Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 1 :حضور نبی اکرم ﷺ کی اتباع کی اہمیت و فضیلت کا بیان

فَصْلٌ فِي فَضْلِ اتِّبَاعِ النَّبِيِّ ﷺ

{حضور نبی اکرم ﷺ کی اتباع کی اہمیت و فضیلت کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ کُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَيْهِ۔

(البقرۃ، 2 : 143)

’’اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول ( ﷺ ) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔‘‘

2۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللهُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

(آل عمران، 3 : 31)

’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہےo‘‘

3۔ رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَo

(آل عمران، 3 : 53)

’’اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے اس رسول کی اتباع کی سو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لےo‘‘

4۔ یٰٓایُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اَطِيْعُوْا اللهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْئٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ذٰلِکَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلاًo

(النساء، 4 : 59)

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول( ﷺ ) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول( ﷺ ) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہےo‘‘

5۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ ط وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآءوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًاo

(النساء، 4 : 64)

’’اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ( ﷺ ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

6۔ وَ اَطِيْعُوا اللهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ج فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُo

(المائدۃ، 5 : 92)

’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرو اور (خدا و رسول ﷺ کی مخالفت سے) بچتے رہو، پھر اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف (احکام کا) واضح طور پر پہنچا دینا ہی ہے (اور وہ یہ فریضہ ادا فرما چکے ہیں)o‘‘

7۔ فَاٰمِنُوْا بِاللهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَ کَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَo

(الأعراف، 7 : 158)

’’سو تم اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) پر ایمان لاؤ جو (شانِ اُمیّت کا حامل) نبی ہے (یعنی اس نے اللہ کے سوا کسی سے کچھ نہیں پڑھا مگر جمیع خلق سے زیادہ جانتا ہے اور کفر و شرک کے معاشرے میں جوان ہوا مگر بطنِ مادر سے نکلے ہوئے بچے کی طرح معصوم اور پاکیزہ ہے) جو اللہ پر اور اس کے (سارے نازل کردہ) کلاموں پر ایمان رکھتا ہے اور تم انہی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاسکوo‘‘

8۔ وَاَطِيْعُوا اللهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo

(الأنفال، 8 : 1)

’’اور اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کیا کرو اگر تم ایمان والے ہوo‘‘

9۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا ِللهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِيْکُمْ۔

(الأنفال، 8 : 24)

’’اے ایمان والو! جب (بھی) رسول ( ﷺ ) تمہیں کسی کام کے لیے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول ( ﷺ ) کو فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو۔‘‘

10۔ یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَo

(الأنفال، 8 : 64)

’’اے نبی (معّظم!) آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور وہ مسلمان جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لیo‘‘

11۔ لَقَدْ تَّابَ اللهُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْم بَعْدِ مَا کَادَ یَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ط اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌo

(التوبۃ، 9 : 117)

’’یقینا اللہ نے نبی (معظم ﷺ ) پررحمت سے توجہ فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوئہ تبوک کی) مشکل گھڑی میں (بھی) آپ ( ﷺ ) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت سے متوجہ ہوا، بے شک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہےo‘‘

12۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَo

(النور، 24 : 56)

’’اور تم نماز (کے نظام) کو قائم رکھو اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کرتے رہو اور رسول ( ﷺ ) کی (مکمل) اطاعت بجا لائو تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے (یعنی غلبہ و اقتدار، استحکام اور امن و حفاظت کی نعمتوں کو برقرار رکھا جائے)o‘‘

13۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَo

(الشعرائ، 26 : 215)

’’اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لیے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہےo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ، فَـلَا تَقُوْمُوْا حَتَّی تَرَوْنِي۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : متی یقوم الناس إذا رأوا الإمام عند الإقامۃ، 1 / 228، الرقم : 611، وفي باب : لا یسعی إلی الصلاۃ مستعجلاً، ولْیَقُم بِالسکینۃ والوقارِ، ا / 828، الرقم : 612، وفي کتاب : الجمعۃ، باب : المشَّي إِلی الجُمُعَةِ، 1 / 308، الرقم : 867، ومسلم في الصحیح، کتاب : المساجد، باب : متی یقوم الناس للصلاۃ، 1 / 422، الرقم : 604۔606، والترمذي في السنن، کتاب : الوتر، باب : ما جاء فی الکلام بعد نزول الإمام من المنبر، 2 / 394، الرقم : 517، وفي کتاب : العیدین، باب : کراھیۃ أن یَنْتَظِر النَّاسُ الإِمامَ وھم قیامٌ، عند افْتِتاح الصَّلاَةِ، 2 / 487، الرقم : 592، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : في الصلاۃ تقام ولم یأت الإمام ینتظرونه قعود1، 1 / 148، الرقم : 539، والنسائي في السنن، کتاب : الأذان، باب : إقامۃ المؤذن عند خروج الإمام، 2 / 31، الرقم : 687۔

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اِقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوا کرو یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : دَعَوْنِي مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانْ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِـلَافِهِمْ عَلَی أَنْبِیَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُکُمْ عَنْ شَيئٍ فَاجْتَنِبُوْهُ، وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : الاقتداء سنن رسول الله ﷺ ، 6 / 2658، الرقم : 6858، ومسلم في الصحیح، کتاب : الحج، باب : فرض الحج مرۃ في العمر، 2 / 975، الرقم : 1337، والنسائي في السنن، کتاب : مناسک الحج، باب : وجوب الحج، 5 / 110، الرقم : 2619، وابن ماجه في السنن، المقدمۃ، باب : اتباع سنۃ رسول الله ﷺ ، 1 / 3، الرقم : 2، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 428، الرقم : 9519، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 129، الرقم : 2508، وابن حبان في الصحیح، 1 / 199، الرقم : 19، والسیوطي في أسباب ورود الحدیث، 1 / 135، الرقم : 92۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک میں تمہیں چھوڑے رہوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے باعث ہی ہلاک ہوئے، لهٰذا جب میں تمہیں کسی بات سے روکوں تو اس سے اجتناب کرو، اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو حسبِ استطاعت اس کی تعمیل کرو۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمًا فَقَالَ : یَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ۔ وَإِنِّي أَنَا النَّذِيْرُ الْعُرْیَانُ، فَالنَّجَاء، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوْا، فَانْطَلَقُوْا عَلَی مَهَلِهِمْ، فَنَجَوْا۔ وَکَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَکَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمْ الْجَيْشُ فَأَهْلَکَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ۔ فَذَلِکَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئتُ بِهِ۔ وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَکَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ ، 6 / 2656، الرقم : 6854، ومسلم في الصحیح، کتاب : الفضائل، باب : شفقته ﷺ علی أمته ومبالغۃ في تحذیرھم مما یضرهم، 4 / 1788، الرقم : 2283، وابن حبان في الصحیح، 1 / 176، الرقم : 3، وأبو یعلی في المسند، 13 / 294، الرقم : 7310، واللالکائي في اعتقاد أهل السنۃ، 1 / 78، الرقم : 86، والرامھرمزي في أمثال الحدیث، 1 / 23، الرقم : 10، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2 / 559۔

’’حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک میری اور اس (دین حق) کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنی قوم کے پاس آکر کہا : اے میری قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے میں تمہیں واضح طور پر اس سے ڈرانے والا ہوں لهٰذا اپنی حفاظت کا سامان کر لو چنانچہ اس کی قوم سے ایک جماعت نے اس کی بات مانی، راتوں رات نکل کر اپنی پناہ گاہ میں جا چھپے اور بچ گئے جبکہ ایک جماعت نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے اپنے مقامات پر ہی (بے فکری سے پڑے) رہے۔ منہ اندھیرے ایک لشکر نے ان پر حملہ کردیا انہیں ہلاک کر کے غارت گری کا بازار گرم کردیا۔ سو یہ مثال ہے اس کی جس نے میری اطاعت کی اور جو (دین حق) میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس شخص کی مثال جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

4۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : اتَّخَذَ النَّبِيُّ ﷺ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيْمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَال النَّبِيُّ ﷺ : إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذَهُ وَقَالَ : إِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيْمَهُمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : الاقتداء بأفعال النّبي ﷺ ، 6 / 2661، الرقم : 6868، ومسلم في الصحیح، کتاب : اللباس والزینۃ، باب : تحریک خاتم الذهب علی الرجال ونسخ ما کان من إباحته في الإسلام، 3 / 1655، الرقم : 2091، والترمذي في السنن، کتاب : اللباس، باب : ما جاء في لبس الخاتم في الیمین، وقال : حدیث بن عمر حدیث حسن صحیح، 4 / 227، الرقم : 1741، وأبو داود في السنن، کتاب : الخاتم، باب : ما جاء في اتخاذ الخاتم، 4 / 88، الرقم : 4218، والنسائي في السنن، کتاب : الزینۃ، باب : طرح الخاتم وترک لبسه، 8 / 195، الرقم : 5290، 5292، ومالک في الموطأ، 2 / 936، الرقم : 1675، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 60، الرقم : 5249۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی پھر آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا : اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَی۔ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَی۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ ، 6 / 2655، الرقم : 6851، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 361، الرقم : 8713، وابن حبان في الصحیح، 1 / 196، الرقم : 17، والحاکم في المستدرک، 1 / 122، الرقم : 182، 4 / 275، الرقم : 8626، وقال : صحیح الإسناد، والھیثمي نحوه عن أبي سعید الخدري رضی الله عنه في موارد الظمآن، 1 / 573، الرقم : 2306، والذھبي في سیر أعلام النبلاء، 14 / 404، والسیوطي في مفتاح الجنۃ، 1 / 19، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 4 / 522۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔‘‘ اسے امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

6۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ غُلَامٌ یَهُوْدِيٌّ یَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ یَعُوْدُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ : أَسْلِمْ۔ فَنَظَرَ إِلَی أَبِيْهِ وَهُوَ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ ۔ فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ یَقُوْلُ : اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ۔

6 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الجنائز، باب : إذا أسلم الصبي فمات هل یصلی علیه وهل یعرض علی الصبي الإسلام، 1 / 455، الرقم : 1290، وأبو داود في السنن، کتاب : الجنائز، باب : في عیادۃ الذمي، 3 / 185، الرقم : 3095، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 280، الرقم : 14009، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 185، الرقم : 524، وأبو یعلی في المسند، 6 / 93، الرقم : 3350، والبیهقي في السنن الکبری، 3 / 383، الرقم : 6389۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو حضور نبی اکرم ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر اُس سے فرمایا : اسلام قبول کرلو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اُس کے پاس بیٹھا تھا تو اس نے کہا : ابو القاسم ﷺ کی اطاعت کرو۔ وہ مسلمان ہو گیا۔ حضورنبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اسے جہنم سے بچا لیا۔‘‘

اسے امام بخاری، ابو داود اور احمد نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَأَی خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي یَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ وَقَالَ : یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ إِلَی جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُهَا فِي یَدِهِ، فَقِيْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ، خُذْ خَاتَمَکَ، انْتَفِعْ بِهِ۔ قَالَ : وَاللهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ۔

7 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : اللباس والزینۃ، باب : تحریم خاتم الذهب علی الرجال ونسخ ما کان من إباحته في الإسلام، 3 / 1655، الرقم : 2090، وابن حبان في الصحیح، 1 / 192، الرقم : 15، والبیهقي في السنن الکبری، 2 / 424، الرقم : 4014، وفي شعب الإیمان، 5 / 195، الرقم : 6334، والطبراني في المعجم الکبیر، 11 / 414، الرقم : 12175، وأبو عوانۃ في المسند، 5 / 251، الرقم : 8610، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 73، الرقم : 3129۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ﷺ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا قصد کرتا ہے! رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا : جاؤ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور (اسے فروخت کر کے ہی) نفع حاصل کر لو، اس نے کہا : خدا کی قسم! جس چیز کو رسول اللہ ﷺ نے پھینک دیا ہو اس کو میں کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔‘‘

اسے امام مسلم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُوْلِ الله ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَإِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي، وَإِنِّي لَأَکُوْنُ فِي الْبَيْتِ، فَأَذْکُرُکَ، فَمَا أَصْبِرُ حَتَّی آتِیَکَ، فَأَنْظُرُ إِلَيْکَ، وَإِذَا ذَکَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَکَ عَرَفْتُ أَنَّکَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّيْنَ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ حَسِبْتُ أَنْ لَا أَرَاکَ، فَلَمْ یَرُدَّ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَيْئًا، حَتَّی نَزَلَ جِبْرِيْلُ علیه السلام بِهَذِهِ الْآیَةِ : {وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ…} [النساء، 4 : 69] فَدَعَا بِهِ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ۔ وَقَالَ الْھَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ۔

8 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 152، الرقم : 477، وفي المعجم الصغیر، 1 / 53، الرقم : 52، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 4 / 240، 8 / 125، والهیثمي في مجمع الزوائد، 7 / 7، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 1 / 524، والسیوطي في الدر المنثور، 2 / 182۔

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صحابی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوئے کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان، اہل و عیال اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو ہی یاد کرتا رہتا ہوں اور اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک حاضر ہوکر آپ کی زیارت نہ کرلوں۔ لیکن جب مجھے اپنی موت اور آپ کے وصال مبارک کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ بلند ترین مقام پر جلوہ افروز ہوں گے اور جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو خدشہ ہے کہ کہیں آپ کی زیارت سے محروم نہ ہوجاؤں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس صحابی کے جواب میں سکوت فرمایا : یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس آیت مبارکہ کو لے کر نازل ہوئے {اور جو کوئی اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روز قیامت) اُن (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے}۔ پس آپ ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔‘‘

اسے امام طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

9۔ عَنْ عَطَاء بْنِ السَّائِبِ عَنِ الشَّعْبِيِّ رضی الله عنه قَالَ : جَاء رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ : لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَوَلَدِي وَأَهْلِي وَمَالِي وَلَوْلَا إِنِّي آتِيْکَ فَأَرَاکَ لَخَشِيْتُ أَنِّي سَأَمُوْتُ وَبَکَی الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : مَا أَبْکَاکَ؟ قَالَ : ذَکَرْتُ أَنَّکَ سَتَمُوْتُ وَنَمُوْتُ، فَتُرْفَعُ مَعَ النَّبِيِّيْنَ وَنَحْنُ إِنْ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ کُنَّا دُوْنَکَ۔ فَلَمْ یُخْبِرْهُ النَّبِيُّ ﷺ بِشَيئٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عزوجل عَلَی رَسُوْلِهِ ﷺ {وَمَنْ یُطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ…الخ} [النساء، 4 : 69۔70] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : أَبْشِرْ۔

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ مَنْصُوْرٍ۔

9 : أخرجه البیهقي في شعب الإیمان، 2 / 131، الرقم : 1380، وابن منصور في السنن، 4 / 1307، الرقم : 661، والھناد في الزھد، 1 / 118، والزیلعي في تخریج الأحادیث والآثار، 1 / 335، والسیوطي في الدر المنثور، 2 / 182۔

’’حضرت عطاء بن سائب، حضرت شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان، اولاد، اہل و عیال اور مال سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور جب تک میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر آپ کی زیارت نہ کرلوں تو یوں محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنی جان سے گزر جاؤں گا، اور (یہ بیان کرتے ہوئے) وہ انصاری صحابی زار و قطار رو پڑے۔ اس پر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ نالۂ غم کس لئے ہے؟ تو وہ عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ! جب میں خیال کرتا ہوں کہ آپ وصال فرمائیں گے اور ہم بھی مرجائیں گے تو آپ انبیاء کرام کے ساتھ بلند درجات پر فائز ہوں گے، اور جب ہم جنت میں جائیں گے توآپ سے نچلے درجات میں ہوں گے، (تو وہاں کیونکر شرفِ دیدار سے مفید ہوں گے) آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر (یہ آیت مبارکہ) نازل فرمائی : {اور جو کوئی اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) ان (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیںo یہ فضل (خاص) اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ جاننے والا کافی ہےo}‘‘ اس پر آپ ﷺ نے (اس صحابی کو بلایا اور) فرمایا : اے فلاں! تجھے (میری ابدی رفاقت کی) خوش خبری مبارک ہو۔‘‘

اسے امام بیہقی اور ابن منصور نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما : إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ۔ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما : یَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عزوجل بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا ﷺ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا ﷺ یَفْعَلُ۔

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَمَالِکٌ وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ۔

1 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : تقصیر الصلاۃ في السفر، باب : تقصیر الصلاۃ في السفر، 3 / 117، الرقم : 1434، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیها، باب : تقصیر الصلاۃ في السفر، 1 / 339، الرقم : 1066، ومالک في الموطأ، 1 / 145، الرقم : 334، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 65، 94، الرقم : 5333، 5863، وابن حبان في الصحیح، 4 / 301، الرقم : 1451، وابن خزیمۃ في الصحیح، 2 / 72، الرقم : 946، والحاکم في المستدرک، 1 / 388، الرقم : 946۔

’’حضرت اُمّیہ بن عبد اللہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا کہ ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کے احکام تو پاتے ہیں لیکن نماز قصرہم قرآن میں نہیں پاتے تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے حضور نبی اکرم ﷺ کو (ہادی بناکر) مبعوث فرمایا اور ہم کچھ بھی تو نہ جانتے تھے، ہم تو صرف وہی کرتے ہیں جو حضور نبی اکرم ﷺ کو عمل کرتے دیکھا ہے۔‘‘

اسے امام نسائی، ابن ماجہ اور مالک نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

2۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا کَانَ حِيْنَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ حَتَّی أَتَی الإِمَامُ فَصَلَّی مَعَهُ ا لْأُوْلَی وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَهُ وَأَنَا وَ أَصْحَابٌ لِي حَتَّی أَفَاضَ الإِمَامُ فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّی انْتَھَيْنَا إِلَی الْمَضِيْقِ دُوْنَ الْمَأْزِمَيْنِ، فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا، وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ یُرِيْدُ أَنْ یُصَلِّيَ، فَقَالَ غُـلَامُهُ الَّذِي یُمْسِکَ رَاحِلَتَهُ : إِنَّهُ لَيْسَ یُرِيْدُ الصَّلَاةَ وَلَکِنَّهُ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا انْتَھَی إِلَی ھَذَا المَکَانِ قَضَی حَاجَتَهُ فَھُوَ یُحِبُّ أَنْ یَقْضِيَ حَاجَتَهُ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرُوَاتُهُ مُحْتَجٌّ بِھِمْ فِي الصَّحِيْحِ۔

2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند 2 / 131، الرقم : 6151، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 43، الرقم : 76، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1 / 174، والسیوطي في مفتاح الجنۃ، 1 / 56۔

’’حضرت انس ابن سیرین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں میدانِ عرفات میں حصرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ جب کسی عمل کا وقت ہوتا، وہ جو کرتے میں بھی ان کے ساتھ وہی کرتا، حتی کہ اِمام آگیا تو انہوں نے نمازِ ظہر و عصر اس کے ساتھ پڑھی، پھر انہوں نے، میں نے اور میرے ساتھیوں نے وقوف کیا۔ یہاں تک کہ امام عرفات سے لوٹا تو ہم بھی لوٹے جب ’’مازمین‘‘ (ایک جگہ کا نام) کے قریب ایک گھاٹی میں پہنچے تو انہوں نے اپنی سواری کے اُونٹ کو بٹھایا۔ ہم نے بھی اپنے اُونٹ بٹھا دیئے۔ ہمارا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں، تو ان کے غلام نے جو ان کی سواری پکڑا کرتا تھا، بتایا کہ آپ (اس جگہ) نماز نہیں پڑھنا چاہتے بلکہ جب حضور نبی اکرم ﷺ اس جگہ پہنچے تھے تو آپ ﷺ نے یہاں اپنا کوئی معاملہ انجام دیا تھا تو (اسی وجہ سے اتباع رسول ﷺ میں) آپ رضی اللہ عنہ بھی پسند کرتے ہیں کہ یہاں اپنا کوئی معاملہ انجام دیں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث میں حجت ہیں۔

3۔ قال سَهْل بن عبد الله : لا مُعین إلا الله، ولا دَلیلَ إلاَّ رسول الله، ولا زاد إلا التَّقوی، ولا عَمَل إلا الصَّبر۔

3 : أخرجه السّلمي في طبقات الصّوفیۃ : 211۔

’’حضرت سہل بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مدد گار نہیں، رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی راہنما نہیں، تقویٰ کے علاوہ کوئی زاد راہ نہیں اور صبر کے سوا کوئی عمل نہیں۔‘‘

4۔ قال أبو الحسین الوراق : الصدق استقامۃ الطریق في الدین، واتباع السنۃ في الشرع۔

4 : أخرجه السّلمي في طبقات الصّوفیۃ : 299

’’ابو الحسین وراق رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : صدق، دین کے راستے میں استقامت اور شریعت میں اتباع سنت کا نام ہے۔‘‘

5۔ قال الحارثُ المحاسبي رَحِمَهُ الله : من صَحَّحَ باطِنَه بالمُراقَبةِ والإخْلاصِ، زَيَّنَ اللهُ ظاهرَه بالمجاهَدَةِ واتِّباعِ السُّنَّةِ۔

5 : أخرجه السُّلمي في طبقات الصّوفیۃ : 60

’’حضرت حارث محاسبی رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : جس شخص نے اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص کے ساتھ درست کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو مجاہدہ اور اتباع سنت کے ساتھ مزین کر دے گا۔‘‘

6۔ قال الإمام القسطلاني : رأس الأدب معه ﷺ کمال التسلیم له والانقیاد لأمره، وتلقي خبره بالقبول والتصدیق دون أن یحمله معارضۃ خیال باطل یسمیه صاحبه معقولاً، أو یسمیه شبھۃ، أو شکاً، أو یقدم علیه آراء الرجال وزبالات أذھانھم، فیوحد التحکیم والتسلیم والانقیاد والإذعان، کما وحد المرسل بالعبادۃ والخضوع والذل والإنابۃ والتوکل۔

6 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 459۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ آداب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے حکم کو کامل طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے اور آپ ﷺ کی خبر کو قبول کیا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے اور کوئی خیال فاسد جسے لوگ معقول کہتے ہیں اس کو اہمیت نہ دی جائے۔ اسی طرح جسے شبہ یا شک کہا جاتا ہے اسے بھی جگہ نہ دی جائے۔ آپ ﷺ کے حکم یا خبر سے لوگوں کی آراء اور ان کی ذہنی اختراعات کو مقدم نہ کیا جائے بلکہ صرف آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی جائے اور اس کے سامنے سر جھکایا جائے۔ گویا اس سلسلے میں آپ ﷺ کو واحد و یکتا سمجھا جائے جس طرح عبادت، خضوع، رجوع اور توکل صرف(آپ ﷺ کو) بھیجنے والی ذات اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔‘‘

7۔ قال الإمام القسطلاني : لمحبۃ الرسول ﷺ علامات : أعظمها الاقتداء به، واستعمال سنته، وسلوک طریقته، والاهتداء بهدیه وسیرته، والوقوف مع ما حدَّ لنا من شریعته۔ قال الله تعالی : {قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْکُمُ اللهُ} [آل عمران، 3 : 31] فجعل تعالی متابعۃ الرسول ﷺ آیۃ محبۃ العبد ربه، وجعل جزاء العبد علی حسن متابعۃ الرسول محبۃ الله تعالی إیاه۔

7 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواھب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 491۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت کی کچھ علامات ہیں۔ سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اقتدا اصل میں آپ کی سنت کو اپنانا، آپ ﷺ کے راستے پر چلنا، آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی لینا اور آپ ﷺ کی شریعت کی حدود پر ٹھہر جانا ہے۔ ارـشاد خداوندی ہے : {(اے حبیب!) آپ فرما دیں : اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا}۔ پس اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی اتباع کو بندے کی اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت قرار دیا اور رسول اکرم ﷺ کی اچھی طرح اتباع کی جزاء بندے کے لئے اپنی محبت کو قرار دیا۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved