Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 1 :حضور نبی اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا بیان

فَصْلٌ فِي تَعْظِيْمِ النَّبِيِّ وَتَوْقِيْرِهِ ﷺ

{حضور نبی اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا بیان}

اَلْآیَاتُ الْقُرْآنِيَّةُ

1۔ یٰٓااَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط وَلِلْکَافِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌo

(البقرۃ،2 : 104)

’’اے ایمان والو! (نبی اکرم ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے) رَاعِنَا مت کہا کرو بلکہ (ادب سے) اُنْظُرْنَا (ہماری طرف نظر کرم فرمائیے) کہا کرو اور (ان کا ارشاد) بغور سنتے رہا کرو، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہےo‘‘

2۔ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط قَدْ یَعْلَمُ اللهُ الَّذِيْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج فَلْیَحْذَرِ الَّذِيْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌo

(النور، 24 : 63)

’’(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسول اکرم ﷺ کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول کی ذات گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے) بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربار رسالت سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں پس وہ لوگ ڈریں جو رسول کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آ پہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گاo‘‘

3۔ یٰٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِيْنَ اِنٰهُ وَلٰـکِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَانِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِيَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ وَاللهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَاسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللهِ وَلَا اَنْ تَنْکِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيْمًاo

(الأحزاب، 33 : 53)

’’اے ایمان والو! نبیِ (مکرّم ﷺ ) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے (پھر وقت سے پہلے پہنچ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب تم بلائے جاؤ تو (اس وقت) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھاچکو تو (وہاں سے اُٹھ کر) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو۔ یقینا تمہارا ایسے (دیر تک بیٹھے) رہنا نبيِّ (اکرم) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے (اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے) شرماتے ہیں اور اللہ حق (بات کہنے) سے نہیں شرماتا، اور جب تم اُن (ازواجِ مطّہرات) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو یہ (اَدب) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے، اور تمہارے لِئے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ ( ﷺ ) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد اَبد تک اُن کی ازواجِ (مطّہرات) سے نکاح کرو بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہےo‘‘

4۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُؤْذُوْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًاo

(الأحزاب، 33 : 57)

’’بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لئے ذِلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہےo‘‘

5۔ اِنَّ الَّذِيْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ ط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِهٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَیُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًاo

(الفتح، 48 : 10)

’’(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہو گا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo‘‘

6۔ یٰـٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ یَدَیِ اللهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللهَ ط اِنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo یٰاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَo اِنَّ الَّذِيْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ اُولٰئِکَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِيْمٌo اِنَّ الَّذِيْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَo وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

(الحجرات، 49 : 1-5)

’’اے ایمان والو تم اللہ و رسول سے (کسی معاملہ میں) سبقت نہ کیا کرو (ان سے پہلے نہ بول اٹھا کرو ان کے حکم کا انتظار کیا کرو ان کا فرمانا اللہ کا فرمانا ہے) اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ ( سب کچھ) سننے والا (اور تمہارے دلوں کے حال کو بھی) خوب جاننے والا ہےo اے ایمان والو اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو (نہ آواز میں تیزی ہو نہ بلندی ہو) اور ان سے اس طرح زور سے نہ بولو جیسے آپس میں زور سے بولتے ہو (یہ بات ادب کے خلاف ہے دیکھو) کہیں تمہارے اعمال (تمہاری نادانی سے) ضائع نہ ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہوo بیشک جو لوگ رسول اللہ ( ﷺ ) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے چُن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہےo بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتےo اور اگر وہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ہی ان کی طرف باہر تشریف لے آتے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا، اور اللہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo‘‘

7۔ وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍo هَمَّازٍ مَّشَّآئٍم بِنَمِيْمٍo مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍo عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِيْمٍo اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِيْنَo

(القلم، 68 : 10-14)

’’اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہےo

(جو) طعنہ زَن، عیب جو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لیے چغل خوری کرتا پھرتا ہےo

(جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گنہگار ہےo

(جو) بد مزاج درُشت خو ہے، مزید برآں بد اَصل (بھی) ہےo اِس لیے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحبِ اَولاد ہےo‘‘

8۔ لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِo وَاَنْتَ حِلٌّم بِهٰذَا الْبَلَدِoوَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَo

(البلد، 90 : 1-3)

’’میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo والد (آدم یا ابراہیم ) کی قسم اور (ان کی) قسم جن کی ولادت ہوئی o‘‘

9۔ اِنَّا اَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَo فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْoاِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْاَبْتَرُo

(الکوثر، 108 : 1-3)

’’بے شک ہم نے آپ کو (ہر خیر و فضیلت میں) بے انتہا کثرت بخشی ہےo پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھا کریںاور قربانی دیا کریں (یہ ہدیہ تشکر ہے)o بے شک آپ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہو گاo‘‘

10۔ تَبَّتْ یَدَآ اَبِيْ لَھَبٍ وَّتَبَّo مَآ اَغْنٰی عَنْهُ مَا لُهٗ وَمَا کَسَبَo سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍo وَّامْرَاَتُهٗ ط حَمَّالَةَ الْحَطَبِo فِيْ جِيْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍo

(اللّھب، 111 : 1۔5)

’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے (اس نے ہمارے حبیب پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی ہے)o اسے اس کے (موروثی) مال نے کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی اس کی کمائی نےo عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جا پڑے گاo اور اس کی (خبیث) عورت (بھی) جو (کانٹے دار) لکڑیوں کا بوجھ (سر پر) اٹھائے پھرتی ہے، (اور ہمارے حبیب کے تلووں کو زخمی کرنے کے لیے رات کو ان کی راہوں میں بچھا دیتی ہے)o اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا (وہی) رسہّ ہو گا (جس سے کانٹوں کا گٹھا باندھتی ہے)o‘‘

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ذَهَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَيْنَهُمْ۔ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاء الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ : أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيْمَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ فَصَلَّی أَبُوْ بَکْرٍ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ لَا یَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيْقَ، الْتَفَتَ، فَرَأَی رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ۔ فَرَفَعَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه یَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ عَلَی مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنْ ذَلِکَ۔ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ، مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ۔ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ یُصَلِّيَ بَيْنَ یَدَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا لِي رَأَيْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ التَّصْفِيْقَ۔ مَنْ رَابَهُ شَيئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْیُسَبِّحْ۔ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : من دخل لیؤم الناس فجاء الإمام الأول فتأخر الأول أو لم یتأخر جازت صلاته فیه عائشۃ عن النبي ﷺ ، 1 / 242، الرقم : 652، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : تقدیم الجماعۃ من یصلي بهم إذا تأخر الإمام، 1 / 316، الرقم : 421، وأبو داود في السنن، کتاب : الصلاۃ، باب : التصفیق في الصلاۃ، 1 / 247، الرقم : 940، والنسائي في السنن، کتاب : آداب القضاۃ، باب : مصیر الحاکم إلی رعیته للصلح بینهم، 8 / 243، الرقم : 5413۔

’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ مؤذن نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : کیا آپ نماز پڑھا دیں گے تاکہ میں اقامت کہوں؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کر دی اور دوران نماز حضور نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لے آئے۔ آپ ﷺ صفوں کو چیرتے ہوئے صف اول میں جاکر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی اور جانب التفات نہیں فرمایا کرتے تھے۔ جب تالیوں کی آواز زیادہ ہوگئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے تو حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا (اور پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا)۔ لیکن حضور نبی اکرم ﷺ نے اشارہ فرمایا : اپنی جگہ پر قائم رہو۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں اِمامت کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے حتی کہ صف اول کے برابر آگئے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے آگے بڑھ کر امامت کرائی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابو بکر! جب میں نے حکم دیا تھا تو تم مصلیٰ پر کیوں نہیں ٹھہرے رہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے امامت کرائے! اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اس کی کیا وجہ ہے کہ میں نے تمہیں تالیاں بجاتے دیکھا! اگر کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو (بلند آواز سے) سبحان اللہ کہے۔ چنانچہ جب وہ سبحان اللہ کہے تواس کی طرف توجہ دی جائے اور نماز میں تالیاں بجانا تو صرف عورتوں کے لئے مخصوص ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه وَکَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ ﷺ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ یُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ ﷺ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الاِثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوْفٌ فِي الصَّلَاةِ فَکَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، یَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ، کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ۔ ثُمَّ تَبَسَّمَ یَضْحَکُ فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْیَةِ النَّبِيِّ ﷺ ۔ فَنَکَصَ أَبُوْ بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِیَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَارِجٌ إِلَی الصَّلَاةِ۔ فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ : أَنْ أَتِمُّوْا صَلَاتَکُمْ۔ وَأَرْخَی السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ یَوْمِهِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : أهل العلم والفضل أحق بالإمامۃ، 1 / 240، الرقم : 648، وفي کتاب : الأذان، باب : هل یلتفت لأمر ینزل به، 1 / 262، الرقم : 721، وفي کتاب : التهجد، باب : من رجع القھقري في صلاته، 1 / 403، الرقم : 1147، وفي کتاب : المغازي، باب : مرض النبي ﷺ ووفاقه، 4 / 1616، الرقم : 4183، ومسلم في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر وغیرھما من یصلي بالناس، 1 / 316، الرقم : 419، والنسائي نحوه في السنن، کتاب : الجنائز، باب : الموت یوم الاثنین، 4 / 7، الرقم : 1831۔

’’حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ (جو کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے خادمِ خاص تھے) فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے مرض الموت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے چنانچہ پیر کے روز لوگ صفیں بنائے نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے حجرئہ مبارک کا پردہ اُٹھایا اور کھڑے کھڑے ہم کو دیکھنے لگے۔ اس وقت حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرئہ انور قرآن کے اَوراق کی طرح(تاباں ودرخشاں) معلوم ہوتا تھا۔ جماعت کو دیکھ کر آپ ﷺ مسکرائے۔ آپ ﷺ کے دیدار پرُانوار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم نماز توڑ دیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ شاید آپ ﷺ نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں اس لئے انہوں نے (تعظیماً) ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ کر صف میں مل جانا چاہا۔ لیکن حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اشارہ سے فرمایا کہ تم لوگ نماز پوری کرو۔ پھر آپ ﷺ نے پردہ گرا دیا اور اسی روز آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ رضي الله عنهما قَالَا : إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ یَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ بِعَيْنَيْهِ۔ قَالَ : فَوَاللهِ، مَا تَنَخَّمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي کَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَکَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ۔ وَإِذَا أَمَرَهُم ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ۔ وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وُضُوْئِهِ۔ وَإِذَا تَکَلَّمَ خَفَضُوْا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا یُحِدُّوْنَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيْمًا لَهُ۔ فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَي قَوْمِ، وَاللهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوْکِ : وَفَدْتُ عَلَی قَيْصَرَ وَکِسْرَی وَالنَّجَاشِيِّ وَاللهِ، إِنْ رَأَيْتُ مَلِکًا قَطُّ یُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا یُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُحَمَّدًا۔۔۔ حَدِيْثٌ بِطُوْلِهِ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ۔

3 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الشروط، باب الشروط في الجھاد والمصالحۃ مع أھل الحرب وکتابۃ، 2 / 974، الرقم : 2581، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 9، الرقم : 13، وابن حبان في الصحیح، 11 / 216، الرقم : 4872، والبیھقي في السنن الکبری، 9 / 220۔

’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : عروہ بن مسعود (جب بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں کفار کا وکیل بن کر آیا تو) صحابہ کرام کا(حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں تعظیم و توقیر کا) مشاہدہ کرتا رہا۔ اس نے بیان کیا : جب بھی آپ ﷺ اپنا لعاب دہن پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور وہ اسے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب آپ ﷺ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ جب آپ ﷺ وضو فرماتے ہیں تو لوگ آپ ﷺ کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے ہیں تو صحابہ اپنی آوازوں کو ان کے سامنے پست کر لیتے ہیں اور انتہائی تعظیم کے باعث آپ ﷺ کی طرف نظر جما کر نہیں دیکھ پاتے ۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم! اللہ رب العزت کی قسم! میں (عظیم الشان) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں : میں قیصر و کسری اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں۔ لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ﷺ کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری اور امام احمد نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ، فَـلَا تَقُوْمُوْا حَتَّی تَرَوْنِي۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

وفي روایۃ زاد : وَعَلَيْکُمْ بِالسَّکِيْنَةِ۔

4 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأذان، باب : متی یقوم الناس إذا رأوا الإمام عند الإقامۃ، 1 / 228، الرقم : 611، وفي باب : لا یسعی إلی الصلاۃ مستعجلا ولیقم بالسکینۃ والوقار، ا / 828، الرقم : 612، وفي کتاب : الجمعۃ، باب : المشي إلی الجمعۃ، 1 / 308، الرقم : 867، ومسلم في الصحیح، کتاب : المساجد، باب : متی یقوم الناس للصلاۃ، 1 / 422، الرقم : 604۔606، والترمذي في السنن، کتاب : الجمعۃ : الوتر، باب : ما جاء في الکلام بعد نزول الإمام من المنبر، 2 / 394، الرقم : 517۔

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اِقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوا کرو یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اور ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا : ’’اور تم پر سکون (و اطمینان) لازم ہے۔‘‘

5۔ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ : کَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ یَھْلِکَا أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ لَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَفْدُ بَنِي تَمِيْمٍ، أَشَارَ أَحَدُھُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ التَّمِيْمِيِّ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِعُمَرَ : إِنَّمَا أَرَدْتَ خِـلَافِي۔ فَقَالَ عُمَرُ : مَا أَرَدْتُ خِـلَافَکَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُھُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَنَزَلَتْ : {یَا أَیُّھَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} إِلَی قَولِهِ {عَظِيْمٌ} [الحجرات، 49 : 2۔3] قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ : قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : فَکَانَ عُمَرُ بَعْدُ وَلَمْ یَذْکُرْ ذَلِکَ عَنْ أَبِيْهِ یَعْنِي أَبَا بَکْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ ﷺ بِحَدِيْثٍ حَدَّثَهُ کَأَخِي السِّرَارِ لَمْ یُسْمِعْهُ حَتَّی یَسْتَفْھِمَهُ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔

5 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : ما یکره من التعمق والتنازع في العلم والغلو في الدین والبدع، 6 / 2662، الرقم : 6872، والترمذي في السنن، کتاب : تفسیر القرآن، باب : ومن سورۃ الحجرات، 5 / 387، الرقم : 3266، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 6، الرقم : 15548، والبزار في المسند، 6 / 146، الرقم : 2188۔

’’امام ابن ابی ملیکہ نے فرمایا کہ قریب تھا کہ دو بہترین آدمی یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما ہلاک ہو جاتے جبکہ بنی تمیم کا وفد حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے اقرع بن حابس تمیمی حنظلی کی طرف اشارہ کیا جو بنی مجاشع کا بھائی تھا دوسرے نے کسی اور کی طرف۔ سو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ نے صرف میری مخالفت کا ارادہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے تو آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ سو دونوں حضرات کی آوازیں (دوران تکرار) حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بلند ہو گئیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی : {اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم ( ﷺ ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہوo بے شک جو لوگ رسول اللہ ( ﷺ ) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے چُن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہےo} ابن ابی ملیکہ اور ابن زبیر کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت عمر (اور انہوں نے اپنے نانا جان حضرت ابو بکر کا ذکر نہیں کیا کہ) جب حضور نبی اکرم ﷺ سے کوئی بات کرتے تو اتنی آہستہ آواز سے بولتے کہ آواز سننے میں نہ آتی یہاں تک کہ سمجھی جا سکے۔‘‘ اسے امام بخاری، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

6۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ رضی الله عنه فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَنَا أَعْلَمُ لَکَ عِلْمَهُ۔ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَکِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ؟ فَقَالَ : شَرٌّ، کَانَ یَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَھُوَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَأَتَی الرَّجُلُ النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ : کَذَا وَکَذَا فَقَالَ مُوْسَی : فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيْمَةٍ فَقَالَ : اذْھَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ : إِنَّکَ لَسْتَ مِنْ أَھلِ النَّارِ، وَلَکِنَّکَ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّةِ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

6 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام 3 / 1322، الرقم : 3417، وفي کتاب : تفسیر القرآن، باب : لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي ﷺ ، الآیۃ، 4 / 1833، الرقم : 4565، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 16 / 304، وابن بشکوال في غوامض الأسماء المبھمۃ الواقعۃ في متون الأحادیث المسندۃ، 2 / 699۔

’’حضرت موسیٰ بن انس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (تم میں سے) کوئی ایسا ہے جو ثابت بن قیس کی خبر لا کر دے۔ ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں آپ کو ان کی خبر لا کر دوں گا۔ سو وہ گئے تو انہیں دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھا کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا : برا حال ہے کیونکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کر بیٹھا تھا لهٰذا میرے تمام عمل ضائع ہو چکے اور دوزخیوں میں میرا شمار ہو گیا۔ اس آدمی نے آ کر آپ ﷺ کی خدمت میںان کی تمام صورتِ حال عرض کی۔ (حضرت موسی بن انس کہتے ہیں کہ وہ آدمی بہت بڑی بشارت لے کر دوبارہ گیا) آپ ﷺ نے فرمایا : ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ تم جہنمی نہیں بلکہ جنتیوں میں سے ہو۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ حِيْنَ زَاغَتِ الشَّمْسُ‘ فَصَلَّی الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَذَکَرَ السَّاعَةَ، وَذَکَرَ أَنَّ بَيْنَ یَدَيْھَا أُمُوْرًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنْ شَيئٍ فَلْیَسْأَلْ عَنْهُ : فَوَاللهِ، لَا تَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي ھَذَا‘ قَالَ أَنَسٌ : فَأَکْثَرَ النَّاسُ الْبُکَاء، وَأَکْثَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ یَقُوْلَ : سَلُوْنِي۔ فَقَالَ أَنَسٌ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيْنَ مَدْخَلِي یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ : النَّارُ۔ فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ : مَنْ أَبِي یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ : أَبُوْکَ حُذَافَةُ۔ قَالَ : ثُمَّ أَکْثَرَ أَنْ یَقُوْلَ : سَلُوْنِي، سَلُوْنِي۔ فَبَرَکَ عُمَرُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ : رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالإِسْـلاَمِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلاً۔ قَالَ : فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ حِيْنَ قَالَ عُمَرُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ ھَذَا الْحَائِطِ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

وذکر الإمام ابن کثیر في قوله تعالی : {یَا أَیُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَاء إِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ} [المائدۃ، 5 : 101]، عَنِ السَّدِّيِّ أَنَّهُ قَالَ : غَضِبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ فَقَامَ خَطِيْبًا فَقَالَ : سَلُوْنِي فَإِنَّکُمْ لَا تَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُکُمْ بِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ یُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ وَکَانَ یُطْعَنُ فِيْهِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ : أَبُوْکَ فُـلَانٌ فَدَعَاهُ ِلأَبِيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا وَبِکَ نَبِیًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اللهُ عَنْکَ فَلَمْ یَزَلْ بِهِ حَتَّی رَضِيَ … الحدیث۔

7 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب : ما یکره من کثرۃ السؤال وتکلف ما لا یعنیه ، 6 / 2660، الرقم : 6864، وفي کتاب : مواقیت الصلاۃ، باب : وقت الظھر عند الزوال، 1 / 200، الرقم : 2001، 2278، وفي کتاب : العلم، باب : حسن برک علی رکبتیه عند الإمام أو المحدث، 1 / 47، الرقم : 93، وفي الأدب المفرد، 1 : 404، الرقم : 1184، ومسلم في الصحیح، کتاب : الفضائل، باب : توقیره ﷺ وترک إکثار سؤال عما لا ضرورۃ إلیه ، 4 / 1832، الرقم : 2359، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 162، الرقم : 12681، وأبو یعلی في المسند، 6 / 286، الرقم : 3201، وابن حبان في الصحیح، 1 / 309، الرقم : 106، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 72، الرقم : 9155، ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2 / 106۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آفتاب ڈھلا تو حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور پھر فرمایا : اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات و حادثات ہیں، پھر فرمایا : جو شخص کسی بھی نوعیت کی کوئی بات پوچھنا چاہتا ہے تو وہ پوچھے، خدا کی قسم! میں جب تک یہاں کھڑا ہوں تم جو بھی پوچھو گے اس کا جواب دوں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ جلال کے سبب بار بار یہ اعلان فرما رہے تھے کہ کوئی سوال کرو، مجھ سے (جو چاہو) پوچھ لو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ! میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں۔ پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہص کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تیرا باپ حذافہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ بار بار فرماتے رہے مجھ سے سوال کرو مجھ سے سوال کرو، چنانچہ حضرت عمر ص(تعظیماً) گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض گذار ہوئے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد مصطفی ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں (اور ہمیں کچھ نہیں پوچھنا)۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گذارش کی تو حضور نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کے سامنے مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئیں جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آج کی طرح میں نے خیر اور شر کو کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

’’علامہ ابن کثیر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اے ایمان والو! تم ایسی چیزوں کی نسبت سوال مت کیا کرو (جن پر قرآن خاموش ہو) کہ اگر وہ تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں مشقت میں ڈال دیں (اور تمہیں بری لگیں)} کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ امام سدی سے مروی ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم ﷺ (کسی بات پر خفا ہو کر) جلال میں آ گئے اور آپ ﷺ خطاب کے لئے قیام فرما ہوئے اور فرمایا : مجھ سے پوچھو! پس تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر یہ کہ میں تمہیں (اسی جگہ) اس کے بارے میں بتاؤں گا۔ پس بنو سُہم میں سے قبیلہ قریش کے ایک آدمی جنہیں عبد اللہ بن حذافہ کہا جاتا تھا اور جن کے نسب میں طعنہ زنی کی جاتی تھی(یعنی لوگ ان کے نسب میں شک کرتے تھے)، کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تیرا باپ فلاں(حذافہ) شخص ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں (ان کے اپنے) باپ کے نام کے ساتھ پکارا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ راضی ہوگئے۔‘‘

8۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَالْحَلاَّقُ یَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا یُرِيْدُوْنَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي یَدِ رَجُلٍ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

8 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب قرب النبي ﷺ من الناس وتبرکھم به، 4 / 1812، الرقم : 2325، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 133،137، الرقم : 12423، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 380، الرقم : 1273۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا : حجام آپ ﷺ کے سر مبارک کے بال تراش رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے گرد گھوم رہے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا کوئی ایک موئے مبارک بھی زمین پر گرنے نہ پائے بلکہ ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں آجائے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ زَارِعٍ رضی الله عنه (وَکَانَ فِي وَفْدِ عَبدِ الْقَيْسِ) قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَرِجْلَيْهِ۔

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ۔

9 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : قبلۃ الجسد، 4 / 357، الرقم : 5225، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 339، الرقم : 975، والطبراني في المعجم الکبیر، 5 / 275، الرقم : 5313، وفي شعب الإیمان، 6 / 141، الرقم : 7729، والهیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 2، والحسیني في البیان والتعریف، 1 / 241، والمقریٔ في تقبیل الید، 1 / 80، الرقم : 20۔

’’حضرت زارع رضی اللہ عنہ جو کہ وفد عبد القیس میں شامل تھے بیان کرتے ہیں : جب ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو تیزی سے اپنی سواریوں سے اتر کر رسول اللہ ﷺ کے دست اقدس اور پاؤں مبارک کو چومنے لگے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داود اور امام بخاری نے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے۔

10۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : کُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً۔ قُلْنَا : کَيْفَ نَلْقَی النَّبِيَّ ﷺ وَقَدْ فَرَرْنَا! فَنَزَلَتْ {إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ} ]الأنفال،8 : 16[۔ فَقُلْنَا : لَا نَقْدِمُ الْمَدِيْنَةَ فَـلَا یَرَانَا أَحَدٌ۔ فَقُلْنَا : لَوْ قَدِمْنَا۔ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ۔ قُلْنَا : نَحْنُ الْفَرَّارُوْنَ۔ قَالَ : أَنْتُمُ الْعَکَّارُونَ۔ قَالَ : فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا یَدَهُ۔ فَقَالَ : اِنَّا فِئَةُ المُسْلِمِيْنَ۔

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ وَھَذَا لَفْظُهُ۔

10 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : في التولي یوم الزحف، 3 / 46، الرقم : 2647، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 541، الرقم : 33686، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 70، الرقم : 5384، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 338، الرقم : 972، والحسیني في البیان والتعریف، 1 / 295، الرقم : 786۔

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : ہم ایک غزوہ میں تھے کہ لوگ بری طرح بکھر کر محاذ سے پیچھے ہٹ گئے۔ تو ہم نے کہا : اب حضور نبی اکرم ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے! ہم لوگ (جنگ سے) بھاگ گئے۔ اس پر آیت نازل ہوئی : {بجز ان کے جو جنگی چال کے طور پر رُخ بدل دیں۔} ہم نے کہا : اب مدینہ منورہ نہیں جائیں گے تاکہ ہمیں کوئی نہ دیکھے۔ پھر سوچا کہ اگر مدینہ چلے جائیں اور حضور نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائیں گے۔ تو ہم عرض کر دیں گے کہ ہم بھگوڑے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو۔ پس ہم قریب ہوئے اور ہم نے آپ ﷺ کا دستِ اقدس چوم لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہم مسلمانوں کا گروہ ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، احمد اور امام بخاری نے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے اور یہ الفاظ بھی بخاری کے ہیں۔

11۔ عَنْ طَلْحَةَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالُوْا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ : سَلْهُ عَمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ مَنْ هُوَ؟ وَکَانُوْا لَا یَجْتَرِئُوْنَ هُمْ عَلَی مَسْأَلَتِهِ یُوَقِّرُوْنَهُ وَیَهَابُوْنَهُ فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِیَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ؟ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : أَنَا یَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ : هَذَا مِمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ یَعْلَی۔

11 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب طلحۃ بن عبید الله رضی الله عنه، 5 / 645، الرقم : 3742، وفي کتاب : تفسیر القرآن، باب : ومن سورۃ الأحزاب، 5 / 350، الرقم : 3203، وأبو یعلی في المسند، 2 / 26، الرقم : 663، والطبري في جامع البیان في تفسیر القرآن، 21 / 147، والذهبي في سیر أعلام النبلاء، 1 / 28۔

’’حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے ایک اَن پڑھ دیہاتی سے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے اُن لوگوں کے بارے میں پوچھو جو اپنی نذر پوری کر چکے ہیں، کہ وہ کون ہیں۔(دیہاتی کے توسل سے سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ) خود صحابہ کرام حضور نبی اکرم ﷺ سے آپ کی تعظیم اور ڈر کی وجہ سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ دیہاتی نے عرض کیا تو آپ ﷺ نے رخِ انور پھیر لیا، اس نے پھر سوال کیا تو آپ نے اب بھی رخ انور دوسری طرف کر لیا، پھر پوچھا تو آپ نے اب بھی چہرہ انور پھیر لیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں مسجد کے دروازے سے سامنے ہوا، مجھ پر سبز رنگ کا لباس تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا تو پوچھا نذر پوری کرنے والے کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ دیہاتی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ (طلحہ) ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے ہیں۔‘‘

12۔ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيْکٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَأَصْحَابَهُ کَأَنَّمَا عَلَی رُءوْسِهِم الطَّيْرُ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ۔

12 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الطب، باب : في الرجل یتداوي، 4 / 3، الرقم : 3855، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 278، الرقم : 18476، والنسائي في السنن الکبری، 3 / 443، الرقم : 5875، والطبراني في المعجم الکبیر، 1 / 185، الرقم : 486، والحاکم في المستدرک، 1 / 208، الرقم : 416، والطیالسي في المسند، 1 / 171، الرقم : 1232۔

’’حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ کے اصحاب اس طرح تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔‘‘

اسے امام ابو داؤد اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

13۔ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رضي الله عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یُوْحَی إِلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ رضی الله عنه۔ فَلَمْ یُصَلِّ الْعَصْرَ حَتَّی غَرَبَتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اَللَّھُمَّ، إِنَّ عَلِیًّا کَانَ فِي طَاعَتِکَ وَطَاعَةِ رَسُوْلِکَ، فَارْدُدْ عَلَيْهِ الشَّمْسَ۔ قَالَتْ أَسْمَاء رضي الله عنها : فَرَأَيْتُھَا غَرَبَتْ وَرَأَيْتُھَا طَلَعَتْ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔

13 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 24 / 147، الرقم : 390، والهیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 297، وابن کثیر في البدایۃ والنھایۃ، 6 / 83، والقاضي عیاض في الشفائ، 1 / 400، والسیوطي في الخصائص الکبری، 2 / 137، والحلبي في السیرۃ الحلبیۃ، 2 / 103، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 15 / 197۔

’’حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : حضور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ ﷺ کا سرِ اقدس حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا اس پر سورج واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اسے غروب ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

اَلْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِيْدَ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه فَقَالَ : اذْھَبْ فَأْتِنِي بِھَذَيْنِ۔ فَجِئْتُهُ بِھِمَا قَالَ : مَنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ قَالَا : مِنْ أَھْلِ الطَّائِفِ، قَالَ : لَوْکُنْتُمَا مِنْ أَھْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُکُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکَمَا فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الصلاۃ، باب : رفع الصوت في المساجد، 1 / 179، الرقم : 458، والبیهقي في السنن الکبری، 2 / 447، الرقم : 4143، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 294۔

’’حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں کھڑا تھا کہ کسی نے مجھے(متوجہ کرنے کے لیے) کنکری ماری۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے (ایک طرف اشارہ کر کے) مجھے فرمایا کہ جاؤ اور ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے آؤ۔ میں دونوں کو آپ کے پاس لے آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کون لوگ ہو یا کہاں سے آئے ہو؟ دونوں نے عرض کیا : (ہم) اہل طائف (میں) سے ہیں۔ فرمایا : اگر تم اس شہر (مدینہ منورہ) کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں بلند آواز(سے گفتگو) کرتے ہو۔‘‘

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

2۔ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رضی الله عنه وَهُوَ فِي سِیَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَکَی طَوِيْلًا وَقَالَ : وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ، وَمَا کُنْتُ أُطِيْقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ۔ وَلَو سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ … الحدیث۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

2 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : کون الإسلام یهدم ما قبله وکذا الهجرۃ والحج، 1 / 112، الرقم : 121، وابن منده في الإیمان، 1 / 420، الرقم : 270، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 70، الرقم : 200، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 259، والحسیني في البیان والتعریف، 1 / 157، الرقم : 418، والمناوي في فیض القدیر، 2 / 167۔

’’حضرت ابن شماسہ مہری بیان کرتے ہیں : حضرت عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے، ہم ان کی عیادت کے لئے گئے۔ حضرت عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کافی دیر تک روتے رہے۔ پھر فرمانے لگے : مجھے حضور نبی اکرم ﷺ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ تھا، نہ میری نظر میں آپ سے بڑھ کر کوئی بزرگ تھا، نہ ہی آپ ﷺ کی جلالت کے پیش نظر میں آپ ﷺ کو جی بھر کے دیکھ سکا۔ اور اگر مجھے کہا جائے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کرو، تو میں آپ ﷺ کا حلیہ بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ ﷺ کو کبھی آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

3۔ عَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضی الله عنه قَالَ : وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَامَ الْفِيْلِ۔ قَالَ : وَسَأَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قُبَاثَ بْنَ أَشْیَمَ أَخَا بَنِي یَعْمَرَ بْنِ لَيْثٍ : أَ أَنْتَ أَکْبَرُ أَمْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ؟ فَقَالَ : رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَکْبَرُ مِنِّي وَأَنَا أَقْدَمُ مِنْهُ فِي الْمِيْلاَدِ … الحدیث۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ۔ وَقَالَ أَبُوْعِيْسَی : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

3 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ما جاء في میلاد النبي ﷺ ،5 / 589، الرقم : 3619، والحاکم في المستدرک، 3 / 724، الرقم : 6624، والطبراني في المعجم الکبیر،19 / 37، الرقم : 75، والشیباني في الآحاد والمثاني، 1 / 407، الرقم : 566، 927۔

’’حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں اور حضورنبی اکرم ﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بنی یعمر بن لیث کے بھائی قباث بن اشیم سے پوچھا : تمہاری عمر زیادہ ہے یا حضور نبی اکرم ﷺ کی؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ مجھ سے بڑے ہیں اور میری ولادت پہلے ہے (یعنی اِحتراماً بڑائی اور عظمت کی ہر نسبت حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف ہی کی)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اور امام ابو عیسی فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔

4۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَةَ رضی الله عنه فِي قِصَّةٍ طَوِيْلَةٍ : أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی الله عنه إِلَی قُرَيْشٍ … فَدَعُوْا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی الله عنه لِیَطُوْفَ بِالْبَيْتِ فَأَبَی أَنْ یَطُوْفَ، وَقَالَ : کُنْتُ لَا أَطُوْفُ بِهِ حَتَّی یَطُوْفَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ۔ فَرَجَعَ إِلیَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ۔ رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ۔

4 : أخرجه البیھقي في السنن الکبری، 9 / 221، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 369، والقاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفی ﷺ ، 2 / 593۔

’’حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے طویل واقعہ میں مروی ہے : حضورنبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو (صلح حدیبیہ کے موقع پر) کفارکی طرف (سفیربنا کر) روانہ کیا … (مذاکرات کے بعد) انہوںنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو طوافِ کعبہ کی دعوت دی توآپ رضی اللہ عنہ نے فوراً انکار کردیا اورفرمایا : اللہ کی قسم! میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گاجب تک رسول اللہ ﷺ طواف نہیںکرلیتے۔ اورپھر (احترامِ مصطفی ﷺ میں بغیر طواف ادا کیے) پلٹ کر حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آگئے۔‘‘

اس روایت کو امام بیہقی نے بیان کیا ہے۔

5۔ رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ لَمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآیَةَ قَالَ : وَاللهِ، یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَا أُکَلِّمُکَ بَعْدَهَا إِلَّا کَأَخِی السِّرَارِ۔ رَوَاهُ الْبَزَّارُ۔

5 : أخرجه البزار في المسند، 1 / 127، الرقم : 56، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 6، الرقم : 16178۔

’’ایک روایت میں ہے کہ جب (نبی ﷺ کے سامنے بلند آواز سے کلام نہ کرنے سے متعلق) آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : خدا کی قسم! آئندہ آپ سے اسی طرح عرض و معروض کروں گا جیسے کہ چھپ کر باتیں کرتے ہیں۔‘‘ اس روایت کو امام بزار نے ذکر کیا ہے۔

6۔ إِنَّ عُمَرَ کَانَ إِذَا حَدَّثَهُ حَدَّثَهُ کَأَخِی السِّرَارِ، مَا کَانَ یُسْمِعُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ شَيْئًا بَعْدَ هَذِهِ الآیَةِ حَتَّی یَسْتَفْهِمَهُ۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

6 : أخرجه البخاري في الصحیح ، 6 / 2662، الرقم : 6872۔

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بات کرتے تو ایسے ہی باتیں کرتے جیسے پوشیدہ (بات) کرتا ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد تو (ادباً) اتنی آہستہ بات کرنے لگے کہ بسا اوقات حضور ﷺ کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی۔‘‘ اس روایت کو امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔

7۔ رَوَی صَفْوَانُ بْنُ عَسَّال : کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِیٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِیٍّ : یَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ فَقُلْنَا لَهُ : وَيْحَکَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ فَإِنَّکَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ وَقَدْ نُهِيْتَ عَنْ هَذَا۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ۔

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : في فضل التوبۃ والاستغفار وما ذکر من رحمۃ الله لعباده، 5 / 545، الرقم : 3535، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 344، الرقم : 11178، وابن حبان في الصحیح، 2 / 322، الرقم : 562۔

’’صفوان بن عسال رَحِمَهُ اللہ نے روایت کی کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے۔ اس دوران کہ ہم آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، ایک اعرابی نے آپ کو بلند آواز سے پکارا : یا محمد! ( ﷺ )۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے بھی اسے بلند آواز میں جواب دیا کہ میں یہاں ہوں۔ ہم نے اس اعرابی سے کہا : تم پر افسوس ہے اپنی آواز پست کرو کیونکہ تم حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ہو۔ اور اس (بلند آواز) سے منع کیا جاچکا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنْ مُغِيْرَةَ بْنِ أَبِي رَزِيْنَ رضی الله عنه قَالَ : قِيْلَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنهما : أَیُّمَا أَکْبَرُ أَنْتَ أَمِ النَّبِيُّ ﷺ؟ فَقَالَ : ھُوَ أَکْبَرُ مِنِّي وَأَنَا وُلِدْتُ قَبْلَهُ۔

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ۔

8 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 362، الرقم : 5398، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 296، الرقم : 26256 : 7 / 18،الرقم : 33921، والشیباني في الآحاد والمثاني، 1 / 269، الرقم،350، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 270، وقال : رواه الطبراني ورجاله رجال الصحیح۔

’’حضرت مغیرہ بن ابی رزین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھما سے پوچھا گیا : کون بڑا ہے آپ یاحضورنبی اکرم ﷺ ؟ تو انہوں نے فرمایا : حضورنبی اکرم ﷺ مجھ سے بڑے ہیں اور میں تو (صرف) پیدا ان سے پہلے ہوا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

9۔ قال القاضي عیاض : أما نصیحۃ المسلمین له بعد وفاته فالتزام التوقیر والإجلال، وشدّۃ المحبۃ له، والمثابرۃ علی تعلم سنته، والتفقه في شریعته، ومحبۃ أهل بیته وأصحابه۔

9 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی ﷺ : 510۔

’’قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی خیر خواہی آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر اور آپ ﷺ سے غایت محبت کو لازم جانیں۔ آپ ﷺ کی سنت کو سیکھنے کی ہمیشہ کوشش کریں اور آپ ﷺ کی شریعت میں تفقہ (حاصل) کریں اور آل و اصحاب سے محبت کریں ۔

10۔ قال ابن عباس : تعزروه : أي تجلوه۔ وقال المبرد : تعزروه : تبالغوا في تعظیمه۔

10 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 512۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آیت قرآنی تُعَزِّرُوْهُ سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم کرو اور مبرد رَحِمَهُ اللہ اس کے معنی میں کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی تعظیم میں خوب مبالغہ کرو۔‘‘

11۔ وذکر القاضي عیاض : قال سهل بن عبد الله : لا تقولوا قبل أن یقول، وإذا قال فاستمعوا له وأنصتوا۔ ونهوا عن التقدم والتعجل بقضاء أمر قبل قضائه فیه، وأن یفتاتوا بشیء في ذلک من قتال أو غیره من أمر دینهم، إِلاَّ بأمره ولا یسبقوه به۔ وإلی هذا یرجع قول الحسن، ومجاهد، والضحاک، والسدي، والثوري۔

11-12 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 513۔

’’قاضی عیاض ذکر کرتے ہیں : حضرت سہل بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے کلام کرنے سے پہلے بات مت کرو اور جب حضور نبی اکرم ﷺ کلام فرماتے ہوں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ آپ ﷺ کے فیصلہ سے قبل کسی معاملہ پر فیصلہ کی جلدی کرنے سے رک جاؤ ۔ آپ ﷺ کسی امر کا حکم دیں خواہ وہ جہاد سے متعلق ہو یا اس کے علاوہ اُمور دینیہ میں سے ہو، تو آپ ﷺ ہی کے ارشاد پر چلو۔ آپ ﷺ سے پہلے کسی معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ حضرت حسن، مجاہد، ضحاک، سدی اور ثوری رحمہم اللہ کا قول بھی اسی طرف واقع ہے۔‘‘

12۔ قال القاضي عیاض : قال أبو محمد مکي : أي لا تسابقوه بالکلام، وتغلظوا له بالخطاب، ولا تنادوه باسمه نداء بعضکم لبعض ولکن عظموه ووَقِّروه ونادوه بأشرف ما یحب أن ینادی به : یا رسول الله، یا نبي الله۔

’’قاضی عیاض مزید بیان کرتے ہیں کہ ابو محمد مکی رَحِمَهُ اللہ نے کہا : آپ ﷺ سے بات کرنے میں سبقت نہ کرو۔ مخاطب کرو تو عزت و توقیر سے مخاطب کرو۔ اور آپ ﷺ کو اُن القاب سے پکارو جن سے پکارا جانا آپ ﷺ کو پسند ہو مثلاً یا رسول اللہ ﷺ ، یا نبی اللہ ﷺ وغیرہ۔‘‘

13۔ قال القاضي عیاض : اعلم أن حرمۃ النبي ﷺ بعد موته، وتوقیره وتعظیمه، لازم کما کان في حال حیاته، وذلک عند ذکره عليه السلام، وذکر حدیثه وسنته، وسماع اسمه وسیرته، ومعاملۃ آله وعترته، وتعظیم أهل بیته وصحابته۔

13 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 519۔

’’قاضی عیاض رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حرمت و تعظیم، عزت و تکریم آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ایسی واجب ہے جیسے کہ آپ ﷺ کی حیات ظاہری میں لازم تھی۔ اور یہ آپ ﷺ کے ذکر کے وقت اور آپ ﷺ کی حدیث و سنت اور آپ کے اسم گرامی اور سیرت مبارکہ کے سنتے وقت اور آپ ﷺ کی آل و اہل بیت اور صحابہ کرام کے ذکر سنتے وقت تعظیم و توقیر واجب ہے۔‘‘

14۔ قال القاضي عیاض : من إعظام النبي ﷺ وإکباره إعظام جمیع أسبابه، وإکرام مشاهده وأمکنته من مکۃ والمدینۃ، ومعاهده، وما لمسه عليه السلام، أوعُرِف به۔

14 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 540۔

’’قاضی عیاضؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی عظمت و احترام میں سے یہ بھی ہے کہ جو چیز بھی آپ ﷺ سے منسوب ہو اس کا احترام کیا جائے۔ آپ ﷺ کی محافل مقدسہ، مقامات مقدسہ جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ہر وہ چیز جس کو آپ ﷺ نے کبھی مس کیا ہو یا جو آپ ﷺ کے ساتھ مشہور ہو گئی ہو، ان سب کی تعظیم و توقیر کی جائے۔‘‘

15۔ قال أبو إبراهیم التجیبي : واجب علی کل مؤمن متی ذکره، أو ذکر عنده أن یخضع ویخشع، ویتوقر ویسکن من حرکته، ویأخذ في هیبته وإجلاله بما کان یأخذ به نفسه لو کان بین یدیه، ویتأدب بما أدبنا الله به۔

15 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 519، والنبهاني في سعادۃ الدارین : 220۔

’’حضرت ابو ابراہیم تجیبی کہتے ہیں کہ مسلمان پر واجب ہے کہ جب بھی آپ ﷺ کا ذکر کرے یا اس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکر ہو تو خشوع و خضوع کے ساتھ آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کرے۔ اپنی حرکات میں سکون و قرار اور آپ ﷺ کی ہیبت و جلال کا مظاہرہ کرے اور یہ ایسا ہونا چاہئے کہ اگر وہ آپ ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کے دربار میں موجود ہو تو جیسی اس وقت اس کی حالت ہو ویسی ہی اس وقت بھی ہو۔ اور جیسا اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کا ادب سکھایا ویسا ادب کرے۔‘‘

16۔ حدثنا ابن حمید، قال : ناظر أبو جعفر أمیر المؤمنین مالکاً في مسجد رسول الله ﷺ ، فقال له مالک : یا أمیر المؤمنین، لا ترفع صوتک في هذا المسجد، فإن الله تعالی أدب قوماً فقال : {لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُکُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الحجرات، 49 : 2] ومدح قوماً فقال {إِنَّ الَّذِینَ یَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ أُوْلَئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَی لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِیمٌ} [الحجرات، 49 : 3] وذم قوماً فقال : {إِنَّ الَّذِینَ یُنَادُونَکَ مِن وَرَاء الْحُجُرَاتِ أَکْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُونَ} [الحجرات، 49 : 4] وإن حرمته ميْـتاً کحرمته حیاً۔ فاستکان لها أبو جعفر، وقال : یا أبا عبد الله، أأستقبل القبلۃ وأدعو أم أستقبل رسول الله ﷺ ؟ فقال : ولم تصرف وجهک عنه وهو وسیلتک ووسیلۃ أبیک آدم عليه السلام إلی الله تعالی یوم القیامۃ؟ بل استقبله واستشفع به، فیشفعه الله، قال الله تعالی : {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللهَ تَوَّاباً رَّحِیماًo} [النساء، 4 : 64]

16 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ : 520۔

’’ابن حمیدؒ سے بالاسناد مروی ہے کہ خلیفہ ابو جعفر نے حضرت امام مالکؒ سے رسول اللہ ﷺ کی مسجد شریف میں مناظرہ کیا۔ امام صاحبؒ نے اُس سے کہا : اے امیر المومنین! اس مسجد میں بلند آواز سے نہ بولو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک جماعت کو اَدب سکھایا کہ {اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم ( ﷺ ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہوجائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو} اور دوسری جماعت کی مدح فرمائی کہ {بے شک جو لوگ رسول اللہ ( ﷺ ) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے چُن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لیے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہے} اور ایک قوم کی مذمت و برائی بیان فرمائی کہ : {بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتے} امام مالک نے فرمایا کہ بلا شبہ آپ ﷺ کی عزت و حرمت اب بھی اسی طرح ہے جس طرح آپ ﷺ کی حیات ظاہری میں تھی۔ یہ سن کر ابو جعفر خاموش ہو گیا۔

’’پھر ابو جعفر نے دریافت کیا کہ اے ابو عبد اللہ (امام مالکؒ) میں قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر دعا مانگوں یا رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوں۔ آپ نے فرمایا : تم کیوں حضور نبی اکرم ﷺ سے منہ پھیرتے ہو حالانکہ حضور نبی اکرم ﷺ تمہارے اور تمہارے والد حضرت آدم علیہ السلام کے بروز قیامت اللہ عزوجل کی جناب میں وسیلہ ہیں۔ بلکہ تم حضور نبی اکرم ﷺ ہی کی طرف متوجہ ہو کر آپ ﷺ سے شفاعت مانگو پھر اللہ عزوجل آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول( ﷺ ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo}۔‘‘

17۔ قال مصعب بن عبد الله : کان مالک إذا ذکر النبي ﷺ یتغیر لونه، وینحني حتی یصعب ذلک علی جلسائه، فقیل له یوماً في ذلک، فقال : لو رأیتم ما رأیت لما أنکرتم علی ما ترون، ولقد کنت أری محمد ابن المنکدر، وکان سید القراء لا نکاد نسأله عن حدیث أبداً إلا یبکي حتی نرحمه۔

17 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 521۔

’’مصعب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام مالک رَحِمَهُ اللہ کا(اَدب و محبتِ مصطفی ﷺ میں) یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو ان کا رنگ بدل جاتا اور خوب جھک جاتے (متواضع ہو جاتے) حتیٰ کہ ان کے مصاحبوں(شرکاء مجلس) کو گراں معلوم ہوتا۔ ایک دن اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : اگر تم وہ دیکھو جو میں دیکھتا ہوں تو ضرور میری اس حالت کا انکار نہ کرو۔ میں نے محمد بن منکدرؒ کو دیکھا وہ قاریوں کے سردار تھا۔ جب کبھی بھی ہم ان سے حدیث کے بارے میں سوال کرتے تو وہ اتنا روتے کہ ہمیں ان پر رحم آتا۔‘‘

18۔ قال مصعب بن عبد الله : ولقد کنت أری جعفر بن محمد الصادق، وکان کثیر الدعابۃ والتبسم، فإذا ذکر عنده النبي ﷺ اصفر۔ وما رأیته یحدث عن رسول الله ﷺ إلا علی طهارۃ۔ وقال أیضاً کان ابن سیرین ربما یضحک، فإذا ذکر عنده حدیث النبي ﷺ خشع۔ وقال : کان عبد الرحمن بن مهدي إذا قرأ حدیث النبي ﷺ أمرهم بالسکوت، وقال : {لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات، 49 : 2] ویتأول أنه یجب له من الإنصات عند قراء ۃ حدیثه ما یجب له عند سماع قوله۔

18 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 521۔

’’مصعب بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک میں نے امام جعفر بن محمد الصادق کو دیکھا ہے حالانکہ وہ انتہائی خوش مزاج اور ظریف الطبع تھے۔ لیکن جب بھی ان کے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر جمیل کیا جاتا تو ان کا چہرہ زرد ہو جاتا تھا۔ میں نے ان کو کبھی بے وضو حدیث بیان کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ ابن سیرین ؒ ایک ہنس مکھ آدمی تھے۔ لیکن جب بھی ان کے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی جاتی تو متواضع ہو جاتے۔ اور مصعب بن عبد اللہ ہی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن مہدیؒ جب حضور نبی اکرم ﷺ کی حدیث پڑھتے تو خاموش رہنے کا حکم فرماتے اور فرماتے کہ { اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم ( ﷺ ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو} اس کی تاویل میں کہتے کہ قرأت حدیث کے وقت خاموش رہنا واجب ہے جیسا کہ خود آپ ﷺ کا فرمان سننے کے وقت سکوت واجب ہے۔‘‘

19۔ قال مالک : جاء رجل إلی ابن المسیب، فسأله عن حدیث وهو مضطجع، فجلس وحدثه، فقال له الرجل : وددت أنک لم تتعن، فقال : إني کرهت أن أحدثک عن رسول الله ﷺ وأنا مضطجع۔

19 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 524۔

’’حضرت امام مالک رَحِمَهُ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن مسیب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔ اس نے ایک حدیث دریافت کی۔ آپ لیٹے ہوئے تھے، اٹھ کر بیٹھ گئے۔ پھر یہ حدیث بیان کی۔ اس شخص نے آپ سے کہا : میری خواہش تو یہ تھی کہ حضرت لیٹے لیٹے ہی حدیث بیان فرما دیتے، اٹھنے کی زحمت نہ فرماتے۔ آپ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث لیٹے لیٹے بیان کرنے کو مکروہ جانتا ہوں۔‘‘

20۔ قال مصعب بن عبد الله : کان مالک بن أنس إذا حدث عن رسول الله ﷺ توضأ وتهیأ، ولبس ثیابه، ثم یحدث۔ قال مصعب : فسئل عن ذلک، فقال : إنه حدیث رسول الله ﷺ ۔

20 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 524۔

’’مصعب بن عبد اللہ رَحِمَهُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ جب کوئی حدیث بیان فرماتے تو وضو کرتے، تیاری کرتے اور عمدہ لباس پہنتے، پھر حدیث بیان کرتے۔ مصعب فرماتے ہیں کہ اس اہتمام کے بارے میں حضرت امام مالک رَحِمَهُ اللہ سے کسی نے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔‘‘

21۔ قال مطرف : کان إذا أتی الناس مالکاً خرجت إلیهم الجاریۃ فتقول لهم : یقول لکم الشیخ : تریدون الحدیث أو المسائل؟ فإن قالوا : المسائل۔ خرج إلیهم، وإن قالوا : الحدیث۔ دخل مغتسله، واغتسل وتطیب، ولبس ثیاباً جدداً، ولبس ساجه وتعمم، ووضع علی رأسه رداء، وتلقی له منصۃ، فیخرج فیجلس علیها وعلیه الخشوع، ولا یزال یبخر بالعود حتی یفرغ من حدیث رسول الله ﷺ قال : ولم یکن یجلس علی تلک المنصۃ إلا إذا حدث عن رسول الله ﷺ ۔

قال ابن أبي أویس : فقیل لمالک في ذلک، فقال : أحب أن أعظم حدیث رسول الله ﷺ ، ولا أحدث به إلا علی طهارۃ متمکناً۔ وقال : وکان یکره أن یحدث في الطریق، أو وهو قائم، أو مستعجل۔ وقال : أحب أن أفهم حدیث رسول الله ﷺ ۔

21 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 524۔

’’مُطَرِّفْ فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت امام مالکؒ کے پاس آتے تو پہلے آپ کی خادمہ آتی اور ان سے کہتی کہ حضرت امام رَحِمَهُ اللہ نے دریافت فرمایا ہے کہ کیا تم حدیث کی سماعت کرنے آئے ہو یا مسٔلہ دریافت کرنے؟ اگر وہ کہتے کہ مسٔلہ دریافت کرنے آئے ہیں تو آپ فوراً باہر تشریف لے آتے اور اگر وہ کہتے کہ حدیث کی سماعت کرنے آئے ہیں تو آپ(اہتماماً) پہلے غسل خانہ جاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور عمدہ لباس پہنتے۔ عمامہ باندھتے، پھر اپنے سر پر چادر لپیٹتے، تخت بچھایا جاتا پھر آپ باہر تشریف لاتے اور اس تخت پر جلوہ افروز ہوتے۔ اس طرح پر کہ آپ پر انتہائی عجز و انکساری طاری ہوتی جب تک درس حدیث سے فارغ نہ ہوتے برابر اَگر کی خوشبو سلگائی جاتی رہتی۔ دیگر راویوں نے کہا کہ اس تخت پر آپ جب ہی تشریف فرما ہوتے جبکہ آپ کو حدیث رسول ﷺ بیان کرنی ہوتی۔

’’حضرت ابن ابی اویسؒ کہتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت امام مالک ؒ سے کسی نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : ’’میں اسے بہت محبوب رکھتا ہوں کہ حدیث رسول ﷺ کی خوب تعظیم کروں۔ میں باوضو بیٹھ کر حدیث بیان کرتا ہوں۔ فرمایا میں اسے مکروہ جانتا ہوں کہ راستہ میں یا کھڑے کھڑے یا جلدی میں حدیث بیان کی جائے اور فرمایا کہ میں یہ پسند کرتا ہو ںکہ حدیث رسول اللہ ﷺ کو خوب سمجھا کر بیان کروں۔‘‘

22۔ قال عبد الله بن المبارک : کنت عند مالک، وهو یحدثنا، فلدغته عقرب ست عشرۃ مرةً، وهو یتغیر لونه ویصفر ولا یقطع حدیث رسول الله ﷺ فلما فرغ من المجلس، وتفرق الناس عنه قلت له : یا أبا عبد الله، لقد رأیت الیوم منک عجباً۔ قال : نعم، لدغتني عقرب ست عشرۃ مرۃ، وأنا صابر في جمیع ذلک، وإنما صبرت إجلالاً لحدیث رسول الله ﷺ ۔

22 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 526۔

’’حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام مالک ؒ کے پاس تھا اور آپ حدیث کا درس دے رہے تھے۔ اس حال میں آپ کو سولہ مرتبہ بچھو نے ڈنگ مارا۔ (شدتِ اَلم سے) آپ کا رنگ متغیر ہوگیا اور چہرہ مبارک زرد پڑ گیا مگر حدیث رسول ﷺ کومنقطع نہ فرمایا۔ پس جب آپ مجلس سے فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے تو آپ سے میں نے عرض کیا : اے ابو عبد اللہ! آج میں نے ایک عجیب بات دیکھی۔ آپ نے فرمایا : ہاں! مجھے بچھو نے سولہ مرتبہ ڈسا لیکن میں نے حدیث رسول ﷺ کی عظمت و جلال کی بنا پر صبر کیا۔‘‘

23۔ کان مالک رحمه الله لا یرکب بالمدینۃ دابۃ وکان یقول : أستحي من الله أن أطأ تربۃ فیها رسول الله ﷺ بحافر دابۃ۔

23 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 524۔

’’حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ میں جانور پر سوار ہوکر نہ چلتے اور فرماتے کہ مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ میں سواری کے جانور سے اس ارض مقدس کو پامال کروں جہاں اللہ عزوجل کے رسول ﷺ جلوہ فرما ہیں۔‘‘

24۔ قد حکی أبو عبد الرحمن السلمي عن أحمد بن فضلویه الزاهد، وکان من الغزاۃ الرماۃ، أنه قال : ما مسست القوس بیدي إلا علی طهارۃ منذ بلغني أن النبي ﷺ أخذ القوس بیده۔

24 : أخرجه القاضي عیاض في الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ : 541۔

’’ابو عبدالرحمن سلمی رَحِمَهُ اللہ، احمد بن فضلویہ زاہد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ غزوات میں (معروف) تیر انداز تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کمان کو کبھی بغیر وضو نہیں چھوا جب سے حضور نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے دست مبارک میں لیا۔‘‘

25۔ قال ابن عباس : ما خلق الله تعالی وما ذرأ نفسا ھي أکرم من محمد ﷺ وما سمعت الله أقسم بحیاۃ أحد غیره فقال : {لَعَمْرُکَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ} [الحجر، 15 : 72]

25 : أخرجه ابن الجوزي في الوفا بأحوال المصطفٰی ﷺ : 364۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نفس تخلیق نہیں فرمایا اور نہ دنیا میں ظاہر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں حضور نبی اکرم ﷺ سے زیادہ معظم و مکرم ہو اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کے سوا کسی پیغمبر کی زندگی کی قسم کھائی ہو۔ صرف آپ ہی کے متعلق فرمایا : {(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بے شک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیںo}‘‘

26۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما فِي قَوْلِهِ تَعَالَی {لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمَ بَعْضًا} [النور، 24 : 63] : کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ : یَا مُحَمَّدُ، یَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَنَهَاهُمُ اللهُ عزوجل عَنْ ذَلِکَ إِعْظَامًا لِنَبِيِّهِ ﷺ ، قَالَ : فَقُوْلُوْا : یَا نَبِيَّ اللهِ، یَا رَسُوْلَ اللهِ۔

26 : أخرجه ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 307۔

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو} کی تفسیر میں فرمایا : بعض لوگ آپ ﷺ کو آپ کے اسم مبارک یعنی یا محمد اور یا ابو قاسم کہہ کر مخاطب کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی عظمت کے اظہار کے لیے ان کو اس طرح پکارنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ (آپ ﷺ کو) یَا نَبِيَّ اللہ، یَا رَسُوْلَ اللہ (کے القاب سے) پکارا کرو۔‘‘

27۔ قال الإمام القسطلاني : وأن المصلي یخاطبه بقوله : السلام علیک أیھا النبي، ولا یخاطب غیره۔ و أنه کان یجب علی من دعاه وهو في الصلاۃ أن یجیبه، ویشهد له حدیث أبي سعید بن المعلی : کنت أصلي في المسجد، فدعاني رسول الله ﷺ : فلم أجبه۔۔۔ الحدیث، وفیه : ألم یقل الله تعالی : {اسْتَجِيْبُوْا ِللهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِيْکُمْ} [الأنفال، 8 : 24]، فإجابته فرض، یعصي المرء بترکھا۔

27 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواهِب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 303۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ نمازی، نماز میں آپ ﷺ کو مخاطب کر کے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَیُّھَا النَّبِیّ‘‘ کہتا ہے جب کہ کسی دوسرے کو مخاطب نہیں کرسکتا۔ یہ خصوصیت بھی ہے کہ کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور آپ ﷺ اسے بلائیں تو اس پر واجب ہے کہ وہ حاضر ہو۔ اس پر حضرت ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ کی حدیث دلالت کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا، میں حاضر نہ ہوا … الحدیث۔ اس میں یہ ہے کہ بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا : {جب (بھی) رسول ( ﷺ ) تمہیں کسی کام کے لیے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول ( ﷺ ) کو فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو}۔ تو آپ ﷺ کے حکم پر حاضر ہونا فرض ہے اور اسے ترک کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔‘‘

28۔ قال الإمام القسطلاني : ومن علامات محبته ﷺ تعظیمه عند ذکره، وإظھار الخشوع والخضوع والانکسار مع سماع اسمه، فکل من أحب شیئاً خضع له، کما کان کثیر من الصحابۃ بعد إذا ذکروه خشعوا واقشعرت جلودھم وبکوا، وکذلک کان کثیر من التابعین فمن بعدھم یفعلون ذلک محبۃ وشوقاً وتھیباً وتوقیراً۔

28 : أخرجه الإمام القسطلاني في المواھب اللّدنّیّۃ بِالْمنحِ الْمحمّدیّۃ، 2 / 496۔

’’امام قسطلانی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کا ذکر کرتے وقت اَدب و تعظیم کا خیال رکھا جائے ۔ نیز جب آپ ﷺ کا اسم گرامی سنے تو خشوع و خصوع کا اظہار کیا جائے، کیونکہ جو کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے لیے جھک جاتا ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے خشوع و خصوع اختیار کرتے اور ان کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ااور وہ رونے لگتے۔ اسی طرح اکثر تابعین اور ان کے بعد کے لوگ آپ ﷺ کی محبت، شوق اور تعظیم و توقیر کے طور پر ایسا کرتے تھے۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved