Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 4 :حضور نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی فضیلت

فَصْلٌ فِي فَضْلِ الصَّـلَاةِ وَالسَّلَامِ عَلَی خَيْرِ الْأَنَامِ مُحَمَّدٍ ﷺ

{حضور نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی فضیلت کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ ھُوَ الَّذِيْ یُصَلِّيْ عَلَيْکُمْ وَ مَلٰئِکَتُهٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَ کَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًاo تَحِيَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ج وَّاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا کَرِيْمًاo

(الأحزاب، 33 : 43)

’’وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہےo جس دن وہ (مومِن) اس سے ملاقات کریں گے تو ان (کی ملاقات) کا تحفہ سلام ہوگا، اور اس نے ان کے لئے بڑی عظمت والا اجر تیار کر رکھا ہےo‘‘

2۔ اِنَّ اللهَ وَمَلٰـئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ط یٰـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيْمًاo

(الأحزاب، 33 : 56)

’’بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبيِّ (مکرمّ ﷺ ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کروo‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ : لَقِیَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رضی الله عنه فَقَالَ : أَلا أُھْدِي لَکَ ھَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ ﷺ ؟ فَقُلْتُ : بَلَی، فَأَهْدِهَا لِي، فَقَالَ : سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، کَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَلَّمَنَا کَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْکُمْ؟ قَالَ : قُوْلُوْا : اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ۔ اَللَّھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأنبیاء، باب : قول الله تعالی : واتخذ الله إبراهیم خلیلا، 3 / 1233، الرقم : 3190، وفي کتاب : الدعوات، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 5 / 2338، الرقم : 5996، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ بعد التشهد، 1 / 305، الرقم : 406، والنسائي في السنن، کتاب : السھو، باب : نوع آخر، 3 / 47، الرقم : 1287۔1289، وابن حبان في الصحیح، 5 / 286، الرقم : 1957۔

’’حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور فرمایا : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں جسے میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے؟ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، آپ مجھے وہ ضرور عطا کریں، انہوں نے فرمایا : ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا : ـ یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی خدمت میں سلام بھیجنا تو سکھا دیا ہے لیکن ہم آپ کے اہلِ بیت پر درود کیسے بھیجا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو : اے اللہ! درود بھیج حضرت محمدمصطفی ﷺ پراور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تونے درود بھیجا حضرت ابراہیمں پر اور آلِ ابراہیمں پر، بیشک تُو بہت تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تونے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیمں اور آلِ ابراہیمں پر، بے شک تُو تعریف اور بزرگی والاہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، ھَذَا السَّلَامُ عَلَيْکَ، فَکَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ؟ قَالَ : قُوْلُوْا : اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَآلِ إِبْرَاھِيْمَ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الدعوات، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 5 / 2339، الرقم : 5997، وفي کتاب : تفسیر القرآن، باب : قوله : إن الله وملائکته یصلون علی النبي الخ، 4 / 1802، الرقم : 4520، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 1 / 292، الرقم : 903، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 47، الرقم : 11451، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 246، الرقم : 8633، وأبو یعلی في المسند، 2 / 515، الرقم : 1364، وابن سرایا في سلاح المؤمن في الدعائ، 1 / 330، الرقم : 608، والعیني في عمدۃ القاري، 19 / 127۔

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنا تو اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس طرح کہو : اے اللہ! حضرت محمدمصطفی ﷺ پر درود بھیج جو تیرے بندے اور رسول ہیں جیسے تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا، اور برکت نازل فرما حضرت محمدمصطفی ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے حضرت ابراہیمں اور آلِ ابراہیمں پر برکت نازل فرمائی۔‘‘

اسے امام بخاری، ابنِ ماجہ، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

3 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 1 / 306، الرقم : 408، وأبو داود في السنن، کتاب : الوتر، باب : في الاستغفار، 2 / 88، الرقم : 1530، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8703، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 375، الرقم : 8869، والنسائي في السنن الکبری، 1 / 384، الرقم : 1219۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي أُکْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْکَ، فَکَمْ أَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ : مَا شِئْتَ، قَالَ : قُلْتُ : الرُّبُعَ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَکَ۔ قُلْتُ : النِّصْفَ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَکَ۔ قَالَ : قُلْتُ : فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَکَ۔ قُلْتُ : أَجْعَلُ لَکَ صَلَا تِي کُلَّهَا، قَالَ : إِذًا تُکْفَی هَمَّکَ وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ۔

4 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب : 23، 4 / 636، الرقم : 2457، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 136، الرقم : 21280، والحاکم في المستدرک، 2 / 457، 458، الرقم : 3578، 3894، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 89، الرقم : 170، والبیهقي في شعب الإیمان، 2 / 187، الرقم : 1499، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 3 / 389، الرقم : 1185۔

’’حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں کثرت سے آپ پر درود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ پر کتنا درود بھیجا کروں؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس قدر تم چاہو؟ انہوں نے عرض کیا : کیا میںاپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) آدھا حصہ خاص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) دو تہائی کافی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) میں ساری دعا آپ پر درود بھیجنے کے لئے خاص کرتا ہوں، حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تو یہ درود ہی تمہارے تمام غموں (کو دور کرنے) کے لئے کافی ہو جائے گا اور (اسی کے باعث) تمہارے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘

اسے امام ترمذی، احمد، حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام ہیثمی نے فرمایا کہ اسے امام احمد نے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

5۔ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيْهِ الصَّعْقَةُ، فَأَکْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَةٌ عَلَيَّ، قَالَ : قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، کَيْفَ تُعْرَضُ صَـلَاتُنَا عَلَيْکَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : بَلِيْتَ۔ قَالَ : إِنَّ اللهَ عزوجل حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاء۔

وفي روایۃ : فَقَالَ : إِنَّ اللهَ جَلَّ وَعَـلَا حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَامَنَا۔

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الْبُخَارِيِّ۔ وَقَالَ الْوَادِیَاشِيُّ : صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ۔ وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ۔ وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ۔ وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : تَفَرَّدَ بِهِ أَبُوْ دَاوُدَ وَصَحَّحَهُ النَّوَوِيُّ فِي الْأَذْکَارِ۔ وَقَالَ الشَّوْکَانِيُّ : رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا التِّرْمِذِيُّ۔

5 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، 1 / 275، الرقم : 1047، وفي کتاب : الصلاۃ، باب : في الاستغفار، 2 / 88، الرقم : 1531، والنسائي في السنن ، کتاب : الجمعۃ، باب : بإکثار الصلاۃ علی النبي ﷺ یوم الجمعۃ، 3 / 91، الرقم : 1374، وفي السنن الکبری، 1 / 519، الرقم : 1666، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ، باب : في فضل الجمعۃ، 1 / 345، الرقم : 1085، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8697، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 8، الرقم : 16207، والدارمي في السنن، 1 / 445، الرقم : 1572، والبزار في المسند، 8 / 411، الرقم : 3485، وابن حبان في الصحیح، 3 / 190، الرقم : 910، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 97، الرقم : 4780، والحاکم في المستدرک، 1 / 413، الرقم : 1029، والبیهقي في السنن الصغری، 1 / 371، الرقم : 634، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 118، الرقم : 1733۔ 1734۔

’’حضرت اَوس بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیشک تمہارے ایام میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن انہوں نے وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی۔ پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے وصال کے بعد آپ کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ کا جسدِ مبارک خاک میں مل چکا ہو گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیائے کرام کے جسموں کو (کھانا یا کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا) حرام کر دیا ہے۔‘‘

’’اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ برزگ و برتر نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ ہمارے جسموں کو کھائے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، دارمی، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اور امام وادیاشی نے فرمایا کہ اسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور امام عسقلانی نے فرمایا کہ اسے امام ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے اور امام عجلونی نے فرمایا کہ اسے امام بیہقی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام شوکانی بیان کرتے ہیںکہ اسے امام ترمذی کے علاوہ اصحاب صحاح نے روایت کیا ہے۔

6۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَکْثِرُوْا الصَّلَاةَ عَلَيَّ یَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَشْهُوْدٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِکَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ یُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ، حَتَّی یَفْرُغَ مِنْهَا قَالَ : قُلْتُ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ یُرْزَقُ۔

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ، وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ۔ وَقَالَ الْمَنَاوِيُّ : قَالَ الدَّمِيْرِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ۔ وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : حَسَنٌ۔

6 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ذکر وفاته ودفنه ﷺ ، 1 / 524، الرقم : 1637، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2 / 328، الرقم : 2582، والمزي في تھذیب الکمال، 10 / 23، الرقم : 2090، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 515، 4 / 493، والمناوي في فیض القدیر، 2 / 87، والعجلوني في کشف الخفائ، 1 / 190، الرقم : 501۔

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو، یہ یوم مشہود(یعنی میری بارگاہ میں فرشتوں کی خصوصی حاضری کا دن) ہے، اس دن فرشتے (خصوصی طور پر کثرت سے میری بارگاہ میں) حاضر ہوتے ہیں، کوئی شخص جب بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے فارغ ہونے تک اس کا درود مجھے پیش کر دیا جاتا ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اور (یا رسول اللہ!) آپ کے وصال کے بعد (کیا ہو گا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں وصال کے بعد بھی (اسی طرح پیش کیا جائے گا کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے۔ پس اللہ عزوجل کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق بھی دیا جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا کہ اسے امام ابن ماجہ نے جید اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام مناوی نے بیان کیا کہ امام دمیری نے فرمایا کہ اس کے رجال ثقات ہیں اور امام منذری اور عجلونی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

7۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : أَوْلَی النَّاسِ بِي یَوْمَ الْقِیَامَةِ أَکْثَرُھُمْ عَلَيَّ صَـلَاةً۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُوْ یَعْلَی وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ، وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔ وَقَالَ النَّوَوِيُّ : حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔ وَقَالَ الْمِزِّيُّ : حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔ وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ۔ وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَلَهُ شَاهِدٌ عِنْدَ الْبَيْهَقِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه وَلَا بَأْسَ بِسَنَدِهِ۔

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الوتر، باب : ما جاء في فضل الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 2 / 354، الرقم : 484، وابن حبان في الصحیح، 3 / 192، الرقم : 911، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 325، الرقم : 31787، والبخاري في التاریخ الکبیر، 5 / 177، الرقم : 559، وأبو یعلی في المسند، 8 / 427، الرقم : 5011، والشاشي في المسند، 1 / 408، الرقم : 413۔414، والبیھقي في السنن الکبری، 3 / 249، الرقم : 5791، وفي شعب الإیمان، 2 / 212، الرقم : 1563، والطبراني في المعجم الکبیر، 10 / 17، الرقم : 9800، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 81، الرقم : 250، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2 / 327، الرقم : 2575، والنووي في ریاض الصالحین، 1 / 316، والمزي في تهذیب الکمال، 15 / 482، الرقم : 3509، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 167۔

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جس نے ان میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہو گا۔‘‘

اسے امام ترمذی، ابن حبان، ابن ابی شیبہ، ابو یعلی اور بخاری نے ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ امام نووی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ امام مزی نے فرمایا کہ حدیث حسن ہے اور امام عسقلانی نے فرمایا کہ اسے امام ترمذی نے حسن اور امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور امام بیہقی کے ہاں بھی اس کی تائید حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے اور اس کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔

8۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا وَلَا تَجْعَلُوْا قَبْرِي عِيْدًا وَصَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ کُنْتُمْ۔

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْھَقِيُّ۔ وَقَالَ النَّوَوِيُّ : رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ وَأَيَّدَهُ ابْنُ کَثِيْرٍ۔

8 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : المناسک، باب : زیارۃ القبور، 2 / 218، الرقم : 2042، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 367، الرقم : 8790، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 150، الرقم : 7542، 3 / 30، الرقم : 11818، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 81، الرقم : 8030، والبزار عن علي رضی الله عنه في المسند، 2 / 147، الرقم : 509، والبیهقي في شعب الإیمان، 3 / 491، الرقم : 4162، والدیلمي في مسند الفردوس، 5 / 15، اخلرقم : 7307، وابن سرایا في سلاح المؤمن في الدعائ، 1 / 44، الرقم : 27۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو (یعنی اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان کی طرح ویران نہ رکھو) اور نہ ہی میری قبر کو عید گاہ بناؤ (کہ جس طرح عید سال میں دو مرتبہ آتی ہے اس طرح تم سال میں صرف ایک یا دو دفعہ میری قبر کی زیارت کرو بلکہ میری قبر کی جس قدر ممکن ہو کثرت سے زیارت کیاکرو) اور مجھ پر (کثرت سے) درود بھیجا کرو پس تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، احمد، ابن ابی شیبہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام نووی نے فرمایا کہ اسے امام ابو داود نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابن کثیر نے بھی ان کی تائید کی ہے۔

9۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوْحِي حَتَّی أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ۔

وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : تَفَرَّدَ بِهِ أَبُوْ دَاوُدَ وَصَحَّحَهُ النَّوَوِيُّ فِي الْأَذْکَارِ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : وَفِيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ یَزِيْدَ الإِسْکَنْدَرَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَمَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ ثِقَةٌ … وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ۔

9 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : المناسک، باب : زیارۃ القبور، 2 / 218، الرقم : 2041، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 527، الرقم : 10827، والبیهقي في السنن الکبری، 5 / 245، الرقم : 10050، وفي شعب الإیمان، باب : تعظیم النبي ﷺ وإجلاله وتوقیره، 2 / 217، الرقم : 1581 والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 262، الرقم : 3092، 9 / 130، الرقم : 9329، والهندي في کنز العمال، 1 / 491، الرقم : 2161، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 515، والهیثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے میری روح لوٹا دی ہوئی ہے تو میں اس سلام بھیجنے والے کو سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

اسے امام ابو داود، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ امام ابو داود اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں اور امام نووی نے ’’الاذکار‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں عبد اللہ بن یزید اسکندرانی راوی کو میں نہیں جانتا اور مہدی بن جعفر بھی ثقہ ہے اور اس کے علاوہ بقیہ تمام رجال ثقات ہیں۔

10۔ عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ رضي الله عنھما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ نَسِيَ الصَّلَاۃ عَلَيَّ خَطِیَٔ طَرِيْقَ الْجَنَّةِ۔ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه۔

10 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیها، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ 1 / 294، الرقم : 908، والطبراني في المعجم الکبیر، 12 / 180، الرقم : 12819، والبیهقي في عن أبي هریرۃ في السنن الکبری، 9 / 286، الرقم : 18959، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 3 / 91، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2 / 332، الرقم : 2599۔

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضي اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو (بوجہ غفلت) درود شریف پڑھنا بھول گیا وہ بہشت کی راہ بھول گیا۔‘‘

11۔ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : حَيْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِي۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَاللَّفْظُ لَهُ۔ وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ۔ وَقَالَ الْھَيْثَمِيُّ : فِيْهِ حُمَيْدُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيْحِ۔

11 : أخرجه ابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 150، الرقم : 7543، وأحمد بن حنبل عن أبي هریرۃ رضی الله عنه في المسند، 2 / 367، الرقم : 8790، والطبراني في المعجم الکبیر، 3 / 82، الرقم : 2729، وفي المعجم الأوسط، 1 / 17، الرقم : 365، والدیلمي في مسند الفردوس، 5 / 15، الرقم : 7307 والمنذري في الترغیب والترھیب، 2 / 326، الرقم : 2571، والھیثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162۔

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو، بیشک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور مذکورہ الفاظ میں سندِ حسن کے ساتھ امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا کہ اسے امام طبرانی نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا کہ اس کی سند میں حمید بن ابی زینب راوی کو میں نہیں جانتا جبکہ دیگر تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

12۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّی عَلَيَّ نَائِیًا أُبْلِغْتُهُ۔ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ۔

12 : أخرجه البیهقي في شعب الإیمان، 2 / 218، الرقم : 1583، والزیلعي في تخریج الأحادیث والآثار، 3 / 135، والذهبي في میزان الاعتدال، 6 / 328، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 516، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 488، والهندي في کنز العمال، 1 / 492، الرقم : 2165، والمناوي في فیض القدیر، 6 / 170، والعظیم آبادي في عون المعبود، 6 / 21۔22، وقال : وأخرج أبو بکر ابن أبي شیبۃ والبیهقي، والسیوطي في الدر المنثور، 6 / 654، وفي شرحه علی سنن النسائي، 4 / 110۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو (شخص) میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھتا ہے میں بذاتِ خود اسے سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ(بھی) مجھے پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ ِللهِ مَـلَائِکَةً سَيَّاحِيْنَ فِي الْأَرْضِ، یُبَلِّغُوْنِي مِنْ أُمَّتِي السَّـلَامَ۔

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

13 : أخرجه النسائي في السنن کتاب : السھو، باب : السلام علی النبي ﷺ ، 3 / 43، الرقم : 1282، وفي السنن الکبری، 1 / 380، الرقم : 1205، 6 / 22، الرقم : 9894، وفي عمل الیوم واللیلۃ، 1 / 67، الرقم : 66، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 215، الرقم : 3116، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8705، 31721، والدارمي في السنن، 2 / 409، الرقم : 2774، وابن حبان في الصحیح، 3 / 195، الرقم : 914، والحاکم في المستدرک، 2 / 456، الرقم : 3576۔

’’حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں (جن کی ڈیوٹی یہی ہے کہ) وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام نسائی، دارمی، ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

14۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ۔ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

14 : أخرجه ابن أبي شیبۃ في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8703، وأحمد ابن حنبل في المسند، 3 / 102، الرقم : 12017، والبزار في المسند، 9 / 295، الرقم : 3799، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 21، الرقم : 9890، وابن حبان في الصحیح، 3 / 185، الرقم : 904، والحاکم في المستدرک، 1 / 735، الرقم : 2018۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا اور اس کے دس گناہ ختم کرے گا اور دس درجے بلند کرے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

15۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَمَنْ صَلَّی عَلَيَّ عَشْرًا صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ مِائَةً وَمَنْ صَلَّی عَلَيَّ مِائَةً کَتَبَ اللهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ بَرَاءةً مِنَ النِّفَاقِ وَبَرَاءَ ةً مِنَ النَّارِ وَأَسْکَنَهُ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ مَعَ الشُّهَدَاءِ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْمُنْذَرِيُّ، وَقَالَ الْهَيْثمِيُّ : وَفِيْهِ إِبْرَاهِيْمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ سَلَمٍ الْهُجَيْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ۔

15 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 188، الرقم : 7235، وفي المعجم الصغیر، 2 / 126، الرقم : 899، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2 / 323، الرقم : 2560، والهیثمي في مجمع الزوائد، 10 / 163۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتوں کا نزول فرماتا ہے، اور جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور جو شخص مجھ پر سو مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) منافقت اور آگ (دونوں) سے ہمیشہ کے لئے آزادی لکھ دیتا ہے اور روزِ قیامت اس کا قیام (اور درجہ) شہداء کے ساتھ ہو گا۔‘‘

اسے امام طبرانی اور منذری نے روایت کیا ہے اور امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس میں ابراہیم بن سالم بن سلم الهُجَیمِی نامی راوی کو میں نہیں جانتا بقیہ تمام رجال ثقات ہیں۔

16۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ صَلَّی عَلَيَّ فِي کِتَابٍ لَمْ تَزَلِ الْمَـلَائِکَةُ تَسْتَغْفِرُ لَهُ مَا دَامَ اسْمِي فِي ذَلِکَ الْکِتَابِ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْمُنْذَرِيُّ۔ وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : ذَکَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ۔

16 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 232، الرقم : 1835، والمنذري في الترغیب والترهیب، 1 / 62، الرقم : 157 وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 6 / 81، والخطیب البغدادي في شرف أصحاب الحدیث، 1 / 36، والذهبي في میزان الاعتدال، 2 / 32، والعسقلاني في لسان المیزان، 2 / 26، الرقم : 93، والقزویني في التدوین في أخبار قزوین، 4 / 107، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1 / 136، والعجلوني في کشف الخفائ، 2 / 338، الرقم : 2518، والسیوطي في تدریب الراوي، 2 / 74، 75، والسمعاني في أدب الإملاء والاستملائ، 1 / 64۔

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر کسی کتاب میں درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اس وقت تک بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘

اسے امام طبرانی اور منذری نے روایت کیا ہے۔ امام عسقلانی نے فرمایا کہ اسے امام ابن حبان نے ’’الثقات‘‘ میں روایت کیا ہے۔

17۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ جَاءَ أَصْحَابُ الْحَدِيْثِ بِأَيْدِيْهِمُ الْمَحَابِرُ، فَیَأْمُرُ اللهُ عزوجل جِبْرِيْلَ أَنْ یَأْتِیَهُمْ فَیَسْأَلَهُمْ مَنْ هُمْ؟ فَیَأْتِيْهِمْ فَیَسْأَلُهُمْ، فَیَقُوْلُوْنَ : نَحْنُ أَصْحَابُ الْحَدِيْثِ، فَیَقُوْلُ اللهُ تَعَالَی : أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ طَالَ مَا کُنْتُمْ تُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ۔

رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ وَالْخَطِيْبُ۔

17 : أخرجه الدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 254، الرقم : 983، والخطیب البغدادي في تاریخ بغداد، 3 / 410، الرقم : 1542، والسمعاني في أدب الإملاء والاستملائ، 1 / 53۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو حدیث لکھنے والے لوگ آئیں گے درآنحالیکہ ان کے ہاتھوں میں دواتیں ہوں گی۔ پس اللہ عزوجل حضرت جبرائیل علیہ السلام کوحکم دے گا کہ وہ ان کے پاس جاکر ان سے پوچھے کہ وہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس جاکر ان سے پوچھیں گے (کہ تم کون ہو؟) وہ کہیں گے : ہم کاتبینِ حدیث ہیں، تو اللہ تعالیٰ اُن سے فرمائے گا : جنت میں اتنے عرصہ کے لئے داخل ہوجاؤ جتنا عرصہ تم نبی ( ﷺ ) پر درود بھیجتے رہے ہو۔‘‘ اسے امام دیلمی اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه : إِنَّ الدُّعَاء مَوْقُوْفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْهُ شَيْئٌ حَتَّی تُصَلِّيَ عَلَی نَبِيِّکَ ﷺ ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔

1 : أخرجه الترمذي في السنن، أبواب : الوتر، باب : ما جاء في فضل الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 2 / 356، الرقم : 486، والمنذري في الترغیب والترھیب، 2 / 330، الرقم : 2590، والمزي في تهذیب الکمال، 34 / 201، والمناوي في فیض القدیر، 3 / 543۔

’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا زمین و آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اوپر کی طرف نہیں جاتی (یعنی قبول نہیں ہوتی) جب تک تو اپنے نبی مکرم ﷺ پر درود شریف نہ بھیجے۔‘‘

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی الله عنه قَالَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَحْسِنُوا الصَّـلَاةَ عَلَيْهِ فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْرُوْنَ لَعَلَّ ذَلِکَ یُعْرَضُ عَلَيْهِ قَالَ : فَقَالُوْا لَهُ : فَعَلِّمْنَا قَالَ : قُوْلُوْا : {اَللَّھُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلَی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَةِ، اَللَّھُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا یَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُوْنَ وَالْآخِرُوْنَ، اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاھِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاھِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ اَللَّھُمُّ بَارِکَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاھِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاھِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ}۔

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْ یَعْلَی وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْھَقِيُّ، وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه مَوْقُوْفًا بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ۔

2 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب : الصلاۃ علی النبي ﷺ ، 1 / 293، الرقم : 906، وأبویعلی في المسند، 9 / 175، الرقم : 5267، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 214، الرقم : 3112، والطبراني في المعجم الکبیر، 9 / 115، الرقم : 8594، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 208، الرقم : 1550، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2 / 329، الرقم : 2588، وقال المنذري : رواه ابن ماجه موقوفا بإسناد حسن۔

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تم حضورنبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں درودِ پاک کا نذرانہ پیش کرو تو(اَدبِ رسالت کا تقاضا یہ ہے) نہایت خوبصورت انداز سے پیش کیا کرو، کیونکہ شاید تم نہیں جانتے کہ یہ (ہدیۂ درود) آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے ان سے عرض کیا : تو آپ ہی ہمیں (کوئی خوبصورت طریقہ) سکھا دیں۔ انہوں نے فرمایا : تم اس طرح کہو : اے اللہ! تو اپنے درود، رحمتیں اور (تمام) برکتیں تمام رسولوں کے سردار، تمام پرہیزگاروں کے امام، انبیاء کے خاتم (یعنی سب سے آخری نبی) ،تیرے (خاص) بندے اور (سچے) رسول، تمام خیر اور بھلائیوں کے امام و قائد اور رسول رحمت (وبرکت) کے لئے خاص فرما، اے اللہ! حضور نبی اکرم ﷺ کو اس مقام محمود پر فائز فرما جس پر تمام اولین و آخرین (یعنی تخلیق کائنات سے روزِ قیامت تک) کے تمام لوگ رشک کریں گے۔ اے اللہ ! تو درود بھیج حضورنبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی آل پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ ! تو برکت عطاء فرما حضورنبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کو جیسا کہ تو نے برکت عطا فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو، بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

اسے امام ابن ماجہ، ابو یعلی، عبد الرزاق، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور امام منذری نے فرمایا کہ اسے امام ابن ماجہ نے اسنادِ حسن کے ساتھ موقوفا روایت کیا ہے۔

3۔ قال الدارقطني رَحِمَهُ الله : الصواب أنه من قول أبي جعفر محمد بن علي بن الحسین رضی الله عنه : لو صلّیتُ صلاةً لم أُصَل فیها علی النبي ﷺ ولا علی أهل بیته لرأیت أنها لا تتم۔

3 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 550۔

’’امام دار قطنی رَحِمَهُ اللہ فرماتے ہیں کہ درست بات وہ ہے جو ابو جعفر بن محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں ایسی نماز پڑھوں جس میں حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اہل بیت پر درود نہ بھیجوں تو یقینا میرے نزدیک ایسی نماز کامل نہ ہو گی۔‘‘

4۔ قال القاضي عیاض رَحِمَهُ الله : اعلم أن الصلاۃ علی النبي ﷺ فرض علی الجملۃ، غیر محدّد بوقت، لأمر الله تعالی بالصلاۃ علیه، وحمل الأئمۃ والعلماء له علی الوجوب، وأجمعوا علیه۔

4 : القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 545۔

’’قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ واضح ہونا چاہئے کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا فی الجملہ فرض ہے۔یہ کسی خاص وقت کے ساتھ محدود و معین نہیں ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے آپ ﷺ پر علی الاطلاق درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور درود شریف پڑھنے کو اَئمہ و علماء نے واجب قرار دیا ہے اور اس کے وجوب پر سب کا اجماع ہے ۔‘‘

5۔ قال القاضي أبو بکر بن بکیر رَحِمَهُ الله : افترض الله علی خلقه أن یصلوا علی نبیه ﷺ ویسلموا تسلیما، ولم یجعل ذلک لوقت معلوم، فالواجب أن یکثر المرء منها، ولا یغفل عنها۔

5 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 546۔

’’قاضی ابو بکر بن بکیر رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنی تمام مخلوق پر فرض کیا ہے کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ پر صلوٰۃ و سلام پیش کریں۔ اس کے لئے کوئی معین وقت لازم نہیں ہے۔ لهٰذا انسان پر واجب ہے کہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے اور اس سے غفلت نہ برتے۔‘‘

6۔ قال القاضي أبو عبد الله بن محمد بن سعید رَحِمَهُ الله : ذهب مالک رَحِمَهُ الله وأصحابه وغیرهم من أهل العلم أن الصلاۃ علی النبي ﷺ فرض بالجملۃ بعقد الأیمان، لا تتعین فیه الصلاۃ۔

6 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 546۔

’’قاضی ابو عبد اللہ محمد بن سعید رَحِمَهُ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رَحِمَهُ اللہ اور ان کے اصحاب اور دیگر اہل علم کا یہ مذہب ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر درود پڑھنا فرض ہے۔ صرف نماز میں پڑھنے کی تخصیص نہیں ہے۔‘‘

7۔ قال مالک رَحِمَهُ الله في روایۃ ابن وهب : یقول المسلّم : السلام علیک أیها النبي ورحمۃ الله وبرکاته۔

7 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 587۔

’’امام مالک رَحِمَهُ اللہ، ابن وہب رضی اللہ عنہ کی روایت میں(سلام پیش کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں کہ مسلّم( یعنی سلام عرض کرنے والا یوں) کہے : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَیُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهٗ (اے نبی آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں)۔‘‘

8۔ عن عبد الله ابن مسعود رضی الله عنه : إذا أراد أحدکم أن یسأل الله شیئاً فلیبدأ بمدحه والثناء علیه بما هو أهله، ثم یصلي علی النبي ﷺ ، ثم لیسأل، فإنه أجدر أن ینجح۔

8 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 552۔

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی اللہ عزوجل سے سوال کرے تو اسے چاہئے کہ پہلے اس کی (شان جلالت و کبریائی کے مطابق) حمد و ثنا کرے پھر حضور نبی اکرم ﷺ پر درود پڑھے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے کیونکہ اس کے بعد سزاوار ہے کہ وہ جو مانگے قبول ہو۔‘‘

9۔ قال أبو بکر الصدیق رضی الله عنه : الصلاۃ علی النبي ﷺ أمحق للخطایا من الماء للنار والسلام علی النبي ﷺ أفضل من عتق الرقاب وحب رسول الله ﷺ أفضل من مهج الأنفس أو قال : من ضرب السیف في سبیل الله۔

9 : أخرجه الخطیب البغدادي في تاریخ بغداد، 7 / 161، والسیوطي في الدرالمنثور،6 : 654، والنبهاني في سعادۃ الدارین : 88۔

’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا اس سے زیادہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے جتنا پانی آگ کو، اور حضور نبی اکرم ﷺ پر سلام بھیجنا غلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت جان قربان کرنے سے افضل ہے یا فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے (بہتر ہے)۔‘‘

10۔ قال الشیخ السید عبد القادر الجیلاني رَحِمَهُ الله کان من دعاء علي بن أبي طالب رضی الله عنه : اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ مَصَابِيْحِ الْحِکْمَةِ وَمَوَالِيَ النِّعْمَةِ وَمَعَادِنِ الْعِصْمَةِ وَاعْصِمْنِي بِهِمْ مِنْ کُلِّ سُوْءٍ وَلَا تَأْخُذْنِي عَلَی غِرَّةٍ وَّ لَا عَلَی غَفْلَةٍ وَلَا تَجْعَلْ عَوَاقِبَ أَمْرِي حَسْرَةً وَّ نَدَامَةً وَارْضَ عَنِّي۔

10 : أخرجه الشیخ عبد القادر الجیلانی في الغنیۃ، 1 / 329۔

’’حضرت شیخ سید عبد القادر الجیلانی رَحِمَهُ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ! حضرت محمد ﷺ پر اور آپ کے اہل و عیال پر اپنی رحمتیں نازل فرما جو علم و حکمت کے چراغ، فضل و نعمت والے اور عصمت کی کانیں ہیں، ان کے ساتھ مجھے بھی ہر برائی سے محفوظ فرما اور مجھے بے خبری اور غفلت کی حالت میں نہ پکڑ اور میرے اعمال کے نتائج میرے لئے موجب حسرت و ندامت نہ بنا اور مجھ سے راضی ہو جا۔‘‘

11۔ قال أحمد بن عطاء الروذباري رَحِمَهُ الله : سمعت أبا صالح یقول : رؤي بعض أصحاب الحدیث في المنام۔ فقیل له : ما فعل الله بک؟ فقال : غفر لي۔ فقیل : بأي شيئ؟ فقال : بصلاتي في کتبي علی النبي ﷺ ۔

11 : أخرجه ابن قیّم الجوزیۃ في جلاء الأفهام في الصلاۃ والسلام علی خیر الأنام : 56۔

’’احمد بن عطائ، ابو صالح عبد اللہ بن صالح کاقول بیان کرتے تھے کہ اصحاب حدیث میں سے ایک کو خواب میں دیکھا گیا۔ پوچھا گیا کہ اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ اس نے کہا : مجھے بخش دیا گیا۔ اس سے پوچھا گیا، کس عمل کے بدلے؟ اس نے کہا : اس درود شریف کی وجہ سے جو میں حضور نبی اکرم ﷺ پر کتابوں میں لکھا کرتا تھا۔‘‘

12۔ قال الحلیمي رَحِمَهُ الله : والمقصود بالصلاۃ علیه ﷺ التقرب إلی الله تعالی بامتثال أمره تعالی، وقضاء حق النبي ﷺ علینا۔

12 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواھب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 506۔

’’حلیمی رَحِمَهُ اللہ نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ پر درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے کیونکہ اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور حضور نبی اکرم ﷺ کا وہ حق جو ہمارے ذمہ ہے، اس کی ادائیگی ہوتی ہے۔‘‘

13۔ قال المجد رَحِمَهُ الله أحد القدماء من المصریین : من صلی علی النبي ﷺ إذا سمع ذکره في الأذان وجمع أصبعیه المسبحۃ والإبهام وقبّلهما ومسح بهما عینیه لم یرمد أبدا۔

13 : أخرجه السخاوي في المقاصد الحسنۃ : 384۔

’’حضرت مجد رَحِمَهُ اللہ جو کہ قدماء مصریین میں سے ایک بزرگ ہیں، نے فرمایا : جس نے اذان میں حضور نبی اکرم ﷺ کا نام مبارک سن کر ان پر درود پڑھا اور انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر اس کو چوما اور پھر اپنی آنکھوں پر ملا تو وہ کبھی آشوبِ چشم میں مبتلا نہ ہو گا۔‘‘

14۔ عن الخضر علیه السلام أنه من قال : حین سمع المؤذن یقول : أشهد أن محمد رسول الله، مرحبا بحبیبي وقرۃ عیني محمد بن عبد الله ثم یقبل إبهامیه ویجعلهما علی عینیه لم یرمد أبدا۔

14 : أخرجه السخاوي في المقاصد الحسنۃ : 384۔

’’حضرت خضر علیہ السلام فرماتے ہیں : جس شخص نے مؤذن سے یہ کلمات سنے : أشھد أن محمد رسول اللہ اور وہ شخص اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو چومتے ہوئے یہ کہے : مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبد اللہ ﷺ ۔ تو وہ کبھی آشوبِ چشم میں مبتلا نہیں ہو گا۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved