Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 1 :کائنات میں حضور ﷺ کی عدم مثلیت کا بیان

فَصْلٌ فِي عَدَمِ مِثْلِيَّةِ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْکَوْنِ

{کائنات میں حضور ﷺ کی عدمِ مثلیت کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ یٰٓـاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآء کُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْکُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًاo

(النساء، 4 : 174)

’’اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے (ذاتِ محمدی ﷺ کی صورت میں ذاتِ حق جل مجدهٗ کی سب سے زیادہ مضبوط، کامل اور واضح) دلیلِ قاطع آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف (اسی کے ساتھ قرآن کی صورت میں) واضح اور روشن نُور (بھی) اتار دیا ہےo‘‘

2۔ سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا ط اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo

(الإسراء، 17 : 1)

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo‘‘

3۔ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰـه وَّاحِدٌ ج فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلاَ یُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًاo

(الکهف، 18 : 110)

’’فرمادیجئے : میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود ، معبود یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرےo‘‘

4۔ اَللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِهٖ کَمِشْکٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ط اَلزُّجَاجَةُ کَاَنَّهَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّاشَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ يَّکَادُ زَيْتُهَا یُضِٓيْئُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَهْدِی اللهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ط وَ یَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَ اللهُ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

(النّور، 24 : 35)

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی ﷺ کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اس طاق (نما سینۂ اَقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ، فانوس (قلبِ محمدی ﷺ ) میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پَرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیاء و رسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالمگیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحی ربّانی اور معجزات آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں(وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دو ہرے نور کا پیکر ہے)، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہےo‘‘

5۔ وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَo

(الأنبیاء، 21 : 107)

’’اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کرo‘‘

6۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰـوةِ الدُّنْیَا مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْهُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَo

(المؤمنون، 23 : 33)

’’اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہوo‘‘

7۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللهَ کَثِيْرًاo

(الأحزاب، 33 : 21)

’’فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اللہ ( ﷺ کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر شخص کے لئے جو اللہ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہےo‘‘

8۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمًاo

(الأحزاب، 33 : 40)

’’محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں (یعنی سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کا جاننے والا ہے (اسے علم ہے کہ ختم رسالت اور ختم نبوت کا وقت آگیا ہے)o‘‘

9۔ وَ مَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَo

(سبا، 34 : 28)

’’اور (اے حبیبِ مکرّم) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لیے خوش خبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : نَهَی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ۔ قَالُوْا : إِنَّکَ تُوَاصِلُ۔ قَالَ : إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ۔ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی۔

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الصوم، باب : الوصال ومن قال : لیس في اللیل صیام، 2 / 693، الرقم : 1861، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصیام، باب : النھي عن الوصال في الصوم، 2 / 774، الرقم : 1102، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في الوصال، 2 / 306، الرقم : 2360، ومالک في الموطأ، 1 / 300، الرقم : 667، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 102، الرقم : 5795، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 241، الرقم : 3263، وابن حبان في الصحیح، 8 / 341، الرقم : 3575۔

’’حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وصال کے روزے (نہ سحری، نہ افطاری مسلسل روزے ہی روزے) نہ رکھا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا : آپ ﷺ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ فرمایا : میں ہرگز تمہاری مثل نہیں ہوں مجھے تو (اپنے رب کے ہاں) کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : نَھَی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ۔ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ : إِنَّکَ تُوَاصِلُ، یَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ : وَأَیُّکُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيْتُ یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِيْنِ … الحدیث۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الصوم، باب : التنکیل لمن أکثر الوصال، 2 / 694، الرقم : 1864، وفي کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : ما یکره من التعمق والتنازع في العلم والغلو في الدین والبدع، 6 / 2661، الرقم : 6869، ومالک في الموطأ، 1 / 301، الرقم : 668، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصیام، باب : النھي عن الوصال في الصوم، 2 / 774، الرقم : 1103، وابن حبان في الصحیح، 8 / 341، الرقم، 3575، والدارمي في السنن، 2 / 14، الرقم : 1703۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور نبی اکرم ﷺ نے وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا : صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ فرمایا : تم میں سے کون ہے جو میری مثل ہو؟ بیشک میں رات (اپنے رب کے پاس) اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنْ عائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : نَھَی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَھُمْ، فَقَالُوْا : إِنَّکَ تُوَاصِلُ۔ قَالَ : إِنِّي لَسْتُ کَھَيْئَتِکُمْ۔ إِنِّي یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِيْنِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الصوم، باب : الوصال ومن قال : لیس في اللیل صیام، 2 / 693، الرقم : 1863، وفي کتاب : التمني، باب : ما یجوز من اللو، 6 / 2645، الرقم : 6815، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصیام، باب : النھي عن الوصال في الصوم، 2 / 776، الرقم : 1105، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 153، الرقم : 6413، والبیھقي في السنن الکبری، 4 / 282، الرقم : 8161، وابن راھویه في المسند، 2 / 168، الرقم : 669۔

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں پر شفقت کے باعث انہیں وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا : صحابہ کرام ث نے عرض کیا : آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ فرمایا : میں تم جیسا نہیں ہوں۔ مجھے تو میرا رب کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

4۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : وَاصَلَ النَّبِيُّ ﷺ آخِرَ الشَّھْرِ وَوَاصَلَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ۔ فَبَلَغَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ : لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّھْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالاً یَدَعُ الْمُتَعَمِّقُوْنَ تَعَمُّقَھُمْ۔ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ۔ إِنِّي أَظَلُّ یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِيْنِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : التمني، باب : ما یجوز من اللو 6 / 2645، الرقم : 6814، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصیام، باب : النهي عن الوصال في الصوم، 2 / 776،الرقم : 1104، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 124، الرقم : 12270، 13035، 13092، 13681، وابن حبان في الصحیح، 14 / 325، الرقم : 6414، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 330، الرقم : 9585، البیهقي في السنن الکبری، 4 / 282، الرقم : 8160۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حضور نبی اکرم ﷺ نے مہینے کے آخر میں سحری افطاری کے بغیر مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیے تو بعض دیگر لوگوں نے بھی وصال کے روزے رکھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر یہ رمضان کا مہینہ میرے لیے اور لمبا ہو جاتا تو میں مزید وصال کے روزے رکھتا تاکہ متشدد لوگ اپنا تشدد چھوڑ دیتے (یعنی میری برابری کرنے والے میری برابری کرنا چھوڑ دیتے)۔ میں قطعاً تمہاری مثل نہیں ہوں۔ مجھے تو میرا رب (اپنے ہاں) کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

5۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ : أَتِمُّوْا الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ۔ فَوَاللهِ، إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِ ظَھْرِي إِذَا مَا رَکَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ۔

وفي حدیث سعید : إِذَا رَکَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأیمان والنذور، باب : کیف کانت یمین النبي ﷺ ، 6 / 2449، الرقم : 6268، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : الأمر بتحسین الصلاۃ وإتمامھا والخشوع فیھا، 1 / 320، الرقم : 425، والنسائي في السنن، کتاب : التطبیق، باب : الأمر بإتمام السجود، 2 / 216، الرقم : 1117، وفي السنن الکبری، 1 / 235، الرقم : 704، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 115، الرقم : 12169۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رکوع اور سجود کو اچھی طرح سے ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم! بلاشک و شبہ میں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی تمہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔‘‘

’’سعید کے الفاظ ہیں : میں تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

6۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : ھَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي ھَاهُنَا؟ فَوَاللهِ، مَا یَخْفَی عَلَيَّ خُشُوْعُکُمْ وَلَا رُکُوْعُکُمْ۔ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَھْرِي۔

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

6 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : عظۃ الإمام الناس في إتمام الصلاۃ وذکر القبلۃ، 1 / 161، الرقم : 408، وفي کتاب : الأذان، باب : الخشوع في الصلاۃ، 1 / 259، الرقم : 708، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : الأمر بتحسین الصلاۃ وإتمامھا والخشوع فیھا، 1 / 259، الرقم : 424، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 303، 365، 375، الرقم : 8011، 8756، 8864۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہی دیکھتے ہو کہ میرا منہ ادھر ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ سے تمہارے (دلوں کی حالت اور ان کا) خشوع و خضوع پوشیدہ ہے نہ تمہارے (ظاہر کی حالت کے) رکوع۔ میں تمہیں اپنی پشت پیچھے سے بھی (اسی طرح) دیکھتا ہوں (جس طرح اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں)۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

7۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَومًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ : یَا فُـلَانُ، أَلاَ تُحْسِنُ صَلَاتَکَ؟ أَلاَ یَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّی کَيْفَ یُصَلِّي؟ فَإِنَّمَا یُصَلِّي لِنَفْسِهِ۔ إِنِّي، وَاللهِ، لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي کَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ یَدَيَّ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ۔

7 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : الأمر بتحسین الصلاۃ وإتمامھا والخشوع فیھا، 1 / 319، الرقم : 423، والنسائي في السنن، کتاب : الإمامۃ، باب : الرکوع دون الصف، 2 / 118، الرقم : 872، وفي السنن الکبری، 1 / 303، الرقم : 944، وأبو عوانۃ في المسند، 2 / 105، والبیهقي في السنن الکبری، 2 / 290، الرقم : 3398۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک روز ہمیں جماعت کرانے کے بعد رخ پھیرا، پھر (ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا : اے شخص! تم نے نماز اچھی طرح کیوں نہیں ادا کی؟ کیا نمازی نماز ادا کرتے وقت یہ غور نہیں کرتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ وہ محض اپنے لئے نماز پڑھتا ہے۔ خدا کی قسم! میں تمہیں اپنی پشت پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسا کہ سامنے سے دیکھتا ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ رضی الله عنه یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : إِنَّ اللهَ اصْطَفَی کِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيْلَ، وَاصْطَفَی قُرَيْشًا مِنْ کِنَانَةَ، وَاصْطَفَی مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي ھَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

8 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الفضائل، باب : فضل نسب النبي ﷺ ، 4 / 1782، الرقم : 2276، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول الله ﷺ : باب : ما جاء في فضل النبي ﷺ ، 5 / 583، الرقم : 3605، وابن حبان في الصحیح، 14 / 135، الرقم : 6242، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 107، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 317، الرقم : 31731، وأبو یعلی في المسند، 13 / 469، الرقم : 7485۔

’’حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے بنی کنانہ کو منتخب کیا اور اولادِ کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب کیا اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ انتخاب بخشا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

9۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ یَنْتَظِرُوْنَهُ قَالَ : فَخَرَجَ حَتّٰی إِذَا دَنَا مِنْھُمْ سَمِعَھُمْ یَتَذَاکَرُوْنَ فَسَمِعَ حَدِيْثَھُمْ فَقَالَ بَعْضُھُمْ عَجَباً : إِنَّ اللهَ عزوجل اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيْلًا اِتَّخَذَ اِبْرَاھِيْمَ خَلِيْلًا وَقَالَ اٰخَرُ : مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ کَلَامِ مُوْسَی کَلَّمَهُ تکْلِيْماً وَقَالَ آخَرَ : فَعِيْسَی کَلِمَةُ اللهِ وَرُوْحُهُ وَقَالَ آخَرُ آدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ فَخَرَجَ عَلَيْھِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ قَد سَمِعْتُ کَلَامَکُمْ وَعَجَبَکُمْ إِنَّ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلُ اللهِ وَھُوَ کَذَلِکَ وَمُوْسَی نَجِيُّ اللهِ وَھُوَ کَذَلِکَ وَعِيْسَی رُوْحُ اللهِ وَکَلِمَتُهُ وَھُوَ کَذَلِکَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللهُ وَھُوَ کَذَلِکَ أَ لَا وَأَناَ حَبِيْبُ اللهِ وَلَا فَخْرَ وَأَناَ حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا اَوَّلُ مَنْ یُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَیَفْتَحُ اللهُ لِي فَیُدْخِلُنِيْھَا وَمَعِيَ فُقَرَآءُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَکْرَمُ الأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَلَا فَخْرَ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ۔

9 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 587، الرقم : 3616، والدارمي في السنن، 1 / 39، الرقم : 47، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 1 / 561۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند صحابہ کرام ث حضور نبی اکرم ﷺ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں آپ ﷺ تشریف لائے۔ جب آپ ﷺ قریب پہنچے تو اِن صحابہ کو کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ ان میں سے بعض نے کہا! تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیمں کو اپنا خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا یہ حضرت موسیٰںکے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تو نہیں۔ ایک نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں، کسی نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے۔ سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں۔ بے شک وہ اسی طرح ہیں۔ حضرت موسیٰ ںنجی اللہ ہیں۔ بے شک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ ہیں اور کلمۃ اللہ ہیں۔ واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا۔ وہ بھی یقینا اسی طرح ہیں۔ مگر سنو! اچھی طرح آگاہ ہو جائو کہ (میری شان یہ ہے) میں اللہ کا حبیب ہوں اور (اس پر) مجھے کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن (اللہ تعالیٰ کی) حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا میں ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہوں گا۔ اللہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھول دے گا اور مجھے اس میں داخل فرما دے گا۔ میرے ساتھ فقیر و غریب مؤمن ہونگے اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ مکرم و معزز ہوں۔ لیکن مجھے کوئی فخر نہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

10۔ عَنِ الْعَبَّاسِ رضی الله عنه أَنَّهُ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَکَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ : مَنْ أَنَا؟ قَالُوْا : أَنْتَ رَسُوْلُ اللهِ عَلَيْکَ السَّلَامُ۔ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ إِنَّ اللهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِھِمْ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً : ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيْلَةً۔ ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِھِمْ بَيْتًا۔ فَأَنَا خَيْرُھُمْ بَيْتًا وَخَيْرُهُمْ نَفْسًا۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

10 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 584، الرقم : 3608، وفي کتاب : الدعوات، باب : ما جاء في عقد التسبیح بالید، 5 / 543، الرقم : 3532، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 120، الرقم : 1788، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 41، الرقم : 95۔

’’حضرت عباس (بن عبد المطلب) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بارگاهِ رسالت میں حاضر ہوئے گویا کہ انہوں نے کوئی بات (لوگوں کی چہ میگوئی) سنی تھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کون ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ پر سلام ہو۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے بہترین میں رکھا۔ پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے بہترین گروہ میں رکھا۔ پھر ان کے خاندان بنائے تو مجھے ان میں سے بہترین خاندان میں رکھا۔ پھر ان کے مکانوں کی درجہ بندی کی تو مجھے بہتر مکان والا بنایا۔ سو میں مکان کے لحاظ سے بھی سب سے بہتر ہوں اور ذات کے لحاظ سے بھی۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

11۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الظُّھْرَ وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوْفِ رَجُلٌ، فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ۔ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : یَا فُـلَانُ، أَ لَا تَتَّقِی اللهَ؟ أَلاَ تَرَی کَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّکُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ یَخْفَی عَلَيَّ شَيئٌ مِمَّا تَصْنَعُوْنَ؟ وَاللهِ، إِنِّي لَأَرَی مِنْ خَلْفِي کَمَا أَرَی مِنْ بَيْنِ یَدَيَّ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ۔

11 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 449، الرقم : 9795، وابن خزیمۃ في الصحیح، 1 / 332، الرقم : 664، والعسقلاني في فتح الباری، 2 / 226۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ایک مرتبہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور آخری صفوں میں ایک شخص تھا جس نے اپنی نماز خراب کر لی۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے سلام پھیرا تو اسے پکارا : اے فلاں! کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ تو کس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ تم یہ سمجھتے ہو جو تم کرتے ہو اس میں سے مجھ پر کچھ پوشیدہ رہ جاتا ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنی پشت پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے سامنے دیکھتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُکْسَی حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ۔ ثُمَّ أَقُوْمُ عَنْ یَمِيْنِ الْعَرْشِ; لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ یَقُوْمُ ذَلِکَ الْمَقَامَ غَيْرِي۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْعَيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

12 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب : في فضل النبي ﷺ ، 5 / 585، الرقم : 3611، والمبارکفوري في تحفۃ الأحوذي، 7 / 92، والمناوي في فیض القدیر، 3 / 41۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلا شخص میں ہوں جس کی زمین (قبر) شق ہو گی اور پھر مجھے ہی جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا۔ پھر میں عرش کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا۔ اس مقام پر مخلوقات میں سے میرے سوا کوئی نہیں کھڑا ہو گا۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ابو عیسی بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : خَدَمْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَشْرَ سِنِيْنَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ صَنَعْتَهُ؟ وَلَا لِشَيْئٍ تَرَکْتُهُ : لِمَ تَرَکْتَهُ؟ وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا۔ وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا قَطُّ وَلَا حَرِيْرًا وَلَا شَيْئًا کَانَ أَلْیَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ وَلَا شَمَمْتُ مِسْکًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا کَانَ أَطْیَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔

رَوَاهُ الْبُخُارِيُّ مُخْتَصَرًا وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ۔ قَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأدب، باب : حسن الخلق والسخاء وما یکره ما البخل، 5 / 2245، الرقم : 5691، والترمذي في السنن، کتاب : البر والصلۃ، باب : ما جاء في خلق النبي ﷺ ، 4 / 368، الرقم : 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 265، الرقم : 131823، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 402، الرقم : 1361، 1363۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دس سال حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی، آپ نے مجھے کبھی اُف تک بھی نہیں فرمایا۔ کسی کام کرنے میں یہ نہیں فرمایا کہ کیوں کیا، اور نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوش خلق تھے، میں نے خَزْ (اُون اور ریشم سے مخلوط کپڑا) اور خالص ریشمی کپڑے کو بھی حضور نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک سے زیادہ نرم و ملائم نہیں پایا۔ میں نے مشک اور عطر کو بھی حضور نبی اکرم ﷺ کے پسینہ مبارکہ سے زیادہ خوشبودار نہیں پایا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے مختصراً اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

2۔ قَالَ عَلِيُّ رضی الله عنه : وَمَنْ رَاٰهُ بَدِيْهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ یَقُوْلُ نَاعِتُهُ : لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ۔

2 : أخرجه ابن قیّم الجوزیۃ في جلاء الأفهام في الصلاۃ والسلام علی خیر الأنام : 94۔

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو جو اچانک دیکھتا مرعوب ہوجاتا، جو جان پہچان کر میل جول کرتا وہ آپ ﷺ کا گرویدہ ہوجاتا۔ الغرض آپ ﷺ کا حلیہ بیان کرنے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ جیسا حسین و جمیل نہ پہلے دیکھا اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد کوئی آپ ﷺ جیسا دکھائی دیا۔‘‘

3۔ قال الإمام القسطلاني في المواهِب : إعلم أن من تمام الإیمان به ﷺ الإیمان بأن الله تعالی جعل خلق بدنه الشریف علی وجه لم یظهر قبله ولا بعده خلق آدمي مثله۔

3 : قسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ ، 2 / 5۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں : یہ بات جان لینی چاہیے کہ حضورنبی اکرم ﷺ پر ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے کہ جب آپ ﷺ پر اس اعتقاد کے ساتھ ایمان لایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بدن مبارک کو اس طرح بنایا کہ آپ ﷺ سے پہلے اور آپ ﷺ کے بعد کسی انسان کو آپ ﷺ کی مثل نہیں بنایا۔‘‘

4۔ قال الإمام القسطلاني : إن الله تعالی ذکره في القرآن عضواً عضواً، فقلبه بقوله : {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰیo} [النجم، 53 : 11]۔ وقوله : {نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَo} [الشعراء، 26 : 193، 194]، ولسانه بقوله : {وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰیo} [النجم، 53 : 3]، وقوله : {فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهٗ بِلِسَانِکَ} [مریم، 19 : 97]۔ وبصره بقوله : { مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰیo} [النجم، 53 : 17]، ووجهه بقوله : {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَآءِ} [البقرۃ، 2 : 144]، ویده وعنقه بقوله : {وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَةً اِلٰی عُنُقِکَ} [الإسراء، 17 : 29]، وظهره وصدره بقوله : {اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَo وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَo الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ظَهْرَکَo} [الإنشراح، 94 : 1-3]۔

4 : قسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ ، 2 / 272۔

’’امام قسطلانی رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی خصویت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کے ایک ایک عضو مبارک کا ذکر فرمایا ہے۔ قلب مبارک کا یوں ذکر فرمایا : {(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھاo} نیز فرمایا : {اسے روح الامین (جبرائیل ں) لے کر اترا ہےo آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیںo}، زبان اقدس کا ذکر یوں فرمایا : {اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتےo} نیز فرمایا : {سو بے شک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں ہی آسان کردیا ہے۔}، اور آپ ﷺ کی نگاہ مبارک کا ذکر یوں فرمایا : {اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)o}، چہرہ انور کا ذکر یوں فرمایا : {(اے حبیب!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں۔}، اور آپ ﷺ کے دست اقدس اور گردن مبارک کا ذکر یوں فرمایا : {اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو۔}، پشت مبارک اور سینہ مطہرہ کا ذکر یوں ہوا : {کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیاo اور ہم نے آپ کا (غمِ امت کا وہ) بار آپ سے اتار دیاo جو آپ کی پشتِ (مبارک) پر گراں ہو رہا تھاo}۔‘‘

5۔ قال الإمام القسطلاني رَحِمَهُ الله : فلا مریۃ أن آیات نبینا ﷺ ومعجزاته أظهر وأبھر وأکثر وأبقی وأقوی، ومنصبه أعلی ودولته أعظم وأوفر وذاته أفضل وأظھر، وخصوصیاته علی جمیع الأنبیاء أشھر من أن تذکر، فدرجته أرفع من درجات جمیع المرسلین، وذاته أزکی وأفضل من سائر المخلوقین۔

5 : قسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 400۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کی نشانیاں اور معجزات سب سے زیادہ ظاہر، تعداد میں سب سے بڑھ کر، زیادہ باقی رہنے والے اور مضبوط تر ہیں۔آپ ﷺ کا منصب اعلیٰ، حکومت سب سے بڑی اور وسیع ہے۔ آپ ﷺ کی ذات افضل و اظہر ہے اور تمام انبیاء کرام کے مقابلے میں آپ ﷺ کی خصوصیات اس قدر مشہور ہیں کہ وہ ذکر کی محتاج نہیں۔ آپ ﷺ کا درجہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے درجات سے بلند اور آپ ﷺ کی ذات تمام مخلوق میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور افضل ہے۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved