Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 4 :اطاعت رسول ﷺ میں صحابہ کے بعض ایمان افروز واقعات

فَصْلٌ فِي کَيْفِيَّاتِ الصَّحَابَةِ فِي اتِّبَاعِ النَّبِيِّ ﷺ

{اِطاعتِ رسول ﷺ میں صحابہ کے بعض ایمان افروز واقعات}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَيْنِ اِذْهُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنَا ج فَاَنْزَلَ اللهُ سَکِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِيْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ط وَکَلِمَةُ اللهِ هِیَ الْعُلْیَا ط وَاللهُ عَزِيْزٌ حَکِيْمٌo

(التوبۃ، 9 : 40)

’’اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی غلبہ اسلام کی جدوجہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بے شک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جب کہ دونوں (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق ص) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق ص) سے فرما رہے تھے غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فرو تر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہےo‘‘

2۔ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُo

(التوبۃ، 9 : 100)

’’اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجہء احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہےo‘‘

3۔ لَقَدْ تَّابَ اللهُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْم بَعْدِ مَا کَادَ یَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ط اِنَّهٗ بِهِمْ رَءوْفٌ رَّحِيْمٌo وَّعَلَی الثَّلٰـثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا ط حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْھِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللهِ اِلَّآ اِلَيْهِ ط ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِیَتُوْ بُوْا ط اِنَّ اللهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُo

(التوبۃ، 9 : 117، 118)

’’یقینا اللہ نے نبی (معظم ﷺ ) پررحمت سے توجہ فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوئہ تبوک کی) مشکل گھڑی میں (بھی) آپ ( ﷺ ) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت سے متوجہ ہوا، بے شک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہےo اور ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرمادی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجزاس کی طرف (رجوع کے)، تب اللہ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بے شک اللہ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا،نہایت مہربان ہےo‘‘

4۔ وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ ز وَمَا زَادَھُمْ اِلَّا اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًاo مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللهَ عَلَيْهِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَهٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًاo

(الأحزاب، 33 : 22-23)

’’اور جب اہلِ ایمان نے (کافروں کے) لشکر دیکھے تو بول اٹھے کہ یہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) نے سچ فرمایا ہے سو اس (منظر) سے ان کے ایمان اور اطاعت گزاری میں اضافہ ہی ہواo مومنوں میں سے (بہت سے) مَردوں نے وہ بات سچ کر دکھائی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا، پس ان میں سے کوئی (تو شہادت پا کر) اپنی نذر پوری کر چکا ہے اور ان میں سے کوئی (اپنی باری کا) انتظار کر رہا ہے، مگر انہوں نے (اپنے عہد میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کیo‘‘

5۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ ط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِهٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَیُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًاo

(الفتح، 48 : 10)

’’(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہو گا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo‘‘

6۔ لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْ بِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِيْنَةَ عَلَيْھِمْ وَ اَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِيْبًاo

(الفتح، 48 : 18)

’’بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے، سو جو (جذبۂ صدِق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اللہ نے معلوم کرلیا تو اللہ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیاo‘‘

7۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ ط وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ۔

(الفتح، 48 : 29)

’’محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ ( ﷺ ) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔‘‘

8۔ لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ ط اُولٰٓئِکَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَo وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo وَالَّذِيْنَ جَآءُوْا مِنْم بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌo

(الحشر، 59 : 8-10)

’’(مذکورہ بالا مالِ فَے) نادار مہاجرین کے لیے (بھی) ہے جو اپنے گھروں اور اپنے اموال (اور جائیدادوں) سے باہر نکال دیے گئے ہیں، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضاء و خوشنودی چاہتے ہیں اور (اپنے مال و وطن کی قربانی سے) اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہی سچے مؤمن ہیںo

(یہ مال اُن انصار کے لیے بھی ہے) جنہوں نے اُن (مہاجرین) سے پہلے ہی شہرِ (مدینہ) اور ایمان کو گھر بنالیا تھا۔ یہ لوگ اُن سے محبت کرتے ہیں جو اِن کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں۔ اور یہ اپنے سینوں میں اُس (مال) کی نسبت کوئی طلب (یا تنگی) نہیں پاتے جو اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو، اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچالیا گیا پس وہی لوگ ہی با مراد و کامیاب ہیںo اور وہ لوگ (بھی) جو اُن (مہاجرین و انصار) کے بعد آئے (اور) عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی، جو ایمان لانے میں ہم سے آگے بڑھ گئے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ اور بغض باقی نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بہت شفقت فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : اتَّخَذَ النَّبِيُّ ﷺ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيْمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَال النَّبِيُّ ﷺ : إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذَهُ وَقَالَ : إِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيْمَهُمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : الاقتداء بأفعال النّبي ﷺ ، 6 / 2661، الرقم : 6868، ومسلم في الصحیح، کتاب : اللباس والزینۃ، باب : تحریک خاتم الذهب علی الرجال ونسخ ما کان من إباحته في الإسلام، 3 / 1655، الرقم : 2091، والترمذي في السنن، کتاب : اللباس، باب : ما جاء في لبس الخاتم في الیمین، وقال : حدیث ابن عمر حدیث حسن صحیح، 4 / 227، الرقم : 1741، وأبو داود في السنن، کتاب : الخاتم، باب : ما جاء في اتخاذ الخاتم، 4 / 88، الرقم : 4218، والنسائي في السنن، کتاب : الزینۃ، باب : طرح الخاتم وترک لبسه، 8 / 195، الرقم : 5290، 5292، ومالک في الموطأ، 2 / 936، الرقم : 1675، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 60، الرقم : 5249۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی پھر آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا : اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ الْمِقْدَادُ یَوْمَ بَدْرٍ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّا لاَ نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ لِمُوْسَی علیه السلام : {فَاذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ إِنَّا ھَاھُنَا قَاعِدُوْنَ} [المائدۃ، 5 : 24]، وَلَکِنِ امْضِ وَنَحْنُ مَعَکَ فَکَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : تفسیر القرآن، باب : قوله : فاذھب أنت وربک فقاتلا إنا ھاھنا قاعدون، 4 / 1684، الرقم : 4333، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 333، الرقم : 11140، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 314، الرقم : 18073، وابن أبي عاصم في الجھاد، 2 / 555، الرقم : 220، وقال : إسناده حسن۔

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے وقت حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالتِ مآب ﷺ میں یوں عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات ہر گز نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی : {پس تم جاؤ اور تمہارا رب (ساتھ جائے) سو تم دونوں (ہی ان سے) جنگ کرو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں}۔‘‘ بلکہ آپ تشریف لے چلیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کو ان کے اس جواب سے بہت خوشی و مسرت ہوئی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه قَالَ : شَھِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ مَشْھَدًا لَأَنْ أَکُوْنَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيئٍ قَالَ : أَتَی النَّبِيَّ ﷺ وَکَانَ رَجُـلًا فَارِسًا قَالَ : فَقَالَ : أَبْشِرْ، یَا نَبِيَّ اللهِ، وَاللهِ، لَا نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ لِمُوْسَیں : {اِذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ إِنَّا ھَاھُنَا قَاعِدُوْنَ} [المائدۃ، 5 : 24] وَلَکِنِ الَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَنَکُوْنَنَّ بَيْنَ یَدَيْکَ، وَعَنْ یَمِيْنِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ وَمِنْ خَلْفِکَ حَتَّی یَفْتَحَ اللهُ عَلَيْکَ۔ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ یُشْرِقُ لِذَلِکَ وَسَرَّهُ ذَلِکَ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالْبَزَّارُ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المغازي، باب : قول الله تعالی : إذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم أني ممددکم بألف من الملائکۃ مردفین الخ، 4 / 1456، الرقم : 3736 وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 457، الرقم : 4376، والبزار في المسند، 4 / 285، الرقم : 1455، 1 / 389، الرقم : 3698، 4070، والحاکم في المستدرک، 3 / 392، الرقم : 5486، والطبراني في المعجم الکبیر بإسناد جید، 17 / 124، الرقم : 306، والشاشي في المسند، 2 / 197، الرقم : 766 وابن أبي عاصم في الجھاد، 2 / 556، الرقم : 221، وإسناده صحیح۔

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اس منظر کا مالک ہونا میرے لیے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہے (یعنی کاش اس وقت ان کی جگہ میں ہوتا) وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (یعنی حضرت مقداد ص) حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ ایک بہادر شخص تھے، انہوں نے عرض کیا : یا نبی اللہ! آپ کو خوشخبری ہو۔ خدا کی قسم! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا : {پس تم جاؤ اور تمہارا رب (ساتھ جائے) سو تم دونوں (ہی ان سے) جنگ کرو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔} لیکن اس ذات کی قسم! جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے ہم (جہاد میں) آپ کے سامنے، دائیں طرف اور بائیں طرف اور آپ کے پیچھے ہوں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا فرما دے، پس میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرۂ اقدس دیکھا کہ وہ خوشی سے چمک اٹھا اور آپ ﷺ کو ان کی اس بات نے بہت خوش کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، احمد، حاکم نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور بزار نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ رضي اللهُ عنهما قَالَا : إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ یَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ بِعَيْنَيْهِ قَالَ : فَوَاللهِ، مَا تَنَخَّمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي کَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَکَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُم ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وُضُوْئِهِ، وَإِذَا تَکَلَّمَ خَفَضُوْا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا یُحِدُّوْنَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيْمًا لَهُ۔ فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَي قَوْمِ، وَاللهِ، لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوْکِ، وَفَدْتُ عَلَی قَيْصَرَ وَکِسْرَی وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللهِ، إِنْ رَأَيْتُ مَلِکًا قَطُّ یُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا یُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُحَمَّدًا۔ … الحدیث۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الشروط، باب : الشروط في الجھاد والمصالحۃ مع أھل الحرب وکتابۃ الشروط في القرض، 2 / 974، الرقم : 2581، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، وابن حبان في الصحیح، 11 / 216، الرقم : 4872، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 9، الرقم : 13، والبیھقي في السنن الکبری، 9 / 220۔

’’حضرت مِسْوَر بن مَخْرَمَہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، عروہ بن مسعود (جب بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں کفار کا وکیل بن کر آیا تو) صحابہ کرام کو دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ ﷺ اپنا لعابِ دہن پھینکتے ہیں تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اسے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب آپ ﷺ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو اس کی فوراً تعمیل کی جاتی ہے۔ جب آپ ﷺ وضو فرماتے ہیں تو لوگ آپ ﷺ کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے ہیں تو صحابہ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے ہیں اور انتہائی تعظیم کے باعث آپ ﷺ کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم! اللہ رب العزت کی قسم! میں (عظیم الشان) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں، میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ﷺ کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔‘‘

اسے امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

5۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه : کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُوْا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللهِ فَقَالَ : وَاللهِ، لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ۔ وَاللهِ، لَوْ مَنَعُوْنِي عَنَاقًا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَهَا إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهَا۔ قَالَ عُمَرُ رضی الله عنه : فَوَاللهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ رضی الله عنه فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الزکاۃ، باب : وجوب الزکاۃ، 2 / 507، الرقم : 1335، وفي کتاب : استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب : قتل من أبی قبول الفرائض وما نسبوا إلی الردۃ، 6 / 2538، الرقم : 6526، ومسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : الأمر بقتال الناس حتی یقول لا إله إلا الله، 1 / 51، الرقم : 20، والترمذي في السنن، کتاب : الإیمان، باب : ما جاء أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا إله إلا الله، 5 / 3، الرقم : 2607، والنسائي في السنن، کتاب : الزکاۃ، باب : مانع الزکاۃ، 5 / 14، الرقم : 2443، وأبو داود في السنن، کتاب : الزکاۃ، 2 / 93، الرقم : 1556۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عرب میں بعض قبائل مرتد ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں : نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ۔ جس نے یہ کہہ لیا اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچا لی مگر حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ لے گا۔ فرمایا کہ خدا کی قسم، میں ان سے لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں کیونکہ زکوٰۃ مالی حق ہے۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے رسی بھی روکی جو رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے تو میں اس روکنے پر ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر نے کہا : خدا کی قسم، بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابو بکر کا سینہ کھول دیا تھا پس میں نے جان لیا کہ آپ حق پر ہیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

6۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَأَی خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي یَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ وَقَالَ : یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ إِلَی جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُهَا فِي یَدِهِ، فَقِيْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ، خُذْ خَاتَمَکَ، انْتَفِعْ بِهِ۔ قَالَ : وَاللهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ۔

6 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : اللباس والزینۃ، باب : تحریم خاتم الذهب علی الرجال ونسخ ما کان من إباحته في الإسلام، 3 / 1655، الرقم : 2090، وابن حبان في الصحیح، 1 / 192، الرقم : 15، والبیهقي في السنن الکبری، 2 / 424، الرقم : 4014، وفي شعب الإیمان، 5 / 195، الرقم : 6334، والطبراني في المعجم الکبیر، 11 / 414، الرقم : 12175، وأبو عوانۃ في المسند، 5 / 251، الرقم : 8610، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 73، الرقم : 3129۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ﷺ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا قصد کرتا ہے! رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا : جاؤ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور (اسے فروخت کر کے ہی) نفع حاصل کر لو، اس نے کہا : خدا کی قسم! جس چیز کو رسول اللہ ﷺ نے پھینک دیا ہو اس کو میں کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔‘‘

اسے امام مسلم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ شَاوَرَ حِيْنَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْیَانَ۔ قَالَ : فَتَکَلَّمَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ رضی الله عنه فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رضی الله عنه فَقَالَ : إِيَّانَا تُرِيْدُ یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيْضَھَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاھَا، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَھَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا، قَالَ : فَنَدَبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ النَّاسَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

7 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الجهاد والسیر، باب : غزوۃ بدر، 3 / 1403، الرقم : 1779، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 7 / 362، الرقم : 36708، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 257، الرقم : 13729، 3 / 219۔220، الرقم : 13320۔ 13321، وأبو عوانۃ في المسند، 4 / 283، الرقم : 6767، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 60 / 159، 20 / 250، والنووي في شرحه علی صحیح مسلم، 12 / 124، والمزي في تھذیب الکمال، 10 / 280، والشوکاني في نیل الأوطار، 8 / 45۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کو جب ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کی آمد کا پتہ چلا توآپ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاہا، آپ ﷺ نے منہ پھیر لیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاہا آپ ﷺ نے ان کی طرف سے بھی منہ پھیر لیا۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا آپ ہم لوگوں (یعنی انصار) سے رائے لینا چاہتے ہیں؟ تو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں تو ہم سمندر میں ڈال کر رہیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ ہم اپنی اونٹنیوں کے سینے برک الغماد پہاڑ سے جا ٹکرائیں تو ہم ایسا ضرور کر کے رہیں گے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ (خوش ہوئے اور آپ ﷺ نے) لوگوں کو دعوتِ (جہاد) دی۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيْلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَی قَرْیَةٍ عَلَی رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِیَةَ عَشَرَ مِيْـلًا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ۔ فَقَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّی بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ : إِنَّمَا أَفْعَلُ کَمَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَفْعَلُ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَالنَّسَائِيُّ۔

8 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : صلاۃ المسافرین وقصرها، باب : صلاۃ المسافرین وقصرها، 1 / 481، الرقم : 692، والنسائي في السنن، کتاب : تقصیر الصلاۃ في السفر، 3 / 118، الرقم : 1437، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 29، الرقم : 198، والبزار في المسند، 1 / 447، الرقم : 316، والبیهقي في السنن الکبری، 3 / 146، الرقم : 5232۔

’’جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ میں شُرَحْبِیل بن سِمط کے ساتھ سترہ یا اٹھارہ میل کی مسافت پر ایک بستی میں گیا تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میں وہی کرتا ہوں جو میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رضی الله عنه عَنْ أَبِيْهِ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه یَقُوْلُ : أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِکَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ : الْیَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَکْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ یَوْمًا، قَالَ : فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِکَ؟ قُلْتُ : مِثْلَهُ، وَأَتَی أَبُوْبَکْرٍ بِکُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ ﷺ : یَا أَبَا بَکْرٍ، مَا أَبْقَيْتَ لِأَھْلِکَ؟ قَالَ : أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُوْلَهُ، قُلْتُ : لاَ أَسْبِقُهُ إِلَی شَيئٍ أَبَدًا۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

9 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : فی مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنھما کلیھما، 6 / 614، الرقم : 3675، وأبو داود في السنن، کتاب : الزکاۃ، باب : الرخصۃ في ذالک، 2 / 129، الرقم : 1678، والدارمي في السنن، 1 / 480، الرقم : 1660، والحاکم في المستدرک، 1 / 574، الرقم : 1510۔

’’حضرت زیدبن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ نے صدقہ دینے کا حکم فرمایا۔ اس حکم کی تعمیل کے لئے میرے پاس مال تھا۔ میں نے (اپنے آپ سے)کہا : اگر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کبھی سبقت لے جا سکا تو آج سبقت لے جاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنا نصف مال لے کر حاضرِ خدمت ہوا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ میں نے عرض کیا : اتنا ہی مال اُن کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ (اتنے میں) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جوکچھ اُن کے پاس تھا وہ سب کچھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو بکر! اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی : میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول ﷺ چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا : میں اِن سے کسی شے میں آگے نہ بڑھ سکوں گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، اور ابو داود اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

10۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيْدٍ رضي الله عنهما یَقُوْلَانِ : خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَومًا قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِهِ -- ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ -- ثُمَّ أَکَبَّ، فَأَکَبَّ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا یَبْکِي لَا نَدْرِي عَلَی مَاذَا حَلَفَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَی فَکَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ یُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ وَیُخْرِجُ الزَّکَاةَ وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ السَّبْعَ إِلَّا فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَقِيْلَ لَهُ : ادْخُلْ بِسَلَامٍ۔ رَوَاهُ النِّسَائيُّ۔

10 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الزکاۃ، باب : وجوب الزکاۃ، 5 / 8، الرقم : 2438، وفي السنن الکبری، 2 / 5، الرقم : 2218، والمنذري في الترغیب والترهیب، 1 / 299، الرقم : 1103، وابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1 / 170۔

’’حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہما دونوں کا بیان ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!) تین دفعہ فرمانے کے بعد چہرہ اقدس کے بل جا گرے(یعنی سجدہ ریز ہو گئے)، ہم میں سے بھی ہر شخص منہ کے بل گر کر رونے لگا۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے حلف کیوں اُٹھایا۔ پھر آپ ﷺ نے سرِ انور اٹھایا تو آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر رونق تھی اور آپ ﷺ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار ہمیں سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر پسندیدہ تھے۔ آپ ﷺ فرمانے لگے : جو شخص پانچ نمازیں پڑھے، رمضان المبارک کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچا رہے، اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا با سلامت داخل ہو جاؤ۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

11۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا کَانَ حِيْنَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ حَتَّی أَتَی الإِمَامُ فَصَلَّي مَعَهُ الأُوْلَي وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّی أَفَاضَ الإِمَامُ فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّی انْتَھَيْنَا إِلَی الْمَضِيْقِ دُوْنَ الْمَأْزِمَيْنِ، فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا، وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ یُرِيْدُ أَنْ یُصَلِّيَ، فَقَالَ غُـلَامُهُ الَّذِي یُمْسِکَ رَاحِلَتَهُ : إِنَّهُ لَيْسَ یُرِيْدُ الصَّلَاةَ وَلَکِنَّهُ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا انْتَھَی إِلَی ھَذَا المَکَانِ قَضَی حَاجَتَهُ فَھُوَ یُحِبُّ أَنْ یَقْضِيَ حَاجَتَهُ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرُوَاتُهُ مُحْتَجٌّ بِھِمْ فِي الصَّحِيْحِ۔

11 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند 2 / 131، الرقم : 6151، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 43، الرقم : 76، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1 / 174، والسیوطي في مفتاح الجنۃ، 1 / 56۔

’’حضرت ابن سیرین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں میدانِ عرفات میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب کسی عمل کا وقت ہوتا، وہ جو کرتے میں بھی ان کے ساتھ وہی کرتا حتی کہ امام آ گیا تو انہوں نے نمازِ ظہر و عصر اس کے ساتھ پڑھی پھر انہوں نے، میں نے اور میرے ساتھیوں نے وقوف کیا۔ یہاں تک کہ امام عرفات سے لوٹا تو ہم بھی لوٹے جب ’’مازمین‘‘ (ایک جگہ کا نام) کے قریب ایک گھاٹی میں پہنچے تو انہوں نے اپنی سواری کے اونٹ کو بٹھایا۔ ہم نے بھی اپنے اونٹ بٹھا دیئے ہمارا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ تو ان کے غلام نے جو ان کی سواری پکڑا کرتا تھا۔ بتایا کہ آپ (اس جگہ) نماز نہیں پڑھنا چاہ رہے بلکہ اس نے کہا کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ اس جگہ پہنچے تھے تو آپ ﷺ نے یہاں اپنا کوئی معاملہ انجام دیا تھا تو (اسی وجہ سے اتباع رسول ﷺ میں) آپ بھی پسند کرتے ہیں کہ یہاں اپنا کوئی معاملہ انجام دیں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث میں حجت ہیں۔

12۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ عِنْدَهَا فَسَلَّمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِي الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَزِعًا فَقُمْتُ فِي أَثَرِهِ فَإِذَا دِحْیَةُ الْکَلْبِيُّ فَقَالَ : هَذَا جِبْرِيْلُ یَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَی بَنِي قُرِيْظَةَ فَقَالَ : قَدْ وَضَعْتُمُ السَّلَاحَ لَکِنَّا لَمْ نَضَعْ قَدْ طَلَبْنَا الْمُشْرِکِيْنَ حَتَّی بَلَغْنَا حُمُرَائَ الْأَسَدِ وَذَلِکَ حِيْنَ رَجَعَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ فَزِعًا فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : عَزَمْتُ عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تُصَلُّوْا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّی تَأْتُوْا بَنِي قُرَيْظَةَ فَغَرَبَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَأْتُوْهُمْ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ : إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ یُرِدْ أَنْ یَدَعُوْا الصَّلَاةَ فَصَلُّوْا۔ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ : إِنَّا لَفِي عَزِيْمَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَا عَلَيْنَا مِنْ إِثْمٍ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا وَتَرَکَتْ طَائِفَةٌ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا وَلَمْ یَعِبِ النَّبِيُّ ﷺ أَحَدًا مِنَ الْفَرِيْقَيْنِ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ۔

12 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 37، الرقم : 4332، وعبد الرزاق في المصنف، 5 / 369، الرقم : 9737، وفي تفسیر القرآن العظیم، 1 / 85، وأبو نعیم في دلائل النبوۃ : 505، الرقم : 436۔

’’اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تھے، پس اہل بیت کے کسی شخص نے ہمیں سلام کیا جبکہ ہم گھر میں تھے، تو حضور نبی اکرم ﷺ حالتِ خوف میں کھڑے ہوئے، تو میں بھی آپ کے پیچھے اٹھ کھڑی ہوئی، کیا دیکھتے ہیں کہ دحیہ کلبی موجود ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ جبریل ہے، مجھے کہہ رہا ہے کہ میں بنوقریظہ کی طرف جاؤں، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا : آپ ﷺ نے اسلحہ رکھ دیا ہے لیکن ہم نے نہیں رکھا۔ ہم نے مشرکین کو (جنگ) کے لئے پکارا ہے، یہاں تک کہ جب ہم حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے، اور یہ اس وقت کا واقع ہے جب حضور نبی اکرم ﷺ خندق سے واپس لوٹے تھے، پس حضور نبی اکرم ﷺ حالتِ خوف میں کھڑے ہوئے، اور اپنے صحابہ سے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ارادہ کیا ہے کہ تم اس وقت تک نماز عصر نہ پڑھو جب تک کہ بنو قریظہ کے پاس نہ پہنچ جاؤ۔ پس سورج غروب ہوگیا قبل اس کے کہ وہ بنو قریظہ کے پاس پہنچتے۔ مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے یہ نہیں چاہا کہ وہ نماز چھوڑ دیں، پس انہوں نے نماز ادا کر لی۔ اور ایک گروہ نے کہا کہ بے شک ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی (اختیار فرمائی ہوئی) راهِ عزیمت میں ہیں، اس لئے ہم پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا۔ پس ایک گروہ نے ایمان و ثواب کی نیت سے نماز پڑھ لی اور دوسرے گروہ نے ایمان و ثواب کی نیت سے نماز ترک کر دی اور حضور نبی اکرم ﷺ نے دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کو گروہ بھی کو معیوب نہ جانا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم اور مستدرک نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : وَقَدْ کَانَ النَّاسُ انْهَزَمُوْا عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ حَتَّی انْتَهَی بَعْضُهُمْ دُوْنَ الْأَعْرَاضِ إِلَی جَبَلٍ بِنَاحِیَةِ الْمَدِيْنَةِ ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَقَدْ کَانَ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْتَقَی هُوَ وَأَبُوْ سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ فَلَمَّا اسْتَعَلَاهُ حَنْظَلَةُ رَآهُ شَدَّادُ بْنُ الْأَسْوَدِ فَعَـلَاهُ شَدَّادٌ بِالسَّيْفِ حَتَّی قَتَلَهُ وَکَادَ یَقْتُلُ أَبَا سُفْیَانَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ صَاحِبَکُمْ حَنْظَلَةَ تَغْسِلُهُ الْمَلَائِکَةُ فَسَلُوْا صَاحِبَتَهُ فَقَالَتْ : خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ لَمَّا سَمِعَ الْهَائِعَةَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : فَذَاکَ قَدْ غَسَلَتْهُ الْمَلَائِکَةُ۔ رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ۔

13 : أخرجه ابن حبان في الصحیح، 15 / 495، الرقم : 7025، والحاکم في المستدرک، 3 / 225، الرقم : 4917، والبیهقي في السنن الکبری، 4 / 15، الرقم : 6606، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 357، وابن الأثیر في أسد الغابۃ، 2 / 86، وابن حجر العسقلاني في الإصابۃ في تمییز الصحابۃ، 2 / 137، وابن الجوزي في صفۃ الصفوۃ، 1 / 610۔

’’حضرت عبد اللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جبکہ لوگ حضور نبی اکرم ﷺ سے دور جا چکے تھے، یہاں تک کہ بعض لوگ مدینہ کی ایک طرف ایک پہاڑ کے پاس بغیر ساز و سامان کے پہنچ گئے تھے۔ پھر وہ وآپس حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس لوٹ آئے۔ اسی دوران حضرت حنظلہ بن ابی عامر کا سامنا ابو سفیان بن حرب سے ہوگیا پس جب حضرت حنظلہ اس پر حملہ آور ہو رہے تھے، شداد بن اسود نے انہیں دیکھ لیا، اور ان پر تلوار کے ساتھ حملہ آور ہو کر انہیں شہید کر دیا، اور اس وقت آپ ابو سفیان کو قتل کرنے ہی والے تھے۔ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارا دوست حنظلہ ہے جسے ملائکہ غسل دے رہے ہیں، پس اس کی اہلیہ سے اس کی وجہ پوچھو۔ (صحابہ کے پوچھنے پر) آپ کی اہلیہ نے کہا کہ جب انہوں (حضرت حنظلہ) نے جنگ کی پکار سنی اس وقت آپ جنبی تھے(اور آپ بغیر نہائے فوراً دربار مصطفی ﷺ میں حاظر ہو گئے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا، یہی وجہ ہے کہ ملائکہ نے انہیں غسل دیا۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيْعَةَ، عَنْ عُمَرَ رضی الله عنه أَنَّهُ جَاءَ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ، لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ۔ وفي روایۃ : قَالَ عُمَرُ : شَيئٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَتْرُکَهُ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْه۔

1 : أخرجه البخاری في الصحیح، کتاب : الحج، باب : ما ذُکر فی الحجر الأسود، 2 / 579، الرقم : 1520، 1528، ومسلم في الصحیح، کتاب : الحج، باب : استحباب تقبیل الحجر الأسود في الطواف، 2 / 925، الرقم : 1270، وأبو داود في السنن، کتاب : المناسک، باب : في تقبیل الحجر، 2 / 175، الرقم : 1873، والنسائي في السنن، کتاب : مناسک الحج، باب : کیف یقبل، 5 / 227، الرقم : 2938، وابن ماجه في السنن، باب : استلام الحجر، 2 / 981، الرقم : 2943، ومالک في الموطأ، 1 / 367، الرقم : 818، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 16، الرقم : 99، والبزار في المسند، 1 / 949، الرقم : 139، وابن حبان في الصحیح، 4 / 212، الرقم : 2711۔

’’حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر کہا : میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع۔ اگر میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ کام ہے جسے حضور نبی اکرم ﷺ نے ادا فرمایا ہے پس ہم نہیں چاہتے کہ اسے ترک کر دیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَکَانٍ، فَحَادَ عَنْهُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ ذَالِکَ؟ فَقَال : رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ فَعَلَ هَذَا فَفَعَلْتُ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُوْنَ۔ وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ : إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ۔

2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 32، الرقم : 4870، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 43، الرقم : 74، وقال : رواه أحمد والبزار بإسناد جید، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1 / 174، وقال : رواه أحمد والبزار ورجاله موثقون، والسیوطي في مفتاح الجنۃ، 1 / 56، وفي شرحه علی سنن ابن ماجه، 1 / 2، والعظیم آبادي في عون المعبود، 2 / 195۔

’’حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ وہ ایک جگہ کے قریب سے گزرے تو اس کے راستہ سے ہٹ کر چلے۔ پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ جواب دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ (آپ ﷺ اس راستہ سے گزرے تو) آپ ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس لئے میں نے بھی ایسا کیا ہے۔‘‘

اسے امام احمد نے ثقہ رجال کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا کہ اس کی اسناد جیّد ہے۔

3۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّهُ کَانَ یَأْتِي شَجَرَةً بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ۔ فَیَقِيْلُ تَحْتَهَا، وَیُخْبِرُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ کَمَا قَالَ الْمُنْذَرِيُّ۔

3 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 198، الرقم : 3968، والمنذري في الترغیب والترھیب، 1 / 43، الرقم : 75، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1 / 175، وقال : رواه البزار ورجاله موثقون، والسیوطي في شرح سنن ابن ماجه، 1 / 2، وفي مفتاح الجنۃ، 1 / 57، والعظیم آبادي في عون المعبود، 2 / 195۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک درخت کے پاس آیا کرتے تو اس کے نیچے قیلولہ (دوپہر کو سونا، آرام کرنا) کیا کرتے کیونکہ رسول اللہ ﷺ بھی(اس درخت کے نیچے) ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘

اسے امام طبرانی اور بزار نے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے جیسا کہ امام منذری نے فرمایا ہے۔

4۔ رُئِيَ عبد الله بْن عُمَر یدیر ناقته في مکان فسئل عنه، فقال : لا أدري إلا أني رأیت رسول الله ﷺ فعله، ففعلته۔

4 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 489۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک مقام پر اپنی اونٹنی کو گھوماتے ہوئے دیکھا گیا تو آپ سے اس بابت پوچھا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو (اس مقام پر) ایسا کرتے دیکھا لهٰذا میں نے بھی ایسا کیا۔‘‘

5۔ عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : لبس عمر رضی الله عنه قمیصًا جدیدًا ثم دعاني بشفرۃ، فقال : مد یا بني، کم قمیصي، والزق یدیک بأطراف أصابعي، ثم اقطع ما فضل عنھا، فقطعت من الکمین من جانبیه جمیعًا، فصار فم الکم بعضه فوق بعض۔ فقلت له : یا أبته، لو سویته بالمقص؟ فقال : دعه یا بني، ھکذا رأیت رسول الله ﷺ یفعل فما زال علیه حتی تقطع، وکان ربما رأیت الخیوط تساقط علی قدمه۔

5 : أخرجه أبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 45۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نئی قیمص زیب تن فرمائی۔ پھر مجھے چھری لانے کو فرمایا۔ پھر فرمایا : اے بیٹے! میری قیمص کی آستین کو اپنی طرف کھینچو اور میری انگلیوں کے پوروں تک آستینیں اپنے ہاتھ سے پکڑ کر زائد حصہ کاٹ دو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دونوں آستینوں کا بڑھا ہوا حصہ کاٹ دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا : ابا جان! اگر آپ فرمائیں تو میں قینچی کے ساتھ اس کو برابر کر دوں؟ فرمایا : چھوڑو بیٹے! میں نے رسول اکرم ﷺ کو یونہی دیکھا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس کے بعد وہ قیمص آپ کے بدن مبارک پر ہمیشہ رہی حتیٰ کہ چھوٹی پڑ گئی اور اکثر میں اس کے دھا گے آپ رضی اللہ عنہ کے قدموں پر گرتے دیکھا کرتا تھا۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved