، والطبراني في الدعائ، 1 / 546، الرقم : 1961۔

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم کسی مشکل میں پھنس جاؤ، تو وہ کہو؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، آپ نے کتنی ہی اچھی چیزیں مجھے سکھائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم کسی مصیبت میں پھنس جاؤ، تو یوں کہو : ’’بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع جو نہایت مہر بان، بڑا رحم فرمانے والا ہے، اور نیک کام کرنے کی طاقت اور قوت نہیں مگر اللہ تعالیٰ جو بلند رتبہ اور عظمت والا ہے کی توفیق سے)۔ پس اللہ تعالیٰ ان کلمات کے ذریعے سے انواع و اقسام کی آزمائشوں میں سے جو چاہتا ہے ٹال دیتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved