Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 11 :حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ زمینی اشیا کی محبت کا بیان

فَصْلٌ فِي مَحَبَّةِ الْأَجْسَامِ الْأَرْضِيَّةِ لِلنَّبِيِّ ﷺ

{حضور ﷺ کے ساتھ زمینی اَشیا کی محبت کا بیان}

1۔ مَحَبَّةُ الْمَاءِ لِلنَّبِيِّ ﷺ

{حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پانی کی محبت}

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِإِنَاءٍ، وَھُوَ بِالزَّوْرَاءِ، فَوَضَعَ یَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ یَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ۔ قَالَ قَتَادَةُ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ : ثَـلَاثَ مِائَةٍ، أَوْ زُھَاءَ ثَـلَاثِ مِائَةٍ۔ وفي روایۃ : لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاری فی الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ فی الإسلام، 3 / 1309۔ 1310، الرقم : 3379۔3380،5316، ومسلم فی الصحیح، کتاب : الفضائل، باب : فی معجزات النبی ﷺ ، 4 / 1783، الرقم : 2279، والترمذی فی السنن، کتاب : المناقب، باب : 6، 5 / 596، الرقم : 3631، ومالک فی الموطأ، 1 / 32، الرقم : 62، والشافعی فی المسند، 1 / 15، وأحمد بن حنبل فی المسند، 3 / 132، الرقم : 12370، والبیهقی فی السنن الکبری، 1 / 193، الرقم : 878، وابن أبی شیبۃ فی المصنف، 6 / 316، الرقم : 31724۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا اور آپ ﷺ زوراء کے مقام پر تھے۔ آپ ﷺ نے برتن کے اندر اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے اور تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کتنے (لوگ) تھے؟ انہوں نے جواب دیا : تین سو یا تین سو کے لگ بھگ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہم اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی سب کے لئے کافی ہوتا لیکن ہم پندرہ سو تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه قَالَ : کُنَّا نَعُدُّ الآیَاتِ بَرَکَةً، وَأَنْتُمْ تَعُدُّوْنَھَا تَخْوِيْفًا، کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَقَلَّ الْمَاءُ، فَقَالَ : اطْلُبُوْا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ۔ فَجَاؤُوْا بِإِنَاءٍ فِيْهِ مَاءٌ قَلِيْلٌ، فَأَدْخَلَ یَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَی الطَّھُوْرِ الْمُبَارَکِ، وَالْبَرَکَةُ مِنَ اللهِ۔ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَائَ یَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ، وَلَقَدْ کُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَھُوَ یُؤْکَلُ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ أَبُوْعِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

2 : أخرجه البخاری فی الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ فی الإسلام، 3 / 1312، الرقم : 3386، والترمذی فی السنن، کتاب : المناقب، باب : 6، 5 / 597، الرقم : 3633، وأحمد بن حنبل فی المسند، 1 / 460، الرقم : 4393، وابن خزیمۃ فی الصحیح، 1 / 102، الرقم : 204، والدارمی فی السنن، 1 / 28، الرقم : 29، وابن أبی شیبۃ فی المصنف، 6 / 316، الرقم : 31722، والبزار فی المسند، 4 / 301، الرقم : 1978، والطبرانی فی المعجم الأوسط، 4 / 384، الرقم : 4501، وأبویعلی فی المسند، 9 / 253، الرقم : 5372، والشاشی فی المسند، 1 / 358، الرقم : 346، واللالکائی فی اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 803، الرقم : 1479، وأبو المحاسن فی معتصر المختصر، 1 / 8، والبیهقی فی الاعتقاد، 1 / 272۔

’’حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم تو معجزات کو برکت شمار کرتے تھے تم انہیں خوف دلانے والے شمار کرتے ہو۔ ہم ایک سفر میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ پانی کی قلت ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کچھ بچا ہوا پانی لے آؤ، لوگوں نے ایک برتن آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ آپ ﷺ نے اپنا دستِ اقدس اس برتن میں ڈالا اور فرمایا : پاک برکت والے پانی کی طرف آؤ اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ میں نے دیکھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک انگلیوں سے (چشمہ کی طرح) پانی ابل رہا تھا۔ علاوہ ازیں ہم کھانا کھاتے وقت کھانے سے تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔

3۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ یَوْمَ الْحُدَيْبِیَةِ، وَالنَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ یَدَيْهِ رِکْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَھِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ : مَا لَکُمْ؟ قَالُوْا : لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ یَدَيْکَ، فَوَضَعَ یَدَهُ فِي الرِّکْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ یَثُوْرُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ کَأَمْثَالِ الْعُیُوْنِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قُلْتُ : کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ : لَوْکُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا‘ کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ۔

3 : أخرجه البخاري فی الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ فی الإسلام، 3 / 1310، الرقم : 3383، وفی کتاب : المغازی، باب : غزوۃ الحدیبیۃ، 4 / 1526، الرقم : 3921۔3923، وفی کتاب : الأشربۃ، باب : شرب البرکۃ والمائِ المبارک، 5 / 2135، الرقم : 5316، وفی کتاب : التفسیر / الفتح، باب : إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ : (18)، 4 / 1831، الرقم : 4560، وأحمد بن حنبل فی المسند، 3 / 329، الرقم : 14562، وابن خزیمۃ فی الصحیح، 1 / 65، الرقم : 125، وابن حبان فی الصحیح، 14 / 480، الرقم : 6542، والدارمی فی السنن، 1 / 21، الرقم : 27، وأبویعلی فی المسند، 4 / 82، الرقم : 2107، والبیهقی فی الاعتقاد، 1 / 272، وابن جعد فی المسند، 1 / 29، الرقم : 82۔

’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے پانی کی ایک چھاگل رکھی ہوئی تھی آپ ﷺ نے اس سے وضو فرمایا : لوگ آپ ﷺ کی طرف جھپٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارے پاس وضو کے لئے پانی ہے نہ پینے کے لئے۔ صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے (یہ سن کر) دستِ مبارک چھاگل کے اندر رکھا تو فوراً چشموں کی طرح پانی انگلیوں کے درمیان سے جوش مار کر نکلنے لگا، ہم سب نے (خوب پانی) پیا اور وضو بھی کر لیا۔ (سالم راوی کہتے ہیں : ) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس وقت آپ کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا، جبکہ ہم تو پندرہ سو تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنِ الْبَرَاءِ رضی الله عنه قَالَ : کُنَّا یَوْمَ الْحُدَيْبِیَةِ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِیَةُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاھَا حَتَّی لَمْ نَتْرُکْ فِيْھَا قَطْرَةً، فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی شَفِيْرِ الْبِئْرِ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَمَضْمَضَ وَمَجَّ فِي الْبِئْرِ، فَمَکَثْنَا غَيْرَ بَعِيْدٍ، ثُمَّ اسْتَقَيْنَا حَتَّی رَوِيْنَا، وَرَوَتْ أَوْ صَدَرَتْ رَکَائِبُنَا۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

وقال الإمام القسطلانی : وأما نبع الماء الطهور من بین أصابعه ﷺ ، وهو أشرف المیاه، فقال القرطبي : قصۃ نبع الماء من بین أصابعه قد تکررت منه ﷺ ، في عدۃ مواطن في مشاهد عظیمۃ، ووردت من طرق کثیرۃ، یفید مجموعها العلم القطعي المستفاد من التواتر المعنوي، ولم یسمع بمثل هذه المعجزۃ عن غیر نبینا ﷺ ، حیث نبع الماء من بین عظمه وعصبه ولحمه ودمه، وقد نقل ابن عبد البر عن المزني أنه قال : نبع الماء من بین أصابعه ﷺ أبلغ في المعجزۃ من نبع الماء من الحجر حیث ضربه موسی بالعصا فتفجرت منه المیاه، لأن خروج الماء من الحجارۃ معهود بخلاف خروج الماء من بین اللحم والدم۔(1)

4 : أخرجه البخاری فی الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ فی الإسلام، 3 / 1311، الرقم : 3384، وابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 6 / 585۔

(1) الإمام القسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 227۔

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ کے روز ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ ہم حدیبیہ کے کنویں سے پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا۔ (صحابہ کرام پانی ختم ہو جانے سے پریشان ہو کر بارگاهِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے) سو حضور نبی اکرم ﷺ کنویں کے منڈیر پر آ بیٹھے اور پانی طلب فرمایا : اس سے کلی فرمائی اور وہ پانی کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد (پانی اس قدر اوپر آ گیا کہ) ہم اس سے پانی پینے لگے، یہاں تک کہ خوب سیراب ہوئے اور ہمارے سواریوں کے جانور بھی سیراب ہو گئے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

’’امام قسطلانیؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک معجزہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا جاری ہونا ہے اور یہ سب سے معزز پانی تھا۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں : آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے کا واقعہ مختلف مقامات میں متعدد بار ہوا ہے اور یہ بہت سے طرق کے ساتھ مروی ہے جن کا جمع ہونا علم قطعی یقینی کا فائدہ دیتا ہے جو تواتر معنوی سے حاصل ہوتی ہے اور اس قسم کا معجزہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے علاوہ کسی سے نہیں سنا گیا۔ آپ ﷺ کی مبارک ہڈیوں، پٹھوں، گوشت اور خون کے درمیان سے پانی نکلا۔ ابن عبد البر نے (اسماعیل بن یحییٰ بن اسماعیل امام جلیل متوفی 264ھ) مزنی ؒ سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں : رسول اکرم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا نکلنا پتھر سے پانی کے نکلنے کے مقابلے میںزیادہ بلیغ (مؤثر) بات ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو اس سے چشمے پھوٹ نکلے اور پـتھرسے پانی کا نکلنا معروف بات ہے جبکہ گوشت اور خون سے پانی کے نکلنے میں یہ بات نہیں ہے۔‘‘

5۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ رضی الله عنه قَالَ۔۔۔۔ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ لَنَا بِئْرًا، إِذَا کَانَ الشِّتَاx وَسِعَنَا مَاؤُھَا فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ وَإِذَا کَانَ الصَّيْفُ قَلَّ وَتَفَرَّقْنَا عَلَی مِیَاهٍ حَوْلَنَا، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيْعُ الْیَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ۔ کُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ، فَادْعُ اللهَ یَسَعْنَا مَاؤُهَا، فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَنَقَدَهُنَّ فِي کَفِّهِ ثُمَّ قَالَ : إِذَنِ اسْتَمَوْهَا فَالْقُوْا وَاحِدَةً وَاحِدَةً، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللهِ، فَمَا اسْتَطَاعُوْا أَنْ یَنْظُرُوْا إِلَی قَعْرِهَا بَعْدُ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْأَصْبَهَانِيُّ وَالْفَرْیَابِيُّ۔

5 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 5 / 262، الرقم : 5285، والأصبهاني في دلائل النبوۃ، 1 / 33، الرقم : 7، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 72، الرقم : 38، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 34 / 346، والحارث في المسند، 2 / 626، الرقم : 598، والهیثمي في مجمع الزوائد، 5 / 204، والمزي في تهذیب الکمال، 9 / 448۔

’’صحابی رسول حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میرے قبیلے کے) لوگوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا ایک کنواں ہے، جب سردیوں کا موسم ہو تو اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہوتا ہے اور وہ ہماری ضرورت پوری کرتا ہے لیکن جب گرمی آتی ہے تو اس کا پانی کم ہو جاتا ہے اور ہمیں پانی پینے کے لئے اردگرد جانا پڑتا ہے، جبکہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور ہمارے اردگرد سب ہمارے دشمن ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ ا للہ تعالیٰ ہمارے کنویں کا پانی بڑھا دے تاکہ ہم اس کو جمع کر لیں اور ہمیں پانی کے لئے ادھر ادھر نہ جانا پڑے۔ آپ ﷺ نے سات کنکریاں منگوائیں اور انہیں اپنے ہاتھ میں گھمایا اور دعا فرمائی، پھر فرمایا : ان کنکریوں کو لے جائو اور جب تم اپنے کنویں پر پہنچو تو ایک ایک کر کے ان کنکریوں کو اس میں ڈالتے جانا اور ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لینا۔ حضرت حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا جیسا کہ آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا تو اس کے بعد (کنویں کا پانی اتنا بڑھ گیا کہ) ہم کنویں کی تہہ کو کبھی نہ دیکھ سکے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی، اصبہانی اور فریابی نے روایت کیا ہے۔

2۔ مَحَبَّةُ الطَّعَامِ لِلنَّبِيِّ ﷺ

{حضور ﷺ کے ساتھ کھانے کی محبت}

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : کَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ یُحَدِّثُ أَنَّ یَھُوْدِيَّةً مِنْ أَھْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِیَةً ثُمَّ أَھْدَتْھَا لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الذِّرَاعَ فَأَکَلَ مِنْھَا وَأَکَلَ رَھْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمّ قَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : ارْفَعُوْا أَيْدِیَکُمْ وَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِلَی الْیَهُوْدِيَّةِ فَدَعَاھَا فَقَالَ لَهَا : أَسَمَمْتِ ھَذِهِ الشَّاةَ؟ قَالَتِ الْیَهُوْدِيَّةُ : مَنْ أَخْبَرَکَ؟ قَالَ : أَخْبَرَتْنِي ھَذَهِ فِي یَدِي الذِّرَاعُ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَمَا أَرَدْتِ إِلَی ذَلِکَ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : إِنْ کَانَ نَبِیًّا فَلَمْ یَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَبِیًّا اِسْتَرَحْنَا مِنْهُ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ۔

1 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الدیات، باب : فیمن سقی رجلاً سماً أو أطعمه فمات، 4 / 173، الرقم : 4510، والدارمي في السنن، 1 / 46، الرقم : 68، والبیھقي في السنن الکبری، 8 / 46۔

’’ابن شہاب نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ خیبر والوں میں ایک یہودیہ عورت نے بکری کے بھنے ہوئے گوشت میں زہر ملایا اور پھر وہ گوشت حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس تحفے کے طور پر بھیج دیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس کی دستی لی اور اُس سے کھایا اور آپ کے صحابہ میں سے چند اور نے بھی کھایا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو فرمایا : اپنے ہاتھ روک لو۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس عورت کے پاس ایک آدمی بھیجا جو اُسے بلا کر لایا۔ آپ ﷺ نے اُسے فرمایا : کیا تم نے اس گوشت میں زہر ملایا ہے؟ یہودیہ عورت نے کہا : آپ کو کس نے بتایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اسی دستی(گوشت) نے بتایا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ اس پر اُس عورت نے کہا : ہاں (میں نے زہر ملایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے تمہارا کیا ارادہ تھا؟ اس نے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ ﷺ خَمَصًا شَدِيْدًا فَانْکَفَأْتُ إِلَی امْرَأَتِي فَقُلْتُ : هَلْ عِنْدَکِ شَیئٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ خَمَصًا شَدِيْدًا فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا فِیهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيْرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ فَفَرَغَتْ إِلَی فَرَاغِي وَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَبِمَنْ مَعَهُ فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ کَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَکَ فَصَاحَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ : یَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُوْرًا فَحَيَّ هَلًا بِکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَکُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِيْنَکُمْ حَتَّی أَجِیئَ فَجِئْتُ وَجَاء رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّی جِئْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ : بِکَ وَبِکَ فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِيْنًا فَبَصَقَ فِيْهِ وَبَارَکَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَی بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَکَ ثُمَّ قَالَ ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِکُمْ وَلَا تُنْزِلُوْهَا وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللهِ لَقَدْ أَکَلُوْا حَتَّی تَرَکُوْهُ وَانْحَرَفُوْا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ کَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِيْنَنَا لَیُخْبَزُ کَمَا هُوَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

2 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المغازي، باب : غزوۃ الخندق وھي الأحزاب، 4 / 1505، الرقم : 3876، ومسلم في الصحیح، کتاب : الأشربۃ، باب : جواز استتباعه غیره إلی دار من یثق برضاه بذلک ویتحققه تحققا تاما واستحباب الاجتماع علی الطعام، 3 / 1610، الرقم : 2039، والحاکم في المستدرک، 3 / 32، الرقم : 4324، والبیهقي في السنن الکبری، 7 / 274، الرقم : 14373، وأبو عوانۃ في المسند، 4 / 351، الرقم : 6942، و 5 / 177، الرقم : 8307، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 49، الرقم : 17۔

’’سعید بن میناء کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب خندق کھودی جارہی تھی تو میں نے دیکھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کو سخت بھوک لگی ہے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آکر کہنے لگا کہ کھانے کی کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت بھوک کی ہالت میں دیکھا ہے۔ اس نے بوری نکالی تو اس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا ایک بچہ تھا۔ میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور بیوی نے جو پیس لئے۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں بناکر انہیں ہانڈی میں ڈال دیا۔ جب میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے کی خاطر جانے لگا تو بیوی نے کہا : کہیں مجھے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے سامنے شرمسار نہ کرنا۔ میں نے حاضرِ خدمت ہو کر سرگوشی کے انداز میں عرض کی : یا رسول اللہ! ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جو کا آٹا ہے پس آپ ﷺ چند حضرات کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے بآواز بلند فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہارے لئے ضیافت کا بندوبست کیا ہے لهٰذا آؤ چلو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے آنے تک ہانڈی نہ اتارنا اور روٹیاں نہ پکوانا۔ حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اور آپ ﷺ لوگوں کے آگے آگے تھے۔ جب میں گھر گیا تو بیوی نے گھبرا کر مجھ سے کہا کہ آپ نے تو میرے ساتھ وہی بات کر دی جس کا خدشہ تھا۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ کہا وہ میں نے عرض کر دیا تھا پس حضور نبی اکرم ﷺ نے آٹے میں لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا مانگی۔ پھر ہنڈیا میں لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ روٹی پکانے والی ایک اور بلا لو تاکہ میرے سامنے روٹیاں پکائے اور تمہاری ہانڈی سے گوشت نکال کر دیتی جائے اور فرمایا کہ ہانڈی کو نیچے نہ اتارنا۔ کھانے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! سب نے کھانا کھا لیا یہاں تک کہ سارے شکم سیر ہو کر چلے گئے اور کھانا پیچھے بھی چھوڑ گئے۔ دیکھا گیا تو ہانڈی میں اتنا ہی گوشت موجود تھا جتنا پکنے کے لئے رکھا تھا اور ہمارا آٹا بھی اتنا ہی تھا جتنا کہ پکانے سے پہلے تھا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ یَقُوْلُ : قَالَ أَبُوْ طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ضَعِيْفًا أَعْرِفُ فِيْهِ الْجُوْعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَیئٍ قَالَتْ : نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيْرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ یَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : آرْسَلَکَ أَبُوْ طَلْحَةَ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : بِطَعَامٍ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِمَنْ مَعَهُ : قُوْمُوْا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُوْ طَلْحَةَ : یَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَائَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ أَبُوْ طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَأَبُوْ طَلْحَةَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : هَلُمِّي یَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِيْهِ مَا شَائَ اللهُ أَنْ یَقُوْلَ ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوْا حَتَّی شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوْا حَتَّی شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوْا حَتَّی شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوْا وَالْقَوْمُ سَبْعُوْنَ أَوْ ثَمَانُوْنَ رَجُلًا۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1311، الرقم : 3385، وفي کتاب : الأطعمۃ، باب : من أکل حتی شبع، 5 / 2057، الرقم : 5066، وفي کتاب : الأیمان والنذور، باب : إذا حلف أن لا یأتدم فأکل تمرا بخبز وما یکون من الأدم، 6 / 2461، الرقم : 6310، ومسلم في الصحیح، کتاب : الأشربۃ، باب : جواز استتباعه غیره إلی دار من یثق برضاه بذلک ویتحققه تحققا تاما واستحباب الاجتماع علی الطعام، 3 / 1612، الرقم : 2040، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : 6، 5 / 595، الرقم : 3630، ومالک في الموطأ، کتاب : صفۃ النبي ﷺ ، باب : جامع ما جاء في الطعام والشراب، 2 / 927، الرقم : 1675، وابن حبان في الصحیح، 14 / 469، الرقم : 6534۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضي اللہ عنہا (والدۂ حضرت انس) سے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی ہے جس میں ضعف محسوس ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور چند جو کی روٹیاں نکال لائیں۔ پھر اپنا ایک دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک پلے روٹیاں لپیٹ دیں پھر روٹیاں میرے سپرد کر کے باقی دوپٹہ مجھے اُڑھا دیا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی جانب روانہ کر دیا۔ میں روٹیاں لے کر گیا تو رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا شمع رسالت کے گرد چند پروانے بھی موجود تھے۔ میںان کے پاس کھڑا ہوگیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں ابو طلحہ نے کھانا دے کر بھیجا ہے؟ میں عرض گزار ہوا : ہاں۔ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ۔ پھر آپ ﷺ چل پڑے میں ان سے آگے چل دیا اور جاکر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتا دیا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ام سلیم! رسول اللہ ﷺ لوگوں کو لے کر غریب خانے پر تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس انہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ عرض گزار ہوئیں : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پس حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً رسول اللہ ﷺ کے استقبال کو نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ رسول خدا کے پاس جاپہنچے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اور ان کے گھر جلوہ فرما ہو گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آو۔ انہوں نے وہی روٹیاں حاضر خدمت کر دیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے ٹکڑے کرنے کا حکم فرمایا اور حضرت ام سلیم رضي اللہ عنہا نے سالن کی جگہ کپی سے سارا گھی نکال لیا۔ پھر رسول خدا نے اس پر وہی کچھ پڑھا جو خدا نے چاہا۔ پھر فرمایا کہ دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ پس انہوں نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا : دس آدمی کھانے کے لیے اور بلا لو۔ چنانچہ وہ بھی سیر ہو کر چلے گئے۔ پھر کھانے کے لیے دس اور آدمیوں کو بلا لو۔ پس انہیں بلایا گیا۔ وہ بھی شکم سیر ہو کر کھاچکے اور چلے گئے۔ پھر دس آدمیوں کو بلانے کے لیے فرمایا گیا اور اسی طرح جملہ حضرات نے شکم سیر ہو کر کھانا کھا لیا۔ جملہ مہمان ستر یا اسی افراد تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

4۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رضي الله عنهما قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ثَـلَاثِيْنَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِيْلٌ بِغَنَمٍ یَسُوْقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ : لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَی مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ یُشْوَی وَايْمُ اللهِ، مَا فِي الثَّــلَاثِيْنَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ ﷺ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ کَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَکَلُوْا أَجْمَعُوْنَ وَشَبِعْنَا فَفَضَلَتْ الْقَصْعَتَانِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَی الْبَعِيْرِ أَوْ کَمَا قَالَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الھبۃ وفضلھا، باب : قبول الھدیۃ من المشرکین، 2 / 923، الرقم : 2475، وفي کتاب : الأطعمۃ، باب : من أکل حتی شبع، 5 / 2058، الرقم : 5067، ومسلم في الصحیح، کتاب : الأشربۃ، باب : إکرام الضیف وفضل إیثاره، 3 / 1626، الرقم : 2056، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 197، 198، الرقم : 1703، 1711، وأبو عوانۃ في المسند، 5 / 204، الرقم : 8399، والشیباني في الآحاد والمثاني، 1 / 472، الرقم : 656، والفریابي في المسند، 1 / 81، الرقم : 45۔

’’حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم ایک سو تیس افراد حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے۔ حضور نبی ا کرم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس صاع کے لگ بھگ آٹا تھا، اسے وہ گوندھا گیا۔ پھر ایک مشرک، بکھرے ہوئے بالوں والا، دراز قد ریوڑ کو ہانکتا ہوا آ گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس سے بکری بیچنے یا عطیہ دینے کے لیے پوچھا، یا فرمایا کہ ہبہ۔ اس نے کہا : نہیں بلکہ بیچتا ہوں، تو اس سے ایک بکری خرید لی۔ پھر اسے بنایا گیا اور حضور نبی اکرم ﷺ نے کلیجی بھوننے کا حکم فرمایا۔ خدا کی قسم ایک سو تیس افراد میں سے ایک بھی نہ بچا جس کو حضور نبی اکرم ﷺ نے کلیجی میں سے حصہ نہ دیا ہو۔ اگر کوئی حاضر تھا تو اسے حصہ دے دیا گیا اور جو موجود نہ تھا اس کے لیے حصہ رکھ دیا گیا۔ پھر اسے دو برتنوں میں ڈال لیا۔ پس تمام لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھا لیا اور دو برتنوں میں گوشت بچ رہا جو ہم نے اونٹ پر لاد لیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

5۔ عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي تَرَکَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا یُخْرِجُ نَخْلُهُ، وَلَا یَبْلُغُ مَا یُخْرِجُ سِنِيْنَ مَا عَلَيْهِ، فَانْطَلِقْ مَعِي لِکَي لَا یُفْحِشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ، فَمَشَی حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَیَادِرِ التَّمْرِ فَدَعَا، ثُمَّ آخَرَ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ : انْزِعُوْهُ فَأَوْفَاھُمُ الَّذِي لَھُمْ، وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَعْطَاھُمْ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1312، الرقم : 3387، وفي کتاب : البیوع، باب : الکیل علی البائع والمعطي، 2 / 748، الرقم : 2020، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 365، الرقم : 14977، وابن سعد في الطبقات الکبری، 3 / 563، والذهبي في سیر أعلام النبلاء، 1 / 327۔

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد محترم (حضرت عبد اللہص) وفات پا گئے اور اُن کے اوپر قرض تھا۔ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : (یا رسول اللہ!) میرے والد نے (وفات کے بعد) پیچھے قرضہ چھوڑا ہے اور میرے پاس (اس کی ادائیگی کے لئے) کچھ بھی نہیں، ماسوائے اس پیداوار کے جو کھجور کے (چند) درختوں سے حاصل ہوتی ہے۔ ان سے کئی سالوں میں بھی قرض ادا نہیں ہو گا۔ آپ ﷺ میرے ساتھ تشریف لے چلیں تاکہ قرض خواہ مجھ پر سختی نہ کریں۔ آپ ﷺ (ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور ان کے) کھجوروں کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے گرد چند چکر لگائے اور دعا فرمائی، پھر دوسرے ڈھیر (کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا)، اس کے بعد آپ ﷺ ایک ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا : قرض خواہوں کو ماپ کر دیتے جاؤ۔ (آپ ﷺ کی برکت سے) سب قرض خواہوں کا پورا پورا قرض ادا کر دیا گیا اور اتنی ہی کھجوریں بچ بھی گئیں جتنی کہ قرض میں دی تھیں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

6۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَقَدْ کُنَّا نَأکُلُ مَعَ النَّبِيّ ﷺ الطَّعَام، وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيْح الطَّعَامِ۔

رَوَاهُ البُخَارِيُّ والتِّرْمِذِيُّ واللَّفْظُ لَهُ۔ قَالَ أَبُوْعِيْسَی : هَذا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

6 : أخرجه البخاري فی الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1312، الرقم : 3386، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : 6، 5 / 597، الرقم : 3633، والدارمي في السنن : 1 / 28، الرقم : 29، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 31، الرقم : 31722، وأحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 460، الرقم : 4393، والبزار في المسند، 4 / 301، الرقم : 1478، وأبو یعلی في المسند، 9 / 253، الرقم : 5372، والقاضي عِیاض في الشفا، 1 / 306، وابن عبد البر في التمھید، 1 / 219، وابن کثیر في البدایۃ و النھایۃ، 6 / 101۔

’’حضرت (عبد اللہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں : ہم حضورنبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کھانا کھار رہے تھے اور کھانے کی تسبیح بھی سن رہے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ أَبِي ھُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ ، بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، ادْعُ اللهَ فِيْھِنَّ بِالْبَرَکَةِ فَضَمَّھُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيْھِنَّ بِالْبَرَکَةِ، فَقَالَ : خُذْھُنَّ وَاجْعَلْھُنَّ فِي مِزْوَدِکَ ھَذَا أَوْ فِي ھَذَا الْمِزْوَدِ، کُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيْهِ یَدَکَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا، فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِکَ التَّمْرِ کَذَا وَ کَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ، فَکُنَّا نَأْکُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَکَانَ لاَ یُفَارِقُ حِقْوِي حَتَّی کَانَ یَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ رضی الله عنه فَإِنَّهُ انْقَطَعَ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُوْعِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

7 : أخرجه الترمذی فی السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب لأبي ھریرۃ رضی الله عنه، 5 / 685، الرقم : 3839، وأحمد بن حنبل فی المسند، 2 / 352، الرقم : 8613، وابن حبان فی الصحیح، 14 / 467، الرقم : 6532، وابن راھویه فی المسند، 1 / 75، الرقم : 3۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیںکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! ان میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمائیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں اکٹھا کیا اور میرے لیے ان میں دعائے برکت فرمائی پھر مجھے فرمایا : انہیں لے لو اور اپنے اس توشہ دان میں رکھ دو اور جب انہیں لینا چاہو تو اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر لے لیا کرو اسے جھاڑنا نہیں۔ سو میں نے ان میں سے اتنے اتنے (یعنی کئی) وسق (ایک وسق دو سو چالیس کلو گرام کے برابر ہوتا ہے) کھجوریں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کیں ہم خود اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ کبھی وہ توشہ دان میری کمر سے جدا نہ ہوا (یعنی کھجوریں ختم نہ ہوئیں) حتیٰ کہ جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو وہ مجھ سے کہیں گر گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔

3۔ مَحَبَّةُ التُّرَابِ لِلنَّبِيِّ ﷺ

{حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مٹی کی محبت}

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ إِیَاسَ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُوْ ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيْهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَی عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوْا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَی فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ ﷺ فَوَلَّی صَحَابَةُ النَّبِيِّ ﷺ وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِیًا بِالْأُخْرَی فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيْعًا وَمَرَرْتُ عَلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ الشَّهْبَائِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَقَدْ رَأَی ابْنُ الْأَکْوَعِ فَزَعًا فَلَمَّا غَشُوْا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ نَزَلَ عَنْ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوْهَهُمْ فَقَالَ : شَاهَتِ الْوُجُوْهُ فَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ فَهَزَمَهُمْ اللهُ عزوجل وَقَسَمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ۔

1 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الجهاد والسیر، باب : في غزوۃ حنین، 3 / 1402، الرقم : 1777، وابن حبان في الصحیح، 14 / 451، الرقم : 6520، والرویاني في المسند، 2 / 253، الرقم : 1150، والأصبهاني في دلائل النبوۃ، 1 / 127، الرقم : 136، والحسیني في البیان والتعریف، 2 / 76، الرقم : 1098، وابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 8 / 32، والمناوي في فیض القدیر، 4 / 153۔

’’ایاس بن سلمہ کہتے ہیں کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں گئے، جب ہمارا دشمن کے ساتھ مقابلہ ہوا تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا، دشمن کا ایک شخص سامنے سے آیا، میں نے اس کے تیر مارا، وہ چھپ گیا اور مجھ کو پتا نہ چل سکا اس نے کیا کیا، میں نے قوم کی طرف دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے، ان کا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کا مقابلہ ہوا، حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ پشت پھیر کر بھاگے، میں بھی شکست خوردہ لوٹا، درآنحالیکہ مجھ پر دو چادریں تھیں، ایک میں نے باندھی ہوئی تھی اور دوسری اوڑھی ہوئی تھی، میرا تہبند کھل گیا تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کر لیا اور میں حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے شکست خوردہ لوٹا درآنحالیکہ آپ اپنے خچر شہباء پر سوار تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن الاکوع خوف زدہ ہو کر دیکھ رہا ہے، جب دشمنوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ خچر سے اترے اور زمین سے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر دشمن کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا : ان کے چہرے قبیح ہو گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس مٹھی سے ان کے ہر انسان کی آنکھ میں مٹی بھر دی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، سو اللہ تعالیٰ عزوجل نے ان کو شکست دی اور حضور نبی اکرم ﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه في روایۃ طویلۃ قَالَ : إِنَّ رَجُـلًا کَانَ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِيْنَ، وَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ کُنْتُ لَأَکْتُبُ مَاشِئْتُ فَمَاتَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِيّ ﷺ : إِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ وَقَالَ أَنَسٌ : فَأَخْبَرَنِي أَبُوْطَلْحَةَ : أَنَّهُ أَتَی الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيْھَا فَوَجَدَهُ مَنْـبُوْذًا، فَقَالَ : مَا شَأْنُ ھَذَا؟ فَقَالُوْا : دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالْبَيْهَقِيُّ۔

2 : أخرجه مسلم نحوه فی الصحیح، کتاب : صفات المنافقین وأحکامھم، 4 / 2145، الرقم : 2781، وأحمد بن حنبل فی المسند، 3 / 120، الرقم : 12236، 13348، والبیهقی فی السنن الصغری، 1 / 568، الرقم : 1054، وعبدبن حمید فی المسند، 1 / 381، الرقم : 1278، وأبو المحاسن فی معتصر المختصر، 2 / 188، والخطیب التبریزی فی مشکاۃ المصابیح، 2 / 387، الرقم : 5798۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جو حضور نبی اکرم ﷺ کے لئے کتابت کیا کرتا تھا وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا کر مل گیا اور کہنے لگا : میں تم میں سب سے زیادہ محمد مصطفی کو جاننے والا ہوں۔ میں ان کے لئے جو چاہتا تھا لکھتا تھا سو وہ شخص جب مر گیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے زمین قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس جگہ آئے جہاں وہ مرا تھا تو دیکھا اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی۔ پوچھا کہ اس (لاش) کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا : ہم نے اسے کئی بار دفن کیا مگر زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد بن حنبل نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved