Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur’an and Hadith (vol. I)

فصل 4 :حضور نبی اکرم ﷺ کے لئے جانوروں کے سجدۂ تعظیمی کا بیان

سُجُوْدُ الْحَیَوَانَاتِ لِلنَّبِيِّ تَعْظِيْمًا لَهُ ﷺ

{حضور ﷺ کے لئے جانوروں کے سجدۂ تعظیمی کا بیان}

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1۔ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ أَھْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَھُمْ جَمَلٌ یَسْنُوْنَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتُصْعِبَ عَلَيْھِمْ فَمَنَعَھُمْ ظَھْرَهُ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاؤُوْا إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالُوْا : إِنَّهُ کَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا وَمَنَعَنَا ظَھْرَهُ، وَقَدْ عَطَشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لِأَصْحَابِهِ : قُوْمُوْا فَقَامُوْا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِیَةٍ، فَمَشَی النَّبِيُّ ﷺ نَحْوَهُ۔ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : یَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْکَلْبِ الْکَلِبِ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْکَ صَوْلَتَهُ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ، فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّی خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ یَدَيْهِ، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِنَاصِیَتِهِ أَذَلَّ مَا کَانَتْ قَطُّ حَتَّی أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، ھَذِهِ بَھِيْمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَکَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ؟

وفي روایۃ : قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، نَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُوْدِ لَکَ مِنَ الْبَھَائِمِ۔ فَقَالَ : لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا … الحدیث۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَنَحْوَهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ۔

1 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 158، الرقم : 12635، والدارمي في السنن، باب : 4، ما أکرم الله به نبیه من إیمان الشجر به والبھائم والجن، 1 / 22، الرقم : 17، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 81، الرقم : 9189، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 320، الرقم : 1053، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 5 / 265، الرقم : 1895، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 35، الرقم : 2977، والحسیني في البیان والتعریف، 2 / 171، والهیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 4، 9، والمناوي في فیض القدیر، 5 / 329۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری گھرانے میں ایک اونٹ تھا جس پر (وہ کھیتی باڑی کے لئے) پانی بھرا کرتے تھے، وہ ان کے قابو میں نہ رہا اور انہیں اپنی پشت استعمال کرنے( یعنی پانی لانے) سے روک دیا۔ انصار صحابہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمارا ایک اونٹ تھا ہم اس سے کھیتی باڑی کے لئے پانی لانے کا کام لیتے تھے ۔ وہ ہمارے قابو میں نہیں رہا اور اب وہ خود سے کوئی کام نہیں لینے دیتا۔ ہمارے کھیت کھلیان اور باغ پانی کی قلت کے باعث سوکھ گئے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا : اُٹھو، پس سارے اٹھ کھڑے ہوئے (اور اس انصاری کے گھر تشریف لے گئے)۔ آپ ﷺ احاطہ میں داخل ہوئے تو اُونٹ جو کہ ایک کونے میں تھا، حضور نبی اکرم ﷺ اُس اُونٹ کی طرف چل پڑے۔ انصار کہنے لگے : (یا رسول اللہ!) یہ اُونٹ کتے کی طرح باؤلا ہو چکا ہے اور ہمیں اس کی طرف سے آپ پر حملہ کا خطرہ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اُونٹ نے جیسے ہی حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کی طرف بڑھا یہاں تک (قریب آکر) آپ ﷺ کے سامنے سجدہ میں گر پڑا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اسے پیشانی سے پکڑا اور حسبِ سابق دوبارہ کام پر لگا دیا۔ صحابہ کرام نے یہ دیکھ کر آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ تو بے عقل جانور ہوتے ہوئے بھی آپ کو سجدہ کر رہا ہے اور ہم تو عقلمند ہیں لهٰذا اس سے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔

’’ایک روایت میں ہے کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم جانوروں سے زیادہ آپ کو سجدہ کرنے کے حقدار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی فردِ بشر کے لئے جائز نہیںکہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے اور اگر کسی بشر کا بشر کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو اس کی قدر و منزلت کی وجہ سے سجدہ کرے جو کہ اسے بیوی پر حاصل ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اسی طرح کی حدیث دارمی اور طبرانی نے بھی روایت کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

2۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنھا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُھَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ فَجَائَ بَعِيْرٌ فَسَجَدَ لَهُ۔ فَقَالَ أَصْحَابُهُ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، تَسْجُدُ لَکَ الْبَھَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ۔ فَقَالَ : اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَأَکْرِمُوْا أَخَاکُمْ۔ وَلَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا۔ وَلَوْ أَمَرَھَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَی جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَی جَبَلٍ أَبْیَضَ، کَانَ یَنْبَغِي لَھَا أَنْ تَفْعَلَهُ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ۔ وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : ھَذَا الإِسْنَادُ عَلَی شَرْطِ السُّنَنِ۔

2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 76، الرقم : 24515، والبیهقي في السنن الکبری، 7 : 291، الرقم : 14482، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 5 / 265،266، الرقم : 1895 والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 : 35، الرقم : 2977، وابن کثیر في شمائل الرسول : 326، والھیثمي في مجمع الزوائد، 4 / 310، والمناوي في فیض القدیر، 5 : 329۔

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ ایک اُونٹ آیا اور آپ ﷺ کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں جبکہ ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو۔ اگر میں کسی فردِ بشر کو حکم دیتا کہ وہ کسی اور کو سجدہ کرے تو میں ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہرکو سجدہ کرے۔ اور اگر شوہر اسے حکم دے کہ وہ زرد پہاڑ کو سیاہ پہاڑ تک اور سیاہ پہاڑ کو سفید پہاڑ تک لے جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایسا کرے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اور امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد سنن کی شرط پر ہیں۔

3۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنھما قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنْ سَفَرٍ حَتَّی إِذَا دَفَعْنَا إِلَی حَائِطٍ مِنْ حِيْطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيْهِ جَمَلٌ لَا یَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ۔ قَالَ : فَذَکَرُوْا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَجَاءَ حَتَّی أَتَی الْحَائِطَ۔ فَدَعَا الْبَعِيْرَ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَی الْأَرْضِ حَتَّی بَرَکَ بَيْنَ یَدَيْهِ۔ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : ھَاتُوْا خِطَامًا۔ فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَی صَاحِبِهِ۔ قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی النَّاسِ قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ شَيئٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا یَعْلَمُ أَنِّي رَسُوْلُ اللهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ۔

3 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 310، الرقم : 14372، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 315، الرقم : 31719، وعبد ابن حمید في المسند، 1 / 337، الرقم : 1122، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 7، والتمیمي في الثقات، 4 / 223، الرقم : 2615۔

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے۔ راستے میں ہم بنو نجار کے ایک باغ میں پہنچے تو ہمیں معلوم ہوا کہ باغ میں ایک سرکش اونٹ ہے جو باغ میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیتا اور جو باغ میں داخل ہونا چاہے اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے اس بات کا ذکر حضور نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے اور باغ میں داخل ہو گئے۔ آپ ﷺ نے اونٹ کو بلایا تو وہ اپنی گردن کو زمین کے ساتھ گھسیٹتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی لگام لائو۔ آپ ﷺ نے اسے لگام دی اور اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا۔ پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : بے شک زمین و آسمان میں سوائے سرکش جنوں اور انسانوں کے کوئی چیز ایسی نہیں جو یہ تسلیم نہ کرتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

4۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ لَهُ فَحْلَانِ، فَاغْتَلَمَا۔ فَأَدْخَلَھُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْھِمَا الْبَابَ ثُمَّ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ ، فَأَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ لَهُ، وَالنَّبِيُّ ﷺ قَاعِدٌ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ : یَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ، وَأَنَّ فَحْلَيْنِ لِي اغْتَلَمَا وَأَنِّي أَدْخَلْتُھُمَا حَائِطًا وَسَدَدْتُ الْبَابَ عَلَيْھِمَا، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ یُسَخِّرَھُمَا اللهُ لِي۔ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : قُوْمُوْا مَعَنَا۔ فَذَھَبَ حَتَّی أَتَی الْبَابَ فَقَالَ : افْتَحْ۔ فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : افْتَحْ۔ فَفَتَحَ الْبَابَ‘ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيْبٌ مِنَ الْبَابِ، فَلَمَّا رَأَی النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ لَهُ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : ائْتِنِي بِشَيئٍ أَشُدُّ بِهِ رَأْسَهُ وَأُمَکِّنُکَ مِنْهُ۔ فَجَاءَ بِخِطَامٍ فَشَدَّ بِهِ رَأْسَهُ وَأَمْکَنَهُ مِنْهُ، ثُمَّ مَشَی إِلَی أَقْصَی الْحَائِطِ إِلَی الْفَحْلِ الْآخَرِ۔ فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : ائْتِنِي بِشَيئٍ أَشُدُّ بِهِ رَأْسَهُ۔ فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْکَنَهُ مِنْهُ، فَقَالَ : اذْھَبْ فَإِنْھُمَا لَا یَعْصِیَانِکَ۔ فَلَمَّا رَأَی أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ ذَلِکَ قَالَ : قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، ھَذَيْنِ فَحْلَيْنِ لَا یَعْقِلَانِ سَجَدَا لَکَ۔ أَفَـلَا نَسْجُدُ لَکَ؟ قَالَ : لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ۔ وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔

4 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 11 / 356، الرقم : 12003، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 4، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 158، الرقم : 12635، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 5 / 265،266، الرقم : 1895، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 35، الرقم : 2977، وابن کثیر في شمائل الرسول : 321، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 4، والمناوي في فیض القدیر، 5 : 329۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس دو اونٹ تھے وہ دونوں سرکش ہو گئے۔ اس نے ان دونوں کو ایک باغ کے اندر قید کر دیا اور پھر حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ اس کے لیے دعا فرمائیں۔ (وہ جب حاضر ہوا تو) حضور نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس ایک حاجت لے کر حاضر ہوا ہوں۔ میرے دو اُونٹ ہیں جو سرکش ہو گئے ہیں۔ میں نے انہیں باغ میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ میرے لیے دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں میرا فرماں بردار بنا دے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا : اُٹھو، میرے ساتھ آئو۔ پس آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ اس باغ کے دروازے پر تشریف لے آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دروازہ کھولو۔ اس شخص کو آپ ﷺ کے حوالے سے خدشہ تھا (کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جانور حضور نبی اکرم ﷺ پر حملہ کر دیں)۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : دروازہ کھولو۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔ دونوں اُونٹوں میں سے ایک دروازہ کے قریب ہی کھڑا تھا۔ جب اس نے حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو فوراً آپ ﷺ کو سجدہ کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز لائو جس کے ساتھ باندھ کر میں اسے تمہارے حوالے کر دوں۔ وہ صحابی ایک نکیل لے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے اسے باندھ دیا اور اسے صحابی کے حوالے کر دیا۔ پھر آپ ﷺ باغ کے دوسرے حصے کی طرف چلے جہاں دوسرا اُونٹ تھا۔ اس نے بھی جب آپ ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس صحابی سے کہا : مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھ دوں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کا سر باندھ کر اسے صحابی کے حوالے کر دیا اور فرمایا : جائو اب یہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔ جب صحابہ کرام نے یہ سارا واقعہ دیکھا تو عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ! یہ اونٹ جو کہ بے عقل ہیں آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں کسی انسان کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے۔ اگر میں کسی انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

5۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه أَنَّ نَاضِحًا لِبَعْضِ بَنِي سَلَمَةَ اغْتَلَمَ۔ فَصَالَ عَلَيْھِمْ وَامْتَنَعَ عَلَيْھِمْ حَتَّی عَطَشَتْ نَخْلَةٌ۔ فَانْطَلَقَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَاشْتَکَی ذَلِکَ إِلَيْهِ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : انْطَلِقْ۔ وَذَھَبَ النَّبِيُّ ﷺ مَعَهَ۔ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ النَّخْلِ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَا تَدْخُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْکَ مِنْهُ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : ادْخُلُوْا فَـلَا بَأْسَ عَلَيْکُمْ۔ فَلَمَّا رَآهُ الْجَمَلُ، أَقْبَلَ یَمْشِي وَاضِعًا رَأْسَهُ حَتَّی قَامَ بَيْنَ یَدَيْهِ فَسَجَدَ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : ائْتُوْا جَمَلَکُمْ فَاخْطَمُوْهُ وَارْتَحِلُوْهُ۔ فَأَتَوْهُ فَخَطَمُوْهُ وَارْتَحَلُوْهُ۔ رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ۔

5 : أخرجه البیھقي في دلائل النبوۃ، 6 / 28، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 158، الرقم : 12635، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 5 / 265،266، الرقم : 1895، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 35، الرقم : 2977، وابن کثیر في شمائل الرسول : 321، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 4، والمناوي في فیض القدیر، 5 : 329 ۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی سَلَمَہ کے کسی شخص کا اُونٹ مستی میں آ گیا۔ وہ لوگوں پر حملہ آور ہونے لگا۔ اُن کے کام سے رُک گیا یہاں تک کہ کھجور کے درخت (پانی نہ ملنے کی وجہ سے) خشک ہونے لگے۔ اس شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس امر کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : چلو چلیں۔ اور آپ ﷺ خود بھی اس کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب بابِ نخل تک پہنچ گئے تو اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ اندر داخل نہ ہوں کیونکہ مجھے اس سے آپ کے حوالے سے خطرہ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : داخل ہو جائو اور فکر نہ کرو۔ جب اونٹ کی نظر آپ ﷺ پر پڑی تو سر جھکائے ہوئے چل کر آپ ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا، پھر سجدہ کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے اونٹ کے پاس آئو، اسے نکیل ڈالو اور اس پر کجاوہ رکھو۔ چنانچہ لوگوں نے آ کر اسے نکیل ڈالی اور اس پر کجاوہ رکھا۔‘‘ اس حدیث کو اِمام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں روایت کیا ہے۔

6۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی رضی الله عنه قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ قُعُوْدٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أَتَاهُ آتٍ۔ قَالَ : إِنَّ نَاضِحَ آلِ فُـلَانٍ قَدْ أَبِقَ عَلَيْھِمْ۔ قَالَ : فَنَھَضَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَنَھَضْنَا مَعَهُ۔ فَقُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَا تَقْرُبْهُ، فَإِنَّا نَخَافُهُ عَلَيْکَ۔ فَدَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ الْبَعِيْرِ۔ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيْرُ سَجَدَ۔ ثُمّ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَضَعَ یَدَهُ عَلَی رَأْسِ الْبَعِيْرِ فَقَالَ : ھَاتُوْا السِّفَارَ۔ قَالَ : فَجِيْئَ بِالسِّفَارَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِهِ۔ وَقَالَ : ادْعُوْا لِي صَاحِبَ الْبَعِيْرِ۔ قَالَ : فَدُعِيَ لَهُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَلَکَ الْبَعِيْرُ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَأَحْسِنْ عَلَفَهُ وَلَا تَشُقَّ عَلَيْهِ فِي الْعَمَلِ۔ قَالَ : أَفْعَلُ۔

رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ۔

6 : أخرجه البیھقي في دلائل النبوۃ، 6 / 29۔

’’حضرت عبد اللہ بن ابی اَوْفَی بیان کرتے ہیں : ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ مین بیٹھے ہوئے تھے کہ کوئی آنے والا آیا۔ اس نے کہا کہ فلاں گھرانے کا اونٹ بھاگ گیا ہے۔ آپ ﷺ اٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اس کے قریب نہ جائیے۔ ہمیں خطرہ ہے کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچائے۔ مگر آپ ﷺ اونٹ کے قریب چلے گئے۔ جب اونٹ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو سجدہ ریز ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : مہار لے آئو۔ مہار لائی گئی تو آپ ﷺ نے وہ اس کے منہ میں ڈال دی۔ پھر فرمایا کہ اونٹ کے مالک کو بلا لو۔ جب مالک کو بلایا گیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا یہ اونٹ تمہارا ہے؟ اس نے عرض کیا : ہاں۔ فرمایا : اسے عمدہ چارہ دو اور اس سے زیادہ مشقت والا کام نہ لو۔ اس نے عرض کیا : (ہاں) میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ اس حدیث کو امام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں روایت کیا ہے۔

7۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ رضی الله عنه قَالَ : ثَـلَاثَةُ أَشْیَائَ رَأَيْتُھُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بَيْنَ نَحْنُ نَسِيْرُ مَعَهُ إِذْ مَرَرْنَا بِبَعِيْرٍ یُسْنَی عَلَيْهِ۔ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيْرُ جَرْجَرَ وَوَضَعَ جِرَانَهُ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُ ھَذَا الْبَعِيْرِ؟ فَجَائَ فَقَالَ : بِعْنِيْهِ؟ فَقَالَ : لَا، بَلْ أَھَبُهُ لَکَ۔ فَقَالَ : لَا، بِعْنِيْهِ۔ قَالَ : لَا، بَلْ أَھَبُهُ لَکَ، وَإِنَّهُ لِأَھْلِ بَيْتٍ مَا لَھُمْ مَعِيْشَةٌ غَيْرُهُ۔ قَالَ : أَمَا إِذْ ذَکَرْتَ ھَذََا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَکَا کَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ الْعَلَفِ۔ فَأَحْسِنُوْا إِلَيْهِ۔ قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَنَامَ النَّبِيُّ ﷺ ، فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّی غَشِیَتْهُ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَی مَکَانِھَا۔ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَکَرْتُ لَهُ، فَقَالَ : ھِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّھَا عزوجل أَنْ تُسَلِّمَ عَلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَذِنَ لَھَا۔ قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَائٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَھَا، بِهِ جِنَّةٌ۔ فَأَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ بِمَنْخَرِهِ فَقَالَ : اخْرُجْ إِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ۔ قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سَفَرِنَا مَرَرْنَا بِذَلِکَ الْمَاءِ فَأَتَتْهُ الْمَرْأَةُ بِجُزُرٍ وَلَبَنٍ۔ فَأَمَرَھَا أَنْ تَرُدَّ الْجُزُرَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَشَرِبُوْا مِنَ اللَّبَنِ۔ فَسَأَلَھَا عَنِ الصَّبِيِّ۔ فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَيْنَا مِنْهُ رَيْبًا بَعْدَکَ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ۔

7 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 170، 173، وأبو نعیم في دلائل النبوۃ، 1 / 158، الرقم : 184، وعبد بن حمید في المسند، 1 : 154، الرقم : 405، والمنذري في الترغیب والترھیب، 3 / 144، الرقم : 3430، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 5، وابن عساکر في تاریخ مدینه دمشق، 4 : 369۔

’’حضرت یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم (ایک سفر میں) حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے تو میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے تین اُمور (معجزات) دیکھے۔ ہمارا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی رکھا جا رہا تھا۔ اس اونٹ نے جب حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن (از راهِ تعظیم) آپ ﷺ کے سامنے جھکا دی۔ حضور نبی اکرم ﷺ اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اس کا مالک حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ اس نے عرض کیا : نہیں، حضور، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اسے مجھے بیچ دو۔ اس نے دوبارہ عرض کیا : نہیں، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے، اور بے شک یہ ایسے گھرانے کی ملکیت ہے کہ جن کا ذریعہ معاش اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اب تمہارے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ اس اونٹ نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اس نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم ڈالتے ہو۔ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔ حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے اور ہم نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ وہاں محوِ استراحت ہو گئے۔ اتنے میں ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور آپ ﷺ پر سایہ فگن ہو گیا پھر کچھ دیر بعد وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے آپ ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس درخت نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بارگاہ میں سلام عرض کرے، پس اس نے اسے اجازت دے دی۔ پھر ہم وہاں سے آگے چلے اور ہمارا گزر پانی پر سے ہوا۔ وہاں ایک عورت تھی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جسے جن چمٹے ہوئے تھے۔ وہ اسے لے کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔ آپ ﷺ نے اس لڑکے کی ناک کا نتھنا پکڑ کر فرمایا : نکل جائو میں محمد، اللہ کا رسول ہوں۔ حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم آگے بڑھے۔ جب ہم اپنے سفر سے واپس لوٹے تو ہم دوبارہ اسی پانی کے پاس سے گزرے۔ پس وہی عورت آپ ﷺ کے پاس بھنا ہوا گوشت اور دودھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی۔ آپ ﷺ نے بھنا ہوا گوشت واپس کردیا اور اپنے صحابہ کو ارشاد فرمایا تو انہوں نے دودھ میں سے کچھ پی لیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے بعد ہم نے اس میں کبھی اس بیماری کا شائبہ تک نہیں پایا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور ابونعیم نے روایت کیا ہے۔

8۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ بَعِيْرًا لَنَا قَطَّ فِي حَائِطٍ۔ فَجَاءَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ : تَعَالَ۔ فَجَاءَ مُطَأْطِئًا رَأْسَهُ حَتَّی خَطَمَهُ وَأَعْطَاهُ أَصْحَابَهُ۔ فَقَالَ لَهُ أَبُوْ بَکْرٍ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، کَأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّکَ نَبِيٌّ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا بَيْنَ لَابَتَيْھَا أَحَدٌ إِلَّا یَعْلَمُ أَنِّي نَبِيٌّ إِلَّا کَفَرَةُ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔

8 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 12 / 155، الرقم : 12744، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 4، والأصبهانی في دلائل النبوۃ، 1 : 129، الرقم : 139۔

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا ایک اونٹ ہے جو سرکش ہو گیا ہے اور باغ میں موجود ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ اس اُونٹ کے پاس آئے اور اس سے فرمایا : میرے قریب آئو۔ وہ اطاعت گزاری سے اپنا سر جھکاتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے لگام دے دی اور اسے اس کے مالکوں کے سپرد کر دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ایسے لگتا ہے جیسے وہ جانتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں! حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دو جہانوں میں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے ہر کوئی جانتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

9۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ، وَمَعَهُ أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَرِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ۔ قَالَ : وَفِي الْحَائِطِ غَنَمٌ فَسَجَدَتْ لَهُ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّا نَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُوْدِ لَکَ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ۔ فَقَالَ : إِنَّهُ لَا یَنْبَغِي أَنْ یَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ۔ وَلَوْ کَانَ یَنْبَغِي أَنْ یَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا۔ رَوَاهُ أَبُونُعَيْمٍ وَالْمَقْدَسِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ۔

9 : أخرجه أبو نعیم في دلائل النبوۃ، 2 / 379، الرقم : 276، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 6 / 130، الرقم : 2129، و في 6 / 131، الرقم : 2130۔

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ حضور نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور چند دیگر انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ باغ میں بکریاں تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو سجدہ کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ان بکریوں سے زیادہ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے اور اگر ایک دوسرے کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابونعیم اور مقدسی نے روایت کیا ہے اور الفاظ بھی امام مقدسی کے ہیں۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved